ديوبند وسراوان اور عناصر اربعه.pdf
3.1 MB
دیوبند وسراواں اور عناصر اربعہ
فرقہ سراویہ بجنوریہ کے نظریات باطلہ کا قاہر رد و ابطال
از: طارق انور مصباحی
صفحات:235
فرقہ سراویہ بجنوریہ کے نظریات باطلہ کا قاہر رد و ابطال
از: طارق انور مصباحی
صفحات:235
ضروريات دين كا تعارف.pdf
1.2 MB
ضروریات دین کا تعارف
ضروریات دین کی سات تعریفات وتعبیرات کا تجزیہ اور متعدد تعبیرات کے سبب کا بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:42
ضروریات دین کی سات تعریفات وتعبیرات کا تجزیہ اور متعدد تعبیرات کے سبب کا بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:42
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid0UhvQCDX57q5uziNwvqSbZU5LQdmbsRiaDtup5oni2KqeP18f7c1su8jqfBW62oHWl/?mibextid=Nif5oz
📚 *عمرہ کے فضائل ومسائل*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230308_20230308_0343
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
📚 *عمرہ کے فضائل ومسائل*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230308_20230308_0343
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
عمرہ کے فضائل ومسائل.pdf
479.9 KB
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
لوک سبھا الیکشن:2024 اور اپوزیشن پارٹیاں
اپوزیشن پارٹیاں جس طرح منتشر ہیں,اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوک سبھا الیکشن:2024 میں بھی بی جے پی فتحیاب ہو جائے۔
کانگریس اپنے زور بازو سے یہ الیکشن جیتنے کی پلاننگ کر رہی ہے,لیکن کامیابی کی امید زیادہ نہیں۔تیسرا فرنٹ بننے سے بھی کوئی خاص فائدہ ہونے کی امید نہیں۔
یہ ضرور امید ہے کہ اگر اگلا لوک سبھا الیکشن بی جے پی جیت جاتی ہے تو عوامی احتجاج کا سلسلہ زور پکڑے گا اور ملک بھر میں افراتفری رہے گی۔فرقہ پرست قوتیں مزید مظالم ڈھائیں گی۔اقلیتوں اور پس ماندہ طبقات کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔
خدا خیر فرمائے۔ابھی ایک سال وقت ہے۔ممکن ہے کہ حزب مخالف کی پارٹیاں کوئی مضبوط منصوبہ بندی کریں۔سی بی آئی اور ای ڈی کی کاروائیاں بھی اپوزیشن کے لیڈروں کی نیند اڑا چکی ہیں۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:12: مارچ 2023
لوک سبھا الیکشن:2024 اور اپوزیشن پارٹیاں
اپوزیشن پارٹیاں جس طرح منتشر ہیں,اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوک سبھا الیکشن:2024 میں بھی بی جے پی فتحیاب ہو جائے۔
کانگریس اپنے زور بازو سے یہ الیکشن جیتنے کی پلاننگ کر رہی ہے,لیکن کامیابی کی امید زیادہ نہیں۔تیسرا فرنٹ بننے سے بھی کوئی خاص فائدہ ہونے کی امید نہیں۔
یہ ضرور امید ہے کہ اگر اگلا لوک سبھا الیکشن بی جے پی جیت جاتی ہے تو عوامی احتجاج کا سلسلہ زور پکڑے گا اور ملک بھر میں افراتفری رہے گی۔فرقہ پرست قوتیں مزید مظالم ڈھائیں گی۔اقلیتوں اور پس ماندہ طبقات کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔
خدا خیر فرمائے۔ابھی ایک سال وقت ہے۔ممکن ہے کہ حزب مخالف کی پارٹیاں کوئی مضبوط منصوبہ بندی کریں۔سی بی آئی اور ای ڈی کی کاروائیاں بھی اپوزیشن کے لیڈروں کی نیند اڑا چکی ہیں۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:12: مارچ 2023
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
ذلیل ترین سیاست اور بے شرم لیڈران
میری عمر چالیس سال سے اوپر ہے۔عہد طفولیت میں اندرا گاندھی مرڈر کیس(1984) کے بارے میں بھی سنا٫جب کہ شاید میں قاعدہ بغدادی پڑھ رہا تھا۔
بھاگلپور فساد اور راجیو گاندھی مرڈر کیس بھی مجھے یاد ہے۔وی پی سنگھ کی وزارت عظمی کا عہد اور منڈل وکمنڈل کی سیاست کی کچھ یادیں بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔
