Pakistan Times International
344 subscribers
91 photos
17 videos
78 links
Download Telegram
‏آج یہ پاکستان میں عام مناظر ہیں جہاں فوج کو سرعام بازار میں گالیاں پڑ رہی ہیں حالانکہ ابھی کل ہی معرکہ حق کے نام پر پورا ڈرامہ چلایا گیا اور قوم کو فوج کی عظمت کا سبق پڑھایا گیا۔

پشتخرہ چوک میں امن کا جھنڈا ہاتھ میں لئے عوام نے فوجی کانوائے کو روک کر شدید نعرہ بازی کی اور وردی کو دہشتگردی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ان حالات کا کون زمہ دار ہے؟

عادل راجہ
‏لیوی سے12ماہ میں عوام کے1658ارب روپے کاصفایا

(تحریر:قسمت خان زمری) حکومت نے پارلیمنٹ کو تحریری طور پر بتایا ہے کہ گزشتہ 9ماہ کے دوران (جولائی2025ء سے مارچ2026ء) میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 1205.18ارب روپے کی وصولی کی جا چکی ہے۔ 9ماہ میں 1205.18ارب روپے کی وصولی کا مطلب ہے کہ ہر ماہ اوسطا ًعوام کی جیبوں سے 133.9ارب روپے نکلوائے گئے۔۔اِسی شرح (اوسطاً 133.9ارب روپے ماہانہ)کے حساب سے اگر12ماہ کی لیوی کا حساب نکالیں تو رواں مالی سال کے اختتام پر حکومت عوام کی جیبوں سے 1607ارب روپے صرف پیٹرولیم لیوی کے نام پر نکال چکی ہوگی۔ اس میں کلائیمیٹ سپورٹ لیوی نامی چھوٹی لیوی شامل نہیں۔ یاد رہے حکومت نے بجٹ میں عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مدد میں انکے خون پسینے کی کمائی اینٹھنے کا جو ہدف رکھا تھا، وہ 1468ارب روپے تھا۔۔یعنی عوام کی جیب سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں لگ بھگ ڈیڑھ سو ارب روپے ہدف سے بھی زائد بٹورنے کا پلان ہے۔۔۔حکومت کی جانب سے ہر ماہ کے حساب سے لیوی وصولی کے جو اعدادوشمار دیئے گئے ہیں،وہ کچھ یوں ہیں:۔

جولائی2025۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔145 ارب روپے
اگست2025ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔115 ارب روپے
ستمبر2025ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔111.45ارب روپے
اکتوبر2025۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔142 ارب روپے
نومبر2025ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔151.10 ارب روپے
دسمبر2025ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔157.64 ارب روپے
جنوری2026ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔124.70 ارب روپے
فروری2026ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔120.54 ارب روپے
مارچ2026ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔137 ارب روپے
کل وصولی(9ماہ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔1205.18 ارب
ہدف(12ماہ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1468 ارب روپے
موجودہ شرح سے متوقع وصولی۔۔۔۔1607 ارب روپے

متوقع پیٹرولیم لیوی 1607 ارب روپے میں ”کلائیمیٹ سپورٹ لیوی“ نامی چھوٹی لیوی کی متوقع 51 ارب روپے کی رقم ڈالیں تو پیٹرولیم مصنوعات پر ان 2لیویز(پیٹرولیم لیوی جمع کلائیمیٹ سپورٹ لیوی) کی مد میں 30جون2026ء تک عوام کی جیبوں سے کل1658ارب روپے نکالے جا چکے ہونگے۔1658 ارب روپے کی اس متوقع وصولی میں سے اب تک حکومت خود 1234.34 ارب روپے کی وصولی کا اعتراف کر چکی ہے
امریکہ کا ایران میں ناکامی کی وجہ سے غصہ بڑھتا چلا جاریا ہے، اور انہیں اس قربانی کے بکرے کی تلاش ہے، جس پر الزام دھرا جاسکے۔ منیرے مستری کی ڈبل گیم کو امریکہ کی سرکار نے ایکسپوز کرنا شروع کردیا ہے:
youtu.be/5nlnhRpYDiM
‏ہر پاکستانی صرف بجلی، پیٹرول اور بالواسطہ ٹیکسوں میں کتنا حصہ دیتا ہے؟

