مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما
کیا بھارت ہندو راشٹر بن چکا ہے؟
برہمن راشٹر کو ہندو راشٹر کا نام دیا گیا ہے٫تاکہ بھارت کا بیک ورڈ کلاس٫دلت اور آدی واسی بھی اس پلاننگ میں شریک ہو جائے۔
ہندو راشٹر کا معنی یہ ہے کہ موجودہ دستور ہند کے قوانین آرین اقوام (برہمن٫چھتری اور بنیا)کے علاوہ ساری قوموں کے خلاف نافذ العمل ہوں گے اور آرین اقوام خواہ قتل وغارت گری اور جبرا عصمت دری ہی کیوں نہ کریں٫ان کو سزاؤں سے مستثنی رکھا جائے گا۔
غیر آرین اقوام کے خلاف یہ قوانین کام بھی کریں گے اور زبردستی ان کو قانونی کاروائی میں پھنسایا بھی جائے گا۔اسی مقصد کی تکمیل کے لئے کورٹ میں برہمن ججوں کی تقرری کی جا رہی ہے٫حالاں کہ انگریزوں کے عہد میں برہمنوں کو جج کا عہدہ نہیں دیا جاتا تھا٫کیوں کہ ان کی فطرت میں نسلی عصبیت وافر مقدار میں پائی جاتی تھی۔
ہندو راشٹر کے اسی مفہوم کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ بھارت ہندو راشٹر تھا اور ہندو راشٹر ہے۔
عہد حاضر میں جن ریاستوں میں بھاجپا کی حکومت ہے٫وہاں یہی طریق کار نافذ ہے کہ غیر آرین اقوام کے خلاف قانون بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور ان کو زبردستی قانونی کاروائی میں پھنسا دیا جاتا ہے٫پھر ایک مدت بعد ان کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔بہت سے بے قصوروں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں گزر جاتا ہے۔
بھارت پر انگلینڈ کی حکمرانی تھی۔انگلینڈ کے اصحاب سیاست و حکومت برہمنوں کی فطرت سے اچھی طرح واقف وآشنا تھے۔جب جنگ عظیم دوم(1939-1945) کے موقع پر 06:اگست 1946 کو امریکہ نے جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر سخت بمباری کی۔اس میں کئی لاکھ لوگ ہلاک ہو گئے۔اس موقع پر انگلینڈ کے سابق وزیر اعظم چرچیل نے کہا تھا کہ جاپان کو تباہ کرنے کے واسطے بمباری کی ضرورت نہیں تھی۔اگر انڈیا سے چار برہمن کو جاپان لے جا کر چھوڑ دیا جاتا تو وہ پورے جاپان کا ستیاناس اور تباہ وبرباد کر دیتے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:فروری 2023
کیا بھارت ہندو راشٹر بن چکا ہے؟
برہمن راشٹر کو ہندو راشٹر کا نام دیا گیا ہے٫تاکہ بھارت کا بیک ورڈ کلاس٫دلت اور آدی واسی بھی اس پلاننگ میں شریک ہو جائے۔
ہندو راشٹر کا معنی یہ ہے کہ موجودہ دستور ہند کے قوانین آرین اقوام (برہمن٫چھتری اور بنیا)کے علاوہ ساری قوموں کے خلاف نافذ العمل ہوں گے اور آرین اقوام خواہ قتل وغارت گری اور جبرا عصمت دری ہی کیوں نہ کریں٫ان کو سزاؤں سے مستثنی رکھا جائے گا۔
غیر آرین اقوام کے خلاف یہ قوانین کام بھی کریں گے اور زبردستی ان کو قانونی کاروائی میں پھنسایا بھی جائے گا۔اسی مقصد کی تکمیل کے لئے کورٹ میں برہمن ججوں کی تقرری کی جا رہی ہے٫حالاں کہ انگریزوں کے عہد میں برہمنوں کو جج کا عہدہ نہیں دیا جاتا تھا٫کیوں کہ ان کی فطرت میں نسلی عصبیت وافر مقدار میں پائی جاتی تھی۔
ہندو راشٹر کے اسی مفہوم کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ بھارت ہندو راشٹر تھا اور ہندو راشٹر ہے۔
عہد حاضر میں جن ریاستوں میں بھاجپا کی حکومت ہے٫وہاں یہی طریق کار نافذ ہے کہ غیر آرین اقوام کے خلاف قانون بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور ان کو زبردستی قانونی کاروائی میں پھنسا دیا جاتا ہے٫پھر ایک مدت بعد ان کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔بہت سے بے قصوروں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں گزر جاتا ہے۔
بھارت پر انگلینڈ کی حکمرانی تھی۔انگلینڈ کے اصحاب سیاست و حکومت برہمنوں کی فطرت سے اچھی طرح واقف وآشنا تھے۔جب جنگ عظیم دوم(1939-1945) کے موقع پر 06:اگست 1946 کو امریکہ نے جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر سخت بمباری کی۔اس میں کئی لاکھ لوگ ہلاک ہو گئے۔اس موقع پر انگلینڈ کے سابق وزیر اعظم چرچیل نے کہا تھا کہ جاپان کو تباہ کرنے کے واسطے بمباری کی ضرورت نہیں تھی۔اگر انڈیا سے چار برہمن کو جاپان لے جا کر چھوڑ دیا جاتا تو وہ پورے جاپان کا ستیاناس اور تباہ وبرباد کر دیتے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:فروری 2023
مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما
شب معراج اقدس اور دیدار خداوندی
جنت میں اللہ تعالی کا دیدار جنتیوں کے لئے سب سے بڑی نعمت ہے٫حالاں کہ جنت کی دیگر نعمتیں بھی ایسی ہیں کہ دنیا والوں کا تصور بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ان سب نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت دیدار الہی ہے جس کا کیف وسرور انسانی زبان بیان نہیں کر سکتی۔