اٹل بہاری واجپائی کا عہد حکومت اور اس عہد میں نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کی مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائیاں بھی یاد ہیں۔
2014 سے آج تک مودی کا عہد حکومت بھی دیکھ رہا ہوں۔حالیہ رواں مدت میں فرقہ پرست قوتوں کی ذلیل ترین سیاست اور سیاسی لیڈروں کی بے حیائی وبے شرمی یقینا قابل تعجب ہے۔سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے اور اپنے ہر مخالف کو ذلیل ورسوا اور پریشان کرنے میں یہ لوگ خوب ماہر ہیں۔فرقہ پرست پارٹیوں اور لیڈروں کی رگ وپے میں ناانصافی اور یہودیانہ سرشت سرایت کی ہوئی ہے۔ہم نے آج تک ایسی بدترین سیاست اور ایسے بدترین لیڈر نہیں دیکھے۔اللہ تعالی ایسے لوگوں کے شر وفتنہ سے ہماری حفاظت فرمائے۔آمین
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:13:مارچ 2023
ذلیل ترین سیاست اور بے شرم لیڈران
میری عمر چالیس سال سے اوپر ہے۔عہد طفولیت میں اندرا گاندھی مرڈر کیس(1984) کے بارے میں بھی سنا٫جب کہ شاید میں قاعدہ بغدادی پڑھ رہا تھا۔
بھاگلپور فساد اور راجیو گاندھی مرڈر کیس بھی مجھے یاد ہے۔وی پی سنگھ کی وزارت عظمی کا عہد اور منڈل وکمنڈل کی سیاست کی کچھ یادیں بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔
اٹل بہاری واجپائی کا عہد حکومت اور اس عہد میں نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کی مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائیاں بھی یاد ہیں۔
2014 سے آج تک مودی کا عہد حکومت بھی دیکھ رہا ہوں۔حالیہ رواں مدت میں فرقہ پرست قوتوں کی ذلیل ترین سیاست اور سیاسی لیڈروں کی بے حیائی وبے شرمی یقینا قابل تعجب ہے۔سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے اور اپنے ہر مخالف کو ذلیل ورسوا اور پریشان کرنے میں یہ لوگ خوب ماہر ہیں۔فرقہ پرست پارٹیوں اور لیڈروں کی رگ وپے میں ناانصافی اور یہودیانہ سرشت سرایت کی ہوئی ہے۔ہم نے آج تک ایسی بدترین سیاست اور ایسے بدترین لیڈر نہیں دیکھے۔اللہ تعالی ایسے لوگوں کے شر وفتنہ سے ہماری حفاظت فرمائے۔آمین
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:13:مارچ 2023
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
دین فروشی کی مذمت.pdf
558.1 KB
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid0271AnJdafXtvGwqJmM23Ft1W4EHc9adz1RC4PFbGM56a8nVicCkwTJwmS3XaeBsGxl/?mibextid=Nif5oz
📚 استقبال رمضان
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230316_20230316_0359
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
📚 استقبال رمضان
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230316_20230316_0359
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
استقبالِ رمضان.pdf
459.4 KB
مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما
حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالی عنہ
شہر مدراس(چینئے)سے متصل کولم شریف میں ایک قدیم مزار ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ صحابی رسول حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روضہ مقدسہ ہے۔آج خاکسار شرف زیارت سے سرفراز ہوا۔
تمیم نام کے قریبا بیس صحابہ کرام ہیں۔کولم میں آرام فرما بزرگ سے متعلق مورخین مختلف الخیال ہیں۔بعض لوگوں کی رائے ہے کہ کیرلا کے راجا سامری کی گزارش پر حضرت مالک دینار رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ کیرلا آنے والے مبلغین میں سے کوئی بزرگ کولم آئے اور یہ مزار انہیں کا ہے:واللہ تعالٰی اعلم
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مزار صحابی رسول حضرت تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔دروازہ پر بھی صحابی رسول حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرقوم ہے۔اندرونی حصہ میں ایک بورڈ آویزاں ہے۔اس میں تفصیل رقم کی گئی ہے اور صاحب مزار کو صحابی بتایا گیا ہے۔
