🌍دیوان لوح وقلم🌎
2.05K subscribers
580 photos
2 videos
1.42K files
982 links
.
فکر انگیزاسلامی,تحقیقی,تاریخی,سیاسیی,سماجی ومعاشی مضامین ومقالات,خطبات جمعہ اور سنی ماہناموں کا خزانہ.
Download Telegram
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

اپنی وراثتوں کی حفاظت اور اصلاح

ہماری مساجد ومدارس,آثار وتبرکات,مقابر ومزارات اور تنظیمات وتحریکات ہماری مذہبی وراثت ہیں۔اسی طرح حضرات اسلاف کرام علیہم الرحمۃ والرضوان سے متوارت عقائد ومسائل بھی دینی وراثت ہیں۔

مذہبی ودینی وراثتوں کی حفاظت وصیانت اور اس میں دخل انداز ہو جانے والی خامیوں کی اصلاح وثصحیح لازم ہے۔ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتے کہ ہماری وراثتیں تباہی وبربادی سے دوچار ہو جائیں۔

رفتہ رفتہ ہمارے درمیان یہ فیشن جڑ پکڑتے جا رہا ہے کہ ہم اپنی وراثتوں کی پامالی کے اسباب کو ہوا دے رہے ہیں۔کبھی بریلی شریف کی مرکزیت پر انگشت نمائی کی جاتی ہے۔کبھی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔کبھی دعوت اسلامی کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔بسا اوقات متوارث عقائد ومسائل کے خلاف تحقیقات پیش کی جاتی ہیں۔یہ تمام امور ہماری تباہی وبربادی کی طرف لے جانے والے زہریلے اسباب ہیں۔

حالیہ چند دنوں سے بعض بے لگام زبانیں دعوت اسلامی کے خلاف میڈیا میں زہر افشانی کر رہی ہیں۔دراصل بعض لوگ میڈیا میں اپنی بات پیش کر دینے کو کمال معراج سمجھتے ہیں,حالاں کہ آج بھی اصحاب علم وفضل میڈیا سے خود کو دور رکھتے ہیں۔انڈین میڈیا کئی سالوں سے اسلام ومسلمین کو بدنام کرنے میں مشغول ومصروف ہے۔اب ایسے مخالف اسلام میڈیا کو اپنے خلاف مواد فراہم کرنا یقینا بڑی عقل مندی اور دانش وری ہے۔کوشش کرتے رہیں,ممکن ہے کہ کوشش کبھی رنگ لائے,لیکن یہ بھی خیال رہے کہ دشمن فلاں کے خلاف آپ کو استعمال کرے گا اور آپ کے خلاف فلاں کو استعمال کرے گا۔میر جعفر اور میر صادق کی بدحالی وبد انجامی اہل ہند سے پوشیدہ نہیں۔

دعوت اسلامی ایک غیر سیاسی اور عالم گیر تحریک ہے۔یہ دو سو سے زائد ممالک میں مذہب اہل سنت وجماعت کی تعلیمی,تدریسی,تبلیغی,اشاعتی اور تعمیری خدمات انجام دیتی ہے۔ان ممالک کے پاس انٹلی جنس کے محکمے اور شعبے ہیں۔ان ممالک کے انٹلی جنس کے محکموں نے دعوت اسلامی کو کلین چیٹ دے رکھی ہے۔ایسی صورت میں کسی کی زہر افشانی سے کچھ نقصان ہونے کی امید نہیں۔سورج پر تھوک پھینکو گے تو منہ پر آ کر پڑے گا۔

جب تک دعوت اسلامی مسلک اہل سنت وجماعت پر کار بند اور اس کے عقائد ومسائل کی پابند ہے,ان شاء اللہ تعالی تب تک ہم اس کی تائید وحمایت کریں گے۔

اہل سنت وجماعت سے ہونے کا دعوی تو اہل دیوبند اور سلفیان ہند وعرب کو بھی ہے,لیکن دعوت اسلامی اعلی حضرت امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی تعلیمات پر عمل پیرا ہے۔

ہمارے پاس تحریک کے اہم ذمہ داروں کا مستحکم اقرار موجود ہے کہ:"مختلف فیہ فقہی مسائل کے علاوہ اگر دعوت اسلامی میں کوئی بات مسلک اعلی حضرت کے خلاف ہے تو ہم سانس بعد میں لیں گے اور توبہ پہلے کریں گے"-

فقہی مسائل میں اختلاف بھی علما وفقہا کا ہوتا ہے,نہ کہ دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کا۔یہ عوام اہل سنت کی ایک تحریک ہے۔مرکزی ارکان میں علمائے کرام شامل نہیں۔

بعض علمائے اہل سنت نے ٹی وی کے مسئلہ کے سبب دعوت اسلامی پر تنقید کی ہے,لیکن آج تک کسی ذمہ دار عالم نے دعوت اسلامی کو دہشت گرد تنظیم نہیں کہا ہے۔

ہمارے دانشوران جو منطق پیش فرما رہے ہیں,اسی منطق کے اعتبار سے دشمنان اسلام مذہب اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دیتے ہیں۔دونوں کا استدلال درج ذیل ہے۔

(الف)بعض خود ساختہ دانشوران اسلام فرماتے ہیں کہ فلاں دہشت گرد کا تعلق فلاں تحریک سے ہے,لہذا وہ تحریک دہشت گرد ہے۔

(ب)بہت سے متعصب دشمنان اسلام کہتےہیں کہ فلاں دہشت گرد کا تعلق مذہب اسلام ہے,لہذا مذہب اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے۔

دراصل دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب سے نہیں,بلکہ خود اس شخص سے ہے جس سے یہ جرم صادر ہو۔

