امریکہ کا ایران میں ناکامی کی وجہ سے غصہ بڑھتا چلا جاریا ہے، اور انہیں اس قربانی کے بکرے کی تلاش ہے، جس پر الزام دھرا جاسکے۔ منیرے مستری کی ڈبل گیم کو امریکہ کی سرکار نے ایکسپوز کرنا شروع کردیا ہے:
youtu.be/5nlnhRpYDiM
youtu.be/5nlnhRpYDiM
YouTube
Favourite Field Martial BUSTED | CBS EXPOSES Pakistan Army's SECRET Iran Double Game!
CBS News has published a major report alleging that Pakistan quietly allowed Iranian aircraft — including military surveillance aircraft — to park at Pakistani airbases during the Iran-US conflict.
If true, the implications are massive.
Was Pakistan secretly…
If true, the implications are massive.
Was Pakistan secretly…
ہر پاکستانی صرف بجلی، پیٹرول اور بالواسطہ ٹیکسوں میں کتنا حصہ دیتا ہے؟
پاکستان میں ریاست کی آمدن کا بڑا حصہ براہِ راست آمدنی ٹیکس سے نہیں بلکہ بالواسطہ ٹیکسوں سے آتا ہے۔ یعنی وہ ٹیکس جو عوام بجلی کے بل، پیٹرول، ڈیزل، موبائل، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کے ذریعے ادا کرتے ہیں۔
مالی سال 25-2024 میں ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی تقریباً 93 کھرب روپے رہی جبکہ مالی سال 26-2025 کا ہدف تقریباً 140 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ (PIDE)
ایف بی آر کی اپنی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اب بھی تقریباً نصف ٹیکس وصولی بالواسطہ ٹیکسوں سے ہوتی ہے۔ مالی سال 25-2024 میں:
براہِ راست ٹیکس:
تقریباً 49 فیصد
بالواسطہ ٹیکس:
تقریباً 51 فیصد (FBR)
صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت مالی سال 26-2025 میں تقریباً 14 سے 15 کھرب روپے وصول کر رہی ہے جبکہ بجلی کے بلوں میں جنرل سیلز ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس، بجلی ڈیوٹی، سرچارجز اور دیگر مدات کو ملا کر عوام سے سالانہ تقریباً 20 سے 30 کھرب روپے تک کا بوجھ وصول کیا جا رہا ہے۔
یعنی صرف بجلی اور پیٹرولیم کے ذریعے عوام سے تقریباً 35 سے 47 کھرب روپے سالانہ نکالے جا رہے ہیں۔
اگر پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ مانی جائے تو صرف ان دو مدات میں ہر پاکستانی اوسطاً سالانہ 15 ہزار سے 20 ہزار روپے ادا کر رہا ہے جبکہ ایک پانچ افراد کے خاندان پر یہ بوجھ تقریباً ایک لاکھ روپے سالانہ بنتا ہے۔
اور یہ صرف بجلی اور ایندھن کا حساب ہے۔
اس میں گیس، موبائل، اشیائے خورونوش، بینکنگ، کسٹم ڈیوٹیز اور دیگر بالواسطہ ٹیکس شامل نہیں ۔
وہ فآضل دوست اس پوسٹ کو ضرور پڑھیں جن کا خیال ہے پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے ۔
خرم مشتاق
پاکستان میں ریاست کی آمدن کا بڑا حصہ براہِ راست آمدنی ٹیکس سے نہیں بلکہ بالواسطہ ٹیکسوں سے آتا ہے۔ یعنی وہ ٹیکس جو عوام بجلی کے بل، پیٹرول، ڈیزل، موبائل، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کے ذریعے ادا کرتے ہیں۔
مالی سال 25-2024 میں ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی تقریباً 93 کھرب روپے رہی جبکہ مالی سال 26-2025 کا ہدف تقریباً 140 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ (PIDE)
ایف بی آر کی اپنی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اب بھی تقریباً نصف ٹیکس وصولی بالواسطہ ٹیکسوں سے ہوتی ہے۔ مالی سال 25-2024 میں:
براہِ راست ٹیکس:
تقریباً 49 فیصد
بالواسطہ ٹیکس:
تقریباً 51 فیصد (FBR)
صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت مالی سال 26-2025 میں تقریباً 14 سے 15 کھرب روپے وصول کر رہی ہے جبکہ بجلی کے بلوں میں جنرل سیلز ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس، بجلی ڈیوٹی، سرچارجز اور دیگر مدات کو ملا کر عوام سے سالانہ تقریباً 20 سے 30 کھرب روپے تک کا بوجھ وصول کیا جا رہا ہے۔
