ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
⚜مثالی خواتین⚜

🌱 یوکابد 🌱

♻️حضرت موسٰیؑ کی والدہ کا نام " یوکابد" تھا۔ فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کا قتل کر دے کیونکہ پیش بینی کی گئی تھی کہ ایک بچہ پیدا ہوگا جو اسکے تخت کا خاتمہ کرے گا ۔

💠حضرت موسٰیؑ کی والدہ کے حاملہ ہونے کے اثرات کسی کو بھی نظر نہ آئے اور اسطرح حضرت موسٰیؑ کی ولادت کی کسی کو خبر نہ ہوسکی۔

🔴اللہ نے حضرت موسٰیؑ کی والدہ کے دل میں الہام ڈالا کہ اس بچے کو صندوق میں ڈال کر پانی میں بہا دے ۔ یہ موقع کسی بھی ماں کیلئے سخت ترین آزمائش ہوسکتی ہے جس کو حضرت موسٰیؑ کی والدہ نے پورا کر دکھایا ۔

🔵آپ حزبیل جو کہ لکڑی کا کام کرتا تھا اس کے پاس گئیں اور اس سے لکڑی کا صندوق بنوایا اور حضرت موسٰیؑ کو صندوق میں ڈال کر پانی میں بہا دیا اور صندوق فرعون کے محل پہنچ گیا اور حضرت آسیہؑ نے آپکو اپنا فرزند بنالیا ۔

♥️حضرت موسٰیؑ کی والدہ نے اس قربانی اور مقاومت کے ذریعے حضرت موسٰیؑ کی جان کو نجات دی اور قرآن پاک میں آپکا ذکر بہت اچھے الفاظ میں کیا گیا ہے ۔

📖 مجمع البیان ، طبرسی

🍃🍁🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃

#یوکابد
#مثالی_خواتین
#والدہ_حضرت_موسٰیؑ

🌸 @AleYaseen92 🌸

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
⚜مثالی خواتین⚜

🌱 حضرت ہاجرہؑ 🌱

💠حضرت ہاجرہؑ ایک کنیز تھیں خدا نے آپ کے توسط سے لمبے عرصے کے بعد حضرت ابراہیم ؑ کو اولاد کی نعمت عطا فرمائی ۔
🔹جب حضرت ابراہیم ؑ حجاز کی سرزمین پر حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کو تنہا چھوڑ کر جارہے تھے ۔۔۔
🔺ہاجرہؑ خوف کے مارے حضرت ابراہیمؑ سے التماس کر رہی تھیں کہ ہمیں اس صحرا میں جہاں آب و خوراک کا وجود نہیں اکیلے چھوڑ کر مت جاؤ۔
🔸حضرت ابراہیمؑ نے ان پر توجہ کیے بغیر اپنی حرکت جاری رکھی۔ جب وہ ایک پہاڑی پر پہنچے کہ جس کے بعد حضرت ابراہیمؑ حضرت ہاجرہؑ کو نظر نہ آئے ۔
▫️حضرت ہاجرہؑ نے سوال کیا۔۔۔کیا تم نے خدا کے حکم سے یہ کام کیا ہے۔۔۔۔ ؟؟
حضرت ابراہیمؑ نے جواب دیا ۔۔جی ۔۔۔
🔻اس جواب پر حضرت ہاجرہؑ نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور بولیں۔۔ پس ۔۔۔!! وہ ہمیں کبھی بھی اکیلا نہ چھوڑے گا ۔
⭕️حضرت ہاجرہؑ کی دوسری آزمائش ۔۔۔
🔅جب حضرت ابراہیمؑ حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے لے کر گئے شیطان ایک بوڑھے شخص کی صورت میں حضرت ہاجرہؑ کے پاس آیا۔۔۔۔۔۔
💭اور بولا کہ کوئی بھی باپ بیٹے کو ذبح نہیں کرتا ابراہیمؑ کہتا ہے کہ خدا نے کہا ہے ۔
♥️اس بات پر جناب ہاجرہؑ نے فرمایا ۔۔۔میں اور اسماعیلؑ ہزار بار خدا کی راہ میں فدا ہوں ۔۔۔اے کاش!! میرے پاس ہزار فرزند ہوتے سب کو خدا کی راہ میں قربان کر دیتی
🔶پھر حضرت ہاجرہؑ نے کنکر شیطان کو مارے اور اسے اپنے سے دور کردیا ۔

مجمع البیان ، طبرسی ، ج۸،ص435


🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃

#مثالی_خواتین
#حضرت_ہاجرہؑ

🌸 @AleYaseen92 🌸

https://t.me/islamwitheman/1044
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
⚜مثالی خواتین⚜

🌺اسلام سے پہلے شائستہ ترین خواتین میں سے ایک ہیں حضرت ایوب ع کی ہمسر گرامی ۔
آپ کا نام رحمہ تها۔ آپکی زندگی میں خدا کی سخت آزمائشیں آئیں ۔

⭕️آپکے فرزندان زلزلے کی وجہ سےفوت ہوگئے ، باغ جل گیۓ اور سب مال و دولت چلا گیا اور حضرت ایوب ع بیمار ہوگئے۔

📛️اور سب سے سخت یہ کہ لوگ حضرت ایوب ع کی عیادت کرنے کی بجاۓآپ سے دوری اختیار کرتے کہ ضرور آپ نے کوئی بڑا گناه کیا ہے اسی لیے آپ شہر سے چلے گئے اور جنگل میں رہنے لگے۔

🍁رحمہ بہت صابر خاتون تهیں۔ آپ نے اپنے همسر کی خدمت جاری رکهی پهر حضرت ایوب ع نے آپ سے بهی دوری اختیار کرلی اور آپ سے جدا ہوگئے ۔

🔆حضرت ایوب ع جب خدا کے امتحانات میں کامیاب ہوۓ خدا نے تمام نعمتیں دوباره عطا کردیں..
آپکی ہمسر گرامی اب بهی آپکی خدمت میں واپسی کی منتظر تهیں۔ آپکو حضرت ایوب ع کے حالات کا علم نہ تها آپ نے فیصلہ کیا کہ آپ دوباره حضرت ایوب ع کے پاس جائیں اور ان کی خدمت کریں.

♥️جب آپ حضرت ایوب ع کے پاس پہنچیں تو یہ نعمتیں دیکھ کر آپ کو علم ہو گیا کہ خدا نے دوباره ان پر رحم و کرم فرمایا هے اور دونوں نے مل کر خدا کا شکر ادا کیا۔۔

(📒قصص القرآن، تالیف صدرالدین بلاغی)
تلخیص از ص 213 .207📖

📝اس سے سبق ملتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ سخت سے سخت حالات میں بھی تھکنا نہیں چاہیے اور امید رکهنی چاہیے.

🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃🍁🍃

#مثالی_خواتین

🌸 @AleYaseen92 🌸

https://t.me/islamwitheman/1045
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
(علماءوکتب اہل سنت کی نظر میں)

🔵💥علی (ع)  سب سے پہلے نبوت اور کلمہ ٴتوحید کی گواہی دینے والے ہیں۔💥🔵

❤عَنْ انس ابن مالک قَالَ: قَالَ رَسُوْل اللّٰہِ:صَلّٰی عَلیَّ الْمَلٰائِکَةُ وَ عَلٰی عَلِیِّ سَبْعَ سِنِیْنَ وَلَمْ یَصْعُدْ اَوْ لَمْ یَرْتَفِعْ بِشَھٰادَةِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مِنَ الْاَرْضِ اِلَی السَّمَاءِ اِلَّا مِنِّی وَمِنْ علی ابنِ ابی طالب۔

❤انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ فرشتے سات سال تک مجھ پر اور علی علیہ السلام پر درود بھیجتے رہے (یہ اس واسطے کہ ان سات سالوں میں) خدا کی وحدانیت کی گواہی زمین سے آسمان کی طرف سوائے میرے اور علی کے علاوہ کسی نے نہ دی۔

❤یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے سب سے پہلے اسلام لانے کے بارے میں اہلِ سنت اور شیعہ کتب سے کافی روایات ملتی ہیں۔ جیسے زید بن ارقم کہتے ہیں کہ:

اَوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ عَلِی،

❤سب سے پہلے جو اسلام لائے وہ علی تھے۔

ابن کثیر کتاب البدایہ والنہایہ،جلد7،صفحہ335(باب فضائلِ علی علیہ السلام)۔

گنجی شافعی کتاب کفایة الطالب،باب25،صفحہ125۔

سیوطی ،کتاب تاریخ الخلفاء، صفحہ166(بابِ ذکر علی ابن ابی طالب علیہ السلام)۔

ابن عساکر تاریخ دمشق ،باب شرح حالِ امام علی ،جلد1، ص70،حدیث116۔

ابن مغازلی کتاب مناقب ِ امیر المؤمنین ،حدیث 19،ص8،اشاعت اوّل،ص14پر

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب12،صفحہ68۔

حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل میں، حدیث 786اور 819۔

سیوطی، کتاب اللئالی المصنوعہ،ج1،ص169و(صفحہ166اشاعت بولاق)

متقی ہندی، کنز العمال،ج11،ص616(موٴسسة الرسالہ بیروت،اشاعت پنجم)۔

اسی طرح انس بن مالک کہتے ہیں کہ:

"بُعِثَ النَّبِیُّ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَاَسْلَمَ عَلِیٌّ یَوْمَ الثلاثا"

یعنی پیغمبر اکرم (ص) پیر کے دن مبعوث برسالت ہوئے اور علی علیہ السلام نے منگل کے  دن اسلام قبول کیا۔

خطیب،تاریخ بغداد میں، جلد1، صفحہ134(حالِ علی علیہ السلام، شمارہ1)۔

حاکم ،المستدرک میں، جلد3، صفحہ112(بابِ فضائلِ علی علیہ السلام)۔

ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد3،صفحہ26۔

سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء،صفحہ166(بابِ ذکر علی ابن ابی طالب علیہ السلام)۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب12، صفحہ 68اورباب59،ص335

ابن عساکر تاریخ دمشق ، حالِ امیر الموٴمنین امام علی ،جلد1، ص41،حدیث76۔


https://www.valiasr-aj.com/urdu/shownews.php?idnews=795
🔷 انسان وجودِ انبیاء کا محتاج 🔷

سوال: کیوں، انسان وجودِ انبیاء کے محتاج ہیں؟

جواب: استاد شہید مرتضیٰ مطہریؒ فرماتے ہیں کہ انسان دو وجوہات کی بنیاد پر انبیاء کا محتاج ہے۔

■ پہلی وجہ:
انسان، غریزۂ حیات کی بنیاد پر زندہ رہنا چاہتا ہے مگر زندہ رہنے کے لئے ہمیشہ اپنے ذاتی منافع و مفادات کے پیچھے رہتا ہے۔ لہذا نہ تو اجتماعی مصلحتوں (جیسے حق کا بول بالا، اجتماعی عدالت، انصاف و۔۔۔) کو تشخیص دے سکتا ہے اور نتیجتاً نہ ہی ان کی رعایت کرتا ہے۔ پس انسان ان دونوں مراحل کے لئے الہٰی ہادی، رہبر اور رہنما کا محتاج ہے۔

انبیاء وہ خدائی ہادی اور رہنما ہیں کہ جو ان دونوں مراحل کی ذمہ داری نہایت ہی احسن انداز سے نبھاتے ہیں۔ وہ کیسے؟

📍یعنی یہ الہٰی نمائندے ایک طرف انسان کو اجتماعی مصلحتوں (یعنی دین کے انفرادی اور اجتماعی پہلو) سے آگاہ کرتے ہیں۔

📍اور دوسری طرف اس انسان کے اندر ایمان نامی ایک قوت کو برانگیختہ کرتے ہوئے اس کے رگ و پے کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ اور پھر یہی قوت، انسان کو موظَّف اوراجتماعی مصلحتوں کی رعایت کرنے کا پابند بنا دیتی ہے کہ جس کی وجہ سے ایک صحیح اور سالم معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

"لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَيِّناتِ وَ أَنْزَلْنا مَعَهُمُ الْكِتابَ وَ الْميزانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۔" (سورہ حدید/25)
ترجمہ:
بتحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تا کہ لوگ عدل قائم کریں۔

"يا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْناكَ شاهِداً وَ مُبَشِّراً وَ نَذيراً وَ داعِياً إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِراجاً مُنيراً۔" (سورہ احزاب/45 و 46)
ترجمہ:
اے نبی ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اُس کے اذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر۔

"فَبَعَثَ اللَّهُ فيهِمْ رُسُلَهُ، وَ وَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَهُ بِمَا خَصَّهُمْ بِهِ مِنْ وَحْيِهِ، وَ جَعَلَهُمْ حُجَّةً لَهُ عَلى خَلْقِهِ، فَدَعَاهُمْ بِلِسَانِ الصِّدْقِ إِلى سَبيلِ الْحَقِّ، لِيَسْتَأْدُوهُمْ ميثَاقَ فِطْرَتِهِ، وَ يُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِهِ، وَ يَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْليغِ، لِئَلَّا تَجِبَ الْحُجَّةُ لَهُمْ بِتَرْكِ الإِعْذَارِ إِلَيْهِمْ، وَ يُثيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ، وَ يُرُوهُمْ آيَاتِ الْمَقْدِرَة۔" (نہج البلاغہ/خ 1)
ترجمہ:
پروردگار نے ان کے درمیان رسول بھیجے۔ انبیاء کا تسلسل قائم کیا تاکہ وہ ان سے فطرت کی امانت واپس لیں اور انہیں بھولی ہوئی نعمتِ پروردگار یاد دلائیں۔ تبلیغ کے ذریعہ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کی عقل کے دفینوں کو برانگیختہ کریں اور انہیں قدرت الہی کی نشانیاں دکھلائیں۔

■ دوسری وجہ:
انسان کے وجودِ انبیاء کے محتاج ہونے کی دوسری وجہ آخرت و معاد کی حقیقت سے ناآشنائی ہے۔ کیونکہ نہ تو کوئی بھی عقل اور ٹیکنالوجی معاد کو ثابت کر سکتی ہے اورنہ ہی اس کی حقیقت و ماہیت بیان کر سکتی ہے اور نہ ہی یہ بتا سکتی ہے کہ انسان کی اخروی سعادت و شقاوت کے اسباب کیا ہیں۔

معاد سے متعلق پیغمبر اسلام (ص) اور ان سے پہلے والے انبیاء پر نازل ہونے والی وحیِ الہٰی کی آیات اور انبیاء (ع) کے اقوال و فرامین اس وجہِ ثانی کے بہترین شواہد ہیں۔

🔘 نتیجہ:
پس اگر انبیاء جیسے معلّم اس دنیا میں تشریف نہ لاتے تو روئے زمین پر انسان و انسانیت نامی کوئی چیز نہ ہوتی بلکہ ابتداء سے ہی جنگل کا ایک ایسا قانون بن جاتا کہ جس کی بنیاد پر ہر قوی، ضعیف کو پائمال و نابود کر دیتا اور دنیوی و اخروی شقاوت اُس کا مقدر بن جاتی۔


