Pakistan Times International
354 subscribers
113 photos
20 videos
85 links
Download Telegram
‏ائیرپورٹ سے اف لوڈ ہونے والے محمد عباس کی کہانی کیسے اپنے حق کیلے عدالت سے قانونی ریلیف لیا ۔۔ اور سینکڑوں اف لوڈ ہونے والوں کی اواز بن گے۔

سیالکوٹ کی ٹھٹھرتی صبح تھی۔ 31 جنوری 2026 کا سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا کہ محمد عباس اپنا سامان اٹھائے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔

اس کے چہرے پر تھکاوٹ نہیں تھی، جوش تھا۔ آنکھوں میں نیند نہیں تھی، امید تھی۔ کیونکہ آج وہ اپنے بہنوئی ناصر فاروق سے ملنے نائجیریا جا رہا تھا جو وہاں ہوٹل اور باربر شاپس کا کاروبار چلاتے تھے اور شاید یہی سفر اس کی زندگی کا اصل موڑ ثابت ہوتا ہے ۔

اس کے ہاتھ میں سب کچھ تھا جو ہونا چاہیے تھا۔ نائجیریا کا جائز ویزا۔ واپسی کا کنفرم ٹکٹ۔ مکمل سفری دستاویزات۔ ایئرلائن کاؤنٹر نے بورڈنگ کارڈ جاری کر دیا۔ امیگریشن افسر نے پاسپورٹ چیک کیا اور روانگی کی مہر ثبت کر دی۔ عباس کے قدم جہاز کی طرف اٹھنے لگے۔

اور پھر اچانک سب تباہ ہو گیا

امیگریشن ڈپارٹمنٹ کا شفٹ انچارج سامنے آیا اور راستہ روک لیا۔ نہ کوئی وارننگ۔ نہ کوئی پہلے سے اطلاع۔ محمد عباس کو جہاز پر سوار ہونے سے روک کر آف لوڈ کر دیا گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھمایا گیا جس پر صرف دو فقرے لکھے تھے۔

ناپائیدار مالی حالات

سفر کا غیر واضح مقصد

بس۔ یہی وجہ تھی۔ یہی فیصلہ تھا۔ یہی انصاف تھا

عباس نے گڑگڑا کر کہا کہ اس کا بہنوئی وہاں موجود ہے۔ کفالت کا ذمہ دار ہے۔ اس نے ناصر فاروق کی کاروباری دستاویزات بھی سامنے رکھ دیں۔ لیکن کسی نے ایک لفظ نہیں سنا۔ اسے کروڑوں روپے کے ممکنہ مالی نقصان، ذہنی اذیت اور دیگر مسافروں کے سامنے اس شدید ذلت کے ساتھ ایئرپورٹ سے باہر نکال دیا گیا۔

ایک شہری کے خوابوں کو ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پامال کر دیا گیا تھا۔ بغیر کسی قانون کے۔ بغیر کسی وجہ کے۔ بغیر کسی جواب دہی کے۔

جب قانون نے دروازہ کھٹکھٹایا

محمد عباس کے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ چپ ہو جائے جیسے اس سے پہلے ہزاروں لوگ ہوئے۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنے حق کیلے قانونی جنگ لڑے۔

اس نے دوسرا راستہ چنا

اپنے وکیل کے ذریعے اس نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 27534/2026 دائر کی۔ اور اس طرح ایک عام مسافر کا کیس ایک بڑے آئینی سوال میں تبدیل ہو گیا۔

جسٹس راحیل کامران کے سامنے جب یہ مقدمہ کھلا تو دونوں فریق اپنی اپنی طاقت کے ساتھ آئے۔

وفاق کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نعمان خالد نے FIA کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی ہجرت اور ویزے کے غلط استعمال کو روکنا امیگریشن حکام کا قانونی حق ہے۔ عباس کے پاس خاطر خواہ رقم نہیں تھی اس لیے اسے روکنا قانون کے دائرے میں تھا۔

عباس کے وکیل نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، دس الف اور 15 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو قانون کے بغیر سفر کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ محمد عباس کا نام نہ ECL میں تھا نہ PCL میں۔ اس کے خلاف کوئی مجرمانہ انکوائری نہیں تھی۔ تو پھر کس قانون کے تحت ایک آزاد شہری کو روکا گیا۔

عدالت نے سوال پوچھا جس نے FIA کے حکام کو سکوت میں ڈال دیا۔

ناپائیدار مالی حالات کا فیصلہ کس ترازو سے ہوا؟ کیا حکومت نے نائجیریا جانے کے لیے کوئی رقم مقرر کی ہے؟ اگر نہیں تو امیگریشن افسر نے اپنی ذاتی پسند ناپسند پر ایک شہری کو کیسے روک دیا؟

جج نے واضح کیا کہ صوابدیدی اختیارات کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے جسے جب چاہا گھما دیا۔ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24 الف کے تحت ہر سرکاری افسر کا یہ فرض ہے کہ اپنے فیصلے کی ٹھوس اور معقول وجوہات تحریر کرے۔

جسٹس راحیل کامران نے محمد عباس کے حق میں فیصلہ سنایا۔

FIA کا اقدام مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا۔ من مانا قرار دیا گیا۔ آئین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