یعنی صرف بجلی اور پیٹرولیم کے ذریعے عوام سے تقریباً 35 سے 47 کھرب روپے سالانہ نکالے جا رہے ہیں۔
اگر پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ مانی جائے تو صرف ان دو مدات میں ہر پاکستانی اوسطاً سالانہ 15 ہزار سے 20 ہزار روپے ادا کر رہا ہے جبکہ ایک پانچ افراد کے خاندان پر یہ بوجھ تقریباً ایک لاکھ روپے سالانہ بنتا ہے۔
اور یہ صرف بجلی اور ایندھن کا حساب ہے۔
اس میں گیس، موبائل، اشیائے خورونوش، بینکنگ، کسٹم ڈیوٹیز اور دیگر بالواسطہ ٹیکس شامل نہیں ۔
وہ فآضل دوست اس پوسٹ کو ضرور پڑھیں جن کا خیال ہے پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے ۔
خرم مشتاق
اللہ کی شان دیکھیے کہ ہم بیرونِ ملک سے قرضے لیتے ہیں اور پھر انہی پیسوں سے اپنے بیوروکریٹس، ججوں اور سرکاری افسران کے لیے 7 سے 8 ارب ڈالر مالیت کی گاڑیاں خریدتے ہیں۔ شاہراہِ دستور پر نظر آنے والی سرکاری گاڑیوں کے اخراجات اسی نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا Pakistan Bureau of Statistics کے ریکارڈ میں موجود ہے۔
وجاہت سمیع
وجاہت سمیع
ایک عسکری گروپ نے بھتہ نہ ملنے کی وجہ سے اسمگل شدہ شراب اور گٹکا سے بھرے گیارہ ٹرک پکڑوائے، دوسرے عسکری گروپ نے پہلے والے کی "کوکین کوئین" پکڑوا دی
دونوں گروپس کا تعلق افواج پاکستان سے ھے
(اندرونی ذرائع)
دونوں گروپس کا تعلق افواج پاکستان سے ھے
(اندرونی ذرائع)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آرمی چیف عاصم منیر اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز دونوں نے اپنے لیے الگ الگ لگژری جہاز خریدلیے ۔ لیکن فوجی جوانوں کی لاشوں کو ٹرانسپورٹ کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال نہیں کیے جاسکتے گدھوں پر لاشیں ٹرانسپورٹ کی جارہی ہیں۔ فوجی قیادت کے نزدیک انکے لیے جانیں دینے والے سپاہیوں کی یہی اوقات ہے ؟
#PakistanTimesInt
#PTI
#ImranKhanPTI
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
#PakistanTimesInt
#PTI
#ImranKhanPTI
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
تین ممبر پارلیمان کے بچوں نے بیرون ملک پناہ کی درخواست کی ہے
ایک پارلیمان کے اعلی افسرکے پورے خاندان نے سوئٹزرلینڈ میں پناہ کی درخواست دی ہے
دوسابق وزراعظم، تین سابق وزرا اعلی، دو سابق اسپیکرز، پانچ سابق اور ایک موجودہ وفاقی وزیر کے بچوں نے باہر کاروبار شروع کردیا ہے
32 سرکاری افسران کی بیویوں اور بچوں نے پچھلے دو سال میں کینڈا اور امریکہ کے گرین گارڈ لے لیے
620 سرکاری ملازمین نے دوسرے ممالک کی شہریت حاصل کرلی ہے
لمبی لسٹ ہے
زاہد گشکوری
ایک پارلیمان کے اعلی افسرکے پورے خاندان نے سوئٹزرلینڈ میں پناہ کی درخواست دی ہے
دوسابق وزراعظم، تین سابق وزرا اعلی، دو سابق اسپیکرز، پانچ سابق اور ایک موجودہ وفاقی وزیر کے بچوں نے باہر کاروبار شروع کردیا ہے
32 سرکاری افسران کی بیویوں اور بچوں نے پچھلے دو سال میں کینڈا اور امریکہ کے گرین گارڈ لے لیے
620 سرکاری ملازمین نے دوسرے ممالک کی شہریت حاصل کرلی ہے
لمبی لسٹ ہے
زاہد گشکوری
اگر عاصم منیر واقعی کسی لائق ہوتا تو پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام لے آتا۔۔۔ مگر باجوے کی طرح یہ بھی استاد کے بغیر چلنے سے قاصر ہے۔ منیرے مستری کا گاڈ فادر کون ہے، اور اس کا پلان کیا ہے؟
عادل راجہ
چیک کریں ⬇️
youtu.be/gOTJoy3Kk54
عادل راجہ
چیک کریں ⬇️
youtu.be/gOTJoy3Kk54
YouTube
Ustaad Ji Ka Kamaal | Asal Wala Ghari Choor | The Man with The Plan | Would Pak Survive?
