اسلام آباد ۔ G7/2 احمد مارکیٹ میں میرا ڈرائ کلینر رات آٹھ بجے دکان بند کر رہا تھا کہ اچانک انتظامیہ نے 8 بجکر ایک منٹ پر دکان سیل کر دی
اب دکان ڈی سیل کرنے کے لیئے سرکاری جرمانہ کے علاوہ بھاری رشوت کا مطالبہ جاری ہے جو کہ غریب آدمی بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتا
ڈی سی اسلام آباد سے موئدبانہ درخواست ہےکہ دکان ڈی سیل کرنے کے احکامات صادر فرمائیں تاکہ بیچارا اپنے بچوں کا رزق کما سکے اور سب سے اہم یہ کہ اپنے گاہکوں کے کپڑے انکے حوالہ کر سکے
شکریہ!
صرف اسی مارکیٹ میں متعدد و مسلسل غیر قانونی افعال پر سالہا سال میں ایکشن/جرمانے نہ کر سکنے والی ضلعی انتظامیہ کی اس مخصوص معاملہ میں غریب دکاندار کے لیئے مخصوص مستعدی قابل تعریف ہے۔
جبکہ اسی معاملہ میں ایک منٹ کی دیری پر مستعد کاروائی کی وجہ بسمجھ راقم وجہ عناد یہ ہے کہ بیچارے کی چند دن پہلے ضلعی انتظامیہ کے بڑے افسر بمعنی درجہ چہارم کے سرکاری ملازم کیساتھ کپڑوں کے ڈرائ کلیننگ بل پر تو تکار ہوئ تھی اور وہ عالمگیر افسر صاحب ارشاد فرما کر گئے تھے کہ جس دن تم نے دکان آٹھ بجے بند نہ کی اس دن تمہیں سبق سکھاؤں گا۔ بیچارا پہلے بھی اور اس دن کے بعد سے تو ویسے ہی انتہائ محتاط ہو گیا تھا اور سات بجے سے ساڑھے سات بجے کے درمیان دکان بند کر دیتا تھا لیکن شو مئ قسمت، کل رات بیچارے سے غلطی ہو گئ کہ آٹھ بجنے میں15 منٹ قبل ایک گاہک کا بل بنانے لگ گیا اور دکان بند کرتے کرتے سرکاری ڈیڈ لائن سے ایک منٹ زیادہ ہو گیا اور جناب سرکار کی عملداری کی پکڑ میں آگیا۔ اب بیچارہ کو اسکی سنگین غلطی کا احساس ہو چکا ہے اور جناب سے معافی کا خواستگار ہے۔ ایک منٹ کی غلطی کا جائز جرمانہ ادا کرنے کے لیئے تیار ہے۔ لیکن جناب کے عملہ کے سروس چارجز بمعنی رشوت کی طلب اتنی زیادہ ہے کہ بیچارہ برداشت نہیں کر سکتا ہے۔ شفقت فرمائیں۔ شکریہ!
مسعود چوہدری
https://x.com/i/status/2052669052372562328
اب دکان ڈی سیل کرنے کے لیئے سرکاری جرمانہ کے علاوہ بھاری رشوت کا مطالبہ جاری ہے جو کہ غریب آدمی بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتا
ڈی سی اسلام آباد سے موئدبانہ درخواست ہےکہ دکان ڈی سیل کرنے کے احکامات صادر فرمائیں تاکہ بیچارا اپنے بچوں کا رزق کما سکے اور سب سے اہم یہ کہ اپنے گاہکوں کے کپڑے انکے حوالہ کر سکے
شکریہ!