عباس کو دوبارہ سفر کی اجازت ملی اور یہ حق بھی ملا کہ وہ اپنی ذلت اور مالی نقصان کا ہرجانہ دیوانی عدالت سے مانگ سکتا ہے۔

لیکن اس فیصلے کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ جج نے مستقبل کے لیے ایک واضح گائیڈ لائن جاری کی۔ اب کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرنے سے پہلے تمام سوال و جواب تحریری یا الیکٹرانک شکل میں محفوظ کرنے ہوں گے۔ ٹھوس وجوہات لکھنی ہوں گی۔ اور اس کی کاپی فوری طور پر مسافر کو دینی ہوگی۔

ایک محمد عباس نے اپنی ذلت کو بنیاد بنا کر لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ڈھال بنا دی۔

یہ کہانی صرف ایک آدمی کے سفر کرنے یا نہ کرنے کی نہیں ہے۔ یہ اس سوال کی کہانی ہے کہ پاکستان میں ایک عام شہری کے خواب کتنے محفوظ ہیں۔ اور اس جواب کی کہانی ہے کہ جب ریاست کا ادارہ حد سے تجاوز کرے تو آئین کا قانون اسے واپس اس کی جگہ پر کھڑا کر دیتا ہے۔
‏لاہور کا ایسا درندہ جس کے بارے میں جج نے فیصلہ دیا کہ اس کے گلے میں زنجیر ڈال کر سو بار اس کو پھانسی دی جائے اور پھر اس کے جسم کو کاٹ کر تیزاب میں ڈال دیا جائے۔

استغفراللہ استغفراللہ استغفراللہ۔ 100 بچوں کو کھا جانے والا درندہ وہ شیطان جو انسان کے روپ میں لاہور کی گلیوں میں رہتا تھا۔ جاوید اقبال مغل پاکستانی تاریخ کا ہولناک باب ہے جس کی کہانی سن کر روحیں کانپ اٹھتی ہیں۔

دسمبر 1999 کی ایک سرد رات لاہور کے روزنامہ جنگ کے دفتر میں ایک خط پہنچا۔ خط کھلا اور اندر موجود صحافیوں کے ہاتھ کانپنے لگے اور چہرے سفید پڑ گئے۔ اس خط میں لکھا تھا کہ میں 100 بچوں کو ریپ کر کے قتل کر چکا ہوں اور میرا مشن مکمل ہو گیا۔

یہ الفاظ سن کر جنگ اخبار کے دفتر میں بیٹھے ہر شخص کی روح کانپ اٹھی۔ ایک 40 سالہ لاہوری باشندہ اطمینان سے اعتراف کر رہا تھا کہ وہ 100 بچوں کو درندگی کے ساتھ قتل کر چکا ہے۔ یہ شخص تھا جاوید اقبال مغل جسے تاریخ آج لاہور کے درندے کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اس کا کیس نہ صرف اس لیے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا کہ وہ تاریخ کے خطرناک ترین سیریل کلرز میں سے ایک تھا بلکہ اس لیے بھی کہ سزا کا اعلان خود اس کے جرم کا عکس تھی۔

جاوید اقبال مغل 1961 میں لاہور میں پیدا ہوا اور وہ ایک کاروباری باپ کے آٹھ بچوں میں سے چھٹا تھا۔ اس کے باپ محمد علی مغل ایک خوشحال تاجر تھے۔ جاوید نے اسلامیہ ہائی اسکول سے میٹرک کیا اور گورنمنٹ اسلامیہ کالج میں پڑھنے کے دوران 1978 میں اپنا اسٹیل ریکاسٹنگ کا کاروبار شروع کیا۔ اس کے باپ نے اسے شاد باغ میں ایک ولا خرید کر دیا جہاں وہ کئی لڑکوں کے ساتھ رہتا تھا۔

بظاہر ایک معمولی کاروباری شخص لیکن اندر سے ایک ایسی آگ سلگ رہی تھی جو بے گناہ بچوں کو نگلنے والی تھی۔ بچپن سے ہی اس میں خطرناک رجحانات موجود تھے۔ 1985 اور 1990 میں اس پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات لگے لیکن وہ کبھی سزا نہ پا سکا کیونکہ وہ متاثرین کے خاندانوں کو رشوت دے کر معاملات دبا دیتا تھا۔ یہی نظام کی سب سے بڑی ناکامی تھی کہ ایک مجرم کو بار بار موقع دیا گیا اور نتیجہ 100 بے گناہ بچوں کی موت بنا۔

جاوید اقبال کا دعوی تھا کہ اس نے یہ ہولناک مشن پولیس سے انتقام لینے کے لیے شروع کیا۔ پولیس نے اسے بے بنیاد مقدمے میں گرفتار کیا تھا اور اسے مارا تھا اور اس کی شکایات کو نظرانداز کیا تھا۔ اس کی ماں نے اپنے بیٹے کے خلاف الزامات سن کر روتے روتے بیماری کی حالت اختیار کر لی۔ جاوید نے کہا کہ میری ماں میرے لیے روئی اور میں چاہتا تھا کہ 100 مائیں اپنے بچوں کے لیے روئیں۔ یہ الفاظ انسانی بے رحمی کی انتہا کا اظہار ہیں۔