پاکستان میں ریاست کی آمدن کا بڑا حصہ براہِ راست آمدنی ٹیکس سے نہیں بلکہ بالواسطہ ٹیکسوں سے آتا ہے۔ یعنی وہ ٹیکس جو عوام بجلی کے بل، پیٹرول، ڈیزل، موبائل، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کے ذریعے ادا کرتے ہیں۔

مالی سال 25-2024 میں ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی تقریباً 93 کھرب روپے رہی جبکہ مالی سال 26-2025 کا ہدف تقریباً 140 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ (PIDE)

ایف بی آر کی اپنی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اب بھی تقریباً نصف ٹیکس وصولی بالواسطہ ٹیکسوں سے ہوتی ہے۔ مالی سال 25-2024 میں:

براہِ راست ٹیکس:
تقریباً 49 فیصد

بالواسطہ ٹیکس:
تقریباً 51 فیصد (FBR)

صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت مالی سال 26-2025 میں تقریباً 14 سے 15 کھرب روپے وصول کر رہی ہے جبکہ بجلی کے بلوں میں جنرل سیلز ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس، بجلی ڈیوٹی، سرچارجز اور دیگر مدات کو ملا کر عوام سے سالانہ تقریباً 20 سے 30 کھرب روپے تک کا بوجھ وصول کیا جا رہا ہے۔

یعنی صرف بجلی اور پیٹرولیم کے ذریعے عوام سے تقریباً 35 سے 47 کھرب روپے سالانہ نکالے جا رہے ہیں۔

اگر پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ مانی جائے تو صرف ان دو مدات میں ہر پاکستانی اوسطاً سالانہ 15 ہزار سے 20 ہزار روپے ادا کر رہا ہے جبکہ ایک پانچ افراد کے خاندان پر یہ بوجھ تقریباً ایک لاکھ روپے سالانہ بنتا ہے۔

اور یہ صرف بجلی اور ایندھن کا حساب ہے۔

اس میں گیس، موبائل، اشیائے خورونوش، بینکنگ، کسٹم ڈیوٹیز اور دیگر بالواسطہ ٹیکس شامل نہیں ۔
وہ فآضل دوست اس پوسٹ کو ضرور پڑھیں جن کا خیال ہے پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے ۔

خرم مشتاق
اللہ کی شان دیکھیے کہ ہم بیرونِ ملک سے قرضے لیتے ہیں اور پھر انہی پیسوں سے اپنے بیوروکریٹس، ججوں اور سرکاری افسران کے لیے 7 سے 8 ارب ڈالر مالیت کی گاڑیاں خریدتے ہیں۔ شاہراہِ دستور پر نظر آنے والی سرکاری گاڑیوں کے اخراجات اسی نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا Pakistan Bureau of Statistics کے ریکارڈ میں موجود ہے۔

وجاہت سمیع
ایک عسکری گروپ نے بھتہ نہ ملنے کی وجہ سے اسمگل شدہ شراب اور گٹکا سے بھرے گیارہ ٹرک پکڑوائے، دوسرے عسکری گروپ نے پہلے والے کی "کوکین کوئین" پکڑوا دی
دونوں گروپس کا تعلق افواج پاکستان سے ھے
(اندرونی ذرائع)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آرمی چیف عاصم منیر اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز دونوں نے اپنے لیے الگ الگ لگژری جہاز خریدلیے ۔ لیکن فوجی جوانوں کی لاشوں کو ٹرانسپورٹ کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال نہیں کیے جاسکتے گدھوں پر لاشیں ٹرانسپورٹ کی جارہی ہیں۔ فوجی قیادت کے نزدیک انکے لیے جانیں دینے والے سپاہیوں کی یہی اوقات ہے ؟

#PakistanTimesInt
#PTI
#ImranKhanPTI

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
تین ممبر پارلیمان کے بچوں نے بیرون ملک پناہ کی درخواست کی ہے

ایک پارلیمان کے اعلی افسرکے پورے خاندان نے سوئٹزرلینڈ میں پناہ کی درخواست دی ہے

دوسابق وزراعظم، تین سابق وزرا اعلی، دو سابق اسپیکرز، پانچ سابق اور ایک موجودہ وفاقی وزیر کے بچوں نے باہر کاروبار شروع کردیا ہے

32 سرکاری افسران کی بیویوں اور بچوں نے پچھلے دو سال میں کینڈا اور امریکہ کے گرین گارڈ لے لیے