رسالہ:جالیۃ الاکدر والسیف البتار فی الصلوۃ علی المختار صلی اللہ علیہ وسلم (مصنفہ:
قاضی العراق مفتی ضیاء الدین بخاری)اور اکبر خان نجیب آبادی کی کتاب"آئینہ حق نما" کے حوالے سے یہ تفصیل رقم کی گئی ہے۔
15 ذی الحجہ سے 17 ذی الحجہ تک ہرسال کولم شریف میں حضرت تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عرس منایا جاتا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:20: من مارچ 2023
حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالی عنہ
شہر مدراس(چینئے)سے متصل کولم شریف میں ایک قدیم مزار ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ صحابی رسول حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روضہ مقدسہ ہے۔آج خاکسار شرف زیارت سے سرفراز ہوا۔
تمیم نام کے قریبا بیس صحابہ کرام ہیں۔کولم میں آرام فرما بزرگ سے متعلق مورخین مختلف الخیال ہیں۔بعض لوگوں کی رائے ہے کہ کیرلا کے راجا سامری کی گزارش پر حضرت مالک دینار رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ کیرلا آنے والے مبلغین میں سے کوئی بزرگ کولم آئے اور یہ مزار انہیں کا ہے:واللہ تعالٰی اعلم
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مزار صحابی رسول حضرت تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔دروازہ پر بھی صحابی رسول حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرقوم ہے۔اندرونی حصہ میں ایک بورڈ آویزاں ہے۔اس میں تفصیل رقم کی گئی ہے اور صاحب مزار کو صحابی بتایا گیا ہے۔
رسالہ:جالیۃ الاکدر والسیف البتار فی الصلوۃ علی المختار صلی اللہ علیہ وسلم (مصنفہ:
قاضی العراق مفتی ضیاء الدین بخاری)اور اکبر خان نجیب آبادی کی کتاب"آئینہ حق نما" کے حوالے سے یہ تفصیل رقم کی گئی ہے۔
15 ذی الحجہ سے 17 ذی الحجہ تک ہرسال کولم شریف میں حضرت تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عرس منایا جاتا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:20: من مارچ 2023
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مزارات علمائے مدراس(چنئے)
شہر مدراس(تمل ناڈو)میں قائد ملت روڈ پر مدراس کے نوابوں کی تعمیر کردہ عظیم الشان مسجد ہے جسے مسجد والا جاہی اور بڑی مسجد کہا جاتا ہے۔اسی مسجد کی شمالی جانب ایک قبرستان ہے۔
شہر مدراس کے علما و قائدین اسی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ بحر العلوم حضرت علامہ عبد العلی فرنگی محلی(م 1225)٫ان کے نواسے ملک العلما حضرت علامہ جمال الدین فرنگی محلی (م 1276)٫اور فرنگی محل کے متعدد علمائے کرام یہیں مدفون ہیں۔
مدراس کے مشہور عالم دین حضرت مفتی قاضی عبید اللہ بن صبغۃ اللہ مدراسی(م1346)٫حضرت قاضی حبیب اللہ مدراسی اور انڈین یونین مسلم لیگ کے مشہور قائد جناب اسماعیل مدراسی کے مقابر اسی قبرستان میں ہیں۔
آج 21:مارچ 2023 کو مسجد والا جاہی کے دیدار سے مشرف ہوا اور حضرت بحر العلوم قدس سرہ العزیز کے روضہ مبارکہ ودیگر مزارات کی زیارت سے شرف یاب ہوا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:مارچ 2023
مزارات علمائے مدراس(چنئے)
شہر مدراس(تمل ناڈو)میں قائد ملت روڈ پر مدراس کے نوابوں کی تعمیر کردہ عظیم الشان مسجد ہے جسے مسجد والا جاہی اور بڑی مسجد کہا جاتا ہے۔اسی مسجد کی شمالی جانب ایک قبرستان ہے۔
شہر مدراس کے علما و قائدین اسی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ بحر العلوم حضرت علامہ عبد العلی فرنگی محلی(م 1225)٫ان کے نواسے ملک العلما حضرت علامہ جمال الدین فرنگی محلی (م 1276)٫اور فرنگی محل کے متعدد علمائے کرام یہیں مدفون ہیں۔
