Pakistan Times International
343 subscribers
96 photos
17 videos
79 links
Download Telegram
‏کراچی میں وہ علاقے جہاں ووٹر رہتے ہیں 👇
۔۔۔۔
مچھر کالونی
بھینس کالونی
گیدڑ کالونی
انڈہ موڑ
پریشان چوک
گولی مار
رن چھوڑ لائن
لالو کھیت
کٹی پہاڑی
کریلا موڑ
کھوڑی گارڈن
ناگن چورنگی
چمڑا چورنگی
پٹاخا گراؤنڈ
ناتھا خان گوٹھ
بھنگی پاڑہ ( اس علاقے میں ، میری اپنی رہائش ہے )
وغیرہ وغیرہ وغیرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ایسے علاقے جہاں ایم این اے اور ایم پی اے ، وزراء وغیرہ رہتے ہیں 👇
۔۔۔۔
ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی
بحریہ ٹاؤن
کینٹ
فالکن سوسائٹی
پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی
عسکری سوسائٹی 1 سے ۔۔۔۔۔۔ تک
محمد علی سوسائٹی
کلفٹن
وغیرہ وغیرہ وغیرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سِتاروں سے پرے کیوں ڈھونڈتے ہو تُم جہاں کوئی
یہیں پر دُوسری دُنیا ہے ہر دیوار کے پیچھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبادالرحمان
🚨ڈنمارک کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن سکینڈل پاکستانی ملوث نکلے

ڈنمارک کی تاریخ کے سب سے بڑا کرپشن اور منی لانڈرنگ کا سکینڈل سامنے آیا ہے اور الحمداللہ آپ کی توقع کے عین مطابق اس میں گینگ کے سربراہ اور زیادہ تر ممبر پاکستانی ہیں ٹیکس فراڈ کے اس کیس جسے Operation Greed یعنی آپریش ہوس کا نام دیا جا رہا اس میں پاکستانی بھائیوں نوید انور اور عثمان علی انور کو سات سال اور چھ سال قید کی سزا ہوئی ہے ان کے ساتھ اور بارہ لوگ ہیں جن میں اور بھی پاکستانی شامل ہیں آنہوں نے جعلی بلوں کی کمپنی بنائی تھی جس نے 5,764 جعلی بل بنائے جس سے مختلف کاروباروں کو ویٹ ٹیکس اور کم ٹیکس کی سہولت ملی اور مجموعی طور پر 297 ملین کا ٹیکس فراڈ اور 500ملین کی منی لانڈرنگ ثابت ہوئی ہے یہ نوید وغیرہ اتنے شاہانہ طریقے سے رہتے تھے کہ آپ کی سوچ ہے ان کے پاس بہت بڑے ہوٹل کی چین بھی تھی اب سزا کے بعد ان کو ڈنمارک سے نکالا جائے گا
فرعون کو کسی نجومی نے کہا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہو گا جو تیری بادشاہت کے زوال کا سبب بنے گا تو اس نے ہر پیدا ہونے والا بچہ قتل کرنا شروع کر دیا۔پاکستان کے لوکل فرعون کے دماغ میں کسی مشیر نے یہ خوف بٹھا دیا ہے کہ تیرے نظام کو نوجوان نسل سے خطرہ ہے لہذا ہمارا لوکل فرعون ہر وہ کام کر رہا ہے جس سے نوجوان نسل کی آواز اور رائے کو دبایا جا سکے گا۔

احمد فرہاد
‏ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ترجمان ابراہیم ذولفقاری نے ایرانی حدود سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز پر فیس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ۔ ساتھ ہی ​گوگل، میٹا، مائیکروسافٹ اور ایمیزون جیسی بڑی کمپنیوں کی آبنائے ہرمز سے گزرنے والی فائبر آپٹک کیبلز پر لائسنس فیس اور رائلٹی کے علاوہ ​ان کیبلز کی مرمت اور دیکھ بھال کا کام صرف ایرانی کمپنیوں کے سپرد کرنے کی شرط رکھنے کا اعلان کر دیا

