Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
حرمین شریفین کے فضائل.pdf
602.5 KB
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
سیاسی بصیرت اور دفع الزامات کی ضرورت
جمہوری ممالک میں جو قوم سیاست وحکومت سے دور رہتی ہے,وہ رفتہ رفتہ زوال پذیر ہوتی جاتی ہے۔آزادی کے بعد بھارتی مسلمانوں کی خستہ حالی کا اہم سبب سیاست وحکومت سے دوری ہے۔
حالیہ چند سالوں سے ملک کے حالات جس تیزی سے بدلتے جا رہے ہیں,وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ملک کے موجودہ حالات کا جبری تقاضا ہے کہ قوم مسلم کے مذہبی قائدین بھی سیاست میں دل چسپی لیں اور قوم مسلم کی صالح سیاسی رہنمائی فرمائیں۔
سیاسی شعور بیدار کرنے کے واسطے کسی پارٹی سے منسلک ہونا ضروری نہیں۔حضرت صدر الافاضل قدس سرہ العزیز نے مسلمانان برصغیر کی سیاسی رہنمائی کے واسطے 1925میں آل انڈیا سنی کانفرنس قائم فرمائی۔علمائے اہل سنت وجماعت"آل انڈیا سنی کانفرنس"کے پلیٹ فارم سے ملک کی آزادی یعنی 1947 تک مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی فرماتے رہے۔مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کے واسطے یہ ایک مستقل تحریک تھی۔کسی سیاسی پارٹی سے اس کانفرنس کا انسلاک والحاق نہیں تھا۔
عصر حاضر میں قوم کی سیاسی رہنمائی کے واسطے کوئی تنظیم موجود نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی خاص ضرورت ہے۔سیاسی امور سے دل چسپی رکھنے والے اصحاب علم وفضل انفرادی طور پر قوم کو صحیح راہ دکھاتے رہیں۔سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم بہت وسیع ہے۔اس کے ذریعہ قوم مسلم کے اندر سیاسی شعور بھی بیدار کیا جا سکتا ہے اور مسلمانوں کو صحیح مشورے بھی تفویض کئے جا سکتے ہیں۔
بھارت کی گودی میڈیا نے اسلام ومسلمین کو بدنام کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔اس کی غلط بیانیوں کو اجاگر کرتے رہیں,تاکہ ذلیل ورسوا ہو کر وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائے۔
ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں تو بہت کچھ ہم دیکھ چکے اور جو کچھ باقی ہے,عنقریب وہ سب بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ہم انتہائی شاطر دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔ایسے خطرناک دشمن جب محبت ظاہر کریں تو اس پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔قصاب اپنے ہاتھوں میں گھاس لے کر بھاگ کھڑے ہونے والے جانور کے پاس جاتا ہے,اسے چمکارتا ہے,جب وہ جانور قریب آتا ہے تو اسے پکڑ کر انجام تک پہنچا دیتا ہے:فاعتبروا یا اولی الابصار
فارغین مدارس کی نسل جدید میں بہت سی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔آج سے پانچ چھ سال قبل تک فارغین مدارس عام طور پر مذہبی موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے تھے۔بفضلہ تعالی اب غیر مذہبی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں اور بہت سے عمدہ مضامین نظر نواز ہوتے ہیں۔اسلام کی حفاظت اور مسلمانوں کی بھلائی کی نیت سے جو جائز کام کیا جائے,وہ قابل تحسین اور امر محمود ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:14:جولائی 2022
سیاسی بصیرت اور دفع الزامات کی ضرورت
جمہوری ممالک میں جو قوم سیاست وحکومت سے دور رہتی ہے,وہ رفتہ رفتہ زوال پذیر ہوتی جاتی ہے۔آزادی کے بعد بھارتی مسلمانوں کی خستہ حالی کا اہم سبب سیاست وحکومت سے دوری ہے۔
حالیہ چند سالوں سے ملک کے حالات جس تیزی سے بدلتے جا رہے ہیں,وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ملک کے موجودہ حالات کا جبری تقاضا ہے کہ قوم مسلم کے مذہبی قائدین بھی سیاست میں دل چسپی لیں اور قوم مسلم کی صالح سیاسی رہنمائی فرمائیں۔
سیاسی شعور بیدار کرنے کے واسطے کسی پارٹی سے منسلک ہونا ضروری نہیں۔حضرت صدر الافاضل قدس سرہ العزیز نے مسلمانان برصغیر کی سیاسی رہنمائی کے واسطے 1925میں آل انڈیا سنی کانفرنس قائم فرمائی۔علمائے اہل سنت وجماعت"آل انڈیا سنی کانفرنس"کے پلیٹ فارم سے ملک کی آزادی یعنی 1947 تک مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی فرماتے رہے۔مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کے واسطے یہ ایک مستقل تحریک تھی۔کسی سیاسی پارٹی سے اس کانفرنس کا انسلاک والحاق نہیں تھا۔
عصر حاضر میں قوم کی سیاسی رہنمائی کے واسطے کوئی تنظیم موجود نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی خاص ضرورت ہے۔سیاسی امور سے دل چسپی رکھنے والے اصحاب علم وفضل انفرادی طور پر قوم کو صحیح راہ دکھاتے رہیں۔سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم بہت وسیع ہے۔اس کے ذریعہ قوم مسلم کے اندر سیاسی شعور بھی بیدار کیا جا سکتا ہے اور مسلمانوں کو صحیح مشورے بھی تفویض کئے جا سکتے ہیں۔
بھارت کی گودی میڈیا نے اسلام ومسلمین کو بدنام کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔اس کی غلط بیانیوں کو اجاگر کرتے رہیں,تاکہ ذلیل ورسوا ہو کر وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائے۔
ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں تو بہت کچھ ہم دیکھ چکے اور جو کچھ باقی ہے,عنقریب وہ سب بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ہم انتہائی شاطر دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔ایسے خطرناک دشمن جب محبت ظاہر کریں تو اس پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔قصاب اپنے ہاتھوں میں گھاس لے کر بھاگ کھڑے ہونے والے جانور کے پاس جاتا ہے,اسے چمکارتا ہے,جب وہ جانور قریب آتا ہے تو اسے پکڑ کر انجام تک پہنچا دیتا ہے:فاعتبروا یا اولی الابصار
فارغین مدارس کی نسل جدید میں بہت سی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔آج سے پانچ چھ سال قبل تک فارغین مدارس عام طور پر مذہبی موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے تھے۔بفضلہ تعالی اب غیر مذہبی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں اور بہت سے عمدہ مضامین نظر نواز ہوتے ہیں۔اسلام کی حفاظت اور مسلمانوں کی بھلائی کی نیت سے جو جائز کام کیا جائے,وہ قابل تحسین اور امر محمود ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:14:جولائی 2022
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
وہابی کا ذبیحہ حرام ہے یا نہیں؟
ایک مشہور عالم کی طرف منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت لگا رہا ہے۔ایسے ویڈیوز کی نسبت کی صداقت جب تک واضح نہ ہو,تب تک منسوب الیہ کا نام لینا بھی مناسب نہیں۔
ویڈیو کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سائل نے سوال کیا کہ وہابی کا ذبیحہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب دیا گیا کہ صرف کافر کا ذبیحہ حرام ہے۔گمراہ کا ذبیحہ حرام نہیں۔چوں کہ وہابیہ میں سے چار شخص اور ایک قادیانی یعنی کل پانچ لوگوں پر حکم کفر ہے,لہذا ان کا ذبیحہ حرام ہو گا۔باقی جس وہابی کے کفر کا ہمیں علم نہیں,ہم اس کو گمراہ مانیں گے اور اس کا ذبیحہ جائز ہو گا۔
واضح رہے کہ برصغیر میں فرقہ وہابیہ کے دو گروہ ہیں۔مقلد وہابیہ کو دیوبندی کہا جاتا ہے اور غیر مقلد وہابیہ کو سلفی اور اہل حدیث کہا جاتا ہے۔
جس جماعت کے بنیادی عقائد میں کفر پایا جاتا ہو,اس جماعت کا جماعتی حکم وہی ہو گا جو کافر جماعتوں کا جماعتی حکم ہوتا ہے۔
جماعتی حکم اس جماعت کے تمام افراد پر نافذ ہوتا ہے۔دیوبندی ایک مرتد جماعت کا نام ہے,پس فرقہ دیوبندیہ کا جماعتی حکم وہی ہو گا جو مرتد جماعتوں کا حکم ہے۔
جماعتی حکم اس جماعت کے تمام افراد پر نافذ ہوتا ہے۔ہاں,جس کا شخصی عقیدہ ہمیں معلوم ہو,اس پر شخصی حکم نافذ ہو گا۔
مثلا جس خاص دیوبندی کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کافر نہیں ہے,مثلا زید ایسادیوبندی ہے کہ وہ اشخاص اربعہ کو کافر مانتا ہے,ان لوگوں کے بیان کردہ کفری عقائد کو نہیں مانتا ہے اور جو اشخاص اربعہ کو مومن مانے,اس کو بھی وہ کافر مانتا ہے,لیکن دیابنہ کی پیروی میں معمولات اہل سنت کو بدعت کہتا ہے تو زید کا حکم جدا گانہ ہو گا۔فرقہ دیوبندیہ کا جماعتی حکم زید پر نافذ نہیں ہو گا,بلکہ اس پر شخصی حکم نافذ ہو گا۔نماز میں زید کی اقتدا,اس کی نماز جنازہ,اس کے لئے دعائے مغفرت,اس سے نکاح,اور اس کے ذبیحہ کا وہی حکم ہو گاجو گمراہ کا حکم ہے۔ایسے افراد جماعتی حکم سے مستثنی ہوں گے۔
اب جس کے بارے میں ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہ دیوبندی ہے,لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ حد کفر تک پہنچا یا نہیں,اس پر جماعتی حکم نافذ ہو گا,گرچہ شخصی طور پر وہ کافر ومرتد نہ ہو,لیکن مرتد جماعت کا فرد ہونا ثابت ہے اور اس کا عدم کفر معلوم نہیں۔
اسلاف کرام سے یہی طریقہ منقول ہے کہ مرتد فرقوں کے افراد پر جماعتی حکم نافذ کیا جاتا ہے۔اسی طرح گمراہ جماعتوں کے افراد پر بھی جماعتی حکم نافذ کیا جاتا ہے۔حالاں کہ یہ ممکن ہے کہ گمراہ جماعت کے بعض افراد مرتد ہوں,اور مرتد جماعت کے بعض افراد محض گمراہ ہوں,کافر نہ ہوں۔شخصی حکم اسی وقت بیان کیا جائے گا جب کسی شخص کے خاص حالات کا علم ہو۔
ذبیحہ سے متعلق وہابیہ اور دیابنہ کا جماعتی حکم جدا گانہ ہے۔دیابنہ کے بنیادی عقائد میں کفریات کلامیہ ہیں,لہذا فرقہ دیوبندیہ پر کفر کلامی کا حکم ہے۔فرقہ دیوبندیہ کے جماعتی احکام وہی ہیں جو مرتد جماعتوں کے احکام ہیں۔
فرقہ وہابیہ کے بنیادی عقائد میں کفریات کلامیہ نہیں,بلکہ کفریات فقہیہ ہیں۔فرقہ وہابیہ کے جماعتی احکام وہی ہیں جو کافر فقہی جماعتوں کے احکام ہیں۔
فتاوی رضویہ سے دونوں جماعتوں کے ذبیحہ کا حکم مندرجہ ذیل ہے۔
(1)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کا خسر دیوبندی ہے وہ اپنی قیمت سے گوشت خرید کر بھیجتاہے۔لانے والا بھی دیوبندی ہے تو یہ گوشت حلال ہے یانہیں؟ نیز دیوبندی کی قربانی کا گوشت کیساہے؟ بینوا توجروا
الجواب: دیوبندی کا ذبیحہ مردار ہے۔ اور دیوبندی کا بھیجا ہوا گوشت اگرچہ مسلمان کا لایا ہوا ہو مردار ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ:جلد بستم)