مدراس کے مشہور عالم دین حضرت مفتی قاضی عبید اللہ بن صبغۃ اللہ مدراسی(م1346)٫حضرت قاضی حبیب اللہ مدراسی اور انڈین یونین مسلم لیگ کے مشہور قائد جناب اسماعیل مدراسی کے مقابر اسی قبرستان میں ہیں۔
آج 21:مارچ 2023 کو مسجد والا جاہی کے دیدار سے مشرف ہوا اور حضرت بحر العلوم قدس سرہ العزیز کے روضہ مبارکہ ودیگر مزارات کی زیارت سے شرف یاب ہوا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:مارچ 2023
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
فرقہ پرست قوتیں اور سیکولر پارٹیاں
بھارت کے پسماندہ طبقات اورمذہبی اقلیتیں سمجھتی ہیں کہ سیکولر پارٹیاں ہماری ہمدرد وخیر خواہ ہیں٫حالاں کہ سیکولر وغیر سیکولر پارٹیاں محض اپنے ذاتی وسیاسی مفادات کے پیش نظر کوئی اقدام کرتی ہیں۔
اگر تمام سیکولر پارٹیاں متحد ہو کر الیکشن میں اتریں تو فرقہ پرست پارٹیاں ضرور شکست وناکامی سے دو چار ہوں گی٫لیکن سیکولر پارٹیاں 2014 سے آج تک انفرادی طور پر قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔اگر وہ الیکشن میں متحد ہو جائیں تو کامیابی کے بعد حکومت سازی میں بھی اتحاد کرنے والی پارٹیوں کو حصہ داری دینی ہو گی۔یہی حصہ داری انہیں ہضم نہیں ہوتی ہے۔
اگر سیکولر پارٹیاں پسماندہ طبقات اور مذہبی اقلیتوں کی خیر خواہ ہوتیں تو وہ ضرور متحد ہو کر انتخابی میدان میں اترتیں٫لیکن 2014 سے آج تک بہت سے اسمبلی انتخابات ہوئے۔2019 میں لوک سبھا الیکشن ہوا۔سیکولر پارٹیوں کے متحد نہ ہونے کے سبب سیکولر ووٹ منتشر ہو جاتے ہیں اور سیکولر پارٹیاں ہار جاتی ہیں۔فرقہ پرست پارٹیاں جیت کر حکومت پر قبضہ جما لیتی ہیں٫پھر پسماند طبقات اور اقلیتوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23: مارچ 2023
فرقہ پرست قوتیں اور سیکولر پارٹیاں
بھارت کے پسماندہ طبقات اورمذہبی اقلیتیں سمجھتی ہیں کہ سیکولر پارٹیاں ہماری ہمدرد وخیر خواہ ہیں٫حالاں کہ سیکولر وغیر سیکولر پارٹیاں محض اپنے ذاتی وسیاسی مفادات کے پیش نظر کوئی اقدام کرتی ہیں۔
اگر تمام سیکولر پارٹیاں متحد ہو کر الیکشن میں اتریں تو فرقہ پرست پارٹیاں ضرور شکست وناکامی سے دو چار ہوں گی٫لیکن سیکولر پارٹیاں 2014 سے آج تک انفرادی طور پر قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔اگر وہ الیکشن میں متحد ہو جائیں تو کامیابی کے بعد حکومت سازی میں بھی اتحاد کرنے والی پارٹیوں کو حصہ داری دینی ہو گی۔یہی حصہ داری انہیں ہضم نہیں ہوتی ہے۔
اگر سیکولر پارٹیاں پسماندہ طبقات اور مذہبی اقلیتوں کی خیر خواہ ہوتیں تو وہ ضرور متحد ہو کر انتخابی میدان میں اترتیں٫لیکن 2014 سے آج تک بہت سے اسمبلی انتخابات ہوئے۔2019 میں لوک سبھا الیکشن ہوا۔سیکولر پارٹیوں کے متحد نہ ہونے کے سبب سیکولر ووٹ منتشر ہو جاتے ہیں اور سیکولر پارٹیاں ہار جاتی ہیں۔فرقہ پرست پارٹیاں جیت کر حکومت پر قبضہ جما لیتی ہیں٫پھر پسماند طبقات اور اقلیتوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23: مارچ 2023
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
شان خاتون جنت اور زکات کے احکام.pdf
1.6 MB
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
انتخابی نعروں کی بدلتی تصویریں
فرقہ پرست پارٹیاں ہمیشہ مسلم ہندو کی بات چھیڑ کر ہندو ووٹروں کو اپنی طرف راغب کر لیتی ہیں۔اگلا لوک سبھا الیکشن اپریل2024 میں ہونے کی امید ہے۔
چند ماہ سے اڈانی گھوٹالوں اور حزب مخالف کے ممبران پر ای ڈی اور سی بی آئی کے چھاپوں کی خبریں سرخیاں بٹور رہی ہیں۔راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت کو کالعدم قرار دینے کی خبر بھی میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔
الغرض چند ماہ سے مسلم ہندو کے بھاجپائی نعرے ماند پڑ چکے ہیں٫لیکن فرقہ پرست قوتیں یہودیانہ ذہنیت سے لبریز ہیں۔وہ عین موقع پر کوئی بڑی سازش کر کے مسلم ہندو کرنے کا راستہ صاف کر سکتی ہیں۔لوک سبھا الیکشن 2019 کے موقع پر پیش آنے والا پلوامہ حادثہ آج تک ایک معمہ بنا ہوا ہے کہ اس کے پیچھے کس کی سازش تھی۔
جب فرقہ پرست پارٹیاں مسلم ہندو کرتی ہیں اور مسلمانوں کے بارے میں نفرت پھیلاتی ہیں تو سیکولر پارٹیاں بھی سافٹ ہندتو کو اپنا لیتی ہیں۔وہ بھی فرقہ پرستوں کا روپ دھار لیتی ہیں٫تاکہ ان کے اُمیدواروں کو بھی ووٹ مل سکیں اور وہ جیت جائیں۔
اب فرقہ پرستوں نے سیکولر پارٹیوں کا نام ونشان مٹانے کے واسطے ان کے ممبروں پر قانونی کاروائی شروع کر دی ہے تو سیکولر پارٹیاں سافٹ ہندتو کا نظریہ بھول چکی ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کا ذکر کرنے سے گھبراتی ہیں اور انتخابات میں مسلم لیڈروں کو ٹکٹ بھی بہت کم دیتی ہیں۔رفتہ رفتہ وہ موسم بہار بھی جلوہ افروز ہو چکا ہے کہ فرقہ پرست پارٹیاں سیکولر پارٹیوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔
موجودہ صورت حال کے سبب چند ہفتوں سے مسلم ہندو کے نعرے اور دونوں قوموں کے درمیان نفرت پھیلانے کی تحریک کچھ کمزور پڑ گئی ہے۔اگر لوک سبھا الیکشن 2024 تک نئے موضوعات ابھرتے رہے تو امید ہے کہ 2024 میں فرقہ پرستوں کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے۔واللہ تعالیٰ اعلم
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:26:مارچ 2023
انتخابی نعروں کی بدلتی تصویریں
فرقہ پرست پارٹیاں ہمیشہ مسلم ہندو کی بات چھیڑ کر ہندو ووٹروں کو اپنی طرف راغب کر لیتی ہیں۔اگلا لوک سبھا الیکشن اپریل2024 میں ہونے کی امید ہے۔
چند ماہ سے اڈانی گھوٹالوں اور حزب مخالف کے ممبران پر ای ڈی اور سی بی آئی کے چھاپوں کی خبریں سرخیاں بٹور رہی ہیں۔راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت کو کالعدم قرار دینے کی خبر بھی میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔
الغرض چند ماہ سے مسلم ہندو کے بھاجپائی نعرے ماند پڑ چکے ہیں٫لیکن فرقہ پرست قوتیں یہودیانہ ذہنیت سے لبریز ہیں۔وہ عین موقع پر کوئی بڑی سازش کر کے مسلم ہندو کرنے کا راستہ صاف کر سکتی ہیں۔لوک سبھا الیکشن 2019 کے موقع پر پیش آنے والا پلوامہ حادثہ آج تک ایک معمہ بنا ہوا ہے کہ اس کے پیچھے کس کی سازش تھی۔
جب فرقہ پرست پارٹیاں مسلم ہندو کرتی ہیں اور مسلمانوں کے بارے میں نفرت پھیلاتی ہیں تو سیکولر پارٹیاں بھی سافٹ ہندتو کو اپنا لیتی ہیں۔وہ بھی فرقہ پرستوں کا روپ دھار لیتی ہیں٫تاکہ ان کے اُمیدواروں کو بھی ووٹ مل سکیں اور وہ جیت جائیں۔
اب فرقہ پرستوں نے سیکولر پارٹیوں کا نام ونشان مٹانے کے واسطے ان کے ممبروں پر قانونی کاروائی شروع کر دی ہے تو سیکولر پارٹیاں سافٹ ہندتو کا نظریہ بھول چکی ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کا ذکر کرنے سے گھبراتی ہیں اور انتخابات میں مسلم لیڈروں کو ٹکٹ بھی بہت کم دیتی ہیں۔رفتہ رفتہ وہ موسم بہار بھی جلوہ افروز ہو چکا ہے کہ فرقہ پرست پارٹیاں سیکولر پارٹیوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔
موجودہ صورت حال کے سبب چند ہفتوں سے مسلم ہندو کے نعرے اور دونوں قوموں کے درمیان نفرت پھیلانے کی تحریک کچھ کمزور پڑ گئی ہے۔اگر لوک سبھا الیکشن 2024 تک نئے موضوعات ابھرتے رہے تو امید ہے کہ 2024 میں فرقہ پرستوں کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے۔واللہ تعالیٰ اعلم
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:26:مارچ 2023
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid02cuS5dzeTKA7PmqpGMCgvc2JfSha4a4wzUPai9neHfJis6gkGURuGd6dFSbcgMcmQl/?mibextid=Nif5oz