آبنائے ہرمز تیل کی سپلائی کے علاوہ عالمی انٹرنیٹ کے لئے بھی اہم ترین کوریڈور ہے۔ یورپ، ایشیا اور خلیجی ممالک کو ملانے والی بڑی کیبلز اسی خطے سے گزرتی ہیں۔ جن کے ذریعے کھربوں ڈالرز کی بینکنگ ٹرانزیکشنز، کلاؤڈ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت (AI) کا انفراسٹرکچر اور روزمرہ کا انٹرنیٹ ٹریفک منتقل ہوتا ہے۔
​گو بین الاقوامی آپریٹرز نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پہلے ہی زیادہ تر کیبلز ایران کی بجائے عمان کی حدود کی طرف بچھائی ہوئی ہیں۔پھر بھی دو بڑے سسٹم Falcon اور GBI ایسے ہیں جو ایرانی حدود کو چھوتے ہیں۔
​اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین کے تحت بین الاقوامی گزرگاہوں اور آبنائے میں سمندری حدود کے نیچے کیبلز بچھانے اور ان کی نقل و حرکت کی آزادی ہوتی ہے۔ اس لئے ایران کو عالمی قوانین کے خلاف بہت احتیاط کی ضرورت ہے
پھر گوگل اور میٹا جیسی امریکی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو کسی قسم کی فیس یا رقم قانونا ادا نہیں کر سکتیں۔
یہ سب کچھ یقینا ایران بھی جانتا ہے لیکن لگتا ہے کہ وہ اس "ڈیجیٹل ٹول ٹیکس" کو ایک نئے اسٹریٹجک پریشر کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ اگر کوئی فوجی کارروائی ہو تو وہ عالمی معیشت کو اس حد تک نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں ہو جسے دنیا برداشت نہ کر سکے۔

شفقت چوہدری
‏بیچارے پاکستانیوں کا کیا قصور تھا؟

کتنے پیسے لیکر غیر ملکی شہریوں کو چھوڑ دیا؟

فحاشی کا اڈا چینیوں کے نام پر، ایف آئ آر میں ایک بھی چینی کا ذکر تک نہیں! ایسے کیسے؟

کیا ذرائع کی اطلاع درست ہے کہ دو غیر ملکی سپا مالکان / پارٹنرز جنہیں موقع سے گرفتار کیا گیا تھا اور تھانہ وومن پولیس شفٹ کیا گیا تھا خطیر رقم کی رشوت/عیدی وصولی کے عوض چھوڑ دیا گیا اور جنکا نام تک ایف آئ آر میں شامل نہیں جبکہ اب فحاشی کے اڈے کیساتھ منتھلی طے کر لی گئ ہے اور اڈے کو مکمل پروٹیکشن بھی حاصل ہو گئ ہے؟

تھانہ وومن پولیس کی جوریسڈکشن پورا اسلام آباد ہے اور وہ پورے اسلام آباد میں کہیں بھی کاروائ کر کے اپنے معاملات و اختیارات استعمال کرتے ہوئے ڈیل / ماہانہ طے کر سکتے ہیں تو باقی تمام تھانوں کو تالہ لگا کر تمام پولیس فورس کو یا تو اسی ایک تھانہ کے انڈر کر دیں یا گھر بھیج دیں۔ کیا یہ FIR اختیارات سے تجاوز کا کلاسک کیس ہے؟

کیا وومن پولیس سٹیشن کے عملہ نے عیدی مہم کے لیے درست طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے؟

‎مسعود چوہدری
افغانستان کا حیرت انگیز تاریخی اقدام

سات صوبوں میں واپس آنے والے مہاجرین کو 1,491 رہائشی پلاٹس فراہم کیے گئے ہیں ۔
مجموعی طور پر یہ تعداد اب تک 28 ہزار 768 تک پہنچ گئی ہے۔
انصار برنی ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ رواں برس اپریل میں صومالیہ کے قریب اغوا کیے گئے آئل ٹینکر پر سوار عملے کی رہائی کے لیے بحری قزاقوں نے 30 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔

بی بی سی
وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے 62 سال پرانے ضابطۂ اخلاق کی جگہ نیا ’’سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026‘‘ نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت مالی شفافیت، اثاثوں کی تفصیلات، مفادات کے ٹکراؤ اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق سخت قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔

نئے قواعد کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو ہر سال 30 اکتوبر تک اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرانا ہوں گی۔ ان اثاثوں کی معلومات عوامی سطح پر بھی جاری کی جائیں گی، تاہم حساس ذاتی معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ان گوشواروں کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔

پہلی مرتبہ سرکاری ملازمین کے لیے کرپٹو کرنسی، بینک اکاؤنٹس، شیئرز، سیکیورٹیز، انشورنس پالیسیوں اور 50 لاکھ روپے یا اس سے زائد مالیت کے زیورات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نئے ضابطے میں مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ کے لیے جامع نظام بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت افسران کو اپنے ذاتی یا خاندانی مفادات ظاہر کرنا ہوں گے تاکہ سرکاری فیصلوں پر غیر ضروری اثر و رسوخ روکا جا سکے۔

سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں پر بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین پیشگی اجازت کے بغیر ویب سائٹس، بلاگز، پوڈکاسٹس یا یوٹیوب چینلز نہیں چلا سکیں گے، جبکہ سرکاری وسائل یا عہدے کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا بھی ممنوع ہوگا۔

حکومت نے تحائف اور مہمان نوازی سے متعلق قوانین مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازمین اور ان کے اہلخانہ غیر متعلقہ افراد، کمپنیوں یا غیر ملکی نمائندوں سے تحائف وصول نہیں کر سکیں گے، سوائے ان صورتوں کے جو توشہ خانہ قوانین کے تحت جائز ہوں۔

مزید برآں افسران کو اپنی آمدن سے بڑھ کر اخراجات کرنے سے بھی روکا گیا ہے، جبکہ شادیوں اور دیگر تقریبات پر غیر معمولی اخراجات کی وضاحت طلب کی جا سکے گی۔

نئے قواعد کے مطابق اگر کوئی سرکاری ملازم غیر معمولی رخصت کے دوران نجی شعبے میں ملازمت کرتا ہے تو اسے پیشگی اجازت لینا ہوگی، اور واپس آنے کے بعد 3 سال تک اپنے سابقہ نجی ادارے سے متعلق کسی سرکاری معاملے میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان قواعد کی خلاف ورزی کو بدانتظامی تصور کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا، ضلع ‏لکی مروت میں فوج کی گاڑی پر دھماکہ، ایک میجر سمیت چار اہلکار ہلاک، تین زخمی
یہ کونسا فارمولا ہے کہ دو یونٹ بجلی استعمال کرنے پر 2362 روپے فکس چارجز اور اسپر 439 روپے جی ایس ٹی بھی ٹھوک دیا۔۔ اس قوم سے کس بات کا انتقام لے رہے ہیں اپنی نا اہلی کا ۔
#بلوچستان

نوشکی میں کوئٹہ تفتان روٹ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی ریکوڈک پروجیکٹ کے 17 اہلکار اغوا
‏تمہارے شوہر پاکی حالت میں ہیں یا ۔۔۔؟؟؟
🚨
لاہور کے علاقہ شاد باغ میں ایک باپ نے 2 جوان بیٹوں کو گو۔لیاں مارنے سے قبل بہوؤں سے یہ بات کیوں پوچھی ؟