سوال میں صرف یہ بتایا گیا کہ گوشت بھیجنے والا اور گوشت لانے والا دیوبندی ہے۔اس میں یہ وضاحت نہیں کہ وہ کس درجے کا دیوبندی ہے,یعنی حد کفر تک پہنچا ہوا ہے یا محض گمراہ ہے۔چوں کہ یہ تفصیل معلوم نہیں,پس فرقہ دیوبندیہ کا حکم بیان کر دیا گیا۔جماعتی حکم سے مستثنی صرف وہ لوگ ہوں گے جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہو کہ وہ مرتد نہیں۔
(2)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص فرقہ غیر مقلدین یا فرقہ قادیانی یا وہابیہ سے ہو اس کے ہاتھ کا ذبیحہ واسطے اہل سنت وجماعت کے کھانا جائز ہوگا یا نہیں؟
الجواب: قادیانی صریح مرتد ہیں۔ ان کا ذبیحہ قطعی مردار ہے۔ اور غیر مقلدین وہابیہ پر بوجوہ کثیرہ الزام کفر ہے۔ ان میں جو منکر ضروریات دین ہیں وہ تو بالاجماع کافرہی ہیں، ورنہ فقہائے کرام ان پر حکم کفرفرماتے ہیں اور ذبیحہ کا حلال ہونا نہ ہونا حکم فقہی ہے خصوصا وہی احتیاط کہ مانع تکفیر ہو، یہاں ان کے ذبیحہ کے کھانے سے منع کرتی ہے کہ جمہور فقہاء کرام کے طورپر حرام ومردار کا کھانا ہوگا، لہذا احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم(فتاوی رضویہ۔جلد بستم)
منقولہ بالا فتوی میں بھی فرقہ قادیانیہ اور فرقہ وہابیہ کے ذبیحہ کا جماعتی حکم بیان کیا گیا ہے۔
وہابی کا ذبیحہ حرام ہے یا نہیں؟
ایک مشہور عالم کی طرف منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت لگا رہا ہے۔ایسے ویڈیوز کی نسبت کی صداقت جب تک واضح نہ ہو,تب تک منسوب الیہ کا نام لینا بھی مناسب نہیں۔
ویڈیو کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سائل نے سوال کیا کہ وہابی کا ذبیحہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب دیا گیا کہ صرف کافر کا ذبیحہ حرام ہے۔گمراہ کا ذبیحہ حرام نہیں۔چوں کہ وہابیہ میں سے چار شخص اور ایک قادیانی یعنی کل پانچ لوگوں پر حکم کفر ہے,لہذا ان کا ذبیحہ حرام ہو گا۔باقی جس وہابی کے کفر کا ہمیں علم نہیں,ہم اس کو گمراہ مانیں گے اور اس کا ذبیحہ جائز ہو گا۔
واضح رہے کہ برصغیر میں فرقہ وہابیہ کے دو گروہ ہیں۔مقلد وہابیہ کو دیوبندی کہا جاتا ہے اور غیر مقلد وہابیہ کو سلفی اور اہل حدیث کہا جاتا ہے۔
جس جماعت کے بنیادی عقائد میں کفر پایا جاتا ہو,اس جماعت کا جماعتی حکم وہی ہو گا جو کافر جماعتوں کا جماعتی حکم ہوتا ہے۔
جماعتی حکم اس جماعت کے تمام افراد پر نافذ ہوتا ہے۔دیوبندی ایک مرتد جماعت کا نام ہے,پس فرقہ دیوبندیہ کا جماعتی حکم وہی ہو گا جو مرتد جماعتوں کا حکم ہے۔
جماعتی حکم اس جماعت کے تمام افراد پر نافذ ہوتا ہے۔ہاں,جس کا شخصی عقیدہ ہمیں معلوم ہو,اس پر شخصی حکم نافذ ہو گا۔
مثلا جس خاص دیوبندی کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کافر نہیں ہے,مثلا زید ایسادیوبندی ہے کہ وہ اشخاص اربعہ کو کافر مانتا ہے,ان لوگوں کے بیان کردہ کفری عقائد کو نہیں مانتا ہے اور جو اشخاص اربعہ کو مومن مانے,اس کو بھی وہ کافر مانتا ہے,لیکن دیابنہ کی پیروی میں معمولات اہل سنت کو بدعت کہتا ہے تو زید کا حکم جدا گانہ ہو گا۔فرقہ دیوبندیہ کا جماعتی حکم زید پر نافذ نہیں ہو گا,بلکہ اس پر شخصی حکم نافذ ہو گا۔نماز میں زید کی اقتدا,اس کی نماز جنازہ,اس کے لئے دعائے مغفرت,اس سے نکاح,اور اس کے ذبیحہ کا وہی حکم ہو گاجو گمراہ کا حکم ہے۔ایسے افراد جماعتی حکم سے مستثنی ہوں گے۔
اب جس کے بارے میں ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہ دیوبندی ہے,لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ حد کفر تک پہنچا یا نہیں,اس پر جماعتی حکم نافذ ہو گا,گرچہ شخصی طور پر وہ کافر ومرتد نہ ہو,لیکن مرتد جماعت کا فرد ہونا ثابت ہے اور اس کا عدم کفر معلوم نہیں۔
اسلاف کرام سے یہی طریقہ منقول ہے کہ مرتد فرقوں کے افراد پر جماعتی حکم نافذ کیا جاتا ہے۔اسی طرح گمراہ جماعتوں کے افراد پر بھی جماعتی حکم نافذ کیا جاتا ہے۔حالاں کہ یہ ممکن ہے کہ گمراہ جماعت کے بعض افراد مرتد ہوں,اور مرتد جماعت کے بعض افراد محض گمراہ ہوں,کافر نہ ہوں۔شخصی حکم اسی وقت بیان کیا جائے گا جب کسی شخص کے خاص حالات کا علم ہو۔
ذبیحہ سے متعلق وہابیہ اور دیابنہ کا جماعتی حکم جدا گانہ ہے۔دیابنہ کے بنیادی عقائد میں کفریات کلامیہ ہیں,لہذا فرقہ دیوبندیہ پر کفر کلامی کا حکم ہے۔فرقہ دیوبندیہ کے جماعتی احکام وہی ہیں جو مرتد جماعتوں کے احکام ہیں۔
فرقہ وہابیہ کے بنیادی عقائد میں کفریات کلامیہ نہیں,بلکہ کفریات فقہیہ ہیں۔فرقہ وہابیہ کے جماعتی احکام وہی ہیں جو کافر فقہی جماعتوں کے احکام ہیں۔
فتاوی رضویہ سے دونوں جماعتوں کے ذبیحہ کا حکم مندرجہ ذیل ہے۔
(1)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کا خسر دیوبندی ہے وہ اپنی قیمت سے گوشت خرید کر بھیجتاہے۔لانے والا بھی دیوبندی ہے تو یہ گوشت حلال ہے یانہیں؟ نیز دیوبندی کی قربانی کا گوشت کیساہے؟ بینوا توجروا
الجواب: دیوبندی کا ذبیحہ مردار ہے۔ اور دیوبندی کا بھیجا ہوا گوشت اگرچہ مسلمان کا لایا ہوا ہو مردار ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ:جلد بستم)
سوال میں صرف یہ بتایا گیا کہ گوشت بھیجنے والا اور گوشت لانے والا دیوبندی ہے۔اس میں یہ وضاحت نہیں کہ وہ کس درجے کا دیوبندی ہے,یعنی حد کفر تک پہنچا ہوا ہے یا محض گمراہ ہے۔چوں کہ یہ تفصیل معلوم نہیں,پس فرقہ دیوبندیہ کا حکم بیان کر دیا گیا۔جماعتی حکم سے مستثنی صرف وہ لوگ ہوں گے جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہو کہ وہ مرتد نہیں۔
(2)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص فرقہ غیر مقلدین یا فرقہ قادیانی یا وہابیہ سے ہو اس کے ہاتھ کا ذبیحہ واسطے اہل سنت وجماعت کے کھانا جائز ہوگا یا نہیں؟
الجواب: قادیانی صریح مرتد ہیں۔ ان کا ذبیحہ قطعی مردار ہے۔ اور غیر مقلدین وہابیہ پر بوجوہ کثیرہ الزام کفر ہے۔ ان میں جو منکر ضروریات دین ہیں وہ تو بالاجماع کافرہی ہیں، ورنہ فقہائے کرام ان پر حکم کفرفرماتے ہیں اور ذبیحہ کا حلال ہونا نہ ہونا حکم فقہی ہے خصوصا وہی احتیاط کہ مانع تکفیر ہو، یہاں ان کے ذبیحہ کے کھانے سے منع کرتی ہے کہ جمہور فقہاء کرام کے طورپر حرام ومردار کا کھانا ہوگا، لہذا احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم(فتاوی رضویہ۔جلد بستم)
منقولہ بالا فتوی میں بھی فرقہ قادیانیہ اور فرقہ وہابیہ کے ذبیحہ کا جماعتی حکم بیان کیا گیا ہے۔
فرقہ وہابیہ(غیر مقلد وہابیہ) کے بنیادی عقائد میں کفریات کلامیہ نہیں۔ہاں,اگر ان میں کوئی کافر کلامی ہو تو اس کا شخصی حکم وہی ہو گا جو کافر کلامی کا حکم ہے۔
منقولہ بالا فتوی میں فرقہ وہابیہ اور فرقہ قادیانیہ کا جماعتی حکم بیان کیا گیا ہے۔
ہم نے ارتجالا چند سطور رقم کر دیئے۔اب علمائے اسلام سے استفسار ہے کہ جماعتی حکم سے مستثنی کون سا دیوبندی ہو گا۔
(1)جس دیوبندی کے عقائد سے ہم نا آشنا ہیں,ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کافر ہے یا صرف گمراہ ہے۔وہ جماعتی حکم سے مستثنی ہو گا؟
(2)یا جس دیوبندی کے عقائد سے ہم واقف وآشنا ہیں کہ وہ کافر نہیں,بلکہ صرف گمراہ ہے,وہ جماعتی حکم سے مستثنی ہو گا؟
بینوا توجروا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:جولائی 2022
منقولہ بالا فتوی میں فرقہ وہابیہ اور فرقہ قادیانیہ کا جماعتی حکم بیان کیا گیا ہے۔
ہم نے ارتجالا چند سطور رقم کر دیئے۔اب علمائے اسلام سے استفسار ہے کہ جماعتی حکم سے مستثنی کون سا دیوبندی ہو گا۔
(1)جس دیوبندی کے عقائد سے ہم نا آشنا ہیں,ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کافر ہے یا صرف گمراہ ہے۔وہ جماعتی حکم سے مستثنی ہو گا؟
(2)یا جس دیوبندی کے عقائد سے ہم واقف وآشنا ہیں کہ وہ کافر نہیں,بلکہ صرف گمراہ ہے,وہ جماعتی حکم سے مستثنی ہو گا؟
بینوا توجروا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:جولائی 2022
http://www.myislamicinfo.in/2022/07/blog-post_3.html
وہابی کا ذبیحہ حرام ہے یا نہیں؟
از قلم طارق انور مصباحي
وہابی کا ذبیحہ حرام ہے یا نہیں؟
از قلم طارق انور مصباحي
www.myislamicinfo.in
وہابی کا ذبیحہ حرام ہے یا نہیں؟
Myislamicinfo provides all Islamic contents such as Quran, Hadith, Fiqah, Masala, Fatawa, Tasawwuf, seerat, taarikh, urdu arabic article, etc
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
باب اعتقادیات کے جدید مغالطے
قسط اول
ایک طویل مدت سے علم کلام سے مشغولیت رکھنے کے سبب لوگوں کے نوع بہ نوع سوالات سے کچھ حد تک واقف ہوں۔ان میں سے بہت سے دعوے جھوٹے اور باطل ہوتے ہیں,لہذا ان میں سے بعض مکذوبات ومغالطات اور ان کے مختصر جوابات رقم کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ان شاء اللہ تعالی اہل ایمان کے واسطے نفع بخش ثابت ہو گا۔
چوں کہ یہ اباطیل واکاذیب انتہائی دل کش اسالیب وتراکیب اور دل فریب وپر کشش لہجوں میں پیش کئے جاتے ہیں,لہذا ضعیف الاعتقاد شک ووہم میں مبتلا ہو جاتا ہے اور مریض القلب کے واسطے تو یہی اکاذیب واباطیل بہ منزل دلائل وبراہین ہیں۔
عہد حاضر میں پیش کئے جانے والے چند مغالطے اور ان کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں۔
(1)مغالطہ اول:
دیوبندیوں نے اشخاص اربعہ کی کتابوں(تحذیر الناس,براہین قاطعہ,حفظ الایمان وغیرہا)سے کفریہ عبارتیں نکال دی ہیں,لہذا عہد حاضر کے دیابنہ کو اشخاص اربعہ کی کفریہ عبارتوں کا علم نہیں,پس ان پر حکم کفر عائد نہیں ہو گا۔
جواب:تحذیر الناس,براہین قاطعہ,حفظ الایمان وغیرہا کا وہ ایڈیشن پیش کیا جائے,جس میں کفریہ عبارات خارج کر دی گئی ہیں۔سچ یہ ہے کہ آج تک وہ کفریہ عبارات مذکورہ کتابوں میں مسلسل شائع ہو رہی ہیں۔
(2)مغالطہ دوم:
حسام الحرمین کو تصدیق کے لیے جامعہ نظامیہ حیدر آباد(دکن)بھیجا گیا تھا,لیکن شیخ الاسلام حضرت انوار اللہ فاروقی اور جامعہ نظامیہ کے اساتذہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
جواب:
(الف)شیخ الاسلام حضرت انوار اللہ فاروقی(1265-1336)کی وفات امام اہل سنت قدس سرہ العزیز(1272-1340) کی وفات سے چار سال قبل 1336 میں ہو چکی تھی اور برصغیر میں حسام الحرمین کی تصدیق کا سلسلہ امام اہل سنت کی وفات کے چار سال بعد 1344میں شروع ہوا۔قریبا دو سال 1344 اور 1345تک یہ سلسلہ جاری ریا-برصغیر کے 268 اکابر علمائے کرام ومشائخ عظام نے حسام الحرمین کی تصدیق کی۔ان تصدیقات کا مجموعہ"الصوارم الہندیہ"ہے۔