اللہ تعالی نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دنیاوی زندگی میں ہی اپنی زیارت کا شرف عطا فرمایا۔اپنی بارگاہ اقدس میں بلایا اور اپنا دیدار عطا فرمایا۔دنیاوی زندگی میں یہ نعمت عظمی ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ کسی کو عطا نہیں فرمائی گئی۔
معراج جسمانی کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم مکہ معظمہ میں اقامت پذیر تھے۔ابھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں ہوئی تھی۔
جشن ولادت اقدس(12:ربیع الاول شریف)اور شب معراج اقدس(27:رجب المرجب شریف)کے موقع پر درباری گداگروں کو انعامات شاہانہ سے سرفراز فر مایا جاتا ہے٫لہذا اپنے کشکول سنبھالیں٫عبادت وریاضت اور صدقات وخیرات کریں اور اپنے پیارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے توسل سے دربار الہی میں دعا کریں اور دربار رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا میں اپنی عرضی پیش کریں۔
یا رب تو کریمی ورسول ما کریم
صد شکر کہ ہستیم میان دو کریم
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:فروری 2023
شب معراج اقدس اور دیدار خداوندی
جنت میں اللہ تعالی کا دیدار جنتیوں کے لئے سب سے بڑی نعمت ہے٫حالاں کہ جنت کی دیگر نعمتیں بھی ایسی ہیں کہ دنیا والوں کا تصور بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ان سب نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت دیدار الہی ہے جس کا کیف وسرور انسانی زبان بیان نہیں کر سکتی۔
اللہ تعالی نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دنیاوی زندگی میں ہی اپنی زیارت کا شرف عطا فرمایا۔اپنی بارگاہ اقدس میں بلایا اور اپنا دیدار عطا فرمایا۔دنیاوی زندگی میں یہ نعمت عظمی ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ کسی کو عطا نہیں فرمائی گئی۔
معراج جسمانی کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم مکہ معظمہ میں اقامت پذیر تھے۔ابھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں ہوئی تھی۔
جشن ولادت اقدس(12:ربیع الاول شریف)اور شب معراج اقدس(27:رجب المرجب شریف)کے موقع پر درباری گداگروں کو انعامات شاہانہ سے سرفراز فر مایا جاتا ہے٫لہذا اپنے کشکول سنبھالیں٫عبادت وریاضت اور صدقات وخیرات کریں اور اپنے پیارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے توسل سے دربار الہی میں دعا کریں اور دربار رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا میں اپنی عرضی پیش کریں۔
یا رب تو کریمی ورسول ما کریم
صد شکر کہ ہستیم میان دو کریم
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:فروری 2023
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
انتخابات میں تخریب کاری اور اسرائیلی کمپنی
برطانیہ کے مشہور اخبار"دی گارجین"نے آٹھ ماہ کی خفیہ تحقیقات کے بعد ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے اسرائیل کی ایک خفیہ پرائیویٹ کمپنی نے تیس سے زائد بڑے انتخابات میں تخریب کاری کر کے اور جھوٹ پھیلا کر ووٹ دہندگان کے ذہن کو اس پارٹی کی جانب پھیرنے کی کوشش کی جس سے اس نے سانٹھ گانٹھ کیا تھا۔
میڈیا کی ایک خفیہ تحقیقات کے مطابق مذکورہ اسرائیلی فرم نے ہیکنگ، تخریب کاری اور غلط معلومات پھیلا کر اپنے کلائنٹس کے لیے دنیا بھر میں 30 سے زائد انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ان انکشافات سے ان شواہد کو تقویت ملی ہے کہ دنیا بھر میں موجود نجی فرمز ہیکنگ ٹولز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طاقت سے رائے عامہ پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
اس فرم کو ان تحقیقاتی صحافیوں نے ’ٹیم جارج‘ کا نام دیا جنہوں نے اس کی تکنیک اور صلاحیتوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے خود کو اس کے ممکنہ کلائنٹس کے طور پر پیش کیا۔
اس فرم کا سربراہ اسرائیل کی اسپیشل فورسز کا ایک سابق کارکن طل حنان ہےجس نے مبینہ طور پر ٹیلی گرام اکاؤنٹس اور ہزاروں جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ خبریں بھی پلانٹ کی ہے۔
یہ تحقیقات فرانس میں قائم غیر منافع بخش ادارے ’فاربیڈن اسٹوریز‘ کی ہدایت پر 30 میڈیا آؤٹ لیٹس کے صحافیوں پر مشتمل ایک تنظیم نے کی، ان آؤٹ لیٹس میں برطانیہ کے دی گارجین، فرانس کے لی مونڈے، جرمنی کے ڈیر اسپیگل اور اسپین کے ایل پیس شامل ہیں۔
گارجین نے لکھا کہ ٹیم جارج کے بیان کردہ طریقے اور تکنیکیں ٹیکنالوجی کے بڑے پلیٹ فارمز کے لیے نئے چیلنجز کو جنم دیتی ہیں، انتخابات سے متعلق غلط معلومات کے فروغ میں ملوث عالمی نجی مارکیٹ کی موجودگی کے ثبوت دنیا بھر کی جمہوریتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
