دل کی باتیں !
گھر کے صاحب کو صبح ناشتہ کرتے ہوئے سینے میں درد ہوا ۔ گھر والے انہیں ایک مشہور دل کے ہسپتال میں لے گئے ۔ تشخیصی مراحل سے گزارنے کے بعد انہیں فوری طور پر تین سٹینٹس ڈالنے کا مشورہ دیا گیا ورنہ ان کی زندگی کو شدید خطرہ تھا ۔
گھر والوں نے ڈاکٹرز کو سٹینٹس ڈالنے کی اجازت دے دی اور سیٹھ صاحب سٹینٹس ڈلوانے کے بعد خوشی خوشی گھر واپس آگئے ، ہسپتال کی طرف سے دی گئی اس جھوٹی تسلی کے ساتھ کہ آپ کا دل نیا ہو گیا ہے ۔
اتفاق سے اگلے دن سیٹھ صاحب کے خانساماں کو بھی ہارٹ اٹیک ہوگیا ۔
خانساماں کے گھر والے انہیں اسی ہسپتال میں لے گئے ۔ انجیوگرافی کرنے کے بعد انہیں ایمرجینسی بائی پاس آپریشن کا مشورہ دیا گیا ۔ خانساماں کی فیملی کے پاس آپریشن کروانے کے پیسے نہیں تھے ۔ ڈاکٹرز نے ان کا نام ویٹنگ لسٹ میں لکھ لیا اور دو سال بعد دل کے بائی پاس آپریشن کا ٹائم دیا ۔
خانساماں سے کہا گیا کہ آپ سگریٹ ختم کریں ۔ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کریں ۔ چکنائی والی چیز نہ کھائیں ۔ وزن کم کریں ۔ دواؤں کی پابندی کریں ۔ گھر جا کر آرام کریں ۔ ہر ماہ آکر پابندی سے اپنا معائنہ کرواتے رہیں ۔
دو سال بعد خانساماں کے بائی پاس آپریشن کی تاریخ آگئی تو خانساماں نے بائی پاس آپریشن کروانے سے انکار کردیا کیونکہ وہ اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار ریے تھے جبکہ ان کے سیٹھ صاحب کو ان دو سالوں کے دوران دل کے بائی پاس آپریشن کے علاوہ دو مزید سٹینٹس ڈال کر پھر سے دل کے نئے ہونے کی خوشخبری سنائی جا رہی تھی ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔
گھر کے صاحب کو صبح ناشتہ کرتے ہوئے سینے میں درد ہوا ۔ گھر والے انہیں ایک مشہور دل کے ہسپتال میں لے گئے ۔ تشخیصی مراحل سے گزارنے کے بعد انہیں فوری طور پر تین سٹینٹس ڈالنے کا مشورہ دیا گیا ورنہ ان کی زندگی کو شدید خطرہ تھا ۔
گھر والوں نے ڈاکٹرز کو سٹینٹس ڈالنے کی اجازت دے دی اور سیٹھ صاحب سٹینٹس ڈلوانے کے بعد خوشی خوشی گھر واپس آگئے ، ہسپتال کی طرف سے دی گئی اس جھوٹی تسلی کے ساتھ کہ آپ کا دل نیا ہو گیا ہے ۔
اتفاق سے اگلے دن سیٹھ صاحب کے خانساماں کو بھی ہارٹ اٹیک ہوگیا ۔
خانساماں کے گھر والے انہیں اسی ہسپتال میں لے گئے ۔ انجیوگرافی کرنے کے بعد انہیں ایمرجینسی بائی پاس آپریشن کا مشورہ دیا گیا ۔ خانساماں کی فیملی کے پاس آپریشن کروانے کے پیسے نہیں تھے ۔ ڈاکٹرز نے ان کا نام ویٹنگ لسٹ میں لکھ لیا اور دو سال بعد دل کے بائی پاس آپریشن کا ٹائم دیا ۔
خانساماں سے کہا گیا کہ آپ سگریٹ ختم کریں ۔ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کریں ۔ چکنائی والی چیز نہ کھائیں ۔ وزن کم کریں ۔ دواؤں کی پابندی کریں ۔ گھر جا کر آرام کریں ۔ ہر ماہ آکر پابندی سے اپنا معائنہ کرواتے رہیں ۔
دو سال بعد خانساماں کے بائی پاس آپریشن کی تاریخ آگئی تو خانساماں نے بائی پاس آپریشن کروانے سے انکار کردیا کیونکہ وہ اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار ریے تھے جبکہ ان کے سیٹھ صاحب کو ان دو سالوں کے دوران دل کے بائی پاس آپریشن کے علاوہ دو مزید سٹینٹس ڈال کر پھر سے دل کے نئے ہونے کی خوشخبری سنائی جا رہی تھی ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔
اگر آپ نوکری پیشہ ہیں اور آپ کے پاس پانچ چھ لاکھ کی savings موجود ہیں، اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں یہ رقم کسی ایسی جگہ انویسٹ کر دوں کہ میری اصل رقم بھی محفوظ رہے اور ماہانہ مجھے کچھ پرافٹ آتا رہے، تو یقین جانیں کہ آپ scam ہونے کی سرحد پر کھڑے ہیں اور بس ایک دھکا لگنے کی دیر ہے.
کوئی واقعتاً بزنس کرنے والا کبھی آپ سے یہ نہیں کہے گا کہ میں جو کام کرتا ہوں، اس میں کوئی رسک نہیں. آپ میرے ساتھ پیسہ لگائیں اور گھر بیٹھے نوٹ کمائیں. اسے معلوم ہے کہ بزنس میں فائدہ بھی ہوتا ہے، نقصان بھی. بہت فائدہ بھی اور بہت نقصان بھی. اس میں بندے نے چاہے جتنا بھی 'سیکھا' ہو، فائدہ نقصان ساتھ چلتا ہے. اتنی بڑی بڑی ملٹی نیشنلز کو نقصان ہو جاتا ہے جنہوں نے 'سیکھے ہوئے' پروفیشنلز کی فوج رکھی ہوتی ہے تو عام کاروباری کیا چیز ہے.
سکیمر، آپ کے اندر نقصان کے ڈر کا فائدہ اٹھاتا ہے. وہ آپ کو یقین دلاتا ہے کہ میرے پاس جو گیدڑسنگھی ہے وہ نقصان کا امکان ہی ختم کر دیتی ہے. پھر وہ آپ کو آفر کرتا ہے کہ تسلی کے لیے ساری رقم نہ لگائیں. دو لاکھ سے شروع کریں، میں آپ کو ہر ماہ منافع دوں گا. پھر وہ آپ سے رقم لیتا ہے اور اسی رقم میں سے پانچ فیصد منافع کے طور پر، واپس کرنا شروع کرتا ہے.