🎥 Welcome to Adil Raja Official | Soldier Speaks
👉 Raw. Unfiltered. Fearless.
This channel delivers hard-hitting political and geopolitical analysis on Pakistan, South Asia, and global power dynamics — based on insight, experience, and deep research.
From…
👉 Raw. Unfiltered. Fearless.
This channel delivers hard-hitting political and geopolitical analysis on Pakistan, South Asia, and global power dynamics — based on insight, experience, and deep research.
From…
پاکستان میں بدقسمتی سے بیشتر پریس کلبز اور صحافتی یونینز شدید تقسیم کا شکار ہیں۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کے بجائے بعض حلقے ذاتی مفادات اور گروہ بندیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔کئی علاقوں میں یہ ادارے مفاداتی گروہوں کے زیر اثر نظر آتے ہیں،کئی جگہوں پر قبضہ مافیا بن کر اور الہ کار بن کر ذاتی مفادات کی حصول میں مصروف ہے۔
جب تک پریس کلبز اور یونینز سے یہ مفاداتی قبضہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک صحافیوں میں اتحاد، اتفاق اور حقوق کی حقیقی جدوجہد ممکن نہیں ہو سکتی۔پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران 125 صحافی تشدد کا نشانہ بنے، اظہار کی آزادی کا حق کچلا گیا،انہیں روزگار سے فارغ کیا گیا اور قتل تک کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
آج میڈیا انڈسٹری میں صحافیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ صحافت کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
صحافیوں کو بغیر نوٹس، بغیر انکوائری اور بغیر کسی واضح وجہ کے ٹی وی،اخبارات سے نکالا جا رہا ہے۔ اکثر مالکان دباؤ ڈال کر صحافیوں سے زبردستی استعفیٰ لیتے ہیں،جو خوف اور مجبوری کے ماحول میں دیاجاتا ہے۔ اور اگر کوئی استعفیٰ دینے سے انکار کرے تو اسے واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ "ہم آپ کو نکال دیں گے"۔جب کسی صحافی کے ریکارڈ میں "نوکری سے برطرف"درج ہو جائے تو اس کے لیے دوسرے اداروں میں ملازمت حاصل کرنا بھی مشکل بنا دیاجاتا ہے۔بیشتر میڈیا ادارے بروقت تنخواہیں ادا نہیں کرتے۔متعدد صحافیوں کو کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بھی کم تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔
جان ہتھیلی پر رکھ کر صحافت کرنے والے ان مظلوموں کے بنیادی حقوق تک تسلیم نہیں کیے جا رہے،اس صورتحال میں سنجیدہ اور سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔
'اگر کوئی ادارہ کسی صحافی کو بغیر کسی جرم،غلطی یا قانونی جواز کے اچانک فارغ کرتا ہے تو اس ادارے کے سرکاری اشتہارات فوری طور پر بند کیےجائیں،ساتھ ہی ایسے اداروں پر جرمانہ عائد کیاجائے اور یہ رقم براہ راست متاثرہ صحافی کو دی جائے'۔
صحافت اگر کمزور ہوگی تو سچ کی آواز بھی کمزور ہو جائےگی۔
رسول داوڑ
جب تک پریس کلبز اور یونینز سے یہ مفاداتی قبضہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک صحافیوں میں اتحاد، اتفاق اور حقوق کی حقیقی جدوجہد ممکن نہیں ہو سکتی۔پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران 125 صحافی تشدد کا نشانہ بنے، اظہار کی آزادی کا حق کچلا گیا،انہیں روزگار سے فارغ کیا گیا اور قتل تک کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
