صدقے کے کچھ چھو ٹے چھو ٹے طریقے
01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔
02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔
04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔
05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔
06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔
07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔
08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔
09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔
10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔
11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔
12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔
13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔
14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔
15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔
16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔
17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔
18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔
19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔
20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔
21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔
22: مسجد کی ٹوپیاں گھرلا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔
23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔
24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔
25: اس پیغام کو دوسروں کو بھیج کر صدقہ خیرات پر آمادہ کیجیئے
صدقہ احادیث کی روشنی میں
1. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
2. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
3. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
4. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
5. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
6. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
7. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
8. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
9. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
10. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
11. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
12. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
13. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
14. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
15. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
16. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]
17. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
18. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]
19. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
20. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
21. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
22. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
23. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
24. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
25. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
26. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]
27. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
28. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
29. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
30. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]
31. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]
32. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]
33. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]
34. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]
35. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]
36. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]
37. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
38. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
39. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]
اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بن جائیں
01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔
02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔
04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔
05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔
06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔
07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔
08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔
09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔
10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔
11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔
12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔
13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔
14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔
15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔
16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔
17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔
18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔
19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔
20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔
21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔
22: مسجد کی ٹوپیاں گھرلا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔
23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔
24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔
25: اس پیغام کو دوسروں کو بھیج کر صدقہ خیرات پر آمادہ کیجیئے
صدقہ احادیث کی روشنی میں
1. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
2. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
3. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
4. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
5. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
6. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
7. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
8. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
9. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
10. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
11. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
12. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
13. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
14. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
15. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
16. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]
17. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
18. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]
19. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
20. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
21. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
22. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
23. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
24. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
25. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
26. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]
27. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
28. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
29. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
30. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]
31. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]
32. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]
33. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]
34. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]
35. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]
36. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]
37. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
38. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
39. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]
اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بن جائیں
👍1
ایکسپورٹ کیلئے سب سے اہم چیز توانائی کی قیمتیں ہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومت نے جس طرح بجلی گیس کی قیمتیں مجرمانہ طریقے سے بڑھائیں ، پاکستان میں یہ صنعتیں تباہ ہونے کا سب سے اہم فیکٹر رہا ہے۔ اور یہ حکمرانوں کی نااہلی کے سبب نہیں ہوا ہے بلکہ یہ غیر ملکی طاقتوں کے منصوبوں کے تحت ہوا ہے ۔ یہ کسی طرح بھی دہشت گردی سے کم نہیں ہے زمہ داری فوج اور انکے کٹھ پتلیوں پر عائد ہوتی ہے
کینٹ کے اندر اور باہر دو الگ دنیائیں
سعدیہ سید
میں جب بھی کینیڈا سے کراچی آتی ہوں تو ایسا لگتا ہے دو مختلف دنیائیں ایک دوسرے کے پہلو میں زندہ ہیں۔ اگر آپ کراچی ائیر پورٹ سے سیدھا کینٹونمنٹ کے اندر جائیں تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہم کینیڈا سے کراچی پہنچ چکے ہیں یا پھر ابھی کینیڈا میں ہی ہیں۔ کشادہ صاف ستھری ہموار سڑکیں، گھنے سایہ دار درخت، جگہ جگہ اچھلتے فوارے، صاف ستھرا ماحول، خوبصورت دکانیں، بہترین سہولیات دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں کہ ہم پاکستان میں ہیں۔
اسی کینٹ کے گیٹ سے اگر باہر نکلیں تو یوں احساس ہوتا ہے کہ بالکل ایک دوسری دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔ دھول مٹی کا طوفان، ٹوٹی پھوٹی صدیوں سے زیر تعمیر نا ہموار سڑکیں، سڑکوں پر بہتا سیوریج کا پانی، بے ہنگم بے ترتیب ٹریفک دیکھ کر دماغ پھٹنے لگتا ہے۔
میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ پچھلے اٹھتر سال سے قبضہ تو اس گیٹ سے باہر والے پاکستان پر بھی اسی پاک فوج کا ہے تو کیا وجہ ہے کہ گیٹ کے ایک طرف تو انتہائی خوبصورت ہموار اور کشادہ سڑکیں ہیں اور دوسری طرف یہی فوج کئی دھائیوں میں چند سڑکیں مرمت کروانے سے قاصر رہتی ہے۔ گیٹ کے ایک طرف ریٹائرڈ اور حاضر سروس تمام فوجیوں کو شاندار ترین اور تقریباً مفت صحت کی سہولیات دستیاب ہیں اور گیٹ کی دوسری طرف لوگ دوائیوں اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی بناء پر سسک سسک کر مرنے پر مجبور ہیں۔ وہی ادارہ آرمی پبلک اسکولز اور یونیورسٹییز جیسے شاندار اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے بناتا ہے اور دوسری طرف اسی ادارے کے مقبوضہ باقی ملک میں دو کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور جو اسکولوں میں ہیں وہ بھی بد ترین معیار کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
مجھے یہ نہ کہئے گا کہ فوج کا کام گیٹ کے باہر سڑکوں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ کیونکہ فوج کا کام تو کینٹونمنٹ کے گیٹ کے اندر بھی یہ تمام سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ اس کا کام تو جنگ لڑنا ہے وہ جب بھی یہ لڑتی ہے تو پینٹیں اتروا کر بھاگ نکلتی ہے۔ تو اگر یہ گیٹ کے اندر یہ سب کچھ ہو سکتا ہے تو باہر یہ سب کچھ کرنے سے تمھیں کون روک رہا ہے؟ اور اگر باہر لوگوں کو یہ سب میسر نہیں ہے تو انہوں نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کے بدلے میں یہ عوام کا حق مار کر عیاشی کر رہے ہیں ؟
مسئلہ صرف یہ ہے کہ فوج جانتی ہے کہ وہ اس ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم ان کے غلام ہیں۔ غلاموں کو سہولیات نہیں دی جاتیں۔ ان کا خون نچوڑا جاتا ہے ۔ ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ہر شہر کے اندر بسی یہ دو دنیائیں محض اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس میں قابض اور غاصب حکمران جان بوجھ کر رعایا کو بد ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ کبھی بغاوت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکیں۔بالکل اسی طرح جیسے تقسیم پاکستان سے پہلے ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج راجے مہاراجے بنا کر رکھا کرتے تھے ان کے گلے میں موتیوں کے ہار پہنا کر انہیں مسند پر بٹھا دیا جاتا تھا اور انہیں کہا جاتا تھا کہ ہمارے لئے ان کمی کمین کالے پیلے لوگوں کا خون نچوڑ کر انہیں ہمارا غلام بنا کر رکھو ۔ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھو ۔ بدلے میں ہماری طرف سے اجازت ہے کہ تم بھی کچھ حصہ رکھ لو ۔ بس یہ وہی راجے مہاراجے ہیں جو گیٹ کے پرلی طرف آج بھی عوام کے سر پر مسلط ہیں ۔