نوٹ اکاؤنٹ میں گرنے لگتے ہیں تو آپ باولے ہو جاتے ہیں. کچھ تحقیق نہیں کرتے کہ بندہ کرتا کیا ہے. لالچ آپ کو جکڑ لیتی ہے اور آپ باقی جمع پونجی بھی لگا دیتے ہیں. ساتھ ہی سکیمر آپ سے کہتا ہے کہ اگر کوئی اور انویسٹر ہے تو اسے بھی لے آؤ. آپ اپنے تئیں نیکی کرتے ہیں اور رشتہ داروں یار دوستوں کا پیسہ بھی لگا دیتے ہیں.
سکیمر پھر مزید وصول کی ہوئی رقم میں سے پانچ فیصد واپس کرنا شروع کر دیتا ہے. اس طرح یہ نظام چل پڑتا ہے. سادہ سا حساب رکھیں، سمجھنے میں آسانی رہے گی. پانچ فیصد کے حساب سے اگر اس نے آپ کو چھ ماہ بھی منافع دیا تو تیس فیصد آپ کے پاس آ گیا اور ستر فیصد اس کے پاس ہے.
اس تمام معاملہ کو 'اسلامی' بنانے کے لیے وہ فکس رقم آپ کو نہیں دیتا بلکہ تھوڑا بہت اوپر نیچے کرتا رہتا ہے تا کہ 'اسلامی ٹچ' باقی رہے. ایک آدھ ماہ بہت کم بھی دے گا اور اگلے ماہ زیادہ، تا کہ آپ 'فل اسلامک ٹچ' کے مزے اڑا سکیں.
پھر ایک دن آئے گا کہ وہ پھر کبھی آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا. فون بند. گھر پر تالا. بندہ پھرررررر بیرون ِملک. رہے آپ، تو شرمندگی کے مارے آپ کسی سے ذکر بھی نہیں کریں گے کہ آپ کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے. زیادہ گرمی چڑھی تو شوشل میڈیا پر ایک آدھ پوسٹ داغ دیں گے. قصہ ختم، پیسہ ہضم.
اگر آپ کو کہیں بھی انویسٹ کرنا ہے تو کبھی بھی اس جھانسے میں نہ آئیں کہ آپ کو ہر ماہ منافع ملتا رہے. جس کے ساتھ انوسٹمنٹ کر رہے ہیں، اس کا کاروبار اچھی طرح دیکھیں. قانونی دستاویزات طلب کریں. خصوصاً اگر وہ کہتا ہے کہ e-commerce کا کام ہے تو پھر تو زیادہ احتیاط کریں.
اللہ آپ کے حلال رزق کی حفاظت فرمائے. آمین.
عبداللہ انصاری
کوئی واقعتاً بزنس کرنے والا کبھی آپ سے یہ نہیں کہے گا کہ میں جو کام کرتا ہوں، اس میں کوئی رسک نہیں. آپ میرے ساتھ پیسہ لگائیں اور گھر بیٹھے نوٹ کمائیں. اسے معلوم ہے کہ بزنس میں فائدہ بھی ہوتا ہے، نقصان بھی. بہت فائدہ بھی اور بہت نقصان بھی. اس میں بندے نے چاہے جتنا بھی 'سیکھا' ہو، فائدہ نقصان ساتھ چلتا ہے. اتنی بڑی بڑی ملٹی نیشنلز کو نقصان ہو جاتا ہے جنہوں نے 'سیکھے ہوئے' پروفیشنلز کی فوج رکھی ہوتی ہے تو عام کاروباری کیا چیز ہے.
سکیمر، آپ کے اندر نقصان کے ڈر کا فائدہ اٹھاتا ہے. وہ آپ کو یقین دلاتا ہے کہ میرے پاس جو گیدڑسنگھی ہے وہ نقصان کا امکان ہی ختم کر دیتی ہے. پھر وہ آپ کو آفر کرتا ہے کہ تسلی کے لیے ساری رقم نہ لگائیں. دو لاکھ سے شروع کریں، میں آپ کو ہر ماہ منافع دوں گا. پھر وہ آپ سے رقم لیتا ہے اور اسی رقم میں سے پانچ فیصد منافع کے طور پر، واپس کرنا شروع کرتا ہے.
نوٹ اکاؤنٹ میں گرنے لگتے ہیں تو آپ باولے ہو جاتے ہیں. کچھ تحقیق نہیں کرتے کہ بندہ کرتا کیا ہے. لالچ آپ کو جکڑ لیتی ہے اور آپ باقی جمع پونجی بھی لگا دیتے ہیں. ساتھ ہی سکیمر آپ سے کہتا ہے کہ اگر کوئی اور انویسٹر ہے تو اسے بھی لے آؤ. آپ اپنے تئیں نیکی کرتے ہیں اور رشتہ داروں یار دوستوں کا پیسہ بھی لگا دیتے ہیں.
سکیمر پھر مزید وصول کی ہوئی رقم میں سے پانچ فیصد واپس کرنا شروع کر دیتا ہے. اس طرح یہ نظام چل پڑتا ہے. سادہ سا حساب رکھیں، سمجھنے میں آسانی رہے گی. پانچ فیصد کے حساب سے اگر اس نے آپ کو چھ ماہ بھی منافع دیا تو تیس فیصد آپ کے پاس آ گیا اور ستر فیصد اس کے پاس ہے.
اس تمام معاملہ کو 'اسلامی' بنانے کے لیے وہ فکس رقم آپ کو نہیں دیتا بلکہ تھوڑا بہت اوپر نیچے کرتا رہتا ہے تا کہ 'اسلامی ٹچ' باقی رہے. ایک آدھ ماہ بہت کم بھی دے گا اور اگلے ماہ زیادہ، تا کہ آپ 'فل اسلامک ٹچ' کے مزے اڑا سکیں.
پھر ایک دن آئے گا کہ وہ پھر کبھی آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا. فون بند. گھر پر تالا. بندہ پھرررررر بیرون ِملک. رہے آپ، تو شرمندگی کے مارے آپ کسی سے ذکر بھی نہیں کریں گے کہ آپ کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے. زیادہ گرمی چڑھی تو شوشل میڈیا پر ایک آدھ پوسٹ داغ دیں گے. قصہ ختم، پیسہ ہضم.