8 مئی کو پیش آیا حیران کن واقعہ
۔۔۔۔۔
لیاقت نامی اس گھٹیا شخص نے برسوں قبل ان لڑکوں کی ماں کو گھر سے بھگا کر شادی کی تھی ۔۔۔
والدین نے بیٹی کو بہت سمجھایا تھا کہ یہ بدکردار ہے ،
نشہ بھی کرتا ہے اور کوئی کام بھی نہیں کرتا مگر خاتون پر عشق کا بھوت سوار تھا
اس نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی
۔۔ کچھ عرصہ گزرا تو عذرا نامی اس خاتون کو پتہ چل گیا کہ لیاقت ایسا شخص نہیں جس کے سہارے پوری زندگی گزاری جاسکے
چنانچہ اس نے ایک ہسپتال میں ملازمت کر لی ۔
اسکے دو بیٹے بھی ہو گئے
وہ اپنا اور بچوں کا خرچہ نکال لیتی ،
بلکہ بیکار شوہر کو نشہ کے لیے پیسے بھی دیتی ۔ کبھی انکار کرتی تو لیاقت گھر سے کچھ نہ کچھ چرا کر بیچ دیتا ۔۔۔ کچھ سال گزرے اور لیاقت کا رویہ عذرا کے ساتھ مزید خراب ہوا اور وہ آئے روز جسم پر زخموں کے نشانات کے ساتھ ہسپتال جانے لگی تو ایک ڈاکٹر نے اسکے دکھوں پر ہمدردی کا مرہم رکھ دیا ،

عذرا نے چند ماہ میں شوہر سے طلاق لے کر اس ڈاکٹر سے شادی کر لی ،
شوہر کا گھر بھی چھوڑ دیا اور بچوں کو لے کر ڈاکٹر کے گھر شفٹ ہو گئی ،
یہاں اس نے ایک غٖلطی کی کہ سابقہ شوہر کو اپنے بیٹوں سے ملنے سے نہ روکا
وہ اکثر و بیشتر بچوں سے ملنے کے بہانے آتا اور سابقہ بیوی کی منت سماجت کرکے نشہ کے لیے پیسے لے جاتا
۔۔۔ کئی سال گزر گئے عذرا نے اپنے دونوں بیٹوں کی شادیاں کردیں ۔۔
26 اور 24 سال کے لڑکے اپنی بیویوں کے ساتھ خوشحال زندگی گزارنے لگے اور انکے بچے بھی ہوئے
اب لیاقت نے اپنے پوتوں سے کھیلنے کے بہانے ہر روز اس گھر کا چکر لگانا شروع کردیا
۔۔۔۔ بیٹوں سے پیسے بھی مانگ لیتا
، بیٹے باپ کو سمجھاتے کہ ابا جی نشہ چھوڑ دو ،
ڈھنگ سے زندگی گزارنا شروع کرو
مگر لیاقت کو پیسوں اور نشہ کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہ تھا
۔۔8 مئی کو لیاقت ڈاکٹر کے گھر اپنے بیٹوں کے پاس آیا اور دونوں کو ایک کمرے میں بلا لیا ۔ بیٹھے بیٹھے اس نے بہوؤں سے پوچھا تمہارے شوہر پاکی کی حالت میں ہیں یا نہیں
؟
لڑکیاں گھبرا گئیں کہ اس بوڑھے کو کیا ہو گیا کس قسم کا بیہودہ سوال ان سے پوچھ رہا ہے ۔۔
جواب نہ ملنے پر اس نے بہوؤں سے کہا کہ میں نے اپنے بیٹوں سے کچھ بات کرنی ہے
تم بچوں کو لے کر کسی اور کمرے میں چلی جاؤ ۔
دونوں بہویں وہاں سے چلی گئیں تو باپ نے بیٹوں سے ایک بڑی رقم کا مطالبہ کیا اور انکے انکار پر پستو۔ل نکالا اور دونوں کو ٹانگوں پر گو۔لیاں مار دیں
۔۔ فائیر۔نگ کی آواز سن کر عذرا ،
ڈاکٹر ، دونوں بہویں بھی آگئے اس دوران لیاقت بھاگ نکلا ۔۔۔ پولیس کو اطلاع کی گئی اور زخمیوں کو 1122 سے ہسپتال شفٹ کیا گیا ۔
تمام حالات جان کر پولیس نے فوری کارروائی کی اور ملزم لیاقت کو بھی گرفتار کر لیا ۔۔۔
جس نے ابتدا میں ہی کہہ دیا کہ نشہ کے لیے پیسوں کا بندوبست نہ ہونے پر اس نے یہ جرم کیا اسکے علاوہ کوئی وجہ عناد نہیں
۔۔۔ پولیس ملزم کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کررہی ہے ۔۔۔۔
‏عوام بجلی کا بل زیادہ کیوں دے رہی ہے۔ آج جواب آ گیا۔ یہ تھا فراڈ۔ فیض حمید کے دور میں اعلان کیا گیا کہ آئ پی پی والی فراڈ ڈیل کو کینسل کیا جا رہا ہے۔ فیصلہ ہو چکا کہ وہ بندے کے پتر بنیں گیں کیونکہ یہ معاہدے فراڈ تھے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اگر وہ نہ مانے تو ان کو فراڈ کی وجہ سے ٹھوک دیا جائے گا۔ اس پر میڈیا سے تالی بجوائ گئ۔ محمد علی صاب نے اک رپورٹ شائع کی کہ کتنے فراڈیے تھے یہ آئ پی پی والے۔ ان کو ٹانگنا چاہیے۔ مگر پھر حالات بدل گئے۔ اب محمد علی اس حکومت کا ترجمان ہے اور اپنی رپورٹ کی بے شرمی کے ساتھ انحراف کرتے ہوئے ان کو بچا رہا ہے۔ اور عزت بھی مانگتا ہے۔ کیا وہ پہلے غلط تھا یہ اب غلط ہے۔ دونوں سچ نہی ہو سکتے۔ سچ یہ ہے کہ اس فراڈ میں عوام کا قیمہ نکل گیا۔ بجلی ملتی نہی اور بل ڈبل۔ کون زمہدار ہے اس کا۔ کون تھا جو پکڑا گیا مگر بچا لیا گیا۔ یہ کہانی پھر سہی۔ ؟؟؟

