سندھ کے ایک 19 گریڈ کے طاقتور افسر کی کرپشن کی کہانی
جس کی وجہ سے سندھ حکومت کو ورلڈ بینک، کراچی کی عوام اور ایف ڈبلیو او (FWO) کے سامنے ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب سندھ حکومت نے ضمیر عباسی کے خلاف کارروائی کرنا چاہی تو اینٹی کرپشن سندھ کے ماتحت عملے نے ضمیر عباسی کو خبر کردی، جس کے بعد وہ کراچی سے فرار ہوگیا۔
طاقتور افسرکو فرار کروانے کے پاداش میں ڈی جی اینٹی کرپشن امتیاز علی ابڑو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نیز اس نااہلی کے سبب اینٹی کرپشن کا قلمدان سنبھالنے والے منسٹر محمد بخش مہر سے بھی یہ قلمدان واپس لیا جا رہا ہے۔
بی آر ٹی کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی پر الزام ہے کہ اس نے یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی منصوبے سے 17 ارب روپے کا غبن کیا اور کان سے کان ملا کر کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔ تین ماہ پہلے جب پہلی بار سوشل میڈیا پر کراچی کے معروف صحافی ارباب چانڈیو نے یونیورسٹی روڈ کو پچھلے چار سال سے کدائی کر کے چھوڑ دینے کی خبر وائرل کی تو حکومتِ سندھ، عالمی بینک اور دیگر اداروں کو معاملے کی سنگینی کا ادراک ہوا۔ حکومتِ سندھ نے غیر جانبداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او (FWO) کو معاہدہ دے دیا اور انہیں پابند کیا کہ پروجیکٹ کو 90 دنوں میں مکمل کیا جائے۔
اور جب FWO نے پروجیکٹ کا کام سنبھالا اور وزیرِ اعلیٰ سندھ اور سندھ کی اہم شخصیات کو بریفنگ دی گئی تو وہاں یہ راز فاش ہوا کہ سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کرپٹ افسر ضمیر عباسی وزیرِ اعلیٰ سندھ اور دیگر اہم شخصیات کو پروجیکٹ کے متعلق جھوٹی بریفنگ دیتے رہے۔ جب ارباب چانڈیو کی خبر کے بعد چار سالوں سے کُنڈر (خستہ حال) کی صورت اختیار کرنے والے پروجیکٹ کے بارے وزیر اعلا سندھ نے ضمیر عباسی سے پوچھ گچھ کی تو ضمیر عباسی نے پھر جھوٹ بول کر پورا ملبہ ٹھیکیدار پر ڈال دیا اور ٹھیکیدار سے سندھ حکومت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دِلوا دی۔
سندھ ہائی کورٹ میں جب یہ پٹیشن جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس نثار بھمبرو کے سامنے پیش ہوئی تو دونوں جسٹس صاحبان بہت سمجھدار ہیں، انہوں نے ٹھیکیدار کی ایک نہ سنی اور حکومتِ سندھ کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہ کیا۔
ورلڈ بینک، FWO کے بعد جب سندھ حکومت گہرائی میں گئی تو اسے معلوم ہوا کہ یہ ساری جگ ہنسائی ضمیر عباسی کے دھوکے (bluff) اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سندھ حکومت نے پہلے تو FWO کو کنٹریکٹ دے کر اس غفلت اور غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی، اور دوسرا یہ کہ ضمیر عباسی کو اینٹی کرپشن کے کیس میں گرفتار کر کے 17 ارب روپے وصول (recover) کرانے کی کوشش کی جائے تاکہ عوام، ورلڈ بینک، FWO اور سوشل میڈیا کو تسلی دی جا سکے۔
مگر حکومتِ سندھ کی یہ منصوبہ بندی اینٹی کرپشن نے لیک کر دی اور ضمیر عباسی کراچی سے فرار ہو گیا۔ اینٹی کرپشن نے کراچی میں ضمیر عباسی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، لیکن ضمیر عباسی ہاتھ نہیں آیا۔
ضمیر عباسی کون ہے؟ اور کیسے اتنی بلندی پر پہنچا؟
ضمیر عباسی اصل میں گمبٹ شہر، ضلع خیرپور کا رہنے والا ہے۔ یہ پہلے نیب میں 2006 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقرر ہوا تھا اور کچھ سال نوکری کرنے کے بعد سیاسی سفارش پر دسمبر 2008 میں ڈیپوٹیشن پر سندھ پولیس میں مساوی عہدے (گریڈ 17) پر ڈی ایس پی لگ گیا۔
جب ضمیر عباسی ڈی ایس پی سکھن تھا تو میری اس سے ملاقات اس وقت ہوئی جب یہ ہائی کورٹ کی طرف سے ایک انکوائری میں میرے پاس پیش ہوا۔ دیکھنے میں یہ اتنا معصوم اور بھولا (Innocent) لگتا ہے کہ اس پیارے کو دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں، مگر بعد کے حالات اور اس کی اڑان دیکھ کر پتہ چلا کہ اس جیسا شارپ، شاطر، ہوشیار، چرب زبان اور چکر باز شخص آپ کو نہیں ملے گا۔ ضمیر عباسی ہمیشہ منفی سوچ رکھنے والا اور دوسروں کے نقصان کا سوچنے اور کرنے والا انسان ہے۔
سال 2013 میں سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر دوسرے محکموں میں ڈیپوٹیشن پر مقرر افسروں کو ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا، اور اسی طرح عباسی اپنے اصل محکمے نیب میں واپس چلا گیا۔ وہاں جاتے ہی ڈاکٹر عاصم کا کیس ضمیر عباسی کو تفتیش کے لیے دے دیا گیا۔ تفتیش کے دوران ڈاکٹر عاصم کو ضمیر عباسی نے کوئی فائدہ دیا یا نہیں، مگر ضمیر عباسی کو فائدہ یہ ہوا کہ...