50 سالہ طل حنان نے 3 خفیہ رپورٹرز کو بتایا کہ ان کی خدمات (جنہیں انڈسٹری میں اکثر ’بلیک آپس‘ کہا جاتا ہے) انٹیلی جنس ایجنسیوں، سیاسی مہم اور نجی کمپنیوں کے لیے دستیاب ہیں۔
گارجین کی رپورٹ کے مطابق طل حنان نے کہا کہ اب ہم افریقہ میں ایک الیکشن پر اثرانداز ہو رہے ہیں، ہماری ایک ٹیم یونان میں اور ایک ٹیم امارات میں ہے، ہم نے صدارتی سطح کی 33 مہمات پر کام کیا ہے، جن میں سے 27 کامیاب رہیں، ان میں سے لگ بھگ 2 تہائی کا تعلق افریقہ سے ہے۔
رپورٹس کے مطابق رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے آن لائن مہم ایک سافٹ ویئر پلیٹ فارم کے ذریعے چلائی گئی جسے ’ایڈوانسڈ امپیکٹ میڈیا سلوشنز‘ کہا جاتا ہے، اس نے فیس بک، ٹوئٹر یا لنکڈ اِن پر تقریباً 40 ہزار سوشل میڈیا پروفائلز کو کنٹرول کیا۔
انتخابات اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والی متعدد کمپنیوں کے نام بھی میڈیا میں مشہور ہوئے ہیں۔حالیہ برسوں میں مغربی ممالک نے ان پر پابندی عائد کی ہے۔
مشہور برطانوی کنسلٹنگ فرم ’کیمبرج اینالیٹیکا‘ کو 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں ووٹرز کی رائے کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب موڑنے کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19: فروری 2023
انتخابات میں تخریب کاری اور اسرائیلی کمپنی
برطانیہ کے مشہور اخبار"دی گارجین"نے آٹھ ماہ کی خفیہ تحقیقات کے بعد ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے اسرائیل کی ایک خفیہ پرائیویٹ کمپنی نے تیس سے زائد بڑے انتخابات میں تخریب کاری کر کے اور جھوٹ پھیلا کر ووٹ دہندگان کے ذہن کو اس پارٹی کی جانب پھیرنے کی کوشش کی جس سے اس نے سانٹھ گانٹھ کیا تھا۔
میڈیا کی ایک خفیہ تحقیقات کے مطابق مذکورہ اسرائیلی فرم نے ہیکنگ، تخریب کاری اور غلط معلومات پھیلا کر اپنے کلائنٹس کے لیے دنیا بھر میں 30 سے زائد انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ان انکشافات سے ان شواہد کو تقویت ملی ہے کہ دنیا بھر میں موجود نجی فرمز ہیکنگ ٹولز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طاقت سے رائے عامہ پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
اس فرم کو ان تحقیقاتی صحافیوں نے ’ٹیم جارج‘ کا نام دیا جنہوں نے اس کی تکنیک اور صلاحیتوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے خود کو اس کے ممکنہ کلائنٹس کے طور پر پیش کیا۔
اس فرم کا سربراہ اسرائیل کی اسپیشل فورسز کا ایک سابق کارکن طل حنان ہےجس نے مبینہ طور پر ٹیلی گرام اکاؤنٹس اور ہزاروں جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ خبریں بھی پلانٹ کی ہے۔
یہ تحقیقات فرانس میں قائم غیر منافع بخش ادارے ’فاربیڈن اسٹوریز‘ کی ہدایت پر 30 میڈیا آؤٹ لیٹس کے صحافیوں پر مشتمل ایک تنظیم نے کی، ان آؤٹ لیٹس میں برطانیہ کے دی گارجین، فرانس کے لی مونڈے، جرمنی کے ڈیر اسپیگل اور اسپین کے ایل پیس شامل ہیں۔
گارجین نے لکھا کہ ٹیم جارج کے بیان کردہ طریقے اور تکنیکیں ٹیکنالوجی کے بڑے پلیٹ فارمز کے لیے نئے چیلنجز کو جنم دیتی ہیں، انتخابات سے متعلق غلط معلومات کے فروغ میں ملوث عالمی نجی مارکیٹ کی موجودگی کے ثبوت دنیا بھر کی جمہوریتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
50 سالہ طل حنان نے 3 خفیہ رپورٹرز کو بتایا کہ ان کی خدمات (جنہیں انڈسٹری میں اکثر ’بلیک آپس‘ کہا جاتا ہے) انٹیلی جنس ایجنسیوں، سیاسی مہم اور نجی کمپنیوں کے لیے دستیاب ہیں۔
گارجین کی رپورٹ کے مطابق طل حنان نے کہا کہ اب ہم افریقہ میں ایک الیکشن پر اثرانداز ہو رہے ہیں، ہماری ایک ٹیم یونان میں اور ایک ٹیم امارات میں ہے، ہم نے صدارتی سطح کی 33 مہمات پر کام کیا ہے، جن میں سے 27 کامیاب رہیں، ان میں سے لگ بھگ 2 تہائی کا تعلق افریقہ سے ہے۔
رپورٹس کے مطابق رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے آن لائن مہم ایک سافٹ ویئر پلیٹ فارم کے ذریعے چلائی گئی جسے ’ایڈوانسڈ امپیکٹ میڈیا سلوشنز‘ کہا جاتا ہے، اس نے فیس بک، ٹوئٹر یا لنکڈ اِن پر تقریباً 40 ہزار سوشل میڈیا پروفائلز کو کنٹرول کیا۔
انتخابات اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والی متعدد کمپنیوں کے نام بھی میڈیا میں مشہور ہوئے ہیں۔حالیہ برسوں میں مغربی ممالک نے ان پر پابندی عائد کی ہے۔
مشہور برطانوی کنسلٹنگ فرم ’کیمبرج اینالیٹیکا‘ کو 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں ووٹرز کی رائے کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب موڑنے کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19: فروری 2023