صرف اسی مارکیٹ میں متعدد و مسلسل غیر قانونی افعال پر سالہا سال میں ایکشن/جرمانے نہ کر سکنے والی ضلعی انتظامیہ کی اس مخصوص معاملہ میں غریب دکاندار کے لیئے مخصوص مستعدی قابل تعریف ہے۔
جبکہ اسی معاملہ میں ایک منٹ کی دیری پر مستعد کاروائی کی وجہ بسمجھ راقم وجہ عناد یہ ہے کہ بیچارے کی چند دن پہلے ضلعی انتظامیہ کے بڑے افسر بمعنی درجہ چہارم کے سرکاری ملازم کیساتھ کپڑوں کے ڈرائ کلیننگ بل پر تو تکار ہوئ تھی اور وہ عالمگیر افسر صاحب ارشاد فرما کر گئے تھے کہ جس دن تم نے دکان آٹھ بجے بند نہ کی اس دن تمہیں سبق سکھاؤں گا۔ بیچارا پہلے بھی اور اس دن کے بعد سے تو ویسے ہی انتہائ محتاط ہو گیا تھا اور سات بجے سے ساڑھے سات بجے کے درمیان دکان بند کر دیتا تھا لیکن شو مئ قسمت، کل رات بیچارے سے غلطی ہو گئ کہ آٹھ بجنے میں15 منٹ قبل ایک گاہک کا بل بنانے لگ گیا اور دکان بند کرتے کرتے سرکاری ڈیڈ لائن سے ایک منٹ زیادہ ہو گیا اور جناب سرکار کی عملداری کی پکڑ میں آگیا۔ اب بیچارہ کو اسکی سنگین غلطی کا احساس ہو چکا ہے اور جناب سے معافی کا خواستگار ہے۔ ایک منٹ کی غلطی کا جائز جرمانہ ادا کرنے کے لیئے تیار ہے۔ لیکن جناب کے عملہ کے سروس چارجز بمعنی رشوت کی طلب اتنی زیادہ ہے کہ بیچارہ برداشت نہیں کر سکتا ہے۔ شفقت فرمائیں۔ شکریہ!
مسعود چوہدری
https://x.com/i/status/2052669052372562328
X (formerly Twitter)
Masood Chaudhary (@Masoodch06) on X
اسلام آباد ۔ G7/2 احمد مارکیٹ میں میرا ڈرائ کلینر رات آٹھ بجے دکان بند کر رہا تھا کہ اچانک انتظامیہ نے 8 بجکر ایک منٹ پر دکان سیل کر دی
اب دکان ڈی سیل کرنے کے لیئے سرکاری جرمانہ کے علاوہ بھاری رشوت کا مطالبہ جاری ہے جو کہ غریب آدمی بالکل بھی برداشت نہیں…
اب دکان ڈی سیل کرنے کے لیئے سرکاری جرمانہ کے علاوہ بھاری رشوت کا مطالبہ جاری ہے جو کہ غریب آدمی بالکل بھی برداشت نہیں…
"بالآخر مائی جندو کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے"
5 جون 1992 کی رات: ڈاکووں کے خلاف آپریشن میں میجر ارشد جمیل اعوان کی سربراہی میں ایک فوجی دستے نے RAW سے رابطہ رکھنے والے( اس دور کے خوارج) نو ڈاکو مار کر بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمدگی کا دعویٰ کیا
وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل آصف نواز دونوں ٹنڈو بہاول گئے اور انعامی رقم کا اعلان بھی کیا
نیشنل میڈیا ( آج کی طرح) اس پر خوب پروگرام کرتا رہا مگر پھر مقامی صحافیوں نے اس کے اصل حقائق کا پردہ فاش کر دیا۔
دراصل میجر ارشد کے بعض قرابت داروں نے مائی جندو کے خاندان کی زمین پر قبضہ کرنے کیلئے میجر ارشد سے مدد مانگی۔
5 جون کی رات میجر ارشد نے اپنے 15 فوجیوں کے ساتھ مائی جندو کے گھر میں موجود نو افراد کو اغوا کر لیا۔ جن میں مائی جندو کے دو بیٹے بہادر اور منٹھار اور داماد حاجی اکرم بھی شامل تھے۔
میجر ارشد اور اُن کے دستہ نے دریائے سندھ کے کنارے ان تمام افراد کو قطار میں کھڑا کر کے گولیاں مار کر قتل کر کے ڈاکو قرار دے دیا۔
مقامی اخبارات سے یہ کہانی عالمی میڈیا تک گئی اور شور مچ گیا۔ (اس وقت پیکا آرڈیننس نہیں تھا ورنہ مقامی صحافی اندر ہوتے)
ٹنڈو بہاول کے مقتولین کی لاشیں جب گاؤں پہنچیں تو ہر شخص رو رہا تھا سوائے مرنے والوں کی ماں مائی جندو کے۔ جب رشتہ داروں نے اسے رلانے کی کوشش کی تو اس نے کہا مائی جندو اس وقت روئے گی جب اس کے بیٹوں کے قاتل کو سزائے موت ہوگی