ضمیر عباسی نے بڑی ہوشیاری سے ایک درخواست سندھ حکومت کو دی کہ 2003 میں گریڈ 16 (سیکشن افسر) کی بھرتی کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 20 اگست 2003 تھی، مگر ضمیر عباسی نے جعلسازی سے 18 دسمبر 2003 کو اپنی درخواست جمع کروا دی۔ ڈاکٹر عاصم صاحب بہت اچھے آدمی ہیں، انہوں نے 2016 میں پرانی درخواست (2003) کی بنیاد پر ضمیر عباسی کو سندھ سیکرٹریٹ میں گریڈ 16 میں سیکشن افسر مقرر کروا دیا۔
ضمیر عباسی نے نیب کی گریڈ 17 کی نوکری سے استعفیٰ دے کر سندھ سیکرٹریٹ میں گریڈ 16 میں جوائن کر لیا اور سیکشن افسر بن گیا۔
جس کی وجہ سے سندھ حکومت کو ورلڈ بینک، کراچی کی عوام اور ایف ڈبلیو او (FWO) کے سامنے ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب سندھ حکومت نے ضمیر عباسی کے خلاف کارروائی کرنا چاہی تو اینٹی کرپشن سندھ کے ماتحت عملے نے ضمیر عباسی کو خبر کردی، جس کے بعد وہ کراچی سے فرار ہوگیا۔
طاقتور افسرکو فرار کروانے کے پاداش میں ڈی جی اینٹی کرپشن امتیاز علی ابڑو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نیز اس نااہلی کے سبب اینٹی کرپشن کا قلمدان سنبھالنے والے منسٹر محمد بخش مہر سے بھی یہ قلمدان واپس لیا جا رہا ہے۔
بی آر ٹی کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی پر الزام ہے کہ اس نے یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی منصوبے سے 17 ارب روپے کا غبن کیا اور کان سے کان ملا کر کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔ تین ماہ پہلے جب پہلی بار سوشل میڈیا پر کراچی کے معروف صحافی ارباب چانڈیو نے یونیورسٹی روڈ کو پچھلے چار سال سے کدائی کر کے چھوڑ دینے کی خبر وائرل کی تو حکومتِ سندھ، عالمی بینک اور دیگر اداروں کو معاملے کی سنگینی کا ادراک ہوا۔ حکومتِ سندھ نے غیر جانبداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او (FWO) کو معاہدہ دے دیا اور انہیں پابند کیا کہ پروجیکٹ کو 90 دنوں میں مکمل کیا جائے۔
اور جب FWO نے پروجیکٹ کا کام سنبھالا اور وزیرِ اعلیٰ سندھ اور سندھ کی اہم شخصیات کو بریفنگ دی گئی تو وہاں یہ راز فاش ہوا کہ سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کرپٹ افسر ضمیر عباسی وزیرِ اعلیٰ سندھ اور دیگر اہم شخصیات کو پروجیکٹ کے متعلق جھوٹی بریفنگ دیتے رہے۔ جب ارباب چانڈیو کی خبر کے بعد چار سالوں سے کُنڈر (خستہ حال) کی صورت اختیار کرنے والے پروجیکٹ کے بارے وزیر اعلا سندھ نے ضمیر عباسی سے پوچھ گچھ کی تو ضمیر عباسی نے پھر جھوٹ بول کر پورا ملبہ ٹھیکیدار پر ڈال دیا اور ٹھیکیدار سے سندھ حکومت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دِلوا دی۔
سندھ ہائی کورٹ میں جب یہ پٹیشن جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس نثار بھمبرو کے سامنے پیش ہوئی تو دونوں جسٹس صاحبان بہت سمجھدار ہیں، انہوں نے ٹھیکیدار کی ایک نہ سنی اور حکومتِ سندھ کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہ کیا۔
ورلڈ بینک، FWO کے بعد جب سندھ حکومت گہرائی میں گئی تو اسے معلوم ہوا کہ یہ ساری جگ ہنسائی ضمیر عباسی کے دھوکے (bluff) اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سندھ حکومت نے پہلے تو FWO کو کنٹریکٹ دے کر اس غفلت اور غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی، اور دوسرا یہ کہ ضمیر عباسی کو اینٹی کرپشن کے کیس میں گرفتار کر کے 17 ارب روپے وصول (recover) کرانے کی کوشش کی جائے تاکہ عوام، ورلڈ بینک، FWO اور سوشل میڈیا کو تسلی دی جا سکے۔
مگر حکومتِ سندھ کی یہ منصوبہ بندی اینٹی کرپشن نے لیک کر دی اور ضمیر عباسی کراچی سے فرار ہو گیا۔ اینٹی کرپشن نے کراچی میں ضمیر عباسی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، لیکن ضمیر عباسی ہاتھ نہیں آیا۔
ضمیر عباسی کون ہے؟ اور کیسے اتنی بلندی پر پہنچا؟
ضمیر عباسی اصل میں گمبٹ شہر، ضلع خیرپور کا رہنے والا ہے۔ یہ پہلے نیب میں 2006 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقرر ہوا تھا اور کچھ سال نوکری کرنے کے بعد سیاسی سفارش پر دسمبر 2008 میں ڈیپوٹیشن پر سندھ پولیس میں مساوی عہدے (گریڈ 17) پر ڈی ایس پی لگ گیا۔
