Pakistan Times International
344 subscribers
100 photos
18 videos
80 links
Download Telegram
گزشتہ 35 سال میں اتنے برے حالت نہیں دیکھے جو آج ہیں ہر دوسرا پاکستانی غربت کا شکار ہو چکا ہےہر تیسرا نوجوان بے روزگار ہوچکا ہے۔ ثاقب شیرانی
پہلے لاہور نہیں ختم ہوتا تھا، اب صورتحال یہ ہے کہ DHA ختم نہیں ہوتا۔

رضی طاہر
‏آج ایک ایف آئی اے اہلکار کو کراچی میں ایک دکاندار کے منہ پر اس کے بیٹے کی موجودگی میں تھپڑوں کی بارش کرتے دیکھ کر دل کٹ کے رہ گیا، او محسن نقوی صاحب یہ کون سی مہذب ایف آئی اے فورس تیار کردی ہے جو شریف لوگوں کے ساتھ کیڑے مکوڑوں والا سلوک کررہی ہے، ایسی فرعونیت اور لاقانونیت تو پنجابی فلموں میں جگا بدمعاش کرتا نظر آتا ہے جو آپکی مہزب ایف آئی کررہی ہے

زبیر قریشی
پولیو قطرے نہ پلانے پر پولیس فورا پہنچے گی مگر ڈکیتی سنیچنگ پر نہیں
قمیض پھٹ گئی لیکن وہاں خراش نہیں آئی
ڈرامے کا ڈائریکٹر نکما اور نالائق ہے ۔
#بلوچستان

دشت اور پنجگور سے تین افراد کی لاشیں برآمد

بلوچستان کے علاقے دشت میں ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقتول کی شناخت ماسٹر عابد محمد عمر کے نام سے ہوئی ہے جو دشت کھڈان کا رہائشی تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں تین ہفتے قبل نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔ دوسری جانب ضلع پنجگور کے علاقے سریکوران میں دو افراد کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ رپورٹر کے مطابق مقتولین کی شناخت نبیل ولد جمیل احمد اور شہاب ولد نذیر احمد کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق سند ءِ سر دزپروم سے بتایا جاتا ہے۔ دونوں لاشوں کو ہنگامی طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ واقعات سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اشتہارات میں ترقی کے دعویدار جواب دیں کہ غربت میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

حافظ نعیم
امیر جماعت اسلامی پاکستان
#پشاور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی کابینہ میں توسیع کی سمری منظور کرلی
صوبائی حکومت کی جانب سے 6 نئے وزراء ، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی کے حوالہ سے گورنر ہاؤس کو سمری بھجوائی گئی تھی
جس کی گورنر فیصل کریم کنڈی نے منظوری دے دی
نئے وزراء کی حلف برداری کی تقریب کل 17 مئی بروز اتوار گورنرہاوس میں منعقد ہوگی
#بلوچستان #دالبندین میں مسلح افراد کا پولیس تھانے پر حـ.ملہ تھانے کو نذرِ آتش کر دیا تھانے میں موجود 14 سے زائد قیدی فرار ہو گئے، مسلح افراد اور فورسز کے درمیان شہر کے مختلف مقامات پر فـائرنگ کا تبادلہ گولی لگنے سے دو افراد زخمی ہسپتال منتقل، پولیس زرائع
کراچی میں جمعہ کی نماز پڑھنے گئے شہری سے مسجد کے باہر شناختی کارڈ طلب!
شہری حیران و پریشان، “نماز پڑھنے آئے ہیں یا تفتیش کروانے؟”
شہر قائد میں سیکیورٹی کے نام پر عوام کو ہراساں کرنے کے واقعات بڑھنے لگے۔
عوام کا سوال:
کیا عبادت گاہوں میں بھی اب شناخت دکھانا لازمی ہو گیا؟
کراچی کے شہری پہلے ہی مہنگائی، ٹریفک اور بدامنی سے پریشان ہیں، اب نماز کی ادائیگی بھی سوال بن گئی۔
https://www.facebook.com/share/v/1KwutokBa9/
👍1
‏اگر فرعون کی زندہ مثالیں دیکھنی ہوں تو پاکستان آجائیں، ہر گلی، محلہ، سڑک ہر ادارے میں آپ کو بڑے چھوٹے جاہل، پڑھے لکھے، وردی میں بغیر وردی میں ہر قسم کے فرعون یہاں دستیاب ہیں، کیونکہ عوام بے غیرت اور بزدل ہوچکی ہے۔۔