سعدیہ سید
میں جب بھی کینیڈا سے کراچی آتی ہوں تو ایسا لگتا ہے دو مختلف دنیائیں ایک دوسرے کے پہلو میں زندہ ہیں۔ اگر آپ کراچی ائیر پورٹ سے سیدھا کینٹونمنٹ کے اندر جائیں تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہم کینیڈا سے کراچی پہنچ چکے ہیں یا پھر ابھی کینیڈا میں ہی ہیں۔ کشادہ صاف ستھری ہموار سڑکیں، گھنے سایہ دار درخت، جگہ جگہ اچھلتے فوارے، صاف ستھرا ماحول، خوبصورت دکانیں، بہترین سہولیات دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں کہ ہم پاکستان میں ہیں۔
اسی کینٹ کے گیٹ سے اگر باہر نکلیں تو یوں احساس ہوتا ہے کہ بالکل ایک دوسری دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔ دھول مٹی کا طوفان، ٹوٹی پھوٹی صدیوں سے زیر تعمیر نا ہموار سڑکیں، سڑکوں پر بہتا سیوریج کا پانی، بے ہنگم بے ترتیب ٹریفک دیکھ کر دماغ پھٹنے لگتا ہے۔
میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ پچھلے اٹھتر سال سے قبضہ تو اس گیٹ سے باہر والے پاکستان پر بھی اسی پاک فوج کا ہے تو کیا وجہ ہے کہ گیٹ کے ایک طرف تو انتہائی خوبصورت ہموار اور کشادہ سڑکیں ہیں اور دوسری طرف یہی فوج کئی دھائیوں میں چند سڑکیں مرمت کروانے سے قاصر رہتی ہے۔ گیٹ کے ایک طرف ریٹائرڈ اور حاضر سروس تمام فوجیوں کو شاندار ترین اور تقریباً مفت صحت کی سہولیات دستیاب ہیں اور گیٹ کی دوسری طرف لوگ دوائیوں اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی بناء پر سسک سسک کر مرنے پر مجبور ہیں۔ وہی ادارہ آرمی پبلک اسکولز اور یونیورسٹییز جیسے شاندار اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے بناتا ہے اور دوسری طرف اسی ادارے کے مقبوضہ باقی ملک میں دو کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور جو اسکولوں میں ہیں وہ بھی بد ترین معیار کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
مجھے یہ نہ کہئے گا کہ فوج کا کام گیٹ کے باہر سڑکوں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ کیونکہ فوج کا کام تو کینٹونمنٹ کے گیٹ کے اندر بھی یہ تمام سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ اس کا کام تو جنگ لڑنا ہے وہ جب بھی یہ لڑتی ہے تو پینٹیں اتروا کر بھاگ نکلتی ہے۔ تو اگر یہ گیٹ کے اندر یہ سب کچھ ہو سکتا ہے تو باہر یہ سب کچھ کرنے سے تمھیں کون روک رہا ہے؟ اور اگر باہر لوگوں کو یہ سب میسر نہیں ہے تو انہوں نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کے بدلے میں یہ عوام کا حق مار کر عیاشی کر رہے ہیں ؟
مسئلہ صرف یہ ہے کہ فوج جانتی ہے کہ وہ اس ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم ان کے غلام ہیں۔ غلاموں کو سہولیات نہیں دی جاتیں۔ ان کا خون نچوڑا جاتا ہے ۔ ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ہر شہر کے اندر بسی یہ دو دنیائیں محض اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس میں قابض اور غاصب حکمران جان بوجھ کر رعایا کو بد ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ کبھی بغاوت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکیں۔بالکل اسی طرح جیسے تقسیم پاکستان سے پہلے ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج راجے مہاراجے بنا کر رکھا کرتے تھے ان کے گلے میں موتیوں کے ہار پہنا کر انہیں مسند پر بٹھا دیا جاتا تھا اور انہیں کہا جاتا تھا کہ ہمارے لئے ان کمی کمین کالے پیلے لوگوں کا خون نچوڑ کر انہیں ہمارا غلام بنا کر رکھو ۔ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھو ۔ بدلے میں ہماری طرف سے اجازت ہے کہ تم بھی کچھ حصہ رکھ لو ۔ بس یہ وہی راجے مہاراجے ہیں جو گیٹ کے پرلی طرف آج بھی عوام کے سر پر مسلط ہیں ۔
❤2👍1
2019ء میں نواز شریف ایک خاموش سمجھوتے کے تحت اپنے دیس سے باہر بھیج دیے گئے لیکن 2026 میں عمران خان ایسا کوئی سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں۔ مجھے تحریکِ انصاف کے کئی سرکردہ رہنما کہہ چکے ہیں کہ خان صاحب اگر تھوڑی سی لچک دکھائیں تو کم از کم ہم انہیں جیل سے نکال لیں گے۔جب میں پوچھتا ہوں کہ خان صاحب لچک کیوں نہیں دکھاتے تو کہا جاتا ہے کہ وہ نواز شریف نہیں بننا چاہتے۔ حامد میر کا روزنامہ جنگ میں کالم
داتا دربار چوری پر افسروں کو سزا، 2 کروڑ روپے کی ریکوری کا حکم۔۔ سابق ایڈمنسٹریٹر کی مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لیے تنزلی اور 5 سالہ سروس ضبط، 92 لاکھ روپے کی ریکوری، سابق مینیجر طاہر مقصود سرکاری ملازمت سے برطرف اور ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کی ریکوری، سابق سٹینوگرفرار ثاقب نسیم کی 4 سالہ سروس ضبط۔
دربار بی بی پاکدامن میں غبن پر ملازمین کو سزائیں، سابق منیجر زاہد اقبال کی 5 سالہ ملازمت ضبط، 53 لاکھ ریکوری، کلرک امتیاز حسین کو 3 سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا، گیٹ کیپر محسن شاہ اور سابق نگران ظفر اقبال پر کیش ہینڈلنگ پر مستقل پابندی عائد۔
محمد ذیشان اعوان
ــــــ
اللہ اس قوم کو ہدایت دے۔ خود اندازہ لگائیں عوام کتنی رقوم درباروں پر بیٹھے ان ٹھگوں کو دیتی ہے مگر اپنے اطراف ، کسی مستحق غریب ، کسی مستحق رشتہ دار کو دیتے ہوئے موت آئے گی ۔ خباثت کی انتہا ہے اس جاہل قوم پر 😡😡😡
دربار بی بی پاکدامن میں غبن پر ملازمین کو سزائیں، سابق منیجر زاہد اقبال کی 5 سالہ ملازمت ضبط، 53 لاکھ ریکوری، کلرک امتیاز حسین کو 3 سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا، گیٹ کیپر محسن شاہ اور سابق نگران ظفر اقبال پر کیش ہینڈلنگ پر مستقل پابندی عائد۔
محمد ذیشان اعوان
ــــــ
اللہ اس قوم کو ہدایت دے۔ خود اندازہ لگائیں عوام کتنی رقوم درباروں پر بیٹھے ان ٹھگوں کو دیتی ہے مگر اپنے اطراف ، کسی مستحق غریب ، کسی مستحق رشتہ دار کو دیتے ہوئے موت آئے گی ۔ خباثت کی انتہا ہے اس جاہل قوم پر 😡😡😡