جب ضمیر عباسی ڈی ایس پی سکھن تھا تو میری اس سے ملاقات اس وقت ہوئی جب یہ ہائی کورٹ کی طرف سے ایک انکوائری میں میرے پاس پیش ہوا۔ دیکھنے میں یہ اتنا معصوم اور بھولا (Innocent) لگتا ہے کہ اس پیارے کو دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں، مگر بعد کے حالات اور اس کی اڑان دیکھ کر پتہ چلا کہ اس جیسا شارپ، شاطر، ہوشیار، چرب زبان اور چکر باز شخص آپ کو نہیں ملے گا۔ ضمیر عباسی ہمیشہ منفی سوچ رکھنے والا اور دوسروں کے نقصان کا سوچنے اور کرنے والا انسان ہے۔
سال 2013 میں سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر دوسرے محکموں میں ڈیپوٹیشن پر مقرر افسروں کو ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا، اور اسی طرح عباسی اپنے اصل محکمے نیب میں واپس چلا گیا۔ وہاں جاتے ہی ڈاکٹر عاصم کا کیس ضمیر عباسی کو تفتیش کے لیے دے دیا گیا۔ تفتیش کے دوران ڈاکٹر عاصم کو ضمیر عباسی نے کوئی فائدہ دیا یا نہیں، مگر ضمیر عباسی کو فائدہ یہ ہوا کہ...
ضمیر عباسی نے بڑی ہوشیاری سے ایک درخواست سندھ حکومت کو دی کہ 2003 میں گریڈ 16 (سیکشن افسر) کی بھرتی کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 20 اگست 2003 تھی، مگر ضمیر عباسی نے جعلسازی سے 18 دسمبر 2003 کو اپنی درخواست جمع کروا دی۔ ڈاکٹر عاصم صاحب بہت اچھے آدمی ہیں، انہوں نے 2016 میں پرانی درخواست (2003) کی بنیاد پر ضمیر عباسی کو سندھ سیکرٹریٹ میں گریڈ 16 میں سیکشن افسر مقرر کروا دیا۔
ضمیر عباسی نے نیب کی گریڈ 17 کی نوکری سے استعفیٰ دے کر سندھ سیکرٹریٹ میں گریڈ 16 میں جوائن کر لیا اور سیکشن افسر بن گیا۔
جب کہ 2003 میں سیکشن افسر کا امتحان پاس کرنے والے 2016 تک گریڈ 18 میں پروموٹ ہو چکے تھے، ضمیر عباسی نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن لگائی کہ مجھے بھی اپنے بیچ میٹس کے ساتھ سینئرٹی دی جائے اور گریڈ 18 میں پروموٹ کیا جائے۔ چمتکار یہ ہوا کہ سندھ ہائی کورٹ کے بغیر کسی آرڈر کے، صرف پٹیشن داخل کرنے کی بنیاد پر ضمیر عباسی گریڈ 18 میں پروموٹ ہو گیا۔ یعنی پہلے بغیر کسی امتحان کے گریڈ 16 میں نوکری، اور بعد میں بغیر کسی ہائی کورٹ کے آرڈر کے، 2003 کی سینئرٹی کے ساتھ 2016 میں گریڈ 18 میں ترقی۔
ضمیر عباسی جب نیب میں تھا تو اس بات میں مشہور تھا کہ وہ اپنی طرف سے نیب کا جعلی کال اپ نوٹس بنا کر کسی افسر کو نیب آفس بلا لیتا اور بعد میں اُسی افسر کو گھر بلا کر ڈیل کر لیتا اور ان سے کروڑوں روپے لے لیتا۔ نیب میں تعیناتی کے دوران ضمیر عباسی نے ایک ٹھیکیدار سے 25 کروڑ روپے انکوائری ختم کرنے کے لیے لے لیے۔ ضمیر عباسی نے اُس ٹھیکیدار کا کام نہیں کیا اور ٹھیکیدار نے نیب میں شکایت کر دی۔ اب تک نیب میں ضمیر عباسی کے خلاف چار انکوائریاں چل رہی ہیں۔
نیب انکوائریوں میں یہ سامنے آیا ہے کہ ضمیر عباسی نے ضلع قمبر اور گمبٹ کے کچھ شناختی کارڈ ہولڈرز کے نام پر اربوں روپے (ٹرانسفر) کر کے ترقی اور دبئی بھیجے ہیں۔
یہ ہے ایک افسر کی کرپشن کی کہانی جو 2006 سے شروع ہوتی ہے۔ گذشتہ 20 سالوں میں صرف ایک ہوشیار اور پکڑائی نہ دینے والے افسر نے تقریباً 50 ارب روپے کی کرپشن کر کے اثاثے بنا لیے ہیں جن کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ہے ہمارا پیارا پاکستان
تحریر و تحقیق: نیاز احمد کھوسہ
ضمیر عباسی جب نیب میں تھا تو اس بات میں مشہور تھا کہ وہ اپنی طرف سے نیب کا جعلی کال اپ نوٹس بنا کر کسی افسر کو نیب آفس بلا لیتا اور بعد میں اُسی افسر کو گھر بلا کر ڈیل کر لیتا اور ان سے کروڑوں روپے لے لیتا۔ نیب میں تعیناتی کے دوران ضمیر عباسی نے ایک ٹھیکیدار سے 25 کروڑ روپے انکوائری ختم کرنے کے لیے لے لیے۔ ضمیر عباسی نے اُس ٹھیکیدار کا کام نہیں کیا اور ٹھیکیدار نے نیب میں شکایت کر دی۔ اب تک نیب میں ضمیر عباسی کے خلاف چار انکوائریاں چل رہی ہیں۔
نیب انکوائریوں میں یہ سامنے آیا ہے کہ ضمیر عباسی نے ضلع قمبر اور گمبٹ کے کچھ شناختی کارڈ ہولڈرز کے نام پر اربوں روپے (ٹرانسفر) کر کے ترقی اور دبئی بھیجے ہیں۔
