فتاوي رضويه اور فقهي اختلاف.pdf
1002.5 KB
فتاوی رضویہ اور فقہی اختلاف
فتاوی رضویہ ایک متبحر واہل نظر فقیہ کے فتاوی کا مجموعہ ہے۔اس سے صرف اہل نظر ومتبحر فقیہ کو اختلاف کا حق ہے۔ہر فقیہ اہل نظر فقیہ نہیں۔
از: طارق انور مصباحی
صفحات:22
فتاوی رضویہ ایک متبحر واہل نظر فقیہ کے فتاوی کا مجموعہ ہے۔اس سے صرف اہل نظر ومتبحر فقیہ کو اختلاف کا حق ہے۔ہر فقیہ اہل نظر فقیہ نہیں۔
از: طارق انور مصباحی
صفحات:22
Forwarded from Tarique Anwer
فقيه اور اهل نظر فقيه.pdf
2.4 MB
فقیہ اور اہل نظر فقیہ
فقیہ اور صاحب نظر فقیہ کے اوصاف وخصائص,فقہائے کرام کے سات طبقات,فقہی اختلاف کے احکام اور مسائل جدیدہ کے حل کی صورتوں کا تفصیلی بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:160
فقیہ اور صاحب نظر فقیہ کے اوصاف وخصائص,فقہائے کرام کے سات طبقات,فقہی اختلاف کے احکام اور مسائل جدیدہ کے حل کی صورتوں کا تفصیلی بیان
از: طارق انور مصباحی
صفحات:160
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
سلطان الہند.jpg
393.5 KB
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid034SqEq733vZR3eym54Hg2gBXt7W6vNywKmguNuWiwxc7kHF7V4PN78tAVpLSVdpT1l/?mibextid=Nif5oz
📚 سلطان الہند
✍️ بقلم: ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی
✍️ پیشکش : ادارہ اہل سنت کراچی
📮ثواب کی نیت سے اس مستند رسالہ کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20210215_20210215_1053/mode/2up
📬علم کی خوشبو پھیلائیں دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
📚 سلطان الہند
✍️ بقلم: ڈاکٹر مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی
✍️ پیشکش : ادارہ اہل سنت کراچی
📮ثواب کی نیت سے اس مستند رسالہ کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20210215_20210215_1053/mode/2up
📬علم کی خوشبو پھیلائیں دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid0GAzvE7im4oSqCAGVm6UsxZSZxz9uQUCRHS9dbKRY5dkzoXFUR12iRve8jnBXBfUsl/?mibextid=Nif5oz
📚 *مغربی استعمار نو اور اس کے اسلام مخالف حربے*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230131_20230131_0330
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
📚 *مغربی استعمار نو اور اس کے اسلام مخالف حربے*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230131_20230131_0330
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
مغربی_استعمار_نَو_اور_اس_کے_اسلام_مخالف_حربے.pdf
552.1 KB
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid0yAcWhdhGSaUaSMMLcUnXpEk2D7tMnax6nKYxe3rhv6fhZCg31Uaw7RZjYXihnJ93l/?mibextid=Nif5oz
📚 *"الإجازات المتينة لعلماء بكة والمدينة"*
(النشر الثاني رجب 1444ھ)
✍🏻 صاحب الإجازات: الإمام أحمد رضا خان رحمه الله تعالى
📝 جمعها: العلامة الشيخ حامد رضا خان رحمه الله تعالى
✒️ إضافة وتحقيق واعتناء: د. المفتي محمد أسلم رضا الميمني
📜 الناشر: دار أهل السنّة كراتشي
📮شاركونا في نشر هذا الكتاب
📥DOWNLOAD LINK - رابط تحميل مجاني
📁 https://archive.org/details/20230202_20230202_0717
📬 انشروا طيب العلم، وشاركوا مع الأصدقاء
📚 *"الإجازات المتينة لعلماء بكة والمدينة"*
(النشر الثاني رجب 1444ھ)
✍🏻 صاحب الإجازات: الإمام أحمد رضا خان رحمه الله تعالى
📝 جمعها: العلامة الشيخ حامد رضا خان رحمه الله تعالى
✒️ إضافة وتحقيق واعتناء: د. المفتي محمد أسلم رضا الميمني
📜 الناشر: دار أهل السنّة كراتشي
📮شاركونا في نشر هذا الكتاب
📥DOWNLOAD LINK - رابط تحميل مجاني
📁 https://archive.org/details/20230202_20230202_0717
📬 انشروا طيب العلم، وشاركوا مع الأصدقاء
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
الإجازت_المتينة_لعلماء_بكة_والمدينة.pdf
1.8 MB
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
علم کلام سے بے توجہی اور مذہب کی تباہی
(1)جس طرح اسلام کو پجاریوں,پادریوں اور پنڈتوں کی بہ نسبت اسلام کے نام لیوا مرتدین وضالین سے زیادہ خطرہ ہے۔لوگ ان کو صحیح العقیدہ مسلمان سمجھ کر ان کی باتوں کو مان لیتے ہیں۔
