The Balochistan Post
3.71K subscribers
77 photos
8 videos
3 files
38K links
TBP - Uncovering The Truth
Download Telegram
یعقوبِ دُرّا کی یاد میں – للّا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دشت کے بیابانوں میں صدیوں تک اشرفِ دُرّا کی آواز گونجتی رہی ہے۔ ایک توانا، دردناک آواز جس نے بلوچی موسیقی میں زہیرونک کو توان بخشی۔ اشرفِ دُرّا کی درد بھری آواز نے بلوچی موسیقی میں زہیرونک کی راگ کو تشکیل دیا ہے۔ سازندے، چرواہے اور دور بیابانوں کی بلوچ کماش اپنے پیاروں کی یاد میں جب زہیرونک کی راگ الاپتے ہیں تو بلند چٹانیں زمانوں کی یاد کو اپنی تہہ سے نکال کر ہلکا محسوس کرتی ہیں۔

اشرفِ دُرّا آج ایک ساز کا نام ہے، عہد کا نام ہے جو اپنوں کی زہیر کو موسیقی کے وسیلے بیان کرنے کا ہنر بلوچ کو سکھا کر گئے۔ آج وہی اشرفِ دُرّا کی سرزمین دشت نے ایک ایسے ہی ساز کو دفن کیا جس نے گلزمین کی غلامی کے خلاف سینکڑوں میل کا سفر کیا، سینکڑوں میل، شور کے چٹانوں میں اپنی بندوق کی ساز سے غلامی کی راگ کو چھیڑا۔ اس کہانی کا کردار یعقوب ہے، یعقوبِ دُرّا جس کی خاموش گونج دشت سے میلوں دور شور پارود و مستونگ کے محاذوں میں گونجتا ہوا امر ہوا۔

بلوچ عموماً اپنے بچوں کی ولادت کو کسی واقعے، کسی سانحے سے جوڑ کر یاد کرتے ہیں اور یعقوبِ کی ولادت کو سیلابی سال سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں یعقوبِ کا جنم گاؤں میں سیلابی صورتحال کے دوران ہوا جس کی سال 2005 ہے۔ اس حساب سے یعقوبِ کی عمر اس کی شہادت تک صرف اکیس سال تھی۔

* مکمل تحریر پڑھنے کیلئے ہماری ویب سائٹ کو ملاحظہ کریں:
https://thebalochistanpost.com/2026/04/%db%8c%d8%b9%d9%82%d9%88%d8%a8%d9%90-%d8%af%d9%8f%d8%b1%d9%91%d8%a7-%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%84%d9%84%d9%91%d8%a7-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86/
فلسفہِ سرمچاریت، شعوری مرگ، انسانی مقصدیت، اور فنا ہونے کا حقیقی تصور! – ہارون بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

علمِ فلسفہ میں کئی جگہ فنا ہونے کو ہی انسانی شعور کی انتہا سمجھا جاتا ہے، یا اسے شعور کی وہ سطح کہا جاتا ہے جہاں انسان وہ تمام حدود پار کر جاتا ہے جن میں وہ جکڑا ہوا ہو۔ یا وہ انسانی آزادی کے اس تصور اور مقام تک پہنچ جاتا ہے جو اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہتا ہے اور جو اپنی تشکیل خود کرتا ہے۔

کیونکہ فنا ہونے کا مطلب جسم کا مٹی بن جانا نہیں، بلکہ شعوری طور پر ان تمام سماجی و دنیاوی حدود سے الگ ہونا ہے جو انسان کے اندر کنسٹرکٹ کی گئی ہوں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آپ کا جسم محض ایک فکر انگیزی کا ترجمہ کر رہا ہو، جہاں زندگی مرگ کی فکری اور روحانی حقیقت کو جذب کر چکی ہو، اور اس حقیقت تک پہنچ چکی ہو جہاں انسان خود کو مکمل طور پر مقصد کے لیے معنی دے دیتا ہے، اور اس انسانی مقصدیت کو اپنی زندگی میں تلاش کر لیتا ہے جو نہایت پیچیدہ ہے اور عام انسانی تصور کی سمجھ سے بہت دور ہے۔

ہم اکثر جسمانی موت کو ہی زندگی کا فنا ہونا تصور کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کا خاتمہ اس وقت ہو جاتا ہے جب انسانی جسم کام کرنا ترک کر دیتا ہے، مگر جب ایک انسان شعوری مرگ تک پہنچتا ہے تو وہ ایک بالکل مختلف نوعیت کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ وہ حقیقی معنوں میں زندگی کے بنیادی فلسفے اور اس کے تصور تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔

شعوری مرگ میں زندگی کا تصور ایک ایسا فلسفہ ہے جہاں ایک ڈھانچہ فکری صورت میں سانس لے رہا ہوتا ہے، البتہ وہ ذات سے مکمل طور پر لاتعلق ہوتا ہے۔ اس کی ذات جسمانی طور پر موجود ہوتی ہے، لیکن وہ شعوری اور فکری طور پر ختم ہو چکی ہوتی ہے، اور اب وہ ایک سوچ اور فکر انگیزی کے تحت زندہ ہوتا ہے۔ اس کی سانسیں جسم کی ہوتی ہیں، مگر اس کے خیالات ایک فکر کی قید میں ہوتے ہیں۔ وہ ہر سماجی اور مادی احساس سے الگ، ایک خالص فکری احساس کے ساتھ زندہ ہوتا ہے۔ اس کے محسوسات ذاتی کیفیت تک محدود نہیں رہتے بلکہ اجتماعی زندگی کے تصور اور فکر میں ڈھل جاتے ہیں۔

مجھے اس فلسفی کا درست علم نہیں، مگر میں نے کہیں پڑھا تھا کہ فنا ہونا انسانی شعور کے آخری مقام تک پہنچنے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ انہوں نے یہ بات کس کیفیت اور احساس کے ساتھ کہی تھی، مگر اس مفہوم میں “فنا” وہ مقام ہے جہاں “میں” ختم ہو جاتا ہے اور صرف “وہ” باقی رہ جاتا ہے۔ تاہم، محض الفاظ کی حد تک اس بات کو سمجھ لینا اور حقیقتاً اس مقام تک پہنچ جانا دو مختلف مراحل ہیں۔

* مکمل تحریر پڑھنے کیلئے ہماری ویب سائٹ کو ملاحظہ کریں:
https://thebalochistanpost.com/2026/04/%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%81%d9%90-%d8%b3%d8%b1%d9%85%da%86%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%aa%d8%8c-%d8%b4%d8%b9%d9%88%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%b1%da%af%d8%8c-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d9%82/
کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ کو 6128 دن مکمل

دی بلوچستان پوسٹ

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ کو 6128 دن مکمل ہو گئے، تاہم لاپتہ افراد کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔

اس طویل اور پرامن احتجاج میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کر کے لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کی جدوجہد کو سراہا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ اتنے طویل عرصے گزرنے کے باوجود مسئلے کا حل نہ نکلنا انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جائے۔
- https://thebalochistanpost.com/2026/04/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%da%af%d9%85%d8%b4%d8%af%da%af%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d9%88%db%8c-%d8%a8%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%be-9/