620 سرکاری ملازمین نے دوسرے ممالک کی شہریت حاصل کرلی ہے

لمبی لسٹ ہے
زاہد گشکوری
اگر عاصم منیر واقعی کسی لائق ہوتا تو پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام لے آتا۔۔۔ مگر باجوے کی طرح یہ بھی استاد کے بغیر چلنے سے قاصر ہے۔ منیرے مستری کا گاڈ فادر کون ہے، اور اس کا پلان کیا ہے؟
عادل راجہ

چیک کریں ⬇️
youtu.be/gOTJoy3Kk54
‏پاکستان میں بدقسمتی سے بیشتر پریس کلبز اور صحافتی یونینز شدید تقسیم کا شکار ہیں۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کے بجائے بعض حلقے ذاتی مفادات اور گروہ بندیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔کئی علاقوں میں یہ ادارے مفاداتی گروہوں کے زیر اثر نظر آتے ہیں،کئی جگہوں پر قبضہ مافیا بن کر اور الہ کار بن کر ذاتی مفادات کی حصول میں مصروف ہے۔
جب تک پریس کلبز اور یونینز سے یہ مفاداتی قبضہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک صحافیوں میں اتحاد، اتفاق اور حقوق کی حقیقی جدوجہد ممکن نہیں ہو سکتی۔پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران 125 صحافی تشدد کا نشانہ بنے، اظہار کی آزادی کا حق کچلا گیا،انہیں روزگار سے فارغ کیا گیا اور قتل تک کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
آج میڈیا انڈسٹری میں صحافیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ صحافت کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
صحافیوں کو بغیر نوٹس، بغیر انکوائری اور بغیر کسی واضح وجہ کے ٹی وی،اخبارات سے نکالا جا رہا ہے۔ اکثر مالکان دباؤ ڈال کر صحافیوں سے زبردستی استعفیٰ لیتے ہیں،جو خوف اور مجبوری کے ماحول میں دیاجاتا ہے۔ اور اگر کوئی استعفیٰ دینے سے انکار کرے تو اسے واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ "ہم آپ کو نکال دیں گے"۔جب کسی صحافی کے ریکارڈ میں "نوکری سے برطرف"درج ہو جائے تو اس کے لیے دوسرے اداروں میں ملازمت حاصل کرنا بھی مشکل بنا دیاجاتا ہے۔بیشتر میڈیا ادارے بروقت تنخواہیں ادا نہیں کرتے۔متعدد صحافیوں کو کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بھی کم تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔
جان ہتھیلی پر رکھ کر صحافت کرنے والے ان مظلوموں کے بنیادی حقوق تک تسلیم نہیں کیے جا رہے،اس صورتحال میں سنجیدہ اور سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔
'اگر کوئی ادارہ کسی صحافی کو بغیر کسی جرم،غلطی یا قانونی جواز کے اچانک فارغ کرتا ہے تو اس ادارے کے سرکاری اشتہارات فوری طور پر بند کیےجائیں،ساتھ ہی ایسے اداروں پر جرمانہ عائد کیاجائے اور یہ رقم براہ راست متاثرہ صحافی کو دی جائے'۔
صحافت اگر کمزور ہوگی تو سچ کی آواز بھی کمزور ہو جائےگی۔
‎رسول داوڑ
👍1
پاکستانی قانون۔

ایک ڈرگ ڈیلر بغیر ہتھکڑی دو پولیس والوں کے ساتھ جو خاتون ڈیلر کے پیچھے پیچھے رستہ دکھاتے جی میڈیم جی میڈیم کہتے عدالت کے احاطے میں گھوم رہے ہیں۔

وہی پاکستان کا قانون

ایک بوڑھے اُستاد کو گاڑی سے گھسیٹ کر نکال کر گالیاں دیتے ہوۓ اگلے دن کورٹ میں ہتھکڑی لگاۓ اور ہتھکڑی سے زنجیر بندھی جیسے جانور کو کھیچ کر کہیں لایا جاتا ہے اسُی طرح لایا گیا۔