اسی طرح عہد حاضر میں اہل سنت وجماعت کو بعض سنی کہلانے والوں سے خطرہ ہے.عجیب وغریب اعتقادی نظریات ایجاد کئے جا رہے ہیں۔
امت مسلمہ کو فقہی احکام کی زیادہ ضرورت ہے٫لہذا پچاس فی صد فارغین مدارس علم فقہ میں مشغول رہیں۔باقی پچاس فی صد حدیث٫تفسیر ودیگر ضروری علوم سے وابستہ ہو جائیں۔کم از کم دس فی صد فارغین مدارس علم کلام میں محنت ومشقت کریں۔ہرگز سستی نہ کریں۔ورنہ برصغیر میں اہل سنت وجماعت کے درمیان غلط نظریات پھیل جانے کا قوی خطرہ موجود ہے۔
(2)یہ جگ ظاہر ہے کہ راقم الحروف کلامی موضوعات پر قلم کاری کرتا ہے۔بہت سے لوگوں کی تمنا ہوتی ہے کہ فلاں میدان میں میرا سکہ چلتا رہے۔اگر بہت سے لوگ اس میدان میں قدم رکھیں گے تو ممکن ہے کہ کوئی بازی لے جائے اور مجھ سے آگے بڑھ جائے اور میں منہ تکتا رہ جاؤں۔الغرض اندھوں میں کانا راجہ بننے کی خواہش رہتی ہے٫لیکن میں بار بار فارغین مدارس کو علم کلام کی جانب متوجہ کرتا ہوں٫تاکہ وہ صحیح و غلط میں فرق کرنے کے قابل ہوں اور امت مسلمہ کے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کر سکیں۔اگر مجھ سے لغزش ہو تو وہ میری دستگیری کے لائق ہوں۔
جہاں تک سکہ چلنے کی بات ہے تو جس دربار اعظم میں سکوں پر مہر لگائی جاتی ہے٫اسی دربار اقدس میں یہ غلام گداگری کرتا ہے۔
میرا سکہ چلے٫نہ چلے٫لیکن بفضل رب کریم وباحسان رسول عظیم علیہ الصلوۃ والتسلیم میرے کشکول میں ہمہ دم سکوں کی بارش جاری رہتی ہے۔فالحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی شفیع المذنبین وآلہ واصحابہ اجمعین
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:02:فروری 2023
علم کلام سے بے توجہی اور مذہب کی تباہی
(1)جس طرح اسلام کو پجاریوں,پادریوں اور پنڈتوں کی بہ نسبت اسلام کے نام لیوا مرتدین وضالین سے زیادہ خطرہ ہے۔لوگ ان کو صحیح العقیدہ مسلمان سمجھ کر ان کی باتوں کو مان لیتے ہیں۔
اسی طرح عہد حاضر میں اہل سنت وجماعت کو بعض سنی کہلانے والوں سے خطرہ ہے.عجیب وغریب اعتقادی نظریات ایجاد کئے جا رہے ہیں۔
امت مسلمہ کو فقہی احکام کی زیادہ ضرورت ہے٫لہذا پچاس فی صد فارغین مدارس علم فقہ میں مشغول رہیں۔باقی پچاس فی صد حدیث٫تفسیر ودیگر ضروری علوم سے وابستہ ہو جائیں۔کم از کم دس فی صد فارغین مدارس علم کلام میں محنت ومشقت کریں۔ہرگز سستی نہ کریں۔ورنہ برصغیر میں اہل سنت وجماعت کے درمیان غلط نظریات پھیل جانے کا قوی خطرہ موجود ہے۔
(2)یہ جگ ظاہر ہے کہ راقم الحروف کلامی موضوعات پر قلم کاری کرتا ہے۔بہت سے لوگوں کی تمنا ہوتی ہے کہ فلاں میدان میں میرا سکہ چلتا رہے۔اگر بہت سے لوگ اس میدان میں قدم رکھیں گے تو ممکن ہے کہ کوئی بازی لے جائے اور مجھ سے آگے بڑھ جائے اور میں منہ تکتا رہ جاؤں۔الغرض اندھوں میں کانا راجہ بننے کی خواہش رہتی ہے٫لیکن میں بار بار فارغین مدارس کو علم کلام کی جانب متوجہ کرتا ہوں٫تاکہ وہ صحیح و غلط میں فرق کرنے کے قابل ہوں اور امت مسلمہ کے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کر سکیں۔اگر مجھ سے لغزش ہو تو وہ میری دستگیری کے لائق ہوں۔
جہاں تک سکہ چلنے کی بات ہے تو جس دربار اعظم میں سکوں پر مہر لگائی جاتی ہے٫اسی دربار اقدس میں یہ غلام گداگری کرتا ہے۔
میرا سکہ چلے٫نہ چلے٫لیکن بفضل رب کریم وباحسان رسول عظیم علیہ الصلوۃ والتسلیم میرے کشکول میں ہمہ دم سکوں کی بارش جاری رہتی ہے۔فالحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی شفیع المذنبین وآلہ واصحابہ اجمعین
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:02:فروری 2023
الموت الاحمر اور الزامي جوابات.pdf
1.3 MB
الموت الاحمر اور الزامی جوابات
الموت الاحمر کی عبارتوں کی تشریحات
از: طارق انور مصباحی
صفحات:52
الموت الاحمر کی عبارتوں کی تشریحات
از: طارق انور مصباحی
صفحات:52
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
قلم کاروں کی زمرہ بندی کے فوائد
عصر حاضر میں فارغین مدارس کی کثیر تعداد لوح وقلم سے منسلک ہے۔قلم کاران مختلف حصوں میں تقسیم ہو جائیں٫تاکہ قوم وملت کو مختلف قسم کی تحقیقی معلومات میسر ہوں۔