میجر ارشد اور دستے کے ارکان کو گرفتار کر کے کورٹ مارشل کی کاروائی شروع ہوئی مائی جندو اور اُن کے خاندان کو ( آج کے تیراہ کی طرح) سمجھوتے کے بدلے بڑی زرعی زمین کی پیشکش ہوئی مگر وہ ڈٹ گئے۔ کورٹ مارشل میں میجر ارشد کو سزائے موت سنائی گئی مگر ( کلبھوشن یادو کی طرح) سزا پر عمل ہونے کا نام نہیں کے رہا تھا چار سال گزر گئے
ستمبر 1996 میں مائی جندو کی دو صاحبزادیوں حاکم زادی اور زیب النِسا نے اعلان کیا کہ اگر اُن کے بھائیوں اور شوہر کے قاتلوں کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ حیدرآباد میں عدالت کے سامنے خود سوزی کر لیں گی۔ عدالتیں آج جیسی ہی تھیں سزا پر عمل نہ ہوا تو مائی جندو کی بیٹیوں نے 11 ستمبر 1996 کو اپنی دھمکی پر عملدرآمد کر دیا شدید جھلس جانے کے باعث انہوں نے کراچی کے سول ہسپتال میں دم توڑ دیا۔
دو جانوں کی جھلسی لاشوں نے نظام کو مجبور کر دیا اور بالآخر 28 اکتوبر 1996 کو میجر ارشد کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی
جب مجرم کو پھانسی دی جارہی تھی تو مائی جندو کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ گرا اور پھر آنسوؤں کی بارش شروع ہوگئی
5 جون 1992 کی رات: ڈاکووں کے خلاف آپریشن میں میجر ارشد جمیل اعوان کی سربراہی میں ایک فوجی دستے نے RAW سے رابطہ رکھنے والے( اس دور کے خوارج) نو ڈاکو مار کر بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمدگی کا دعویٰ کیا
وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل آصف نواز دونوں ٹنڈو بہاول گئے اور انعامی رقم کا اعلان بھی کیا
نیشنل میڈیا ( آج کی طرح) اس پر خوب پروگرام کرتا رہا مگر پھر مقامی صحافیوں نے اس کے اصل حقائق کا پردہ فاش کر دیا۔
دراصل میجر ارشد کے بعض قرابت داروں نے مائی جندو کے خاندان کی زمین پر قبضہ کرنے کیلئے میجر ارشد سے مدد مانگی۔
5 جون کی رات میجر ارشد نے اپنے 15 فوجیوں کے ساتھ مائی جندو کے گھر میں موجود نو افراد کو اغوا کر لیا۔ جن میں مائی جندو کے دو بیٹے بہادر اور منٹھار اور داماد حاجی اکرم بھی شامل تھے۔
میجر ارشد اور اُن کے دستہ نے دریائے سندھ کے کنارے ان تمام افراد کو قطار میں کھڑا کر کے گولیاں مار کر قتل کر کے ڈاکو قرار دے دیا۔
مقامی اخبارات سے یہ کہانی عالمی میڈیا تک گئی اور شور مچ گیا۔ (اس وقت پیکا آرڈیننس نہیں تھا ورنہ مقامی صحافی اندر ہوتے)
ٹنڈو بہاول کے مقتولین کی لاشیں جب گاؤں پہنچیں تو ہر شخص رو رہا تھا سوائے مرنے والوں کی ماں مائی جندو کے۔ جب رشتہ داروں نے اسے رلانے کی کوشش کی تو اس نے کہا مائی جندو اس وقت روئے گی جب اس کے بیٹوں کے قاتل کو سزائے موت ہوگی
میجر ارشد اور دستے کے ارکان کو گرفتار کر کے کورٹ مارشل کی کاروائی شروع ہوئی مائی جندو اور اُن کے خاندان کو ( آج کے تیراہ کی طرح) سمجھوتے کے بدلے بڑی زرعی زمین کی پیشکش ہوئی مگر وہ ڈٹ گئے۔ کورٹ مارشل میں میجر ارشد کو سزائے موت سنائی گئی مگر ( کلبھوشن یادو کی طرح) سزا پر عمل ہونے کا نام نہیں کے رہا تھا چار سال گزر گئے
ستمبر 1996 میں مائی جندو کی دو صاحبزادیوں حاکم زادی اور زیب النِسا نے اعلان کیا کہ اگر اُن کے بھائیوں اور شوہر کے قاتلوں کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ حیدرآباد میں عدالت کے سامنے خود سوزی کر لیں گی۔ عدالتیں آج جیسی ہی تھیں سزا پر عمل نہ ہوا تو مائی جندو کی بیٹیوں نے 11 ستمبر 1996 کو اپنی دھمکی پر عملدرآمد کر دیا شدید جھلس جانے کے باعث انہوں نے کراچی کے سول ہسپتال میں دم توڑ دیا۔