آج میڈیا انڈسٹری میں صحافیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ صحافت کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
صحافیوں کو بغیر نوٹس، بغیر انکوائری اور بغیر کسی واضح وجہ کے ٹی وی،اخبارات سے نکالا جا رہا ہے۔ اکثر مالکان دباؤ ڈال کر صحافیوں سے زبردستی استعفیٰ لیتے ہیں،جو خوف اور مجبوری کے ماحول میں دیاجاتا ہے۔ اور اگر کوئی استعفیٰ دینے سے انکار کرے تو اسے واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ "ہم آپ کو نکال دیں گے"۔جب کسی صحافی کے ریکارڈ میں "نوکری سے برطرف"درج ہو جائے تو اس کے لیے دوسرے اداروں میں ملازمت حاصل کرنا بھی مشکل بنا دیاجاتا ہے۔بیشتر میڈیا ادارے بروقت تنخواہیں ادا نہیں کرتے۔متعدد صحافیوں کو کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بھی کم تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔
جان ہتھیلی پر رکھ کر صحافت کرنے والے ان مظلوموں کے بنیادی حقوق تک تسلیم نہیں کیے جا رہے،اس صورتحال میں سنجیدہ اور سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔
'اگر کوئی ادارہ کسی صحافی کو بغیر کسی جرم،غلطی یا قانونی جواز کے اچانک فارغ کرتا ہے تو اس ادارے کے سرکاری اشتہارات فوری طور پر بند کیےجائیں،ساتھ ہی ایسے اداروں پر جرمانہ عائد کیاجائے اور یہ رقم براہ راست متاثرہ صحافی کو دی جائے'۔
صحافت اگر کمزور ہوگی تو سچ کی آواز بھی کمزور ہو جائےگی۔
رسول داوڑ
👍1
پاکستانی قانون۔
ایک ڈرگ ڈیلر بغیر ہتھکڑی دو پولیس والوں کے ساتھ جو خاتون ڈیلر کے پیچھے پیچھے رستہ دکھاتے جی میڈیم جی میڈیم کہتے عدالت کے احاطے میں گھوم رہے ہیں۔
وہی پاکستان کا قانون
ایک بوڑھے اُستاد کو گاڑی سے گھسیٹ کر نکال کر گالیاں دیتے ہوۓ اگلے دن کورٹ میں ہتھکڑی لگاۓ اور ہتھکڑی سے زنجیر بندھی جیسے جانور کو کھیچ کر کہیں لایا جاتا ہے اسُی طرح لایا گیا۔
یہ کب صحیح ہوگا نظام۔ کب۔ کب۔ کب۔ آخر کب
ایک ڈرگ ڈیلر بغیر ہتھکڑی دو پولیس والوں کے ساتھ جو خاتون ڈیلر کے پیچھے پیچھے رستہ دکھاتے جی میڈیم جی میڈیم کہتے عدالت کے احاطے میں گھوم رہے ہیں۔
وہی پاکستان کا قانون
ایک بوڑھے اُستاد کو گاڑی سے گھسیٹ کر نکال کر گالیاں دیتے ہوۓ اگلے دن کورٹ میں ہتھکڑی لگاۓ اور ہتھکڑی سے زنجیر بندھی جیسے جانور کو کھیچ کر کہیں لایا جاتا ہے اسُی طرح لایا گیا۔
یہ کب صحیح ہوگا نظام۔ کب۔ کب۔ کب۔ آخر کب
دنیا کے مہنگے ترین بیگ اور جوتے استعمال کرنے والی پیپلز پارٹی کی ایک وزیر کے خاوند کی فیصل آباد میں واقع فیکٹری میں 20 کروڑ سے زائد کی گیس چوری کرنے کی 2016 میں درج ھو نے والی ایف آئی آر کا کیا بنا؟
مجھے تو مقدمہ درج ہونے کے چند دن بعد وزیراعظم کی ہدایت پر تبدیل کر دیا گیا تھا کیونکہ بجلی بنانے والی کمپنیاں مجھ سے ناراض ھو گئی تھیں
سجاد مصطفی
سابق ایف آئی اے افسر
مجھے تو مقدمہ درج ہونے کے چند دن بعد وزیراعظم کی ہدایت پر تبدیل کر دیا گیا تھا کیونکہ بجلی بنانے والی کمپنیاں مجھ سے ناراض ھو گئی تھیں
سجاد مصطفی
سابق ایف آئی اے افسر
خلافتِ عثمانیہ کے دور میں ترکی اور دیگر اسلامی شہروں کے بازاروں میں ایک خوبصورت روایت تھی کہ وہ صبح دکان کھولتے ہی ایک چھوٹی سی کرسی دکان کے باہر رکھتے تھے جوں ہی پہلا گاہک آتا دکاندار کرسی وہاں سے اٹھا کر واپس دکان میں رکھ لیتا تھا.