اس نے جون سے نومبر 1999 کے چھ مہینوں کے درمیان اپنا مشن مکمل کیا۔ 6 سے 16 سال کے گلی کوچوں میں بھٹکنے والے بچے اور یتیم اور بھکاری اور بھاگے ہوئے بچے اس کا شکار بنے۔ اس نے ایک ویڈیو گیم آرکیڈ بھی کھولا تاکہ بچوں کو آسانی سے قریب لایا جا سکے۔ وہ لڑکوں کو مفت یا سستے ٹوکن دیتا اور زمین پر پیسے گرا کر انتظار کرتا اور جو بچہ پیسے اٹھاتا وہ اس کی نظر میں آ جاتا۔

وہ عوامی جگہوں پر بچوں کو کھانا یا پیسے یا رہنے کی جگہ کا لالچ دیتا۔ جیسے ہی بچہ اس کے گھر داخل ہوتا قیامت شروع ہو جاتی۔ وہ پہلے جنسی زیادتی کرتا پھر لوہے کی زنجیر یا کسی اور ذریعے سے گلا گھونٹ کر قتل کرتا پھر لاش کے ٹکڑے کرتا اور ہائیڈروکلورک ایسڈ سے بھرے ڈرموں میں گھول دیتا تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔

سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ وہ ہر شکار کا ریکارڈ رکھتا تھا۔ نام عمر تصویر اور دیگر تفصیلات یہ اس کی ذاتی قتل کی ڈائری تھی۔ اس نے سوچ سمجھ کر انہی بچوں کو نشانہ بنایا جنہیں وہ سمجھتا تھا کہ سماج نے پہلے سے ٹھکرا دیا ہے۔ غریب اور بے گھر اور نظرانداز شدہ بچوں کو اس نے اس لیے چنا کیونکہ اسے یقین تھا کہ کوئی انہیں ڈھونڈنے نہیں آئے گا۔ یہ خیال پاکستانی سماج کے ایک تاریک پہلو کا المناک ثبوت ہے۔

نومبر 1999 میں ایک کپڑے کے تاجر کی رپورٹ کے بعد پولیس کو شک ہوا اور چھاپہ مارا گیا۔ گھر سے تفصیلی نوٹ اور ڈرائنگ اور شکاروں کا سامان اور ایسڈ میں تحلیل شدہ باقیات ملیں۔ جاوید اقبال نے ایک مہینے تک فرار رہنے کے بعد خود جنگ اخبار کے دفتر میں ہتھیار ڈالے کیونکہ اسے ڈر تھا کہ پولیس اسے زندہ نہیں چھوڑے گی۔

مارچ 2000 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسے 100 بار قتل کا مجرم قرار دیا۔ جج نے حکم دیا کہ اسے اسی زنجیر سے گلا گھونٹ کر مارا جائے جو اس نے بچوں پر استعمال کی اور پھر اس کا جسم 100 ٹکڑوں میں کاٹ کر ایسڈ میں گھول دیا جائے جیسا کہ اس نے اپنے شکاروں کے ساتھ کیا۔ لیکن انصاف مکمل نہ ہو سکا۔ 8 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال اور اس کے ایک ساتھی سجید احمد کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پائے گئے۔
عالمی طاقتوں کی غلام اور جرنیلوں کی مسلط کردہ کٹھ پتلی حکومت نئے ٹیکس لگانے کی جگہیں ڈھونڈ رہی یے
ایک عربی کہاوت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاق دے دی۔ کسی نے آ کر پوچھا کہ تم نے اپنی بیوی کو کیوں طلاق دی اس میں کیا کمی تھی اس شخص نے جواب دیا کہ ابھی عدت باقی ہے ممکن ہے میں رجوع کر لوں اس لیے میں اس کے عیب بیان نہیں کرنا چاہتا۔ وہ آدمی خاموشی سے چلا گیا۔
کچھ عرصے بعد عدت بھی ختم ہو گئی۔ وہی شخص دوبارہ آیا اور کہا کہ اب تو رجوع کا وقت بھی گزر چکا ہے، اب تو بتا دو کہ تم نے اسے کیوں چھوڑا اس شخص نے جواب دیا کہ میں نے اسے طلاق دے دی ہے، اگر میں اس کے عیب بیان کروں گا تو پھر کون اس سے شادی کرے گا۔
وقت گزرا، اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہو گئی۔ وہ آدمی تیسری بار آیا اور کہا کہ اب تو وہ کسی اور کے نکاح میں ہے، اب تو سچ بتا دو۔ اس شخص نے جواب دیا کہ اب وہ کسی اور کی بیوی ہے، کسی اور کی عزت ہے، اس کے بارے میں بات کرنا مجھے مناسب نہیں لگتا۔
یہی اصل کردار ہے یہی اصل غیرت ہے یہی اصل انسانیت ہے رشتے ختم ہو جاتے ہیں مگر عزت ختم نہیں ہونی چاہیے۔ آج ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ تعلق ختم ہوتے ہی لوگ ایک دوسرے کی کمزوریاں بازار میں لے آتے ہیں راز افشا کرتے ہیں کردار کشی کرتے ہیں اور اپنی زبان سے اپنی ہی تربیت کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔
یاد رکھیں، جو شخص دوسروں کے عیب چھپاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ اور جو دوسروں کی کمزوریاں اچھالتا ہے وہ دراصل اپنی شخصیت کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔
اصل عظمت یہی ہے کہ جب آپ کے پاس کسی کے راز ہوں تو آپ انہیں راز ہی رہنے دیں۔ یہی اخلاق ہے یہی دین ہے یہی انسانیت ہے۔
سولر کے ساتھ ساتھ اب جنریٹرز پر بھی ٹیکس دو گے
ابے سالو سولر عوام نے اپنی جیب سے لگائے ایک تار اور نٹ بولٹ سے لے کر پلیٹس اور انورٹر سمیت ہر چیز پر سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکس دیے دھوپ خدا کی ہے اسی طرح جنریٹرز پر بھی سارے ٹیکس دیے پھر اس میں ڈالنے والے تیل پر فی لیٹر دو سو روپے سے اوپر ٹیکس دے رہا ابھی کس چیز کے ٹیکس دیں
لاہور، ماڈل ٹاؤن میں گھریلو ملازمہ سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ، 19 سالہ ملازمہ گھر کی مالکن کی جانب سے اسقاط حمل کی کوشش کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ لڑکی کو مالکن کے بیٹے اور ڈرائیور نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔نجی کلینک میں اسقاط حمل کی کوشش کے دوران طبعیت خراب ہوئی جس پر لڑکی کو سروسز ہسپتال لیجایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔ لڑکی نے مرنے سے قبل ویڈیو بیان ریکارڈ کرواکر تمام ملزمان کی نشاندہی کی
پنجاب میں زیر زمین پانی نکالنے پر پابندی اور کراچی میں پانی میٹر سسٹم لگانے پر غور و فکر جاری، اسکے بعد ہر مہینے زندہ رہنے کا سرٹیفیکیٹ لینا ہوگا جس پر سرکار ٹیکس عائد کر دیں گی!
وزارت خارجہ نے پہلی دفعہ سرکاری طور پر تسلیم کیا ہے کہ دوبئی سے 30,000 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن کے پاس باقاعدہ ویزے تھے اور حکومت پاکستان کو ان ڈی پورٹ ہونے والوں کا “جرم” بھی نہیں بتایا گیا۔
فارن آفس کیمٹی اجلاس سے بڑے انکشافات