📚 حوالہ جات:
[➊] قرآن مجید
[➋] نہج البلاغہ
[➌] مجموعۂ آثار استاد شہید مرتضیٰ مطہری، ج 4، ص 290 تا 293.

https://t.me/islamwitheman/1091
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
*معصوم ؑکی زبانی حدیث کی اہمیت*

*حدیث*
حضرت رسول اللہ صلی الله علیه و آله وسلم:
۱۔جو شخص میری امت تک ایک حدیث پہنچائے جس سے کوئی سنت قائم ہو یا کسی بدعت کے رخنہ کو مسدود کیا جائے تو اس کے لیے بہشت ہے۔(بحارالانوارج۲ ص۱۵۲)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام:
۲۔ ہماری حدیث دلوں کو زندہ کرتی ہے۔(بحارالانوار ج۲ ص۱۴۴)

۳۔ایک حدیث جسے تو کسی سچے انسان سے حاصل کرے تیرے لیے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔(امالی شیخ مفید ص۴۲)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام:
۴۔ ہمارے نزدیک لوگوں کے مقام و منزلت کو ان کے ہم سے روایات کے بیان کرنے کی مقدار سے پہچانو۔ (بحارالانوارج۲ ص۱۵۰)

*حدیث بیان کرنے والا*
حضرت رسول اللہ صلی الله علیه و آله وسلم:
۵۔خداوندا! میرے خلفاء پر رحم فرما! یہ تین مرتبہ فرمایا لوگوں نے پوچھا: ’’یا رسول اللہ(ص) آپ ؐ کے خلفاء کون ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’وہی لوگ جو میری حدیث اور سنت تک پہنچتے ہیں اور میری امت کو حدیث و سنت کی تعلیم دیتے ہیں‘‘ (بحارالانوار ج۲ ص۱۴۴)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام:
۶۔حدیثوں کا راوی اور دین کا فقیہ ایسے ہزار عابدوں سے افضل ہے جن کے پاس نہ تو فقہ ہوتی ہے اور نہ ہی روایت۔ (بحارالانوار ج۲ ص۱۴۵)

*چالیس حدیثوں کا حافظ*
حضرت رسول اللہ صلی الله علیه و آله وسلم:
۷۔جو شخص میری امت کو چالیس حدیثیں حفظ کر کےبتائے جن سے وہ دین کے معاملہ میں فائدہ اٹھائیں، خداوند تعالیٰ اسے قیامت کے دن فقیہ اور عالم بنا کر اٹھائے گا۔ (بحارالانوارج۲ ص۱۵۶) حدیث کی درایت

حضرت امام علی علیہ السلام:
۸۔ تمہیں روایات کی نہیں درایات کی پابندی کرنی چاہیے۔(کنزالفوائدج۲ ص۳۱)

۹۔ بیوقوں کی زیادہ تر کوشش روایت ہی کے لیے ہوتی ہے، جب کہ (سمجھدار) علماء کی کوشش درایت ہوا کرتی ہے۔ (بحارالانوار ج۲ ص۱۶۰)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام:
۱۰۔ایک حدیث جو تم درایت کے ساتھ یاد رکھو ایسی ہزار حدیثوں سے بہتر ہے جسے تم روایت کے طور پر بیان کرو۔ (معانی الاخبار ج۲ ص۳)

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👇🏻🌸داستان سکاکی🌸👇🏻

سراج الدین سکاکی ایک بلند پایہ عالم تھے۔ وہ کئی علوم کے ماہر سمجھے جاتے تھے مفتاح العلوم اُن کی مشہور کتاب ہے۔ وہ اپنی جوانی میں لوہار تھے اور لوہے کے اوزار بنایا کرتے تھے۔ انہوں نے اس دور میں ایسا تالا بنایا جس کا وزن صرف ایک قیراط تھا۔ اور اس تالے کو بادشاہ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرنے لے گئے۔
بادشاہ اور اس کے درباریوں نے اس تالے کو دیکھا ضرور لیکن اس کی کوئی خاص تعریف نہیں کی۔ اسی اثنا میں ایک عالم دربار میں داخل ہوا تو بادشاہ نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا اور اس کو اپنے پہلو میں بٹھایا۔
سکاکی نے پوچھا یہ کون ہے؟ اسے بتایا گیا کہ یہ ایک عالم ہے۔ یہ سن کر سکاکی سوچنے لگا اگر میں عالم ہوتا تو بادشاہ میرا بھی اتنا احترام کرتا جتنا عالم کا ہورہا ہے۔ اس وقت سکاکی کی عمر تیس برس تھی۔ وہ تحصيل علم کے لئے مدرسہ گئے۔ اسے دیکھ کر استاد نے کہا کہ مجھے پڑھانے میں تو کوئی اعتراض نہیں مگر اس عمر میں کچھ یاد نہیں کر سکوگے۔
سکاکی نے کہا کہ میں ہر قیمت پر علم حاصل کرونگا۔ استاد نے کہا: میں تمہارے حافظے کا امتحان لونگا پھر تمہیں پڑھانا شروع کرونگا۔
استاد نے امام شافعی کے اجتہادات میں سے ایک مسئلہ اسے سکھایا اور کہا کہ تم اس عبارت کو یاد کرو عبارت یہ تھی:
قَالَ الشیخُ یُطَھرُ جِلدُ الکَلبِ بالدباغِ
شیخ کا قول ہے کہ دباغت سے کتے کی جلد پاک ہوجاتی ہے۔
استاد نے کافی دیر تک سکاکی کو یہ عبارت یاد کرائی۔ دوسرے دن سکاکی
نے اس عبارت کو یوں سنایا:
قَالَ الکَلبُ یُطَھرُ جِلدُ الشَیخِ بِالدِباغ۔
کتے کا قول ہے کہ شیخ کی جلد دباغت سے پاک ہوجاتی ہے۔
مدرسے کے سارے طلباء یہ عبارت سن کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ سکاکی اپنے مستقبل سے مایوس ہوگئے اور دل میں کہنے لگے کہ اس عمر میں کچھ پڑھنا بے کار ہے۔ بالخصوص جب قوتِ حافظہ کمزور ہو۔ انہوں نے مدرسہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
اسی دوران اس کا گزر ایک پہاڑی سے ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ پہاڑ سے پانی کا قطرہ قطرہ نیچے گر رہا ہے اور جہاں پانی کے قطرے گر رہے ہیں وہاں سخت پتھر ہونے کے باوجود پانی کی مسلسل بوندیں گرنے کی وجہ سے اس پتھر پر نشان پڑ چکا ہے۔
سکاکی اس منظر کو کافی دیر دیکھتے رہے پھر اپنے آپ سے کہنے لگے کہ پتھر سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں اور پانی سے زیادہ نرم کوئی چیز نہیں۔ جب نرم پانی کی ایک ایک بوند گرنے سے سخت پتھر پر نشان بن سکتا ہے تو میرا دل و دماغ پتھر سے تو زیادہ سخت نہیں۔ یہ سوچ کر ایک نئے عزم و ارادہ سے انہوں نے پڑھنا شروع کیا۔ آخر کار چند سالوں کے بعد وہ اپنے زمانے کے مشہور عالم بن گئے۔

👈داستانہای ما ج٣ ص٤٥

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔶 بو علی سینا اور حکمت و دانائی 🔶

ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوان گھوڑے سے نیچھے گر گئی اور اُس کے کولہے کی ھڈی اپنے بند سے جدا ھو گئی۔
لڑکی کے باپ نے بہت سے حکیموں سے علاج کروانے کی کوشش کی کہ ھڈی کو واپس اپنی جگہ پر بٹھائیں.... مگر مصیبت یہ تھی کہ لڑکی کسی حکیم کو اپنا جسم چھونے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔

باپ نے بہت اصرار کیا لیکن بیٹی کسی طرح راضی نہیں ھو رھی تھی اور دن بہ دن کمزور ھوتی جا رھی تھی۔

آخر لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر سے باھر ایک بہت حاذق حکیم رھتے ھیں اُن سے مشورہ کر لیں۔

وہ ..... حکیم صاحب کے پاس گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو حکیم صاحب نے کہا کہ ایک شرط پر میں آپ کی بیٹی کا کولہا ھاتھ لگائے بغیر واپس بٹھا سکتا ھوں۔
وہ شخص کہنے لگا کہ جو بھی شرط ھو وہ قبول کرنے پر آمادہ ھے۔ حکیم نے کہا کہ شرط یہ ھے کہ ایک بہت موٹی تازی گائے میرے لئے لا دو تو میں علاج کر دوں گا آپ کی بیٹی کا۔

وہ شخص بہت بھاری قیمت پر شہر کی سب سے تنومند گائے خرید کر حکیم صاحب کے گھر لے گئے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ آپ اپنی بیٹی کو پرسوں اپنے ساتھ لے آئیں،
اُسی دن #اللہ_کے_حکم سے اُس کا علاج کر دوں گا۔

جب وہ شخص چلا گیا تو حکیم صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ دو دن تک نہ تو گائے کو گھاس کا ایک تنکا کھلایا جائے اور نہ پانی کا ایک قطرہ پلایا جائے۔
شاگرد حیران ھوئے کہ اِتنی تنومند گائے دو دن میں بھوک اور پیاس سے مر نہ جائے۔ لیکن چونکہ استاد کا حکم تھا اس لئے تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

دو دن تک گائے بھوک اور پیاس کی شدّت سے بہت کمزور ھو گئی۔ دوپہر کے وقت وعدے کے مطابق وہ شخص اپنی بیٹی کو چارپائی پر ڈال کر حکیم صاحب کے پاس لے آیا۔

حکیم نے لڑکی کے والد سے کہا کہ اپنی بیٹی کو گائے کی پیٹھ پر بٹھا لیں۔ سب بہت حیران ھوئے لیکن حکم ماننے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ تھا۔ لڑکی کو گائے کی پیٹھ پر بٹھا دیا گیا۔ اب حکیم صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ لڑکی کے دونوں پاؤں گائے کے پیٹ کے گرد رسّی سے باندھ دیں۔

یہ کام ھونے کے بعد حکیم صاحب نے شاگردوں سے کہا کہ اب گائے کے سامنے گھاس اور دوسری خوراک ڈال دو۔
گائے دو دن کی بھوکی پیاسی تھی۔ جلدی جلدی کھانے لگی۔

حکیم صاحب نے اُس کے سامنے پانی کی بڑی سی بالٹی میں بہت سا نمک ڈال کر رکھ دیا اور گائے تیزی سے پانی پینے لگی۔ پانی میں نمک کی آمیزش نے پیاس کی شدّت اور بڑھا دی تو گائے نے ایک ساتھ بہت سا پانی پی لیا۔

گھاس اور پانی نے گائے کا پیٹ پُھلانا شروع کر دیا اور لڑکی کی ٹانگیں پر دباؤ اتنا بڑھا کہ وہ چیخنے لگ گئی۔ اچانک کھڑاک کی آواز آئی اور لڑکی شدّتِ درد سے بے ھوش ھو گئی۔

حکیم صاحب نے لڑکی کو گائے سے اُتروا کر اُس کے والد سے کہا کہ آپ کی بیٹی کے کولھے کی ھڈی اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گئی ھے اور یہ گائے آج سے میری ھے۔

یہ کوئی اور نہیں .....#حکیم_بو_علی_سینا تھے ....

جن کا نام بعد میں چہار بانگِ عالم میں مشہور ھو گیا۔

📚حکایاتِ فارسی.

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
⁉️ کثر انبیاء علیہم السلام مشرق وسطیٰ میں آئے ہیں۔ برصغیر و دیگر بہت سے مناطق میں ابنیاء مبعوث نہیں ہوئے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

🔰 جواب:اس سوال کا جواب جاننے کے لیے چند نکات کی جانب توجہ ضروری ہے۔

📌 1۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے الٰہی میں سے قرآن مجید و روایات میں بیان کیے گئے انبیاء علیہم السلام کے ناموں کی تعداد 28 سے تجاوز نہیں کرتی۔ یعنی قرآن مجید میں اکثر انبیاء کے نام اور ان کے علاقے بیان نہیں کیے گئے۔

📔 وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلاً مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنا عَلَيْكَ وَ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْك‏
اور ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ آپ سے کیا ہے اور بعض کا تذکرہ بھی نہیں کیا ہے۔ (سورہ غافر/78)

ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ مختلف مناطق میں انبیاء مبعوث نہ ہوئے ہوں؛ بلکہ قرآنی و دیگر ادلہ جس چیز کی نشاندہی کرتی ہیں، وہ اس کے برعکس ہیں۔ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی نذیر (خطروں سے آگاہ کرنے والا ) نہ گزرا ہو۔

📔 وَ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلاَّ خَلا فيها نَذيرٌ
اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔ (سورہ فاطر/24)

اسی طرح سے خدا وند متعال نے عبادت الٰہی کے قیام اور طاغوت سےلوگوں کے اجتناب کی غرض سے ہر امت میں رسول مبعوث فرمائے ہیں۔

📔 وَ لَقَدْ بَعَثْنا في‏ كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ
اور بتحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو ( یعنی زندگی کے ہر شعبے میں خدا کو اپنا معبود مانو)اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو۔ (سورہ نحل/36)

اسی طرح سے اس سنتِ الٰہی کو بیان کیا گیا ہے کہ جب تک خدائے متعال کی جانب سے کوئی رسول نہ بھیجا جائے، عذاب نہیں دیا جاتا۔

📔 وَ ما كُنَّا مُعَذِّبينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
اور جب تک ہم کسی رسول کو مبعوث نہ کریں عذاب دینے والے نہیں ہیں۔ (سورہ اسراء/15)

📌 2۔ قرآن مجید کی رُو سےپانچ انبیاء ، حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت عیسیٰ ؑ اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اولوالعزم (صاحبانِ شریعت) نبی ہیں جن کی ذمہ داری اور رسالت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ان کے پیغام کا عالمی سطح کا ہونا ہے۔

📌 3۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ کسی پیغمبر کا جغرافیائی علاقہ اہم نہیں، بلکہ ان کا پیغام اہم ہے۔ اسلام قبول کرنے والے افراد دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھتے تھے۔

📌 4۔ جن انبیاء کا تذکرہ موجود ہے ان میں سے اکثر بین النہرین، جس کو مشرق وسطی کہا جاتا ہے (اس رائج لفظ کی بجائے مغربی ایشیاء کی تعبیر صحیح ہے) کے علاقے میں مبعوث ہوئے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ خطہ قدیمی ترین بڑی تہذیبوں کا مرکز رہا ہے، اور دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ قرآن مجید کے مستقیم طور پر مخاطب لوگ دیگر تہذیبوں کی نسبت اس علاقے کی تہذیب سے زیادہ آگاہ تھے اور یہ امر قرآن مجید کے بنیادی ہدف یعنی ہدایت کے ساتھ زیادہ سازگار ہے۔

📌 5۔ امکان موجود ہے کہ کئی علاقوں میں ابنیاء مبعوث ہوئے ہوں جن کا تذکرہ موجود نہیں۔ اکثر کے نام سے ہم واقف نہیں ہیں۔ اسی طرح سے بعض ایسے افراد کے نام موجود ہیں جن کو نبی کے عنوان سے بیان نہیں کیا گیا لیکن ان میں انبیاء جیسی صفات موجود تھیں۔ بہر حال قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ ہر قوم کے لیے ہادی ہے۔

📔 وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هادٍ
اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی اور رہبر ہے۔ (سورہ رعد/7)

حوالہ:
قرآن مجید

ملتمس دعا: #زین_عباس

https://t.me/islamwitheman/1081
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🦅 ابابیل 🦅

یہ وہ چھوٹا سا پرندہ 🦅 #ابابیل ہے جس نے ابراہ کے لشکر پر کنکریاں مار مار کر نیست و نابود کر دیا تھا جو بدبخت کعبہ ڈھانے کیلئے ہاتھیوں کا لشکر لے کر آیا تھا۔ اللہ نے برباد چھوٹی سی مخلوق سے کروا دیا ۔۔۔۔ آج پھر جو کعبہ پر حملہ کے بارے ناپاک عزائم رکھتے ہیں اللہ کسی بھی مخلوق سے انہیں برباد کروا سکتا ہے!