جن حضرات کو دینیات سے دل چسپی ہو٫وہ دینی مضامین رقم فرمائیں۔جن کو عصری امور سے قلبی انسیت ہو٫وہ عصری مضامین لکھیں۔دینیات وعصریات میں بھی بہت سے ذیلی موضوعات ہیں۔ہر قلم کار اپنے ذوق کے مطابق ایک یا چند موضوع کو منتخب کر لیں۔آل راؤنڈر ہونا کمال ہے اور کسی ایک فن میں ماہر ومرجع بن جانا کمال در کمال ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:10:فروری 2023
قلم کاروں کی زمرہ بندی کے فوائد
عصر حاضر میں فارغین مدارس کی کثیر تعداد لوح وقلم سے منسلک ہے۔قلم کاران مختلف حصوں میں تقسیم ہو جائیں٫تاکہ قوم وملت کو مختلف قسم کی تحقیقی معلومات میسر ہوں۔
جن حضرات کو دینیات سے دل چسپی ہو٫وہ دینی مضامین رقم فرمائیں۔جن کو عصری امور سے قلبی انسیت ہو٫وہ عصری مضامین لکھیں۔دینیات وعصریات میں بھی بہت سے ذیلی موضوعات ہیں۔ہر قلم کار اپنے ذوق کے مطابق ایک یا چند موضوع کو منتخب کر لیں۔آل راؤنڈر ہونا کمال ہے اور کسی ایک فن میں ماہر ومرجع بن جانا کمال در کمال ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:10:فروری 2023
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
انتقام کی آگ کبھی سرد نہیں ہوتی
جیسے جیسے ہندو راشٹر کے نعرے بلند ہوتے جائیں گے٫ویسے ہی اس کے خلاف شور و غوغا بڑھتے جائے گا۔شور وغل بھارتی مسلمان نہیں٫بلکہ بھارت کی مول نواسی اقوام(شودر اور اچھوت قومیں) کریں گی٫کیوں کہ 1500قبل مسیح سے آج تک یعنی ساڑھے تین ہزار سال سے زائد عرصے سے مول نواسی قوموں پر وسط ایشیا سے آنے والی آرین اقوام(برہمن٫چھتری اور بنیا)سخت ظلم وستم ڈھاتی آ رہی ہیں۔
ہندو راشٹر کا نام سنتے ہی مول نواسی قوموں کو اپنے آبا واجداد پر ڈھائے گئے مظالم یاد آ جاتے ہیں اور ان کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔انتقام کی آگ کبھی ٹھندی نہیں ہوتی۔ظالموں پر آفت آ ہی جاتی ہے۔
ڈاکٹر امبیڈکر٫جیوتی با پھولے٫پیریار ودیگر مول نواسی لیڈروں نے تحریری شکل میں گائیڈ لائنس اپنی قوموں کو سپرد کر دیئے ہیں۔
کانشی رام نے اسی مشن کو آگے بڑھایا تھا٫گرچہ مایاوتی اس مشن کی تکمیل میں مکمل کامیاب نہ رہی٫لیکن اب بہوجن سماج میں بہت سے ہوشیار لیڈر جنم لے چکے ہیں۔گرچہ ابھی وہ بہت مضبوط نہیں٫لیکن حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:11: فروری 2023
انتقام کی آگ کبھی سرد نہیں ہوتی
جیسے جیسے ہندو راشٹر کے نعرے بلند ہوتے جائیں گے٫ویسے ہی اس کے خلاف شور و غوغا بڑھتے جائے گا۔شور وغل بھارتی مسلمان نہیں٫بلکہ بھارت کی مول نواسی اقوام(شودر اور اچھوت قومیں) کریں گی٫کیوں کہ 1500قبل مسیح سے آج تک یعنی ساڑھے تین ہزار سال سے زائد عرصے سے مول نواسی قوموں پر وسط ایشیا سے آنے والی آرین اقوام(برہمن٫چھتری اور بنیا)سخت ظلم وستم ڈھاتی آ رہی ہیں۔
ہندو راشٹر کا نام سنتے ہی مول نواسی قوموں کو اپنے آبا واجداد پر ڈھائے گئے مظالم یاد آ جاتے ہیں اور ان کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔انتقام کی آگ کبھی ٹھندی نہیں ہوتی۔ظالموں پر آفت آ ہی جاتی ہے۔
ڈاکٹر امبیڈکر٫جیوتی با پھولے٫پیریار ودیگر مول نواسی لیڈروں نے تحریری شکل میں گائیڈ لائنس اپنی قوموں کو سپرد کر دیئے ہیں۔
کانشی رام نے اسی مشن کو آگے بڑھایا تھا٫گرچہ مایاوتی اس مشن کی تکمیل میں مکمل کامیاب نہ رہی٫لیکن اب بہوجن سماج میں بہت سے ہوشیار لیڈر جنم لے چکے ہیں۔گرچہ ابھی وہ بہت مضبوط نہیں٫لیکن حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:11: فروری 2023
*28 افراد کی فہرست جنہوں نے ہندوستانی بینکوں سے پیسہ لوٹا*:-
1) وجے مالیا
2) میہول چوکسی
3) نیرو مودی
4) نشان مودی
5) پشپیش بیدیا
6) آشیش جوبن پترا
7) سنی کالرا
8) آرتی کالرا
9) سنجے کالرا
10) ورشا کالرا
11) سدھیر کالرا
12) جتن مہتا
13) امیش پاریکھ
14) کملیش پاریکھ
15) نیلیش پاریکھ
16) ونے متل
17) ایکلویہ گرگ
18) چیتن جینتی لال
19) نتن جینتی لال
20) دیپتی چیتن
21) ساویہ سیٹھ
22) راجیو گوئل
23) الکا گوئل
24) للت مودی
25) رتیش جین
26) ہتیش ناگیندر بھائی پٹیل