آفاق خان
👍3
#کوئٹہ

اربوں روپے مالیت کا قیمتی سامان غائب کروایا گیا اور پھر اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے کوئٹہ کسٹم وئیر ہاؤس کو آگ لگوا دی گئی🔥
ایسا ملک بھر میں بار بار ہوتا ہے
👍1😢1
دی نیشن کے سابق چیف رپورٹر اپنی تین ماہ کی تنخواہ اور چھٹیوں کے پیسے مالکان سے وصول کرنے کی قانونی چارہ جوئی کرتے دنیا سے گزر گئے، مالکان ہر تاریخ پر ایک نئی تاریخ لے کر چلے جاتے تھے۔رپورٹر اسد ملک کیمطابق ان کا کیس سماعت کے لئے مقرر کروا دیا گیا ہے، بدھ کے روز جسٹس اعظم خان کی عدالت میں تشریف لائیں
ڈیرہ اسماعیل خان
ناقابل برداشت مہنگی بجلی اور شہر میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ عوام 90% فیصد کے قریب سولر پر شفٹ ہو گئی ہے۔۔

ثناءاللہ خان
‏اسلام آباد پولیس کی بڑی کامیابی، جعلی اغواء ڈرامہ بے نقاب، مرکزی ملزم ساتھیوں سمیت گرفتار

اسلام آباد( کرائم رپورٹر: عمر خان)

وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد پولیس نے ایک سنسنی خیز جعلی اغواء کیس کا پردہ چاک کرتے ہوئے مرکزی ملزم اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے خود اپنے اغواء کا ڈرامہ رچا کر سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل کیں تاکہ لوگوں سے فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی بھاری رقوم واپس نہ کرنا پڑیں اور مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا سکے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نور الدین نے اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ مل کر اغواء کی جعلی منصوبہ بندی کی۔ اس دوران ایک ڈرامائی ویڈیو بھی تیار کی گئی جس میں ملزم کو مبینہ طور پر اغواء کے بعد کچے کے علاقے میں دکھایا گیا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس نے معاملے کی فوری تحقیقات شروع کر دیں۔

تفتیش کے دوران ایس پی سٹی ایاز کی سربراہی میں خصوصی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی، موبائل ڈیٹا، ہیومن انٹیلیجنس اور مختلف شواہد کی مدد سے کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ تحقیقات کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ پورا واقعہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔

اسلام آباد پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم نور الدین اور اس کے دو ساتھیوں کو رحیم یار خان سے گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ ان سے اہم انکشافات کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ یکم مئی کو تھانہ آبپارہ میں سیف الدین کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ اسلام آباد پولیس نے واضح کیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور شہریوں کو گمراہ کرنے یا جھوٹے مقدمات کے ذریعے اداروں کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
‏فوجی مائنڈ سیٹ جب فاشسٹ بن جائے تو یہ ہوتا ہے⬇️

🔴 انتہائی اہم۔۔۔۔
ایک بار کراچی میں ہم میر ظفر اللہ خان جمالی مرحوم کا انٹرویو کرنے گئے، میں نے ان سے آف دا ریکارڈ پوچھا کہ سر آپ تو بڑے ملنسار، عاجز اور حوصلہ مند انسان ہیں آپ بھی ان کے ساتھ نہیں چل سکے، تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کہتے ہیں شاہ جی، آپ اگر ان کے 99 مطالبات مانیں اور ایک نہ مانیں تو یہ آپ کو قبر تک نہیں چھوڑتے اور جانتے ہیں وہ 100واں مطالبہ کیا ہوتا ہے؟ کہنے لگا وہ 100واں مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ آپ ہمیں اپنا کان کاٹنے دیں، کہنے لگے میں وہ بھی کٹوا لیتا پھر یہ کہتے ہیں دوسرا کاٹنے دیں اور پھر دوسرے کے بعد بھی رکتے نہیں۔۔۔ اب آپ کو سوال کا جواب مل گیا؟ میں نے کہا سر بالکل مل گیا، دوسرے کان کے بعد جمالی صاحب کا اشارہ ناک کٹوانے کی طرف تھا، میں نے سوچا پیپلز پارٹی اور ن۔لیگ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کر کے اپنے دونوں کان تو کٹوا چکے ہیں، اب باری آئی ہے معذرت کیساتھ ناک کی، زرداری صاحب کچھ چوں چراں اور اعتراض کر رہے ہیں لیکن انتہائی معذرت کیساتھ ن۔لیگ کو تو مبینہ طور پر ناک کٹوانے پر بھی اعتراض نہیں وہ اس کیلئے بھی تیار ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ اب ہمارے لئے راستہ یہی بچا ہے عوام میں جانے کی سکت نہیں رہی، یار یا تو اقتدار کیساتھ اختیار ہو تب بھی کوئی بات ہے جب اقتدار کی کرسی پر آپ بیٹھے ہوں اور مکمل اختیار کسی اور کے پاس ہو تو پھر کم از کم اپنی سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن نہیں کرنا چاہیے