عامر متین
‏تقریبا آج سے 3 سال قبل میں ایک نیوز چینل کے ساتھ بطور کانٹینٹ ہیڈ منسلک تھا جب مجھے حکم ملا کہ یا تو اپنی بات چھوڑ دو یا نوکری اور میں نوکری چھوڑ کر رخصت ہوا اور تب سے اب تک پاکستانی میڈیا میں میرے لیے ہر طرح کے دروازے بند ہیں۔اس سے پہلے میں نے کئی نوجوان لڑکے لڑکیوں کو اس فیلڈ میں آتے دیکھا جن میں سے کئی کو متعارف کرانے میں بساط بھر حصہ بھی ڈالا ۔ آج میں یہ دیکھ کر شدید مایوس ہوں کہ ان میں سے ننانوے فی صد جرنلزم کی بجائے صرف اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ رجیم کے ماوتھ پیس ہیں اور مختلف پروپیگنڈا پراجیکٹس اور ڈیجیٹل ہاوسز کا حصہ بن کر بغیر سفر کیے سیکھے اور کشٹ کاٹے پیسوں میں کھیل رہے ہیں۔ستم بالا ستم یہ کہ ان ننانوے فی صد نوجوانوں میں شامل پچانوے فی صد لڑکیوں کا اول و آخر حربہ یہی ہے اور ان سے لیے جانے والے کاموں میں ایک اہم کام ہنی ٹریپنگ اور برین واشنگ ہے۔یہ لڑکیاں جو ٹھیک سے خبر بھی ایڈٹ نہیں کر سکتیں اس وقت صحافتی تنظیموں میں بھی ایکٹو ہیں ملک بھر میں پیڈ ورکشاپس بھی اٹینڈ کر رہی ہیں بعض سینئیر تجزیہ کار اور اینکر بھی بن بیٹھی ہیں اور بعض غیر ملکی دورے بھی کر رہی ہیں۔یہی حال لڑکوں کا بھی ہے لیکن لڑکوں پر نوازشات بھی کم ہیں اور ان کی مشقت بھی۔سوچتا ہوں پاکستانی صحافت کا مستقبل کیا ہے ؟

