اگر عاصم منیر واقعی کسی لائق ہوتا تو پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام لے آتا۔۔۔ مگر باجوے کی طرح یہ بھی استاد کے بغیر چلنے سے قاصر ہے۔ منیرے مستری کا گاڈ فادر کون ہے، اور اس کا پلان کیا ہے؟
عادل راجہ
چیک کریں ⬇️
youtu.be/gOTJoy3Kk54
عادل راجہ
چیک کریں ⬇️
youtu.be/gOTJoy3Kk54
YouTube
Ustaad Ji Ka Kamaal | Asal Wala Ghari Choor | The Man with The Plan | Would Pak Survive?
🎥 Welcome to Adil Raja Official | Soldier Speaks
👉 Raw. Unfiltered. Fearless.
This channel delivers hard-hitting political and geopolitical analysis on Pakistan, South Asia, and global power dynamics — based on insight, experience, and deep research.
From…
👉 Raw. Unfiltered. Fearless.
This channel delivers hard-hitting political and geopolitical analysis on Pakistan, South Asia, and global power dynamics — based on insight, experience, and deep research.
From…
پاکستان میں بدقسمتی سے بیشتر پریس کلبز اور صحافتی یونینز شدید تقسیم کا شکار ہیں۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کے بجائے بعض حلقے ذاتی مفادات اور گروہ بندیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔کئی علاقوں میں یہ ادارے مفاداتی گروہوں کے زیر اثر نظر آتے ہیں،کئی جگہوں پر قبضہ مافیا بن کر اور الہ کار بن کر ذاتی مفادات کی حصول میں مصروف ہے۔
جب تک پریس کلبز اور یونینز سے یہ مفاداتی قبضہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک صحافیوں میں اتحاد، اتفاق اور حقوق کی حقیقی جدوجہد ممکن نہیں ہو سکتی۔پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران 125 صحافی تشدد کا نشانہ بنے، اظہار کی آزادی کا حق کچلا گیا،انہیں روزگار سے فارغ کیا گیا اور قتل تک کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
آج میڈیا انڈسٹری میں صحافیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ صحافت کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
صحافیوں کو بغیر نوٹس، بغیر انکوائری اور بغیر کسی واضح وجہ کے ٹی وی،اخبارات سے نکالا جا رہا ہے۔ اکثر مالکان دباؤ ڈال کر صحافیوں سے زبردستی استعفیٰ لیتے ہیں،جو خوف اور مجبوری کے ماحول میں دیاجاتا ہے۔ اور اگر کوئی استعفیٰ دینے سے انکار کرے تو اسے واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ "ہم آپ کو نکال دیں گے"۔جب کسی صحافی کے ریکارڈ میں "نوکری سے برطرف"درج ہو جائے تو اس کے لیے دوسرے اداروں میں ملازمت حاصل کرنا بھی مشکل بنا دیاجاتا ہے۔بیشتر میڈیا ادارے بروقت تنخواہیں ادا نہیں کرتے۔متعدد صحافیوں کو کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بھی کم تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔
جان ہتھیلی پر رکھ کر صحافت کرنے والے ان مظلوموں کے بنیادی حقوق تک تسلیم نہیں کیے جا رہے،اس صورتحال میں سنجیدہ اور سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔
'اگر کوئی ادارہ کسی صحافی کو بغیر کسی جرم،غلطی یا قانونی جواز کے اچانک فارغ کرتا ہے تو اس ادارے کے سرکاری اشتہارات فوری طور پر بند کیےجائیں،ساتھ ہی ایسے اداروں پر جرمانہ عائد کیاجائے اور یہ رقم براہ راست متاثرہ صحافی کو دی جائے'۔
صحافت اگر کمزور ہوگی تو سچ کی آواز بھی کمزور ہو جائےگی۔
رسول داوڑ