جب دوسرا گاہک آتا دکاندار اپنی دکان سے باہر نکل کر بازار پر اک نظر ڈالتا جس دکان کے باہر کرسی پڑی ہوتی وہ گاہک سے کہتا کہ تمہاری ضرورت کی چیز اس دکان سے ملے
گی میں صبح کا آغاز کرچکا ہوں.
کرسی کا دکان کے باہر رکھنا اس بات کی نشانی ہوتی تھی کہ ابھی تک اس دکاندار نے کاروبار کا آغاز نہیں کیا ہے.
اس عمل کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مارکیٹ میں موجود تمام تاجروں کا رزق لگ سکے جب پہلا دکاندار اپنی "بوھنی" (پہلی فروخت) کر لیتا، تو وہ چاہتا تھا کہ اس کا پڑوسی بھائی بھی دن کا آغاز کر سکے
عربی اور ترکی ثقافت میں اسے سفٹ ( sift) (پہلی بیع یا آغازِ تجارت) کہا جاتا تھا۔ لفظ "سفٹ" دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے مگر اس کی جڑیں عربی لفظ "استفتاح" سے ملتی ہیں، جس کا مطلب ہے "آغاز کرنا" یا "کھولنا"۔ ترکی زبان میں یہ مختصر ہو کر "سفٹ" (Sift) بن گیا
تاجروں کا ماننا تھا کہ اگر وہ اپنے بھائی کے رزق کا خیال رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے مال میں برکت عطا فرمائے گا۔
قدیم مسلم معاشرے میں تجارت صرف پیسہ کمانے کا نام نہیں تھا بلکہ یہ دیانت، امانت اور ہمدردی کا مجموعہ تھی۔ یہی وہ اخلاق تھا جس سے متاثر ہو کر غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا
شفقت چوہدری
جب دوسرا گاہک آتا دکاندار اپنی دکان سے باہر نکل کر بازار پر اک نظر ڈالتا جس دکان کے باہر کرسی پڑی ہوتی وہ گاہک سے کہتا کہ تمہاری ضرورت کی چیز اس دکان سے ملے
گی میں صبح کا آغاز کرچکا ہوں.
کرسی کا دکان کے باہر رکھنا اس بات کی نشانی ہوتی تھی کہ ابھی تک اس دکاندار نے کاروبار کا آغاز نہیں کیا ہے.
اس عمل کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مارکیٹ میں موجود تمام تاجروں کا رزق لگ سکے جب پہلا دکاندار اپنی "بوھنی" (پہلی فروخت) کر لیتا، تو وہ چاہتا تھا کہ اس کا پڑوسی بھائی بھی دن کا آغاز کر سکے
عربی اور ترکی ثقافت میں اسے سفٹ ( sift) (پہلی بیع یا آغازِ تجارت) کہا جاتا تھا۔ لفظ "سفٹ" دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے مگر اس کی جڑیں عربی لفظ "استفتاح" سے ملتی ہیں، جس کا مطلب ہے "آغاز کرنا" یا "کھولنا"۔ ترکی زبان میں یہ مختصر ہو کر "سفٹ" (Sift) بن گیا
تاجروں کا ماننا تھا کہ اگر وہ اپنے بھائی کے رزق کا خیال رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے مال میں برکت عطا فرمائے گا۔
قدیم مسلم معاشرے میں تجارت صرف پیسہ کمانے کا نام نہیں تھا بلکہ یہ دیانت، امانت اور ہمدردی کا مجموعہ تھی۔ یہی وہ اخلاق تھا جس سے متاثر ہو کر غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا
شفقت چوہدری