اگر آپ کو کہیں بھی انویسٹ کرنا ہے تو کبھی بھی اس جھانسے میں نہ آئیں کہ آپ کو ہر ماہ منافع ملتا رہے. جس کے ساتھ انوسٹمنٹ کر رہے ہیں، اس کا کاروبار اچھی طرح دیکھیں. قانونی دستاویزات طلب کریں. خصوصاً اگر وہ کہتا ہے کہ e-commerce کا کام ہے تو پھر تو زیادہ احتیاط کریں.
اللہ آپ کے حلال رزق کی حفاظت فرمائے. آمین.
عبداللہ انصاری
❤2
انٹرنیشنل ہیرو نیشنل زیرو ہے
ایسے بے باک تبصروں کے لیے ہمارا ٹیلی گرام اور واٹس ایپ چینل جوائن کریں اور دوستوں عزیز و اقارب کے ساتھ بھی شئیر کریں
کیونکہ ہم سب نے مل کر پاکستان بچانا ہے اور ان ڈاکوؤں کو بھگانا ہے
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
https://t.me/PTIOrg
ایسے بے باک تبصروں کے لیے ہمارا ٹیلی گرام اور واٹس ایپ چینل جوائن کریں اور دوستوں عزیز و اقارب کے ساتھ بھی شئیر کریں
کیونکہ ہم سب نے مل کر پاکستان بچانا ہے اور ان ڈاکوؤں کو بھگانا ہے
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
https://t.me/PTIOrg
منقول از ہوم ڈیلیوری بوائے
ہوم ڈیلیوری کا مطلب بیڈرُوم ڈیلیوری ہرگز نہیں ہے !
میں ان تمام بھائیوں اور بہنوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں جو بلڈنگ کی چوتھی منزل پر بیٹھ کر رائیڈر کو کہہ رہے ہوتے ہیں بھائی اُوپر رُوم تک آ جاو ۔ یار ہم بھی انسان ہیں ۔
500 کا آرڈر کروا کر خرید تو نہیں لیا آپ لوگوں نے ہمیں، کم از کم اتنا کر لو کہ بھائی ایک دو فلور آپ آجاو ایک دو ہم آجاتے ہیں ۔ یہ کوئی طریقہ ہے ۔۔
آپ سے اتنا نہیں ہوتا تو سوچو ہم پہ کیا گزرتی ہوگی؟ اوپر سے آپ لوگ یہ دھمکیاں بھی دیتے ہو
"آرڈر واپس لے جاو ،نہیں آتے تو کمپنی کو شکایت لگاتے ہیں "
کچھ انسان کے بچے بنو یار ، مہربانی کرو ۔۔۔
ہوم ڈیلیوری کا مطلب بیڈرُوم ڈیلیوری ہرگز نہیں ہے !
میں ان تمام بھائیوں اور بہنوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں جو بلڈنگ کی چوتھی منزل پر بیٹھ کر رائیڈر کو کہہ رہے ہوتے ہیں بھائی اُوپر رُوم تک آ جاو ۔ یار ہم بھی انسان ہیں ۔
500 کا آرڈر کروا کر خرید تو نہیں لیا آپ لوگوں نے ہمیں، کم از کم اتنا کر لو کہ بھائی ایک دو فلور آپ آجاو ایک دو ہم آجاتے ہیں ۔ یہ کوئی طریقہ ہے ۔۔
آپ سے اتنا نہیں ہوتا تو سوچو ہم پہ کیا گزرتی ہوگی؟ اوپر سے آپ لوگ یہ دھمکیاں بھی دیتے ہو
"آرڈر واپس لے جاو ،نہیں آتے تو کمپنی کو شکایت لگاتے ہیں "
کچھ انسان کے بچے بنو یار ، مہربانی کرو ۔۔۔
عمران خان بہت جلد جیل سے باہر آرہے ہیں اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں ، سہیل آفریدی
کچھ عجب نہیں کہ سہیل آفریدی ، خفیہ عسکری اثاثے اور صدیق جان بھائی ایک ہی خبر پھیلا رہے ہیں۔ جس عمران خان کی آنکھ کا بروقت علاج نہیں ہوپایا ، جس عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے وہ عمران خان ہرگز ہرگز جلد باہر نہیں آرہا۔ اتنا وقت گزرنے کے بعد اس طرح کی یقین دہانیاں کروانے پر سہیل آفریدی عمران خان کو قید میں رکھنے کے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
Enkido
کچھ عجب نہیں کہ سہیل آفریدی ، خفیہ عسکری اثاثے اور صدیق جان بھائی ایک ہی خبر پھیلا رہے ہیں۔ جس عمران خان کی آنکھ کا بروقت علاج نہیں ہوپایا ، جس عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے وہ عمران خان ہرگز ہرگز جلد باہر نہیں آرہا۔ اتنا وقت گزرنے کے بعد اس طرح کی یقین دہانیاں کروانے پر سہیل آفریدی عمران خان کو قید میں رکھنے کے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
Enkido
مجھے ایک موقع دیں تقدیر بدل دونگا۔۔۔نواز شریف
(اب تک سارے خاندان کی تو بدل دی ہے)
1981 وزیر خزانہ پنجاب (نواز شریف)
1985 وزیراعلیٰ پنجاب (نواز شریف)
1988 وزیر اعلیٰ پنجاب (نواز شریف)
1990 وزیراعظم پاکستان (نواز شریف)
1997 وزیراعظم پاکستان (نواز شریف)
1997 وزیر اعلیٰ پنجاب (شہباز شریف)
2008 وزیر اعلیٰ پنجاب (شہباز شریف)
2013 وزیراعظم پاکستان (نواز شریف)
2013 وزیر اعلیٰ پنجاب (شہباز شریف)
2022 وزیراعظم پاکستان (شہباز شریف)
2022 وزیر اعلیٰ پنجاب (حمزہ شہباز)
2024 وزیر اعلیٰ پنجاب (مریم نواز)
(اب تک سارے خاندان کی تو بدل دی ہے)
1981 وزیر خزانہ پنجاب (نواز شریف)
1985 وزیراعلیٰ پنجاب (نواز شریف)
1988 وزیر اعلیٰ پنجاب (نواز شریف)
1990 وزیراعظم پاکستان (نواز شریف)
1997 وزیراعظم پاکستان (نواز شریف)
1997 وزیر اعلیٰ پنجاب (شہباز شریف)
2008 وزیر اعلیٰ پنجاب (شہباز شریف)
2013 وزیراعظم پاکستان (نواز شریف)
2013 وزیر اعلیٰ پنجاب (شہباز شریف)
2022 وزیراعظم پاکستان (شہباز شریف)
2022 وزیر اعلیٰ پنجاب (حمزہ شہباز)
2024 وزیر اعلیٰ پنجاب (مریم نواز)
صدقے کے کچھ چھو ٹے چھو ٹے طریقے
01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔
02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔
04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔
05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔
06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔
07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔
08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔
09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔
10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔
11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔
12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔
13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔
14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔
15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔
16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔
17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔
18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔
19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔
20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔
21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔
22: مسجد کی ٹوپیاں گھرلا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔
23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔
24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔
25: اس پیغام کو دوسروں کو بھیج کر صدقہ خیرات پر آمادہ کیجیئے