رؤف کلاسرا
‏دل کی باتیں !
گھر کے صاحب کو صبح ناشتہ کرتے ہوئے سینے میں درد ہوا ۔ گھر والے انہیں ایک مشہور دل کے ہسپتال میں لے گئے ۔ تشخیصی مراحل سے گزارنے کے بعد انہیں فوری طور پر تین سٹینٹس ڈالنے کا مشورہ دیا گیا ورنہ ان کی زندگی کو شدید خطرہ تھا ۔
گھر والوں نے ڈاکٹرز کو سٹینٹس ڈالنے کی اجازت دے دی اور سیٹھ صاحب سٹینٹس ڈلوانے کے بعد خوشی خوشی گھر واپس آگئے ، ہسپتال کی طرف سے دی گئی اس جھوٹی تسلی کے ساتھ کہ آپ کا دل نیا ہو گیا ہے ۔
اتفاق سے اگلے دن سیٹھ صاحب کے خانساماں کو بھی ہارٹ اٹیک ہوگیا ۔
خانساماں کے گھر والے انہیں اسی ہسپتال میں لے گئے ۔ انجیوگرافی کرنے کے بعد انہیں ایمرجینسی بائی پاس آپریشن کا مشورہ دیا گیا ۔ خانساماں کی فیملی کے پاس آپریشن کروانے کے پیسے نہیں تھے ۔ ڈاکٹرز نے ان کا نام ویٹنگ لسٹ میں لکھ لیا اور دو سال بعد دل کے بائی پاس آپریشن کا ٹائم دیا ۔
خانساماں سے کہا گیا کہ آپ سگریٹ ختم کریں ۔ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کریں ۔ چکنائی والی چیز نہ کھائیں ۔ وزن کم کریں ۔ دواؤں کی پابندی کریں ۔ گھر جا کر آرام کریں ۔ ہر ماہ آکر پابندی سے اپنا معائنہ کرواتے رہیں ۔
دو سال بعد خانساماں کے بائی پاس آپریشن کی تاریخ آگئی تو خانساماں نے بائی پاس آپریشن کروانے سے انکار کردیا کیونکہ وہ اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار ریے تھے جبکہ ان کے سیٹھ صاحب کو ان دو سالوں کے دوران دل کے بائی پاس آپریشن کے علاوہ دو مزید سٹینٹس ڈال کر پھر سے دل کے نئے ہونے کی خوشخبری سنائی جا رہی تھی ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔
اگر آپ نوکری پیشہ ہیں اور آپ کے پاس پانچ چھ لاکھ کی savings موجود ہیں، اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں یہ رقم کسی ایسی جگہ انویسٹ کر دوں کہ میری اصل رقم بھی محفوظ رہے اور ماہانہ مجھے کچھ پرافٹ آتا رہے، تو یقین جانیں کہ آپ scam ہونے کی سرحد پر کھڑے ہیں اور بس ایک دھکا لگنے کی دیر ہے.

