🌍دیوان لوح وقلم🌎
2.05K subscribers
580 photos
2 videos
1.42K files
982 links
.
فکر انگیزاسلامی,تحقیقی,تاریخی,سیاسیی,سماجی ومعاشی مضامین ومقالات,خطبات جمعہ اور سنی ماہناموں کا خزانہ.
Download Telegram
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

انتقام کی آگ کبھی سرد نہیں ہوتی

جیسے جیسے ہندو راشٹر کے نعرے بلند ہوتے جائیں گے٫ویسے ہی اس کے خلاف شور و غوغا بڑھتے جائے گا۔شور وغل بھارتی مسلمان نہیں٫بلکہ بھارت کی مول نواسی اقوام(شودر اور اچھوت قومیں) کریں گی٫کیوں کہ 1500قبل مسیح سے آج تک یعنی ساڑھے تین ہزار سال سے زائد عرصے سے مول نواسی قوموں پر وسط ایشیا سے آنے والی آرین اقوام(برہمن٫چھتری اور بنیا)سخت ظلم وستم ڈھاتی آ رہی ہیں۔

ہندو راشٹر کا نام سنتے ہی مول نواسی قوموں کو اپنے آبا واجداد پر ڈھائے گئے مظالم یاد آ جاتے ہیں اور ان کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔انتقام کی آگ کبھی ٹھندی نہیں ہوتی۔ظالموں پر آفت آ ہی جاتی ہے۔

ڈاکٹر امبیڈکر٫جیوتی با پھولے٫پیریار ودیگر مول نواسی لیڈروں نے تحریری شکل میں گائیڈ لائنس اپنی قوموں کو سپرد کر دیئے ہیں۔

کانشی رام نے اسی مشن کو آگے بڑھایا تھا٫گرچہ مایاوتی اس مشن کی تکمیل میں مکمل کامیاب نہ رہی٫لیکن اب بہوجن سماج میں بہت سے ہوشیار لیڈر جنم لے چکے ہیں۔گرچہ ابھی وہ بہت مضبوط نہیں٫لیکن حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:11: فروری 2023
*28 افراد کی فہرست جنہوں نے ہندوستانی بینکوں سے پیسہ لوٹا*:-

1) وجے مالیا
2) میہول چوکسی
3) نیرو مودی
4) نشان مودی
5) پشپیش بیدیا
6) آشیش جوبن پترا
7) سنی کالرا
8) آرتی کالرا
9) سنجے کالرا
10) ورشا کالرا
11) سدھیر کالرا
12) جتن مہتا
13) امیش پاریکھ
14) کملیش پاریکھ
15) نیلیش پاریکھ
16) ونے متل
17) ایکلویہ گرگ
18) چیتن جینتی لال
19) نتن جینتی لال
20) دیپتی چیتن
21) ساویہ سیٹھ
22) راجیو گوئل
23) الکا گوئل
24) للت مودی
25) رتیش جین
26) ہتیش ناگیندر بھائی پٹیل
27) میوری بین پٹیل
28) آشیش سریش بھائی

لوٹی گئی کل رقم 10,000,000,000,000/- روپے ہے۔
(دس کھرب روپے ہے)

*کچھ خاص -*
ان میں سے کوئی بھی پاکستانی نہیں ہے۔
ان میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں
ان میں سے کوئی خالصتانی نہیں
ان میں سے کوئی سکھ نہیں، ان میں سے کوئی بھی جاٹ، کسان، مزدور، مزدور نہیں،
ان میں سے کوئی بھی نام نہاد شہری نکسل نہیں ہے،
ان میں سے کوئی بھی OBC/SC/ST سے نہیں ہے،
ان میں سے کوئی بھی ہریانہ پنجاب اتر پردیش راجستھان سے نہیں۔

*وجے مالیا کے علاوہ باقی سب گجرات کے ہیں!*
لوگوں کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے۔