گورے سیاحوں اور ولاگرز کی ان دنوں پاکستان پہ یلغار ہوئی پڑی ہے سمت شمال تو خیر جاتے ہی تھے مگر اب انکا رخ کراچی کیطرف بھی ہوگیا ہے کیا امریکی کیا برطانوی کیا مرد کیا عورت کیا ہی جوڑے سبھی یہاں پہنچے ہوئے ہیں اور بالکل عام سے پاکستانیوں کی مہمان نوازی دیکھ کر پاگل ہوئے ہیں مادیت کے اصولوں پہ کھڑے مغربی معاشرے کے لوگوں کےلئے یہ سب دیکھنا نایاب تجربہ ہے ، کوئی فی سبیل اللہ چائے پلا رہا ہے کوئی پراٹھے پیش کر رہا ہے کوئی لفٹ دیکر مطلوب منزل تک پہنچا رہا ہے
ابھی تو ان سیاحوں نے سیلانی کے دستر خوان نہیں دیکھے ورنہ انکے بکرے قورمے بریانی کھانے پورے خاندان کو لیکر پہنچ جائیں گے، دنیا سے متعارف ہوتا یہ الگ سا پاکستان ہے جسے ہم تو جانتے تھے مگر دیگر نہیں
پاکستان دنیا کے غریب ممالک میں سے ایک ہے مگر اسکے باوجود رفاہی کاموں میں کھلے دل سے خرچے اور مہمان نوازی ایسا وصف ہے، جو ہمیں بہت نمایاں کرتا ہے اور اس عمل نے سبھی کو حیران کیا ہے کیا چوکیدار کیا عام شہری اور کیا ہی سرمایہ دار سارے ہی اپنی اہنی حیثیت کیمطابق مہمان نواَی کرتے ہیں
اس حوالے سے یہ سیاسی ہندوستانیوں کو بہت مطعون کرتے ہیں جو سوائے پیسوں کی دوسری بات نہیں کرتے، کہنے کو ہمارا خطہ مزاج اور عادات کافی یکساں ہیں مگر مہمان نوازی میں پاکستانی نیکسٹ لیول پہ کھڑے ہیں جہاں کے عام شہری سیاحوں کو موقع سمجھنے کے بجائے اسے اپنی نرم اور دریاء دلی دکھانے کا موقع سمجھا.... اس سارے عمل کے پیچھے آپکو اسلامی تعلیمات دکھائی دینگی جو مہمان نوازی اور دستر خوان کی کشادگی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں
اس سارے عمل حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں کیونکہ یہ ہمارا عوامی مزاج ہے جو مہران تا بولان اور گلگلت تا کمراٹ دیکھنے کو ملتا ہے، حکومت سے البتہ روایتی درخواست ھیکہ کراچی میں صفائی کا اہتمام کرے تاکہ شہریوں کے خوبصورت رویوں کیساتھ شہر بھی اچھا نظر آئے صدر کراچی میں ایک کوئٹہ وال امریکی سیاح کو چائے پراٹھہ ہیش کرتا ہے، پیپر کپ لیکر پھر گورا ڈسٹ بن بس تلاش ہی کرتا رہ جاتا ہے جو کہ شرمندگی کا باعث ہے اور ہاں گورا بریانی چائے اور چیز پراٹھے کا عاشق ہوا پڑا ہے
باقی گورے مویشی منڈی جارہے تھے، بسوں کی چھتوں پہ سفر کر رہے ہیں گلیوں میں کرکٹ کھیل رہے ہیں فٹ پاتھ پہ دم درود و مالش کرا رہے ہیں ٹھیلوں سے سموسے جوس پی رہے ہیں اور پاکستان کے گن گا رہے ہیں
پاکستانی عوام اپنی مہمان نواَی کے سبب ایک بالکل الگ طرح کی سفارت کا سبب بن رہے ہیں
فیض اللہ خان
ابھی تو ان سیاحوں نے سیلانی کے دستر خوان نہیں دیکھے ورنہ انکے بکرے قورمے بریانی کھانے پورے خاندان کو لیکر پہنچ جائیں گے، دنیا سے متعارف ہوتا یہ الگ سا پاکستان ہے جسے ہم تو جانتے تھے مگر دیگر نہیں
پاکستان دنیا کے غریب ممالک میں سے ایک ہے مگر اسکے باوجود رفاہی کاموں میں کھلے دل سے خرچے اور مہمان نوازی ایسا وصف ہے، جو ہمیں بہت نمایاں کرتا ہے اور اس عمل نے سبھی کو حیران کیا ہے کیا چوکیدار کیا عام شہری اور کیا ہی سرمایہ دار سارے ہی اپنی اہنی حیثیت کیمطابق مہمان نواَی کرتے ہیں
اس حوالے سے یہ سیاسی ہندوستانیوں کو بہت مطعون کرتے ہیں جو سوائے پیسوں کی دوسری بات نہیں کرتے، کہنے کو ہمارا خطہ مزاج اور عادات کافی یکساں ہیں مگر مہمان نوازی میں پاکستانی نیکسٹ لیول پہ کھڑے ہیں جہاں کے عام شہری سیاحوں کو موقع سمجھنے کے بجائے اسے اپنی نرم اور دریاء دلی دکھانے کا موقع سمجھا.... اس سارے عمل کے پیچھے آپکو اسلامی تعلیمات دکھائی دینگی جو مہمان نوازی اور دستر خوان کی کشادگی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں
اس سارے عمل حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں کیونکہ یہ ہمارا عوامی مزاج ہے جو مہران تا بولان اور گلگلت تا کمراٹ دیکھنے کو ملتا ہے، حکومت سے البتہ روایتی درخواست ھیکہ کراچی میں صفائی کا اہتمام کرے تاکہ شہریوں کے خوبصورت رویوں کیساتھ شہر بھی اچھا نظر آئے صدر کراچی میں ایک کوئٹہ وال امریکی سیاح کو چائے پراٹھہ ہیش کرتا ہے، پیپر کپ لیکر پھر گورا ڈسٹ بن بس تلاش ہی کرتا رہ جاتا ہے جو کہ شرمندگی کا باعث ہے اور ہاں گورا بریانی چائے اور چیز پراٹھے کا عاشق ہوا پڑا ہے
باقی گورے مویشی منڈی جارہے تھے، بسوں کی چھتوں پہ سفر کر رہے ہیں گلیوں میں کرکٹ کھیل رہے ہیں فٹ پاتھ پہ دم درود و مالش کرا رہے ہیں ٹھیلوں سے سموسے جوس پی رہے ہیں اور پاکستان کے گن گا رہے ہیں
پاکستانی عوام اپنی مہمان نواَی کے سبب ایک بالکل الگ طرح کی سفارت کا سبب بن رہے ہیں
فیض اللہ خان
لاہور ہائیکورٹ کا مفاد عامہ ( پبلک انٹرسٹ ) کی درخواستیں دائر کرنے کے حوالے سے نیا اصول وضع کردیا ۔۔
ہائیکورٹ ریگولیٹر یا اپیلٹ فورم نہیں بن سکتی، تکنیکی اور پالیسی مسائل ایگزیکٹو اور ریگولیٹری باڈیز کے دائرہ کار میں ہیں مفاد عامہ کی درخواستیں ایک اہم ہتھیار ہے جسے احتیاط سے استمعال کرنا چاہیے مفاد عامہ کے پیچھے شہرت کی بھوک ،بدنیتی نہیں چھپی ہونی چاہیےہائیکورٹ کا فرض ہے کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ انصاف کا راستہ الودہ نہ ہو مفاد عامہ کی پیٹیشن کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار کے مستند حقائق بیان کرے قیاس ارئی فرضی یا بدنیتی پر مبنی درخواست مفاد عامہ کے نام پر قابل سماعت نہیں ہوسکتی
جسٹس خالد اسحاق
ہائیکورٹ ریگولیٹر یا اپیلٹ فورم نہیں بن سکتی، تکنیکی اور پالیسی مسائل ایگزیکٹو اور ریگولیٹری باڈیز کے دائرہ کار میں ہیں مفاد عامہ کی درخواستیں ایک اہم ہتھیار ہے جسے احتیاط سے استمعال کرنا چاہیے مفاد عامہ کے پیچھے شہرت کی بھوک ،بدنیتی نہیں چھپی ہونی چاہیےہائیکورٹ کا فرض ہے کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ انصاف کا راستہ الودہ نہ ہو مفاد عامہ کی پیٹیشن کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار کے مستند حقائق بیان کرے قیاس ارئی فرضی یا بدنیتی پر مبنی درخواست مفاد عامہ کے نام پر قابل سماعت نہیں ہوسکتی
جسٹس خالد اسحاق