کوئی واقعتاً بزنس کرنے والا کبھی آپ سے یہ نہیں کہے گا کہ میں جو کام کرتا ہوں، اس میں کوئی رسک نہیں. آپ میرے ساتھ پیسہ لگائیں اور گھر بیٹھے نوٹ کمائیں. اسے معلوم ہے کہ بزنس میں فائدہ بھی ہوتا ہے، نقصان بھی. بہت فائدہ بھی اور بہت نقصان بھی. اس میں بندے نے چاہے جتنا بھی 'سیکھا' ہو، فائدہ نقصان ساتھ چلتا ہے. اتنی بڑی بڑی ملٹی نیشنلز کو نقصان ہو جاتا ہے جنہوں نے 'سیکھے ہوئے' پروفیشنلز کی فوج رکھی ہوتی ہے تو عام کاروباری کیا چیز ہے.

سکیمر، آپ کے اندر نقصان کے ڈر کا فائدہ اٹھاتا ہے. وہ آپ کو یقین دلاتا ہے کہ میرے پاس جو گیدڑسنگھی ہے وہ نقصان کا امکان ہی ختم کر دیتی ہے. پھر وہ آپ کو آفر کرتا ہے کہ تسلی کے لیے ساری رقم نہ لگائیں. دو لاکھ سے شروع کریں، میں آپ کو ہر ماہ منافع دوں گا. پھر وہ آپ سے رقم لیتا ہے اور اسی رقم میں سے پانچ فیصد منافع کے طور پر، واپس کرنا شروع کرتا ہے.

نوٹ اکاؤنٹ میں گرنے لگتے ہیں تو آپ باولے ہو جاتے ہیں. کچھ تحقیق نہیں کرتے کہ بندہ کرتا کیا ہے. لالچ آپ کو جکڑ لیتی ہے اور آپ باقی جمع پونجی بھی لگا دیتے ہیں. ساتھ ہی سکیمر آپ سے کہتا ہے کہ اگر کوئی اور انویسٹر ہے تو اسے بھی لے آؤ. آپ اپنے تئیں نیکی کرتے ہیں اور رشتہ داروں یار دوستوں کا پیسہ بھی لگا دیتے ہیں.

سکیمر پھر مزید وصول کی ہوئی رقم میں سے پانچ فیصد واپس کرنا شروع کر دیتا ہے. اس طرح یہ نظام چل پڑتا ہے. سادہ سا حساب رکھیں، سمجھنے میں آسانی رہے گی. پانچ فیصد کے حساب سے اگر اس نے آپ کو چھ ماہ بھی منافع دیا تو تیس فیصد آپ کے پاس آ گیا اور ستر فیصد اس کے پاس ہے.

اس تمام معاملہ کو 'اسلامی' بنانے کے لیے وہ فکس رقم آپ کو نہیں دیتا بلکہ تھوڑا بہت اوپر نیچے کرتا رہتا ہے تا کہ 'اسلامی ٹچ' باقی رہے. ایک آدھ ماہ بہت کم بھی دے گا اور اگلے ماہ زیادہ، تا کہ آپ 'فل اسلامک ٹچ' کے مزے اڑا سکیں.

پھر ایک دن آئے گا کہ وہ پھر کبھی آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا. فون بند. گھر پر تالا. بندہ پھرررررر بیرون ِملک. رہے آپ، تو شرمندگی کے مارے آپ کسی سے ذکر بھی نہیں کریں گے کہ آپ کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے. زیادہ گرمی چڑھی تو شوشل میڈیا پر ایک آدھ پوسٹ داغ دیں گے. قصہ ختم، پیسہ ہضم.

اگر آپ کو کہیں بھی انویسٹ کرنا ہے تو کبھی بھی اس جھانسے میں نہ آئیں کہ آپ کو ہر ماہ منافع ملتا رہے. جس کے ساتھ انوسٹمنٹ کر رہے ہیں، اس کا کاروبار اچھی طرح دیکھیں. قانونی دستاویزات طلب کریں. خصوصاً اگر وہ کہتا ہے کہ e-commerce کا کام ہے تو پھر تو زیادہ احتیاط کریں.

اللہ آپ کے حلال رزق کی حفاظت فرمائے. آمین.

عبداللہ انصاری
2
انٹرنیشنل ہیرو نیشنل زیرو ہے

ایسے بے باک تبصروں کے لیے ہمارا ٹیلی گرام اور واٹس ایپ چینل جوائن کریں اور دوستوں عزیز و اقارب کے ساتھ بھی شئیر کریں
کیونکہ ہم سب نے مل کر پاکستان بچانا ہے اور ان ڈاکوؤں کو بھگانا ہے