یہ کب صحیح ہوگا نظام۔ کب۔ کب۔ کب۔ آخر کب
‏دنیا کے مہنگے ترین بیگ اور جوتے استعمال کرنے والی پیپلز پارٹی کی ایک وزیر کے خاوند کی فیصل آباد میں واقع فیکٹری میں 20 کروڑ سے زائد کی گیس چوری کرنے کی 2016 میں درج ھو نے والی ایف آئی آر کا کیا بنا؟
مجھے تو مقدمہ درج ہونے کے چند دن بعد وزیراعظم کی ہدایت پر تبدیل کر دیا گیا تھا کیونکہ بجلی بنانے والی کمپنیاں مجھ سے ناراض ھو گئی تھیں

سجاد مصطفی
سابق ایف آئی اے افسر
‏خلافتِ عثمانیہ کے دور میں ترکی اور دیگر اسلامی شہروں کے بازاروں میں ایک خوبصورت روایت تھی کہ وہ صبح دکان کھولتے ہی ایک چھوٹی سی کرسی دکان کے باہر رکھتے تھے جوں ہی پہلا گاہک آتا دکاندار کرسی وہاں سے اٹھا کر واپس دکان میں رکھ لیتا تھا.
جب دوسرا گاہک آتا دکاندار اپنی دکان سے باہر نکل کر بازار پر اک نظر ڈالتا جس دکان کے باہر کرسی پڑی ہوتی وہ گاہک سے کہتا کہ تمہاری ضرورت کی چیز اس دکان سے ملے
گی میں صبح کا آغاز کرچکا ہوں.
کرسی کا دکان کے باہر رکھنا اس بات کی نشانی ہوتی تھی کہ ابھی تک اس دکاندار نے کاروبار کا آغاز نہیں کیا ہے.
اس عمل کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مارکیٹ میں موجود تمام تاجروں کا رزق لگ سکے جب پہلا دکاندار اپنی "بوھنی" (پہلی فروخت) کر لیتا، تو وہ چاہتا تھا کہ اس کا پڑوسی بھائی بھی دن کا آغاز کر سکے
عربی اور ترکی ثقافت میں اسے سفٹ ( sift) (پہلی بیع یا آغازِ تجارت) کہا جاتا تھا۔ لفظ "سفٹ" دراصل ترکی زبان کا لفظ ہے مگر اس کی جڑیں عربی لفظ "استفتاح" سے ملتی ہیں، جس کا مطلب ہے "آغاز کرنا" یا "کھولنا"۔ ترکی زبان میں یہ مختصر ہو کر "سفٹ" (Sift) بن گیا
تاجروں کا ماننا تھا کہ اگر وہ اپنے بھائی کے رزق کا خیال رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے مال میں برکت عطا فرمائے گا۔
قدیم مسلم معاشرے میں تجارت صرف پیسہ کمانے کا نام نہیں تھا بلکہ یہ دیانت، امانت اور ہمدردی کا مجموعہ تھی۔ یہی وہ اخلاق تھا جس سے متاثر ہو کر غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا

شفقت چوہدری
‏“پنجاب حکومت نے مریم نواز کی تشہیر کے لیے پہلے سال 7 ارب اور اب دوسرے سال ابھی تک 6 ارب 40 کروڑ روپیہ ٹک ٹاک پر لگایاہے، یعنی ابھی تک 14 ارب روپیہ صرف تشہیر پر خرچ ہو چکا ہے، اب 2027 کے لیے مریم کی تشہیر کے لیے مزید 12 ارب روپیہ مانگا گیا ہے ”