یہ ہے ایک افسر کی کرپشن کی کہانی جو 2006 سے شروع ہوتی ہے۔ گذشتہ 20 سالوں میں صرف ایک ہوشیار اور پکڑائی نہ دینے والے افسر نے تقریباً 50 ارب روپے کی کرپشن کر کے اثاثے بنا لیے ہیں جن کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ہے ہمارا پیارا پاکستان
تحریر و تحقیق: نیاز احمد کھوسہ
دو مراثيوں کو پھانسی ہوئی۔ آخری خواہش پوچھی گئی تو پہلے مراثی نے سارنگی سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ مراثی سے پوچھا گیا کہ کتنا وقت درکار ہو گا۔
مراثی بولا: اگر کسی تجربہ کار استاد سے سیکھیں تو بیس سے پچیس سال لگتے ہیں۔ پوچھا گیا کہ عمر کتنی ہے۔ جواب ملا، 40 سال۔
اچھا تو 65 سال کی عمر میں پھانسی چڑھو گے۔ مراثی نے ہاتھ جوڑ کر کہا، 'جو رب کو منظور'۔
اب دوسرے مراثی کی باری آئی. کہا گیا،
تم نے بھی ظاہر ہے سارنگی سیکھنی ہوگی، "پھانسی ٹالنے کیلئے"۔
دوسرے مراثی نے کہا، ہاں! سرکار لیکن۔
اور پھر پہلے مراثی کی طرف
دیکھ کر بات جاری رکھتے ہوۓ بولا، 'میں نے اس سے سیکھنی ہے'۔
"ہمیں چوتھی بار حکومت ملے تو پھر ملک کی تقدیر بدل دیں گے"
مراثی بولا: اگر کسی تجربہ کار استاد سے سیکھیں تو بیس سے پچیس سال لگتے ہیں۔ پوچھا گیا کہ عمر کتنی ہے۔ جواب ملا، 40 سال۔
اچھا تو 65 سال کی عمر میں پھانسی چڑھو گے۔ مراثی نے ہاتھ جوڑ کر کہا، 'جو رب کو منظور'۔
اب دوسرے مراثی کی باری آئی. کہا گیا،
تم نے بھی ظاہر ہے سارنگی سیکھنی ہوگی، "پھانسی ٹالنے کیلئے"۔
دوسرے مراثی نے کہا، ہاں! سرکار لیکن۔
اور پھر پہلے مراثی کی طرف
دیکھ کر بات جاری رکھتے ہوۓ بولا، 'میں نے اس سے سیکھنی ہے'۔
"ہمیں چوتھی بار حکومت ملے تو پھر ملک کی تقدیر بدل دیں گے"
👍1😁1
ایک لیڈی ڈاکٹر، جو روزانہ 12 سے 14 گھنٹے انسانوں کی جانیں بچانے کے لیے خدمات انجام دیتی ہے، بلوچستان کے سب سے بڑے اسپتال، سول ہسپتال کوئٹہ میں اپنی ہی جان سے تقریباً ہاتھ دھو بیٹھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں ان کے دفتر کے اندر تیزاب سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا تقریباً 70 فیصد جسم جھلس گیا۔
مگر اس المناک واقعے کے بعد حقائق سامنے لانے اور عوام کے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے کہانی ایک اندھیرے میں چلی گئی کہ مبینہ ملزم کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے ایک پستول اور چار زندہ کارتوس برآمد ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔ تاہم حقیقت تک پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کی موت نے پورے معاملے کو مزید پراسرار اور مشکوک بنا دیا ہے۔
یہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جو مسلسل اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی شہریوں کے تحفظ، میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بڑے سرکاری اسپتال کے اندر سکیورٹی کہاں تھی؟ بلوچستان جیسے خطے میں جہاں ہر چند قدم پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، ایک شخص تیزاب اور اسلحہ لے کر اسپتال کے اندر کیسے داخل ہوا؟ اور اتنا ہولناک حملہ انجام دینے میں کامیاب کیسے ہو گیا؟
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ انصاف کے عمل کو گولیوں کی آواز میں کیوں دفن کر دیا گیا؟ اگر واقعی مبینہ ملزم کے پاس سکیورٹی اداروں سے منسوب ہتھیار تھا، جیسا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے دعویٰ کر رہے ہیں، تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ تک پہنچا کیسے؟ اس سوال کا جواب کون دے گا؟
مزید افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس پورے سانحے کے دوران حکومت اپنی ائیر ایمبولینس سروس کی تشہیر اور میڈیا بیانیے کو بہتر بنانے میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں، ہیلی کاپٹر ایمبولینسز اور تشہیری مہمات کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر اسپتالوں میں برن سینٹرز جیسی بنیادی اور ناگزیر سہولتیں آج بھی موجود نہیں۔ تیزاب حملوں کے متاثرین کے لیے فوری اور خصوصی علاج زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے، مگر بلوچستان میں ایسے مریضوں کو علاج کے لیے کراچی منتقل کرنا پڑتا ہے کیونکہ مقامی سطح پر ضروری طبی سہولتیں ناکافی ہیں۔