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W

https://t.me/PTIOrg
منقول از ہوم ڈیلیوری بوائے

ہوم ڈیلیوری کا مطلب بیڈرُوم ڈیلیوری ہرگز نہیں ہے !
میں ان تمام بھائیوں اور بہنوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں جو بلڈنگ کی چوتھی منزل پر بیٹھ کر رائیڈر کو کہہ رہے ہوتے ہیں بھائی اُوپر رُوم تک آ جاو ۔ یار ہم بھی انسان ہیں ۔
500 کا آرڈر کروا کر خرید تو نہیں لیا آپ لوگوں نے ہمیں، کم از کم اتنا کر لو کہ بھائی ایک دو فلور آپ آجاو ایک دو ہم آجاتے ہیں ۔ یہ کوئی طریقہ ہے ۔۔
آپ سے اتنا نہیں ہوتا تو سوچو ہم پہ کیا گزرتی ہوگی؟ اوپر سے آپ لوگ یہ دھمکیاں بھی دیتے ہو
"آرڈر واپس لے جاو ،نہیں آتے تو کمپنی کو شکایت لگاتے ہیں "
کچھ انسان کے بچے بنو یار ، مہربانی کرو ۔۔۔
عمران خان بہت جلد جیل سے باہر آرہے ہیں اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں ، سہیل آفریدی

کچھ عجب نہیں کہ سہیل آفریدی ، خفیہ عسکری اثاثے اور صدیق جان بھائی ایک ہی خبر پھیلا رہے ہیں۔ جس عمران خان کی آنکھ کا بروقت علاج نہیں ہوپایا ، جس عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے وہ عمران خان ہرگز ہرگز جلد باہر نہیں آرہا۔ اتنا وقت گزرنے کے بعد اس طرح کی یقین دہانیاں کروانے پر سہیل آفریدی عمران خان کو قید میں رکھنے کے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔

Enkido
‏مجھے ایک موقع دیں تقدیر بدل دونگا۔۔۔نواز شریف
(اب تک سارے خاندان کی تو بدل دی ہے)

1981 وزیر خزانہ پنجاب (نواز شریف)
1985 وزیراعلیٰ پنجاب (نواز شریف)
1988 وزیر اعلیٰ پنجاب (نواز شریف)
1990 وزیراعظم پاکستان (نواز شریف)
1997 وزیراعظم پاکستان (نواز شریف)
1997 وزیر اعلیٰ پنجاب (شہباز شریف)
2008 وزیر اعلیٰ پنجاب (شہباز شریف)
2013 وزیراعظم پاکستان (نواز شریف)
2013 وزیر اعلیٰ پنجاب (شہباز شریف)
2022 وزیراعظم پاکستان (شہباز شریف)
2022 وزیر اعلیٰ پنجاب (حمزہ شہباز)
2024 وزیر اعلیٰ پنجاب (مریم نواز)
‏صدقے کے کچھ چھو ٹے چھو ٹے طریقے
01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔
02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔
04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔
05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔
06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔
07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔
08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔
09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔
10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔
11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔
12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔
13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔
14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔
15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔
16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔
17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔
18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔
19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔
20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔
21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔
22: مسجد کی ٹوپیاں گھرلا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔
23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔
24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔
25: اس پیغام کو دوسروں کو بھیج کر صدقہ خیرات پر آمادہ کیجیئے
صدقہ احادیث کی روشنی میں
1. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
2. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
3. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
4. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
5. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
6. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
7. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
8. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
9. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
10. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
11. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
12. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
13. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
14. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
15. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
16. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]
17. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
18. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]
19. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
20. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
21. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
22. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
23. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
24. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
25. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
26. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]
27. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
28. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
29. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
30. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]
31. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]
32. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]
33. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]
34. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]
35. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]
36. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]
37. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
38. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
39. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]
اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بن جائیں
👍1
ایکسپورٹ کیلئے سب سے اہم چیز توانائی کی قیمتیں ہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومت نے جس طرح بجلی گیس کی قیمتیں مجرمانہ طریقے سے بڑھائیں ، پاکستان میں یہ صنعتیں تباہ ہونے کا سب سے اہم فیکٹر رہا ہے۔ اور یہ حکمرانوں کی نااہلی کے سبب نہیں ہوا ہے بلکہ یہ غیر ملکی طاقتوں کے منصوبوں کے تحت ہوا ہے ۔ یہ کسی طرح بھی دہشت گردی سے کم نہیں ہے زمہ داری فوج اور انکے کٹھ پتلیوں پر عائد ہوتی ہے
کینٹ کے اندر اور باہر دو الگ دنیائیں
سعدیہ سید