جب تک پریس کلبز اور یونینز سے یہ مفاداتی قبضہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک صحافیوں میں اتحاد، اتفاق اور حقوق کی حقیقی جدوجہد ممکن نہیں ہو سکتی۔پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران 125 صحافی تشدد کا نشانہ بنے، اظہار کی آزادی کا حق کچلا گیا،انہیں روزگار سے فارغ کیا گیا اور قتل تک کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
آج میڈیا انڈسٹری میں صحافیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ صحافت کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
صحافیوں کو بغیر نوٹس، بغیر انکوائری اور بغیر کسی واضح وجہ کے ٹی وی،اخبارات سے نکالا جا رہا ہے۔ اکثر مالکان دباؤ ڈال کر صحافیوں سے زبردستی استعفیٰ لیتے ہیں،جو خوف اور مجبوری کے ماحول میں دیاجاتا ہے۔ اور اگر کوئی استعفیٰ دینے سے انکار کرے تو اسے واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ "ہم آپ کو نکال دیں گے"۔جب کسی صحافی کے ریکارڈ میں "نوکری سے برطرف"درج ہو جائے تو اس کے لیے دوسرے اداروں میں ملازمت حاصل کرنا بھی مشکل بنا دیاجاتا ہے۔بیشتر میڈیا ادارے بروقت تنخواہیں ادا نہیں کرتے۔متعدد صحافیوں کو کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بھی کم تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔
جان ہتھیلی پر رکھ کر صحافت کرنے والے ان مظلوموں کے بنیادی حقوق تک تسلیم نہیں کیے جا رہے،اس صورتحال میں سنجیدہ اور سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔
'اگر کوئی ادارہ کسی صحافی کو بغیر کسی جرم،غلطی یا قانونی جواز کے اچانک فارغ کرتا ہے تو اس ادارے کے سرکاری اشتہارات فوری طور پر بند کیےجائیں،ساتھ ہی ایسے اداروں پر جرمانہ عائد کیاجائے اور یہ رقم براہ راست متاثرہ صحافی کو دی جائے'۔
صحافت اگر کمزور ہوگی تو سچ کی آواز بھی کمزور ہو جائےگی۔
رسول داوڑ
👍1
پاکستانی قانون۔
ایک ڈرگ ڈیلر بغیر ہتھکڑی دو پولیس والوں کے ساتھ جو خاتون ڈیلر کے پیچھے پیچھے رستہ دکھاتے جی میڈیم جی میڈیم کہتے عدالت کے احاطے میں گھوم رہے ہیں۔
وہی پاکستان کا قانون
ایک بوڑھے اُستاد کو گاڑی سے گھسیٹ کر نکال کر گالیاں دیتے ہوۓ اگلے دن کورٹ میں ہتھکڑی لگاۓ اور ہتھکڑی سے زنجیر بندھی جیسے جانور کو کھیچ کر کہیں لایا جاتا ہے اسُی طرح لایا گیا۔
یہ کب صحیح ہوگا نظام۔ کب۔ کب۔ کب۔ آخر کب
ایک ڈرگ ڈیلر بغیر ہتھکڑی دو پولیس والوں کے ساتھ جو خاتون ڈیلر کے پیچھے پیچھے رستہ دکھاتے جی میڈیم جی میڈیم کہتے عدالت کے احاطے میں گھوم رہے ہیں۔
وہی پاکستان کا قانون
ایک بوڑھے اُستاد کو گاڑی سے گھسیٹ کر نکال کر گالیاں دیتے ہوۓ اگلے دن کورٹ میں ہتھکڑی لگاۓ اور ہتھکڑی سے زنجیر بندھی جیسے جانور کو کھیچ کر کہیں لایا جاتا ہے اسُی طرح لایا گیا۔
یہ کب صحیح ہوگا نظام۔ کب۔ کب۔ کب۔ آخر کب
دنیا کے مہنگے ترین بیگ اور جوتے استعمال کرنے والی پیپلز پارٹی کی ایک وزیر کے خاوند کی فیصل آباد میں واقع فیکٹری میں 20 کروڑ سے زائد کی گیس چوری کرنے کی 2016 میں درج ھو نے والی ایف آئی آر کا کیا بنا؟
مجھے تو مقدمہ درج ہونے کے چند دن بعد وزیراعظم کی ہدایت پر تبدیل کر دیا گیا تھا کیونکہ بجلی بنانے والی کمپنیاں مجھ سے ناراض ھو گئی تھیں
سجاد مصطفی
سابق ایف آئی اے افسر
مجھے تو مقدمہ درج ہونے کے چند دن بعد وزیراعظم کی ہدایت پر تبدیل کر دیا گیا تھا کیونکہ بجلی بنانے والی کمپنیاں مجھ سے ناراض ھو گئی تھیں
سجاد مصطفی
سابق ایف آئی اے افسر
خلافتِ عثمانیہ کے دور میں ترکی اور دیگر اسلامی شہروں کے بازاروں میں ایک خوبصورت روایت تھی کہ وہ صبح دکان کھولتے ہی ایک چھوٹی سی کرسی دکان کے باہر رکھتے تھے جوں ہی پہلا گاہک آتا دکاندار کرسی وہاں سے اٹھا کر واپس دکان میں رکھ لیتا تھا.