ابابیل کے متعلق مزید جائیے ۔۔

ابابیل زمین پر اترے بغیر مسلسل 10 ماہ تک پرواز کرسکتی ہے

پرندوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ابابیل (کامن سوئفٹ) 10 ماہ تک مسلسل پرواز کرسکتی ہے جبکہ اپنے اس پورے سفر میں وہ ایک لمحے کےلئے بھی زمین پر نہیں اُترتی اور اُڑتے دوران ہی اپنی غذا بھی حاصل کرتی ہے۔

واضح رہے کہ چھوٹی جسامت ہونے کے باوجود ابابیل (سوئفٹ) کا شمار دنیا کے بلند پرواز اور تیز رفتار پرندوں میں کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے مسلسل طویل ترین مدت تک پرواز کا ریکارڈ 6 ماہ تھا جو ابابیل ہی کی ایک قسم ’’الپائن سوئفٹ‘‘ کے پاس تھا۔ عام ابابیل نے، جسے سائنسی زبان میں ’’ایپس ایپس‘‘ (Apus Apus) کہا جاتا ہے، یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ یورپ سے افریقہ تک موسمی نقل مکانی (سیزنل مائیگریشن) کرتے ہوئے یہ ابابیل مسلسل 10 ماہ تک بغیر رُکے اور بغیر زمین پر اُترے پرواز کرتی ہے۔

سویڈن کی لیونڈ یونیورسٹی نے ڈیٹا حاصل کرنے کا ایک نیا طریقہ اختیار کرتے ہوئے 19 سوئفٹ پرندوں کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ جب یہ پرندہ اپنی نسل نہیں بڑھاتا تو اس دوران 10 ماہ کے عرصے میں 99 فیصد وقت میں پرواز ہی کرتا رہتا ہے۔ ایکولوجی کے پروفیسر اینڈرس ہیڈینسٹروئم کے مطابق عام سوئفٹ پرندے اگست میں اپنا گھر چھوڑ کر وسط افریقہ کے جنگلات کی جانب پرواز کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایک رات کچھ کئی دن اور کچھ مہینوں تک زمین کو نہیں چھوتے۔

کرنٹ بائیالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق رات کو وہ کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور اس سے اپنی توانائی بچاتے ہیں۔ دن میں گرم ہوا کے مرغولوں پر تیرتے رہتے ہیں اور اس طرح دن میں بھی اپنی قوت کو جمع رکھتےہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ پرندے سوتے بھی ہیں یا نہیں۔ یہ اڑان کے دوران ہی کھانا جمع کرکے کھاتے رہتے ہیں۔ شاید یہ رات کو کچھ وقت کے لیے آرام کرتے ہوں گے مگر بہت ہی تھوڑے وقفے کےلئے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ سوئفٹ پرندوں کی زندگی بھی طویل ہوتی ہے اور ایک پرندہ اوسطاً 20 سال تک زندہ رہتا ہے۔ ان کے مسلسل سفر کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ایلپائن سوئفٹ اور عام ابابیل، دونوں پرندے ہی اپنی 20 سالہ زندگی میں اتنے فاصلے تک پرواز کرلیتے ہیں جو چاند تک آنے اور جانے کے 7 چکروں جتنا طویل ہوتا ہے۔

https://t.me/islamwitheman/1093
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 مسخ شُدہ جانور (1) 🔷

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا بنی آدم تیرہ قسم کے جانوروں میں مسخ ہوئے ہیں۔ بندر، سور، چمگادڑ، سوسمار (چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور)، ریچھ، ہاتھی، کرم سیاہ (سیاہ کیڑا)، سگ ماہی، بچھو، سہل، خار پشت، زہرہ اور مکڑی۔

1- بندر: یہ بنی اسرائیل کی قوم تھی جو ساحل سمندر پر آکر ہفتہ کے روز مچھلی پکڑ کر حد سے تجاوز کرجاتے تھے (اس لئے کہ اللہ نے انہیں ہفتہ کے دن مچھلی پکڑنے سے منع کیا تھا) لہذا اللہ نے بندر کی صورت مسخ کردیا۔

2- سؤر: یہ بھی بنی اسرائیل ہی کی قوم تھی اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے ان کو بددُعا دی تھی لہذا اللہ نے سؤر کی صورت مسخ کردیا۔

3- چمگادڑ: یہ ایک عورت تھی جس نے اپنے دایہ پر جادو کردیا تھا تو اللہ نے اسے چمگادڑ کی صورت مسخ کردیا۔

4- سوسمار (چھپکلی کی شکل کا بڑا جانور): یہ ایک بُدو عرب تھا جو ہر اس شخص کو قتل کر دیتا تھا جو اس کے پاس سے گُذرتا تھا لہذا اللہ نے اسے سوسمار (ایک صحرائی جانور) کی صورت میں مسخ کردیا۔

5- ریچھ: یہ ایک مخنث شخص تھا جو لوگوں کو اپنے ساتھ بدفعلی کی طرف بُلاتا تھا لہٰذا اللہ نے اسے ریچھ کی صورت میں مسخ کردیا۔

6- ہاتھی: یہ ایک ایسا شخص تھا جو چوپایوں کے ساتھ بدفعلی کیا کرتا تھا، اور یہ اغلام باز تھا۔ لہٰذا اللہ نے اسے ہاتھی کی صورت میں مسخ کردیا۔

7- بچھو: یہ ایک چغلخور شخص تھا اور بدزُبان تھا۔ اس کی زبان سے کوئی محفوظ نہیں تھا۔ لٰہذا اللہ نے اسے بچھو کی صورت میں مسخ کردیا۔

8- کرم سیاہ: یہ شخص اِدھر کی بات اُدھر اور اُدھر کی بات اِدھر کیا کرتا تھا اور اس طرح محبت کرنے والوں میں جُدائی ڈالتا تھا۔

9- سگ ماہی: یہ دیوث(بے غیرت) شخص تھا جو مردوں کو اپنی بیوی کے ساتھ زنا کی طرف بُلاتا تھا۔

10- سہیل: یہ ایک ایسا شخص تھا جو یمن خراج وصول کیا کرتا تھا۔

11- خار پشت: یہ ایک بداخلاق مرد تھا۔

12- زہرہ: یہ ایک عورت تھی جس نے ہاروت و ماروت کو ورغلایا تھا اور دوسری روایت میں لکھا ہے کہ یہ ایک نصرانی عورت تھی جو بنی اسرائیل کے کسی بادشاہ کی بیوی تھی۔ اور یہی وہ عورت تھی جس نے ہاروت و ماروت کو ورغلایا تھا اس کا نام ناہیل تھا جبکہ لوگ اسے ناہید کہہ کر پُکارتے تھے۔