(ب)حضرت علامہ غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمۃ والرضوان کے رسالہ:تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل پر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور حضرت شیخ انوار اللہ فاروقی حیدرآبادی کی تصدیقات ہیں۔تقدیس الوکیل میں خلیل احمد انبیٹھوی,رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی کا حکم شرعی مرقوم ہے۔اس میں براہین قاطعہ اور تحذیر الناس کی عبارتوں کا رد مرقوم ہے۔تھانوی کا رسالہ(حفظ الایمان)اس وقت معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔
(ج)جامعہ نظامیہ سے متعلق جو من گڑھت افسانہ اور فرضی کہانی بیان کی جاتی ہے,وہ کس کتاب میں منقول ہے؟
(3)مغالطہ سوم:
برصغیر کے علمائے اہل سنت وجماعت میں سے صرف پچیس فی صد علمائے کرام نے حسام الحرمین کی تصدیق کی تھی,باقی پونا حصہ تصدیق سے الگ رہا۔
جواب:
(الف)1344 اور 1345ہجری میں حسام الحرمین پر برصغیر کے علمائے اہل سنت کی تصدیقات حاصل کی گئی تھیں۔کوئی ایک ہی واقعہ پیش کیا جائے کہ فلاں سنی صحیح العقیدہ عالم نے حسام الحرمین کی تصدیق سے انکار کیا تھا۔
(ب)علمائے مصدقین نے فرمایا ہے کہ جو اشخاص اربعہ اور قادیانی کو کا کافر نہ مانے,وہ کافر ہے۔
سوال یہ ہے کہ بالفرض پونا حصہ نے تحریری تصدیق نہیں کی تو ان حضرات نے حکم شرعی کو تسلیم کیا یا نہیں؟
اگر تمام حقائق سے واقف وآشنا ہو کر حکم شرعی کا انکار کیا تو وہ فرضی پونا حصہ مرتد ہے۔من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا یہی مفہوم ہے۔
منکرین کی کثرت وقلت کے سبب شرعی حکم بدلتا نہیں ہے۔عہد صدیقی میں کلمہ گویان اسلام کی اکثریت غلط راہ پر جا پڑی تھی۔صحیح راہ پر باقی رہنے والوں کی تعداد کم تھی,اس کے باوجود سب پر شرعی حکم نافذ کیا گیا اور ان مخالفین سے جہاد کیا گیا۔
اگر تصدیق نہ لکھنے والوں نے زبانی طور پر شرعی حکم کو تسلیم کیا,لیکن کسی عذر کے سبب وہ تحریری تصدیق نہ لکھ سکے تو ان پر کوئی الزام نہیں۔
دراصل تصدیق بالقلب اور اقرار باللسان ضروری ہے۔جب زبانی اقرار ثابت ہے تو خاص طور پر تحریر کی ضرورت نہیں۔
(ج) بعض علمائے مصدقین کی آل واولاد صلح کلی ہو گئی,پس یہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے آبا واجداد نے تصدیق حسام الحرمین سے رجوع کر لیا تھا۔خانقاہ پھلواری(پٹنہ)اور غالبا اہل گولڑہ بھی اسی قبیل سے ہیں۔
اسلام خود ہی سر بلند ہے۔جو اس سے جدا ہوا,وہ سرنگوں ہوا۔اشخاص وافراد کو اسلام سے سربلندی حاصل ہوتی ہے,اسلام کو زید وبکر سے سربلندی حاصل نہیں ہوتی۔حدیث شریف میں ہے:(الاسلام یعلو ولا یعلی علیہ)
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:جولائی 2022
باب اعتقادیات کے جدید مغالطے
قسط اول
ایک طویل مدت سے علم کلام سے مشغولیت رکھنے کے سبب لوگوں کے نوع بہ نوع سوالات سے کچھ حد تک واقف ہوں۔ان میں سے بہت سے دعوے جھوٹے اور باطل ہوتے ہیں,لہذا ان میں سے بعض مکذوبات ومغالطات اور ان کے مختصر جوابات رقم کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ان شاء اللہ تعالی اہل ایمان کے واسطے نفع بخش ثابت ہو گا۔
چوں کہ یہ اباطیل واکاذیب انتہائی دل کش اسالیب وتراکیب اور دل فریب وپر کشش لہجوں میں پیش کئے جاتے ہیں,لہذا ضعیف الاعتقاد شک ووہم میں مبتلا ہو جاتا ہے اور مریض القلب کے واسطے تو یہی اکاذیب واباطیل بہ منزل دلائل وبراہین ہیں۔
عہد حاضر میں پیش کئے جانے والے چند مغالطے اور ان کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں۔
(1)مغالطہ اول:
دیوبندیوں نے اشخاص اربعہ کی کتابوں(تحذیر الناس,براہین قاطعہ,حفظ الایمان وغیرہا)سے کفریہ عبارتیں نکال دی ہیں,لہذا عہد حاضر کے دیابنہ کو اشخاص اربعہ کی کفریہ عبارتوں کا علم نہیں,پس ان پر حکم کفر عائد نہیں ہو گا۔
جواب:تحذیر الناس,براہین قاطعہ,حفظ الایمان وغیرہا کا وہ ایڈیشن پیش کیا جائے,جس میں کفریہ عبارات خارج کر دی گئی ہیں۔سچ یہ ہے کہ آج تک وہ کفریہ عبارات مذکورہ کتابوں میں مسلسل شائع ہو رہی ہیں۔
(2)مغالطہ دوم:
حسام الحرمین کو تصدیق کے لیے جامعہ نظامیہ حیدر آباد(دکن)بھیجا گیا تھا,لیکن شیخ الاسلام حضرت انوار اللہ فاروقی اور جامعہ نظامیہ کے اساتذہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
جواب:
(الف)شیخ الاسلام حضرت انوار اللہ فاروقی(1265-1336)کی وفات امام اہل سنت قدس سرہ العزیز(1272-1340) کی وفات سے چار سال قبل 1336 میں ہو چکی تھی اور برصغیر میں حسام الحرمین کی تصدیق کا سلسلہ امام اہل سنت کی وفات کے چار سال بعد 1344میں شروع ہوا۔قریبا دو سال 1344 اور 1345تک یہ سلسلہ جاری ریا-برصغیر کے 268 اکابر علمائے کرام ومشائخ عظام نے حسام الحرمین کی تصدیق کی۔ان تصدیقات کا مجموعہ"الصوارم الہندیہ"ہے۔
(ب)حضرت علامہ غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمۃ والرضوان کے رسالہ:تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل پر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور حضرت شیخ انوار اللہ فاروقی حیدرآبادی کی تصدیقات ہیں۔تقدیس الوکیل میں خلیل احمد انبیٹھوی,رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی کا حکم شرعی مرقوم ہے۔اس میں براہین قاطعہ اور تحذیر الناس کی عبارتوں کا رد مرقوم ہے۔تھانوی کا رسالہ(حفظ الایمان)اس وقت معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔
(ج)جامعہ نظامیہ سے متعلق جو من گڑھت افسانہ اور فرضی کہانی بیان کی جاتی ہے,وہ کس کتاب میں منقول ہے؟
(3)مغالطہ سوم:
برصغیر کے علمائے اہل سنت وجماعت میں سے صرف پچیس فی صد علمائے کرام نے حسام الحرمین کی تصدیق کی تھی,باقی پونا حصہ تصدیق سے الگ رہا۔
جواب:
(الف)1344 اور 1345ہجری میں حسام الحرمین پر برصغیر کے علمائے اہل سنت کی تصدیقات حاصل کی گئی تھیں۔کوئی ایک ہی واقعہ پیش کیا جائے کہ فلاں سنی صحیح العقیدہ عالم نے حسام الحرمین کی تصدیق سے انکار کیا تھا۔
(ب)علمائے مصدقین نے فرمایا ہے کہ جو اشخاص اربعہ اور قادیانی کو کا کافر نہ مانے,وہ کافر ہے۔
سوال یہ ہے کہ بالفرض پونا حصہ نے تحریری تصدیق نہیں کی تو ان حضرات نے حکم شرعی کو تسلیم کیا یا نہیں؟
اگر تمام حقائق سے واقف وآشنا ہو کر حکم شرعی کا انکار کیا تو وہ فرضی پونا حصہ مرتد ہے۔من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا یہی مفہوم ہے۔
منکرین کی کثرت وقلت کے سبب شرعی حکم بدلتا نہیں ہے۔عہد صدیقی میں کلمہ گویان اسلام کی اکثریت غلط راہ پر جا پڑی تھی۔صحیح راہ پر باقی رہنے والوں کی تعداد کم تھی,اس کے باوجود سب پر شرعی حکم نافذ کیا گیا اور ان مخالفین سے جہاد کیا گیا۔
اگر تصدیق نہ لکھنے والوں نے زبانی طور پر شرعی حکم کو تسلیم کیا,لیکن کسی عذر کے سبب وہ تحریری تصدیق نہ لکھ سکے تو ان پر کوئی الزام نہیں۔
دراصل تصدیق بالقلب اور اقرار باللسان ضروری ہے۔جب زبانی اقرار ثابت ہے تو خاص طور پر تحریر کی ضرورت نہیں۔
(ج) بعض علمائے مصدقین کی آل واولاد صلح کلی ہو گئی,پس یہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے آبا واجداد نے تصدیق حسام الحرمین سے رجوع کر لیا تھا۔خانقاہ پھلواری(پٹنہ)اور غالبا اہل گولڑہ بھی اسی قبیل سے ہیں۔
اسلام خود ہی سر بلند ہے۔جو اس سے جدا ہوا,وہ سرنگوں ہوا۔اشخاص وافراد کو اسلام سے سربلندی حاصل ہوتی ہے,اسلام کو زید وبکر سے سربلندی حاصل نہیں ہوتی۔حدیث شریف میں ہے:(الاسلام یعلو ولا یعلی علیہ)
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:جولائی 2022
👍1
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
ٹوٹی چٹائی اور سوکھی روٹی
یہ بات بہت مشہور ہے کہ علمائے دین نے ٹوٹی چٹائی پر بیٹھ کر اور سوکھی روٹی کھا کر دینی تعلیم کو فروغ دیا۔یہ بات موافق حقیقت ہے,بلکہ انیسویں اور بیسویں صدی کے حالات اس سے بھی ناگفتہ تھے۔
بھارت میں جنگ غدر:1857 میں ناکامی کے بعد انڈیا سے سلطنت مغلیہ کا خاتمہ ہو گیا۔جنگ غدر میں حصہ لینے والے نوابوں کی نوابی ختم ہو گئی۔بہت سے علمائے دین اور عوام کو جنگ غدر میں حصہ لینے کے سبب پھانسی کی سزا دی گئی۔بہت سے علمائے کرام کو قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔
دینی خدمات انجام دینے والوں کے وظائف بند کر دیئے گئے۔مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔جب ماحول کچھ پرسکون ہوا تو بہت سے علمائے دین فی سبیل اللہ بچوں کو دینی تعلیم دینے لگے۔اس وقت عوامی کلیکشن کا رواج نہیں تھا۔ایک مدت بعد پبلک ڈونیشن سے مدارس کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا۔آج بھی ناظمین مدارس بہت مشقت وجاں فشانی سے مدارس کے اخراجات کا انتظام کرتے ہیں۔
پہلی جنگ عظیم(1914-1918)کے موقع پر سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے بہت سے علاقے استعماری قوتوں کے قبضے میں چلے گئے۔ترک فوجیوں نے بہت سے علاقے بچانے میں کامیابی حاصل کی۔ مصطفے کمال اتاترک(1881-1938)نے 03:مارچ 1924 کو عثمانی خلافت کو ختم کر دیا اور ترکی کو ایک جمہوری ملک کا درجہ دیا۔
ترکی میں اسلامی شعائر اور اسلامی تعلیم پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ علمائے دین نے بہت سی مصیبتیں جھیل کر اسلامی تعلیمات کو اگلی نسل تک منتقل کیا۔ترکی کو جمہوری ریاست میں تبدیل کرنے کے واسطے درج ذیل اقدامات کئے گئے۔
دستور سے سرکاری مذہب اسلام کی شق خارج کر دی گئی۔
ملک بھر میں دینی مدارس اور خانقاہوں پر پابندگی لگا کر مذہبی تعلیم کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔
عورتوں کو تمام معاملات میں مردوں کے مساوی قرار دے کر پردہ کو قانوناً جرم قرار دے دیا گیا۔
یورپی لباس پہننا اور ننگے سر رہنا ضروری قرار دے دیا گیا۔
پیری مریدی ممنوع قرار دی گئی اور مزاروں پر جانے اور دعائیں مانگنے پر پابندی لگا دی گئی۔
ہجری تقویم ختم کر کے شمسی کیلنڈر رائج کر دیا گیا۔
جمعہ کی چھٹی ختم کر کے اتوار کی چھٹی کا اعلان کیا گیا۔