یہ صرف ایک خاتون ڈاکٹر پر حملہ نہیں، بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا ایک المناک ثبوت ہے، اس پر خاموشی جرم کے برابر ہے۔ اس واقعے کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی طاقتور ہاتھ کی پشت پناہی چھپ نہ سکے اور اصل حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
سمی دین بلوچ
مگر اس المناک واقعے کے بعد حقائق سامنے لانے اور عوام کے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے کہانی ایک اندھیرے میں چلی گئی کہ مبینہ ملزم کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے ایک پستول اور چار زندہ کارتوس برآمد ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔ تاہم حقیقت تک پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کی موت نے پورے معاملے کو مزید پراسرار اور مشکوک بنا دیا ہے۔
یہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جو مسلسل اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی شہریوں کے تحفظ، میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بڑے سرکاری اسپتال کے اندر سکیورٹی کہاں تھی؟ بلوچستان جیسے خطے میں جہاں ہر چند قدم پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، ایک شخص تیزاب اور اسلحہ لے کر اسپتال کے اندر کیسے داخل ہوا؟ اور اتنا ہولناک حملہ انجام دینے میں کامیاب کیسے ہو گیا؟
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ انصاف کے عمل کو گولیوں کی آواز میں کیوں دفن کر دیا گیا؟ اگر واقعی مبینہ ملزم کے پاس سکیورٹی اداروں سے منسوب ہتھیار تھا، جیسا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے دعویٰ کر رہے ہیں، تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ تک پہنچا کیسے؟ اس سوال کا جواب کون دے گا؟
مزید افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس پورے سانحے کے دوران حکومت اپنی ائیر ایمبولینس سروس کی تشہیر اور میڈیا بیانیے کو بہتر بنانے میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں، ہیلی کاپٹر ایمبولینسز اور تشہیری مہمات کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر اسپتالوں میں برن سینٹرز جیسی بنیادی اور ناگزیر سہولتیں آج بھی موجود نہیں۔ تیزاب حملوں کے متاثرین کے لیے فوری اور خصوصی علاج زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے، مگر بلوچستان میں ایسے مریضوں کو علاج کے لیے کراچی منتقل کرنا پڑتا ہے کیونکہ مقامی سطح پر ضروری طبی سہولتیں ناکافی ہیں۔
یہ صرف ایک خاتون ڈاکٹر پر حملہ نہیں، بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا ایک المناک ثبوت ہے، اس پر خاموشی جرم کے برابر ہے۔ اس واقعے کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی طاقتور ہاتھ کی پشت پناہی چھپ نہ سکے اور اصل حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
سمی دین بلوچ
❤1
کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دی، ہماری وفاقی حکومت اس ایک روزہ ہڑتال کو روکنے کیلئے سرگرم ہو گئی، 9 جون کو تو پتا نہیں کیا ہوتا لیکن 5 جون سے کشمیر میں انٹرنیٹ بند، ٹیلی فون بند، دفاتر بند، دکانیں بند، سکول بند، کاروبار بند، پورا جموں کشمیر بند، ایک روزہ ہڑتال کو روکنے کیلئے پورا ہفتہ ہڑتال کرادی، ایسی فہم و فراست والی حکومت دیکھی ہے کبھی؟
گزشتہ سال حکومت اور کشمیری مظاہرین کے معاہدے میں ایک شق یہ بھی تھی کہ آزاد کشمیر کے ہر ضلع میں CT سکین، MRI مشینیں نصب کی جائیں گی۔ اگر خود غرض اہلِ اقتدار 75 سال میں 20 میڈیکل مشینیں فراہم نہیں کر سکے تو انکے منہ سے ریاست کی رٹ اور قانون کی بالادستی جیسے الفاظ مذاق ہی لگیں گے۔
ماجد نظامی
ماجد نظامی
کشمیر میں جو کچھ ٹرمپ کا فیورٹ فیلڈ مارشل کروارہا ہے کیا اسے ہم عاصم منیر ڈاکٹرائن کہہ سکتے ہیں ؟