منقول از ظفر نقوی
👍1
اسلام آباد میں گرمی شروع ہوتے ہی مرگلہ کی پہاڑی پر آگ بھڑک اٹھی۔ ہر سال پہاڑ ایسے ہی جلتا ہے۔ پہاڑ کے مختلف علاقوں پر رکھوالے ہونے کے باوجود آگ کیسے لگتی ہے اور یہ آگ کون لگاتا معلوم نہ ہوسکا۔۔

صحافی آمنہ حسین
اسکردو میں مختلف ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ایک نہایت تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی۔ان کے مطابق اس بار سیاحت کا سیزن شدید دباؤ کا شکار ہے اور کاروبار غیر معمولی بحران سے گزر رہا ہے۔ مئی اور جون کا وقت، جو عام طور پر اسکردو کے لیے سیاحت کا “ہائی سیزن” ہوتا ہے، اس بار توقعات کے برعکس بہت کمزور نظر آ رہا ہے۔ ہوٹلوں میں گنجائش موجود ہے لیکن سیاحوں کی آمد میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ییان پر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایلیٹ کلاس پہلے بھی زیادہ تر بیرونِ ملک سفر کو ترجیح دیتی تھی اور اب بھی وہی رجحان برقرار شاید ہق، لیکن ہمارا اصل بڑا سہارا مڈل کلاس ہوتی تھی جو اب شدید مہنگائی کی وجہ سے سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے قاصر ہے۔مقامی کاروباری افراد کے مطابق مہنگائی نے نہ صرف سفر کو مہنگا کر دیا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ، رہائش اور روزمرہ اخراجات نے بھی عام شہری کے لیے تفریحی سفر کو مشکل بنا دیا ہے۔ نتیجتاً وہ طبقہ جو پہلے شمالی علاقوں کی سیاحت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا، اب بڑی حد تک غیر فعال ہو چکا ہے۔یہ صورتحال صرف چند ہوٹلوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اسکردو جیسے سیاحتی علاقوں کی معیشت کے لیے ایک سنگین معاشی اشارہ ہے، جس کے اثرات چھوٹے کاروباروں اور مقامی روزگار تک پھیل رہے ہیں۔
1
ٹرمپ نے ایک دفعہ پھر سے ایران کو مطالبات نہ ماننے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے ۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ؛

ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران سے جنگ کے معاملے پر ٹیلیفونک گفتگو کی ہے ۔ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر جو اپنے چین کے دورے پر بھی بریفنگ دی ہے
ملتان کسٹمز میں 3.8 ارب روپے مالیت کا ضبط شدہ سامان تلف کردیا گیا، جس میں موبائل فونز، امپورٹڈ سگریٹ، کاسمیٹکس اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔

پاکستان کسٹمز قانون کے مطابق ہر ضبط شدہ سامان کو جلانا ضروری نہیں، ممنوعہ، مضرِ صحت، جعلی یا خطرناک اشیاء تلف کی جا سکتی ہیں، جبکہ قابل استعمال سامان کی شفاف نیلامی کی بھی قانونی گنجائش موجود ہے، سوال یہ ہے کہ اگر ان اشیاء میں قابل استعمال سامان موجود تھا تو کیا اسے نیلام کرکے قومی خزانے میں اربوں روپے جمع نہیں کروائے جا سکتے تھے؟ قانونی تلفی اپنی جگہ، مگر شفافیت بھی اتنی ہی ضروری ہے،کیا مکمل انوینٹری، ویڈیو ریکارڈ اور تھرڈ پارٹی نگرانی موجود تھی؟ اور کیا اس بات کی سو فیصد ضمانت دی جا سکتی ہے کہ تمام سامان واقعی تلف ہوا؟ کیونکہ ہمارے ہاں اکثر "تلف" ہونے والی اشیاء بعد میں دوبارہ مارکیٹوں میں بھی نظر آجاتی ہیں

آفاق سومرو