عربی زبان میں قرآن کریم کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی اور ترکی زبان کا عربی رسم الخط منسوخ کر کے رومن رسم الخط اختیار کر لیا گیا۔
نماز، دعا اور قرآن کریم کی تلاوت ترکی زبان میں لازمی قرار دے دی گئی۔
حکومت ترکیہ کے مذکورہ بالا اقدامات کے باوجود علمائے دین نے ترکی میں دینی تعلیم کو زندہ رکھا اور خفیہ طور پر بہت سے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ فرمایا۔
عہد حاضر میں بہت سے مدارس اسلامیہ کے پاس اتنی قوت ہے کہ وہ عمدہ نظم ونسق کی جانب قدم بڑھا سکتے ہیں,لیکن شاید وہ کسی مقصد کے تحت ٹوٹی چٹائی اور سوکھی روٹی کی روایت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
(1)بعض ذمہ داران مدارس کو اپنے بچوں کے بارے میں فرماتے سنا کہ بچے مانتے نہیں,ہفتہ میں تین چار دن گوشت لانا ہی پڑتا ہے,پھر جب وہ اپنے مدرسے میں داخل ہوتے ہیں تو قوم کے بچوں کو ٹوٹی چٹائی اور سوکھی روٹی کے واقعات سنا کر صبر کی تلقین فرماتے ہیں۔
اے کاش! یہ نفوس عالیہ طلبائے مدارس کو بھی اپنے گھر کے بچوں کی طرح سمجھتے تو انہیں بھی ہفتہ میں دو تین دن بریانی ضرور مل جاتی۔
(2)چوں کہ مدارس اسلامیہ میں دینی تعلیم دی جاتی ہے اور فارغین مدارس کا دنیاوی مستقبل بوسیدہ کتابوں کے دیمک زدہ اوراق کی طرح روشن وتابناک ہے,لہذا بہت سے علمائے کرام اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکول میں داخل کرتے ہیں اور قوم کو علم دین کے فضائل سنا کر ان کے بچوں کو مدارس میں داخل کرتے ہیں۔
اے کاش! یہ علمائے کرام مدارس اسلامیہ کے نصاب ونظام میں اصلاح کی کوشش فرماتے اور مدارس اسلامیہ میں دینی وعصری مشترکہ نصاب تعلیم رائج فرماتے۔بچوں کو اوپن اسکولنگ سسٹم کے ذریعہ اسکولی امتحانات دلاتے تو بچے بیک وقت دونوں قسم کی تعلیم سے حصہ یاب ہوتے۔
(3)ناظمین مدارس اپنی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہیں اور اپنا مشاہرہ دیگر مدرسین کی بہ نسبت دوگنا یا چار گنا زیادہ رکھتے ہیں۔
اے کاش! نظمائے مدارس اپنے مدارس کے مدرسین وملازمین کی ضرورتوں کا بھی لحاظ فرماتے اور ان کی تنخواہیں بھی حالات زمانہ کے موافق رکھتے تو تعلیمی معیار بھی مستحکم ہوتا۔شیخ سعدی شیرازی قدس سرہ العزیز نے بوستاں(باب اول)میں رقم فرمایا:
ع/ مزدور خوش دل کند کار بیش
معتبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ دعوت اسلامی کے مدارس وجامعات میں طلبہ کے خورد ونوش کا عمدہ نظم ہے۔وہاں دینی وعصری ہر دو قسم کی تعلیم دی جاتی ہے اور اساتذۂ کرام اور ملازمین کا مشاہرہ بھی حالات وضروریات کے موافق ہے۔اللہم زد فزد
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:جولائی 2022
ٹوٹی چٹائی اور سوکھی روٹی
یہ بات بہت مشہور ہے کہ علمائے دین نے ٹوٹی چٹائی پر بیٹھ کر اور سوکھی روٹی کھا کر دینی تعلیم کو فروغ دیا۔یہ بات موافق حقیقت ہے,بلکہ انیسویں اور بیسویں صدی کے حالات اس سے بھی ناگفتہ تھے۔
بھارت میں جنگ غدر:1857 میں ناکامی کے بعد انڈیا سے سلطنت مغلیہ کا خاتمہ ہو گیا۔جنگ غدر میں حصہ لینے والے نوابوں کی نوابی ختم ہو گئی۔بہت سے علمائے دین اور عوام کو جنگ غدر میں حصہ لینے کے سبب پھانسی کی سزا دی گئی۔بہت سے علمائے کرام کو قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔
دینی خدمات انجام دینے والوں کے وظائف بند کر دیئے گئے۔مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔جب ماحول کچھ پرسکون ہوا تو بہت سے علمائے دین فی سبیل اللہ بچوں کو دینی تعلیم دینے لگے۔اس وقت عوامی کلیکشن کا رواج نہیں تھا۔ایک مدت بعد پبلک ڈونیشن سے مدارس کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا۔آج بھی ناظمین مدارس بہت مشقت وجاں فشانی سے مدارس کے اخراجات کا انتظام کرتے ہیں۔
پہلی جنگ عظیم(1914-1918)کے موقع پر سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے بہت سے علاقے استعماری قوتوں کے قبضے میں چلے گئے۔ترک فوجیوں نے بہت سے علاقے بچانے میں کامیابی حاصل کی۔ مصطفے کمال اتاترک(1881-1938)نے 03:مارچ 1924 کو عثمانی خلافت کو ختم کر دیا اور ترکی کو ایک جمہوری ملک کا درجہ دیا۔
ترکی میں اسلامی شعائر اور اسلامی تعلیم پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ علمائے دین نے بہت سی مصیبتیں جھیل کر اسلامی تعلیمات کو اگلی نسل تک منتقل کیا۔ترکی کو جمہوری ریاست میں تبدیل کرنے کے واسطے درج ذیل اقدامات کئے گئے۔
دستور سے سرکاری مذہب اسلام کی شق خارج کر دی گئی۔
ملک بھر میں دینی مدارس اور خانقاہوں پر پابندگی لگا کر مذہبی تعلیم کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔
عورتوں کو تمام معاملات میں مردوں کے مساوی قرار دے کر پردہ کو قانوناً جرم قرار دے دیا گیا۔
یورپی لباس پہننا اور ننگے سر رہنا ضروری قرار دے دیا گیا۔
پیری مریدی ممنوع قرار دی گئی اور مزاروں پر جانے اور دعائیں مانگنے پر پابندی لگا دی گئی۔
ہجری تقویم ختم کر کے شمسی کیلنڈر رائج کر دیا گیا۔
جمعہ کی چھٹی ختم کر کے اتوار کی چھٹی کا اعلان کیا گیا۔
عربی زبان میں قرآن کریم کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی اور ترکی زبان کا عربی رسم الخط منسوخ کر کے رومن رسم الخط اختیار کر لیا گیا۔
نماز، دعا اور قرآن کریم کی تلاوت ترکی زبان میں لازمی قرار دے دی گئی۔
حکومت ترکیہ کے مذکورہ بالا اقدامات کے باوجود علمائے دین نے ترکی میں دینی تعلیم کو زندہ رکھا اور خفیہ طور پر بہت سے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ فرمایا۔
عہد حاضر میں بہت سے مدارس اسلامیہ کے پاس اتنی قوت ہے کہ وہ عمدہ نظم ونسق کی جانب قدم بڑھا سکتے ہیں,لیکن شاید وہ کسی مقصد کے تحت ٹوٹی چٹائی اور سوکھی روٹی کی روایت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
(1)بعض ذمہ داران مدارس کو اپنے بچوں کے بارے میں فرماتے سنا کہ بچے مانتے نہیں,ہفتہ میں تین چار دن گوشت لانا ہی پڑتا ہے,پھر جب وہ اپنے مدرسے میں داخل ہوتے ہیں تو قوم کے بچوں کو ٹوٹی چٹائی اور سوکھی روٹی کے واقعات سنا کر صبر کی تلقین فرماتے ہیں۔
اے کاش! یہ نفوس عالیہ طلبائے مدارس کو بھی اپنے گھر کے بچوں کی طرح سمجھتے تو انہیں بھی ہفتہ میں دو تین دن بریانی ضرور مل جاتی۔
(2)چوں کہ مدارس اسلامیہ میں دینی تعلیم دی جاتی ہے اور فارغین مدارس کا دنیاوی مستقبل بوسیدہ کتابوں کے دیمک زدہ اوراق کی طرح روشن وتابناک ہے,لہذا بہت سے علمائے کرام اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکول میں داخل کرتے ہیں اور قوم کو علم دین کے فضائل سنا کر ان کے بچوں کو مدارس میں داخل کرتے ہیں۔
اے کاش! یہ علمائے کرام مدارس اسلامیہ کے نصاب ونظام میں اصلاح کی کوشش فرماتے اور مدارس اسلامیہ میں دینی وعصری مشترکہ نصاب تعلیم رائج فرماتے۔بچوں کو اوپن اسکولنگ سسٹم کے ذریعہ اسکولی امتحانات دلاتے تو بچے بیک وقت دونوں قسم کی تعلیم سے حصہ یاب ہوتے۔
(3)ناظمین مدارس اپنی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہیں اور اپنا مشاہرہ دیگر مدرسین کی بہ نسبت دوگنا یا چار گنا زیادہ رکھتے ہیں۔
اے کاش! نظمائے مدارس اپنے مدارس کے مدرسین وملازمین کی ضرورتوں کا بھی لحاظ فرماتے اور ان کی تنخواہیں بھی حالات زمانہ کے موافق رکھتے تو تعلیمی معیار بھی مستحکم ہوتا۔شیخ سعدی شیرازی قدس سرہ العزیز نے بوستاں(باب اول)میں رقم فرمایا:
ع/ مزدور خوش دل کند کار بیش
معتبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ دعوت اسلامی کے مدارس وجامعات میں طلبہ کے خورد ونوش کا عمدہ نظم ہے۔وہاں دینی وعصری ہر دو قسم کی تعلیم دی جاتی ہے اور اساتذۂ کرام اور ملازمین کا مشاہرہ بھی حالات وضروریات کے موافق ہے۔اللہم زد فزد
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:15:جولائی 2022
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
https://www.facebook.com/548775775244195/posts/pfbid06mvoAPs2f6znCpETJ9DnRXm9Yne37EY3N8t1GkiZ3QdB245JE7qjTgavozo43szFl/
📗 *الدعوة إلى الفكر*
✍️ المؤلف: الشيخ منشا تابش القصوري
📝 المترجم بالعربية: الأستاذ العلامة عبد الحكيم شرف القادري
✍️ المحقق: المفتي محمد أمجد حسين الأعوان
📮شاركونا في نشر هذا الكتاب
📥DOWNLOAD LINK - رابط تحميل مجاني
📁https://archive.org/details/20220705_20220705_1325
انشروا طيب العلم، وشاركوا مع الأصدقاء
📗 *الدعوة إلى الفكر*
✍️ المؤلف: الشيخ منشا تابش القصوري
📝 المترجم بالعربية: الأستاذ العلامة عبد الحكيم شرف القادري
✍️ المحقق: المفتي محمد أمجد حسين الأعوان
📮شاركونا في نشر هذا الكتاب
📥DOWNLOAD LINK - رابط تحميل مجاني
📁https://archive.org/details/20220705_20220705_1325
انشروا طيب العلم، وشاركوا مع الأصدقاء
علامہ_محمد_احمد_مصباحی_احوال_و_افکار_توفیق_احسن_برکاتی_compressed.pdf
55.6 MB
علامہ محمد احمد مصباحی احوال و افکار (توفیق احسن برکاتی)_compressed.pdf
چند واقعات کربلا کا تحقیقی جائزہ.pdf
11.1 MB
چند واقعات کربلا کا تحقیقی جائزہ.pdf
الدعوة إلى الفكر.pdf
22.2 MB
الدعوة إلى الفكر
حضرت علامہ منشا تابش قصوری صاحب قبلہ کی اردو کتاب"دعوت فکر"کا عربی ترجمہ
مترجم:علامہ عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمۃ والرضوان
صفحات:218
حضرت علامہ منشا تابش قصوری صاحب قبلہ کی اردو کتاب"دعوت فکر"کا عربی ترجمہ
مترجم:علامہ عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمۃ والرضوان
صفحات:218
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
وہابیوں اور دیوبندیوں کی اختراعی تاریخ
جنگ غدر:1857 کے موقع پر فرقہ وہابیہ انگریزوں کے ساتھ تھا۔1947میں بھارت آزاد ہو گیا اور انگریزی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔جب وہابیوں اور دیوبندیوں نے دیکھا کہ اب انگریزی حکومت زیادہ دنوں تک چلنے والی نہیں ہے,تب یہ لوگ کانگریس کی تابعداری کرنے لگے۔