دنیا بھر میں چوری وڈکیتی,بدکاری وزناکاری,قتل وغارت گری اور بے شمار جرائم ہوتے رہتے ہیں۔ایسے جرائم کے تمام مجرمین لامذہب نہیں ہوتے,بلکہ ان میں سے اکثر لوگ کسی مذہب سے منسلک ہوتے ہیں,کیوں کہ ابھی دنیا میں لا مذہبوں کی تعداد بہت کم ہے۔ان جرائم کے سبب مجرمین کے مذہب کو دہشت گردی کا مذہب نہیں مانا جاتا,لہذا دشمنان مذہب اسلام اور مخالفین دعوت اسلامی کا استدلال فریب نظر اور مغالطہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:09:جولائی 2022
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
عيد الاضحى.pdf
472.3 KB
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

مسلم تاجروں میں حرص ولالچ کی کثرت

اور تجارت ومعیشت کی تباہی وبربادی

(1)کسٹمرز کو اپنی طرف مائل کرنے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک اہم ذریعہ سامانوں کی قیمت میں کچھ معمولی سی کمی رکھنی ہے۔گراہک ایک دو روپے کی زیادتی کو بھی برداشت نہیں کر پاتے اور جہاں انہیں ایک دو روپے کم میں سامان ملتے ہوں,ادھر ہی کا رخ کرتے ہیں۔

ہندو تاجروں کے پاس کسٹمرز کو لبھانے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں,جب کہ مسلم تاجران کے پاس وہ آئیڈیاز نہیں ہوتے یا پھر وہ ان طریقوں سے جان بوجھ کر چشم پوشی کرتے ہیں۔وہ چند ہی کسٹمرز سے دن بھر کا خرچ نکال لینا چاہتے ہیں,حالاں کہ اگر وہ قیمت میں کچھ کمی رکھیں تو خریداروں کی کثرت ان کی طرف مائل ہو گی اور وہ خاطر خواہ منافع حاصل کر سکیں گے۔

(2)عام طور پر مسلم حضرات آٹو ریزرو کرنے کے واسطے مسلم آٹو ڈرائیور کو تلاش کرتے ہیں,لیکن مسلم آٹو ڈرائیور عام طور پر ہندو آٹو ڈرائیور سے دوگنا یا ڈیڑھ گنا کرایہ زیادہ لیتے ہیں۔

یعنی تاجروں سے لے کر آٹو ڈرائیورس تک کے مسلمان کثرت حرص کے شکار اور لالچ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ چند لوگوں سے ہی دن بھر کا خرچ نکالنے کی فکر میں غرق رہتے ہیں۔

(3)ایک حادثہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک عالم صاحب روڈ پر جا رہے تھے۔جوس بیچنے والے ایک مسلم شخص نے انتہائی پرتپاک انداز میں انہیں سلام کیا اور بہت ہی عقیدت ومحبت کے ساتھ انہیں کرسی پر بٹھا کر ایک گلاس جوس پیش کیا۔عالم صاحب نے سمجھا کہ شاید یہ کوئی ہمارے سناشا اور عقیدت مند ہیں۔جوس کا گلاس خالی ہوتے ہی جوس بیچنے والے نے انتہائی خندہ پیشانی اور محبت بھرے انداز میں کہا کہ چالیس روپے ہوئے,تب عالم صاحب کو سمجھ میں آیا کہ اس شخص نے بے وقت ہمارے جیب پر چالیس روپے کا بوجھ ڈال دیا ہے۔خیر اب کوئی چارۂ کار نہ تھا۔انہوں نے رقم ادا کی اور چل دیئے۔خدا نخواستہ اس عالم صاحب کے جیب میں بروقت چالیس روپے نہ ہوتے تو ان کو ذلت وشرم ساری سے دو چار ہونا پڑتا۔بلاشبہہ اس شخص نے اپنے جوس ہی کی قیمت لی تھی,لیکن اس طریق کار میں فریب ودغا بھی شامل ہے,اس میں ایک عالم کی شرم ساری کا بھی خطرہ موجود تھا۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:09:جولائی 2022
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

ای ڈی کا قہر اور ہندتو کا زہر

ای ڈی ایک سرکاری ایجینسی ہے جو معاشی امور کی دیکھ بھال کرتی ہے۔کالے دھن پر نظر رکھتی ہے۔مئی 1956 میں یہ ایجینسی تشکیل دی گئی تھی۔یہ ایجینسی مرکزی حکومت کے زیر اثر ہوتی ہے۔یہ ایجنسی غیر قانونی مال ودولت کو ضبط کر لیتی ہے اور ملزم کو جیل میں ڈال دیتی ہے۔اس طرح ملزم کنگال وبدحال ہو جاتا ہے۔

ایم ایل اے یا ایم پی کی تنخواہ بہت زیادہ نہیں ہوتی,لیکن ان کے پاس چند سالوں میں دولت کی فراوانی ہو جاتی ہے۔اس کا پس منظر اہل ملک سے پوشیدہ نہیں۔ایسے لیڈران ای ڈی کا نام سن کر ہی کانپنے لگتے ہیں,بلکہ ماضی قریب میں بعض لیڈران نیم جنون کا بھی شکار ہو چکے ہیں۔

حالیہ کئی سالوں سے مرکز کی بھاجپائی حکومت اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے واسطے بھی اس ایجینسی کا استعمال کر رہی ہے۔

فروری 2022 میں این سی پی(نیشنل کانگریس پارٹی)کے مشہور لیڈر اور مہاراشٹر حکومت کے اقلیتی وزیر نواب ملک کو ای ڈی کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا۔23:فروری 2022 کو اسے حراست میں لیا گیا۔اس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

نواب ملک کے بعد مہاراشٹر کی ادھو ٹھاکرے حکومت کے دیگر وزیروں اور شیو سینا کے دیگر ودھایکوں کی طرف ای ڈی کا قدم بڑھنے لگا۔یہ دیکھ کر گھبرائے ہوئے ودھایک بی جے پی کے قریب ہوئے اور شیو سینا سے بغاوت پر اتر آئے۔ان باغیوں نے لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ ادھو ٹھاکرے کی حکومت ہندتو کی راہ سے بھٹک چکی ہے,لہذا ہم اس حکومت کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔

درحقیقت ای ڈی کا قہر جس پر نازل ہوتا ہے,وہ ہندتو کا زہر اگلنے لگتا ہے اور بی جے پی میں شامل ہو جاتا ہے۔بھارتی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ان لیڈروں کے دلوں میں ہندتو جاگ اٹھا ہے,حالاں کہ یہ غلط ہے۔دراصل ان کے دلوں میں ای ڈی کا خوف جاگ اٹھتا ہے,پس وہ ہندتو کا نعرہ لگا کر بی جے پی میں شامل ہو جاتے ہیں۔بی جے پی میں شامل ہوتے ہی سارے کالے دھن سفید ہو جاتے ہیں اور ای ڈی کا قدم رک جاتا ہے۔دراصل یہ ایجنسی بھی کسی کے اشارہ پر ہی پیش قدمی کرتی ہے۔

اگر بی جے پی چند سالوں تک مرکز میں برسر اقتدار رہتی ہے تو دیگر پارٹیوں کا وجود فنا ہو جائے گا۔سیاسی لیڈران قومی خدمات کے واسطے سیاست میں نہیں جاتے,بلکہ وہ اپنے مستقبل کو روشن وتابناک بنانے کی فکر لے کر سیاست میں قدم رکھتے ہیں۔جب دیگر پارٹیوں میں رہنے سے ان کے ذاتی مفادات پورے نہیں ہوں گے تو وہ بلا وجہ کسی پارٹی کو کیوں ڈھوتے پھریں گے۔لا محالہ وہ ادھر چلے جائیں گے,جہاں ان کے ذاتی مفادات پورے ہوں گے۔بانجھی گائے کا تھن چوسنے سے کیا فائدہ؟

گوگل میں ای ڈی کی منقولہ ذیل تفصیل درج ہے۔

The Enforcement Directorate (ED) is a law enforcement agency and economic intelligence agency in India to enforce economic laws and fight economic matters. It is headed by the Director of Enforcement. It is composed of officers of the Indian Revenue Service (IRS), Indian Corporate Law Service, Indian Police Service (IPS) and the Indian Administrative Service (IAS). ED has Regional Offices in Ahmedabad, Bangalore, Chandigarh, Chennai, Kochi, Delhi, Panaji, Guwahati, Hyderabad, Jaipur, Jalandhar, Kolkata, Lucknow, Mumbai, Patna and Srinagar. Headed by the Joint Director. ED has Sub Regional Offices i.e. Bhubaneswar, Kozhikode, Indore, Madurai, Nagpur, Allahabad, Raipur, Dehradun, Ranchi, Surat, Shimla. Whose head is the Deputy Director.

The Directorate of Enforcement was established on May 01, 1956, when an ‘Enforcement Unit’ under the control of the Department of Economic Affairs was established under the Foreign Exchange Regulation Act, 1947 (FERA, 1947) to prevent violation of exchange control laws.
In the year 1957 this unit was renamed as Enforcement Directorate and another branch was opened at Madras,Tamil Nadu.


طارق انور مصباحی

جاری کردہ:11:جولائی 2022
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

دین فروشوں کی نئی جماعت کا سراغ

یہود ونصاری نے مذہب اسلام کی تعلیم حاصل کی,تاکہ دین اسلام پر اعتراضات کئے جائیں اور اسلامی تعلیمات میں تحریف کر کے مسلمانوں کو راہ حق سے برگشتہ کیا جائے۔اس جماعت کا نام"مستشرقین"ہے۔اس جماعت نے خلافت عثمانیہ ترکیہ کے سقوط وزوال میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہود ونصاری کو خود ہی مذہب اسلام کی تعلیمات حاصل کرنی پڑی تھی,اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ اس وقت اتنی تعداد میں مسلم خاندانوں کے دین فروش تعلیم یافتگان انہیں فراہم نہ ہو سکے ہوں جتنی تعداد کی یہود ونصاری کو ضرورت تھی,یا پھر ان کو مسلم دین فروشوں پر اس قدر اعتماد نہ ہو کہ ان کو اپنے رازہائے سربستہ بتائے جائیں۔

آج ہی ایک رپورٹ نظر نواز ہوئی کہ مدارس اسلامیہ کے بعض فارغین بھاری بھرکم تنخواہ لے کر آر ایس ایس کے لئے کام کرتے ہیں۔وہ قرآن وحدیث سے ایسے مواد نکال کر فرقہ پرست قوتوں کے حوالے کرتے ہیں,جن کے غلط مطالب ومفاہیم بیان کر کے مذہب اسلام کو بدنام کیا جا سکے۔دین فروشوں کی اس ٹیم کا علم مجھے آج ہی ہوا,لہذا امت مسلمہ کو مطلع کرنا ضروری سمجھا۔

دفاع کی صورت ہم نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ جس دھرم کے لوگ مذہب اسلام کے اصول وضوابط,عقائد ومسائل,معمولات ومراسم یا تاریخی روایات پر انگشت نمائی کریں,ان لوگوں کو اسی کے دھرم کی معتمد کتابوں سے الزامی جوابات دیئے جائیں۔اسلوب بیان معروضی ہو,تنقیدی نہ ہو۔اہل ہند کو معلوم ہے کہ UAPA کا قانون نافذ العمل ہو چکا ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں کمزوروں کو دیکھ کر قانون اپنی حرکت تیز کر دیتا ہے اور طاقت وروں کے سامنے قانون بھی کمزوری ظاہر کرنے لگتا ہے۔

دوسرا کام یہ ہونا چاہئے کہ عقل وسائنس کی روشنی میں اسلامی امور کی ایسی توضیح وتشریح کی جائے کہ مخالفین کے اعتراضات رفع دفع ہو جائیں۔

سرسید احمد خاں کی طرح توضیح نہیں کرنی ہے کہ اسلامی امور کی مطابقت سائنس وعقل سے دکھلانے کے واسطے اسلامی حقائق کا انکار کر دیا جائے,بلکہ بہت سی کتابوں میں اسلامی احکام کی حکمت وعلت بیان کی گئی ہے,ان کتابوں سے استفادہ کر کے ایسے جوابات تیار کئے جائیں کہ انسانی عقلیں ان کو قبول کریں اور سائنس ان امور کی موافقت کرے۔