صحافی انور سمرا کا انکشاف
پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ معمولی nature کے جرائم کو Police Clearance Certificate میں اس انداز سے ظاہر نہیں کیا جا سکتا جس سے کسی شخص کی job، visa، بیرونِ ملک سفر یا مستقبل متاثر ہو۔ عدالت کے مطابق ہر سزا بددیانتی کے زمرے میں نہیں آتی، لہٰذا معمولی مقدمات کو سنگین جرائم کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھولنے کے بیانات آ رہے ہیں لیکن کیا وہ سندھ طاس معاہدہ بحال کرینگے کیا وہ کشمیر پر بات چیت شروع کرینگے کیونکہ یہ دو اہم مسلئے ہیں ہم بھارت جا کر صرف ساڑھیوں کی خریداری تو نہیں کرنی
‏کل سے ایم این اے حاجی محمد اقبال آفریدی کے خلاف یہ بیانیہ میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے🤬
کہ اُن کے بیٹے کے پاس ڈپلومیٹک پاسپورٹ تھا اور انہوں نے اٹلی میں اسائلم کیلئے
اپلائی کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص، جس کے والد دو مرتبہ ممبر آف پارلیمنٹ رہ چکے ہوں، کو آخر کیوں اس بات پر مجبور ہونا پڑا کہ وہ اٹلی میں اپنا ڈپلومیٹک پاسپورٹ سرینڈر کرے اور اسائلم کیلئے درخواست دے؟ اور اقبال آفریدی جیسے والد اپنے بیٹے کو کیوں یہ کہیں گے کہ تم وہاں ڈپلومیٹک پاسپورٹ سرینڈر کرکے اسائلم کیلئے اپلائی کرو؟
ان باتوں کے پیچھے کون سے راز ہیں؟ آئیے آپ کو بتاتا ہوں۔
جب پاکستان تحریکِ انصاف پر ریاستی کریک ڈاؤن شروع ہوا تو ایم این اے حاجی محمد اقبال آفریدی کے گھر پر کئی چھاپے مارے گئے۔ ایک مرتبہ جب چھاپہ پڑا تو وہ خود گھر میں موجود نہیں تھے، جس پر پولیس اُن کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئی۔ اقبال آفریدی کے خلاف آج بھی درجنوں ایف آئی آرز درج ہیں۔ وہ جب بھی اسلام آباد جاتے ہیں تو پشاور ہائیکورٹ سے راہداری ضمانت لے کر جاتے ہیں۔
میں اسلام آباد میں سینیٹر ڈاکٹر علامہ محمد نور الحق قادری صاحب کے ساتھ الیکشن سے قبل ایک جگہ بیٹھا تھا اور ان کے ساتھ الیکشن پر ڈسکشن ہورہی تھی اور پارٹی ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن ڈسکس کرنے لگے تو علامہ صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا جامعۃ الازہر کا طالبِ علم ہے۔ گرمیوں میں ان کی چھٹی ہوئی تھی پاکستان آئے تھے جب واپس جارہے تھے تو ائیرپورٹ سے انٹیلیجنس اداروں نے اُن کے بیٹے کو اٹھا لیا اور تقریباً ایک ماہ تک وہ لاپتہ رہے۔ بڑی مشکل اور کوششوں کے بعد سینیٹر صاحب اپنے بیٹے کو بازیاب کروانے میں کامیاب ہوئے۔ بازیابی کے بعد وہ شدید خوفزدہ تھے، بات تک نہیں کرتے تھے، اور اپنے والدین سے صرف ایک ہی بات کہتے تھے کہ:
“یہ کیسا ملک ہے؟ میں نے کیا گناہ کیا تھا؟ ہم سب لوگ بیرونِ ملک جا ئیں گے۔ یہاں تو کوئی بھی محفوظ نہیں۔ میں اکیلا مدرسے نہیں جاؤں گا، کیونکہ اگر میں وہاں گیا اور پیچھے آپ کے ساتھ کچھ ہوگیا تو میں کیا کروں گا؟”
سینیٹر ڈاکٹر علامہ محمد نور الحق قادری صاحب نے بڑی مشکل سے اپنے بیٹے کو دوبارہ راضی کیا، تب جا کر وہ واپس مدرسے گئے۔
ہمارے 10 سٹنگ ایم این ایز اور دو تین سٹنگ سینیٹرز کو 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ پچاس ہزار سے زائد ورکرز گرفتار کیے گئے۔ کچھ کی ضمانتیں ہو چکی ہیں جبکہ بہت سے اب بھی جیلوں میں ہیں۔ سینکڑوں ورکرز کو ملٹری کورٹس سے کئی کئی سال کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
اب مجھے بتائیں، جہاں ایم این ایز محفوظ نہ ہوں، سابق وزراء محفوظ نہ ہوں، اُن کے بچے محفوظ نہ ہوں، سینیٹرز محفوظ نہ ہوں اور ورکرز محفوظ نہ ہوں، وہاں اگر کل اقبال آفریدی کو 10 سال کیلئے جیل ہو جائے تو اُن کے خاندان اور باقی بچوں کا کیا ہوگا؟ کیا وہ اپنے ایک یا دو ذمہ دار بیٹوں کو اس بات پر مجبور نہیں کریں گے کہ وہ بیرونِ ملک جا کر اسائلم لیں تاکہ باقی خاندان کو سپورٹ کر سکیں؟
اور جو لوگ یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کو بیرونِ ملک اسائلم لینے کیلئے بھیج دیا جبکہ دوسروں کے بیٹوں پر سیاست کرتے ہیں، تو میں اس بات کا گواہ ہوں کہ اقبال آفریدی کے دو بیٹے ہر سخت اور مشکل وقت میں پارٹی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے ہیں۔
کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ تنقید ہر کسی کا حق ہے، لیکن تنقید سے پہلے کچھ تلخ حقائق کا ادراک بھی ہونا چاہیے۔