جب دوسرا گاہک آتا دکاندار اپنی دکان سے باہر نکل کر بازار پر اک نظر ڈالتا جس دکان کے باہر کرسی پڑی ہوتی وہ گاہک سے کہتا کہ تمہاری ضرورت کی چیز اس دکان سے ملے
گی میں صبح کا آغاز کرچکا ہوں.
کرسی کا دکان کے باہر رکھنا اس بات کی نشانی ہوتی تھی کہ ابھی تک اس دکاندار نے کاروبار کا آغاز نہیں کیا ہے.
اس عمل کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مارکیٹ میں موجود تمام تاجروں کا رزق لگ سکے جب پہلا دکاندار اپنی "بوھنی" (پہلی فروخت) کر لیتا، تو وہ چاہتا تھا کہ اس کا پڑوسی بھائی بھی دن کا آغاز کر سکے
عربی اور ترکی ثقافت میں اسے سفٹ ( sift) (پہلی بیع یا آغازِ تجارت) کہا جاتا تھا۔ لفظ "سفٹ" دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے مگر اس کی جڑیں عربی لفظ "استفتاح" سے ملتی ہیں، جس کا مطلب ہے "آغاز کرنا" یا "کھولنا"۔ ترکی زبان میں یہ مختصر ہو کر "سفٹ" (Sift) بن گیا
تاجروں کا ماننا تھا کہ اگر وہ اپنے بھائی کے رزق کا خیال رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے مال میں برکت عطا فرمائے گا۔
قدیم مسلم معاشرے میں تجارت صرف پیسہ کمانے کا نام نہیں تھا بلکہ یہ دیانت، امانت اور ہمدردی کا مجموعہ تھی۔ یہی وہ اخلاق تھا جس سے متاثر ہو کر غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا
شفقت چوہدری
جب دوسرا گاہک آتا دکاندار اپنی دکان سے باہر نکل کر بازار پر اک نظر ڈالتا جس دکان کے باہر کرسی پڑی ہوتی وہ گاہک سے کہتا کہ تمہاری ضرورت کی چیز اس دکان سے ملے
گی میں صبح کا آغاز کرچکا ہوں.
کرسی کا دکان کے باہر رکھنا اس بات کی نشانی ہوتی تھی کہ ابھی تک اس دکاندار نے کاروبار کا آغاز نہیں کیا ہے.
اس عمل کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مارکیٹ میں موجود تمام تاجروں کا رزق لگ سکے جب پہلا دکاندار اپنی "بوھنی" (پہلی فروخت) کر لیتا، تو وہ چاہتا تھا کہ اس کا پڑوسی بھائی بھی دن کا آغاز کر سکے
عربی اور ترکی ثقافت میں اسے سفٹ ( sift) (پہلی بیع یا آغازِ تجارت) کہا جاتا تھا۔ لفظ "سفٹ" دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے مگر اس کی جڑیں عربی لفظ "استفتاح" سے ملتی ہیں، جس کا مطلب ہے "آغاز کرنا" یا "کھولنا"۔ ترکی زبان میں یہ مختصر ہو کر "سفٹ" (Sift) بن گیا
تاجروں کا ماننا تھا کہ اگر وہ اپنے بھائی کے رزق کا خیال رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے مال میں برکت عطا فرمائے گا۔
قدیم مسلم معاشرے میں تجارت صرف پیسہ کمانے کا نام نہیں تھا بلکہ یہ دیانت، امانت اور ہمدردی کا مجموعہ تھی۔ یہی وہ اخلاق تھا جس سے متاثر ہو کر غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا
شفقت چوہدری
“پنجاب حکومت نے مریم نواز کی تشہیر کے لیے پہلے سال 7 ارب اور اب دوسرے سال ابھی تک 6 ارب 40 کروڑ روپیہ ٹک ٹاک پر لگایاہے، یعنی ابھی تک 14 ارب روپیہ صرف تشہیر پر خرچ ہو چکا ہے، اب 2027 کے لیے مریم کی تشہیر کے لیے مزید 12 ارب روپیہ مانگا گیا ہے ”
صحافی انور سمرا کا انکشاف
صحافی انور سمرا کا انکشاف
پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ معمولی nature کے جرائم کو Police Clearance Certificate میں اس انداز سے ظاہر نہیں کیا جا سکتا جس سے کسی شخص کی job، visa، بیرونِ ملک سفر یا مستقبل متاثر ہو۔ عدالت کے مطابق ہر سزا بددیانتی کے زمرے میں نہیں آتی، لہٰذا معمولی مقدمات کو سنگین جرائم کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھولنے کے بیانات آ رہے ہیں لیکن کیا وہ سندھ طاس معاہدہ بحال کرینگے کیا وہ کشمیر پر بات چیت شروع کرینگے کیونکہ یہ دو اہم مسلئے ہیں ہم بھارت جا کر صرف ساڑھیوں کی خریداری تو نہیں کرنی
کل سے ایم این اے حاجی محمد اقبال آفریدی کے خلاف یہ بیانیہ میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے🤬
کہ اُن کے بیٹے کے پاس ڈپلومیٹک پاسپورٹ تھا اور انہوں نے اٹلی میں اسائلم کیلئے
اپلائی کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص، جس کے والد دو مرتبہ ممبر آف پارلیمنٹ رہ چکے ہوں، کو آخر کیوں اس بات پر مجبور ہونا پڑا کہ وہ اٹلی میں اپنا ڈپلومیٹک پاسپورٹ سرینڈر کرے اور اسائلم کیلئے درخواست دے؟ اور اقبال آفریدی جیسے والد اپنے بیٹے کو کیوں یہ کہیں گے کہ تم وہاں ڈپلومیٹک پاسپورٹ سرینڈر کرکے اسائلم کیلئے اپلائی کرو؟
ان باتوں کے پیچھے کون سے راز ہیں؟ آئیے آپ کو بتاتا ہوں۔
جب پاکستان تحریکِ انصاف پر ریاستی کریک ڈاؤن شروع ہوا تو ایم این اے حاجی محمد اقبال آفریدی کے گھر پر کئی چھاپے مارے گئے۔ ایک مرتبہ جب چھاپہ پڑا تو وہ خود گھر میں موجود نہیں تھے، جس پر پولیس اُن کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئی۔ اقبال آفریدی کے خلاف آج بھی درجنوں ایف آئی آرز درج ہیں۔ وہ جب بھی اسلام آباد جاتے ہیں تو پشاور ہائیکورٹ سے راہداری ضمانت لے کر جاتے ہیں۔
میں اسلام آباد میں سینیٹر ڈاکٹر علامہ محمد نور الحق قادری صاحب کے ساتھ الیکشن سے قبل ایک جگہ بیٹھا تھا اور ان کے ساتھ الیکشن پر ڈسکشن ہورہی تھی اور پارٹی ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن ڈسکس کرنے لگے تو علامہ صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا جامعۃ الازہر کا طالبِ علم ہے۔ گرمیوں میں ان کی چھٹی ہوئی تھی پاکستان آئے تھے جب واپس جارہے تھے تو ائیرپورٹ سے انٹیلیجنس اداروں نے اُن کے بیٹے کو اٹھا لیا اور تقریباً ایک ماہ تک وہ لاپتہ رہے۔ بڑی مشکل اور کوششوں کے بعد سینیٹر صاحب اپنے بیٹے کو بازیاب کروانے میں کامیاب ہوئے۔ بازیابی کے بعد وہ شدید خوفزدہ تھے، بات تک نہیں کرتے تھے، اور اپنے والدین سے صرف ایک ہی بات کہتے تھے کہ:
“یہ کیسا ملک ہے؟ میں نے کیا گناہ کیا تھا؟ ہم سب لوگ بیرونِ ملک جا ئیں گے۔ یہاں تو کوئی بھی محفوظ نہیں۔ میں اکیلا مدرسے نہیں جاؤں گا، کیونکہ اگر میں وہاں گیا اور پیچھے آپ کے ساتھ کچھ ہوگیا تو میں کیا کروں گا؟”
سینیٹر ڈاکٹر علامہ محمد نور الحق قادری صاحب نے بڑی مشکل سے اپنے بیٹے کو دوبارہ راضی کیا، تب جا کر وہ واپس مدرسے گئے۔
ہمارے 10 سٹنگ ایم این ایز اور دو تین سٹنگ سینیٹرز کو 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ پچاس ہزار سے زائد ورکرز گرفتار کیے گئے۔ کچھ کی ضمانتیں ہو چکی ہیں جبکہ بہت سے اب بھی جیلوں میں ہیں۔ سینکڑوں ورکرز کو ملٹری کورٹس سے کئی کئی سال کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