27) میوری بین پٹیل
28) آشیش سریش بھائی
لوٹی گئی کل رقم 10,000,000,000,000/- روپے ہے۔
(دس کھرب روپے ہے)
*کچھ خاص -*
ان میں سے کوئی بھی پاکستانی نہیں ہے۔
ان میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں
ان میں سے کوئی خالصتانی نہیں
ان میں سے کوئی سکھ نہیں، ان میں سے کوئی بھی جاٹ، کسان، مزدور، مزدور نہیں،
ان میں سے کوئی بھی نام نہاد شہری نکسل نہیں ہے،
ان میں سے کوئی بھی OBC/SC/ST سے نہیں ہے،
ان میں سے کوئی بھی ہریانہ پنجاب اتر پردیش راجستھان سے نہیں۔
*وجے مالیا کے علاوہ باقی سب گجرات کے ہیں!*
لوگوں کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے۔
*وہ پرائیویٹ کمپنیوں کے مالک تھے اور حکومت اسے سرکاری بینکوں کو دینا چاہتی ہے، پرائیویٹ کمپنیوں کے ہاتھ میں، سرکاری بینکوں میں پیسہ عام لوگوں کا ہے۔ سرکاری بینکوں کو بچائیں۔ ملک کو بچائیں۔ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ متعصبوں کی آنکھیں کھل جائیں کہ کس طرح ہندوتوا کے نام پر انہوں نے مقامی لوگوں کی محنت کی کمائی کو لوٹ کر باہر کے ممالک میں آباد کیا ہے۔ اٹھو بھائیو اور بہنو جاگو۔
نیویل جے کارانا
ہندوستان کا ایک اچھا شہری۔
1) وجے مالیا
2) میہول چوکسی
3) نیرو مودی
4) نشان مودی
5) پشپیش بیدیا
6) آشیش جوبن پترا
7) سنی کالرا
8) آرتی کالرا
9) سنجے کالرا
10) ورشا کالرا
11) سدھیر کالرا
12) جتن مہتا
13) امیش پاریکھ
14) کملیش پاریکھ
15) نیلیش پاریکھ
16) ونے متل
17) ایکلویہ گرگ
18) چیتن جینتی لال
19) نتن جینتی لال
20) دیپتی چیتن
21) ساویہ سیٹھ
22) راجیو گوئل
23) الکا گوئل
24) للت مودی
25) رتیش جین
26) ہتیش ناگیندر بھائی پٹیل
27) میوری بین پٹیل
28) آشیش سریش بھائی
لوٹی گئی کل رقم 10,000,000,000,000/- روپے ہے۔
(دس کھرب روپے ہے)
*کچھ خاص -*
ان میں سے کوئی بھی پاکستانی نہیں ہے۔
ان میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں
ان میں سے کوئی خالصتانی نہیں
ان میں سے کوئی سکھ نہیں، ان میں سے کوئی بھی جاٹ، کسان، مزدور، مزدور نہیں،
ان میں سے کوئی بھی نام نہاد شہری نکسل نہیں ہے،
ان میں سے کوئی بھی OBC/SC/ST سے نہیں ہے،
ان میں سے کوئی بھی ہریانہ پنجاب اتر پردیش راجستھان سے نہیں۔
*وجے مالیا کے علاوہ باقی سب گجرات کے ہیں!*
لوگوں کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے۔
*وہ پرائیویٹ کمپنیوں کے مالک تھے اور حکومت اسے سرکاری بینکوں کو دینا چاہتی ہے، پرائیویٹ کمپنیوں کے ہاتھ میں، سرکاری بینکوں میں پیسہ عام لوگوں کا ہے۔ سرکاری بینکوں کو بچائیں۔ ملک کو بچائیں۔ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ متعصبوں کی آنکھیں کھل جائیں کہ کس طرح ہندوتوا کے نام پر انہوں نے مقامی لوگوں کی محنت کی کمائی کو لوٹ کر باہر کے ممالک میں آباد کیا ہے۔ اٹھو بھائیو اور بہنو جاگو۔
نیویل جے کارانا
ہندوستان کا ایک اچھا شہری۔
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
مرجوح اقوال اور غلط فتاویٰ پر عمل جائز نہیں
مرجوح وشاذ اقوال پر عمل جائز نہیں،اسی طرح غلط فتاویٰ پر عمل جائز نہیں ہے۔
اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:”وہابیوں،بلکہ سب گمرہوں کی ہمیشہ یہی حالت رہی ہے کہ ڈوبتا سوار پکڑتا ہے۔جہاں کسی کا کوئی لفظ شاذ مہجور پکڑ لیا،خوش ہو گئے اور اس کے مقابل تصریحات قاہرہ سلف وخلف،بلکہ ارشادات صریحہ قرآن وحدیث کو بالائے طاق رکھ دیا،مگر اہل حق بحمد اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ شاہراہ ہدایت اتباع جمہور ہے۔ جس سے سہوا خطا ہوئی،اگرچہ معذور ہے،مگر اس کا وہ قول متروک ومہجور ہے“۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد29:ص173-172-جامعہ نظامیہ لاہور)
منقولہ بالا اقتباس میں بتایا گیا کہ گمراہ لوگ متروک ومہجور قول کو اختیار کر لیتے ہیں اور شور مچاتے پھرتے ہیں۔اس کے بالمقابل اقوال صحیحہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے٫حالاں کہ قول مرجوح پر عمل جائز نہیں۔