13- مکڑی: یہ ایک بداخلاق اور اپنے شوہر کی نافرمان عورت تھی جو اپنے شوہر سے روگردانی کرتی تھی۔ لہٰذا اللہ نے اسے مکڑی کی صورت میں مسخ کردیا۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی معلومات کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/5374
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💎 مرد اور عورت کا غیرت کرنا 💎

☑️کلام امیر المومنین علی علیہ السلام
عورت کا غیرت کرنا کفر ہے اور مرد کا غیور ہونا ایمان ہے۔
نہج البلاغہ، حکمت:124۔

📍مطلب یہ ہے کہ جب مر دکو چار عورتیں تک کر نے کی اجازت ہے تو عورت کا سوت گوارا نہ کر نا حلال خدا سے ناگواری کا اظہار اور ایک طرح سے حلال کو حرام سمجھنا ہے اور یہ کفر کے ہمپایہ ہے ,اور چونکہ عورت کے لیے متعدد شوہر کرنا جائز نہیں ہے ,اس لیے مرد کا اشتراک گوارا نہ کرنا اس کی غیرت کا تقاضا اور حرام خدا کو حرام سمجھنا ہے اور یہ ایمان کے مترادف ہے .

🛠مردوعورت میں یہ تفریق اس لیے ہے تاکہ تولید و بقائے نسل انسانی میں کوئی روک پیدا نہ ہو ,کیونکہ یہ مقصد اسی صورت میں بدرجہ اتم حاصل ہوسکتا ہے جب مرد کے لیے تعددازواج کی اجازت ہو ,کیونکہ ایک مرد سے ایک ہی زمانہ میں متعدد اولادیں ہوسکتی ہیں اور عور ت اس سے معذورو قاصر ہے کہ وہ متعدد مردوں کے عقد میں آنے سے متعدد اولادیں پیدا کرسکے .کیونکہ زمانہ حمل میں دوبارہ حمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا .اس کے علاوہ اس پر ایسے حالات بھی طاری ہوتے رہتے ہیں کہ مرد کو اس سے کنارہ کشی اختیا ر کرنا پڑتی ہے . چنانچہ حیض اور رضاعت کا زمانہ ایساہوتاہی ہے جس سے تولید کا سلسلہ رک جاتا ہے اور اگرمتعدد ازواج ہونگی تو سلسلہ تولید جاری رہ سکتا ہے کیونکہ متعدد بیویوں میں سے کوئی نہ کوئی بیوی ان عوارض سے خالی ہوگی جس سے نسل انسانی کی ترقی کا مقصد حاصل ہوتا رہے گا . کیونکہ
مرد کے لیے ایسے مواقع پیدا نہیں ہوتے کہ جو سلسلہ تولید میں روک بن سکیں .اس لیے خدا وند عالم نے مردوں کے لیے تعدد ازواج کو جائز قرار دیا ہے ,اور عورتوں کے لیے یہ صورت رکھی کہ وہ بوقت واحد متعدد مردوں کے عقد میں آئیں .کیونکہ ایک عورت کا کئی شوہر کرنا غیرت و شرافت کے بھی منافی ہے اور اس کے علاوہ ایسی صورت میں نسب کی بھی تمیز نہ ہوسکے گی کہ کون کس کی صلب سے ہے چنانچہ امام رضا علیہ السلام سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ مر دایک وقت میں چار بیویا ں تک کر سکتا ہے اور عورت ایک وقت میں ایک مرد سے زیادہ شوہر نہیں کرسکتی .

🔴حضرت نے فرمایا کہ مرد جب متعدد عورتوں سے نکاح کر ے گا تو اولاد بہرصورت اسی کی طرف منسوب ہوگی اور اگر عورت کے دو یا دو سے زیادہ شوہر ہوں گے تو یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ کو ن کس کی اولاد اور کس شوہر سے ہے لہٰذا یسی صورت میں نسب مشتبہ ہو کر رہ جائے گا اور صحیح باپ کی تعیین نہ ہوسکے گی .اور امر اس مولود کے مفاد کے بھی خلاف ہوگا کیونکہ کوئی بھی بحیثیت باپ کے اس کی تربیت کی طرف متوجہ نہ ہوگا جس سے وہ اخلاق و آداب سے بے بہرہ اور تعلیم و تربیت سے محروم ہوکر رہ جائے گا۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌹 تقویٰ کی اہمیت 🌹

تقویٰ کی اہمیت کے بارے میں قرآن مجید کی آیات کو بیان کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ تقویٰ کے لغوی معنی و مفہوم کی طرف اشارہ کریں ۔
تقویٰ کالغوی معنا
مفردات میں راغب اصفہانی لکھتے ہیں :
[وقی ، وقایہ ]یعنی کسی شئے کی ضرر سے اور ہر اس چیز سے کہ جس سے اُسے نقصان کا اندیشہ ہو ، حفاظت کرنا ۔ قرآن کریم کی آیات میں آیاہے:
🔸 فوقاھم اللہ : خدا تعالیٰ نے انہیں محفوظ کیا ۔
🔸و وقاھم عذاب السعیر : انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لیا۔
🔸و ما لھم من اللہ من واق : کوئی انہیں خدا کے غضب سے نہیں بچا سکتا ۔
🔸ما لک من اللہ من ولی و لا واق : خدا کے سوا تمہارا کوئی سرپرست اور محافظ نہیں ہے ۔
🔸قوا انفسکم و اہلیکم نارا : خود کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ ۔
تقویٰ یعنی اپنے آپ کو ہر اُس چیز سے جس میں خوف اور پریشانی ہو بچانا اور محفوظ کرنا ہے۔ دینی متون اور شرعی مفاہیم میں تقویٰ سے مراد خود کو گناہ کے عوامل سے دور رکھنا اور ناروا اعمال سے بچانا ہے ۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر بعض مباح اعمال سے بھی چشم پوشی کرنا ضروری ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ حلال و حرام کی سرحدیں تو واضح ہیں لیکن جو کوئی کھائی کے اردگرد چکر کاٹے گا ہو سکتا ہے وہ بھی کھائی میں گر جائے ۔ (۱)
سید حیدر آملی تفسیر "محیط اعظم "میں لکھتے ہیں :
تقویٰ کے کئی مرتبے اور درجات ہیں اور اہل ظاہر اور اہل باطن کے یہاں اس کی مختلف تعریف ہے :
🔹 اہل ظاہر کی نظر میں تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی معصیت سے دوری اور اجتناب اور اپنی اُن شرعی ذمہ داریوں کو انجام دے جو خدا تعالیٰ نے اس پر واجب کی ہیں۔ یہ لفظ '' اتقا '' سے لیا گیا ہے جس کے معنی رکنا اور پرہیز کرنا ہیں ، اور یہ تلخیوں کے سامنے رکاوٹ کھڑے کر کے انہیں آنے سے روکنے کے معنا میں ہے۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے : '' اتقی السہم بالترس ''اس نے ڈھال کے ساتھ تیر کو روکا یعنی ڈھال کو تیر کے سامنے رکاوٹ بنایا ۔
🔹لیکن اہل باطن کی نگاہ میں تقویٰ اس چیز سے اجتناب ہے جس کے بارے میں ذکر ہوچکا ہے بلکہ حلال نعمتوں اور دنیاوی لذتوں سےبھی پرہیز کرنا سوائے ضرورت کی مقدار کے اور محرمات کا ارتکاب اور گناہ کو انجام دینا تو دور کی بات ہے۔(۲)
قرآن مجید کی آیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مومن انسان گناہ کبیرہ کے مقابل میں تقویٰ الٰہی کو اختیار کرے تو خدا تعالیٰ اس کے صغیرہ گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
پروردگار عالم فرماتا ہے :
ذَالِكَ أَمۡرُ ٱللَّهِ أَنزَلَهُ إِلَيۡكُمۡ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يُكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّ‍َٔاتِهِ وَيُعۡظِمۡ لَهُ أَجۡرًا (جو کوئی تقویٰ الٰہی اختیار کرے ، خدا تعالیٰ اُس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اسے اجر عظیم اسے عطا فرماتا ہے )( طلاق / ٥ )۔
ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے:
وَلَوۡ أَنَّ أَهۡلَ ٱلۡكِتَابِ آمَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَكَفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّ‍أَتِهِمۡ وَلَأَدۡخَلۡنَاهُمۡ جَنَّاتِ ٱلنَّعِيمِ (اور اگر اہلِ کتاب ایمان لے آتے اور ہم سے ڈرتے رہتے تو ہم ان کے گناہوں کو معاف کردیتے اور انہیں نعمتوں کے باغات میں داخل کردیتے) ( مائدہ / ٦٥ )۔
تقویٰ کہ جس کا ذکر ایمان کے بعد ہوا ہے سے مرادمحرمات سے دوری اورایسے گناہوں سے اجتناب کرناہے کہ جیسے شرک اور دوسرے وہ کبیرہ گناہ کہ جن پر پروردگار نے عذاب کا وعدہ دیا ہے ۔ اسی طرح '' سیئات '' جن کی بخشش کا پروردگار عالم نے وعدہ کیا ہے ، صغیرہ گناہ ہیں ۔
جیسا کہ پروردگار عالم اس آیت کریمہ میں فرما رہا ہے :
إِن تَجۡتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّ‍أَتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡكُم مُّدۡخَلًا كَرِيماً (اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں روکا گیا ہے پرہیز کرلو گے تو ہم دوسرے گناہوں کی پردہ پوشی کردیں گے اور تمہیں باعزّت منزل تک پہنچادیں گے)( نساء / ٣١ )
ان دو آیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ معصوم ( علیہ السلام ) کے اس فرمان کہ جو تقویٰ کی لغوی تعریف کے بارے میں آیا ہے کہ'' تقویٰ ، محرمات سے دوری اختیار کرنا ہے '' میں محرمات سے مراد گناہان کبیرہ ہیں ۔(۳)