محمد شہزاد خان
‏جس رفتار سے ہم "معاشی طاقت" بن رہے ہیں، ڈر ہے کہ کہیں آئی ایم ایف ہمیں "گود" ہی نہ لے لے۔

پاکستان پر 97 ہزار ارب کا قرضہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ہم معاشی طور پر اتنے "طاقتور" ہو چکے ہیں کہ اب پوری دنیا مل کر بھی ہمارا قرضہ نہیں اتار سکتی۔

اسد منصور
‌‎#بریکنگ#نیوز

خطرناک اغواہ کاروں کی جانب سے مردہ قرار دے کر 50 لاکھ تاوان کی رقم وصول کرنے بعد بطور میت فیملی کے حوالے ہونے والا پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کا مالک بول پڑا

مجھے میرے ہی سٹاف/قابل اعتماد کاروباری لوگوں نے جرائم پیشہ لوگوں ساتھ ساز باز کر کے اغواہ کروایا

اغواہ کاروں کا مرکزی کارندہ مولوی عبدالقادر ولد خدا بخش دلاور کالونی بہاؤلپور ہے: بزنس مین جام محمد اسلم

مولوی عبدالقادر مجھے سرگودھا گاڑی Fortuner کی فائل لینے ساتھ لے گیا جہاں سے چائے میں نشہ آور دوا ملاکر مجھے بے ہوش کیا گیا اور ڈیرہ غازی خان اغواہ کاروں کے بڑے اڈے پر لے جایا گیا: جام محمد اسلم

اغواہ کاروں نے تین سیکشنز بنا رکھے تھے جہاں ایک میں ان افراد کو بھی رکھا گیا تھا جنکو غلط فہمی کی بنیاد پر اغواء کیا جاتا تھا اور بعد ازاں انہیں رہا کرنے بجائے قتل کر کے لاش دبا دی جاتی تھی

اغواہ کاروں نے تین افراد کو میرے سامنے قتل کیا: جام محمد اسلم

جس دن میں سرگودھا گاڑی کی فائل لینے جارہا رھا اس دن میری بیوی نے میرے ساتھ گاڑی میں مولوی عبدالقادر کو بیٹھا دیکھا اور میں نے بتایا کہ مولوی صاحب مجھے ساتھ لے جارہے: بزنس مین جام محمد اسلم

انہوں نے بتایا کہ جب انہیں اغواہ کیا گیا تو اغواہ کار انکی بات فون پر بچوں بیوی سے کرواتے اور گن پوائنٹ پر کہلواتے کہ میں فلاں جگہ میٹنگ پر ہوں

میں بیماری باعث بے ہوش ہوگیا تو اغواہ کار میرے موبائل فون سے میں بن کر بیوی سے text message پر بات کرتے

بیوی کو شک پڑا تو اس نے اپنے والد سے بات کی اور انہیں مولوی قادر بارے بتایا جس پر میرے سسر بیوی اور بچے مولوی قادر گھر گئے اور گلی میں شور مچایا تو مولوی قادر نے سر عام کہا پچاس لاکھ دو اغواہ کاروں کو تو بندہ مل جائے گا

میری بیوی نے پچاس لاکھ دیا اور یوں مجھے اغواہ کاروں نے مردہ سمجھ کر میری فیملی کے حوالے کر دیا: جام محمد اسلم

میں نے انصاف لیے سرگودھا پولیس، ملتان پولیس کو درخواست دی مگر کوئی انصاف نہ ملا کہ جرائم پیشہ لوگ بہت طاقتور ہیں؛ جام محمد اسلم

میری جان کو خطرہ ہے مجھے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، انچارج سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ اور انچارج سی سی ڈی راولپنڈی انصاف دیں: سی ای او پرائم سٹی جام محمد اسلم

https://x.com/i/status/2055142971582857579