خدام دین متین سے یہ بھی گزارش ہے کہ احباب واقارب,مشائخ واساتذہ,خلفا وتلامذہ,مریدین ومعتقدین اور محبین ومتوسلین کو دیکھ کر یا ان کے دباؤ پر یا کسی ذاتی مفاد کی خاطر کبھی غلط بیانی نہ کریں۔اگر لا شعوری طور پر لغزش وخطا سرزد ہو جائے تو معلوم ہوتے ہی اس کو کالعدم قرار دیں۔دراصل خدام دین متین کو اسی طریق کار پر عمل پیرا ہونا لازم ہے اور وہ اسی طریق کار پر گامزن رہتے ہیں,لیکن بسا اوقات بعض حادثات خلاف توقع رونما ہو جاتے ہیں,اسی واسطے یاد دہانی کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ::13:جولائی 2022
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

خود پر ظلم وستم کی راہ ہموار نہ کریں

حالیہ دنوں میں بہت سے مضامین وبیانات دیکھنے اور سننے کو مل رہے ہیں جن میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اسلامی سزائیں بادشاہ اسلام اور اسلامی عدالت ہی نافذ کر سکتی ہے۔یہ بات بالکل صحیح ہے۔

ہم جس ملک میں رہتے ہیں,وہاں یہ ماحول سازی کی جا رہی ہے کہ قوم مسلم کو قتل کیا جائے,ماب لنچنگ کی جائے,ان کی دکانیں لوٹی جائیں۔ان کے مکانات مسمار کئے جائیں,ان کی عورتوں کی عصمت دری کی جائے,ان کی لڑکیوں کو اغوا کر لیا جائے,لیکن یہ قوم خاموش تماشائی بنی رہے۔مسلمان قانونی چارہ جوئی بھی نہ کریں۔کورٹ کا رخ بھی نہ کریں۔

ایسی صورت میں اسلوب بیان اور طرز نگارش بدلنے کی ضرورت ہے۔ہماری زبان وقلم کو ہوش مندی دکھلانی چاہئے۔ہمیں اس طرح لکھنا اور بولنا چاہئے۔

اسلامی سزائیں نافذ کرنے کا اختیار بادشاہ اسلام اور اسلامی عدالتوں کو ہے۔اسی طرح بھارت ایک جمہوری ملک ہے۔یہاں کسی سے کوئی جرم صادر ہو تو کورٹ کو سزا دینے کا اختیار ہے۔ عام پبلک قانون کو ہاتھ میں لے کر خود ہی کسی کو سزا نہیں دے سکتی ہے۔اگر ادے پور میں کنہیا لال درزی کا قتل غلط ہے تو اسی طرح اخلاق دادری,پہلوخاں,تبریز انصاری وغیرہ کا قتل بھی غلط ہے۔

اگر بھارت جیسے جمہوری ملک میں"گستاخ نبی کی ایک سزا۔سر تن سے جدا"لگانا مناسب نہیں تو یہ نعرہ بھی درست نہیں کہ:"ملے کاٹے جائیں گے تو رام رام چلائیں گے"-

الحاصل ہر قسم کے ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔قوم مسلم پر ڈھائے جانے والے قہر وجبر کو بھی اجاگر کیا جائے۔ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں پر جب ظلم وستم ہو تو خموشی برتی جائے اور غیروں پر ظلم وستم ہو تو خوب شور مچایا جائے۔اس طرز عمل سے اعدائے اسلام جری ونڈر ہو جائیں گے۔

عقل وشعور اور ہوش مندی سے کام لیا جائے,تاکہ ملک بھر میں امن وشانتی کا ماحول بن سکے۔یک طرفہ شور وغل نہ کیا جائے۔جو لوگ خاموش رہتے ہیں,انہیں ہر وقت خاموش رہنا ہی بہتر ہے اور جو بولتے ہیں,انہیں ہر وقت آواز بلند کرنی چاہئے۔کوئی ایسا موقع فراہم نہ کیا جائے کہ دشمنان اسلام جری وبے باک ہو جائیں۔ہر ظالم وجابر کی حوصلہ شکنی کی جائے,خواہ وہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ادے پور مرڈر کے بعد کئی مسلمانوں کا قتل ہوا,لیکن اس کا چرچا بھی نہ ہو سکا-یہ شکست خوردگی کی علامت ہے اور زوال پذیر قومیں اسی طرز عمل کے سبب خود کو ہلاکت میں ڈالتی ہیں۔مسلمانوں کو اپنی بیداری کا ثبوت دینا چاہئے۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

پھر تجھ سے کام لیا جائے گا دنیا کی امامت کا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:13:جولائی 2022
Forwarded from ❤️📚واعظ الجمعۃ📚❤️ (محمد كاشف محمود الهاشمي)
حرمین شریفین کے فضائل.pdf
602.5 KB
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

سیاسی بصیرت اور دفع الزامات کی ضرورت

جمہوری ممالک میں جو قوم سیاست وحکومت سے دور رہتی ہے,وہ رفتہ رفتہ زوال پذیر ہوتی جاتی ہے۔آزادی کے بعد بھارتی مسلمانوں کی خستہ حالی کا اہم سبب سیاست وحکومت سے دوری ہے۔

حالیہ چند سالوں سے ملک کے حالات جس تیزی سے بدلتے جا رہے ہیں,وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ملک کے موجودہ حالات کا جبری تقاضا ہے کہ قوم مسلم کے مذہبی قائدین بھی سیاست میں دل چسپی لیں اور قوم مسلم کی صالح سیاسی رہنمائی فرمائیں۔