۱) راغب اصفہانی ، المفردات فی غریب القرآن ، ص ٥٣٠ ، مادہ '' وقی ''
۲) سید حیدر آملی ، تفسیر المحیط الاعظم ، ج ١ ، ص ٢٧٨
۳) المیزان فی تفسیر القرآن ، ج ٦ ، ص ٣٧ ؛ ج ١٩ ، ص ٣١٧.

http://t.me/islamwitheman/799
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں🌷

حضرت علی علیہ السلام:
١۔اخلاص کاسبب یقین ہوتا ہے۔ (غررالحکم)

٢۔عمل میں قوی یقین اورصالح نیت کےساتھ اخلاص پیدا ہوتاہے۔(غررالحکم)

٣۔اخلاص کی اصل یہ ہے کہ لوگوں کے ہاتھ میں موجود چیزوں سے ناامیدی اختیارکرلی جائے۔(غررالحکم)

٤۔جوشخص خداکے پاس موجود چیزوں کے بارے میں رغبت کرے گااس کاعمل خالص ہوجائےگا۔ (غررالحکم)

اخلاص کے آثار

حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم:
١۔جو بندہ چالیس روز تک اپنے اعمال کوخداکیلئے خالص کرکے انجام دے گا،اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے سرچشمے جاری کردئے جائیں گے۔ (عیون اخبارالرضاص٦٨، درمنثورج٢ ص٢٣٧)

حضرت علی علیہ السلام:
٢۔نیتوں کے خالص رکھنے میں، امور میں کامیابی کا راز مضمر ہے۔۔۔۔۔۔ (غررالحکم)

٣۔جونیت خالص کرے گاوہ اپنے مقاصدکوپالے گا۔ (غررالحکم)

٤۔جب خلوص یقینی طورپرحاصل ہوجائے گاتوبصیرت بھی روشن ہوجائے گی۔(غررالحکم)

امام جعفرصادق علیہ السلام:
٥۔''مومن سے ہر چیز ڈرتی اورخوف کھاتی ہے'' ، پھر فرمایا: جب مومن خدا کیلئے مخلص ہوگاتواللہ تعالیٰ بھی اس کے لئے ہر چیز کے دل میں خوف پیداکردے گاحتیٰ کہ زمین کے جانوروں اور چوپایوںاورآسمان کے پرندوں کے دل میں بھی۔ (بحارالانوارج٧ص٢٤٨)

📘نقل از تفسیر المعین الترجمۃ القرآن الکریم ص۶۳
تالیف: علامہ محمد علی فاضل دامت برکاتہ

https://t.me/islamwitheman/634
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ عشقِ خدا ⭕

حضرت موسیٰؑ کلیم اللہ نےاپنی مناجات میں اپنے خالق سے درخواست کی مجھے اپنی اس مخلوق کی ملاقات کرا جس نے اپنے آپ کو فقط تیرے لئے خالص کر لیا ھو اور اسکی عبادت ہر نقص و عیب سے پاکیزہ ھو.

خطاب آیا:
فلاں دریا کے کنارے چلے جاؤ تو تم جس کو دیکھنا چاہتے ھو، دکھاؤں.
چنانچہ حضرت موسیٰؑ دریا کے کنارے پہنچے تو دیکھا دریا کے کنارے پر ایک درخت لگا ھوا ہے جسکی شاخیں بہتے دریا تک پہنچی ھوئی ہیں اور اس درخت کی آخری شاخ جو بلکل پانی کو چھو رہی ہے اس پر ایک پر ندہ بیٹھا ہے جو ذکر خدا میں مشغول ہے، حضرت موسیٰؑ نے اس پرندے سے حال احوال پوچھا تو وہ عرض کرنے لگا جب سے میرے خالق نے مجھے خلق فرمایا ہے میں اسی طرح اسکے ذکر واذکار میں مصروف ھوں۔

تو آپ نے اس سے پوچھا اس لذتوں سے بھری دنیا میں سے کسی چیز کی تمھارے اندر حسرت ھو؟؟؟

تو پرندہ عرض کرنے لگا:
میری ایک ہی حسرت ہے کہ اس دریا کے لذیذ پانی سے ایک گھونٹ پی لوں.

تو حضرت موسیٰؑ نے اسے کہا تو یہ پانی تمھارے اختیار میں ہے، کیوں نہیں پیتے ھو؟ جبکہ اس پانی اور تمھاری چونچ میں کوئی زیادہ فاصلہ بھی نہیں؛!

عرض کرنے لگا:
مجھے ڈر ہے اس پانی کی لذت کہیں مجھے اپنے خالق کے ذکر سے محروم نہ کردے،
حضرت موسیٰؑ نے اس کا جواب سن کر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پیٹ لیا.