#سانحہ_راولاکوٹ
#RawalakotBleeds
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
#سانحہ_راولاکوٹ
#RawalakotBleeds
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
اسلام آباد میں میں شیشہ کیفے اور کلب کے آغاز کی ویڈیو نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
پاکستان پر قابض حکمرانوں کی بگڑی اولادوں کے لیے رات گئے تک جاری رہنے والے ان پروگراموں کے لیے کوئی قانون نہیں مگر عام تاجروں کے لیے دکانیں جلد بند کرنے کے سخت احکامات
پاکستان پر قابض حکمرانوں کی بگڑی اولادوں کے لیے رات گئے تک جاری رہنے والے ان پروگراموں کے لیے کوئی قانون نہیں مگر عام تاجروں کے لیے دکانیں جلد بند کرنے کے سخت احکامات
👍1
پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اگر گھروں میں کام کرنے والی ملازماؤں کے بچے اغوا کرکے اگر انہیں مجبور کرسکتی ہیں کہ تم اپنی مالکن (جو وفاقی وزیر تھیں) کے واش روم میں یہ خفیہ کیمرہ لگا دو تو انکے لیے کیا مشکل ہے کہ کسی سے خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکوادیں تاکہ اس واقعے کو لوگوں کی توجہ کسی دوسرے اہم ایشو سے ہٹانے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔
کوئٹہ میں خاتون پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے دو گھنٹے کے اندر ملزم کا قتل جو یقینا فیک انکاؤنٹر ہے بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے ۔
کوئٹہ میں خاتون پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے دو گھنٹے کے اندر ملزم کا قتل جو یقینا فیک انکاؤنٹر ہے بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے ۔
جرنیلی بیانیہ 👇
"کشمیری کسی کے ایجنڈے پر یہ سب کررھے ہیں۔"
سچ کیا ہے 👇
جو بھی اپنے حق کیلئے آواز اُٹھائے تو یہ جرنیلی کتے ان اوازوں کو کسی کا ایجنڈا کہہ دیتے ہیں لیکن خود دن رات امریکی ایجنڈے، برطانوی ایجنڈے اور چینی ایجنڈوں پر کبھی یہاں دوڑتے ہیں اور کبھی وہاں
"کشمیری کسی کے ایجنڈے پر یہ سب کررھے ہیں۔"
سچ کیا ہے 👇
جو بھی اپنے حق کیلئے آواز اُٹھائے تو یہ جرنیلی کتے ان اوازوں کو کسی کا ایجنڈا کہہ دیتے ہیں لیکن خود دن رات امریکی ایجنڈے، برطانوی ایجنڈے اور چینی ایجنڈوں پر کبھی یہاں دوڑتے ہیں اور کبھی وہاں
👍1
“ عمران خان جیل میں مر گیا “ اگر آپ کو اس خبر سے رتی برابر بھی تکلیف ہوگی تو تحریک انصاف کی قیادت سے ، سہیل آفریدی سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار مت کیجیے۔ مہینوں سے عمران خان کی کسی شخص سے ملاقات نہیں ہوئی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ شدت کی اس گرمی میں عمران خان کے سیل میں پنکھا بھی چلتا ہوگا یا نہیں۔ پینے کا پانی بھی دستیاب ہوتا ہوگا یا نہیں۔ کھانا بھی ملتا ہوگا یا نہیں۔ اسکے باجود یہ لوگ میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں۔
اگر آپ ان لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کریں گے تو پھر کسی انتہائی تکلیف دہ خبر کے لیے تیار ہوجائیے۔ یہ لوگ اگر کمزور اور مجبور ہیں تو میدان چھوڑ دیں۔ گھر چلیں جائیں۔ کسی استحکام پارٹی ، کسی مسلم لیگ میں چلے جائیں ، کوئی اور جماعت بنالیں ، لیکن جن چوروں کیساتھ نا عمران خان اقتدار سے پہلے بیٹھا ، نا اقتدار کے دوران بیٹھا نا اقتدار کے بعد بیٹھا ان کیساتھ بیٹھنے سے گریز کریں۔ سختی زیادہ ہے تو سہولت کاری کرنے کی بجائے پارلیمنٹ اور عہدے چھوڑ دیں۔ عوام اپنا رستہ خود نکال لیں گے۔ حالات اپنی قیادت خود پیدا کرلیں گے۔
Enkido
اگر آپ ان لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کریں گے تو پھر کسی انتہائی تکلیف دہ خبر کے لیے تیار ہوجائیے۔ یہ لوگ اگر کمزور اور مجبور ہیں تو میدان چھوڑ دیں۔ گھر چلیں جائیں۔ کسی استحکام پارٹی ، کسی مسلم لیگ میں چلے جائیں ، کوئی اور جماعت بنالیں ، لیکن جن چوروں کیساتھ نا عمران خان اقتدار سے پہلے بیٹھا ، نا اقتدار کے دوران بیٹھا نا اقتدار کے بعد بیٹھا ان کیساتھ بیٹھنے سے گریز کریں۔ سختی زیادہ ہے تو سہولت کاری کرنے کی بجائے پارلیمنٹ اور عہدے چھوڑ دیں۔ عوام اپنا رستہ خود نکال لیں گے۔ حالات اپنی قیادت خود پیدا کرلیں گے۔