سیاسی شعور بیدار کرنے کے واسطے کسی پارٹی سے منسلک ہونا ضروری نہیں۔حضرت صدر الافاضل قدس سرہ العزیز نے مسلمانان برصغیر کی سیاسی رہنمائی کے واسطے 1925میں آل انڈیا سنی کانفرنس قائم فرمائی۔علمائے اہل سنت وجماعت"آل انڈیا سنی کانفرنس"کے پلیٹ فارم سے ملک کی آزادی یعنی 1947 تک مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی فرماتے رہے۔مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کے واسطے یہ ایک مستقل تحریک تھی۔کسی سیاسی پارٹی سے اس کانفرنس کا انسلاک والحاق نہیں تھا۔

عصر حاضر میں قوم کی سیاسی رہنمائی کے واسطے کوئی تنظیم موجود نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی خاص ضرورت ہے۔سیاسی امور سے دل چسپی رکھنے والے اصحاب علم وفضل انفرادی طور پر قوم کو صحیح راہ دکھاتے رہیں۔سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم بہت وسیع ہے۔اس کے ذریعہ قوم مسلم کے اندر سیاسی شعور بھی بیدار کیا جا سکتا ہے اور مسلمانوں کو صحیح مشورے بھی تفویض کئے جا سکتے ہیں۔

بھارت کی گودی میڈیا نے اسلام ومسلمین کو بدنام کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔اس کی غلط بیانیوں کو اجاگر کرتے رہیں,تاکہ ذلیل ورسوا ہو کر وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائے۔

ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں تو بہت کچھ ہم دیکھ چکے اور جو کچھ باقی ہے,عنقریب وہ سب بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ہم انتہائی شاطر دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔ایسے خطرناک دشمن جب محبت ظاہر کریں تو اس پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔قصاب اپنے ہاتھوں میں گھاس لے کر بھاگ کھڑے ہونے والے جانور کے پاس جاتا ہے,اسے چمکارتا ہے,جب وہ جانور قریب آتا ہے تو اسے پکڑ کر انجام تک پہنچا دیتا ہے:فاعتبروا یا اولی الابصار

فارغین مدارس کی نسل جدید میں بہت سی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔آج سے پانچ چھ سال قبل تک فارغین مدارس عام طور پر مذہبی موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے تھے۔بفضلہ تعالی اب غیر مذہبی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں اور بہت سے عمدہ مضامین نظر نواز ہوتے ہیں۔اسلام کی حفاظت اور مسلمانوں کی بھلائی کی نیت سے جو جائز کام کیا جائے,وہ قابل تحسین اور امر محمود ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:14:جولائی 2022
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

وہابی کا ذبیحہ حرام ہے یا نہیں؟

ایک مشہور عالم کی طرف منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت لگا رہا ہے۔ایسے ویڈیوز کی نسبت کی صداقت جب تک واضح نہ ہو,تب تک منسوب الیہ کا نام لینا بھی مناسب نہیں۔

ویڈیو کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سائل نے سوال کیا کہ وہابی کا ذبیحہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب دیا گیا کہ صرف کافر کا ذبیحہ حرام ہے۔گمراہ کا ذبیحہ حرام نہیں۔چوں کہ وہابیہ میں سے چار شخص اور ایک قادیانی یعنی کل پانچ لوگوں پر حکم کفر ہے,لہذا ان کا ذبیحہ حرام ہو گا۔باقی جس وہابی کے کفر کا ہمیں علم نہیں,ہم اس کو گمراہ مانیں گے اور اس کا ذبیحہ جائز ہو گا۔

واضح رہے کہ برصغیر میں فرقہ وہابیہ کے دو گروہ ہیں۔مقلد وہابیہ کو دیوبندی کہا جاتا ہے اور غیر مقلد وہابیہ کو سلفی اور اہل حدیث کہا جاتا ہے۔

جس جماعت کے بنیادی عقائد میں کفر پایا جاتا ہو,اس جماعت کا جماعتی حکم وہی ہو گا جو کافر جماعتوں کا جماعتی حکم ہوتا ہے۔

جماعتی حکم اس جماعت کے تمام افراد پر نافذ ہوتا ہے۔دیوبندی ایک مرتد جماعت کا نام ہے,پس فرقہ دیوبندیہ کا جماعتی حکم وہی ہو گا جو مرتد جماعتوں کا حکم ہے۔

جماعتی حکم اس جماعت کے تمام افراد پر نافذ ہوتا ہے۔ہاں,جس کا شخصی عقیدہ ہمیں معلوم ہو,اس پر شخصی حکم نافذ ہو گا۔

مثلا جس خاص دیوبندی کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کافر نہیں ہے,مثلا زید ایسادیوبندی ہے کہ وہ اشخاص اربعہ کو کافر مانتا ہے,ان لوگوں کے بیان کردہ کفری عقائد کو نہیں مانتا ہے اور جو اشخاص اربعہ کو مومن مانے,اس کو بھی وہ کافر مانتا ہے,لیکن دیابنہ کی پیروی میں معمولات اہل سنت کو بدعت کہتا ہے تو زید کا حکم جدا گانہ ہو گا۔فرقہ دیوبندیہ کا جماعتی حکم زید پر نافذ نہیں ہو گا,بلکہ اس پر شخصی حکم نافذ ہو گا۔نماز میں زید کی اقتدا,اس کی نماز جنازہ,اس کے لئے دعائے مغفرت,اس سے نکاح,اور اس کے ذبیحہ کا وہی حکم ہو گاجو گمراہ کا حکم ہے۔ایسے افراد جماعتی حکم سے مستثنی ہوں گے۔

اب جس کے بارے میں ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہ دیوبندی ہے,لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ حد کفر تک پہنچا یا نہیں,اس پر جماعتی حکم نافذ ہو گا,گرچہ شخصی طور پر وہ کافر ومرتد نہ ہو,لیکن مرتد جماعت کا فرد ہونا ثابت ہے اور اس کا عدم کفر معلوم نہیں۔