📚 *اللہ تعالی کے وعدے اور ہمارا طرز عمل*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230328_20230328_0327
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
📚 *اللہ تعالی کے وعدے اور ہمارا طرز عمل*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230328_20230328_0327
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
اللہ_تعالی_کے_وعدے_اور_ہمارا_طرز_عمل.pdf
459.5 KB
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
پوشیدہ دشمنوں سے پرہیز لازم
جس طرح کھلے دشمنوں سے پرہیز ضروری ہے٫اسی طرح چھپے دشمنوں سے بچنا بھی لازم ہے۔یہ خفیہ دشمن دوست کی شکل میں ہوتا ہے٫لیکن اس کے دل میں بغض وحسد بھرا ہوتا ہے۔وہ آپ کی کسی بھلائی کو دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہے اور اس کا دل جوش غضب میں کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔
ایسے جھوٹے دوستوں کو اپنی کسی نعمت وکامیابی کی خبر نہ سنائیں٫ورنہ جوش غضب میں یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
کسی مصیبت وضرورت کے وقت ان سے مدد طلب نہ کریں٫ورنہ مصیبت دگنی ہو جائے گی اور ضرورت بھی پوری نہ ہو سکے گی٫بلکہ نئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔
ایسے دوست نما دشمنوں سے پرہیز لازم ہے۔اگر تعلق رکھنا ہو تو محض چائے پان تک تعلق محدود رہے٫بلکہ ربط وتعلق کو محض دعا وسلام تک محدود رکھناچاہیے۔
دراصل ایسے لوگوں سے تعلق رکھنے کے سبب انسان مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے۔وہ اپنے خفیہ دشمن کو دوست سمجھتا ہے اور مصیبت وضرورت کے وقت اس سے بھلائی کی امید رکھتا ہے٫جب کہ دوست نما دشمن ایسے موقع کا منتظر رہتا ہے۔وہ مصیبت میں مزید انہیں پھنسا دیتا ہے اور تمہیں مصیبت میں الجھا دیکھ کر اس کا دل خوشی سے جھومنے لگتا ہے۔
ایسے سماجی منافقین کی شناخت مسلسل تجربے سے ہوتی ہے اور جو خفیہ دشمن کو پہچان نہیں پاتا ہے٫وہ اس کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے۔
اپنے خفیہ دشمنوں کو پہچاننے کی کوشش کریں۔جب کسی کی حقیقت ظاہر ہو جائے تو اس سے پرہیز کرنا شروع کر دیں۔بعض ایسے بھی خفیہ دشمن ہوں گےجن کے بارے میں لوگ سمجھتے ہوں گے کہ فلاں وفلاں تمہارے خالص دوست ہیں٫حالاں کہ وہ اپنے باطن کے اعتبار سے تمہارے بدترین دشمن ہیں۔
واضح رہے کہ کسی مسلمان سے بغض وعداوت رکھنا ممنوع ہے۔کسی کے شر وفساد سے محفوظ رہنے کے واسطے اس سے پرہیز کرنا ممنوع نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:30:مارچ 2023
پوشیدہ دشمنوں سے پرہیز لازم
جس طرح کھلے دشمنوں سے پرہیز ضروری ہے٫اسی طرح چھپے دشمنوں سے بچنا بھی لازم ہے۔یہ خفیہ دشمن دوست کی شکل میں ہوتا ہے٫لیکن اس کے دل میں بغض وحسد بھرا ہوتا ہے۔وہ آپ کی کسی بھلائی کو دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہے اور اس کا دل جوش غضب میں کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔
ایسے جھوٹے دوستوں کو اپنی کسی نعمت وکامیابی کی خبر نہ سنائیں٫ورنہ جوش غضب میں یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
کسی مصیبت وضرورت کے وقت ان سے مدد طلب نہ کریں٫ورنہ مصیبت دگنی ہو جائے گی اور ضرورت بھی پوری نہ ہو سکے گی٫بلکہ نئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔
ایسے دوست نما دشمنوں سے پرہیز لازم ہے۔اگر تعلق رکھنا ہو تو محض چائے پان تک تعلق محدود رہے٫بلکہ ربط وتعلق کو محض دعا وسلام تک محدود رکھناچاہیے۔
دراصل ایسے لوگوں سے تعلق رکھنے کے سبب انسان مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے۔وہ اپنے خفیہ دشمن کو دوست سمجھتا ہے اور مصیبت وضرورت کے وقت اس سے بھلائی کی امید رکھتا ہے٫جب کہ دوست نما دشمن ایسے موقع کا منتظر رہتا ہے۔وہ مصیبت میں مزید انہیں پھنسا دیتا ہے اور تمہیں مصیبت میں الجھا دیکھ کر اس کا دل خوشی سے جھومنے لگتا ہے۔