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خداکے یہاں مفتی فتویٰ دینے کا ذمہ دارہوگا، یاوہ بھی جو فتو یٰ پرعمل کرے؟بینوا توجروا
الجواب:اگروہ مفتی قابل فتویٰ نہیں، یا عامہ مسلمین ِشہر دربارۂ فتویٰ اس پراعتما د نہیں کرتے، یا فتویٰ ایسا غلط ہے جس کی صریح غلطی مستفتی پرظاہرہے،یاعالم معتمدومستندنے اس کے اغلاط ظاہرکردیئے،یافتویٰ واقعات پر نہیں ہے،اوراس میں مفتی نے اصل واقعہ چھپایا اورغلط رخ دکھایاتومفتی واس پرعمل کرنے والا دونوں ماخوذ وگرفتارہیں،ورنہ جب تک حق واضح نہ ہو،جاہل پروبال نہیں:واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد نہم: جز دوم:ص284 -رضااکیڈمی ممبئ)
جب معتمد ومستند عالم فتویٰ کے اغلاط ظاہر کردے تو مفتی کا اپنے فتویٰ پر قائم رہنا اور رجوع نہ کرنا اور کسی کا اس فتویٰ پر عمل کرناگناہ ہے۔جاہل نے غلطی ظاہر ہونے سے قبل عمل کیا تو گناہ نہیں۔فتویٰ کے غلط ہونے کا علم عوام کو ہوگیا تو اس پر عمل کے سبب وہ گنہگار ہیں۔
حضو ر مفتی اعظم کے فتویٰ کی تشریح
حضورمفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:”قوالی مع مزا میر ہمارے نزدیک ضرور حرام وناجائز وگناہ ہے اور سجدۂ تعظیمی بھی ایسا ہی۔ ان دونوں مسئلوں میں بعض صاحبوں نے اختلاف کیا ہے،اگر چہ وہ لائق التفات نہیں،مگر اس نے ان مبتلاؤں کو حکم فسق سے بچادیا ہے، جو ان مخالفین کے قول پر اعتماد کرتے اور جائز سمجھ کر مرتکب ہوتے ہیں، اگرچہ شرعاً ان پر اب دہرا الزام ہے۔ایک ارتکاب حرام کا، دوسرا اسے جائز سمجھنے،خلاف قول صحیح جمہور چلنے گا“۔(فتاویٰ مصطفویہ:ص 456)
جو مخالفین کے قول پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ امورمیں مبتلا ہیں،وہ اسی وقت تک معذور ہیں جب تک ان کواس قول کے غلط ہونے کا علم نہ ہو۔ جب ان کے لیے اس قول کا غلط ہونا واضح گیا،اس کے باوجودوہ اس پر عمل پیرا ہیں تو گنہ گار ہیں،جیسا کہ فتاویٰ رضویہ کے منقولہ بالافتویٰ میں مرقوم ہے۔قوالی مع مزامیر سے متعلق فتویٰ درج ذیل ہے۔
مسئلہ: ازسہرام برتلہ ضلع آرہ مسؤلہ قدرت اللہ ۵:شوال۹۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اعلم بالسنۃ عالم باعمل سماع بالمزا میر سنتاہے اور اس کی امامت جائز ہے اور اس کی امامت میں کراہت ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب: مزامیر حرام ہیں۔ ان کا سُننا عالم باعمل کا کام نہیں (کما بیناہ فی اجل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر)(جیسا کہ اسے میں نے ا جل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر میں بیان کیا ہے۔ت) اگر اعلانیہ اس کا مرتکب ہو،اسے امام نہ کریں،اور کراہت سے کسی حال خالی نہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاوی رضویہ:جلد ششم:ص596-جامعہ نظامیہ لاہور)
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:فروری 2023
مرجوح اقوال اور غلط فتاویٰ پر عمل جائز نہیں
مرجوح وشاذ اقوال پر عمل جائز نہیں،اسی طرح غلط فتاویٰ پر عمل جائز نہیں ہے۔
اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:”وہابیوں،بلکہ سب گمرہوں کی ہمیشہ یہی حالت رہی ہے کہ ڈوبتا سوار پکڑتا ہے۔جہاں کسی کا کوئی لفظ شاذ مہجور پکڑ لیا،خوش ہو گئے اور اس کے مقابل تصریحات قاہرہ سلف وخلف،بلکہ ارشادات صریحہ قرآن وحدیث کو بالائے طاق رکھ دیا،مگر اہل حق بحمد اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ شاہراہ ہدایت اتباع جمہور ہے۔ جس سے سہوا خطا ہوئی،اگرچہ معذور ہے،مگر اس کا وہ قول متروک ومہجور ہے“۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد29:ص173-172-جامعہ نظامیہ لاہور)
منقولہ بالا اقتباس میں بتایا گیا کہ گمراہ لوگ متروک ومہجور قول کو اختیار کر لیتے ہیں اور شور مچاتے پھرتے ہیں۔اس کے بالمقابل اقوال صحیحہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے٫حالاں کہ قول مرجوح پر عمل جائز نہیں۔
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خداکے یہاں مفتی فتویٰ دینے کا ذمہ دارہوگا، یاوہ بھی جو فتو یٰ پرعمل کرے؟بینوا توجروا