*وہ پرائیویٹ کمپنیوں کے مالک تھے اور حکومت اسے سرکاری بینکوں کو دینا چاہتی ہے، پرائیویٹ کمپنیوں کے ہاتھ میں، سرکاری بینکوں میں پیسہ عام لوگوں کا ہے۔ سرکاری بینکوں کو بچائیں۔ ملک کو بچائیں۔ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ متعصبوں کی آنکھیں کھل جائیں کہ کس طرح ہندوتوا کے نام پر انہوں نے مقامی لوگوں کی محنت کی کمائی کو لوٹ کر باہر کے ممالک میں آباد کیا ہے۔ اٹھو بھائیو اور بہنو جاگو۔


نیویل جے کارانا
ہندوستان کا ایک اچھا شہری۔
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

مرجوح اقوال اور غلط فتاویٰ پر عمل جائز نہیں

مرجوح وشاذ اقوال پر عمل جائز نہیں،اسی طرح غلط فتاویٰ پر عمل جائز نہیں ہے۔

اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:”وہابیوں،بلکہ سب گمرہوں کی ہمیشہ یہی حالت رہی ہے کہ ڈوبتا سوار پکڑتا ہے۔جہاں کسی کا کوئی لفظ شاذ مہجور پکڑ لیا،خوش ہو گئے اور اس کے مقابل تصریحات قاہرہ سلف وخلف،بلکہ ارشادات صریحہ قرآن وحدیث کو بالائے طاق رکھ دیا،مگر اہل حق بحمد اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ شاہراہ ہدایت اتباع جمہور ہے۔ جس سے سہوا خطا ہوئی،اگرچہ معذور ہے،مگر اس کا وہ قول متروک ومہجور ہے“۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد29:ص173-172-جامعہ نظامیہ لاہور)

منقولہ بالا اقتباس میں بتایا گیا کہ گمراہ لوگ متروک ومہجور قول کو اختیار کر لیتے ہیں اور شور مچاتے پھرتے ہیں۔اس کے بالمقابل اقوال صحیحہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے٫حالاں کہ قول مرجوح پر عمل جائز نہیں۔

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خداکے یہاں مفتی فتویٰ دینے کا ذمہ دارہوگا، یاوہ بھی جو فتو یٰ پرعمل کرے؟بینوا توجروا

الجواب:اگروہ مفتی قابل فتویٰ نہیں، یا عامہ مسلمین ِشہر دربارۂ فتویٰ اس پراعتما د نہیں کرتے، یا فتویٰ ایسا غلط ہے جس کی صریح غلطی مستفتی پرظاہرہے،یاعالم معتمدومستندنے اس کے اغلاط ظاہرکردیئے،یافتویٰ واقعات پر نہیں ہے،اوراس میں مفتی نے اصل واقعہ چھپایا اورغلط رخ دکھایاتومفتی واس پرعمل کرنے والا دونوں ماخوذ وگرفتارہیں،ورنہ جب تک حق واضح نہ ہو،جاہل پروبال نہیں:واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد نہم: جز دوم:ص284 -رضااکیڈمی ممبئ)

جب معتمد ومستند عالم فتویٰ کے اغلاط ظاہر کردے تو مفتی کا اپنے فتویٰ پر قائم رہنا اور رجوع نہ کرنا اور کسی کا اس فتویٰ پر عمل کرناگناہ ہے۔جاہل نے غلطی ظاہر ہونے سے قبل عمل کیا تو گناہ نہیں۔فتویٰ کے غلط ہونے کا علم عوام کو ہوگیا تو اس پر عمل کے سبب وہ گنہگار ہیں۔


حضو ر مفتی اعظم کے فتویٰ کی تشریح

حضورمفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:”قوالی مع مزا میر ہمارے نزدیک ضرور حرام وناجائز وگناہ ہے اور سجدۂ تعظیمی بھی ایسا ہی۔ ان دونوں مسئلوں میں بعض صاحبوں نے اختلاف کیا ہے،اگر چہ وہ لائق التفات نہیں،مگر اس نے ان مبتلاؤں کو حکم فسق سے بچادیا ہے، جو ان مخالفین کے قول پر اعتماد کرتے اور جائز سمجھ کر مرتکب ہوتے ہیں، اگرچہ شرعاً ان پر اب دہرا الزام ہے۔ایک ارتکاب حرام کا، دوسرا اسے جائز سمجھنے،خلاف قول صحیح جمہور چلنے گا“۔(فتاویٰ مصطفویہ:ص 456)