ایسے سماجی منافقین کی شناخت مسلسل تجربے سے ہوتی ہے اور جو خفیہ دشمن کو پہچان نہیں پاتا ہے٫وہ اس کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے۔
اپنے خفیہ دشمنوں کو پہچاننے کی کوشش کریں۔جب کسی کی حقیقت ظاہر ہو جائے تو اس سے پرہیز کرنا شروع کر دیں۔بعض ایسے بھی خفیہ دشمن ہوں گےجن کے بارے میں لوگ سمجھتے ہوں گے کہ فلاں وفلاں تمہارے خالص دوست ہیں٫حالاں کہ وہ اپنے باطن کے اعتبار سے تمہارے بدترین دشمن ہیں۔
واضح رہے کہ کسی مسلمان سے بغض وعداوت رکھنا ممنوع ہے۔کسی کے شر وفساد سے محفوظ رہنے کے واسطے اس سے پرہیز کرنا ممنوع نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:30:مارچ 2023
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid0VPaRmc3BTmtZ5RYLn9wmVMyJ3Za1XnaukkowvZa6kWtYcta3BQcMkYNJHFyi2mZXl/?mibextid=Nif5oz
📚 *مہنگائی کا طوفان اسباب اور حل*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230329_20230329_1203
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
📚 *مہنگائی کا طوفان اسباب اور حل*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230329_20230329_1203
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
مہنگائی کا طوفان.... اَسباب اور حل.pdf
688.7 KB
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
بھاجپا کی جیت کے اہم اسباب وعلل
انتخابات میں بی جے پی کی فتح یابی کے متعدد اسباب ہیں۔ان میں سے چند اہم اسباب و وجوہات درج ذیل ہیں۔
(1)سرکاری محکموں میں آر ایس ایس سے متاثر افسروں کی اکثریت۔
آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی کے پیروکار شاہی افسران بی جے پی کی تائید و حمایت کرتے ہیں٫یہاں تک کہ الیکشن کمیشن پر بھی شکوک وشبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔
بھارت کے سپریم کورٹ نے بھی چیف الیکشن کمیشن کی تقرری پر سوالات اٹھائے ہیں۔
(2)بھارت کی دو بڑی قوموں یعنی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت پھیلا کر ہندو ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنا۔
بھارت میں ہندو کہلانے والوں کی اکثریت ہے۔بھاجپا مسلمانوں کا خوف دلا کر ہندو ووٹرز کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہے۔
بھارت کا مین اسٹریم میڈیا مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت پھیلانے کا کام مسلسل کرتا رہتا ہے۔میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے٫لیکن بھارتی میڈیا نے کئی سالوں قبل اپنی یہ حیثیت کھو دی ہے۔اب اسے گودی میڈیا کہا جاتا ہے۔
(الف)مرکزی مجلس قانون ساز میں بھاجپائیوں کی اکثریت ہے۔
(ب)انتظامیہ اہل حکومت کے اشارے پر کام کرتا ہے۔
(ج)عدلیہ کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔
موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا نے کچھ ہمت دکھائی تو اس پر سخت تنقید کی جانے لگی ہے۔
(3)حزب مخالف کی پارٹیوں کا انتشار۔
الیکشن میں ایک سیٹ پر فرقہ پرست پارٹیوں کا ایک امیدوار کھڑا ہوتا ہے٫جب کہ سیکولر پارٹیوں کے متعدد امیدوار قسمت آزمائی کرتے ہیں۔جس کے سبب ووٹ تقسیم ہو جاتا ہے اور فرقہ پرست امیدوار جیت جاتا ہے۔
(4)جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعہ حزب مخالف کی پارٹیوں اور ممبروں کو بدنام کرنا۔
حزب مخالف کی پارٹیوں کے پاس میڈیا نہیں ہے٫لہذا وہ اپنا دفاع کرنے میں نا کام ہیں۔
(5)انکم ٹیکس(آئی ٹی)٫سی بی آئی اور ای ڈی کی کاروائیوں کے ذریعہ حزب مخالف کے ممبران اور سپورٹرز کو پریشان کرنا۔
حزب مخالف کی پارٹیاں سرکاری ایجنسیوں کی کاروائی کے خوف سے متحد نہیں ہو پاتی ہیں اور بہت سے ممبران بھاجپا میں شریک ہو جاتے ہیں۔