مبسملا وحامدا::مصلیا ومسلما
قرب قیامت اور مسلم خواص و عوام
(1)قرب قیامت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ایک نشانی یہ ہے کہ دین پر عمل کرنا اس قدر مشکل ہو جائے گا جیسے ہاتھ پر انگارہ لینا۔
ابھی وہ زمانہ تو نہیں آیا٫لیکن اس کے آثار نمودار ہونے لگے ہیں۔ایسے وقت میں ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود احتسابی کرے کہ وہ دین پر کس قدر عمل کر رہا ہے۔ہر شخص دوسروں سے زیادہ اپنی فکر کرے۔
(2)قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم دین اٹھا لیا جائے گا٫یعنی علما اٹھا لئے جائیں گے۔عہد حاضر میں بے شمار مدارس و جامعات ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں ہر ملک میں علما وفقہا ہیں٫لیکن متاخرین اپنے متقدمین سے کم علم ہوتے جا رہے ہیں٫یعنی علم دین رفتہ رفتہ اٹھا لیا جا رہا ہے۔
اکیسویں صدی عیسوی میں قلت علم کے ساتھ بد اخلاقی بھی عروج پر ہے۔انسانیت کا نام ونشان مٹتا جا رہا ہے۔ بے شمار ایسے لوگ ہیں کہ آپ انہیں سلام کریں تو وہ آپ کو جواب سلام سے بھی محروم رکھیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:فروری 2023
قرب قیامت اور مسلم خواص و عوام
(1)قرب قیامت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ایک نشانی یہ ہے کہ دین پر عمل کرنا اس قدر مشکل ہو جائے گا جیسے ہاتھ پر انگارہ لینا۔
ابھی وہ زمانہ تو نہیں آیا٫لیکن اس کے آثار نمودار ہونے لگے ہیں۔ایسے وقت میں ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود احتسابی کرے کہ وہ دین پر کس قدر عمل کر رہا ہے۔ہر شخص دوسروں سے زیادہ اپنی فکر کرے۔
(2)قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم دین اٹھا لیا جائے گا٫یعنی علما اٹھا لئے جائیں گے۔عہد حاضر میں بے شمار مدارس و جامعات ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں ہر ملک میں علما وفقہا ہیں٫لیکن متاخرین اپنے متقدمین سے کم علم ہوتے جا رہے ہیں٫یعنی علم دین رفتہ رفتہ اٹھا لیا جا رہا ہے۔
اکیسویں صدی عیسوی میں قلت علم کے ساتھ بد اخلاقی بھی عروج پر ہے۔انسانیت کا نام ونشان مٹتا جا رہا ہے۔ بے شمار ایسے لوگ ہیں کہ آپ انہیں سلام کریں تو وہ آپ کو جواب سلام سے بھی محروم رکھیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:فروری 2023
لغزش وخطا اور ضد واصرار.pdf
2.5 MB
لغزش وخطا اور ضد واصرار
بعد فہم کے نظریہ پر تبصرہ
لغزش وخطا کے علم کے بعد رجوع کا حکم
اور ضد واصرار سے ممانعت کا بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:166
بعد فہم کے نظریہ پر تبصرہ
لغزش وخطا کے علم کے بعد رجوع کا حکم
اور ضد واصرار سے ممانعت کا بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:166
المہند_کی_کہانی_علماے_عرب_کی_زبانی.pdf
11.3 MB
المہند کی کہانی علماے عرب کی زبانی.pdf
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
ملکی سیاست اور قائدین ملت
(1)سال 2024 کے نصف اول ہی میں لوک سبھا الیکشن ہونے والا ہے٫لیکن حزب مخالف کی پارٹیاں اب تک کوئی مضبوط منصوبہ بندی نہ کر سکی ہیں۔عین موقع پر کچھ کرنا بھی چاہیں تو اس کی تکمیل مشکل ہے۔
اگر حزب مخالف کی تمام پارٹیاں متحد ہو کر لوک سبھا الیکشن لڑتی ہیں تو کامیابی کی امید ہے٫ورنہ سیکولر ووٹ منتشر ہو گا اور فرقہ پرست قوتیں فتح یاب ہو جائیں گی۔
(2) اقلیتوں اور مول نواسی اقوام پر فرقہ پرست قوتوں کے مظالم بڑھتے جا رہے ہیں۔ماب لنچنگ کا سلسلہ بند نہ ہو سکا٫حالاں کہ پارلیامنٹ میں بھی اس پر مباحثے ہوئے اور وقتا فوقتاً حزب مخالف کے پارلیمانی ارکان آواز بلند کرتے رہے ہیں۔
بھاجپا کی ریاستی حکومتیں کورٹ کے آرڈر کے بغیر اور تحقیق و تفتیش سے لاپرواہ ہو کر محض دھرم اور کمیونٹی کو دیکھ کر ملزم کے گھروں پر بلڈوزر چلا دیتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بے گھر ہو جاتے ہیں۔
اقلیتوں اور مول نواسی لوگوں کو زبردستی قانونی شکنجوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔غلط الزامات عائد کر کے ان کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔پھر ایک طویل مدت بعد کورٹ ان کو باعزت بری کردیتا ہے۔ان کی زندگی کا سنہرا حصہ جیل میں گزر جاتا ہے۔اب وہ زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔
(3)سیاسی تبدیلی کے واسطے سیاسی پارٹیوں کو اپنا طرز عمل اور اپنی فکر بدلنی ہو گی۔مذہبی قائدین اس میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کر سکتے۔نہ ہی سیاست و حکومت سے ان کا مضبوط تعلق ہے٫نہ ہی سیاسی داؤ پیچ سے وہ بہت زیادہ واقف ہیں۔