اب مجھے بتائیں، جہاں ایم این ایز محفوظ نہ ہوں، سابق وزراء محفوظ نہ ہوں، اُن کے بچے محفوظ نہ ہوں، سینیٹرز محفوظ نہ ہوں اور ورکرز محفوظ نہ ہوں، وہاں اگر کل اقبال آفریدی کو 10 سال کیلئے جیل ہو جائے تو اُن کے خاندان اور باقی بچوں کا کیا ہوگا؟ کیا وہ اپنے ایک یا دو ذمہ دار بیٹوں کو اس بات پر مجبور نہیں کریں گے کہ وہ بیرونِ ملک جا کر اسائلم لیں تاکہ باقی خاندان کو سپورٹ کر سکیں؟
اور جو لوگ یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کو بیرونِ ملک اسائلم لینے کیلئے بھیج دیا جبکہ دوسروں کے بیٹوں پر سیاست کرتے ہیں، تو میں اس بات کا گواہ ہوں کہ اقبال آفریدی کے دو بیٹے ہر سخت اور مشکل وقت میں پارٹی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے ہیں۔
کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ تنقید ہر کسی کا حق ہے، لیکن تنقید سے پہلے کچھ تلخ حقائق کا ادراک بھی ہونا چاہیے۔
محمد شہزاد خان
کہ اُن کے بیٹے کے پاس ڈپلومیٹک پاسپورٹ تھا اور انہوں نے اٹلی میں اسائلم کیلئے
اپلائی کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص، جس کے والد دو مرتبہ ممبر آف پارلیمنٹ رہ چکے ہوں، کو آخر کیوں اس بات پر مجبور ہونا پڑا کہ وہ اٹلی میں اپنا ڈپلومیٹک پاسپورٹ سرینڈر کرے اور اسائلم کیلئے درخواست دے؟ اور اقبال آفریدی جیسے والد اپنے بیٹے کو کیوں یہ کہیں گے کہ تم وہاں ڈپلومیٹک پاسپورٹ سرینڈر کرکے اسائلم کیلئے اپلائی کرو؟
ان باتوں کے پیچھے کون سے راز ہیں؟ آئیے آپ کو بتاتا ہوں۔
جب پاکستان تحریکِ انصاف پر ریاستی کریک ڈاؤن شروع ہوا تو ایم این اے حاجی محمد اقبال آفریدی کے گھر پر کئی چھاپے مارے گئے۔ ایک مرتبہ جب چھاپہ پڑا تو وہ خود گھر میں موجود نہیں تھے، جس پر پولیس اُن کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئی۔ اقبال آفریدی کے خلاف آج بھی درجنوں ایف آئی آرز درج ہیں۔ وہ جب بھی اسلام آباد جاتے ہیں تو پشاور ہائیکورٹ سے راہداری ضمانت لے کر جاتے ہیں۔
میں اسلام آباد میں سینیٹر ڈاکٹر علامہ محمد نور الحق قادری صاحب کے ساتھ الیکشن سے قبل ایک جگہ بیٹھا تھا اور ان کے ساتھ الیکشن پر ڈسکشن ہورہی تھی اور پارٹی ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن ڈسکس کرنے لگے تو علامہ صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا جامعۃ الازہر کا طالبِ علم ہے۔ گرمیوں میں ان کی چھٹی ہوئی تھی پاکستان آئے تھے جب واپس جارہے تھے تو ائیرپورٹ سے انٹیلیجنس اداروں نے اُن کے بیٹے کو اٹھا لیا اور تقریباً ایک ماہ تک وہ لاپتہ رہے۔ بڑی مشکل اور کوششوں کے بعد سینیٹر صاحب اپنے بیٹے کو بازیاب کروانے میں کامیاب ہوئے۔ بازیابی کے بعد وہ شدید خوفزدہ تھے، بات تک نہیں کرتے تھے، اور اپنے والدین سے صرف ایک ہی بات کہتے تھے کہ:
“یہ کیسا ملک ہے؟ میں نے کیا گناہ کیا تھا؟ ہم سب لوگ بیرونِ ملک جا ئیں گے۔ یہاں تو کوئی بھی محفوظ نہیں۔ میں اکیلا مدرسے نہیں جاؤں گا، کیونکہ اگر میں وہاں گیا اور پیچھے آپ کے ساتھ کچھ ہوگیا تو میں کیا کروں گا؟”
سینیٹر ڈاکٹر علامہ محمد نور الحق قادری صاحب نے بڑی مشکل سے اپنے بیٹے کو دوبارہ راضی کیا، تب جا کر وہ واپس مدرسے گئے۔