جو مخالفین کے قول پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ امورمیں مبتلا ہیں،وہ اسی وقت تک معذور ہیں جب تک ان کواس قول کے غلط ہونے کا علم نہ ہو۔ جب ان کے لیے اس قول کا غلط ہونا واضح گیا،اس کے باوجودوہ اس پر عمل پیرا ہیں تو گنہ گار ہیں،جیسا کہ فتاویٰ رضویہ کے منقولہ بالافتویٰ میں مرقوم ہے۔قوالی مع مزامیر سے متعلق فتویٰ درج ذیل ہے۔

مسئلہ: ازسہرام برتلہ ضلع آرہ مسؤلہ قدرت اللہ ۵:شوال۹۳۳۱؁ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اعلم بالسنۃ عالم باعمل سماع بالمزا میر سنتاہے اور اس کی امامت جائز ہے اور اس کی امامت میں کراہت ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا

الجواب: مزامیر حرام ہیں۔ ان کا سُننا عالم باعمل کا کام نہیں (کما بیناہ فی اجل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر)(جیسا کہ اسے میں نے ا جل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر میں بیان کیا ہے۔ت) اگر اعلانیہ اس کا مرتکب ہو،اسے امام نہ کریں،اور کراہت سے کسی حال خالی نہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاوی رضویہ:جلد ششم:ص596-جامعہ نظامیہ لاہور)

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:15:فروری 2023
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid0iUnJf4GzGarCxE1vRG4f9JZ8LM1si9cxKcCqtDtx9Yded3pNhbXcJsWL9WHE4Gkel/?mibextid=Nif5oz

📚 *معراج مصطفی ﷺ*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230215_20230215_1222
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
معراج مصطفی.pdf
507.4 KB
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

اسلام بھارت اور دنیا کا سب سے قدیم مذہب

دہلی اجلاس کے ایک بیان سے اہل تعصب ہنود کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگا ہے۔وہ ویدک دھرم کو قدیم دھرم(سناتن دھرم)بتا کر مسلمانوں کی گھر واپسی کے لیے پر تول رہے تھے۔2024 میں بی جے پی کی فتحیابی کا جھوٹا خواب اپنے دلوں میں سجائے ہوئے ہندو راشٹر کے اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔

ان خیالوں میں مست ارباب تعصب اسلام کے قدیم دھرم ہونے کی بات سن کر چونک پڑے۔ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی ہے۔


بلا شبہہ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔وہ پہلے پیغمبر اور مسلمان ہیں۔ان سے ہی نسل انسانی کا آغاز ہوا۔وہ جنت سے کوہ سراندیپ شری لنکا میں اتارے گئے۔شری لنکا پہلے بھارت کا ایک حصہ تھا۔

کیرلا میں ایک پہاڑی پر حضرت آدم علیہ السلام کا نشان قدم بتایا جاتا ہے۔میں نے بھی اس کی زیارت کی ہے۔اس سے یہ ثبوت بھی فراہم ہوتا ہے کہ موجودہ بھارت میں بھی حضرت آدم علیہ السلام تشریف لائے تھے

ویدک دھرم میں افسانوی کرداروں کا ذکر ہے٫لہذا اوم اور منو سے کیا مراد ہے۔اس سے مسلمانوں کو کچھ لینا دینا نہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:16:فروری 2023
مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما

حکومت کی حمایت وپشت پناہی

اور ناقابل برداشت ناکامی ونامرادی

بھارت کے مشہور تاجر اڈانی گجراتی کی حمایت میں مرکزی حکومت تھی اور آج بھی ہے۔ انڈیا کے مین اسٹریم میڈیا کا حال خواص و عوام کو معلوم ہے کہ وہ حکومت کو خوش کرنے کے واسطے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