اسلاف کرام سے یہی طریقہ منقول ہے کہ مرتد فرقوں کے افراد پر جماعتی حکم نافذ کیا جاتا ہے۔اسی طرح گمراہ جماعتوں کے افراد پر بھی جماعتی حکم نافذ کیا جاتا ہے۔حالاں کہ یہ ممکن ہے کہ گمراہ جماعت کے بعض افراد مرتد ہوں,اور مرتد جماعت کے بعض افراد محض گمراہ ہوں,کافر نہ ہوں۔شخصی حکم اسی وقت بیان کیا جائے گا جب کسی شخص کے خاص حالات کا علم ہو۔

ذبیحہ سے متعلق وہابیہ اور دیابنہ کا جماعتی حکم جدا گانہ ہے۔دیابنہ کے بنیادی عقائد میں کفریات کلامیہ ہیں,لہذا فرقہ دیوبندیہ پر کفر کلامی کا حکم ہے۔فرقہ دیوبندیہ کے جماعتی احکام وہی ہیں جو مرتد جماعتوں کے احکام ہیں۔

فرقہ وہابیہ کے بنیادی عقائد میں کفریات کلامیہ نہیں,بلکہ کفریات فقہیہ ہیں۔فرقہ وہابیہ کے جماعتی احکام وہی ہیں جو کافر فقہی جماعتوں کے احکام ہیں۔

فتاوی رضویہ سے دونوں جماعتوں کے ذبیحہ کا حکم مندرجہ ذیل ہے۔

(1)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کا خسر دیوبندی ہے وہ اپنی قیمت سے گوشت خرید کر بھیجتاہے۔لانے والا بھی دیوبندی ہے تو یہ گوشت حلال ہے یانہیں؟ نیز دیوبندی کی قربانی کا گوشت کیساہے؟ بینوا توجروا

الجواب: دیوبندی کا ذبیحہ مردار ہے۔ اور دیوبندی کا بھیجا ہوا گوشت اگرچہ مسلمان کا لایا ہوا ہو مردار ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ:جلد بستم)

سوال میں صرف یہ بتایا گیا کہ گوشت بھیجنے والا اور گوشت لانے والا دیوبندی ہے۔اس میں یہ وضاحت نہیں کہ وہ کس درجے کا دیوبندی ہے,یعنی حد کفر تک پہنچا ہوا ہے یا محض گمراہ ہے۔چوں کہ یہ تفصیل معلوم نہیں,پس فرقہ دیوبندیہ کا حکم بیان کر دیا گیا۔جماعتی حکم سے مستثنی صرف وہ لوگ ہوں گے جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہو کہ وہ مرتد نہیں۔

(2)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص فرقہ غیر مقلدین یا فرقہ قادیانی یا وہابیہ سے ہو اس کے ہاتھ کا ذبیحہ واسطے اہل سنت وجماعت کے کھانا جائز ہوگا یا نہیں؟

الجواب: قادیانی صریح مرتد ہیں۔ ان کا ذبیحہ قطعی مردار ہے۔ اور غیر مقلدین وہابیہ پر بوجوہ کثیرہ الزام کفر ہے۔ ان میں جو منکر ضروریات دین ہیں وہ تو بالاجماع کافرہی ہیں، ورنہ فقہائے کرام ان پر حکم کفرفرماتے ہیں اور ذبیحہ کا حلال ہونا نہ ہونا حکم فقہی ہے خصوصا وہی احتیاط کہ مانع تکفیر ہو، یہاں ان کے ذبیحہ کے کھانے سے منع کرتی ہے کہ جمہور فقہاء کرام کے طورپر حرام ومردار کا کھانا ہوگا، لہذا احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم(فتاوی رضویہ۔جلد بستم)

منقولہ بالا فتوی میں بھی فرقہ قادیانیہ اور فرقہ وہابیہ کے ذبیحہ کا جماعتی حکم بیان کیا گیا ہے۔
فرقہ وہابیہ(غیر مقلد وہابیہ) کے بنیادی عقائد میں کفریات کلامیہ نہیں۔ہاں,اگر ان میں کوئی کافر کلامی ہو تو اس کا شخصی حکم وہی ہو گا جو کافر کلامی کا حکم ہے۔

منقولہ بالا فتوی میں فرقہ وہابیہ اور فرقہ قادیانیہ کا جماعتی حکم بیان کیا گیا ہے۔

ہم نے ارتجالا چند سطور رقم کر دیئے۔اب علمائے اسلام سے استفسار ہے کہ جماعتی حکم سے مستثنی کون سا دیوبندی ہو گا۔

(1)جس دیوبندی کے عقائد سے ہم نا آشنا ہیں,ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کافر ہے یا صرف گمراہ ہے۔وہ جماعتی حکم سے مستثنی ہو گا؟

(2)یا جس دیوبندی کے عقائد سے ہم واقف وآشنا ہیں کہ وہ کافر نہیں,بلکہ صرف گمراہ ہے,وہ جماعتی حکم سے مستثنی ہو گا؟

بینوا توجروا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:15:جولائی 2022
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

باب اعتقادیات کے جدید مغالطے

قسط اول

ایک طویل مدت سے علم کلام سے مشغولیت رکھنے کے سبب لوگوں کے نوع بہ نوع سوالات سے کچھ حد تک واقف ہوں۔ان میں سے بہت سے دعوے جھوٹے اور باطل ہوتے ہیں,لہذا ان میں سے بعض مکذوبات ومغالطات اور ان کے مختصر جوابات رقم کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ان شاء اللہ تعالی اہل ایمان کے واسطے نفع بخش ثابت ہو گا۔

چوں کہ یہ اباطیل واکاذیب انتہائی دل کش اسالیب وتراکیب اور دل فریب وپر کشش لہجوں میں پیش کئے جاتے ہیں,لہذا ضعیف الاعتقاد شک ووہم میں مبتلا ہو جاتا ہے اور مریض القلب کے واسطے تو یہی اکاذیب واباطیل بہ منزل دلائل وبراہین ہیں۔

عہد حاضر میں پیش کئے جانے والے چند مغالطے اور ان کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں۔