ہمارے 10 سٹنگ ایم این ایز اور دو تین سٹنگ سینیٹرز کو 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ پچاس ہزار سے زائد ورکرز گرفتار کیے گئے۔ کچھ کی ضمانتیں ہو چکی ہیں جبکہ بہت سے اب بھی جیلوں میں ہیں۔ سینکڑوں ورکرز کو ملٹری کورٹس سے کئی کئی سال کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
اب مجھے بتائیں، جہاں ایم این ایز محفوظ نہ ہوں، سابق وزراء محفوظ نہ ہوں، اُن کے بچے محفوظ نہ ہوں، سینیٹرز محفوظ نہ ہوں اور ورکرز محفوظ نہ ہوں، وہاں اگر کل اقبال آفریدی کو 10 سال کیلئے جیل ہو جائے تو اُن کے خاندان اور باقی بچوں کا کیا ہوگا؟ کیا وہ اپنے ایک یا دو ذمہ دار بیٹوں کو اس بات پر مجبور نہیں کریں گے کہ وہ بیرونِ ملک جا کر اسائلم لیں تاکہ باقی خاندان کو سپورٹ کر سکیں؟
اور جو لوگ یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کو بیرونِ ملک اسائلم لینے کیلئے بھیج دیا جبکہ دوسروں کے بیٹوں پر سیاست کرتے ہیں، تو میں اس بات کا گواہ ہوں کہ اقبال آفریدی کے دو بیٹے ہر سخت اور مشکل وقت میں پارٹی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے ہیں۔
کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ تنقید ہر کسی کا حق ہے، لیکن تنقید سے پہلے کچھ تلخ حقائق کا ادراک بھی ہونا چاہیے۔
محمد شہزاد خان
جس رفتار سے ہم "معاشی طاقت" بن رہے ہیں، ڈر ہے کہ کہیں آئی ایم ایف ہمیں "گود" ہی نہ لے لے۔
پاکستان پر 97 ہزار ارب کا قرضہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ہم معاشی طور پر اتنے "طاقتور" ہو چکے ہیں کہ اب پوری دنیا مل کر بھی ہمارا قرضہ نہیں اتار سکتی۔
اسد منصور
پاکستان پر 97 ہزار ارب کا قرضہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ہم معاشی طور پر اتنے "طاقتور" ہو چکے ہیں کہ اب پوری دنیا مل کر بھی ہمارا قرضہ نہیں اتار سکتی۔
اسد منصور
#بریکنگ #نیوز
خطرناک اغواہ کاروں کی جانب سے مردہ قرار دے کر 50 لاکھ تاوان کی رقم وصول کرنے بعد بطور میت فیملی کے حوالے ہونے والا پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کا مالک بول پڑا
مجھے میرے ہی سٹاف/قابل اعتماد کاروباری لوگوں نے جرائم پیشہ لوگوں ساتھ ساز باز کر کے اغواہ کروایا
اغواہ کاروں کا مرکزی کارندہ مولوی عبدالقادر ولد خدا بخش دلاور کالونی بہاؤلپور ہے: بزنس مین جام محمد اسلم
مولوی عبدالقادر مجھے سرگودھا گاڑی Fortuner کی فائل لینے ساتھ لے گیا جہاں سے چائے میں نشہ آور دوا ملاکر مجھے بے ہوش کیا گیا اور ڈیرہ غازی خان اغواہ کاروں کے بڑے اڈے پر لے جایا گیا: جام محمد اسلم
اغواہ کاروں نے تین سیکشنز بنا رکھے تھے جہاں ایک میں ان افراد کو بھی رکھا گیا تھا جنکو غلط فہمی کی بنیاد پر اغواء کیا جاتا تھا اور بعد ازاں انہیں رہا کرنے بجائے قتل کر کے لاش دبا دی جاتی تھی
اغواہ کاروں نے تین افراد کو میرے سامنے قتل کیا: جام محمد اسلم
جس دن میں سرگودھا گاڑی کی فائل لینے جارہا رھا اس دن میری بیوی نے میرے ساتھ گاڑی میں مولوی عبدالقادر کو بیٹھا دیکھا اور میں نے بتایا کہ مولوی صاحب مجھے ساتھ لے جارہے: بزنس مین جام محمد اسلم
انہوں نے بتایا کہ جب انہیں اغواہ کیا گیا تو اغواہ کار انکی بات فون پر بچوں بیوی سے کرواتے اور گن پوائنٹ پر کہلواتے کہ میں فلاں جگہ میٹنگ پر ہوں
میں بیماری باعث بے ہوش ہوگیا تو اغواہ کار میرے موبائل فون سے میں بن کر بیوی سے text message پر بات کرتے