اگر ارکان پارلیامنٹ کو کرکٹ ٹیم میں شامل کر دیا جائے تو ہر میچ ہار جانا قریبا یقینی ہے۔وہ سیاست کے ماہر ہیں٫وہ لوگ تجربہ کار کرکٹر نہیں۔
اسی طرح تفسیر وحدیث اور فقہ وکلام کے ماہرین کو سیاست میں اتار دیا جائے تو وہ کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔
(4)زمینی حقائق وسیاسی حالات یقینا پریشان کن ہیں۔بی جے پی نے دیگر پارٹیوں کو نیست ونابود کرنے کے واسطے ان کے ارکان وممبران اور اعلی کارکنان کے خلاف ای ڈی اور سی بی آئی ودیگر سرکاری ایجنسیوں کو لگا رکھا ہے۔
جب چند لمحوں میں کسی کی ساری جائیداد ضبط ہونے کا خطرہ ہو تو کون بھاجپا کی مخالفت کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا پسند کرے گا۔اسی خوف سے دیگر پارٹیوں کے جیتے ہوئے ارکان اسمبلی بھی بھاجپا میں شامل ہو جاتے ہیں۔
(5)موجودہ ناموافق حالات اور بھاجپا کی مستحکم تدابیر کے باوجود لوک سبھا الیکشن 2024 میں بھاجپا کی فتح یابی کی پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی٫کیوں کہ حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ خداوندی فیصلہ کچھ اور ہی ہے۔وقت خود ہی حکم الٰہی کو ظاہر کر دے گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:21:فروری 2023
ملکی سیاست اور قائدین ملت
(1)سال 2024 کے نصف اول ہی میں لوک سبھا الیکشن ہونے والا ہے٫لیکن حزب مخالف کی پارٹیاں اب تک کوئی مضبوط منصوبہ بندی نہ کر سکی ہیں۔عین موقع پر کچھ کرنا بھی چاہیں تو اس کی تکمیل مشکل ہے۔
اگر حزب مخالف کی تمام پارٹیاں متحد ہو کر لوک سبھا الیکشن لڑتی ہیں تو کامیابی کی امید ہے٫ورنہ سیکولر ووٹ منتشر ہو گا اور فرقہ پرست قوتیں فتح یاب ہو جائیں گی۔
(2) اقلیتوں اور مول نواسی اقوام پر فرقہ پرست قوتوں کے مظالم بڑھتے جا رہے ہیں۔ماب لنچنگ کا سلسلہ بند نہ ہو سکا٫حالاں کہ پارلیامنٹ میں بھی اس پر مباحثے ہوئے اور وقتا فوقتاً حزب مخالف کے پارلیمانی ارکان آواز بلند کرتے رہے ہیں۔
بھاجپا کی ریاستی حکومتیں کورٹ کے آرڈر کے بغیر اور تحقیق و تفتیش سے لاپرواہ ہو کر محض دھرم اور کمیونٹی کو دیکھ کر ملزم کے گھروں پر بلڈوزر چلا دیتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بے گھر ہو جاتے ہیں۔
اقلیتوں اور مول نواسی لوگوں کو زبردستی قانونی شکنجوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔غلط الزامات عائد کر کے ان کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔پھر ایک طویل مدت بعد کورٹ ان کو باعزت بری کردیتا ہے۔ان کی زندگی کا سنہرا حصہ جیل میں گزر جاتا ہے۔اب وہ زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔
(3)سیاسی تبدیلی کے واسطے سیاسی پارٹیوں کو اپنا طرز عمل اور اپنی فکر بدلنی ہو گی۔مذہبی قائدین اس میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کر سکتے۔نہ ہی سیاست و حکومت سے ان کا مضبوط تعلق ہے٫نہ ہی سیاسی داؤ پیچ سے وہ بہت زیادہ واقف ہیں۔
اگر ارکان پارلیامنٹ کو کرکٹ ٹیم میں شامل کر دیا جائے تو ہر میچ ہار جانا قریبا یقینی ہے۔وہ سیاست کے ماہر ہیں٫وہ لوگ تجربہ کار کرکٹر نہیں۔
اسی طرح تفسیر وحدیث اور فقہ وکلام کے ماہرین کو سیاست میں اتار دیا جائے تو وہ کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔
(4)زمینی حقائق وسیاسی حالات یقینا پریشان کن ہیں۔بی جے پی نے دیگر پارٹیوں کو نیست ونابود کرنے کے واسطے ان کے ارکان وممبران اور اعلی کارکنان کے خلاف ای ڈی اور سی بی آئی ودیگر سرکاری ایجنسیوں کو لگا رکھا ہے۔
جب چند لمحوں میں کسی کی ساری جائیداد ضبط ہونے کا خطرہ ہو تو کون بھاجپا کی مخالفت کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا پسند کرے گا۔اسی خوف سے دیگر پارٹیوں کے جیتے ہوئے ارکان اسمبلی بھی بھاجپا میں شامل ہو جاتے ہیں۔
(5)موجودہ ناموافق حالات اور بھاجپا کی مستحکم تدابیر کے باوجود لوک سبھا الیکشن 2024 میں بھاجپا کی فتح یابی کی پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی٫کیوں کہ حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ خداوندی فیصلہ کچھ اور ہی ہے۔وقت خود ہی حکم الٰہی کو ظاہر کر دے گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:21:فروری 2023
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ.pdf
557.3 KB
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
*تصحیح شدہ*
ديوبند وسراوان اور عناصر اربعه.pdf
3.1 MB
دیوبند وسراواں اور عناصر اربعہ
فرقہ سراویہ بجنوریہ کے نظریات باطلہ کا قاہر رد و ابطال
از: طارق انور مصباحی
صفحات:235
فرقہ سراویہ بجنوریہ کے نظریات باطلہ کا قاہر رد و ابطال
از: طارق انور مصباحی
صفحات:235
ضروريات دين كا تعارف.pdf
1.2 MB