نہ حکومت نے اڈانی پر کوئی دباؤ ڈالا٫نہ ہی میڈیا نے کبھی کوئی مخالفانہ بیان دیا٫پھر بھی اڈانی کو ایسا زوال آیا کہ اسے تاریخی عجوبہ کہا جا سکتا ہے۔ایک غیر ملکی رپورٹ نے اس کو تباہ وبرباد کر دیا۔

جو لوگ بی جے پی کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ووٹنگ مشین(ای وی ایم)میں ہی وہ لوگ تخریب کاری کردیتے ہیں تو بی جے پی ہار کیسے سکتی ہے۔

اڈانی کے حادثہ سے واضح ہو گیا کہ جو مقدر میں ہے٫وہ ہو کر رہے گا۔اللہ تعالی کے فیصلے کو کون روک سکتا ہے۔جب حکم الٰہی ہو گا تو فرقہ پرست قوتیں بھی نیست ونابود ہو جائیں گی۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:16:فروری 2023
مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما

کیا بھارت ہندو راشٹر بن چکا ہے؟

برہمن راشٹر کو ہندو راشٹر کا نام دیا گیا ہے٫تاکہ بھارت کا بیک ورڈ کلاس٫دلت اور آدی واسی بھی اس پلاننگ میں شریک ہو جائے۔

ہندو راشٹر کا معنی یہ ہے کہ موجودہ دستور ہند کے قوانین آرین اقوام (برہمن٫چھتری اور بنیا)کے علاوہ ساری قوموں کے خلاف نافذ العمل ہوں گے اور آرین اقوام خواہ قتل وغارت گری اور جبرا عصمت دری ہی کیوں نہ کریں٫ان کو سزاؤں سے مستثنی رکھا جائے گا۔

غیر آرین اقوام کے خلاف یہ قوانین کام بھی کریں گے اور زبردستی ان کو قانونی کاروائی میں پھنسایا بھی جائے گا۔اسی مقصد کی تکمیل کے لئے کورٹ میں برہمن ججوں کی تقرری کی جا رہی ہے٫حالاں کہ انگریزوں کے عہد میں برہمنوں کو جج کا عہدہ نہیں دیا جاتا تھا٫کیوں کہ ان کی فطرت میں نسلی عصبیت وافر مقدار میں پائی جاتی تھی۔

ہندو راشٹر کے اسی مفہوم کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ بھارت ہندو راشٹر تھا اور ہندو راشٹر ہے۔

عہد حاضر میں جن ریاستوں میں بھاجپا کی حکومت ہے٫وہاں یہی طریق کار نافذ ہے کہ غیر آرین اقوام کے خلاف قانون بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور ان کو زبردستی قانونی کاروائی میں پھنسا دیا جاتا ہے٫پھر ایک مدت بعد ان کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔بہت سے بے قصوروں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں گزر جاتا ہے۔

بھارت پر انگلینڈ کی حکمرانی تھی۔انگلینڈ کے اصحاب سیاست و حکومت برہمنوں کی فطرت سے اچھی طرح واقف وآشنا تھے۔جب جنگ عظیم دوم(1939-1945) کے موقع پر 06:اگست 1946 کو امریکہ نے جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر سخت بمباری کی۔اس میں کئی لاکھ لوگ ہلاک ہو گئے۔اس موقع پر انگلینڈ کے سابق وزیر اعظم چرچیل نے کہا تھا کہ جاپان کو تباہ کرنے کے واسطے بمباری کی ضرورت نہیں تھی۔اگر انڈیا سے چار برہمن کو جاپان لے جا کر چھوڑ دیا جاتا تو وہ پورے جاپان کا ستیاناس اور تباہ وبرباد کر دیتے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:18:فروری 2023
مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما

شب معراج اقدس اور دیدار خداوندی

جنت میں اللہ تعالی کا دیدار جنتیوں کے لئے سب سے بڑی نعمت ہے٫حالاں کہ جنت کی دیگر نعمتیں بھی ایسی ہیں کہ دنیا والوں کا تصور بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ان سب نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت دیدار الہی ہے جس کا کیف وسرور انسانی زبان بیان نہیں کر سکتی۔