Enkido
پستی کی حد تک چاپلوس بن کر پاکستانی میڈیا کے صرف دو ہی کام رہ گئے ہیں، ایک تو خون کے دھبے دھونا اور دوسرا ہائبرڈ نظام کے جرائم کو صحافتی واردات کے ذریعے چُھپانا، ہمارے ٹی وی چینلز بتا رہے ہیں کہ راولا کوٹ میں 3 کشمیری اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے جبکہ سیکیورتی اہلکار مظاہرین کی فائرنگ سے شہید ہوئے، سارا میڈیا صرف اور صرف اوپر سے بھیجی گئیں خبریں چلا رہا ہے، جن میں کشمیری احتجاجی قیادت کو قصوروار اور ریاست کو بے قصور ثابت کرنا ہے، اگر آپ راولاکوٹ کی صورتحال پر دونوں طرف کی حقیقت نہیں بتا سکتے تو کم از کم آپ کو خون کے دھبے صاف کرنے کیلئے اپنی آستین تو پیش نہیں کرنی چاہیے۔ انسان سچ نہ بول سکے تو عافیت خاموش رہنے میں ہے نہ کہ وہ فسطائیت کا ٹاوٹ اور وکیل صفائی بن جائے
امیر عباس
امیر عباس
پاکستان اور کشمیر میں فرق دیکھنا ہے تو آج راولاکوٹ اور اڈیالہ دیکھ لیں۔
ایک طرف قیادت خود میدان میں ہے
دوسری طرف لوگ ڈھونڈ رہے ہیں
قیادت کتھے مری پئی اے
شفقت چوہدری
ایک طرف قیادت خود میدان میں ہے
دوسری طرف لوگ ڈھونڈ رہے ہیں
قیادت کتھے مری پئی اے
شفقت چوہدری
پرانی مثال تھی
اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا
نئی مثال ہوگی
اپنی شہہ رگ پر گولیاں چلانا
اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا
نئی مثال ہوگی
اپنی شہہ رگ پر گولیاں چلانا
عمران خان کے گھر سے اسلحہ
لبیک کے گھر سے اسلحہاور انڈین کرنسی
اور اب کشمیری لیڈر شوکت میر کے گھر سے اسلحہ اور غیر ملکی کرنسی۔
کم۔بختو !!!!
گدھو !!!
کم عقلو!!!
کم سے کم اسکرپٹ تو تبدیل کر لو۔
یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔
لبیک کے گھر سے اسلحہاور انڈین کرنسی
اور اب کشمیری لیڈر شوکت میر کے گھر سے اسلحہ اور غیر ملکی کرنسی۔
کم۔بختو !!!!
گدھو !!!
کم عقلو!!!
کم سے کم اسکرپٹ تو تبدیل کر لو۔
یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔
حکومت کی جانب سے آوازوں کو دبانے کے لیے انعامات تو مقرر کیے جا سکتے ہیں مگر عوامی مسائل کے حل کیلئے یہ رقم فراہم نہیں کی جاسکتی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چار رہنماؤں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعام کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت مسائل کے سیاسی حل کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے اور یہ طریقہ کار مزید نفرت، انتشار اور شدید ردعمل کا باعث بنے گا۔
نااہل حکمرانوں کی نااہل روش کی بدولت ہی آج حالات اس نہج پر پہنچے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چار رہنماؤں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعام کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت مسائل کے سیاسی حل کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے اور یہ طریقہ کار مزید نفرت، انتشار اور شدید ردعمل کا باعث بنے گا۔
نااہل حکمرانوں کی نااہل روش کی بدولت ہی آج حالات اس نہج پر پہنچے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی
🤬1
افغانستان کو سیڈلیس لیموں کی برآمدات بند ہونے کے باعث ساری پیداوار مقامی منڈیوں میں آ رہی ہے، جس سے رسد طلب سے بڑھ گئی ہے اور قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں۔ نتیجتاً باغبان سیزن کے آغاز ہی سے نقصان برداشت کر رہے ہیں۔
مقصد یہ نہیں کہ عوام کو لیموں مہنگا ملے، بلکہ عوام کو سستا اور معیاری پھل دستیاب ہو۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کم کرنے میں معاونت کرے، انہیں سبسڈی اور دیگر سہولیات فراہم کرے تاکہ کم نرخوں پر فروخت کے باوجود انہیں مناسب منافع حاصل ہو سکے۔
اگر پیداواری اخراجات بڑھتے رہیں اور منڈی میں قیمتیں گرتی رہیں تو کاشتکاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی، نقصانات میں اضافہ ہوگا اور وہ مجبوراً اپنے باغات ختم کریں گے۔ پاکستان کو چند سال ہوئے ہے کہ لیموں میں خود کفیل ہوا ہے۔سبزی منڈی اسلام آباد