اس سے قبل یہ لوگ انگریزوں کی حمایت کرتے تھے جس کے واقعات کتابوں میں مرقوم ومسطور تھے۔اب یہ لوگ ان تاریخی واقعات کا انکار کرنے لگے اور نئی تاریخ گڑھنے لگے۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری دیوبندی نے جہاد شاملی سے متعلق ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام"بزرگان دار العلوم دیوبند"ہے۔اس میں یہ ثابت کرنے کی سعی لا حاصل کی گئی ہے کہ جہاد شاملی 1857میں قاسم نانوتوی,رشید احمد گنگوہی وغیرہ انگریزوں کے خلاف لڑے تھے,حالاں کہ یہ لوگ ہمیشہ انگریزوں کی طرف داری کرتے تھے۔
برصغیر میں جماعت وہابیہ کے امام اول اسماعیل دہلوی نے کہا تھا کہ انگریزوں سے جہاد کرنا شرعا جائز نہیں۔
دراصل لوگوں کو معلوم تھا کہ فرقہ وہابیہ انگریزوں کی حمایت وتائید کرتا ہے,لہذا شاملی میں آزادی وطن کی خاطر جہاد کرنے والی ایک جماعت سے نانوتوی وگنگوہی کے ایک قافلے کی جھڑپ ہو گئی۔اس میں فائرنگ بھی ہوئی۔ایک گولی"ضامن"نامی ایک شخص کو لگی جس سے اس کی موت ہو گئی۔
ادیب شہیر حضرت علامہ یسین اختر مصباحی صاحب قبلہ نے اپنے ایک مضمون میں جنگ شاملی کے حقائق کو واضح فرمایا ہے۔
مضمون کا عنوان ہے:
"جنگ شاملی 1857:واقعات وحقائق"
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:17:جولائی 2022
وہابیوں اور دیوبندیوں کی اختراعی تاریخ
جنگ غدر:1857 کے موقع پر فرقہ وہابیہ انگریزوں کے ساتھ تھا۔1947میں بھارت آزاد ہو گیا اور انگریزی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔جب وہابیوں اور دیوبندیوں نے دیکھا کہ اب انگریزی حکومت زیادہ دنوں تک چلنے والی نہیں ہے,تب یہ لوگ کانگریس کی تابعداری کرنے لگے۔
اس سے قبل یہ لوگ انگریزوں کی حمایت کرتے تھے جس کے واقعات کتابوں میں مرقوم ومسطور تھے۔اب یہ لوگ ان تاریخی واقعات کا انکار کرنے لگے اور نئی تاریخ گڑھنے لگے۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری دیوبندی نے جہاد شاملی سے متعلق ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام"بزرگان دار العلوم دیوبند"ہے۔اس میں یہ ثابت کرنے کی سعی لا حاصل کی گئی ہے کہ جہاد شاملی 1857میں قاسم نانوتوی,رشید احمد گنگوہی وغیرہ انگریزوں کے خلاف لڑے تھے,حالاں کہ یہ لوگ ہمیشہ انگریزوں کی طرف داری کرتے تھے۔
برصغیر میں جماعت وہابیہ کے امام اول اسماعیل دہلوی نے کہا تھا کہ انگریزوں سے جہاد کرنا شرعا جائز نہیں۔
دراصل لوگوں کو معلوم تھا کہ فرقہ وہابیہ انگریزوں کی حمایت وتائید کرتا ہے,لہذا شاملی میں آزادی وطن کی خاطر جہاد کرنے والی ایک جماعت سے نانوتوی وگنگوہی کے ایک قافلے کی جھڑپ ہو گئی۔اس میں فائرنگ بھی ہوئی۔ایک گولی"ضامن"نامی ایک شخص کو لگی جس سے اس کی موت ہو گئی۔
ادیب شہیر حضرت علامہ یسین اختر مصباحی صاحب قبلہ نے اپنے ایک مضمون میں جنگ شاملی کے حقائق کو واضح فرمایا ہے۔
مضمون کا عنوان ہے:
"جنگ شاملی 1857:واقعات وحقائق"
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:17:جولائی 2022
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
مرتد جماعتوں سے متعلق تین سوالات
فرقہ قادیانیہ,دیوبندیہ اور شیعہ کے بنیادی عقائد میں کفریات کلامیہ ہیں۔کافر کلامی جماعتوں کے احکام غیر کافر کلامی یعنی گمراہ جماعتوں کے احکام میں بہت فرق ہے۔
1-کفار کلامی کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے۔فرضیت ادا ہی نہیں ہو گی۔جب کہ گمرہوں کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی, واجب الاعادہ ہو گی,لیکن فرضیت ادا ہو جائے گی۔
2-کفار کلامی سے نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا اور بعد نکاح بھی قربت زنائے خالص ہے,جیسے قبل نکاح قربت زنائے خالص ہے,جب کہ گمراہ سے نکاح مکروہ تحریمی ہے(اس کو حرام بھی کہا جاتا ہے)-نکاح کرنے والا گنہ گار ہو گا,لیکن نکاح منعقد ہو جائے گا۔
مرتد جماعتوں کا حکم عام یعنی جماعتی حکم جب بیان کیا جائے گا تو اس طرح کہا جائے گا۔
فرقہ قادیانیہ,دیوبندیہ اور شیعہ کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے اور ان لوگوں سے نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا اور بعد نکاح بھی قربت زنائے خالص ہو گی,اور ان لوگوں کا ذبیحہ حرام ہو گا۔
سوالات ثلاثہ:
سوال اول:عہد حاضر کے اکابرین قادیانیہ اکابر دیوبندیہ واکابرین شیعہ کے شخصی عقائد سے ہم واقف نہیں کہ وہ اپنے اپنے فرقہ کے بنیادی عقائد کو مانتے ہیں یا نہیں مانتے ہیں۔ان عقائد کفریہ کلامیہ کے ماننے والوں کو وہ مومن مانتے ہیں یا کافر۔
عہد حاضر کے مذکورہ اکابر قادیانیہ,اکابر دیوبندیہ اور اکابر شیعہ اپنے فرقوں کے جماعتی حکم میں شامل ہوں گے یا نہیں؟
یعنی مرتد فرقوں کے جن افراد کے شخصی عقائد سے ہم واقف نہیں,ان پر اس فرقے کا جماعتی حکم نافذ ہو گا یا نہیں؟
جب شخصی عقائد معلوم ہی نہیں تو شخصی حکم نافذ نہیں ہو گا,مثلا مذکورہ اکابر قادیانیہ,اکابر دیوبندیہ اور اکابر شیعہ کی شخصی تکفیر اسی وقت کی جائے گی,جب ان کے شخصی عقائد کا قطعی علم ہمیں ہو,اور دیگر شرائط ولوازم مثلا تکلم,متکلم اور کلام میں احتمال بعید بھی نہ ہو۔
اسی طرح نماز میں اقتدا,نکاح اور ذبیحہ سے متعلق بھی شخصی حکم اسی وقت نافذ ہو گا جب ان کے شخصی عقائد ہمیں معلوم ہوں۔شخصی عقائد معلوم نہ ہوں تو جماعتی حکم نافذ ہو گا یا نہیں؟
سوال دوم:اگر کافر کلامی فرقوں کے اکابر بھی جماعتی حکم میں شامل نہ ہوں تو آخر اس حکم کا اطلاق کن لوگوں پر ہو گا؟یا کسی پر نہیں ہو گا؟
مرتد جماعتوں کے جن افراد کا غیر مرتد ہونا معلوم ہے,مثلا یہ معلوم ہے کہ وہ کفریہ عقائد سے بری ہے اور کفریہ عقائد ماننے والوں کی بھی تکفیر کرتا ہے,لیکن صرف بعض ضلالتوں میں اس مرتد جماعت کا پیروکار ہے تو وہ گمراہ ہے,کافر نہیں۔وہ اپنی جماعت کے جماعتی حکم سے مستثنی ہو گا۔
روافض میں فرقہ تفضیلیہ کافر نہیں,بلکہ گمراہ ہے۔یہ لوگ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرات شیخین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما سے افضل جانتے ہیں۔باقی دیگر عقائد باطلہ میں روافض کے ساتھ نہیں۔یہ لوگ صرف گمراہ ہیں,مرتد نہیں۔ان لوگوں پر گمرہوں کا حکم نافذ ہو گا۔
مرتد جماعتوں کے مختلف قسم کے افراد کے احکام امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے رسالہ:"ازالۃ العار"اور ہمارے رسالہ:"فرقہ وہابیہ:اقسام واحکام"میں مرقوم ہیں۔
سوال سوم:مندرجہ ذیل دعوی درست ہے یا نہیں؟
"عہد حاضر کے قادیانی,دیوبندی اور شیعہ اپنی جماعتوں کے بنیادی عقائد سے یقینی طور پر ناواقف ہیں"۔
کسی شخص کو مذکورہ بالا یقین کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟
وضاحت:
(1)کافر کلامی اور گمراہ کے علاوہ ایک صورت کافر فقہی کی ہے۔فقہائے کرام کے یہاں کفار فقہی کے بہت سے احکام کفار کلامی کی طرح ہیں۔جس طرح کافر کلامی کی اقتدا میں نماز باطل ہے,اسی طرح صحیح قول کے مطابق کافر فقہی کی اقتدا میں بھی نماز باطل ہے۔
فقہائے کرام کے اصول کے مطابق کفار فقہی سے نکاح اور ان کے ذبیحہ کا حکم بھی وہی ہے جو کفار کلامی سے نکاح اور ذبیحہ کا حکم ہے۔یہ امور فتاوی رضویہ میں مرقوم ہیں۔
حبط اعمال(حالت ایمان کے اعمال صالحہ کی بربادی)کے احکام کفار کلامی کے ساتھ خاص ہیں۔
(2)مضمون حاضر میں شیعہ سے عہد حاضر کے تبرائی روافض مراد ہیں جو ضروریات دین کے انکار کے سبب کافر کلامی ہیں۔
(3)صرف مذکورہ بالا سوالات ثلاثہ کے جوابات مطلوب ہیں۔
طارق انور مصباحی
رقم کردہ:17:جولائی 2022
مرتد جماعتوں سے متعلق تین سوالات
فرقہ قادیانیہ,دیوبندیہ اور شیعہ کے بنیادی عقائد میں کفریات کلامیہ ہیں۔کافر کلامی جماعتوں کے احکام غیر کافر کلامی یعنی گمراہ جماعتوں کے احکام میں بہت فرق ہے۔
1-کفار کلامی کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے۔فرضیت ادا ہی نہیں ہو گی۔جب کہ گمرہوں کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی, واجب الاعادہ ہو گی,لیکن فرضیت ادا ہو جائے گی۔
2-کفار کلامی سے نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا اور بعد نکاح بھی قربت زنائے خالص ہے,جیسے قبل نکاح قربت زنائے خالص ہے,جب کہ گمراہ سے نکاح مکروہ تحریمی ہے(اس کو حرام بھی کہا جاتا ہے)-نکاح کرنے والا گنہ گار ہو گا,لیکن نکاح منعقد ہو جائے گا۔
مرتد جماعتوں کا حکم عام یعنی جماعتی حکم جب بیان کیا جائے گا تو اس طرح کہا جائے گا۔
فرقہ قادیانیہ,دیوبندیہ اور شیعہ کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے اور ان لوگوں سے نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا اور بعد نکاح بھی قربت زنائے خالص ہو گی,اور ان لوگوں کا ذبیحہ حرام ہو گا۔
سوالات ثلاثہ:
سوال اول:عہد حاضر کے اکابرین قادیانیہ اکابر دیوبندیہ واکابرین شیعہ کے شخصی عقائد سے ہم واقف نہیں کہ وہ اپنے اپنے فرقہ کے بنیادی عقائد کو مانتے ہیں یا نہیں مانتے ہیں۔ان عقائد کفریہ کلامیہ کے ماننے والوں کو وہ مومن مانتے ہیں یا کافر۔
عہد حاضر کے مذکورہ اکابر قادیانیہ,اکابر دیوبندیہ اور اکابر شیعہ اپنے فرقوں کے جماعتی حکم میں شامل ہوں گے یا نہیں؟
یعنی مرتد فرقوں کے جن افراد کے شخصی عقائد سے ہم واقف نہیں,ان پر اس فرقے کا جماعتی حکم نافذ ہو گا یا نہیں؟
جب شخصی عقائد معلوم ہی نہیں تو شخصی حکم نافذ نہیں ہو گا,مثلا مذکورہ اکابر قادیانیہ,اکابر دیوبندیہ اور اکابر شیعہ کی شخصی تکفیر اسی وقت کی جائے گی,جب ان کے شخصی عقائد کا قطعی علم ہمیں ہو,اور دیگر شرائط ولوازم مثلا تکلم,متکلم اور کلام میں احتمال بعید بھی نہ ہو۔
اسی طرح نماز میں اقتدا,نکاح اور ذبیحہ سے متعلق بھی شخصی حکم اسی وقت نافذ ہو گا جب ان کے شخصی عقائد ہمیں معلوم ہوں۔شخصی عقائد معلوم نہ ہوں تو جماعتی حکم نافذ ہو گا یا نہیں؟
سوال دوم:اگر کافر کلامی فرقوں کے اکابر بھی جماعتی حکم میں شامل نہ ہوں تو آخر اس حکم کا اطلاق کن لوگوں پر ہو گا؟یا کسی پر نہیں ہو گا؟
مرتد جماعتوں کے جن افراد کا غیر مرتد ہونا معلوم ہے,مثلا یہ معلوم ہے کہ وہ کفریہ عقائد سے بری ہے اور کفریہ عقائد ماننے والوں کی بھی تکفیر کرتا ہے,لیکن صرف بعض ضلالتوں میں اس مرتد جماعت کا پیروکار ہے تو وہ گمراہ ہے,کافر نہیں۔وہ اپنی جماعت کے جماعتی حکم سے مستثنی ہو گا۔
روافض میں فرقہ تفضیلیہ کافر نہیں,بلکہ گمراہ ہے۔یہ لوگ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرات شیخین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما سے افضل جانتے ہیں۔باقی دیگر عقائد باطلہ میں روافض کے ساتھ نہیں۔یہ لوگ صرف گمراہ ہیں,مرتد نہیں۔ان لوگوں پر گمرہوں کا حکم نافذ ہو گا۔