اللہ تعالی نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دنیاوی زندگی میں ہی اپنی زیارت کا شرف عطا فرمایا۔اپنی بارگاہ اقدس میں بلایا اور اپنا دیدار عطا فرمایا۔دنیاوی زندگی میں یہ نعمت عظمی ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ کسی کو عطا نہیں فرمائی گئی۔

معراج جسمانی کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم مکہ معظمہ میں اقامت پذیر تھے۔ابھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں ہوئی تھی۔

جشن ولادت اقدس(12:ربیع الاول شریف)اور شب معراج اقدس(27:رجب المرجب شریف)کے موقع پر درباری گداگروں کو انعامات شاہانہ سے سرفراز فر مایا جاتا ہے٫لہذا اپنے کشکول سنبھالیں٫عبادت وریاضت اور صدقات وخیرات کریں اور اپنے پیارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے توسل سے دربار الہی میں دعا کریں اور دربار رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا میں اپنی عرضی پیش کریں۔

یا رب تو کریمی ورسول ما کریم

صد شکر کہ ہستیم میان دو کریم

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:18:فروری 2023
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

انتخابات میں تخریب کاری اور اسرائیلی کمپنی

برطانیہ کے مشہور اخبار"دی گارجین"نے آٹھ ماہ کی خفیہ تحقیقات کے بعد ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے اسرائیل کی ایک خفیہ پرائیویٹ کمپنی نے تیس سے زائد بڑے انتخابات میں تخریب کاری کر کے اور جھوٹ پھیلا کر ووٹ دہندگان کے ذہن کو اس پارٹی کی جانب پھیرنے کی کوشش کی جس سے اس نے سانٹھ گانٹھ کیا تھا۔

میڈیا کی ایک خفیہ تحقیقات کے مطابق مذکورہ اسرائیلی فرم نے ہیکنگ، تخریب کاری اور غلط معلومات پھیلا کر اپنے کلائنٹس کے لیے دنیا بھر میں 30 سے زائد انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ان انکشافات سے ان شواہد کو تقویت ملی ہے کہ دنیا بھر میں موجود نجی فرمز ہیکنگ ٹولز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طاقت سے رائے عامہ پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

اس فرم کو ان تحقیقاتی صحافیوں نے ’ٹیم جارج‘ کا نام دیا جنہوں نے اس کی تکنیک اور صلاحیتوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے خود کو اس کے ممکنہ کلائنٹس کے طور پر پیش کیا۔

اس فرم کا سربراہ اسرائیل کی اسپیشل فورسز کا ایک سابق کارکن طل حنان ہےجس نے مبینہ طور پر ٹیلی گرام اکاؤنٹس اور ہزاروں جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ خبریں بھی پلانٹ کی ہے۔

یہ تحقیقات فرانس میں قائم غیر منافع بخش ادارے ’فاربیڈن اسٹوریز‘ کی ہدایت پر 30 میڈیا آؤٹ لیٹس کے صحافیوں پر مشتمل ایک تنظیم نے کی، ان آؤٹ لیٹس میں برطانیہ کے دی گارجین، فرانس کے لی مونڈے، جرمنی کے ڈیر اسپیگل اور اسپین کے ایل پیس شامل ہیں۔

گارجین نے لکھا کہ ٹیم جارج کے بیان کردہ طریقے اور تکنیکیں ٹیکنالوجی کے بڑے پلیٹ فارمز کے لیے نئے چیلنجز کو جنم دیتی ہیں، انتخابات سے متعلق غلط معلومات کے فروغ میں ملوث عالمی نجی مارکیٹ کی موجودگی کے ثبوت دنیا بھر کی جمہوریتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

50 سالہ طل حنان نے 3 خفیہ رپورٹرز کو بتایا کہ ان کی خدمات (جنہیں انڈسٹری میں اکثر ’بلیک آپس‘ کہا جاتا ہے) انٹیلی جنس ایجنسیوں، سیاسی مہم اور نجی کمپنیوں کے لیے دستیاب ہیں۔