الجواب:اگروہ مفتی قابل فتویٰ نہیں، یا عامہ مسلمین ِشہر دربارۂ فتویٰ اس پراعتما د نہیں کرتے، یا فتویٰ ایسا غلط ہے جس کی صریح غلطی مستفتی پرظاہرہے،یاعالم معتمدومستندنے اس کے اغلاط ظاہرکردیئے،یافتویٰ واقعات پر نہیں ہے،اوراس میں مفتی نے اصل واقعہ چھپایا اورغلط رخ دکھایاتومفتی واس پرعمل کرنے والا دونوں ماخوذ وگرفتارہیں،ورنہ جب تک حق واضح نہ ہو،جاہل پروبال نہیں:واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد نہم: جز دوم:ص284 -رضااکیڈمی ممبئ)
جب معتمد ومستند عالم فتویٰ کے اغلاط ظاہر کردے تو مفتی کا اپنے فتویٰ پر قائم رہنا اور رجوع نہ کرنا اور کسی کا اس فتویٰ پر عمل کرناگناہ ہے۔جاہل نے غلطی ظاہر ہونے سے قبل عمل کیا تو گناہ نہیں۔فتویٰ کے غلط ہونے کا علم عوام کو ہوگیا تو اس پر عمل کے سبب وہ گنہگار ہیں۔
حضو ر مفتی اعظم کے فتویٰ کی تشریح
حضورمفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:”قوالی مع مزا میر ہمارے نزدیک ضرور حرام وناجائز وگناہ ہے اور سجدۂ تعظیمی بھی ایسا ہی۔ ان دونوں مسئلوں میں بعض صاحبوں نے اختلاف کیا ہے،اگر چہ وہ لائق التفات نہیں،مگر اس نے ان مبتلاؤں کو حکم فسق سے بچادیا ہے، جو ان مخالفین کے قول پر اعتماد کرتے اور جائز سمجھ کر مرتکب ہوتے ہیں، اگرچہ شرعاً ان پر اب دہرا الزام ہے۔ایک ارتکاب حرام کا، دوسرا اسے جائز سمجھنے،خلاف قول صحیح جمہور چلنے گا“۔(فتاویٰ مصطفویہ:ص 456)
جو مخالفین کے قول پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ امورمیں مبتلا ہیں،وہ اسی وقت تک معذور ہیں جب تک ان کواس قول کے غلط ہونے کا علم نہ ہو۔ جب ان کے لیے اس قول کا غلط ہونا واضح گیا،اس کے باوجودوہ اس پر عمل پیرا ہیں تو گنہ گار ہیں،جیسا کہ فتاویٰ رضویہ کے منقولہ بالافتویٰ میں مرقوم ہے۔قوالی مع مزامیر سے متعلق فتویٰ درج ذیل ہے۔
مسئلہ: ازسہرام برتلہ ضلع آرہ مسؤلہ قدرت اللہ ۵:شوال۹۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اعلم بالسنۃ عالم باعمل سماع بالمزا میر سنتاہے اور اس کی امامت جائز ہے اور اس کی امامت میں کراہت ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب: مزامیر حرام ہیں۔ ان کا سُننا عالم باعمل کا کام نہیں (کما بیناہ فی اجل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر)(جیسا کہ اسے میں نے ا جل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر میں بیان کیا ہے۔ت) اگر اعلانیہ اس کا مرتکب ہو،اسے امام نہ کریں،اور کراہت سے کسی حال خالی نہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم۔
(فتاوی رضویہ:جلد ششم:ص596-جامعہ نظامیہ لاہور)
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:فروری 2023
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid0iUnJf4GzGarCxE1vRG4f9JZ8LM1si9cxKcCqtDtx9Yded3pNhbXcJsWL9WHE4Gkel/?mibextid=Nif5oz
📚 *معراج مصطفی ﷺ*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230215_20230215_1222
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
📚 *معراج مصطفی ﷺ*
📮ثواب کی نیت سے اس مستند بیان کو شیئر کریں
📥DOWNLOAD LINK - فری ڈاؤنلوڈ لنک
📥https://archive.org/details/20230215_20230215_1222
علم کی خوشبو پھیلائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
( ادارہ اہل سنت کراچی)
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
معراج مصطفی.pdf
507.4 KB
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
اسلام بھارت اور دنیا کا سب سے قدیم مذہب
دہلی اجلاس کے ایک بیان سے اہل تعصب ہنود کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگا ہے۔وہ ویدک دھرم کو قدیم دھرم(سناتن دھرم)بتا کر مسلمانوں کی گھر واپسی کے لیے پر تول رہے تھے۔2024 میں بی جے پی کی فتحیابی کا جھوٹا خواب اپنے دلوں میں سجائے ہوئے ہندو راشٹر کے اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔
ان خیالوں میں مست ارباب تعصب اسلام کے قدیم دھرم ہونے کی بات سن کر چونک پڑے۔ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی ہے۔