مرتد جماعتوں کے مختلف قسم کے افراد کے احکام امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے رسالہ:"ازالۃ العار"اور ہمارے رسالہ:"فرقہ وہابیہ:اقسام واحکام"میں مرقوم ہیں۔
سوال سوم:مندرجہ ذیل دعوی درست ہے یا نہیں؟
"عہد حاضر کے قادیانی,دیوبندی اور شیعہ اپنی جماعتوں کے بنیادی عقائد سے یقینی طور پر ناواقف ہیں"۔
کسی شخص کو مذکورہ بالا یقین کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟
وضاحت:
(1)کافر کلامی اور گمراہ کے علاوہ ایک صورت کافر فقہی کی ہے۔فقہائے کرام کے یہاں کفار فقہی کے بہت سے احکام کفار کلامی کی طرح ہیں۔جس طرح کافر کلامی کی اقتدا میں نماز باطل ہے,اسی طرح صحیح قول کے مطابق کافر فقہی کی اقتدا میں بھی نماز باطل ہے۔
فقہائے کرام کے اصول کے مطابق کفار فقہی سے نکاح اور ان کے ذبیحہ کا حکم بھی وہی ہے جو کفار کلامی سے نکاح اور ذبیحہ کا حکم ہے۔یہ امور فتاوی رضویہ میں مرقوم ہیں۔
حبط اعمال(حالت ایمان کے اعمال صالحہ کی بربادی)کے احکام کفار کلامی کے ساتھ خاص ہیں۔
(2)مضمون حاضر میں شیعہ سے عہد حاضر کے تبرائی روافض مراد ہیں جو ضروریات دین کے انکار کے سبب کافر کلامی ہیں۔
(3)صرف مذکورہ بالا سوالات ثلاثہ کے جوابات مطلوب ہیں۔
طارق انور مصباحی
رقم کردہ:17:جولائی 2022
وهابيون كي سياسي بازي كري.pdf
2.4 MB
وهابیوں کی سیاسی بازی گری
جنگ آزادی:1857 اور تحریک آزادی ہند اور بعد آزادی دیوبندیوں اور وہابیوں کی مختصر سیاسی تاریخ
صفحات:40
از: طارق انور مصباحی
جنگ آزادی:1857 اور تحریک آزادی ہند اور بعد آزادی دیوبندیوں اور وہابیوں کی مختصر سیاسی تاریخ
صفحات:40
از: طارق انور مصباحی
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
قائل کی مغفرت اورصاحب تاویل پرحکم شرعی
(1)بعض صورتوں میں لاعلمی کے سبب قائل پر حکم شرعی عائد نہیں ہوت،بلکہ اپنی لغزش وخطا سے لاعلمی اور عدم تنبہ کے سبب وہ معافی کا مستحق ہوتا ہے،لیکن جان بوجھ کر اس غلط کو صحیح ماننے والوں اورغلط تاویل کرنے والوں پر حکم شرعی عائد ہو جاتا ہے۔
کسی سے لغزش وخطا کے سبب کفر لزومی کاصدور ہوگیا،لیکن اسے اس کفر لزومی کا علم نہ ہو سکا اور اس کی موت ہو گئی۔اب اس کو نہ بتایا جا سکتا ہے،نہ اس کے رجوع کی کوئی صورت ہے،پس اپنی لغزش سے لاعلم ہونے کے سبب وہ معذور ہے،لیکن اس کی غلط بات یعنی کفر لزومی کو موافق اسلام ثابت کرنے والے پر شرعی حکم ضرور وارد ہو گا،لہٰذا ایسی صورت میں غلط کو غلط کہا جائے اور صاحب معاملہ کو معذور سمجھا جائے۔
(الف)علامہ میر سیدشریف جرجانی حنفی(۰۴۷ھ-۶۱۸ھ) نے تحریرفرمایا:
(من یلزمہ الکفر ولایعلم بہ لیس بکافر)(شرح المواقف:ص556)
ترجمہ:جسے کفر لازم ہو،اوراسے اس کا علم نہ ہوتووہ کافر نہیں۔
(ب)امام عبد الوہاب شعرانی شافعی (۸۹۸ھ-۳۷۹ھ)نے تحریریر فرمایا: (لا یکفر اذا لم یعلم بان اللازم کفر)(الیواقیت والجواہر:جلددوم:ص 123:مصر)
ترجمہ: جب لزوم کفر کا علم نہ ہوتو مرتکب کی تکفیرنہیں کی جائے گی۔
کفری قول کوصحیح ماننے والے کا حکم
رضابالکفر بھی کفر ہے۔قائل کو اس کفر لزومی کا علم ہی نہیں،لہٰذا وہ معذور ہے، اورجو اس کے کفری کلام پر راضی ہو،یا اس کوصحیح بتائے،اس پر حکم شرعی عائدہونے میں کوئی مانع نہیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:”اعلام بقواطع الاسلام میں ہمارے علمائے اعلام سے ان امور کے بیان میں جو بالاتفاق کفر ہیں، نقل فرمایا: (من تلفظ بلفظ کفر یکفر وکذا کل من ضحک او استحسنہ او رضی بہ یکفر)
(جس نے کلمہ کفر یہ بولا اس کو کافر قرار دیا جائے گا،یونہی جس نے اس کلمہ کفر پر ہنسی کی یا اس کی تحسین کی اور اس پر راضی ہوا ا س کو بھی کافر قرار دیا جائے گا۔ت)
بحرالرائق میں ہے:من حسن کلام اھل الاھواء وقال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذلک کفرا من القائل کفر المحسن۔
(جس نے بے دینی کی بات کو سراہا، یا بامقصد قرار دیا،یااس کے معنی کو صحیح قرار دیا تو اگر یہ کلمہ کفر ہو تو اس کاقائل کافر ہوگا اورا س کی تحسین کرنے والا بھی۔ت)“۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد یازدہم:ص 381-جامعہ نظامیہ لاہور)
(2)ایک جدید نظریہ بعد فہم سے متعلق منظر عام پر آیا ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ اس پر بھی بحث کرنی ہے کہ وہ کس حد تک معتبر ہے۔ایسا نہ ہو کہ لوگ غلط بولتے جائیں اور بعد فہم کا سہارا لے کر ہر شخص کو معذور قرار دیا جائے۔تاویلات اقوال کلامیہ میں بھی اس پربحث ہے۔
بعض صورتوں میں عدم علم ضرور معتبر ہے،لیکن نفس مسئلہ بتا دینے کے بعد بعد فہم کا لحاظ مشکل ہے۔دلائل کے سمجھنے میں بعد فہم رکاوٹ ڈال سکتا ہے،لیکن دلائل کو سمجھنا ہر شخص کے لیے ضروری نہیں،بلکہ دلائل میں غور وفکر کے سبب جس کے غلط راہ پر جانے کا خوف ہو، اس کو دلائل میں غور وفکر ممنوع ہے(شرح فقہ اکبر للقاری:ص407-دارالسلامہ بیروت) اور نفس مسئلہ کو سمجھنا عاقل کے لیے مشکل نہیں،گرچہ وہ جاہل ہو:واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
(3)کسی کی جانب سے کوئی غیر مناسب بات ظاہر ہو تو خوش اسلوبی کے ساتھ انہیں مطلع کر دیاجائے۔ماننا یا نہ ماننا اس کا کام ہے:و ما علینا الا البلاغ
(4)اگر کسی ضلالت وبدعت کے سبب کوئی شخص دائرۂ اہل سنت سے خارج ہو جائے تو وہ سنی نہیں،پھر وہ اکابر اہل سنت میں سے کیسے ہو گا۔حکم شرعی کوئی بیان کرے،یا نہ کرے،شرعی حکم من جانب اللہ عائد ہوجاتا ہے۔ اگر صاحب معاملہ خودعالم ہوتو اپنا حکم شرعی خود معلوم کرے،ورنہ اہل علم سے دریافت کر ے۔تائید کنندگان کی ایک جماعت ہوتو بھی حکم شرع عائد ہوگا۔اگر ضلالت وبدعت اور کفر وارتداد کے باوجود کسی کا شمار اکابر اہل سنت میں ہو سکتا ہے تو اسماعیل دہلوی،نواب صدیق حسن خاں بھوپالی،نذیرحسین دہلوی،سرسیدعلی گڑھی،قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی،خلیل احمد انبیٹھوی، اشرف علی تھانوی،غلام احمد قادیانی،ابوالاعلیٰ مودودی،ودیگر ضالین ومرتدین بھی اکابر اہل سنت قرار پائیں گے۔
(5)حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ذبیحہ سے متعلق بحث جاری ہے۔
ذبیحہ سے متعلق تین حکم ہو گا۔
(الف)کافر کلامی کا ذبیحہ فقہا ومتکلمین سب کے یہاں حرام اور مردار ہو گا۔
(ب)کافر فقہی کا ذبیحہ فقہائے کرام کے اصول کے مطابق حرام ومردار ہو گا،اور عملی احکام مثلاًنکاح،نماز،ذبیحہ وغیرہ میں فقہائے کرام کے احکام پر عمل ہوگا۔
(ج)گمراہ محض کا ذبیحہ حلال ہو گا۔گمراہ محض سے وہ مراد ہے جو کافر کلامی یا کافر فقہی نہ ہو،جیسے روافض کا فرقہ تفضیلیہ اور وہابیوں کا فرقہ اسحاقیہ۔عصر حاضر میں فرقہ اسحاقیہ کا وجود نہیں۔اسحاقیوں کو گلابی وہابی کہا جاتا تھا۔برصغیر میں وہابیہ کی دوقسم تھی۔اسماعیلی وہابی اور اسحاقی وہابی۔بعدمیں وہابیہ کی مزیددوقسم ہوگئی۔مقلد وہابیہ (دیابنہ)اورغیرمقلد
قائل کی مغفرت اورصاحب تاویل پرحکم شرعی
(1)بعض صورتوں میں لاعلمی کے سبب قائل پر حکم شرعی عائد نہیں ہوت،بلکہ اپنی لغزش وخطا سے لاعلمی اور عدم تنبہ کے سبب وہ معافی کا مستحق ہوتا ہے،لیکن جان بوجھ کر اس غلط کو صحیح ماننے والوں اورغلط تاویل کرنے والوں پر حکم شرعی عائد ہو جاتا ہے۔
کسی سے لغزش وخطا کے سبب کفر لزومی کاصدور ہوگیا،لیکن اسے اس کفر لزومی کا علم نہ ہو سکا اور اس کی موت ہو گئی۔اب اس کو نہ بتایا جا سکتا ہے،نہ اس کے رجوع کی کوئی صورت ہے،پس اپنی لغزش سے لاعلم ہونے کے سبب وہ معذور ہے،لیکن اس کی غلط بات یعنی کفر لزومی کو موافق اسلام ثابت کرنے والے پر شرعی حکم ضرور وارد ہو گا،لہٰذا ایسی صورت میں غلط کو غلط کہا جائے اور صاحب معاملہ کو معذور سمجھا جائے۔
(الف)علامہ میر سیدشریف جرجانی حنفی(۰۴۷ھ-۶۱۸ھ) نے تحریرفرمایا:
(من یلزمہ الکفر ولایعلم بہ لیس بکافر)(شرح المواقف:ص556)
ترجمہ:جسے کفر لازم ہو،اوراسے اس کا علم نہ ہوتووہ کافر نہیں۔
(ب)امام عبد الوہاب شعرانی شافعی (۸۹۸ھ-۳۷۹ھ)نے تحریریر فرمایا: (لا یکفر اذا لم یعلم بان اللازم کفر)(الیواقیت والجواہر:جلددوم:ص 123:مصر)
ترجمہ: جب لزوم کفر کا علم نہ ہوتو مرتکب کی تکفیرنہیں کی جائے گی۔
کفری قول کوصحیح ماننے والے کا حکم
رضابالکفر بھی کفر ہے۔قائل کو اس کفر لزومی کا علم ہی نہیں،لہٰذا وہ معذور ہے، اورجو اس کے کفری کلام پر راضی ہو،یا اس کوصحیح بتائے،اس پر حکم شرعی عائدہونے میں کوئی مانع نہیں۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:”اعلام بقواطع الاسلام میں ہمارے علمائے اعلام سے ان امور کے بیان میں جو بالاتفاق کفر ہیں، نقل فرمایا: (من تلفظ بلفظ کفر یکفر وکذا کل من ضحک او استحسنہ او رضی بہ یکفر)
(جس نے کلمہ کفر یہ بولا اس کو کافر قرار دیا جائے گا،یونہی جس نے اس کلمہ کفر پر ہنسی کی یا اس کی تحسین کی اور اس پر راضی ہوا ا س کو بھی کافر قرار دیا جائے گا۔ت)
بحرالرائق میں ہے:من حسن کلام اھل الاھواء وقال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذلک کفرا من القائل کفر المحسن۔
(جس نے بے دینی کی بات کو سراہا، یا بامقصد قرار دیا،یااس کے معنی کو صحیح قرار دیا تو اگر یہ کلمہ کفر ہو تو اس کاقائل کافر ہوگا اورا س کی تحسین کرنے والا بھی۔ت)“۔
(فتاویٰ رضویہ:جلد یازدہم:ص 381-جامعہ نظامیہ لاہور)
(2)ایک جدید نظریہ بعد فہم سے متعلق منظر عام پر آیا ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ اس پر بھی بحث کرنی ہے کہ وہ کس حد تک معتبر ہے۔ایسا نہ ہو کہ لوگ غلط بولتے جائیں اور بعد فہم کا سہارا لے کر ہر شخص کو معذور قرار دیا جائے۔تاویلات اقوال کلامیہ میں بھی اس پربحث ہے۔
بعض صورتوں میں عدم علم ضرور معتبر ہے،لیکن نفس مسئلہ بتا دینے کے بعد بعد فہم کا لحاظ مشکل ہے۔دلائل کے سمجھنے میں بعد فہم رکاوٹ ڈال سکتا ہے،لیکن دلائل کو سمجھنا ہر شخص کے لیے ضروری نہیں،بلکہ دلائل میں غور وفکر کے سبب جس کے غلط راہ پر جانے کا خوف ہو، اس کو دلائل میں غور وفکر ممنوع ہے(شرح فقہ اکبر للقاری:ص407-دارالسلامہ بیروت) اور نفس مسئلہ کو سمجھنا عاقل کے لیے مشکل نہیں،گرچہ وہ جاہل ہو:واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