‏میں جب بھی کینیڈا سے کراچی آتی ہوں تو ایسا لگتا ہے دو مختلف دنیائیں ایک دوسرے کے پہلو میں زندہ ہیں۔ اگر آپ کراچی ائیر پورٹ سے سیدھا کینٹونمنٹ کے اندر جائیں تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہم کینیڈا سے کراچی پہنچ چکے ہیں یا پھر ابھی کینیڈا میں ہی ہیں۔ کشادہ صاف ستھری ہموار سڑکیں، گھنے سایہ دار درخت، جگہ جگہ اچھلتے فوارے، صاف ستھرا ماحول، خوبصورت دکانیں، بہترین سہولیات دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں کہ ہم پاکستان میں ہیں۔
اسی کینٹ کے گیٹ سے اگر باہر نکلیں تو یوں احساس ہوتا ہے کہ بالکل ایک دوسری دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔ دھول مٹی کا طوفان، ٹوٹی پھوٹی صدیوں سے زیر تعمیر نا ہموار سڑکیں، سڑکوں پر بہتا سیوریج کا پانی، بے ہنگم بے ترتیب ٹریفک دیکھ کر دماغ پھٹنے لگتا ہے۔
میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ پچھلے اٹھتر سال سے قبضہ تو اس گیٹ سے باہر والے پاکستان پر بھی اسی پاک فوج کا ہے تو کیا وجہ ہے کہ گیٹ کے ایک طرف تو انتہائی خوبصورت ہموار اور کشادہ سڑکیں ہیں اور دوسری طرف یہی فوج کئی دھائیوں میں چند سڑکیں مرمت کروانے سے قاصر رہتی ہے۔ گیٹ کے ایک طرف ریٹائرڈ اور حاضر سروس تمام فوجیوں کو شاندار ترین اور تقریباً مفت صحت کی سہولیات دستیاب ہیں اور گیٹ کی دوسری طرف لوگ دوائیوں اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی بناء پر سسک سسک کر مرنے پر مجبور ہیں۔ وہی ادارہ آرمی پبلک اسکولز اور یونیورسٹییز جیسے شاندار اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے بناتا ہے اور دوسری طرف اسی ادارے کے مقبوضہ باقی ملک میں دو کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور جو اسکولوں میں ہیں وہ بھی بد ترین معیار کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
مجھے یہ نہ کہئے گا کہ فوج کا کام گیٹ کے باہر سڑکوں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ کیونکہ فوج کا کام تو کینٹونمنٹ کے گیٹ کے اندر بھی یہ تمام سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ اس کا کام تو جنگ لڑنا ہے وہ جب بھی یہ لڑتی ہے تو پینٹیں اتروا کر بھاگ نکلتی ہے۔ تو اگر یہ گیٹ کے اندر یہ سب کچھ ہو سکتا ہے تو باہر یہ سب کچھ کرنے سے تمھیں کون روک رہا ہے؟ اور اگر باہر لوگوں کو یہ سب میسر نہیں ہے تو انہوں نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کے بدلے میں یہ عوام کا حق مار کر عیاشی کر رہے ہیں ؟
مسئلہ صرف یہ ہے کہ فوج جانتی ہے کہ وہ اس ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم ان کے غلام ہیں۔ غلاموں کو سہولیات نہیں دی جاتیں۔ ان کا خون نچوڑا جاتا ہے ۔ ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ہر شہر کے اندر بسی یہ دو دنیائیں محض اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس میں قابض اور غاصب حکمران جان بوجھ کر رعایا کو بد ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ کبھی بغاوت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکیں۔بالکل اسی طرح جیسے تقسیم پاکستان سے پہلے ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج راجے مہاراجے بنا کر رکھا کرتے تھے ان کے گلے میں موتیوں کے ہار پہنا کر انہیں مسند پر بٹھا دیا جاتا تھا اور انہیں کہا جاتا تھا کہ ہمارے لئے ان کمی کمین کالے پیلے لوگوں کا خون نچوڑ کر انہیں ہمارا غلام بنا کر رکھو ۔ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھو ۔ بدلے میں ہماری طرف سے اجازت ہے کہ تم بھی کچھ حصہ رکھ لو ۔ بس یہ وہی راجے مہاراجے ہیں جو گیٹ کے پرلی طرف آج بھی عوام کے سر پر مسلط ہیں ۔
2👍1
‏2019ء میں نواز شریف ایک خاموش سمجھوتے کے تحت اپنے دیس سے باہر بھیج دیے گئے لیکن 2026 میں عمران خان ایسا کوئی سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں۔ مجھے تحریکِ انصاف کے کئی سرکردہ رہنما کہہ چکے ہیں کہ خان صاحب اگر تھوڑی سی لچک دکھائیں تو کم از کم ہم انہیں جیل سے نکال لیں گے۔جب میں پوچھتا ہوں کہ خان صاحب لچک کیوں نہیں دکھاتے تو کہا جاتا ہے کہ وہ نواز شریف نہیں بننا چاہتے۔ حامد میر کا روزنامہ جنگ میں کالم
‏داتا دربار چوری پر افسروں کو سزا، 2 کروڑ روپے کی ریکوری کا حکم۔۔ سابق ایڈمنسٹریٹر کی مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لیے تنزلی اور 5 سالہ سروس ضبط، 92 لاکھ روپے کی ریکوری، سابق مینیجر طاہر مقصود سرکاری ملازمت سے برطرف اور ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کی ریکوری، سابق سٹینوگرفرار ثاقب نسیم کی 4 سالہ سروس ضبط۔
‏دربار بی بی پاکدامن میں غبن پر ملازمین کو سزائیں، سابق منیجر زاہد اقبال کی 5 سالہ ملازمت ضبط، 53 لاکھ ریکوری، کلرک امتیاز حسین کو 3 سال کے لیے ترقی روکنے کی سزا، گیٹ کیپر محسن شاہ اور سابق نگران ظفر اقبال پر کیش ہینڈلنگ پر مستقل پابندی عائد۔