گارجین کی رپورٹ کے مطابق طل حنان نے کہا کہ اب ہم افریقہ میں ایک الیکشن پر اثرانداز ہو رہے ہیں، ہماری ایک ٹیم یونان میں اور ایک ٹیم امارات میں ہے، ہم نے صدارتی سطح کی 33 مہمات پر کام کیا ہے، جن میں سے 27 کامیاب رہیں، ان میں سے لگ بھگ 2 تہائی کا تعلق افریقہ سے ہے۔

رپورٹس کے مطابق رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے آن لائن مہم ایک سافٹ ویئر پلیٹ فارم کے ذریعے چلائی گئی جسے ’ایڈوانسڈ امپیکٹ میڈیا سلوشنز‘ کہا جاتا ہے، اس نے فیس بک، ٹوئٹر یا لنکڈ اِن پر تقریباً 40 ہزار سوشل میڈیا پروفائلز کو کنٹرول کیا۔

انتخابات اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والی متعدد کمپنیوں کے نام بھی میڈیا میں مشہور ہوئے ہیں۔حالیہ برسوں میں مغربی ممالک نے ان پر پابندی عائد کی ہے۔

مشہور برطانوی کنسلٹنگ فرم ’کیمبرج اینالیٹیکا‘ کو 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں ووٹرز کی رائے کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب موڑنے کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:19: فروری 2023
مبسملا وحامدا::مصلیا ومسلما

قرب قیامت اور مسلم خواص و عوام

(1)قرب قیامت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ایک نشانی یہ ہے کہ دین پر عمل کرنا اس قدر مشکل ہو جائے گا جیسے ہاتھ پر انگارہ لینا۔

ابھی وہ زمانہ تو نہیں آیا٫لیکن اس کے آثار نمودار ہونے لگے ہیں۔ایسے وقت میں ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود احتسابی کرے کہ وہ دین پر کس قدر عمل کر رہا ہے۔ہر شخص دوسروں سے زیادہ اپنی فکر کرے۔

(2)قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم دین اٹھا لیا جائے گا٫یعنی علما اٹھا لئے جائیں گے۔عہد حاضر میں بے شمار مدارس و جامعات ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں ہر ملک میں علما وفقہا ہیں٫لیکن متاخرین اپنے متقدمین سے کم علم ہوتے جا رہے ہیں٫یعنی علم دین رفتہ رفتہ اٹھا لیا جا رہا ہے۔

اکیسویں صدی عیسوی میں قلت علم کے ساتھ بد اخلاقی بھی عروج پر ہے۔انسانیت کا نام ونشان مٹتا جا رہا ہے۔ بے شمار ایسے لوگ ہیں کہ آپ انہیں سلام کریں تو وہ آپ کو جواب سلام سے بھی محروم رکھیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:19:فروری 2023
لغزش وخطا اور ضد واصرار.pdf
2.5 MB
لغزش وخطا اور ضد واصرار

بعد فہم کے نظریہ پر تبصرہ

لغزش وخطا کے علم کے بعد رجوع کا حکم

اور ضد واصرار سے ممانعت کا بیان

از: طارق انور مصباحی

صفحات:166
المہند_کی_کہانی_علماے_عرب_کی_زبانی.pdf
11.3 MB
المہند کی کہانی علماے عرب کی زبانی.pdf
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

ملکی سیاست اور قائدین ملت

(1)سال 2024 کے نصف اول ہی میں لوک سبھا الیکشن ہونے والا ہے٫لیکن حزب مخالف کی پارٹیاں اب تک کوئی مضبوط منصوبہ بندی نہ کر سکی ہیں۔عین موقع پر کچھ کرنا بھی چاہیں تو اس کی تکمیل مشکل ہے۔

اگر حزب مخالف کی تمام پارٹیاں متحد ہو کر لوک سبھا الیکشن لڑتی ہیں تو کامیابی کی امید ہے٫ورنہ سیکولر ووٹ منتشر ہو گا اور فرقہ پرست قوتیں فتح یاب ہو جائیں گی۔