صدقہ احادیث کی روشنی میں
1. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
2. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
3. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
4. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
5. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
6. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
7. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
8. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
9. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
10. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
11. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
12. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
13. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
14. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
15. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
16. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]
17. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
18. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]
19. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
20. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
21. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
22. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
23. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
24. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
25. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
26. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]
27. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
28. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
29. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
30. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]
31. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]
32. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]
33. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]
34. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]
35. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]
36. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]
37. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
38. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
39. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]
اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بن جائیں
01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔
02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔
04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔
05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔
06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔
07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔
08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔
09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔
10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔
11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔
12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔
13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔
14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔
15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔
16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔
17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔
18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔
19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔
20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔
21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔
22: مسجد کی ٹوپیاں گھرلا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔
23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔
24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔
25: اس پیغام کو دوسروں کو بھیج کر صدقہ خیرات پر آمادہ کیجیئے
صدقہ احادیث کی روشنی میں
1. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
2. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
3. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
4. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
5. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
6. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
7. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
8. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
9. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
10. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
11. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
12. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
13. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
14. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
15. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
16. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]
17. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
18. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]
19. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
20. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
21. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
22. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
23. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
24. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
25. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
26. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]
27. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
28. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
29. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
30. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]
31. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]
32. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]
33. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]
34. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]
35. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]
36. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]
37. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
38. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
39. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]
اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بن جائیں
👍1
ایکسپورٹ کیلئے سب سے اہم چیز توانائی کی قیمتیں ہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومت نے جس طرح بجلی گیس کی قیمتیں مجرمانہ طریقے سے بڑھائیں ، پاکستان میں یہ صنعتیں تباہ ہونے کا سب سے اہم فیکٹر رہا ہے۔ اور یہ حکمرانوں کی نااہلی کے سبب نہیں ہوا ہے بلکہ یہ غیر ملکی طاقتوں کے منصوبوں کے تحت ہوا ہے ۔ یہ کسی طرح بھی دہشت گردی سے کم نہیں ہے زمہ داری فوج اور انکے کٹھ پتلیوں پر عائد ہوتی ہے
کینٹ کے اندر اور باہر دو الگ دنیائیں
سعدیہ سید
میں جب بھی کینیڈا سے کراچی آتی ہوں تو ایسا لگتا ہے دو مختلف دنیائیں ایک دوسرے کے پہلو میں زندہ ہیں۔ اگر آپ کراچی ائیر پورٹ سے سیدھا کینٹونمنٹ کے اندر جائیں تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہم کینیڈا سے کراچی پہنچ چکے ہیں یا پھر ابھی کینیڈا میں ہی ہیں۔ کشادہ صاف ستھری ہموار سڑکیں، گھنے سایہ دار درخت، جگہ جگہ اچھلتے فوارے، صاف ستھرا ماحول، خوبصورت دکانیں، بہترین سہولیات دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں کہ ہم پاکستان میں ہیں۔
اسی کینٹ کے گیٹ سے اگر باہر نکلیں تو یوں احساس ہوتا ہے کہ بالکل ایک دوسری دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔ دھول مٹی کا طوفان، ٹوٹی پھوٹی صدیوں سے زیر تعمیر نا ہموار سڑکیں، سڑکوں پر بہتا سیوریج کا پانی، بے ہنگم بے ترتیب ٹریفک دیکھ کر دماغ پھٹنے لگتا ہے۔
میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ پچھلے اٹھتر سال سے قبضہ تو اس گیٹ سے باہر والے پاکستان پر بھی اسی پاک فوج کا ہے تو کیا وجہ ہے کہ گیٹ کے ایک طرف تو انتہائی خوبصورت ہموار اور کشادہ سڑکیں ہیں اور دوسری طرف یہی فوج کئی دھائیوں میں چند سڑکیں مرمت کروانے سے قاصر رہتی ہے۔ گیٹ کے ایک طرف ریٹائرڈ اور حاضر سروس تمام فوجیوں کو شاندار ترین اور تقریباً مفت صحت کی سہولیات دستیاب ہیں اور گیٹ کی دوسری طرف لوگ دوائیوں اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی بناء پر سسک سسک کر مرنے پر مجبور ہیں۔ وہی ادارہ آرمی پبلک اسکولز اور یونیورسٹییز جیسے شاندار اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے بناتا ہے اور دوسری طرف اسی ادارے کے مقبوضہ باقی ملک میں دو کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور جو اسکولوں میں ہیں وہ بھی بد ترین معیار کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
مجھے یہ نہ کہئے گا کہ فوج کا کام گیٹ کے باہر سڑکوں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ کیونکہ فوج کا کام تو کینٹونمنٹ کے گیٹ کے اندر بھی یہ تمام سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ اس کا کام تو جنگ لڑنا ہے وہ جب بھی یہ لڑتی ہے تو پینٹیں اتروا کر بھاگ نکلتی ہے۔ تو اگر یہ گیٹ کے اندر یہ سب کچھ ہو سکتا ہے تو باہر یہ سب کچھ کرنے سے تمھیں کون روک رہا ہے؟ اور اگر باہر لوگوں کو یہ سب میسر نہیں ہے تو انہوں نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کے بدلے میں یہ عوام کا حق مار کر عیاشی کر رہے ہیں ؟
مسئلہ صرف یہ ہے کہ فوج جانتی ہے کہ وہ اس ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم ان کے غلام ہیں۔ غلاموں کو سہولیات نہیں دی جاتیں۔ ان کا خون نچوڑا جاتا ہے ۔ ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ہر شہر کے اندر بسی یہ دو دنیائیں محض اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس میں قابض اور غاصب حکمران جان بوجھ کر رعایا کو بد ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ کبھی بغاوت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکیں۔بالکل اسی طرح جیسے تقسیم پاکستان سے پہلے ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج راجے مہاراجے بنا کر رکھا کرتے تھے ان کے گلے میں موتیوں کے ہار پہنا کر انہیں مسند پر بٹھا دیا جاتا تھا اور انہیں کہا جاتا تھا کہ ہمارے لئے ان کمی کمین کالے پیلے لوگوں کا خون نچوڑ کر انہیں ہمارا غلام بنا کر رکھو ۔ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھو ۔ بدلے میں ہماری طرف سے اجازت ہے کہ تم بھی کچھ حصہ رکھ لو ۔ بس یہ وہی راجے مہاراجے ہیں جو گیٹ کے پرلی طرف آج بھی عوام کے سر پر مسلط ہیں ۔
سعدیہ سید
میں جب بھی کینیڈا سے کراچی آتی ہوں تو ایسا لگتا ہے دو مختلف دنیائیں ایک دوسرے کے پہلو میں زندہ ہیں۔ اگر آپ کراچی ائیر پورٹ سے سیدھا کینٹونمنٹ کے اندر جائیں تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہم کینیڈا سے کراچی پہنچ چکے ہیں یا پھر ابھی کینیڈا میں ہی ہیں۔ کشادہ صاف ستھری ہموار سڑکیں، گھنے سایہ دار درخت، جگہ جگہ اچھلتے فوارے، صاف ستھرا ماحول، خوبصورت دکانیں، بہترین سہولیات دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں کہ ہم پاکستان میں ہیں۔
اسی کینٹ کے گیٹ سے اگر باہر نکلیں تو یوں احساس ہوتا ہے کہ بالکل ایک دوسری دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔ دھول مٹی کا طوفان، ٹوٹی پھوٹی صدیوں سے زیر تعمیر نا ہموار سڑکیں، سڑکوں پر بہتا سیوریج کا پانی، بے ہنگم بے ترتیب ٹریفک دیکھ کر دماغ پھٹنے لگتا ہے۔
میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ پچھلے اٹھتر سال سے قبضہ تو اس گیٹ سے باہر والے پاکستان پر بھی اسی پاک فوج کا ہے تو کیا وجہ ہے کہ گیٹ کے ایک طرف تو انتہائی خوبصورت ہموار اور کشادہ سڑکیں ہیں اور دوسری طرف یہی فوج کئی دھائیوں میں چند سڑکیں مرمت کروانے سے قاصر رہتی ہے۔ گیٹ کے ایک طرف ریٹائرڈ اور حاضر سروس تمام فوجیوں کو شاندار ترین اور تقریباً مفت صحت کی سہولیات دستیاب ہیں اور گیٹ کی دوسری طرف لوگ دوائیوں اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی بناء پر سسک سسک کر مرنے پر مجبور ہیں۔ وہی ادارہ آرمی پبلک اسکولز اور یونیورسٹییز جیسے شاندار اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے بناتا ہے اور دوسری طرف اسی ادارے کے مقبوضہ باقی ملک میں دو کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور جو اسکولوں میں ہیں وہ بھی بد ترین معیار کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
مجھے یہ نہ کہئے گا کہ فوج کا کام گیٹ کے باہر سڑکوں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ کیونکہ فوج کا کام تو کینٹونمنٹ کے گیٹ کے اندر بھی یہ تمام سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ اس کا کام تو جنگ لڑنا ہے وہ جب بھی یہ لڑتی ہے تو پینٹیں اتروا کر بھاگ نکلتی ہے۔ تو اگر یہ گیٹ کے اندر یہ سب کچھ ہو سکتا ہے تو باہر یہ سب کچھ کرنے سے تمھیں کون روک رہا ہے؟ اور اگر باہر لوگوں کو یہ سب میسر نہیں ہے تو انہوں نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کے بدلے میں یہ عوام کا حق مار کر عیاشی کر رہے ہیں ؟
مسئلہ صرف یہ ہے کہ فوج جانتی ہے کہ وہ اس ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم ان کے غلام ہیں۔ غلاموں کو سہولیات نہیں دی جاتیں۔ ان کا خون نچوڑا جاتا ہے ۔ ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ہر شہر کے اندر بسی یہ دو دنیائیں محض اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس میں قابض اور غاصب حکمران جان بوجھ کر رعایا کو بد ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ کبھی بغاوت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکیں۔بالکل اسی طرح جیسے تقسیم پاکستان سے پہلے ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج راجے مہاراجے بنا کر رکھا کرتے تھے ان کے گلے میں موتیوں کے ہار پہنا کر انہیں مسند پر بٹھا دیا جاتا تھا اور انہیں کہا جاتا تھا کہ ہمارے لئے ان کمی کمین کالے پیلے لوگوں کا خون نچوڑ کر انہیں ہمارا غلام بنا کر رکھو ۔ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھو ۔ بدلے میں ہماری طرف سے اجازت ہے کہ تم بھی کچھ حصہ رکھ لو ۔ بس یہ وہی راجے مہاراجے ہیں جو گیٹ کے پرلی طرف آج بھی عوام کے سر پر مسلط ہیں ۔
❤2👍1
2019ء میں نواز شریف ایک خاموش سمجھوتے کے تحت اپنے دیس سے باہر بھیج دیے گئے لیکن 2026 میں عمران خان ایسا کوئی سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں۔ مجھے تحریکِ انصاف کے کئی سرکردہ رہنما کہہ چکے ہیں کہ خان صاحب اگر تھوڑی سی لچک دکھائیں تو کم از کم ہم انہیں جیل سے نکال لیں گے۔جب میں پوچھتا ہوں کہ خان صاحب لچک کیوں نہیں دکھاتے تو کہا جاتا ہے کہ وہ نواز شریف نہیں بننا چاہتے۔ حامد میر کا روزنامہ جنگ میں کالم
داتا دربار چوری پر افسروں کو سزا، 2 کروڑ روپے کی ریکوری کا حکم۔۔ سابق ایڈمنسٹریٹر کی مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لیے تنزلی اور 5 سالہ سروس ضبط، 92 لاکھ روپے کی ریکوری، سابق مینیجر طاہر مقصود سرکاری ملازمت سے برطرف اور ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کی ریکوری، سابق سٹینوگرفرار ثاقب نسیم کی 4 سالہ سروس ضبط۔
دربار بی بی پاکدامن میں غبن پر ملازمین کو سزائیں، سابق منیجر زاہد اقبال کی 5 سالہ ملازمت ضبط، 53 لاکھ ریکوری، کلرک امتیاز حسین کو 3 سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا، گیٹ کیپر محسن شاہ اور سابق نگران ظفر اقبال پر کیش ہینڈلنگ پر مستقل پابندی عائد۔
محمد ذیشان اعوان
ــــــ
اللہ اس قوم کو ہدایت دے۔ خود اندازہ لگائیں عوام کتنی رقوم درباروں پر بیٹھے ان ٹھگوں کو دیتی ہے مگر اپنے اطراف ، کسی مستحق غریب ، کسی مستحق رشتہ دار کو دیتے ہوئے موت آئے گی ۔ خباثت کی انتہا ہے اس جاہل قوم پر 😡😡😡
دربار بی بی پاکدامن میں غبن پر ملازمین کو سزائیں، سابق منیجر زاہد اقبال کی 5 سالہ ملازمت ضبط، 53 لاکھ ریکوری، کلرک امتیاز حسین کو 3 سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا، گیٹ کیپر محسن شاہ اور سابق نگران ظفر اقبال پر کیش ہینڈلنگ پر مستقل پابندی عائد۔
محمد ذیشان اعوان
ــــــ
اللہ اس قوم کو ہدایت دے۔ خود اندازہ لگائیں عوام کتنی رقوم درباروں پر بیٹھے ان ٹھگوں کو دیتی ہے مگر اپنے اطراف ، کسی مستحق غریب ، کسی مستحق رشتہ دار کو دیتے ہوئے موت آئے گی ۔ خباثت کی انتہا ہے اس جاہل قوم پر 😡😡😡
گورے سیاحوں اور ولاگرز کی ان دنوں پاکستان پہ یلغار ہوئی پڑی ہے سمت شمال تو خیر جاتے ہی تھے مگر اب انکا رخ کراچی کیطرف بھی ہوگیا ہے کیا امریکی کیا برطانوی کیا مرد کیا عورت کیا ہی جوڑے سبھی یہاں پہنچے ہوئے ہیں اور بالکل عام سے پاکستانیوں کی مہمان نوازی دیکھ کر پاگل ہوئے ہیں مادیت کے اصولوں پہ کھڑے مغربی معاشرے کے لوگوں کےلئے یہ سب دیکھنا نایاب تجربہ ہے ، کوئی فی سبیل اللہ چائے پلا رہا ہے کوئی پراٹھے پیش کر رہا ہے کوئی لفٹ دیکر مطلوب منزل تک پہنچا رہا ہے
ابھی تو ان سیاحوں نے سیلانی کے دستر خوان نہیں دیکھے ورنہ انکے بکرے قورمے بریانی کھانے پورے خاندان کو لیکر پہنچ جائیں گے، دنیا سے متعارف ہوتا یہ الگ سا پاکستان ہے جسے ہم تو جانتے تھے مگر دیگر نہیں
پاکستان دنیا کے غریب ممالک میں سے ایک ہے مگر اسکے باوجود رفاہی کاموں میں کھلے دل سے خرچے اور مہمان نوازی ایسا وصف ہے، جو ہمیں بہت نمایاں کرتا ہے اور اس عمل نے سبھی کو حیران کیا ہے کیا چوکیدار کیا عام شہری اور کیا ہی سرمایہ دار سارے ہی اپنی اہنی حیثیت کیمطابق مہمان نواَی کرتے ہیں
اس حوالے سے یہ سیاسی ہندوستانیوں کو بہت مطعون کرتے ہیں جو سوائے پیسوں کی دوسری بات نہیں کرتے، کہنے کو ہمارا خطہ مزاج اور عادات کافی یکساں ہیں مگر مہمان نوازی میں پاکستانی نیکسٹ لیول پہ کھڑے ہیں جہاں کے عام شہری سیاحوں کو موقع سمجھنے کے بجائے اسے اپنی نرم اور دریاء دلی دکھانے کا موقع سمجھا.... اس سارے عمل کے پیچھے آپکو اسلامی تعلیمات دکھائی دینگی جو مہمان نوازی اور دستر خوان کی کشادگی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں
اس سارے عمل حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں کیونکہ یہ ہمارا عوامی مزاج ہے جو مہران تا بولان اور گلگلت تا کمراٹ دیکھنے کو ملتا ہے، حکومت سے البتہ روایتی درخواست ھیکہ کراچی میں صفائی کا اہتمام کرے تاکہ شہریوں کے خوبصورت رویوں کیساتھ شہر بھی اچھا نظر آئے صدر کراچی میں ایک کوئٹہ وال امریکی سیاح کو چائے پراٹھہ ہیش کرتا ہے، پیپر کپ لیکر پھر گورا ڈسٹ بن بس تلاش ہی کرتا رہ جاتا ہے جو کہ شرمندگی کا باعث ہے اور ہاں گورا بریانی چائے اور چیز پراٹھے کا عاشق ہوا پڑا ہے
باقی گورے مویشی منڈی جارہے تھے، بسوں کی چھتوں پہ سفر کر رہے ہیں گلیوں میں کرکٹ کھیل رہے ہیں فٹ پاتھ پہ دم درود و مالش کرا رہے ہیں ٹھیلوں سے سموسے جوس پی رہے ہیں اور پاکستان کے گن گا رہے ہیں
پاکستانی عوام اپنی مہمان نواَی کے سبب ایک بالکل الگ طرح کی سفارت کا سبب بن رہے ہیں
فیض اللہ خان
ابھی تو ان سیاحوں نے سیلانی کے دستر خوان نہیں دیکھے ورنہ انکے بکرے قورمے بریانی کھانے پورے خاندان کو لیکر پہنچ جائیں گے، دنیا سے متعارف ہوتا یہ الگ سا پاکستان ہے جسے ہم تو جانتے تھے مگر دیگر نہیں
پاکستان دنیا کے غریب ممالک میں سے ایک ہے مگر اسکے باوجود رفاہی کاموں میں کھلے دل سے خرچے اور مہمان نوازی ایسا وصف ہے، جو ہمیں بہت نمایاں کرتا ہے اور اس عمل نے سبھی کو حیران کیا ہے کیا چوکیدار کیا عام شہری اور کیا ہی سرمایہ دار سارے ہی اپنی اہنی حیثیت کیمطابق مہمان نواَی کرتے ہیں
اس حوالے سے یہ سیاسی ہندوستانیوں کو بہت مطعون کرتے ہیں جو سوائے پیسوں کی دوسری بات نہیں کرتے، کہنے کو ہمارا خطہ مزاج اور عادات کافی یکساں ہیں مگر مہمان نوازی میں پاکستانی نیکسٹ لیول پہ کھڑے ہیں جہاں کے عام شہری سیاحوں کو موقع سمجھنے کے بجائے اسے اپنی نرم اور دریاء دلی دکھانے کا موقع سمجھا.... اس سارے عمل کے پیچھے آپکو اسلامی تعلیمات دکھائی دینگی جو مہمان نوازی اور دستر خوان کی کشادگی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں
اس سارے عمل حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں کیونکہ یہ ہمارا عوامی مزاج ہے جو مہران تا بولان اور گلگلت تا کمراٹ دیکھنے کو ملتا ہے، حکومت سے البتہ روایتی درخواست ھیکہ کراچی میں صفائی کا اہتمام کرے تاکہ شہریوں کے خوبصورت رویوں کیساتھ شہر بھی اچھا نظر آئے صدر کراچی میں ایک کوئٹہ وال امریکی سیاح کو چائے پراٹھہ ہیش کرتا ہے، پیپر کپ لیکر پھر گورا ڈسٹ بن بس تلاش ہی کرتا رہ جاتا ہے جو کہ شرمندگی کا باعث ہے اور ہاں گورا بریانی چائے اور چیز پراٹھے کا عاشق ہوا پڑا ہے
باقی گورے مویشی منڈی جارہے تھے، بسوں کی چھتوں پہ سفر کر رہے ہیں گلیوں میں کرکٹ کھیل رہے ہیں فٹ پاتھ پہ دم درود و مالش کرا رہے ہیں ٹھیلوں سے سموسے جوس پی رہے ہیں اور پاکستان کے گن گا رہے ہیں
پاکستانی عوام اپنی مہمان نواَی کے سبب ایک بالکل الگ طرح کی سفارت کا سبب بن رہے ہیں
فیض اللہ خان
لاہور ہائیکورٹ کا مفاد عامہ ( پبلک انٹرسٹ ) کی درخواستیں دائر کرنے کے حوالے سے نیا اصول وضع کردیا ۔۔
ہائیکورٹ ریگولیٹر یا اپیلٹ فورم نہیں بن سکتی، تکنیکی اور پالیسی مسائل ایگزیکٹو اور ریگولیٹری باڈیز کے دائرہ کار میں ہیں مفاد عامہ کی درخواستیں ایک اہم ہتھیار ہے جسے احتیاط سے استمعال کرنا چاہیے مفاد عامہ کے پیچھے شہرت کی بھوک ،بدنیتی نہیں چھپی ہونی چاہیےہائیکورٹ کا فرض ہے کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ انصاف کا راستہ الودہ نہ ہو مفاد عامہ کی پیٹیشن کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار کے مستند حقائق بیان کرے قیاس ارئی فرضی یا بدنیتی پر مبنی درخواست مفاد عامہ کے نام پر قابل سماعت نہیں ہوسکتی
جسٹس خالد اسحاق
ہائیکورٹ ریگولیٹر یا اپیلٹ فورم نہیں بن سکتی، تکنیکی اور پالیسی مسائل ایگزیکٹو اور ریگولیٹری باڈیز کے دائرہ کار میں ہیں مفاد عامہ کی درخواستیں ایک اہم ہتھیار ہے جسے احتیاط سے استمعال کرنا چاہیے مفاد عامہ کے پیچھے شہرت کی بھوک ،بدنیتی نہیں چھپی ہونی چاہیےہائیکورٹ کا فرض ہے کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ انصاف کا راستہ الودہ نہ ہو مفاد عامہ کی پیٹیشن کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار کے مستند حقائق بیان کرے قیاس ارئی فرضی یا بدنیتی پر مبنی درخواست مفاد عامہ کے نام پر قابل سماعت نہیں ہوسکتی
جسٹس خالد اسحاق
پاکستان کو بے نظیر انکم سپورٹ نہیں ایجوکیشن سپورٹ، اسکل سپورٹ اور اے آئی سپورٹ پروگرام کی ضرورت ہے۔ قوم کے بچوں کو معیاری تعلیم اور اسکلز کی ضرورت ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومتیں تعلیمی ادارے آؤٹ سورس کررہی ہیں دوسری طرف غریبوں کا نام لیکر سیکڑوں ارب روپے ایک ایسے پروگرام کے لیے رکھے جارہے ہیں جو غربت میں کمی کے بجائے اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں گذشتہ تین برس میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا اور ایک کروڑ 30 لاکھ نئے افراد غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کا فراڈ پروگرام ہےاور پی پی اور ن لیگ کی ملی بھگت ہے۔ پیپلزپارٹی کے طرز حکمرانی نے یہ بات ثابت کردی کہ اگر وہ کسی پراجیکٹ کے لیے پیسے مانگ رہے ہے تو سمجھ لیں کرپشن کرنےکے لیے مانگ رہے ہیں ۔اور وڈیرہ سسٹم کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے کلاسیکل سرمایہ داری نظام میں عوامی مفاد کے پروجیکٹ بند کیے جاتے ہیں اور سرمایہ دار کا منافع بڑھایا جاتا ہے ۔ آئ پی پیز جو بجلی نہ بنا کے بھی عوام کی جیبوں سے اربوں نکال رہے ہیں اور ان بلاؤں کا تاحال کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے
بیجنگ میں غیر معمولی سفارتی پیش رفت، بھارتی سفیر کی افغان سفیر مولوی بلال کریمی سے اہم ملاقات