بلا شبہہ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔وہ پہلے پیغمبر اور مسلمان ہیں۔ان سے ہی نسل انسانی کا آغاز ہوا۔وہ جنت سے کوہ سراندیپ شری لنکا میں اتارے گئے۔شری لنکا پہلے بھارت کا ایک حصہ تھا۔
کیرلا میں ایک پہاڑی پر حضرت آدم علیہ السلام کا نشان قدم بتایا جاتا ہے۔میں نے بھی اس کی زیارت کی ہے۔اس سے یہ ثبوت بھی فراہم ہوتا ہے کہ موجودہ بھارت میں بھی حضرت آدم علیہ السلام تشریف لائے تھے
ویدک دھرم میں افسانوی کرداروں کا ذکر ہے٫لہذا اوم اور منو سے کیا مراد ہے۔اس سے مسلمانوں کو کچھ لینا دینا نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:فروری 2023
اسلام بھارت اور دنیا کا سب سے قدیم مذہب
دہلی اجلاس کے ایک بیان سے اہل تعصب ہنود کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگا ہے۔وہ ویدک دھرم کو قدیم دھرم(سناتن دھرم)بتا کر مسلمانوں کی گھر واپسی کے لیے پر تول رہے تھے۔2024 میں بی جے پی کی فتحیابی کا جھوٹا خواب اپنے دلوں میں سجائے ہوئے ہندو راشٹر کے اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔
ان خیالوں میں مست ارباب تعصب اسلام کے قدیم دھرم ہونے کی بات سن کر چونک پڑے۔ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی ہے۔
بلا شبہہ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔وہ پہلے پیغمبر اور مسلمان ہیں۔ان سے ہی نسل انسانی کا آغاز ہوا۔وہ جنت سے کوہ سراندیپ شری لنکا میں اتارے گئے۔شری لنکا پہلے بھارت کا ایک حصہ تھا۔
کیرلا میں ایک پہاڑی پر حضرت آدم علیہ السلام کا نشان قدم بتایا جاتا ہے۔میں نے بھی اس کی زیارت کی ہے۔اس سے یہ ثبوت بھی فراہم ہوتا ہے کہ موجودہ بھارت میں بھی حضرت آدم علیہ السلام تشریف لائے تھے
ویدک دھرم میں افسانوی کرداروں کا ذکر ہے٫لہذا اوم اور منو سے کیا مراد ہے۔اس سے مسلمانوں کو کچھ لینا دینا نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:فروری 2023
مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما
حکومت کی حمایت وپشت پناہی
اور ناقابل برداشت ناکامی ونامرادی
بھارت کے مشہور تاجر اڈانی گجراتی کی حمایت میں مرکزی حکومت تھی اور آج بھی ہے۔ انڈیا کے مین اسٹریم میڈیا کا حال خواص و عوام کو معلوم ہے کہ وہ حکومت کو خوش کرنے کے واسطے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
نہ حکومت نے اڈانی پر کوئی دباؤ ڈالا٫نہ ہی میڈیا نے کبھی کوئی مخالفانہ بیان دیا٫پھر بھی اڈانی کو ایسا زوال آیا کہ اسے تاریخی عجوبہ کہا جا سکتا ہے۔ایک غیر ملکی رپورٹ نے اس کو تباہ وبرباد کر دیا۔
جو لوگ بی جے پی کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ووٹنگ مشین(ای وی ایم)میں ہی وہ لوگ تخریب کاری کردیتے ہیں تو بی جے پی ہار کیسے سکتی ہے۔
اڈانی کے حادثہ سے واضح ہو گیا کہ جو مقدر میں ہے٫وہ ہو کر رہے گا۔اللہ تعالی کے فیصلے کو کون روک سکتا ہے۔جب حکم الٰہی ہو گا تو فرقہ پرست قوتیں بھی نیست ونابود ہو جائیں گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:فروری 2023
حکومت کی حمایت وپشت پناہی
اور ناقابل برداشت ناکامی ونامرادی
بھارت کے مشہور تاجر اڈانی گجراتی کی حمایت میں مرکزی حکومت تھی اور آج بھی ہے۔ انڈیا کے مین اسٹریم میڈیا کا حال خواص و عوام کو معلوم ہے کہ وہ حکومت کو خوش کرنے کے واسطے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
نہ حکومت نے اڈانی پر کوئی دباؤ ڈالا٫نہ ہی میڈیا نے کبھی کوئی مخالفانہ بیان دیا٫پھر بھی اڈانی کو ایسا زوال آیا کہ اسے تاریخی عجوبہ کہا جا سکتا ہے۔ایک غیر ملکی رپورٹ نے اس کو تباہ وبرباد کر دیا۔
جو لوگ بی جے پی کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ووٹنگ مشین(ای وی ایم)میں ہی وہ لوگ تخریب کاری کردیتے ہیں تو بی جے پی ہار کیسے سکتی ہے۔
اڈانی کے حادثہ سے واضح ہو گیا کہ جو مقدر میں ہے٫وہ ہو کر رہے گا۔اللہ تعالی کے فیصلے کو کون روک سکتا ہے۔جب حکم الٰہی ہو گا تو فرقہ پرست قوتیں بھی نیست ونابود ہو جائیں گی۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:فروری 2023
مبسملا وحامدا:: ومصلیا ومسلما
کیا بھارت ہندو راشٹر بن چکا ہے؟