دو جانوں کی جھلسی لاشوں نے نظام کو مجبور کر دیا اور بالآخر 28 اکتوبر 1996 کو میجر ارشد کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی
جب مجرم کو پھانسی دی جارہی تھی تو مائی جندو کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ گرا اور پھر آنسوؤں کی بارش شروع ہوگئی
🏆1
مجھے یہ جان کر نہایت خوشی ہوئی کہ بھارت کی فوج اب سیاست میں دخل اندازی کرنے لگی ہے۔ ان شاءاللہ اب ہمارے دیرینہ دشمن کو تباہی و بربادی سے مودی کا باپ بھی نہیں بچا سکتا۔ وہ دن دور نہیں جب بھارت کٹورا ہاتھ میں لیے دنیا بھر سے بھیک مانگتا پھر رہا ہوگا اور ملٹی نیشنل کمپنیاں بھارت چھوڑ کر بھاگ رہی ہوں گی
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
شہزاد حسین
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
شہزاد حسین
🤔2
9 مئی کے بعد بنائے گئے کیسز اور گرفتاریوں کے حوالے سے رپورٹ خود پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی
صرف پنجاب میں:
319 کیس بنائے گئے
11,367 گرفتاریاں ظاہر کی گئیں (اصل 20 ہزار سے ذائد)
35 ہزار ورکرز اور سپورٹرز کو جعلی کیسز میں ڈالا گیا
25 ہزار کو “نامعلوم” کیٹیگری میں رکھا تاکہ کسی کو بھی کسی بھی وقت مرضی کے کیسز میں گرفتار کیا جا سکے
اغوا ہونے والے سینکڑوں لوگ اس کے علاوہ ہیں
صرف یہی رپورٹ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ 9 مئی کا فالس فلیگ آپریشن صرف تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے رچایا گیا
اظہر مشوانی
صرف پنجاب میں:
319 کیس بنائے گئے
11,367 گرفتاریاں ظاہر کی گئیں (اصل 20 ہزار سے ذائد)
35 ہزار ورکرز اور سپورٹرز کو جعلی کیسز میں ڈالا گیا
25 ہزار کو “نامعلوم” کیٹیگری میں رکھا تاکہ کسی کو بھی کسی بھی وقت مرضی کے کیسز میں گرفتار کیا جا سکے
اغوا ہونے والے سینکڑوں لوگ اس کے علاوہ ہیں
صرف یہی رپورٹ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ 9 مئی کا فالس فلیگ آپریشن صرف تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے رچایا گیا
اظہر مشوانی
"نیپرا ریکارڈ کے مطابق پاور پلانٹس کو گزشتہ 8 برس کے عرصے کے دوران صرف "کپیسٹی چارجز" کی مد میں جو ادائیگیاں کی گئیں ہیں انکی مالیت 8623 ارب روپے بنتی ہے۔۔یہ ادائیگیاں جولائی 2017 سے جون 2025 کے عرصے کے دوران کی گئی ہیں۔ اس عرصے کے دوران، جو ڈالر کا ریٹ رہا ہے، اگر اس میں ان ادائیگیوں کو کنورٹ کریں تو انکی مالیت 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے۔ دوسری جانب وزارتِ خزانہ کی جانب سے گزشتہ برس اقتصادی سروے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 101 آئی پی پیز کمیشن ہوئے جنکی مدد سے ملک میں کل 35 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری آئی۔۔یعنی پاور پلانٹس کو صرف 8 برس کی کپیسٹی چارجز کی ادائیگیاں 101 آئی پی پیز کی کل غیر ملکی سرمایہ کاری سے زیادہ ہیں۔۔آئی پی پیز کو نوے کی دہائی سے لگایا جا رہا ہے اور نواز شریف کے تیسرے دور میں لگائے گئے آئی پی پیز کے معاہدے 2045 یا اس سے بھی آگے تک کے عرصے کیلئے ہیں"۔
قسمت خان
قسمت خان
سیکیورٹی سٹیٹ میں رہنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ بجلی تیل کی قیمتیں جتنی بھی بڑھ جائیں مہنگائی جتنی بھی ہو جائے جنگی ترانے سن کر یا جہازوں اور میزائیلوں کی نمائش دیکھ کر سب دکھ دور ہو جاتے ہیں...