(3)کسی کی جانب سے کوئی غیر مناسب بات ظاہر ہو تو خوش اسلوبی کے ساتھ انہیں مطلع کر دیاجائے۔ماننا یا نہ ماننا اس کا کام ہے:و ما علینا الا البلاغ
(4)اگر کسی ضلالت وبدعت کے سبب کوئی شخص دائرۂ اہل سنت سے خارج ہو جائے تو وہ سنی نہیں،پھر وہ اکابر اہل سنت میں سے کیسے ہو گا۔حکم شرعی کوئی بیان کرے،یا نہ کرے،شرعی حکم من جانب اللہ عائد ہوجاتا ہے۔ اگر صاحب معاملہ خودعالم ہوتو اپنا حکم شرعی خود معلوم کرے،ورنہ اہل علم سے دریافت کر ے۔تائید کنندگان کی ایک جماعت ہوتو بھی حکم شرع عائد ہوگا۔اگر ضلالت وبدعت اور کفر وارتداد کے باوجود کسی کا شمار اکابر اہل سنت میں ہو سکتا ہے تو اسماعیل دہلوی،نواب صدیق حسن خاں بھوپالی،نذیرحسین دہلوی،سرسیدعلی گڑھی،قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی،خلیل احمد انبیٹھوی، اشرف علی تھانوی،غلام احمد قادیانی،ابوالاعلیٰ مودودی،ودیگر ضالین ومرتدین بھی اکابر اہل سنت قرار پائیں گے۔
(5)حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ذبیحہ سے متعلق بحث جاری ہے۔
ذبیحہ سے متعلق تین حکم ہو گا۔
(الف)کافر کلامی کا ذبیحہ فقہا ومتکلمین سب کے یہاں حرام اور مردار ہو گا۔
(ب)کافر فقہی کا ذبیحہ فقہائے کرام کے اصول کے مطابق حرام ومردار ہو گا،اور عملی احکام مثلاًنکاح،نماز،ذبیحہ وغیرہ میں فقہائے کرام کے احکام پر عمل ہوگا۔
(ج)گمراہ محض کا ذبیحہ حلال ہو گا۔گمراہ محض سے وہ مراد ہے جو کافر کلامی یا کافر فقہی نہ ہو،جیسے روافض کا فرقہ تفضیلیہ اور وہابیوں کا فرقہ اسحاقیہ۔عصر حاضر میں فرقہ اسحاقیہ کا وجود نہیں۔اسحاقیوں کو گلابی وہابی کہا جاتا تھا۔برصغیر میں وہابیہ کی دوقسم تھی۔اسماعیلی وہابی اور اسحاقی وہابی۔بعدمیں وہابیہ کی مزیددوقسم ہوگئی۔مقلد وہابیہ (دیابنہ)اورغیرمقلد
وہابیہ۔
عہد حاضرکے فرقہ وہابیہ(غیرمقلدین) اور فرقہ دیوبندیہ کے وہ افراد جو اپنے اکابر کے کفریات کلامیہ وکفریات فقہیہ سے واقف نہ ہوں، جیسے عوام وہابیہ اور عوام دیابنہ۔وہ لوگ کافر فقہی ہیں۔ان کا ذبیحہ فقہائے کرام کے یہاں حرام ومردار ہے۔ ان لوگوں کے کافر فقہی ہونے کی بحث امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے رسالہ: ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار“(ابتدائی صفحات)میں ہے۔ہمارے رسالہ:فرقہ وہابیہ:اقسام واحکام میں اس کی تشریح ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ ذبیحہ سے متعلق جلد ہی تفصیلی مضمون رقم کیا جائے گا۔
دیوبندیوں اور وہابیوں میں محض گمراہ(جو کافر کلامی اور کافر فقہی نہ ہو)وہ شخص ہو گا جو کفریات کلامیہ وکفریات فقہیہ کو نہ مانتا ہو اور ان کفریات کے حاملین کو بھی حسب ترتیب کافر کلامی وکافر فقہی مانتا ہو,لیکن خود کو دیوبندی اور وہابی کہتا ہو۔ان جماعتوں کے نظریات کے مطابق معمولات اہل سنت کو بدعت اور ناجائز کہتا ہو,ایسا شخص محض گمراہ ہو گا۔
ماضی قریب کے صاحب نظر متکلم کی عبارتوں سے یہی معلوم ہوا۔اور ہم اہل نظر متکلم کا قول تسلیم کریں گے۔مذکورہ دونوں رسائل دیکھیں۔
(6)یہ کہنا بھی درست نہیں کہ یقین جانئے کہ جو وہابی ودیوبندی ذبیحہ کرنے والے ہیں،وہ درجہ کفر تک نہیں پہنچے ہیں،لہٰذا اسے کرید کرنے کی ضرورت نہیں۔
اولاً یہ بات ہی صحیح نہیں کہ جتنے ذبیحہ کرنے والے وہابی ودیوبندی ہیں، وہ اپنے اکابر کے کفریات کوجانتے ہی نہیں۔گوشت کی بہت سی دوکانوں میں ذبح کے لیے آس پاس کی مساجد کے ائمہ یا فارغین مدارس یا تعلیم یافتہ لوگوں کو مقرر کیا جاتا ہے۔ تمام وہابی ودیوبندی ائمہ اور فارغین مدارس اپنے اکابرکے کفریات کو جانتے ہی نہیں۔یہ دعویٰ محض دعویٰ ہے۔
دیابنہ,وہابیہ سے ان کی کفریہ عبارات پر مناظرے ہوتے ہیں۔علمائے اہل سنت اپنی تقریروں میں ان کے عقائد باطلہ بیان کرتے ہیں۔ان کی کتابوں میں کفریہ عبارات موجود ہیں۔وہ کتابیں چھپتی ہیں اور فروخت ہوتی ہیں۔یہ لوگ اپنے اکابر کے کفریات کی تاویل میں کتابیں لکھتے ہیں۔ان کتابوں میں بھی وہ کفریہ عبارات منقول ہوتی ہیں۔الحاصل ان فرقوں کے کفریات ڈھکے چھپے نہیں,بلکہ مشہور ومعروف ہیں اور بہت سے لوگ جانتے ہیں۔
ثانیا یہ یقین کیسے حاصل ہوگا کہ ذبیحہ کرنے والے تمام وہابی ودیوبندی اپنے اکابر کے کفریات کو جانتے ہی نہیں۔یقین کے تین ذرائع ہیں۔بلا ذریعہ کیسے یقین حاصل ہوگا؟
علامہ سعد الدین تفتازانی نے رقم فرمایا:(واسباب العلم للخلق ثلاثۃ: الحواس السلیمۃ،والخبر الصادق والعقل)(عبارۃ المتن)
(شرح العقائد النسفیہ:ص32-31 -مجلس برکات مبارک پور)
ترجمہ:مخلوق کے لیے علم کے تین اسباب ہیں:حواس سلیمہ،خبر صادق اور عقل۔
محض عقل سے یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ فلاں شخص کو فلاں بات معلوم ہے یا نہیں اور قرینہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب وہ وہابی یا دیوبندی ہے تو اپنے اکابر کے عقائد سے واقف ہوگا۔حواس ظاہرہ یعنی حاسہ سمع وبصرسے اس وقت ہمیں کچھ معلوم ہوگاجب وہ ہمارے سامنے اقرارکرے کہ ہمیں اپنے اکابر کے کفریات کا علم ہے یا علم نہیں ہے،لیکن جب اقرار وانکار کچھ نہ ہو تو عدم علم کا یقین نہیں ہوسکے گا،نیزخبرصادق بھی یہاں موجود نہیں، پس بلا سبب یقین کیوں کر حاصل ہوگا؟یہ باب اعتقادیات کا مسئلہ ہے۔احتیاط لازم ہے۔
اگرایک آدمی سمندر میں ڈوبنے لگے تو سب لوگ سمندر میں کود کر خود کشی نہ کریں، بلکہ ڈوبنے والے کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لانے کی کوشش کریں۔یہی خیر خواہی وہمدردی ہے۔
نوٹ:سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو پر بحث ہے,لیکن منسوب الیہ کی جانب نسبت کا مجھے یقین نہیں۔محض نفس مسئلہ پر بحث ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:جولائی 2022
عہد حاضرکے فرقہ وہابیہ(غیرمقلدین) اور فرقہ دیوبندیہ کے وہ افراد جو اپنے اکابر کے کفریات کلامیہ وکفریات فقہیہ سے واقف نہ ہوں، جیسے عوام وہابیہ اور عوام دیابنہ۔وہ لوگ کافر فقہی ہیں۔ان کا ذبیحہ فقہائے کرام کے یہاں حرام ومردار ہے۔ ان لوگوں کے کافر فقہی ہونے کی بحث امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے رسالہ: ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار“(ابتدائی صفحات)میں ہے۔ہمارے رسالہ:فرقہ وہابیہ:اقسام واحکام میں اس کی تشریح ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ ذبیحہ سے متعلق جلد ہی تفصیلی مضمون رقم کیا جائے گا۔
دیوبندیوں اور وہابیوں میں محض گمراہ(جو کافر کلامی اور کافر فقہی نہ ہو)وہ شخص ہو گا جو کفریات کلامیہ وکفریات فقہیہ کو نہ مانتا ہو اور ان کفریات کے حاملین کو بھی حسب ترتیب کافر کلامی وکافر فقہی مانتا ہو,لیکن خود کو دیوبندی اور وہابی کہتا ہو۔ان جماعتوں کے نظریات کے مطابق معمولات اہل سنت کو بدعت اور ناجائز کہتا ہو,ایسا شخص محض گمراہ ہو گا۔
ماضی قریب کے صاحب نظر متکلم کی عبارتوں سے یہی معلوم ہوا۔اور ہم اہل نظر متکلم کا قول تسلیم کریں گے۔مذکورہ دونوں رسائل دیکھیں۔
(6)یہ کہنا بھی درست نہیں کہ یقین جانئے کہ جو وہابی ودیوبندی ذبیحہ کرنے والے ہیں،وہ درجہ کفر تک نہیں پہنچے ہیں،لہٰذا اسے کرید کرنے کی ضرورت نہیں۔
اولاً یہ بات ہی صحیح نہیں کہ جتنے ذبیحہ کرنے والے وہابی ودیوبندی ہیں، وہ اپنے اکابر کے کفریات کوجانتے ہی نہیں۔گوشت کی بہت سی دوکانوں میں ذبح کے لیے آس پاس کی مساجد کے ائمہ یا فارغین مدارس یا تعلیم یافتہ لوگوں کو مقرر کیا جاتا ہے۔ تمام وہابی ودیوبندی ائمہ اور فارغین مدارس اپنے اکابرکے کفریات کو جانتے ہی نہیں۔یہ دعویٰ محض دعویٰ ہے۔
دیابنہ,وہابیہ سے ان کی کفریہ عبارات پر مناظرے ہوتے ہیں۔علمائے اہل سنت اپنی تقریروں میں ان کے عقائد باطلہ بیان کرتے ہیں۔ان کی کتابوں میں کفریہ عبارات موجود ہیں۔وہ کتابیں چھپتی ہیں اور فروخت ہوتی ہیں۔یہ لوگ اپنے اکابر کے کفریات کی تاویل میں کتابیں لکھتے ہیں۔ان کتابوں میں بھی وہ کفریہ عبارات منقول ہوتی ہیں۔الحاصل ان فرقوں کے کفریات ڈھکے چھپے نہیں,بلکہ مشہور ومعروف ہیں اور بہت سے لوگ جانتے ہیں۔
ثانیا یہ یقین کیسے حاصل ہوگا کہ ذبیحہ کرنے والے تمام وہابی ودیوبندی اپنے اکابر کے کفریات کو جانتے ہی نہیں۔یقین کے تین ذرائع ہیں۔بلا ذریعہ کیسے یقین حاصل ہوگا؟
علامہ سعد الدین تفتازانی نے رقم فرمایا:(واسباب العلم للخلق ثلاثۃ: الحواس السلیمۃ،والخبر الصادق والعقل)(عبارۃ المتن)
(شرح العقائد النسفیہ:ص32-31 -مجلس برکات مبارک پور)
ترجمہ:مخلوق کے لیے علم کے تین اسباب ہیں:حواس سلیمہ،خبر صادق اور عقل۔
محض عقل سے یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ فلاں شخص کو فلاں بات معلوم ہے یا نہیں اور قرینہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب وہ وہابی یا دیوبندی ہے تو اپنے اکابر کے عقائد سے واقف ہوگا۔حواس ظاہرہ یعنی حاسہ سمع وبصرسے اس وقت ہمیں کچھ معلوم ہوگاجب وہ ہمارے سامنے اقرارکرے کہ ہمیں اپنے اکابر کے کفریات کا علم ہے یا علم نہیں ہے،لیکن جب اقرار وانکار کچھ نہ ہو تو عدم علم کا یقین نہیں ہوسکے گا،نیزخبرصادق بھی یہاں موجود نہیں، پس بلا سبب یقین کیوں کر حاصل ہوگا؟یہ باب اعتقادیات کا مسئلہ ہے۔احتیاط لازم ہے۔
اگرایک آدمی سمندر میں ڈوبنے لگے تو سب لوگ سمندر میں کود کر خود کشی نہ کریں، بلکہ ڈوبنے والے کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لانے کی کوشش کریں۔یہی خیر خواہی وہمدردی ہے۔
نوٹ:سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو پر بحث ہے,لیکن منسوب الیہ کی جانب نسبت کا مجھے یقین نہیں۔محض نفس مسئلہ پر بحث ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:جولائی 2022
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
سوشل میڈیائی فتنوں کا دفاع لازم
(1)عہد حاضر میں اقوام عالم کی اکثریت سوشل میڈیا سے منسلک ہے۔اکابر علمائے اہل سنت اور مشائخ طریقت میں سے بہت سے نفوس عالیہ اس سے پرہیز کرتے ہیں,پس ان کے نام پر کوئی ویڈیو یا تحریر وائرل کر دینا کچھ مشکل نہیں۔ایسا ہو بھی چکا ہے,پھر بعد میں وضاحت آتی ہے کہ ویڈیو میں ایڈیٹنگ ہے اور تحریر جعلی ہے۔