پاکستان کو بے نظیر انکم سپورٹ نہیں ایجوکیشن سپورٹ، اسکل سپورٹ اور اے آئی سپورٹ پروگرام کی ضرورت ہے۔ قوم کے بچوں کو معیاری تعلیم اور اسکلز کی ضرورت ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومتیں تعلیمی ادارے آؤٹ سورس کررہی ہیں دوسری طرف غریبوں کا نام لیکر سیکڑوں ارب روپے ایک ایسے پروگرام کے لیے رکھے جارہے ہیں جو غربت میں کمی کے بجائے اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں گذشتہ تین برس میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا اور ایک کروڑ 30 لاکھ نئے افراد غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کا فراڈ پروگرام ہےاور پی پی اور ن لیگ کی ملی بھگت ہے۔ پیپلزپارٹی کے طرز حکمرانی نے یہ بات ثابت کردی کہ اگر وہ کسی پراجیکٹ کے لیے پیسے مانگ رہے ہے تو سمجھ لیں کرپشن کرنےکے لیے مانگ رہے ہیں ۔اور وڈیرہ سسٹم کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے کلاسیکل سرمایہ داری نظام میں عوامی مفاد کے پروجیکٹ بند کیے جاتے ہیں اور سرمایہ دار کا منافع بڑھایا جاتا ہے ۔ آئ پی پیز جو بجلی نہ بنا کے بھی عوام کی جیبوں سے اربوں نکال رہے ہیں اور ان بلاؤں کا تاحال کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے
بیجنگ میں غیر معمولی سفارتی پیش رفت، بھارتی سفیر کی افغان سفیر مولوی بلال کریمی سے اہم ملاقات
بیجنگ میں تعینات بھارت کے سفیر نے امارتِ اسلامی افغانستان کے سفیر مولوی بلال کریمی سے ایک باضابطہ ملاقات کی ہے… ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے سفارت کاروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نئی دہلی اور کابل کے درمیان عوامی اور تجارتی روابط کو وقت کے ساتھ مزید مستحکم کیا جائے گا۔ دونوں فریقین نے باہمی دل چسپی کے مختلف شعبوں میں جاری اقتصادی اور انسانی ہمدردی کے تعاون کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع اور گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ کابل میں بھارتی تکنیکی مشن کی موجودگی اور نئی دہلی کی جانب سے افغان عوام کے لیے گندم، ادویات اور دیگر انسانی امداد کی ترسیل نے دونوں دارالحکومتوں کے مابین اعتماد سازی کی فضا قائم کی ہے۔ مبصرین کی رائے میں امارتِ اسلامی افغانستان اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھنے اور کسی ایک پڑوسی ملک پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنے کے لیے بھارت جیسی بڑی علاقائی معیشت کے ساتھ سفارتی و تجارتی روابط بڑھا رہی ہے۔ چین کی سرزمین پر اس ملاقات کا ہونا اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ بیجنگ بھی خطے کے استحکام کے لیے نئی دہلی اور کابل کے مابین اس عملی تال میل کو مثبت نگاہ سے دیکھتا ہے۔
#IndiaAfghanistanRelations #BilalKarimi #KabulNewDelhi #BeijingDiplomacy #Geopolitics
بیجنگ میں تعینات بھارت کے سفیر نے امارتِ اسلامی افغانستان کے سفیر مولوی بلال کریمی سے ایک باضابطہ ملاقات کی ہے… ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے سفارت کاروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نئی دہلی اور کابل کے درمیان عوامی اور تجارتی روابط کو وقت کے ساتھ مزید مستحکم کیا جائے گا۔ دونوں فریقین نے باہمی دل چسپی کے مختلف شعبوں میں جاری اقتصادی اور انسانی ہمدردی کے تعاون کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع اور گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ کابل میں بھارتی تکنیکی مشن کی موجودگی اور نئی دہلی کی جانب سے افغان عوام کے لیے گندم، ادویات اور دیگر انسانی امداد کی ترسیل نے دونوں دارالحکومتوں کے مابین اعتماد سازی کی فضا قائم کی ہے۔ مبصرین کی رائے میں امارتِ اسلامی افغانستان اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھنے اور کسی ایک پڑوسی ملک پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنے کے لیے بھارت جیسی بڑی علاقائی معیشت کے ساتھ سفارتی و تجارتی روابط بڑھا رہی ہے۔ چین کی سرزمین پر اس ملاقات کا ہونا اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ بیجنگ بھی خطے کے استحکام کے لیے نئی دہلی اور کابل کے مابین اس عملی تال میل کو مثبت نگاہ سے دیکھتا ہے۔
#IndiaAfghanistanRelations #BilalKarimi #KabulNewDelhi #BeijingDiplomacy #Geopolitics
پاکستان کو افغانستان کے ساتھ راستے بند ہونے اور مڈل ایسٹ میں پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑھ رہا ہے۔ صرف افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بند ہونے کی وجہ سے 1.4 بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہورہا ہے۔ خود پاکستانی سروے (OICCI) کیمطابق سرمایہ داروں کا اعتماد پاکستانی معیشت پر قریب ختم ہوتا جارہا ہے۔
پاکستانی سرکاری حلقے میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ بارڈر بند کرنے کے بعد افغانستان پر پریشر بڑھنے کی وجہ سے ان کے ناجائز مطالبات تسلیم کر لئے جائیں گے لیکن الٹا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑھ رہا ہے، افغانستان نے سینٹرل ایشین ممالک کے ساتھ نہ صرف اپنی تجارت میں خاطرخواہ اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان کا گلہ دبانے میں بھی کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ یہ سب عسکری پالیسیوں اور عاصم منیر کی خودساختہ مہم جوئیوں کا خمیازہ ہے جو اب عوام بھگت رہی ہے۔
عادل راجہ
پاکستانی سرکاری حلقے میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ بارڈر بند کرنے کے بعد افغانستان پر پریشر بڑھنے کی وجہ سے ان کے ناجائز مطالبات تسلیم کر لئے جائیں گے لیکن الٹا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑھ رہا ہے، افغانستان نے سینٹرل ایشین ممالک کے ساتھ نہ صرف اپنی تجارت میں خاطرخواہ اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان کا گلہ دبانے میں بھی کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ یہ سب عسکری پالیسیوں اور عاصم منیر کی خودساختہ مہم جوئیوں کا خمیازہ ہے جو اب عوام بھگت رہی ہے۔
عادل راجہ
چھوٹی خالی بوتلیں پانی سے بھر کر فریزر میں رکھ دیں۔ جب کوئی ڈلیوری رائیڈر یا آرڈر لے کر آپکے یا پڑوسی کے دروازے پر ائے ہے تو اسے ٹھنڈے پانی کی ایک بوتل ضرور دیں۔ گرمی کے موسم میں ٹھنڈے پانی کی ایک بوتل کسی مزدور، مالی، ڈلیوری رائیڈر یا سڑک پر کام کرنے والے شخص کے لیے محض پانی نہیں بلکہ راحت ، اپنائیت اور توجہ کا احساس بھی ہوتی ہے. اکثر ہم بڑے بڑے کاموں کی اہمیت بیان کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں نرمی اور ہمدردی چھوٹی چھوٹی عادات سے پھیلتی ہے.