ضروریات دین کا تعارف
ضروریات دین کی سات تعریفات وتعبیرات کا تجزیہ اور متعدد تعبیرات کے سبب کا بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:42
ضروریات دین کی سات تعریفات وتعبیرات کا تجزیہ اور متعدد تعبیرات کے سبب کا بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:42
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid0UhvQCDX57q5uziNwvqSbZU5LQdmbsRiaDtup5oni2KqeP18f7c1su8jqfBW62oHWl/?mibextid=Nif5oz
📚 *عمرہ کے فضائل ومسائل*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230308_20230308_0343
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
📚 *عمرہ کے فضائل ومسائل*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230308_20230308_0343
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
عمرہ کے فضائل ومسائل.pdf
479.9 KB
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
لوک سبھا الیکشن:2024 اور اپوزیشن پارٹیاں
اپوزیشن پارٹیاں جس طرح منتشر ہیں,اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوک سبھا الیکشن:2024 میں بھی بی جے پی فتحیاب ہو جائے۔
کانگریس اپنے زور بازو سے یہ الیکشن جیتنے کی پلاننگ کر رہی ہے,لیکن کامیابی کی امید زیادہ نہیں۔تیسرا فرنٹ بننے سے بھی کوئی خاص فائدہ ہونے کی امید نہیں۔
یہ ضرور امید ہے کہ اگر اگلا لوک سبھا الیکشن بی جے پی جیت جاتی ہے تو عوامی احتجاج کا سلسلہ زور پکڑے گا اور ملک بھر میں افراتفری رہے گی۔فرقہ پرست قوتیں مزید مظالم ڈھائیں گی۔اقلیتوں اور پس ماندہ طبقات کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔
خدا خیر فرمائے۔ابھی ایک سال وقت ہے۔ممکن ہے کہ حزب مخالف کی پارٹیاں کوئی مضبوط منصوبہ بندی کریں۔سی بی آئی اور ای ڈی کی کاروائیاں بھی اپوزیشن کے لیڈروں کی نیند اڑا چکی ہیں۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:12: مارچ 2023
لوک سبھا الیکشن:2024 اور اپوزیشن پارٹیاں
اپوزیشن پارٹیاں جس طرح منتشر ہیں,اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوک سبھا الیکشن:2024 میں بھی بی جے پی فتحیاب ہو جائے۔
کانگریس اپنے زور بازو سے یہ الیکشن جیتنے کی پلاننگ کر رہی ہے,لیکن کامیابی کی امید زیادہ نہیں۔تیسرا فرنٹ بننے سے بھی کوئی خاص فائدہ ہونے کی امید نہیں۔
یہ ضرور امید ہے کہ اگر اگلا لوک سبھا الیکشن بی جے پی جیت جاتی ہے تو عوامی احتجاج کا سلسلہ زور پکڑے گا اور ملک بھر میں افراتفری رہے گی۔فرقہ پرست قوتیں مزید مظالم ڈھائیں گی۔اقلیتوں اور پس ماندہ طبقات کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔
خدا خیر فرمائے۔ابھی ایک سال وقت ہے۔ممکن ہے کہ حزب مخالف کی پارٹیاں کوئی مضبوط منصوبہ بندی کریں۔سی بی آئی اور ای ڈی کی کاروائیاں بھی اپوزیشن کے لیڈروں کی نیند اڑا چکی ہیں۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:12: مارچ 2023
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
ذلیل ترین سیاست اور بے شرم لیڈران
میری عمر چالیس سال سے اوپر ہے۔عہد طفولیت میں اندرا گاندھی مرڈر کیس(1984) کے بارے میں بھی سنا٫جب کہ شاید میں قاعدہ بغدادی پڑھ رہا تھا۔
بھاگلپور فساد اور راجیو گاندھی مرڈر کیس بھی مجھے یاد ہے۔وی پی سنگھ کی وزارت عظمی کا عہد اور منڈل وکمنڈل کی سیاست کی کچھ یادیں بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔
اٹل بہاری واجپائی کا عہد حکومت اور اس عہد میں نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کی مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائیاں بھی یاد ہیں۔
2014 سے آج تک مودی کا عہد حکومت بھی دیکھ رہا ہوں۔حالیہ رواں مدت میں فرقہ پرست قوتوں کی ذلیل ترین سیاست اور سیاسی لیڈروں کی بے حیائی وبے شرمی یقینا قابل تعجب ہے۔سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے اور اپنے ہر مخالف کو ذلیل ورسوا اور پریشان کرنے میں یہ لوگ خوب ماہر ہیں۔فرقہ پرست پارٹیوں اور لیڈروں کی رگ وپے میں ناانصافی اور یہودیانہ سرشت سرایت کی ہوئی ہے۔ہم نے آج تک ایسی بدترین سیاست اور ایسے بدترین لیڈر نہیں دیکھے۔اللہ تعالی ایسے لوگوں کے شر وفتنہ سے ہماری حفاظت فرمائے۔آمین
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:13:مارچ 2023
ذلیل ترین سیاست اور بے شرم لیڈران
میری عمر چالیس سال سے اوپر ہے۔عہد طفولیت میں اندرا گاندھی مرڈر کیس(1984) کے بارے میں بھی سنا٫جب کہ شاید میں قاعدہ بغدادی پڑھ رہا تھا۔
بھاگلپور فساد اور راجیو گاندھی مرڈر کیس بھی مجھے یاد ہے۔وی پی سنگھ کی وزارت عظمی کا عہد اور منڈل وکمنڈل کی سیاست کی کچھ یادیں بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔
اٹل بہاری واجپائی کا عہد حکومت اور اس عہد میں نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کی مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائیاں بھی یاد ہیں۔
2014 سے آج تک مودی کا عہد حکومت بھی دیکھ رہا ہوں۔حالیہ رواں مدت میں فرقہ پرست قوتوں کی ذلیل ترین سیاست اور سیاسی لیڈروں کی بے حیائی وبے شرمی یقینا قابل تعجب ہے۔سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے اور اپنے ہر مخالف کو ذلیل ورسوا اور پریشان کرنے میں یہ لوگ خوب ماہر ہیں۔فرقہ پرست پارٹیوں اور لیڈروں کی رگ وپے میں ناانصافی اور یہودیانہ سرشت سرایت کی ہوئی ہے۔ہم نے آج تک ایسی بدترین سیاست اور ایسے بدترین لیڈر نہیں دیکھے۔اللہ تعالی ایسے لوگوں کے شر وفتنہ سے ہماری حفاظت فرمائے۔آمین
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:13:مارچ 2023
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
دین فروشی کی مذمت.pdf
558.1 KB
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid0271AnJdafXtvGwqJmM23Ft1W4EHc9adz1RC4PFbGM56a8nVicCkwTJwmS3XaeBsGxl/?mibextid=Nif5oz
📚 استقبال رمضان
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230316_20230316_0359
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
📚 استقبال رمضان
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230316_20230316_0359
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
استقبالِ رمضان.pdf
459.4 KB
مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما
حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالی عنہ
شہر مدراس(چینئے)سے متصل کولم شریف میں ایک قدیم مزار ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ صحابی رسول حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روضہ مقدسہ ہے۔آج خاکسار شرف زیارت سے سرفراز ہوا۔
تمیم نام کے قریبا بیس صحابہ کرام ہیں۔کولم میں آرام فرما بزرگ سے متعلق مورخین مختلف الخیال ہیں۔بعض لوگوں کی رائے ہے کہ کیرلا کے راجا سامری کی گزارش پر حضرت مالک دینار رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ کیرلا آنے والے مبلغین میں سے کوئی بزرگ کولم آئے اور یہ مزار انہیں کا ہے:واللہ تعالٰی اعلم
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مزار صحابی رسول حضرت تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔دروازہ پر بھی صحابی رسول حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرقوم ہے۔اندرونی حصہ میں ایک بورڈ آویزاں ہے۔اس میں تفصیل رقم کی گئی ہے اور صاحب مزار کو صحابی بتایا گیا ہے۔
رسالہ:جالیۃ الاکدر والسیف البتار فی الصلوۃ علی المختار صلی اللہ علیہ وسلم (مصنفہ:
قاضی العراق مفتی ضیاء الدین بخاری)اور اکبر خان نجیب آبادی کی کتاب"آئینہ حق نما" کے حوالے سے یہ تفصیل رقم کی گئی ہے۔
15 ذی الحجہ سے 17 ذی الحجہ تک ہرسال کولم شریف میں حضرت تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عرس منایا جاتا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:20: من مارچ 2023
حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالی عنہ
شہر مدراس(چینئے)سے متصل کولم شریف میں ایک قدیم مزار ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ صحابی رسول حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روضہ مقدسہ ہے۔آج خاکسار شرف زیارت سے سرفراز ہوا۔
تمیم نام کے قریبا بیس صحابہ کرام ہیں۔کولم میں آرام فرما بزرگ سے متعلق مورخین مختلف الخیال ہیں۔بعض لوگوں کی رائے ہے کہ کیرلا کے راجا سامری کی گزارش پر حضرت مالک دینار رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ کیرلا آنے والے مبلغین میں سے کوئی بزرگ کولم آئے اور یہ مزار انہیں کا ہے:واللہ تعالٰی اعلم
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مزار صحابی رسول حضرت تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔دروازہ پر بھی صحابی رسول حضرت سیدنا تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرقوم ہے۔اندرونی حصہ میں ایک بورڈ آویزاں ہے۔اس میں تفصیل رقم کی گئی ہے اور صاحب مزار کو صحابی بتایا گیا ہے۔
رسالہ:جالیۃ الاکدر والسیف البتار فی الصلوۃ علی المختار صلی اللہ علیہ وسلم (مصنفہ:
قاضی العراق مفتی ضیاء الدین بخاری)اور اکبر خان نجیب آبادی کی کتاب"آئینہ حق نما" کے حوالے سے یہ تفصیل رقم کی گئی ہے۔
15 ذی الحجہ سے 17 ذی الحجہ تک ہرسال کولم شریف میں حضرت تمیم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عرس منایا جاتا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:20: من مارچ 2023