جنید ملک
جنید ملک
اگر ڈی جی آئی ایس پی آر ہر ہفتے ایک عدد پریس کانفرنس کردیا کریں تو نوازش ہوگی۔ آپکی نالائقی ہمارا کام بہت آسان کرتی ہے۔
Enkido
Enkido
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے فارمولا دودھ کی مارکیٹنگ اور معیار کے حوالے سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مافیا قرار دے دیا۔ کمیٹی نے وزارتِ صحت کو فوری طور پر ٹی وی اشتہارات کی بندش کے لیے پیمرا کو خط لکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے فارمولا دودھ کے اشتہارات اور ان میں کیے جانے والے دعوؤں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا فارمولا دودھ کے ڈبے پر بدترین جھوٹ لکھا ہوتا ہے، کیا اسے پینے سے بچہ آئن اسٹائن یا سپرمین بن جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کا معاملہ ہے، فارمولا دودھ ایک مافیا ہے لیکن ہم نتائج کی پرواہ کیے بغیر ایکشن لیں گے۔
وزارت ترقی و منصوبہ بندی نے حکومتی اقدامات کی پروموشن کے لیے کمپنیوں سے درخواستیں طلب کر لی حکومت میں بیٹھے لوگوں کو اپنی حکومت کی پرفامنس پر شک ہے اس لیے کروڑوں روپے لگا کر ایونٹ کروانے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کمپین پر خرچ ہوں گے کیا وفاقی وزیر بتانا پسند کریں گے کہ اس منصوبہ میں کتنے ارب روپے مختص کیے ہیں اور کیا یہ صرف وزارت کی کاموں کی پروموشن ہو گی یا وزیراعظم کی بھی پروموشن کریں گے
شہزاد پراچہ
شہزاد پراچہ
9 مئی کوئی پہلا فالس فلیگ نہیں تھا سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کا یہ پرانا حربہ رہا ہے۔ مثال دیکھیں
1. ہٹلر کے برسرِ اقتدار آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد جرمن پارلیمنٹ (رائخسٹاگ) کو آگ لگا دی گئی۔ جس کا الزام کمیونسٹ مخالفین پر لگا کر شہری آزادیاں معطل اور سیاسی مخالفین کو بڑے پیمانے پر گرفتار کر کے نازی آمریت کی راہ ہموار کی گئی۔
2. نازی ایجنٹوں نے پولش وردیاں پہن کر جرمن ریڈیو اسٹیشن پر حملہ کیا اس "فالس فلیگ" کو جواز بنا کر ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کر دیا، جو دوسری عالمی جنگ کا آغاز ثابت ہوا
مقتدرہ manufactured or moulded واقعات کو "قومی سلامتی" کا مسئلہ بنا کر ایسے قوانین یا کریک ڈاؤن متعارف کراتی آئی ہے جو عام حالات میں ناممکن ہوتے ہیں۔
#May9th_FalseFlag
شفقت چوہدری
1. ہٹلر کے برسرِ اقتدار آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد جرمن پارلیمنٹ (رائخسٹاگ) کو آگ لگا دی گئی۔ جس کا الزام کمیونسٹ مخالفین پر لگا کر شہری آزادیاں معطل اور سیاسی مخالفین کو بڑے پیمانے پر گرفتار کر کے نازی آمریت کی راہ ہموار کی گئی۔