بیجنگ میں تعینات بھارت کے سفیر نے امارتِ اسلامی افغانستان کے سفیر مولوی بلال کریمی سے ایک باضابطہ ملاقات کی ہے… ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے سفارت کاروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نئی دہلی اور کابل کے درمیان عوامی اور تجارتی روابط کو وقت کے ساتھ مزید مستحکم کیا جائے گا۔ دونوں فریقین نے باہمی دل چسپی کے مختلف شعبوں میں جاری اقتصادی اور انسانی ہمدردی کے تعاون کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع اور گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ کابل میں بھارتی تکنیکی مشن کی موجودگی اور نئی دہلی کی جانب سے افغان عوام کے لیے گندم، ادویات اور دیگر انسانی امداد کی ترسیل نے دونوں دارالحکومتوں کے مابین اعتماد سازی کی فضا قائم کی ہے۔ مبصرین کی رائے میں امارتِ اسلامی افغانستان اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھنے اور کسی ایک پڑوسی ملک پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنے کے لیے بھارت جیسی بڑی علاقائی معیشت کے ساتھ سفارتی و تجارتی روابط بڑھا رہی ہے۔ چین کی سرزمین پر اس ملاقات کا ہونا اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ بیجنگ بھی خطے کے استحکام کے لیے نئی دہلی اور کابل کے مابین اس عملی تال میل کو مثبت نگاہ سے دیکھتا ہے۔
#IndiaAfghanistanRelations #BilalKarimi #KabulNewDelhi #BeijingDiplomacy #Geopolitics
بیجنگ میں تعینات بھارت کے سفیر نے امارتِ اسلامی افغانستان کے سفیر مولوی بلال کریمی سے ایک باضابطہ ملاقات کی ہے… ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے سفارت کاروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نئی دہلی اور کابل کے درمیان عوامی اور تجارتی روابط کو وقت کے ساتھ مزید مستحکم کیا جائے گا۔ دونوں فریقین نے باہمی دل چسپی کے مختلف شعبوں میں جاری اقتصادی اور انسانی ہمدردی کے تعاون کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع اور گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ کابل میں بھارتی تکنیکی مشن کی موجودگی اور نئی دہلی کی جانب سے افغان عوام کے لیے گندم، ادویات اور دیگر انسانی امداد کی ترسیل نے دونوں دارالحکومتوں کے مابین اعتماد سازی کی فضا قائم کی ہے۔ مبصرین کی رائے میں امارتِ اسلامی افغانستان اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھنے اور کسی ایک پڑوسی ملک پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنے کے لیے بھارت جیسی بڑی علاقائی معیشت کے ساتھ سفارتی و تجارتی روابط بڑھا رہی ہے۔ چین کی سرزمین پر اس ملاقات کا ہونا اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ بیجنگ بھی خطے کے استحکام کے لیے نئی دہلی اور کابل کے مابین اس عملی تال میل کو مثبت نگاہ سے دیکھتا ہے۔
#IndiaAfghanistanRelations #BilalKarimi #KabulNewDelhi #BeijingDiplomacy #Geopolitics
پاکستان کو افغانستان کے ساتھ راستے بند ہونے اور مڈل ایسٹ میں پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑھ رہا ہے۔ صرف افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بند ہونے کی وجہ سے 1.4 بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہورہا ہے۔ خود پاکستانی سروے (OICCI) کیمطابق سرمایہ داروں کا اعتماد پاکستانی معیشت پر قریب ختم ہوتا جارہا ہے۔
پاکستانی سرکاری حلقے میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ بارڈر بند کرنے کے بعد افغانستان پر پریشر بڑھنے کی وجہ سے ان کے ناجائز مطالبات تسلیم کر لئے جائیں گے لیکن الٹا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑھ رہا ہے، افغانستان نے سینٹرل ایشین ممالک کے ساتھ نہ صرف اپنی تجارت میں خاطرخواہ اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان کا گلہ دبانے میں بھی کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ یہ سب عسکری پالیسیوں اور عاصم منیر کی خودساختہ مہم جوئیوں کا خمیازہ ہے جو اب عوام بھگت رہی ہے۔
عادل راجہ
پاکستانی سرکاری حلقے میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ بارڈر بند کرنے کے بعد افغانستان پر پریشر بڑھنے کی وجہ سے ان کے ناجائز مطالبات تسلیم کر لئے جائیں گے لیکن الٹا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑھ رہا ہے، افغانستان نے سینٹرل ایشین ممالک کے ساتھ نہ صرف اپنی تجارت میں خاطرخواہ اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان کا گلہ دبانے میں بھی کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ یہ سب عسکری پالیسیوں اور عاصم منیر کی خودساختہ مہم جوئیوں کا خمیازہ ہے جو اب عوام بھگت رہی ہے۔
عادل راجہ
چھوٹی خالی بوتلیں پانی سے بھر کر فریزر میں رکھ دیں۔ جب کوئی ڈلیوری رائیڈر یا آرڈر لے کر آپکے یا پڑوسی کے دروازے پر ائے ہے تو اسے ٹھنڈے پانی کی ایک بوتل ضرور دیں۔ گرمی کے موسم میں ٹھنڈے پانی کی ایک بوتل کسی مزدور، مالی، ڈلیوری رائیڈر یا سڑک پر کام کرنے والے شخص کے لیے محض پانی نہیں بلکہ راحت ، اپنائیت اور توجہ کا احساس بھی ہوتی ہے. اکثر ہم بڑے بڑے کاموں کی اہمیت بیان کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں نرمی اور ہمدردی چھوٹی چھوٹی عادات سے پھیلتی ہے.
اس سخت موسم میں مشروبات اور پانی کی خالی بوتلیں پھینکنے کی بجائے پانی سے بھر کر اپنے ارد گرد کام کرتے لوگوں کو عنایت کریں
اس سخت موسم میں مشروبات اور پانی کی خالی بوتلیں پھینکنے کی بجائے پانی سے بھر کر اپنے ارد گرد کام کرتے لوگوں کو عنایت کریں
👍1
عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔
ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشین میں خطاب
ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشین میں خطاب
نوازشریف جو 45 سال سیاست کرنے کے بعد پنجاب میں ایک ہسپتال ایسا نہ بنا سکا جہاں اپنا علاج کروا سکے اور آج بھی معمول کے چیک اپ کے لیے سوئٹزرلینڈ جاتا ہے، وہ دو دن پہلے گلگت کی عوام سے وعدے کر رہا تھا کہ مجھے ووٹ دو تو میں تمہاری تقدیر بدل دوں گا۔
فیاض شاہ
فیاض شاہ
#آزادکشمیر
جب کوئی بات نہ بن پائی تو ایک بار پھر انڈیا سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ساتھ ہی پاکستان کے عوام کے دلوں میں جموں کشمیر کے عوام کے خلاف نفرت کا بیج بونے کی ناکام کوشش کی جاری ہے۔یہ تحریک نہ را فنڈڈ ہے اور نہ پاکستان مخالف
یہ جموں کشمیر کی عوام کی بنیادی حقوق کی تحریک ہے
شوکت نواز میر
جب کوئی بات نہ بن پائی تو ایک بار پھر انڈیا سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ساتھ ہی پاکستان کے عوام کے دلوں میں جموں کشمیر کے عوام کے خلاف نفرت کا بیج بونے کی ناکام کوشش کی جاری ہے۔یہ تحریک نہ را فنڈڈ ہے اور نہ پاکستان مخالف
یہ جموں کشمیر کی عوام کی بنیادی حقوق کی تحریک ہے
شوکت نواز میر