مقصد یہ نہیں کہ عوام کو لیموں مہنگا ملے، بلکہ عوام کو سستا اور معیاری پھل دستیاب ہو۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کم کرنے میں معاونت کرے، انہیں سبسڈی اور دیگر سہولیات فراہم کرے تاکہ کم نرخوں پر فروخت کے باوجود انہیں مناسب منافع حاصل ہو سکے۔
اگر پیداواری اخراجات بڑھتے رہیں اور منڈی میں قیمتیں گرتی رہیں تو کاشتکاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی، نقصانات میں اضافہ ہوگا اور وہ مجبوراً اپنے باغات ختم کریں گے۔ پاکستان کو چند سال ہوئے ہے کہ لیموں میں خود کفیل ہوا ہے۔سبزی منڈی اسلام آباد
اخے کشمیریوں کو آٹا 2000 روپے من ملتا ہے بجلی کا یونٹ 3 روپے کا ملتا ہے۔
مخے کشمیر کے نام پر تم نے سات لاکھ فوج بنا لی۔ کشمیر کے نام پر دو سو ارب ڈالرز کی ایمپائر کھڑی کرلی۔ کشمیر کے نام پر پانچ پانچ ارب روپے کا ریٹائرمنٹ پیکج لے لیا۔ کشمیر کے نام پر چار مارشل لاء لگا دیے۔ کشمیر کے نام پر گالف کلب ، ڈی ایچ اے ، پلازے ، کلب بنا لیے۔ کشمیر کے نام پر پاپا جونز کھول لیے جزیرے خرید لیے۔ اخے آٹا اور بجلی۔
Enkido
مخے کشمیر کے نام پر تم نے سات لاکھ فوج بنا لی۔ کشمیر کے نام پر دو سو ارب ڈالرز کی ایمپائر کھڑی کرلی۔ کشمیر کے نام پر پانچ پانچ ارب روپے کا ریٹائرمنٹ پیکج لے لیا۔ کشمیر کے نام پر چار مارشل لاء لگا دیے۔ کشمیر کے نام پر گالف کلب ، ڈی ایچ اے ، پلازے ، کلب بنا لیے۔ کشمیر کے نام پر پاپا جونز کھول لیے جزیرے خرید لیے۔ اخے آٹا اور بجلی۔
Enkido
ریپ کیس کے مرکزی مجرم فیصل ممتاز راٹھور کو پاکستان آرمی نے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا۔
🔥 یہ 2013 کا دلخراش واقعہ ھے جب فیصل ممتاز راٹھور نے مظفر آباد کے پی سی ہوٹل میں ایک 24 سالہ طالبہ (راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والی ماسٹرز کی طالبہ) کو نوکری کے انٹرویو کے بہانے بلایا اور اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اسے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا
اور جب اس لڑکی نے اپنے والدین کو بتایا تو والدین نے "عزت بچانے" کے لیے اپنی ہی بیٹی کو زہر دے کر مار دیا۔
فیصل ممتاز راٹھور کو اس کیس کا مرکزی ملزم قرار دیا گیا جبکہ گینگ ریپ میں فیصل خان اور فہد خان (اس وقت کے صدر یعقوب خان کے بیٹے) شریک جرم تھے
دھونس اور دھمکی سے ریپ کیس دبا دیا گیا تھا۔ ثبوت غائب ہو گئے، اور کسی کو کوئی شفاف تفتیش یا سزا نہیں ہوئی۔
یہ جنسی درندہ پاکستان آرمی کا منظور نظر ھے۔ جیسے سردار عبدالرحمن کھیتران بلوچستان میں ہے
اسی طرح اور بھی نہ جانے کتنے ہونگے
ایسے درندے زیادہ فوجیوں کے ہمیشہ پالتو رہتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے جرائم کا پتہ ہے ۔
🔥 یہ 2013 کا دلخراش واقعہ ھے جب فیصل ممتاز راٹھور نے مظفر آباد کے پی سی ہوٹل میں ایک 24 سالہ طالبہ (راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والی ماسٹرز کی طالبہ) کو نوکری کے انٹرویو کے بہانے بلایا اور اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اسے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا
اور جب اس لڑکی نے اپنے والدین کو بتایا تو والدین نے "عزت بچانے" کے لیے اپنی ہی بیٹی کو زہر دے کر مار دیا۔
فیصل ممتاز راٹھور کو اس کیس کا مرکزی ملزم قرار دیا گیا جبکہ گینگ ریپ میں فیصل خان اور فہد خان (اس وقت کے صدر یعقوب خان کے بیٹے) شریک جرم تھے
دھونس اور دھمکی سے ریپ کیس دبا دیا گیا تھا۔ ثبوت غائب ہو گئے، اور کسی کو کوئی شفاف تفتیش یا سزا نہیں ہوئی۔
یہ جنسی درندہ پاکستان آرمی کا منظور نظر ھے۔ جیسے سردار عبدالرحمن کھیتران بلوچستان میں ہے
اسی طرح اور بھی نہ جانے کتنے ہونگے
ایسے درندے زیادہ فوجیوں کے ہمیشہ پالتو رہتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے جرائم کا پتہ ہے ۔
سہیل آفریدی' بیرسٹر گوہر ' سلمان راجہ
کشمیریوں کو دیکھ کر کچھ شرم محسوس ہوتی ہے یا نہیں؟
کشمیریوں کو دیکھ کر کچھ شرم محسوس ہوتی ہے یا نہیں؟