اس سخت موسم میں مشروبات اور پانی کی خالی بوتلیں پھینکنے کی بجائے پانی سے بھر کر اپنے ارد گرد کام کرتے لوگوں کو عنایت کریں
اس سخت موسم میں مشروبات اور پانی کی خالی بوتلیں پھینکنے کی بجائے پانی سے بھر کر اپنے ارد گرد کام کرتے لوگوں کو عنایت کریں
👍1
عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔
ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشین میں خطاب
ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشین میں خطاب
نوازشریف جو 45 سال سیاست کرنے کے بعد پنجاب میں ایک ہسپتال ایسا نہ بنا سکا جہاں اپنا علاج کروا سکے اور آج بھی معمول کے چیک اپ کے لیے سوئٹزرلینڈ جاتا ہے، وہ دو دن پہلے گلگت کی عوام سے وعدے کر رہا تھا کہ مجھے ووٹ دو تو میں تمہاری تقدیر بدل دوں گا۔
فیاض شاہ
فیاض شاہ
#آزادکشمیر
جب کوئی بات نہ بن پائی تو ایک بار پھر انڈیا سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ساتھ ہی پاکستان کے عوام کے دلوں میں جموں کشمیر کے عوام کے خلاف نفرت کا بیج بونے کی ناکام کوشش کی جاری ہے۔یہ تحریک نہ را فنڈڈ ہے اور نہ پاکستان مخالف
یہ جموں کشمیر کی عوام کی بنیادی حقوق کی تحریک ہے
شوکت نواز میر
جب کوئی بات نہ بن پائی تو ایک بار پھر انڈیا سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ساتھ ہی پاکستان کے عوام کے دلوں میں جموں کشمیر کے عوام کے خلاف نفرت کا بیج بونے کی ناکام کوشش کی جاری ہے۔یہ تحریک نہ را فنڈڈ ہے اور نہ پاکستان مخالف
یہ جموں کشمیر کی عوام کی بنیادی حقوق کی تحریک ہے
شوکت نواز میر
اس وقت سوشل میڈیا پر راجا شہزاد اور وزہر تعلیم۔پنجاب رانا سکندر کے مابین محاذ گرم ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ حکومت محکمہ صحت کی طرح محکمہ تعلیم سے بھی جان چھڑانا چاہتی ہے اور وہ سکولوں کی بہتری کےلیے نہیں بلکہ انھیں ناکام بنانے کےلیے کام کر رہی ہے مثلا یہ کام ہی دیکھ لیں اور مجھے اس کی منطق بتائیں
👇👇👇
1 ۔ پچھلے سال حکومت نے پیکٹا کے تحت سرکاری سکولوں میں جماعت ہشتم یعنی 8th کلاس کا امتحان لیا جبکہ پرائیویٹ سکولوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا ۔ کیوں؟ کیا مقصد پرائیویٹ سکولوں میں تعلیمی ابتری کو چھپانا تھا؟ کیا پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا حکومت کی زمہ داری نہیں؟
2 ۔ موجودہ آٹھویں کلاس کا امتحان اگلے سال فروری یا مارچ میں ہونا ہے لیکن حکومت اس کی رجسٹریشن شروع کر دی کر دی ہے جو زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں بند ہو جائے گی، جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ رجسٹریشن بند ہونے کے بعد مزید طلبہ سرکاری سکولوں میں آٹھویں کلاس میں داخل نہیں ہو سکیں گے ۔ لہذا آٹھویں کلاس میں تعداد کم ہو جائے گی اور حکومت یہ ظاہر کرے گی کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہو رہی ہے ۔ جب امتحان اگلے سال فروری یا مارچ میں ہونا ہے تو ابھی سے رجسٹریشن کیوں شروع کی جا رہی ہے اور اگر کی جا رہی ہے تو اسے ایک آدھ ماہ میں بند کیوں کیا جائے گا؟ یہ کام چھٹیوں کے بعد بھی تو ہو سکتا تھا ۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں میں آٹھویں کلاس میں نئے آنے والے طلبہ کا راستہ بند کیا جائے ۔
3 ۔ اگر آٹھویں کلاس کا امتحان بورڈ نے ہی لینا تو پرائیوٹ سکولوں اس سے مسثنی کیوں ہیں؟ مقصد ان کی ناکامیوں کو چھپانا ہے یا پھر اس بات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے آہستہ آہستہ میٹرک کے امتحانات میں بھی انھیں استثناء دیا جائے ۔
4 ۔ یہی حال کلاس نہم کی رجسٹریشن کا ہے ۔ امتحانات اگلے سال مارچ اپریل میں ہونے ہیں لیکن بورڈز نے سکولوں کو اسی ماہ رجسٹریشن کا پابند کیا ہے ۔ ایسا کیوں؟
میاں داؤد ایڈوکیٹ
👇👇👇
1 ۔ پچھلے سال حکومت نے پیکٹا کے تحت سرکاری سکولوں میں جماعت ہشتم یعنی 8th کلاس کا امتحان لیا جبکہ پرائیویٹ سکولوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا ۔ کیوں؟ کیا مقصد پرائیویٹ سکولوں میں تعلیمی ابتری کو چھپانا تھا؟ کیا پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا حکومت کی زمہ داری نہیں؟
2 ۔ موجودہ آٹھویں کلاس کا امتحان اگلے سال فروری یا مارچ میں ہونا ہے لیکن حکومت اس کی رجسٹریشن شروع کر دی کر دی ہے جو زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں بند ہو جائے گی، جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ رجسٹریشن بند ہونے کے بعد مزید طلبہ سرکاری سکولوں میں آٹھویں کلاس میں داخل نہیں ہو سکیں گے ۔ لہذا آٹھویں کلاس میں تعداد کم ہو جائے گی اور حکومت یہ ظاہر کرے گی کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہو رہی ہے ۔ جب امتحان اگلے سال فروری یا مارچ میں ہونا ہے تو ابھی سے رجسٹریشن کیوں شروع کی جا رہی ہے اور اگر کی جا رہی ہے تو اسے ایک آدھ ماہ میں بند کیوں کیا جائے گا؟ یہ کام چھٹیوں کے بعد بھی تو ہو سکتا تھا ۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں میں آٹھویں کلاس میں نئے آنے والے طلبہ کا راستہ بند کیا جائے ۔
3 ۔ اگر آٹھویں کلاس کا امتحان بورڈ نے ہی لینا تو پرائیوٹ سکولوں اس سے مسثنی کیوں ہیں؟ مقصد ان کی ناکامیوں کو چھپانا ہے یا پھر اس بات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے آہستہ آہستہ میٹرک کے امتحانات میں بھی انھیں استثناء دیا جائے ۔
4 ۔ یہی حال کلاس نہم کی رجسٹریشن کا ہے ۔ امتحانات اگلے سال مارچ اپریل میں ہونے ہیں لیکن بورڈز نے سکولوں کو اسی ماہ رجسٹریشن کا پابند کیا ہے ۔ ایسا کیوں؟
میاں داؤد ایڈوکیٹ
*گلگت بلتستان میں اچانک سے “کنگز پارٹی” کی انٹری*
ماڈل وہی پرانا ہے جب 1999 میں نواز شریف بھاگ گیا تو رات و رات ایک نئی پارٹی “ق لیگ” کھڑی کی گئی اور اقتدار اس کے حوالے کردیاگیا