برہمن راشٹر کو ہندو راشٹر کا نام دیا گیا ہے٫تاکہ بھارت کا بیک ورڈ کلاس٫دلت اور آدی واسی بھی اس پلاننگ میں شریک ہو جائے۔
ہندو راشٹر کا معنی یہ ہے کہ موجودہ دستور ہند کے قوانین آرین اقوام (برہمن٫چھتری اور بنیا)کے علاوہ ساری قوموں کے خلاف نافذ العمل ہوں گے اور آرین اقوام خواہ قتل وغارت گری اور جبرا عصمت دری ہی کیوں نہ کریں٫ان کو سزاؤں سے مستثنی رکھا جائے گا۔
غیر آرین اقوام کے خلاف یہ قوانین کام بھی کریں گے اور زبردستی ان کو قانونی کاروائی میں پھنسایا بھی جائے گا۔اسی مقصد کی تکمیل کے لئے کورٹ میں برہمن ججوں کی تقرری کی جا رہی ہے٫حالاں کہ انگریزوں کے عہد میں برہمنوں کو جج کا عہدہ نہیں دیا جاتا تھا٫کیوں کہ ان کی فطرت میں نسلی عصبیت وافر مقدار میں پائی جاتی تھی۔
ہندو راشٹر کے اسی مفہوم کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ بھارت ہندو راشٹر تھا اور ہندو راشٹر ہے۔
عہد حاضر میں جن ریاستوں میں بھاجپا کی حکومت ہے٫وہاں یہی طریق کار نافذ ہے کہ غیر آرین اقوام کے خلاف قانون بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور ان کو زبردستی قانونی کاروائی میں پھنسا دیا جاتا ہے٫پھر ایک مدت بعد ان کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔بہت سے بے قصوروں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں گزر جاتا ہے۔
بھارت پر انگلینڈ کی حکمرانی تھی۔انگلینڈ کے اصحاب سیاست و حکومت برہمنوں کی فطرت سے اچھی طرح واقف وآشنا تھے۔جب جنگ عظیم دوم(1939-1945) کے موقع پر 06:اگست 1946 کو امریکہ نے جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر سخت بمباری کی۔اس میں کئی لاکھ لوگ ہلاک ہو گئے۔اس موقع پر انگلینڈ کے سابق وزیر اعظم چرچیل نے کہا تھا کہ جاپان کو تباہ کرنے کے واسطے بمباری کی ضرورت نہیں تھی۔اگر انڈیا سے چار برہمن کو جاپان لے جا کر چھوڑ دیا جاتا تو وہ پورے جاپان کا ستیاناس اور تباہ وبرباد کر دیتے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:فروری 2023
کیا بھارت ہندو راشٹر بن چکا ہے؟
برہمن راشٹر کو ہندو راشٹر کا نام دیا گیا ہے٫تاکہ بھارت کا بیک ورڈ کلاس٫دلت اور آدی واسی بھی اس پلاننگ میں شریک ہو جائے۔
ہندو راشٹر کا معنی یہ ہے کہ موجودہ دستور ہند کے قوانین آرین اقوام (برہمن٫چھتری اور بنیا)کے علاوہ ساری قوموں کے خلاف نافذ العمل ہوں گے اور آرین اقوام خواہ قتل وغارت گری اور جبرا عصمت دری ہی کیوں نہ کریں٫ان کو سزاؤں سے مستثنی رکھا جائے گا۔
غیر آرین اقوام کے خلاف یہ قوانین کام بھی کریں گے اور زبردستی ان کو قانونی کاروائی میں پھنسایا بھی جائے گا۔اسی مقصد کی تکمیل کے لئے کورٹ میں برہمن ججوں کی تقرری کی جا رہی ہے٫حالاں کہ انگریزوں کے عہد میں برہمنوں کو جج کا عہدہ نہیں دیا جاتا تھا٫کیوں کہ ان کی فطرت میں نسلی عصبیت وافر مقدار میں پائی جاتی تھی۔
ہندو راشٹر کے اسی مفہوم کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ بھارت ہندو راشٹر تھا اور ہندو راشٹر ہے۔
عہد حاضر میں جن ریاستوں میں بھاجپا کی حکومت ہے٫وہاں یہی طریق کار نافذ ہے کہ غیر آرین اقوام کے خلاف قانون بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور ان کو زبردستی قانونی کاروائی میں پھنسا دیا جاتا ہے٫پھر ایک مدت بعد ان کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔بہت سے بے قصوروں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں میں گزر جاتا ہے۔
بھارت پر انگلینڈ کی حکمرانی تھی۔انگلینڈ کے اصحاب سیاست و حکومت برہمنوں کی فطرت سے اچھی طرح واقف وآشنا تھے۔جب جنگ عظیم دوم(1939-1945) کے موقع پر 06:اگست 1946 کو امریکہ نے جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر سخت بمباری کی۔اس میں کئی لاکھ لوگ ہلاک ہو گئے۔اس موقع پر انگلینڈ کے سابق وزیر اعظم چرچیل نے کہا تھا کہ جاپان کو تباہ کرنے کے واسطے بمباری کی ضرورت نہیں تھی۔اگر انڈیا سے چار برہمن کو جاپان لے جا کر چھوڑ دیا جاتا تو وہ پورے جاپان کا ستیاناس اور تباہ وبرباد کر دیتے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:فروری 2023