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مزارات علمائے مدراس(چنئے)
شہر مدراس(تمل ناڈو)میں قائد ملت روڈ پر مدراس کے نوابوں کی تعمیر کردہ عظیم الشان مسجد ہے جسے مسجد والا جاہی اور بڑی مسجد کہا جاتا ہے۔اسی مسجد کی شمالی جانب ایک قبرستان ہے۔
شہر مدراس کے علما و قائدین اسی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ بحر العلوم حضرت علامہ عبد العلی فرنگی محلی(م 1225)٫ان کے نواسے ملک العلما حضرت علامہ جمال الدین فرنگی محلی (م 1276)٫اور فرنگی محل کے متعدد علمائے کرام یہیں مدفون ہیں۔
مدراس کے مشہور عالم دین حضرت مفتی قاضی عبید اللہ بن صبغۃ اللہ مدراسی(م1346)٫حضرت قاضی حبیب اللہ مدراسی اور انڈین یونین مسلم لیگ کے مشہور قائد جناب اسماعیل مدراسی کے مقابر اسی قبرستان میں ہیں۔
آج 21:مارچ 2023 کو مسجد والا جاہی کے دیدار سے مشرف ہوا اور حضرت بحر العلوم قدس سرہ العزیز کے روضہ مبارکہ ودیگر مزارات کی زیارت سے شرف یاب ہوا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:مارچ 2023
مزارات علمائے مدراس(چنئے)
شہر مدراس(تمل ناڈو)میں قائد ملت روڈ پر مدراس کے نوابوں کی تعمیر کردہ عظیم الشان مسجد ہے جسے مسجد والا جاہی اور بڑی مسجد کہا جاتا ہے۔اسی مسجد کی شمالی جانب ایک قبرستان ہے۔
شہر مدراس کے علما و قائدین اسی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ بحر العلوم حضرت علامہ عبد العلی فرنگی محلی(م 1225)٫ان کے نواسے ملک العلما حضرت علامہ جمال الدین فرنگی محلی (م 1276)٫اور فرنگی محل کے متعدد علمائے کرام یہیں مدفون ہیں۔
مدراس کے مشہور عالم دین حضرت مفتی قاضی عبید اللہ بن صبغۃ اللہ مدراسی(م1346)٫حضرت قاضی حبیب اللہ مدراسی اور انڈین یونین مسلم لیگ کے مشہور قائد جناب اسماعیل مدراسی کے مقابر اسی قبرستان میں ہیں۔
آج 21:مارچ 2023 کو مسجد والا جاہی کے دیدار سے مشرف ہوا اور حضرت بحر العلوم قدس سرہ العزیز کے روضہ مبارکہ ودیگر مزارات کی زیارت سے شرف یاب ہوا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:مارچ 2023
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
فرقہ پرست قوتیں اور سیکولر پارٹیاں
بھارت کے پسماندہ طبقات اورمذہبی اقلیتیں سمجھتی ہیں کہ سیکولر پارٹیاں ہماری ہمدرد وخیر خواہ ہیں٫حالاں کہ سیکولر وغیر سیکولر پارٹیاں محض اپنے ذاتی وسیاسی مفادات کے پیش نظر کوئی اقدام کرتی ہیں۔
اگر تمام سیکولر پارٹیاں متحد ہو کر الیکشن میں اتریں تو فرقہ پرست پارٹیاں ضرور شکست وناکامی سے دو چار ہوں گی٫لیکن سیکولر پارٹیاں 2014 سے آج تک انفرادی طور پر قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔اگر وہ الیکشن میں متحد ہو جائیں تو کامیابی کے بعد حکومت سازی میں بھی اتحاد کرنے والی پارٹیوں کو حصہ داری دینی ہو گی۔یہی حصہ داری انہیں ہضم نہیں ہوتی ہے۔
اگر سیکولر پارٹیاں پسماندہ طبقات اور مذہبی اقلیتوں کی خیر خواہ ہوتیں تو وہ ضرور متحد ہو کر انتخابی میدان میں اترتیں٫لیکن 2014 سے آج تک بہت سے اسمبلی انتخابات ہوئے۔2019 میں لوک سبھا الیکشن ہوا۔سیکولر پارٹیوں کے متحد نہ ہونے کے سبب سیکولر ووٹ منتشر ہو جاتے ہیں اور سیکولر پارٹیاں ہار جاتی ہیں۔فرقہ پرست پارٹیاں جیت کر حکومت پر قبضہ جما لیتی ہیں٫پھر پسماند طبقات اور اقلیتوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23: مارچ 2023
فرقہ پرست قوتیں اور سیکولر پارٹیاں
بھارت کے پسماندہ طبقات اورمذہبی اقلیتیں سمجھتی ہیں کہ سیکولر پارٹیاں ہماری ہمدرد وخیر خواہ ہیں٫حالاں کہ سیکولر وغیر سیکولر پارٹیاں محض اپنے ذاتی وسیاسی مفادات کے پیش نظر کوئی اقدام کرتی ہیں۔
اگر تمام سیکولر پارٹیاں متحد ہو کر الیکشن میں اتریں تو فرقہ پرست پارٹیاں ضرور شکست وناکامی سے دو چار ہوں گی٫لیکن سیکولر پارٹیاں 2014 سے آج تک انفرادی طور پر قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔اگر وہ الیکشن میں متحد ہو جائیں تو کامیابی کے بعد حکومت سازی میں بھی اتحاد کرنے والی پارٹیوں کو حصہ داری دینی ہو گی۔یہی حصہ داری انہیں ہضم نہیں ہوتی ہے۔
اگر سیکولر پارٹیاں پسماندہ طبقات اور مذہبی اقلیتوں کی خیر خواہ ہوتیں تو وہ ضرور متحد ہو کر انتخابی میدان میں اترتیں٫لیکن 2014 سے آج تک بہت سے اسمبلی انتخابات ہوئے۔2019 میں لوک سبھا الیکشن ہوا۔سیکولر پارٹیوں کے متحد نہ ہونے کے سبب سیکولر ووٹ منتشر ہو جاتے ہیں اور سیکولر پارٹیاں ہار جاتی ہیں۔فرقہ پرست پارٹیاں جیت کر حکومت پر قبضہ جما لیتی ہیں٫پھر پسماند طبقات اور اقلیتوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23: مارچ 2023