احمد فرہاد
‏عمر راٹھور جس کو اسلام آباد میں آج سے چھ سال پہلے اپنے ہی محلے کے چار لڑکوں نے اغواء کے بعد قتل کر دیا تھا اور اُس کی لاش ایک الماری سے بند ملی تھی اور سپریم کورٹ نے مجرموں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج اسلام آباد پریس کلب میں عمر کے خاندان نے سپریم کورٹ میں اپیل کی طرف جانے کا اعلان کیا ہے کیونکہ یہ صرف ایک بچے کے قاتلوں کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت یہ پیغام دے رہی ہے کہ بچوں کو اس سفاکی سے قتل کرنے والے کا عدالت بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
چھ سال تک غمزدہ خاندان عدالتوں کے چکر لگاتا رہا، مجرموں کے اقرار جرم سے لے کر اُن کے ڈی این اے میچینگ تک سب ہو گیا اُس کے باوجود اعلی عدالت کی طرف سے انصاف مہیا نا کرنا ہر اُس خاندان کے ساتھ ناانصافی ہے جن کے بچے ایسے بھیانک ترین مظالم کا شکار ہوئے۔
ہمارے احتجاج، سوشل میڈیا پوسٹس یا پریس کانفرنس سے عمر واپس نہیں آئے گا لیکن مجرموں کو سزا ملی گی تو ہی باقی مجرم بھی عبرت حاصل کریں گے ورنہ ہر مجرم خود کو آزاد محسوس کرے گا۔

ثمینہ خان
‏تین دہائیوں سے ان سیاسی شعبدہ بازوں سے یہ بات سن رہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات ہونے چاہیں مگر جب بھی اقتدار ملتا ہے ہر طرح کی کوشش کرتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات نہ ہونے پائیں اگر ہو بھی جائیں تو نہ اختیار دیتے ہیں نہ وسائل دیتے ہیں بلکہ ہر وزیر اعلی ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے ذریعے نظام چلاتے ہیں جس طرح تقسیم برصغیر سے قبل انگریز چلاتے تھے۔

ثناء اللہ خان
‏ٹک ٹاکر ثناء یوسف کیس کے ملزم عمرحیات کو سزائے موت سنا دی گئی۔ 2 ملین روپے جرمانہ، 10 سال قید بھی ہو گی۔۔۔ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کا محفوظ سنا دیا گیا۔ ٹک ٹاکر ثناء یوسف
2 جون 2025 کو کو گھر میں قتل کیا گیا، ملزم عمرحیات کو 3 جون کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا گیا تھا ، 20 ستمبر کو ملزم عمرحیات پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ کیس میں 27 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
🔴 راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے گرد و نواح کو ریڈ زون قرار دے دیا گیا ہے، جہاں 9 تھانوں کی پولیس، 4 ڈی ایس پی، ایس ایس پی، ایس پی صدر اور سی پی او راولپنڈی کو ڈیوٹی پر مامور کر دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 1000 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور جیل کے باہر واٹر کینن بھی کھڑی کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ انتظامیہ نے اڈیالہ جیل کے اطراف میں دکانیں، ہوٹل، تندور اور پٹرول پمپس بند کروانے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔

ظفر نقوی
Pakistan Times International
Photo
‏نجکاریِ صنعت اور اشیائے صرف ایک الگ معاملہ ہے، جبکہ بنیادی انسانی ضروریات کی نجکاری بالکل مختلف چیز ہے۔ بجلی کوئی تعیش نہیں بلکہ جدید ریاست کی شہ رگ، معیشت کا بنیادی ستون، اور عملاً ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے۔

جن ممالک میں ریگولیٹرز کمزور ہوں، نگرانی کا نظام ناقص ہو، اور قانون نافذ کرنے کی صلاحیت محدود ہو، وہاں اندھی نجکاری مسابقت پیدا نہیں کرتی بلکہ اکثر کارٹلائزیشن، اجارہ داری، صارفین کے استحصال، اور ریگولیٹری قبضے کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان کو نجکاری اور اصلاحات کو ایک ہی چیز سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