بیوی کو شک پڑا تو اس نے اپنے والد سے بات کی اور انہیں مولوی قادر بارے بتایا جس پر میرے سسر بیوی اور بچے مولوی قادر گھر گئے اور گلی میں شور مچایا تو مولوی قادر نے سر عام کہا پچاس لاکھ دو اغواہ کاروں کو تو بندہ مل جائے گا
میری بیوی نے پچاس لاکھ دیا اور یوں مجھے اغواہ کاروں نے مردہ سمجھ کر میری فیملی کے حوالے کر دیا: جام محمد اسلم
میں نے انصاف لیے سرگودھا پولیس، ملتان پولیس کو درخواست دی مگر کوئی انصاف نہ ملا کہ جرائم پیشہ لوگ بہت طاقتور ہیں؛ جام محمد اسلم
میری جان کو خطرہ ہے مجھے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، انچارج سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ اور انچارج سی سی ڈی راولپنڈی انصاف دیں: سی ای او پرائم سٹی جام محمد اسلم
https://x.com/i/status/2055142971582857579
خطرناک اغواہ کاروں کی جانب سے مردہ قرار دے کر 50 لاکھ تاوان کی رقم وصول کرنے بعد بطور میت فیملی کے حوالے ہونے والا پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کا مالک بول پڑا
مجھے میرے ہی سٹاف/قابل اعتماد کاروباری لوگوں نے جرائم پیشہ لوگوں ساتھ ساز باز کر کے اغواہ کروایا
اغواہ کاروں کا مرکزی کارندہ مولوی عبدالقادر ولد خدا بخش دلاور کالونی بہاؤلپور ہے: بزنس مین جام محمد اسلم
مولوی عبدالقادر مجھے سرگودھا گاڑی Fortuner کی فائل لینے ساتھ لے گیا جہاں سے چائے میں نشہ آور دوا ملاکر مجھے بے ہوش کیا گیا اور ڈیرہ غازی خان اغواہ کاروں کے بڑے اڈے پر لے جایا گیا: جام محمد اسلم
اغواہ کاروں نے تین سیکشنز بنا رکھے تھے جہاں ایک میں ان افراد کو بھی رکھا گیا تھا جنکو غلط فہمی کی بنیاد پر اغواء کیا جاتا تھا اور بعد ازاں انہیں رہا کرنے بجائے قتل کر کے لاش دبا دی جاتی تھی
اغواہ کاروں نے تین افراد کو میرے سامنے قتل کیا: جام محمد اسلم
جس دن میں سرگودھا گاڑی کی فائل لینے جارہا رھا اس دن میری بیوی نے میرے ساتھ گاڑی میں مولوی عبدالقادر کو بیٹھا دیکھا اور میں نے بتایا کہ مولوی صاحب مجھے ساتھ لے جارہے: بزنس مین جام محمد اسلم
انہوں نے بتایا کہ جب انہیں اغواہ کیا گیا تو اغواہ کار انکی بات فون پر بچوں بیوی سے کرواتے اور گن پوائنٹ پر کہلواتے کہ میں فلاں جگہ میٹنگ پر ہوں
میں بیماری باعث بے ہوش ہوگیا تو اغواہ کار میرے موبائل فون سے میں بن کر بیوی سے text message پر بات کرتے
بیوی کو شک پڑا تو اس نے اپنے والد سے بات کی اور انہیں مولوی قادر بارے بتایا جس پر میرے سسر بیوی اور بچے مولوی قادر گھر گئے اور گلی میں شور مچایا تو مولوی قادر نے سر عام کہا پچاس لاکھ دو اغواہ کاروں کو تو بندہ مل جائے گا
میری بیوی نے پچاس لاکھ دیا اور یوں مجھے اغواہ کاروں نے مردہ سمجھ کر میری فیملی کے حوالے کر دیا: جام محمد اسلم
میں نے انصاف لیے سرگودھا پولیس، ملتان پولیس کو درخواست دی مگر کوئی انصاف نہ ملا کہ جرائم پیشہ لوگ بہت طاقتور ہیں؛ جام محمد اسلم
میری جان کو خطرہ ہے مجھے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، انچارج سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ اور انچارج سی سی ڈی راولپنڈی انصاف دیں: سی ای او پرائم سٹی جام محمد اسلم
https://x.com/i/status/2055142971582857579
X (formerly Twitter)
Israr Ahmed Rajpoot (@ia_rajpoot) on X