(2) اقلیتوں اور مول نواسی اقوام پر فرقہ پرست قوتوں کے مظالم بڑھتے جا رہے ہیں۔ماب لنچنگ کا سلسلہ بند نہ ہو سکا٫حالاں کہ پارلیامنٹ میں بھی اس پر مباحثے ہوئے اور وقتا فوقتاً حزب مخالف کے پارلیمانی ارکان آواز بلند کرتے رہے ہیں۔

بھاجپا کی ریاستی حکومتیں کورٹ کے آرڈر کے بغیر اور تحقیق و تفتیش سے لاپرواہ ہو کر محض دھرم اور کمیونٹی کو دیکھ کر ملزم کے گھروں پر بلڈوزر چلا دیتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بے گھر ہو جاتے ہیں۔

اقلیتوں اور مول نواسی لوگوں کو زبردستی قانونی شکنجوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔غلط الزامات عائد کر کے ان کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔پھر ایک طویل مدت بعد کورٹ ان کو باعزت بری کردیتا ہے۔ان کی زندگی کا سنہرا حصہ جیل میں گزر جاتا ہے۔اب وہ زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔


(3)سیاسی تبدیلی کے واسطے سیاسی پارٹیوں کو اپنا طرز عمل اور اپنی فکر بدلنی ہو گی۔مذہبی قائدین اس میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کر سکتے۔نہ ہی سیاست و حکومت سے ان کا مضبوط تعلق ہے٫نہ ہی سیاسی داؤ پیچ سے وہ بہت زیادہ واقف ہیں۔

اگر ارکان پارلیامنٹ کو کرکٹ ٹیم میں شامل کر دیا جائے تو ہر میچ ہار جانا قریبا یقینی ہے۔وہ سیاست کے ماہر ہیں٫وہ لوگ تجربہ کار کرکٹر نہیں۔

اسی طرح تفسیر وحدیث اور فقہ وکلام کے ماہرین کو سیاست میں اتار دیا جائے تو وہ کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔

(4)زمینی حقائق وسیاسی حالات یقینا پریشان کن ہیں۔بی جے پی نے دیگر پارٹیوں کو نیست ونابود کرنے کے واسطے ان کے ارکان وممبران اور اعلی کارکنان کے خلاف ای ڈی اور سی بی آئی ودیگر سرکاری ایجنسیوں کو لگا رکھا ہے۔

جب چند لمحوں میں کسی کی ساری جائیداد ضبط ہونے کا خطرہ ہو تو کون بھاجپا کی مخالفت کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا پسند کرے گا۔اسی خوف سے دیگر پارٹیوں کے جیتے ہوئے ارکان اسمبلی بھی بھاجپا میں شامل ہو جاتے ہیں۔

(5)موجودہ ناموافق حالات اور بھاجپا کی مستحکم تدابیر کے باوجود لوک سبھا الیکشن 2024 میں بھاجپا کی فتح یابی کی پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی٫کیوں کہ حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ خداوندی فیصلہ کچھ اور ہی ہے۔وقت خود ہی حکم الٰہی کو ظاہر کر دے گا۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:21:فروری 2023
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
*تصحیح شدہ*
ديوبند وسراوان اور عناصر اربعه.pdf
3.1 MB
دیوبند وسراواں اور عناصر اربعہ

فرقہ سراویہ بجنوریہ کے نظریات باطلہ کا قاہر رد و ابطال

از: طارق انور مصباحی

صفحات:235
ضروريات دين كا تعارف.pdf
1.2 MB
ضروریات دین کا تعارف

ضروریات دین کی سات تعریفات وتعبیرات کا تجزیہ اور متعدد تعبیرات کے سبب کا بیان

از: طارق انور مصباحی

صفحات:42
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid0UhvQCDX57q5uziNwvqSbZU5LQdmbsRiaDtup5oni2KqeP18f7c1su8jqfBW62oHWl/?mibextid=Nif5oz

📚 *عمرہ کے فضائل ومسائل*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230308_20230308_0343
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)