2. نازی ایجنٹوں نے پولش وردیاں پہن کر جرمن ریڈیو اسٹیشن پر حملہ کیا اس "فالس فلیگ" کو جواز بنا کر ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کر دیا، جو دوسری عالمی جنگ کا آغاز ثابت ہوا
مقتدرہ manufactured or moulded واقعات کو "قومی سلامتی" کا مسئلہ بنا کر ایسے قوانین یا کریک ڈاؤن متعارف کراتی آئی ہے جو عام حالات میں ناممکن ہوتے ہیں۔
#May9th_FalseFlag
شفقت چوہدری
👍1
جو بھی کچھ اس وقت پنجاب میں ہورہا ہے اس کی اسپیڈ شاید ہی کوئی صوبہ میچ کرسکے
خواجہ آصف
خواجہ آصف
👍1🤣1
نو مئی کو ہونے والے احتجاج میں فوج کا یا کسی ایک بھی سیکیورٹی ادارے کا اہلکار جان سے نہیں گیا ، یہ تحریک انصاف کے کارکنان کے پرامن اور غیر مسلح ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا یا اس سے پہلے بھی ہوا یا اب بھی ہورہا ہے یہ فوج کی بدمعاشی ہے۔
ایک طرف میڈیا پر اشتہارات کی بارش ہے دوسری جانب خلافت کولا والوں نے اپنے چینل سنو نیوز سے 170 ملازمین کو نکال دیا گیا ہے 3 بیوروز مکمل بند کردئیے ہیں اورنکالے گئے تمام ملازمین کو ابھی تک اپریل کی تنخواہ بھی نہیں ملی ہے۔سماء اب تک بہترین تنخواہیں دے رہا تھا مگر وہاں بھی نوٹسز کے نام پر خوف کی فضاء ہے چند دنوں میں متعدد لوگوں کو ہارٹ اٹیک اور برین ہیمبرج ہوا ہے ایک ورکر کی جان جاچکی ہے۔
محمد عمیر
محمد عمیر
جنگ جیتنے کے بعد پاکستان کو لوگوں نے seriously لینا شروع کر دیا ۔ ابھی پاسپورٹ کی campaign چلی — کسی نے پاسپورٹ ماتھے پہ لگایا ہوا ہے، کسی نے گاڑی کے ڈیش بورڈ پہ رکھا ہے !
عطا تارڑ
عطا تارڑ
فوج نے عمران خان کے گریبان میں ہاتھ ڈالا۔ ہم نے بھی فوج کے گریبان میں ہاتھ ڈالا۔ عمران خان کی آزادی گئی۔ فوج کی عزت گئی۔ عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی گئی ، فوج کی اٹھہتر سال کی کمائی گئی۔ عزت ، الیکشن ژ استقامت کے سبھی مقابلے عمران خان جیت چکا۔ ایک طاقت بچی ہے۔ اسے پیروں تلے روند دینا خدائی کام ہے۔ وہ جانے اس کا کام جانے۔
Enkido
Enkido
حافظ نعیم الرحمٰن صاحب جماعت اسلامی کے امیر بن گئے ہیں لیکن انکی سوچ ابھی تک کراچی ایڈمنسٹریٹو معاملات تک اٹکی ہوئی۔ کوئی انہیں یاد دہانی کروادے وہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر ہیں ۔
عمران خان کو بات چیت کے ذریعے کسی قسم کی ریلیف اس لیے نہیں دی جا سکتی کیونکہ وہ نہ تو نواز شریف ہے اور نہ زرداری کہ وہ چپ کر کے بنی گالہ بیٹھ جائے گا اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام عمران خان کے ساتھ ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ انہیں چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی !
مطیع اللہ جان
مطیع اللہ جان