اب بھی اسی طرح تحریک انصاف پر پابندی لگا کر رات و رات “استحکام پاکستان پارٹی” بنائ گئی لیکن ماڈل کامیاب نہیں ہو سکا
اب فرق یہ ہے کہ چونکہ عمران خان بھاگا نہیں اس لیئے “کنگز پارٹی” کےساتھ ساتھ پرانی جماعتوں “ن لیگ” اور “پیپلز پارٹی” کو بھی حصہ دینا پڑتا ہےلیکن ان کے اوپر “check” رکھنے کیلئے ہر جگہ “کنگز پارٹی” کو گھسیڑا جاتاہے
عامر مغل
ماڈل وہی پرانا ہے جب 1999 میں نواز شریف بھاگ گیا تو رات و رات ایک نئی پارٹی “ق لیگ” کھڑی کی گئی اور اقتدار اس کے حوالے کردیاگیا
اب بھی اسی طرح تحریک انصاف پر پابندی لگا کر رات و رات “استحکام پاکستان پارٹی” بنائ گئی لیکن ماڈل کامیاب نہیں ہو سکا
اب فرق یہ ہے کہ چونکہ عمران خان بھاگا نہیں اس لیئے “کنگز پارٹی” کےساتھ ساتھ پرانی جماعتوں “ن لیگ” اور “پیپلز پارٹی” کو بھی حصہ دینا پڑتا ہےلیکن ان کے اوپر “check” رکھنے کیلئے ہر جگہ “کنگز پارٹی” کو گھسیڑا جاتاہے
عامر مغل
پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل نوشہرہ ورکاں سے تعلق رکھنے والے فوجی اہلکار محمد عمران شمالی وزیرستان میں ہلاک ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان کا تعلق نوشہرہ ورکاں کے نواحی علاقے سے تھا
پاکستان کی تاریخ میں معاشی طور پر مسلسل چار سال اتنے تباہ کن کبھی نہیں آئے، یہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین 4 سال تھے
محمد زبیر تحریک تحفظ آئین پاکستان
محمد زبیر تحریک تحفظ آئین پاکستان
آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے ایک سنگین انتظامی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت "جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی" (JK-JAAC) کو باقاعدہ طور پر کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ (Home Department) کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق اس تنظیم کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ 2014 کے پہلے شیڈول میں شامل کر کے ریاست کے لیے ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویز میں اس عوامی اتحاد پر ملک دشمنی، انارکی پھیلانے، معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور امن و امان کو سبوتاژ کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے طریقہ کار اور اقدامات سے اختلاف کے درجنوں جواز ہو سکتے ہیں، لیکن اگر اس فیصلے کا سیاسی، سماجی اور تزویراتی، غرض جس بھی زاویے سے جائزہ لیا جائے،یہ زمینی حقائق سے یکسر عاری اور انتہائی احمقانہ دکھائی دیتا ہے۔
اس فیصلے میں سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ ایک خالصتاً عوامی حقوق کی تحریک پر دہشت گردی کا لیبل لگا دیا ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوئی زیرِ زمین کام کرنے والا گروہ یا کوئی عسکری تنظیم نہیں ہے، بلکہ یہ آزاد کشمیر کے تاجروں، وکلاء، طلبہ، سول سوسائٹی اور عام شہریوں کا ایک ایسا نمائندہ فورم ہے جس نے سستی بجلی، آٹے پر سبسڈی اور اشرافیہ کی شاہانہ مراعات کے خاتمے جیسے بنیادی معاشی مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔ جب ریاست اپنے ہی شہریوں کی جائز معاشی مانگوں کو سننے کے بجائے ان پر انسدادِ دہشت گردی کے قوانین نافذ کرنا شروع کر دے، تو وہ خود اپنے ہاتھوں سے جمہوریت کا گلا گھونٹتی ہے اور اپنے ہی عوام کے خلاف محاذ آرائی کا راستہ منتخب کر لیتی ہے، جو کسی بھی طور دانشمندی نہیں۔
اس اقدام کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ حکومت نے خود اپنے ہاتھوں سے پرامن مذاکرات کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں۔ سیاست کا یہ بنیادی اصول ہے کہ جب بھی بڑے پیمانے پر کوئی عوامی احتجاج ابھرتا ہے، تو اس کے رہنماؤں کے ساتھ میز پر بیٹھ کر معاملات حل کیے جاتے ہیں۔ ماضی میں بھی اسی کمیٹی کے احتجاج کے سامنے حکومت کو جھکنا پڑا تھا اور ان کے مطالبات تسلیم کیے گئے تھے۔ اب اس قیادت کو مجرم اور کالعدم قرار دے کر حکومت نے مستقبل میں بات چیت کے لیے کسی بھی جائز فریق کا وجود ہی ختم کر دیا ہے۔ جب پرامن احتجاج اور مذاکرات کا راستہ بند کر دیا جائے، تو عوام میں مایوسی پھیلتی ہے جو آخر کار انہیں مزید جارحانہ اور پرتشدد راستوں پر دھکیل دیتی ہے؛ یوں یہ فیصلہ امن قائم کرنے کے بجائے بدامنی کا ایک نیا سیلاب لانے کا سبب بنے گا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس فیصلے کے اثرات کشمیر کاز کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے۔ آج ہی پاکستانی دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتظامیہ کی جانب سے عوام کے خلاف 'پبلک سیفٹی ایکٹ' جیسے قوانین کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کو بھارت اب دنیا بھر میں اپنے حق میں پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرے گا اور یہ تاثر دے گا کہ آزاد کشمیر کے شہری خود اپنی حکومت سے نالاں ہیں اور وہاں کے لوگوں پر دہشت گردی کے سیاہ قوانین تھوپے جا رہے ہیں۔ اس طرح بیوروکریسی کی ایک نادانی نے کشمیر کے لیے پاکستان کی سفارت کاری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
یوں بھی تاریخ ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ عوامی لہروں اور نظریاتی تحریکوں کو کبھی بھی گولی، ڈنڈے یا قانونی پابندیوں کے زور پر نہیں دبایا جا سکتا۔ جب بھی کسی حکومت نے طاقت کے بل بوتے پر عوام کی آواز کو کچلنے کی کوشش کی، وہ تحریکیں ختم ہونے کے بجائے مزید طاقتور ہو کر ابھریں۔ خود مقبوضہ کشمیر اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ فورسز کے اجتماع کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا ہے، البتہ بھارت سے نفرت میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔
مٹھی بھر وزراء اور افسر شاہی کے مشورے پر جاری کیا گیا یہ نوٹیفکیشن کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نئے اور بڑے بحران کا پیش خیمہ ہے۔ اگر حکومت اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لیتی اور اس ضدی فیصلے کو فوری طور پر واپس نہیں لیتی، تو آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا، اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ طاقت کے بجائے سیاسی فہم و فراست کا مظاہرہ کیا جائے۔
مہتاب عزیز
آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ (Home Department) کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق اس تنظیم کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ 2014 کے پہلے شیڈول میں شامل کر کے ریاست کے لیے ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویز میں اس عوامی اتحاد پر ملک دشمنی، انارکی پھیلانے، معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور امن و امان کو سبوتاژ کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے طریقہ کار اور اقدامات سے اختلاف کے درجنوں جواز ہو سکتے ہیں، لیکن اگر اس فیصلے کا سیاسی، سماجی اور تزویراتی، غرض جس بھی زاویے سے جائزہ لیا جائے،یہ زمینی حقائق سے یکسر عاری اور انتہائی احمقانہ دکھائی دیتا ہے۔
اس فیصلے میں سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ ایک خالصتاً عوامی حقوق کی تحریک پر دہشت گردی کا لیبل لگا دیا ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوئی زیرِ زمین کام کرنے والا گروہ یا کوئی عسکری تنظیم نہیں ہے، بلکہ یہ آزاد کشمیر کے تاجروں، وکلاء، طلبہ، سول سوسائٹی اور عام شہریوں کا ایک ایسا نمائندہ فورم ہے جس نے سستی بجلی، آٹے پر سبسڈی اور اشرافیہ کی شاہانہ مراعات کے خاتمے جیسے بنیادی معاشی مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔ جب ریاست اپنے ہی شہریوں کی جائز معاشی مانگوں کو سننے کے بجائے ان پر انسدادِ دہشت گردی کے قوانین نافذ کرنا شروع کر دے، تو وہ خود اپنے ہاتھوں سے جمہوریت کا گلا گھونٹتی ہے اور اپنے ہی عوام کے خلاف محاذ آرائی کا راستہ منتخب کر لیتی ہے، جو کسی بھی طور دانشمندی نہیں۔
اس اقدام کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ حکومت نے خود اپنے ہاتھوں سے پرامن مذاکرات کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں۔ سیاست کا یہ بنیادی اصول ہے کہ جب بھی بڑے پیمانے پر کوئی عوامی احتجاج ابھرتا ہے، تو اس کے رہنماؤں کے ساتھ میز پر بیٹھ کر معاملات حل کیے جاتے ہیں۔ ماضی میں بھی اسی کمیٹی کے احتجاج کے سامنے حکومت کو جھکنا پڑا تھا اور ان کے مطالبات تسلیم کیے گئے تھے۔ اب اس قیادت کو مجرم اور کالعدم قرار دے کر حکومت نے مستقبل میں بات چیت کے لیے کسی بھی جائز فریق کا وجود ہی ختم کر دیا ہے۔ جب پرامن احتجاج اور مذاکرات کا راستہ بند کر دیا جائے، تو عوام میں مایوسی پھیلتی ہے جو آخر کار انہیں مزید جارحانہ اور پرتشدد راستوں پر دھکیل دیتی ہے؛ یوں یہ فیصلہ امن قائم کرنے کے بجائے بدامنی کا ایک نیا سیلاب لانے کا سبب بنے گا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس فیصلے کے اثرات کشمیر کاز کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے۔ آج ہی پاکستانی دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتظامیہ کی جانب سے عوام کے خلاف 'پبلک سیفٹی ایکٹ' جیسے قوانین کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کو بھارت اب دنیا بھر میں اپنے حق میں پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرے گا اور یہ تاثر دے گا کہ آزاد کشمیر کے شہری خود اپنی حکومت سے نالاں ہیں اور وہاں کے لوگوں پر دہشت گردی کے سیاہ قوانین تھوپے جا رہے ہیں۔ اس طرح بیوروکریسی کی ایک نادانی نے کشمیر کے لیے پاکستان کی سفارت کاری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
یوں بھی تاریخ ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ عوامی لہروں اور نظریاتی تحریکوں کو کبھی بھی گولی، ڈنڈے یا قانونی پابندیوں کے زور پر نہیں دبایا جا سکتا۔ جب بھی کسی حکومت نے طاقت کے بل بوتے پر عوام کی آواز کو کچلنے کی کوشش کی، وہ تحریکیں ختم ہونے کے بجائے مزید طاقتور ہو کر ابھریں۔ خود مقبوضہ کشمیر اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ فورسز کے اجتماع کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا ہے، البتہ بھارت سے نفرت میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔
مٹھی بھر وزراء اور افسر شاہی کے مشورے پر جاری کیا گیا یہ نوٹیفکیشن کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نئے اور بڑے بحران کا پیش خیمہ ہے۔ اگر حکومت اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لیتی اور اس ضدی فیصلے کو فوری طور پر واپس نہیں لیتی، تو آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا، اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ طاقت کے بجائے سیاسی فہم و فراست کا مظاہرہ کیا جائے۔
مہتاب عزیز
پاکستان توڑنے کا ارادہ کیا جاچکا ہے
1971 والی صورتحال بنتی نظر آرہی ہے
جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو دہشتگرد قرار دے کر جلتی پر تیل ڈالا جاریا ہے
فوج اپنا ناجائز راج چھوڑنے پر تیار نہیں
عوام حق مانگ رہی ہے
مشرقی پاکستان میں ایسا ہی ہوا تھا
عاصم منیر پاکستان کے لئے منحوس ہے
عادل راجہ
1971 والی صورتحال بنتی نظر آرہی ہے
جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو دہشتگرد قرار دے کر جلتی پر تیل ڈالا جاریا ہے
فوج اپنا ناجائز راج چھوڑنے پر تیار نہیں
عوام حق مانگ رہی ہے
مشرقی پاکستان میں ایسا ہی ہوا تھا
عاصم منیر پاکستان کے لئے منحوس ہے
عادل راجہ