(2)حالیہ دنوں میں ذبیحہ سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت لگا رہا ہے اور اس کی موافقت اور مخالفت میں تحریریں بھی سوشل میڈیا میں نظر نواز ہو رہی ہیں۔ویڈیو کی حقیقت اللہ تعالی کو معلوم۔اکابر اہل سنت میں سے ہر ایک تک سب کی رسائی نہیں کہ صحیح جانکاری حاصل کی جا سکے۔لیکن اس سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا بھی ضروری ہے۔
(3)علمائے اہل سنت وجماعت مرتد فرقوں کے ذبیحہ کا حکم دو طرح بیان فرماتے ہیں۔
پہلی صورت یہ کہ مرتد فرقے کا جماعتی حکم بیان کر دیا جاتا ہے,مثلا بتا دیاجاتا ہے کہ فرقہ دیوبندیہ مرتد جماعت ہے۔ان لوگوں کا ذبیحہ حرام ومردار ہے۔
دوسری صورت یہ کہ بیان حکم میں تفصیل کی جاتی ہے کہ فرقہ دیوبندیہ کے جو لوگ کافر ہیں,ان کا ذبیحہ حرام ومردار ہے,اور فرقہ دیوبندیہ کے لوگ صرف گمراہ(غیر کافر کلامی وغیر کافر فقہی)ہیں,ان کا ذبیحہ جائز ہے۔
(4)مذکورہ ویڈیو میں ہے کہ صرف پانچ لوگوں کو کافر قرار دیا گیا ہے اور ان کا کفر ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔باقی ان لوگوں کے تمام متبعین گمراہ ضرور ہیں,لیکن سب کافر نہیں۔اور جن متبعین کے کفر کا ہم کو علم نہیں تو ان کو مسلمان ماننا ہو گااور جو لوگ مسلمان ہیں,ان کا ذبیحہ جائز ہے۔(خلاصہ)
سوال اول:جس طرح فرقہ دیوبندیہ اپنے بنیادی عقائد کے سبب مرتد فرقہ ہے۔اسی طرح فرقہ قادیانیہ اور عہد حاضر کے شیعوں میں تبرائی فرقہ بھی ضروریات دین کے انکار کے سبب مرتد ہے۔
مذکورہ ویڈیو کے مطابق جس طرح فرقہ دیوبندیہ کے جن افراد کا کفر ہمیں معلوم نہیں,ان کو مسلمان ماننا ہو گا اور ان کا ذبیحہ جائز ہو گا۔گرچہ وہ گمراہ ہیں۔
اسی طرح فرقہ قادیانیہ اور عہد حاضر کے تبرائی روافض میں سے جن لوگوں کا کفر ہمیں معلوم نہیں,کیا ان کو بھی صرف گمراہ ماننا ہو گا اور ان کے کفر کا علم نہ ہونے کے سبب ان کو بھی مسلمان ماننا ہو گا اور ان کا ذبیحہ بھی جائز ہو گا؟
یا ویڈیو میں مذکور حکم صرف دیوبندیوں اور وہابیوں کے لئے ہے۔امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے دیابنہ کو سب سے بدتر کافر کہا ہے,پھر ان کے ساتھ رعایت کی شرعی وجہ کیا ہے؟
سوال دوم:عصر حاضر میں جو دیابنہ اپنے اکابر کے کفریات کلامیہ سے بخوبی واقف ہیں اور جو لوگ اپنی کتابوں, مناظروں اور تقریروں میں ان کفریات کی تاویل باطل کرتے ہیں۔کیا وہ لوگ بھی کافر نہیں۔اگر کافر ہیں تو اس لوگوں کے ذبیحہ کا حکم کیوں نہیں بیان کیا گیا؟
سوال سوم:عصر حاضر میں عام طور پر وہابی سے غیر مقلد وہابیہ مراد ہوتے ہیں,اور مقلد وہابیہ کو دیوبندی کہا جاتا ہے۔ویڈیو میں وہابی کے ذبیحہ سے متعلق سوال کیا گیا تھا,لیکن جواب میں غیر مقلد وہابیہ اور مقلد وہابیہ یعنی دیابنہ دونوں کو ایسا مخلوط کر دیا گیا کہ غلط فہمی مزید بڑھ گئی۔
جواب میں ہے کہ وہابی گمراہ جماعت ہے۔یہ حکم ابتدائی مرحلہ میں غیر مقلد وہابیہ کا تھا۔بعد میں ختم نبوت کے مسئلہ میں تحذیر الناس کی موافقت اور دیابنہ کو مومن ماننے کے سبب غیر مقلد وہابیہ پر بھی کفر کلامی کا حکم نافذ ہوا۔
مقلد وہابیہ یعنی فرقہ دیوبندیہ گمراہ جماعت نہیں,بلکہ مرتد جماعت ہے۔جب ویڈیو میں کہا گیا کہ وہابیوں میں سے صرف پانچ پر حکم کفر ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہابیہ سے مقلد وہابیہ یعنی دیابنہ مراد ہیں۔اگر دیابنہ مراد ہیں تو فرقہ دیوبندیہ کو گمراہ جماعت کہنا بھی غلط ہے۔
اس ویڈیو میں اس قسم کا خلط مبحث ہے اور ہم یہ مان لیں کہ فلاں عالم اہل سنت نے ایسا فرمایا ہے۔
(5)فرقہ دیوبندیہ سے متعلق یہ کہنا صحیح نہیں کہ صرف پانچ کو کافر کہا گیا اور باقی کو گمراہ کہہ کے چھوڑ دیا گیا۔
گرچہ بالتعیین صرف پانچ(اشخاص اربعہ اور قادیانی)کو کافر کہا گیا,لیکن باقی تمام دیوبندیوں کو صرف گمراہ نہیں کہا گیا,بلکہ(من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر) کا حکم نافذ کیا گیا اور وضاحت کی گئی کہ جو ان لوگوں کے کفریہ عقائد پر مطلع ہو کر انہیں مومن کہے,وہ بھی کافر ہے۔
بے شمار دیابنہ اپنے اکابر کے کفریات کلامیہ سے واقف ہیں اور تاویل باطل کرتے ہیں۔ان سب پر کفر کلامی کا حکم کیوں نافذ نہیں ہو گا؟
نیز ان پانچ مرتدین میں چار تو اکابر دیابنہ ہیں اور ایک فرقہ قادیانیہ کا بانی غلام احمد قادیانی ہے۔
کیا قادیانیوں کو بھی صرف گمراہ مانا جائے گا؟اور صرف مرزا کو مرتد مانا جائے گا؟
یا قادیانیوں کے لئے قانون بدل جائے گا؟
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:20:جولائی 2022
سوشل میڈیائی فتنوں کا دفاع لازم
(1)عہد حاضر میں اقوام عالم کی اکثریت سوشل میڈیا سے منسلک ہے۔اکابر علمائے اہل سنت اور مشائخ طریقت میں سے بہت سے نفوس عالیہ اس سے پرہیز کرتے ہیں,پس ان کے نام پر کوئی ویڈیو یا تحریر وائرل کر دینا کچھ مشکل نہیں۔ایسا ہو بھی چکا ہے,پھر بعد میں وضاحت آتی ہے کہ ویڈیو میں ایڈیٹنگ ہے اور تحریر جعلی ہے۔
(2)حالیہ دنوں میں ذبیحہ سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت لگا رہا ہے اور اس کی موافقت اور مخالفت میں تحریریں بھی سوشل میڈیا میں نظر نواز ہو رہی ہیں۔ویڈیو کی حقیقت اللہ تعالی کو معلوم۔اکابر اہل سنت میں سے ہر ایک تک سب کی رسائی نہیں کہ صحیح جانکاری حاصل کی جا سکے۔لیکن اس سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا بھی ضروری ہے۔
(3)علمائے اہل سنت وجماعت مرتد فرقوں کے ذبیحہ کا حکم دو طرح بیان فرماتے ہیں۔
پہلی صورت یہ کہ مرتد فرقے کا جماعتی حکم بیان کر دیا جاتا ہے,مثلا بتا دیاجاتا ہے کہ فرقہ دیوبندیہ مرتد جماعت ہے۔ان لوگوں کا ذبیحہ حرام ومردار ہے۔
دوسری صورت یہ کہ بیان حکم میں تفصیل کی جاتی ہے کہ فرقہ دیوبندیہ کے جو لوگ کافر ہیں,ان کا ذبیحہ حرام ومردار ہے,اور فرقہ دیوبندیہ کے لوگ صرف گمراہ(غیر کافر کلامی وغیر کافر فقہی)ہیں,ان کا ذبیحہ جائز ہے۔
(4)مذکورہ ویڈیو میں ہے کہ صرف پانچ لوگوں کو کافر قرار دیا گیا ہے اور ان کا کفر ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔باقی ان لوگوں کے تمام متبعین گمراہ ضرور ہیں,لیکن سب کافر نہیں۔اور جن متبعین کے کفر کا ہم کو علم نہیں تو ان کو مسلمان ماننا ہو گااور جو لوگ مسلمان ہیں,ان کا ذبیحہ جائز ہے۔(خلاصہ)
سوال اول:جس طرح فرقہ دیوبندیہ اپنے بنیادی عقائد کے سبب مرتد فرقہ ہے۔اسی طرح فرقہ قادیانیہ اور عہد حاضر کے شیعوں میں تبرائی فرقہ بھی ضروریات دین کے انکار کے سبب مرتد ہے۔
مذکورہ ویڈیو کے مطابق جس طرح فرقہ دیوبندیہ کے جن افراد کا کفر ہمیں معلوم نہیں,ان کو مسلمان ماننا ہو گا اور ان کا ذبیحہ جائز ہو گا۔گرچہ وہ گمراہ ہیں۔
اسی طرح فرقہ قادیانیہ اور عہد حاضر کے تبرائی روافض میں سے جن لوگوں کا کفر ہمیں معلوم نہیں,کیا ان کو بھی صرف گمراہ ماننا ہو گا اور ان کے کفر کا علم نہ ہونے کے سبب ان کو بھی مسلمان ماننا ہو گا اور ان کا ذبیحہ بھی جائز ہو گا؟
یا ویڈیو میں مذکور حکم صرف دیوبندیوں اور وہابیوں کے لئے ہے۔امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے دیابنہ کو سب سے بدتر کافر کہا ہے,پھر ان کے ساتھ رعایت کی شرعی وجہ کیا ہے؟
سوال دوم:عصر حاضر میں جو دیابنہ اپنے اکابر کے کفریات کلامیہ سے بخوبی واقف ہیں اور جو لوگ اپنی کتابوں, مناظروں اور تقریروں میں ان کفریات کی تاویل باطل کرتے ہیں۔کیا وہ لوگ بھی کافر نہیں۔اگر کافر ہیں تو اس لوگوں کے ذبیحہ کا حکم کیوں نہیں بیان کیا گیا؟
سوال سوم:عصر حاضر میں عام طور پر وہابی سے غیر مقلد وہابیہ مراد ہوتے ہیں,اور مقلد وہابیہ کو دیوبندی کہا جاتا ہے۔ویڈیو میں وہابی کے ذبیحہ سے متعلق سوال کیا گیا تھا,لیکن جواب میں غیر مقلد وہابیہ اور مقلد وہابیہ یعنی دیابنہ دونوں کو ایسا مخلوط کر دیا گیا کہ غلط فہمی مزید بڑھ گئی۔
جواب میں ہے کہ وہابی گمراہ جماعت ہے۔یہ حکم ابتدائی مرحلہ میں غیر مقلد وہابیہ کا تھا۔بعد میں ختم نبوت کے مسئلہ میں تحذیر الناس کی موافقت اور دیابنہ کو مومن ماننے کے سبب غیر مقلد وہابیہ پر بھی کفر کلامی کا حکم نافذ ہوا۔
مقلد وہابیہ یعنی فرقہ دیوبندیہ گمراہ جماعت نہیں,بلکہ مرتد جماعت ہے۔جب ویڈیو میں کہا گیا کہ وہابیوں میں سے صرف پانچ پر حکم کفر ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہابیہ سے مقلد وہابیہ یعنی دیابنہ مراد ہیں۔اگر دیابنہ مراد ہیں تو فرقہ دیوبندیہ کو گمراہ جماعت کہنا بھی غلط ہے۔
اس ویڈیو میں اس قسم کا خلط مبحث ہے اور ہم یہ مان لیں کہ فلاں عالم اہل سنت نے ایسا فرمایا ہے۔
(5)فرقہ دیوبندیہ سے متعلق یہ کہنا صحیح نہیں کہ صرف پانچ کو کافر کہا گیا اور باقی کو گمراہ کہہ کے چھوڑ دیا گیا۔
گرچہ بالتعیین صرف پانچ(اشخاص اربعہ اور قادیانی)کو کافر کہا گیا,لیکن باقی تمام دیوبندیوں کو صرف گمراہ نہیں کہا گیا,بلکہ(من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر) کا حکم نافذ کیا گیا اور وضاحت کی گئی کہ جو ان لوگوں کے کفریہ عقائد پر مطلع ہو کر انہیں مومن کہے,وہ بھی کافر ہے۔
بے شمار دیابنہ اپنے اکابر کے کفریات کلامیہ سے واقف ہیں اور تاویل باطل کرتے ہیں۔ان سب پر کفر کلامی کا حکم کیوں نافذ نہیں ہو گا؟
نیز ان پانچ مرتدین میں چار تو اکابر دیابنہ ہیں اور ایک فرقہ قادیانیہ کا بانی غلام احمد قادیانی ہے۔
کیا قادیانیوں کو بھی صرف گمراہ مانا جائے گا؟اور صرف مرزا کو مرتد مانا جائے گا؟
یا قادیانیوں کے لئے قانون بدل جائے گا؟
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:20:جولائی 2022
http://www.myislamicinfo.in/2022/07/blog-post_40.html
مرتد جماعتوں سے متعلق تین سوالات
از قلم طارق انور مصباحي
مرتد جماعتوں سے متعلق تین سوالات
از قلم طارق انور مصباحي
www.myislamicinfo.in
مرتد جماعتوں سے متعلق تین سوالات
Myislamicinfo provides all Islamic contents such as Quran, Hadith, Fiqah, Masala, Fatawa, Tasawwuf, seerat, taarikh, urdu arabic article, etc
http://www.myislamicinfo.in/2022/07/blog-post_82.html
سوشل میڈیائی فتنوں کا دفاع لازم
از قلم طارق انور مصباحي
سوشل میڈیائی فتنوں کا دفاع لازم
از قلم طارق انور مصباحي
www.myislamicinfo.in
سوشل میڈیائی فتنوں کا دفاع لازم
Myislamicinfo provides all Islamic contents such as Quran, Hadith, Fiqah, Masala, Fatawa, Tasawwuf, seerat, taarikh, urdu arabic article, etc