پاکستان کے تناظر میں ایک اور نہایت سنگین پہلو قومی سلامتی کا ہے۔ ڈسکوز عام تجارتی کمپنیاں نہیں ہیں۔ ان کے پاس صارفین کا ڈیٹا، بلنگ سسٹمز، گرڈ انفارمیشن، لوڈ فلو، حساس تنصیبات، اور قومی اہمیت کے انفراسٹرکچر تک رسائی ہوتی ہے۔ جب ایسی کمپنیوں کو بغیر مضبوط سکیورٹی فریم ورک کے نجی ہاتھوں میں دیا جائے تو ریاست رفتہ رفتہ اس بات پر کنٹرول کھو دیتی ہے کہ سافٹ ویئر کون چلا رہا ہے، ڈیٹا کہاں جا رہا ہے، اور نظام کے اندر کون سی بیرونی ٹیکنالوجی یا رسائی موجود ہے۔

چند ہفتے قبل اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO) کے حوالے سے ایک معاملہ منظرِ عام پر آیا، جس کے مطابق ڈونر فنڈز سے کچھ سافٹ ویئر اور سروسز حاصل کی گئیں۔ بظاہر یہ ایک یورپی کمپنی کے ذریعے فراہم کی جا رہی تھیں، لیکن جب معاملہ آگے بڑھا اور PITC نے رابطہ کیا تو مبینہ طور پر ای میلز بھارت سے موصول ہوئیں۔ اگر اس حوالے سے انکوائریاں ابھی بھی جاری ہیں، تو یہ واقعہ بذاتِ خود اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حساس قومی انفراسٹرکچر میں سائبر سکیورٹی اور اسٹریٹیجک رسک کو کس قدر سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

ایک سکیورٹی اسٹیٹ میں بجلی کی تقسیم کو شوگر مل یا ٹیکسٹائل فیکٹری کی فروخت کی طرح نہیں دیکھا جا سکتا۔ کسی بھی نجکاری سے پہلے ریاست کو ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا: گرڈ، ڈیٹا، سافٹ ویئر، اور آپریشنل کنٹرول آخر کس کے ہاتھ میں ہوگا؟

اصلاحات کیجیے، ڈسکوز کو پروفیشنل بنائیے، سیاسی مداخلت ختم کیجیے، احتساب اور آڈٹ کو مضبوط کیجیے مگر یہ نہ سمجھیے کہ نجکاری بذاتِ خود کارکردگی کی ضمانت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انتظامی ناکامیوں کے علاج کے نام پر ہم اپنی اسٹریٹیجک خودمختاری ہی گروی رکھ دیں ۔
باقی ایک اور کمپنی کی پرائیوٹائزیشن آپ نے ہی نے مشرف دور میں بطور منسٹر ٹیلی کام کی تھی پی ٹی سی ایل کی اس کی کیس اسٹدی ہی کروالیتے اس کے آٹھ سو ملین ڈالر آج بھی حکومت کو نہیں ملے۔ مزید برآں KE کا حال بھی دیکھ لیتے جسے آج بھی سرکار سبسڈی دے رہی ہے۔ باقی ہم نے اس پر تفصیل سے قوم کو آگاہ کردیا تھا۔ انشاءاللہ زندگی رہی تو پانچ سال بعد اس پر بات کریں گے۔ایک نئے آئی پی پیز اور شوگر کارٹل جیسے اسکینڈل کیلئے تیار رہیں۔ لیکن پریشان نہ ہوں یہاں ملک اور ریاست کی تباہی پر باز پرس نہیں ہوتی جب تک آپ سسٹم کی تابعدار رہیں ۔
باقی تصویر اس لئیے لگائی ہے کہ حضور جب اصل مسائل پر بات کریں تو سرکار ناراض ہوجاتی ہے اور اٹھا بھی لیتی ہے۔

خرم مشتاق
#بلوچستان

ایس ایس پی محمد ظفر کو منشیات سمگلنگ کرنے کے مبینہ الزامات پر نوکری سے جبری طور پر ریٹائرڈ کر دیا گیا ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے انکوائری میں جرم ثابت ہونے پر سابق ڈی پی او لورالائی محمد ظفر کو جبری ریٹائرمنٹ کی سزا سنائی
سوال یہ ہے کہ اگر منشیات سمگلنگ کرتے تھے تو مقدمہ درج کر کے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا اور جبری ریٹائرمنٹ کی بجائے برطرف کیوں نہیں کیا گیا
یہ آدھی سہولت کاری کیوں ؟