محمد ذیشان اعوان
ــــــ

اللہ اس قوم کو ہدایت دے۔ خود اندازہ لگائیں عوام کتنی رقوم درباروں پر بیٹھے ان ٹھگوں کو دیتی ہے مگر اپنے اطراف ، کسی مستحق غریب ، کسی مستحق رشتہ دار کو دیتے ہوئے موت آئے گی ۔ خباثت کی انتہا ہے اس جاہل قوم پر 😡😡😡
گورے سیاحوں اور ولاگرز کی ان دنوں پاکستان پہ یلغار ہوئی پڑی ہے سمت شمال تو خیر جاتے ہی تھے مگر اب انکا رخ کراچی کیطرف بھی ہوگیا ہے کیا امریکی کیا برطانوی کیا مرد کیا عورت کیا ہی جوڑے سبھی یہاں پہنچے ہوئے ہیں اور بالکل عام سے پاکستانیوں کی مہمان نوازی دیکھ کر پاگل ہوئے ہیں مادیت کے اصولوں پہ کھڑے مغربی معاشرے کے لوگوں کےلئے یہ سب دیکھنا نایاب تجربہ ہے ، کوئی فی سبیل اللہ چائے پلا رہا ہے کوئی پراٹھے پیش کر رہا ہے کوئی لفٹ دیکر مطلوب منزل تک پہنچا رہا ہے
ابھی تو ان سیاحوں نے سیلانی کے دستر خوان نہیں دیکھے ورنہ انکے بکرے قورمے بریانی کھانے پورے خاندان کو لیکر پہنچ جائیں گے، دنیا سے متعارف ہوتا یہ الگ سا پاکستان ہے جسے ہم تو جانتے تھے مگر دیگر نہیں
پاکستان دنیا کے غریب ممالک میں سے ایک ہے مگر اسکے باوجود رفاہی کاموں میں کھلے دل سے خرچے اور مہمان نوازی ایسا وصف ہے، جو ہمیں بہت نمایاں کرتا ہے اور اس عمل نے سبھی کو حیران کیا ہے کیا چوکیدار کیا عام شہری اور کیا ہی سرمایہ دار سارے ہی اپنی اہنی حیثیت کیمطابق مہمان نواَی کرتے ہیں
اس حوالے سے یہ سیاسی ہندوستانیوں کو بہت مطعون کرتے ہیں جو سوائے پیسوں کی دوسری بات نہیں کرتے، کہنے کو ہمارا خطہ مزاج اور عادات کافی یکساں ہیں مگر مہمان نوازی میں پاکستانی نیکسٹ لیول پہ کھڑے ہیں جہاں کے عام شہری سیاحوں کو موقع سمجھنے کے بجائے اسے اپنی نرم اور دریاء دلی دکھانے کا موقع سمجھا.... اس سارے عمل کے پیچھے آپکو اسلامی تعلیمات دکھائی دینگی جو مہمان نوازی اور دستر خوان کی کشادگی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں
اس سارے عمل حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں کیونکہ یہ ہمارا عوامی مزاج ہے جو مہران تا بولان اور گلگلت تا کمراٹ دیکھنے کو ملتا ہے، حکومت سے البتہ روایتی درخواست ھیکہ کراچی میں صفائی کا اہتمام کرے تاکہ شہریوں کے خوبصورت رویوں کیساتھ شہر بھی اچھا نظر آئے صدر کراچی میں ایک کوئٹہ وال امریکی سیاح کو چائے پراٹھہ ہیش کرتا ہے، پیپر کپ لیکر پھر گورا ڈسٹ بن بس تلاش ہی کرتا رہ جاتا ہے جو کہ شرمندگی کا باعث ہے اور ہاں گورا بریانی چائے اور چیز پراٹھے کا عاشق ہوا پڑا ہے
باقی گورے مویشی منڈی جارہے تھے، بسوں کی چھتوں پہ سفر کر رہے ہیں گلیوں میں کرکٹ کھیل رہے ہیں فٹ پاتھ پہ دم درود و مالش کرا رہے ہیں ٹھیلوں سے سموسے جوس پی رہے ہیں اور پاکستان کے گن گا رہے ہیں
پاکستانی عوام اپنی مہمان نواَی کے سبب ایک بالکل الگ طرح کی سفارت کا سبب بن رہے ہیں

فیض اللہ خان
لاہور ہائیکورٹ کا مفاد عامہ ( پبلک انٹرسٹ ) کی درخواستیں دائر کرنے کے حوالے سے نیا اصول وضع کردیا ۔۔

ہائیکورٹ ریگولیٹر یا اپیلٹ فورم نہیں بن سکتی، تکنیکی اور پالیسی مسائل ایگزیکٹو اور ریگولیٹری باڈیز کے دائرہ کار میں ہیں مفاد عامہ کی درخواستیں ایک اہم ہتھیار ہے جسے احتیاط سے استمعال کرنا چاہیے مفاد عامہ کے پیچھے شہرت کی بھوک ،بدنیتی نہیں چھپی ہونی چاہیےہائیکورٹ کا فرض ہے کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ انصاف کا راستہ الودہ نہ ہو مفاد عامہ کی پیٹیشن کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار کے مستند حقائق بیان کرے قیاس ارئی فرضی یا بدنیتی پر مبنی درخواست مفاد عامہ کے نام پر قابل سماعت نہیں ہوسکتی

جسٹس خالد اسحاق