(6)جہاں بھاجپا کو اکثریت نہ مل سکے٫وہاں دیگر پارٹیوں کے جیتے ہوئے ممبران کو وزارت یا رقم کا لالچ دے کر یا سرکاری ایجنسیوں کا خوف دلا کر اپنی طرف لے آنا۔
بہت سی ریاستوں میں بھاجپا کو اکثریت نہ مل سکی تو اس نے دیگر پارٹیوں کے ممبروں کو عہدوں کا لالچ دے کر یا سرکاری جانچ کا خوف دلا کر اپنی تائید میں لے آئی یا وہ لوگ بھاجپا جوائن کر لئے اور بھاجپا کی حکومت بن گئی۔
موجودہ حالات کو دیکھ کر ایک امید ظاہر ہوتی ہے کہ حزب مخالف کی بہت سی پارٹیاں لوک سبھا الیکشن:2024 مل جل کر لڑیں گی۔ابھی سال بھر کا وقت باقی ہے۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم اپریل 2023
بھاجپا کی جیت کے اہم اسباب وعلل
انتخابات میں بی جے پی کی فتح یابی کے متعدد اسباب ہیں۔ان میں سے چند اہم اسباب و وجوہات درج ذیل ہیں۔
(1)سرکاری محکموں میں آر ایس ایس سے متاثر افسروں کی اکثریت۔
آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی کے پیروکار شاہی افسران بی جے پی کی تائید و حمایت کرتے ہیں٫یہاں تک کہ الیکشن کمیشن پر بھی شکوک وشبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔
بھارت کے سپریم کورٹ نے بھی چیف الیکشن کمیشن کی تقرری پر سوالات اٹھائے ہیں۔
(2)بھارت کی دو بڑی قوموں یعنی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت پھیلا کر ہندو ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنا۔
بھارت میں ہندو کہلانے والوں کی اکثریت ہے۔بھاجپا مسلمانوں کا خوف دلا کر ہندو ووٹرز کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہے۔
بھارت کا مین اسٹریم میڈیا مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت پھیلانے کا کام مسلسل کرتا رہتا ہے۔میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے٫لیکن بھارتی میڈیا نے کئی سالوں قبل اپنی یہ حیثیت کھو دی ہے۔اب اسے گودی میڈیا کہا جاتا ہے۔
(الف)مرکزی مجلس قانون ساز میں بھاجپائیوں کی اکثریت ہے۔
(ب)انتظامیہ اہل حکومت کے اشارے پر کام کرتا ہے۔
(ج)عدلیہ کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔
موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا نے کچھ ہمت دکھائی تو اس پر سخت تنقید کی جانے لگی ہے۔
(3)حزب مخالف کی پارٹیوں کا انتشار۔
الیکشن میں ایک سیٹ پر فرقہ پرست پارٹیوں کا ایک امیدوار کھڑا ہوتا ہے٫جب کہ سیکولر پارٹیوں کے متعدد امیدوار قسمت آزمائی کرتے ہیں۔جس کے سبب ووٹ تقسیم ہو جاتا ہے اور فرقہ پرست امیدوار جیت جاتا ہے۔
(4)جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعہ حزب مخالف کی پارٹیوں اور ممبروں کو بدنام کرنا۔
حزب مخالف کی پارٹیوں کے پاس میڈیا نہیں ہے٫لہذا وہ اپنا دفاع کرنے میں نا کام ہیں۔
(5)انکم ٹیکس(آئی ٹی)٫سی بی آئی اور ای ڈی کی کاروائیوں کے ذریعہ حزب مخالف کے ممبران اور سپورٹرز کو پریشان کرنا۔
حزب مخالف کی پارٹیاں سرکاری ایجنسیوں کی کاروائی کے خوف سے متحد نہیں ہو پاتی ہیں اور بہت سے ممبران بھاجپا میں شریک ہو جاتے ہیں۔
(6)جہاں بھاجپا کو اکثریت نہ مل سکے٫وہاں دیگر پارٹیوں کے جیتے ہوئے ممبران کو وزارت یا رقم کا لالچ دے کر یا سرکاری ایجنسیوں کا خوف دلا کر اپنی طرف لے آنا۔
بہت سی ریاستوں میں بھاجپا کو اکثریت نہ مل سکی تو اس نے دیگر پارٹیوں کے ممبروں کو عہدوں کا لالچ دے کر یا سرکاری جانچ کا خوف دلا کر اپنی تائید میں لے آئی یا وہ لوگ بھاجپا جوائن کر لئے اور بھاجپا کی حکومت بن گئی۔
موجودہ حالات کو دیکھ کر ایک امید ظاہر ہوتی ہے کہ حزب مخالف کی بہت سی پارٹیاں لوک سبھا الیکشن:2024 مل جل کر لڑیں گی۔ابھی سال بھر کا وقت باقی ہے۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:یکم اپریل 2023