📕 خزینة الجواہر، ص- 318۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773

⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774

⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776

⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780

⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793

⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794

⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788

⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799

⭕ موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104

⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105

🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103

⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329

⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🤲 دعا کی تاثیر 🤲

ترکستان کا بادشاہ لمبی عمر کا خواہاں تھا، وہ مرنا نہیں چاہتا تھا، اس کے طبیبوں نے بتایا کہ ہندوستان کی سرزمین پر چند ایسی جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں جن میں آب حیات کی تاثیر ہے، آپ اگر وہ جڑی بوٹیاں منگوا لیں تو ہم آپ کو ایک ایسی دواء بنا دیں گے جس کے کھانے کے بعد آپ جب تک چاہیں گے زندہ رہیں گے۔

ترکستان کے بادشاہ نے دس لوگوں کا ایک وفد تیار کیا اور یہ وفد ہندوستان کے راجہ کے پاس بھجوا دیا۔ اس وفد میں ترکستان کے طبیب بھی شامل تھے اور بادشاہ کے انتہائی قریبی مشیر بھی۔

وفد نے ہندوستان کے راجہ کو ترک بادشاہ کا پیغام پہنچا دیا۔

راجہ نے پیغام پڑھا، قہقہہ لگایا، سپاہی بلوائے اور وفد کو گرفتار کروا دیا۔

راجہ گرفتاری کے بعد انھیں سلطنت کے ایک بلند و بالا پہاڑ کے قریب لے گیا، اس نے پہاڑ کے نیچے خیمہ لگوایا، ان دس لوگوں کو اس خیمے میں بند کروایا اور اس کے بعد حکم جاری کیا کہ جب تک یہ پہاڑ نہیں گرتا تم لوگ اس جگہ سے کہیں نہیں جا سکتے۔ تم میں سے جس شخص نے یہاں سے نکلنے کی کوشش کی اس کی گردن کاٹ دی جائے گی۔

راجہ نے اپنا فوجی دستہ وہاں چھوڑا اور واپس شہر آ گیا۔

ترکستانی وفد کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی، وہ پہاڑ کو اپنی مصیبت سمجھنے لگے، مشکل کی اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں تھا۔ وہ زمین پر سجدہ ریز ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑانے لگے۔ وہ صرف کھانا کھانے، رفع حاجت یا پھر وضو کرنے کے لیے سجدے سے اٹھتے تھے اور پھر اللہ سے مدد مانگنے کے لیے سجدے میں گر جاتے تھے۔

رسول اکرم (ص) فرماتے ہیں: اگر تم خدا کی معرفت حاصل کر لو تو تمہاری دعائیں پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹا دیں گی۔ (میزان الحکمت، ج2، ص43)

اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آ گیا چنانچہ ایک دن زلزلہ آیا، زمین دائیں سے بائیں ہوئی، پہاڑ جڑوں سے ہلا اور چٹانیں اور پتھر زمین پر گرنے لگے۔ ان دس لوگوں اور سپاہیوں نے بھاگ کر جان بچائی۔

راجہ کے سپاہی ان دس لوگوں کو لے کر دربار میں حاضر ہو گئے، انھوں نے راجہ کو سارا ماجرا سنایا۔

راجہ نے بات سن کر قہقہہ لگایا اور اس کے بعد ان دس ایلچیوں سے کہا؛ آپ لوگ اپنے بادشاہ کے پاس جاؤ، اسے یہ واقعہ سناؤ اور اس کے بعد اسے میرا پیغام دو، اسے کہو: دس لوگوں کی بددعا جس طرح پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہے بالکل اسی طرح دس بیس لاکھ عوام کی بددعائیں بادشاہ کی زندگی اور اقتدار دونوں کو خاک میں ملا سکتی ہیں۔ تم اگر لمبی زندگی اور طویل اقتدار چاہتے ہو تو لوگوں کی بد دعاؤں سے بچو، تمہیں کسی دوا، کسی بوٹی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں:
دعا و بلا قیامت تک برسر پیکار ہیں لیکن دعا یقینی بلا کو ٹال دیتی ہے۔(1)

▪️امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: دعا قضا کو بھی ٹال دیتی ہے، اگرچہ وہ قضا مستحکم ہی کیوں نہ ہوئی ہو، پس کثرت سے دعا کریں۔ کیونکہ دعا تمام رحمتوں کی چابی ہے۔(2)

■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر کسی نے مصیبت کے آنے سے قبل خوفزدہ ہوکر خدا سے دعا کی تو پروردگار عالم قطعا اسکو اس مصیبت میں مبتلا نہیں کریگا۔(3)

■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
مؤمن کیلئے غائبانہ دعا رزق کی زیادتی کا سبب اور بلاؤں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔(4)

■ حضرت امام موسٰی کاظمؑ فرماتے ہیں:
دعائیں کرو، چونکہ خدا کو پکارنا اور اس سے مانگنا بلاؤں کو برطرف کرتا ہے۔ جو چیزیں قضا و قدر میں حتمی ہو چکی ہیں، دعائیں اس کو بھی ٹال دیتی ہیں۔(5)

■ حضرت امام موسٰی کاظمؑ فرماتے ہیں:
جب کوئی شخص دوسروں کے لئے دعا کرتا ہے تو عرش الہٰی سے آواز آتی ہے ۔۔۔ اے دوسروں کے حق میں دعا کرنیوالے! تیرے لیے دو لاکھ فرشتے دعا کریں گے۔(6)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 حوالہ جات
(1) عدةالداعی، علامہ احمد بن فهد حلّیؒ
(2) سفينة البحار، ج3، ص48۔
(3) عدةالداعی، علامہ احمد بن فهد حلّیؒ
(4) عدةالداعی، علامہ احمد بن فهد حلّیؒ
(5) عدةالداعی، علامہ احمد بن فهد حلّیؒ
(6) وسائل الشیعہ، ج4، ص1147۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

✍ 🤲 دعا کی تاثیر
http://t.me/islamwitheman/1106

🍃 الله تعالٰی سے مانگنا
http://t.me/islamwitheman/1115

🌲 قبولیت سے ناامیدی
https://t.me/islamwitheman/1734

🔷 دعا کی اہمیت و فائدہ
http://t.me/islamwitheman/1856

🔘 کہیں دعا قبول نہ ہو جائے۔
https://t.me/islamwitheman/2161

🔷 دعا کی قبولیت میں تاخیر
https://t.me/islamwitheman/6113

🔷 دعا کا دیر سے قبول ہونا
https://t.me/islamwitheman/6164
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🍀حضرت علیؑ کی نصیحت آموز باتیں🍀

ایک شخص نے آپ (علیہ السلام) سے پند و موعظت (واعظ و نصیحت) کی درخواست کی، تو فرمایا:
تم کوان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیئے کہ جو عمل کے بغیر حسن انجام کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر توبہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جو دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں۔
اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جو انہیں ملاہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جو بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجا نہیں لاتے۔
نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں۔
اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوں کی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں۔
اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں۔ اور تندرست ھوتے ھیں تو مطمئن ھوکر کھیل کود میں پڑ جاتے ھیں جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تواترانے لگتے ہیں .اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے۔
جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہوکر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں۔
ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبالیتے۔ دوسروں کے لیے ان کے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں۔
اگر مالدار ہوجاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہوجاتے ہیں تو ناامید ہوجاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں۔
جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پرآتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔
اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں، اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں، اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو اسلام کی جماعت کے خصوصی امتیازات سے الگ ہوجاتے ہیں۔
عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں .مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں۔
فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں وہ نفع کو نقصان اور نقصا ن کو نفع خیال کرتے ہیں۔
موت سے ڈرتے ہیں .مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے۔ دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں۔
اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں، لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں۔
دولتمندوں کے ساتھ طرب و نشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں۔
اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں اور حق پورا پورا وصول کرلیتے ہیں مگر خود ادا نہیں کرتے۔
وہ اپنے پروردگار کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خوف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں صرف ایک یہی کلام ہوتا تو کامیاب موعظہ اور موثر حکمت اور چشم بینا رکھنے والے کے لیے بصیرت اور نظر و فکر کرنے والے کے لیے عبرت کے اعتبار سے بہت کافی تھا۔

📚نہج البلاغہ، کلماتِ قصار # 150۔

https://t.me/islamwitheman/1020
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