#بریکنگ #نیوز
خطرناک اغواہ کاروں کی جانب سے مردہ قرار دے کر 50 لاکھ تاوان کی رقم وصول کرنے بعد بطور میت فیملی کے حوالے ہونے والا پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کا مالک بول پڑا
مجھے میرے ہی سٹاف/قابل اعتماد کاروباری لوگوں نے جرائم پیشہ لوگوں ساتھ ساز باز کر کے…
خطرناک اغواہ کاروں کی جانب سے مردہ قرار دے کر 50 لاکھ تاوان کی رقم وصول کرنے بعد بطور میت فیملی کے حوالے ہونے والا پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کا مالک بول پڑا
مجھے میرے ہی سٹاف/قابل اعتماد کاروباری لوگوں نے جرائم پیشہ لوگوں ساتھ ساز باز کر کے…
محکمہ آبپاشی سندھ کی کھرب پتی پنکی ابو ظہبی روانہ۔۔ 🔥
محکمہ آبپاشی سندھ کے اربوں روپے لوٹنے والے جونیئر اور غیرقانونی تعینات سیکریٹری ظریف کھیڑو نیب کی تحقیقات کے باوجود اب تک نہ صرف اہم عہدے پر فائز ہیں بلکہ وہ چھٹیاں لیکر بیرون ملک جاکر لوٹی ہوئی دولت کو بھی ٹھکانے لگاتا ہے۔ تازہ بارہ دن کی چھٹی پر ابو ظہبی روانہ ہوگئے ہیں۔ مال لوٹو۔۔ سندھ کو برباد کرو۔۔ یہ ہے اسٹبلشمنٹ کی پالیسی؟؟؟
امتیاز چانڈیو
محکمہ آبپاشی سندھ کے اربوں روپے لوٹنے والے جونیئر اور غیرقانونی تعینات سیکریٹری ظریف کھیڑو نیب کی تحقیقات کے باوجود اب تک نہ صرف اہم عہدے پر فائز ہیں بلکہ وہ چھٹیاں لیکر بیرون ملک جاکر لوٹی ہوئی دولت کو بھی ٹھکانے لگاتا ہے۔ تازہ بارہ دن کی چھٹی پر ابو ظہبی روانہ ہوگئے ہیں۔ مال لوٹو۔۔ سندھ کو برباد کرو۔۔ یہ ہے اسٹبلشمنٹ کی پالیسی؟؟؟
امتیاز چانڈیو
بھارتی ریاست تلنگانہ میں ایک منفرد پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت عام شہری فیس ادا کرکے جیل میں وقت گزار سکیں گے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حیدرآباد میں واقع چنچل گوڑا سینٹرل جیل کی انتظامیہ نے ایسے افراد کے لیے یہ دلچسپ اقدام کیا ہے جو کبھی جیل نہیں گئے لیکن جیل کی زندگی کے بارے میں تجسس رکھتے ہیں۔
جیل حکام کے مطابق 24 گھنٹے جیل میں گزارنے کے خواہش مند افراد کو 2000 بھارتی روپے جبکہ 12 گھنٹے کے لیے ایک ہزار روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔ اس دوران شرکاء کو قیدیوں جیسی روزمرہ زندگی کا تجربہ فراہم کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد خصوصاً نوجوانوں میں قانون، نظم و ضبط اور جیل کے نظام سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے تاکہ وہ عملی طور پر اس ماحول کو سمجھ سکیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حیدرآباد میں واقع چنچل گوڑا سینٹرل جیل کی انتظامیہ نے ایسے افراد کے لیے یہ دلچسپ اقدام کیا ہے جو کبھی جیل نہیں گئے لیکن جیل کی زندگی کے بارے میں تجسس رکھتے ہیں۔
جیل حکام کے مطابق 24 گھنٹے جیل میں گزارنے کے خواہش مند افراد کو 2000 بھارتی روپے جبکہ 12 گھنٹے کے لیے ایک ہزار روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔ اس دوران شرکاء کو قیدیوں جیسی روزمرہ زندگی کا تجربہ فراہم کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد خصوصاً نوجوانوں میں قانون، نظم و ضبط اور جیل کے نظام سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے تاکہ وہ عملی طور پر اس ماحول کو سمجھ سکیں۔