(1)مغالطہ اول:
دیوبندیوں نے اشخاص اربعہ کی کتابوں(تحذیر الناس,براہین قاطعہ,حفظ الایمان وغیرہا)سے کفریہ عبارتیں نکال دی ہیں,لہذا عہد حاضر کے دیابنہ کو اشخاص اربعہ کی کفریہ عبارتوں کا علم نہیں,پس ان پر حکم کفر عائد نہیں ہو گا۔

جواب:تحذیر الناس,براہین قاطعہ,حفظ الایمان وغیرہا کا وہ ایڈیشن پیش کیا جائے,جس میں کفریہ عبارات خارج کر دی گئی ہیں۔سچ یہ ہے کہ آج تک وہ کفریہ عبارات مذکورہ کتابوں میں مسلسل شائع ہو رہی ہیں۔

(2)مغالطہ دوم:
حسام الحرمین کو تصدیق کے لیے جامعہ نظامیہ حیدر آباد(دکن)بھیجا گیا تھا,لیکن شیخ الاسلام حضرت انوار اللہ فاروقی اور جامعہ نظامیہ کے اساتذہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

جواب:
(الف)شیخ الاسلام حضرت انوار اللہ فاروقی(1265-1336)کی وفات امام اہل سنت قدس سرہ العزیز(1272-1340) کی وفات سے چار سال قبل 1336 میں ہو چکی تھی اور برصغیر میں حسام الحرمین کی تصدیق کا سلسلہ امام اہل سنت کی وفات کے چار سال بعد 1344میں شروع ہوا۔قریبا دو سال 1344 اور 1345تک یہ سلسلہ جاری ریا-برصغیر کے 268 اکابر علمائے کرام ومشائخ عظام نے حسام الحرمین کی تصدیق کی۔ان تصدیقات کا مجموعہ"الصوارم الہندیہ"ہے۔

(ب)حضرت علامہ غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمۃ والرضوان کے رسالہ:تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل پر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور حضرت شیخ انوار اللہ فاروقی حیدرآبادی کی تصدیقات ہیں۔تقدیس الوکیل میں خلیل احمد انبیٹھوی,رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی کا حکم شرعی مرقوم ہے۔اس میں براہین قاطعہ اور تحذیر الناس کی عبارتوں کا رد مرقوم ہے۔تھانوی کا رسالہ(حفظ الایمان)اس وقت معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔

(ج)جامعہ نظامیہ سے متعلق جو من گڑھت افسانہ اور فرضی کہانی بیان کی جاتی ہے,وہ کس کتاب میں منقول ہے؟

(3)مغالطہ سوم:
برصغیر کے علمائے اہل سنت وجماعت میں سے صرف پچیس فی صد علمائے کرام نے حسام الحرمین کی تصدیق کی تھی,باقی پونا حصہ تصدیق سے الگ رہا۔

جواب:
(الف)1344 اور 1345ہجری میں حسام الحرمین پر برصغیر کے علمائے اہل سنت کی تصدیقات حاصل کی گئی تھیں۔کوئی ایک ہی واقعہ پیش کیا جائے کہ فلاں سنی صحیح العقیدہ عالم نے حسام الحرمین کی تصدیق سے انکار کیا تھا۔

(ب)علمائے مصدقین نے فرمایا ہے کہ جو اشخاص اربعہ اور قادیانی کو کا کافر نہ مانے,وہ کافر ہے۔
سوال یہ ہے کہ بالفرض پونا حصہ نے تحریری تصدیق نہیں کی تو ان حضرات نے حکم شرعی کو تسلیم کیا یا نہیں؟

اگر تمام حقائق سے واقف وآشنا ہو کر حکم شرعی کا انکار کیا تو وہ فرضی پونا حصہ مرتد ہے۔من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کا یہی مفہوم ہے۔

منکرین کی کثرت وقلت کے سبب شرعی حکم بدلتا نہیں ہے۔عہد صدیقی میں کلمہ گویان اسلام کی اکثریت غلط راہ پر جا پڑی تھی۔صحیح راہ پر باقی رہنے والوں کی تعداد کم تھی,اس کے باوجود سب پر شرعی حکم نافذ کیا گیا اور ان مخالفین سے جہاد کیا گیا۔

اگر تصدیق نہ لکھنے والوں نے زبانی طور پر شرعی حکم کو تسلیم کیا,لیکن کسی عذر کے سبب وہ تحریری تصدیق نہ لکھ سکے تو ان پر کوئی الزام نہیں۔

دراصل تصدیق بالقلب اور اقرار باللسان ضروری ہے۔جب زبانی اقرار ثابت ہے تو خاص طور پر تحریر کی ضرورت نہیں۔

(ج) بعض علمائے مصدقین کی آل واولاد صلح کلی ہو گئی,پس یہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے آبا واجداد نے تصدیق حسام الحرمین سے رجوع کر لیا تھا۔خانقاہ پھلواری(پٹنہ)اور غالبا اہل گولڑہ بھی اسی قبیل سے ہیں۔

اسلام خود ہی سر بلند ہے۔جو اس سے جدا ہوا,وہ سرنگوں ہوا۔اشخاص وافراد کو اسلام سے سربلندی حاصل ہوتی ہے,اسلام کو زید وبکر سے سربلندی حاصل نہیں ہوتی۔حدیث شریف میں ہے:(الاسلام یعلو ولا یعلی علیہ)

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:15:جولائی 2022
👍1
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

ٹوٹی چٹائی اور سوکھی روٹی

یہ بات بہت مشہور ہے کہ علمائے دین نے ٹوٹی چٹائی پر بیٹھ کر اور سوکھی روٹی کھا کر دینی تعلیم کو فروغ دیا۔یہ بات موافق حقیقت ہے,بلکہ انیسویں اور بیسویں صدی کے حالات اس سے بھی ناگفتہ تھے۔

بھارت میں جنگ غدر:1857 میں ناکامی کے بعد انڈیا سے سلطنت مغلیہ کا خاتمہ ہو گیا۔جنگ غدر میں حصہ لینے والے نوابوں کی نوابی ختم ہو گئی۔بہت سے علمائے دین اور عوام کو جنگ غدر میں حصہ لینے کے سبب پھانسی کی سزا دی گئی۔بہت سے علمائے کرام کو قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔

دینی خدمات انجام دینے والوں کے وظائف بند کر دیئے گئے۔مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔جب ماحول کچھ پرسکون ہوا تو بہت سے علمائے دین فی سبیل اللہ بچوں کو دینی تعلیم دینے لگے۔اس وقت عوامی کلیکشن کا رواج نہیں تھا۔ایک مدت بعد پبلک ڈونیشن سے مدارس کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا۔آج بھی ناظمین مدارس بہت مشقت وجاں فشانی سے مدارس کے اخراجات کا انتظام کرتے ہیں۔

پہلی جنگ عظیم(1914-1918)کے موقع پر سلطنت عثمانیہ ترکیہ کے بہت سے علاقے استعماری قوتوں کے قبضے میں چلے گئے۔ترک فوجیوں نے بہت سے علاقے بچانے میں کامیابی حاصل کی۔ مصطفے کمال اتاترک(1881-1938)نے 03:مارچ 1924 کو عثمانی خلافت کو ختم کر دیا اور ترکی کو ایک جمہوری ملک کا درجہ دیا۔

ترکی میں اسلامی شعائر اور اسلامی تعلیم پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ علمائے دین نے بہت سی مصیبتیں جھیل کر اسلامی تعلیمات کو اگلی نسل تک منتقل کیا۔ترکی کو جمہوری ریاست میں تبدیل کرنے کے واسطے درج ذیل اقدامات کئے گئے۔

دستور سے سرکاری مذہب اسلام کی شق خارج کر دی گئی۔

ملک بھر میں دینی مدارس اور خانقاہوں پر پابندگی لگا کر مذہبی تعلیم کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔

عورتوں کو تمام معاملات میں مردوں کے مساوی قرار دے کر پردہ کو قانوناً جرم قرار دے دیا گیا۔

یورپی لباس پہننا اور ننگے سر رہنا ضروری قرار دے دیا گیا۔

پیری مریدی ممنوع قرار دی گئی اور مزاروں پر جانے اور دعائیں مانگنے پر پابندی لگا دی گئی۔

ہجری تقویم ختم کر کے شمسی کیلنڈر رائج کر دیا گیا۔

جمعہ کی چھٹی ختم کر کے اتوار کی چھٹی کا اعلان کیا گیا۔

عربی زبان میں قرآن کریم کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی اور ترکی زبان کا عربی رسم الخط منسوخ کر کے رومن رسم الخط اختیار کر لیا گیا۔

نماز، دعا اور قرآن کریم کی تلاوت ترکی زبان میں لازمی قرار دے دی گئی۔

حکومت ترکیہ کے مذکورہ بالا اقدامات کے باوجود علمائے دین نے ترکی میں دینی تعلیم کو زندہ رکھا اور خفیہ طور پر بہت سے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ فرمایا۔

عہد حاضر میں بہت سے مدارس اسلامیہ کے پاس اتنی قوت ہے کہ وہ عمدہ نظم ونسق کی جانب قدم بڑھا سکتے ہیں,لیکن شاید وہ کسی مقصد کے تحت ٹوٹی چٹائی اور سوکھی روٹی کی روایت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

(1)بعض ذمہ داران مدارس کو اپنے بچوں کے بارے میں فرماتے سنا کہ بچے مانتے نہیں,ہفتہ میں تین چار دن گوشت لانا ہی پڑتا ہے,پھر جب وہ اپنے مدرسے میں داخل ہوتے ہیں تو قوم کے بچوں کو ٹوٹی چٹائی اور سوکھی روٹی کے واقعات سنا کر صبر کی تلقین فرماتے ہیں۔

اے کاش! یہ نفوس عالیہ طلبائے مدارس کو بھی اپنے گھر کے بچوں کی طرح سمجھتے تو انہیں بھی ہفتہ میں دو تین دن بریانی ضرور مل جاتی۔

(2)چوں کہ مدارس اسلامیہ میں دینی تعلیم دی جاتی ہے اور فارغین مدارس کا دنیاوی مستقبل بوسیدہ کتابوں کے دیمک زدہ اوراق کی طرح روشن وتابناک ہے,لہذا بہت سے علمائے کرام اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکول میں داخل کرتے ہیں اور قوم کو علم دین کے فضائل سنا کر ان کے بچوں کو مدارس میں داخل کرتے ہیں۔

اے کاش! یہ علمائے کرام مدارس اسلامیہ کے نصاب ونظام میں اصلاح کی کوشش فرماتے اور مدارس اسلامیہ میں دینی وعصری مشترکہ نصاب تعلیم رائج فرماتے۔بچوں کو اوپن اسکولنگ سسٹم کے ذریعہ اسکولی امتحانات دلاتے تو بچے بیک وقت دونوں قسم کی تعلیم سے حصہ یاب ہوتے۔

(3)ناظمین مدارس اپنی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہیں اور اپنا مشاہرہ دیگر مدرسین کی بہ نسبت دوگنا یا چار گنا زیادہ رکھتے ہیں۔

اے کاش! نظمائے مدارس اپنے مدارس کے مدرسین وملازمین کی ضرورتوں کا بھی لحاظ فرماتے اور ان کی تنخواہیں بھی حالات زمانہ کے موافق رکھتے تو تعلیمی معیار بھی مستحکم ہوتا۔شیخ سعدی شیرازی قدس سرہ العزیز نے بوستاں(باب اول)میں رقم فرمایا:

ع/ مزدور خوش دل کند کار بیش

معتبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ دعوت اسلامی کے مدارس وجامعات میں طلبہ کے خورد ونوش کا عمدہ نظم ہے۔وہاں دینی وعصری ہر دو قسم کی تعلیم دی جاتی ہے اور اساتذۂ کرام اور ملازمین کا مشاہرہ بھی حالات وضروریات کے موافق ہے۔اللہم زد فزد

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:15:جولائی 2022