آج افسران کی چھٹی تھی اور لیکن جس کے نام پر چھٹی تھی وہ کام پر گیا تھا ۔۔۔
یکم مئی لیبر ڈے
یکم مئی لیبر ڈے
اگر CSS کرنے والے اتنے قابل ہیں تو پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہے؟ اور TCS میں ایک بھی CSS آفیسر کام نہیں کرتا لیکن TCS پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے؟
آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں؟
آپ پولیس کا حال دیکھ لیں؟
آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھلیں وہاں کوئی CSS افسر نہیں ہے تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔
اینگرو گروپ
عارف حبیب گروپ
ڈی جی خان سیمنٹ سمیت تمام کامیاب ادارے پروفیشنل لوگ چلا رہے ہیں ۔
دنیا میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے ایسےپروفیشنلز جو اپنے ممالک کو آسمان تک لیے گئے اور بدقسمتی میں ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ایک پروفیشنل ڈاکٹر اور انجنیئر کے اوپر ڈپٹی کمشنر روعب جماتا ہے
جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے ۔اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں ہونگےعرب ممالک میں سی ایس ایس جیسا امتحان نہیں ہوتا وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے
جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں
پاکستان کو ترقی کے لئے سرکاری افسر شاہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز ۔سائنسدانوں اور انجینئرز ضرورت ہے
محمد آصف
آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں؟
آپ پولیس کا حال دیکھ لیں؟
آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھلیں وہاں کوئی CSS افسر نہیں ہے تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔
اینگرو گروپ
عارف حبیب گروپ
ڈی جی خان سیمنٹ سمیت تمام کامیاب ادارے پروفیشنل لوگ چلا رہے ہیں ۔
دنیا میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے ایسےپروفیشنلز جو اپنے ممالک کو آسمان تک لیے گئے اور بدقسمتی میں ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ایک پروفیشنل ڈاکٹر اور انجنیئر کے اوپر ڈپٹی کمشنر روعب جماتا ہے
جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے ۔اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں ہونگےعرب ممالک میں سی ایس ایس جیسا امتحان نہیں ہوتا وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے
جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں
پاکستان کو ترقی کے لئے سرکاری افسر شاہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز ۔سائنسدانوں اور انجینئرز ضرورت ہے
محمد آصف
کیا یہ پاکستان کی تقدیر ہے کہ یہاں کانسٹی ٹیوشن ایوینیو پر صریحاً غیر قانونی طور پر بنے وہ دو مینار تو سلامت رہیں جن میں پاکستان کے طاقتور ترین سیاستدانوں ، بیورو کریٹوں ، ججوں اور اشرافیہ کے اپارٹمنٹ ہیں لیکن کراچی کا سترہ منزلہ نسلہ ٹاور عدالت کے حکم پر 2021 میں اسلئے زمیں بوس کر دیا جائے کہ وہاں بیچارے مڈل کلاس پاکستانی اپاٹمنٹوں کے مالک تھے اور جو آج بھی نہ جانے کہاں کہاں دھکے کھا رہے ہونگے؟؟
احمد بلال محبوب
احمد بلال محبوب
موسی ورک کو اغوا کیا گیا تو کتنے دن مکمل خاموشی رہی کہ شاید کچھ رستہ نکل آئے ابھی تک موسی کا کوئی اتاپتہ کسی کو معلوم نہیں۔ حافظ سعد ریاض کو اغواء کیا گیا تو ساتھ ہی ایک ایف آئی آر درج ہوگئی۔ کم از کم معلوم تو ہے کہ وہ کدھر ہیں۔ موسی ورک کے پرانے ٹویٹس کھنگالے گئے تو جا بجا حب الوطنی ، عزم اور ایک نوجوان کے خواب نظر آئے۔ حافظ صاحب کے پرانے ٹویٹس میں کہیں کسی کے اغواء کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو کہیں قتل عام کو جھٹلایا جارہا ہے۔ موسی ورک کے اغواء پر چند عدد لوگوں کے سواء سبھی خاموش رہے۔ سعد ریاض کے اغواء پر سبھی کو ہمدردیاں اور مذمتیں یاد آگئیں ۔ سعد ریاض کے گزشتہ افکار بتا رہے ہیں کہ اٹھانے والوں کو یہاں بھی کوئی “تکنیکی غلطی” لگی ہے جو جلد درست کردی جائے گی۔ اللہ سے دعا ہے کہ حافظ صاحب کو محفوظ رکھے کیونکہ یہ بلا اندھی ہے۔ یہ اکثر اپنے بچے پیروں تلے روند دیتی ہے۔
#enkido
#enkido
👍1
Pakistan Times International
Photo
ملکہ کی تصویر دکھائی دے گئی کھانا کھاتےہوئے اور کھانےکے کمرے میں موجود سکاٹش دھن آپ کو نہ دکھائی دی نہ سنائی دی۔ یعنی وہ کونسی ٹریننگ ہے ، وہ کونسا رکھ رکھاؤ اور آداب ہیں کہ ایک انسان کو کھانےکے دوران اس قدر بلند ایسی واہیات اور غیر ملکی دھنیں سننے پر مجبور کرتے ہیں ؟ اگر پاکستانی فوج کے افسران ڈھول کی تھاپ پر روٹی کھا رہے ہوں تو پھر بھی کچھ سمجھ آئے کہ ولولہ انگیزی بڑھائی جارہی ہے۔
انکی وردیوں کے رنگ ، انکے کندھوں پر لٹکے ہوئے کپڑے دھونے والے برش ، انکےسینوں پر لٹکا ہوا پیتل ، انکے دیواروں پر آویزاں سوینئیرز ، ٹیبل پر دھری ٹرافیاں کچھ بھی ان کا اپنا نہیں۔ دور غلامی کو یہ شاندار وراثت سمجھ کر مناتے ہیں۔اگر قوم کی آزادی میں اس فوج کا رتی برابر بھی کردار ہوتا تو یہ سبھی نشانیاں لعنت کا طوق سمجھتے ہوئے اتار پھینکی جاتیں۔
اور اس کمرے میں آپ بھی موجود ہیں۔ آپ کو وہ بھی دکھائی نہیں دیا۔ آپ نے جالی دار نماز والی ٹوپی پہن رکھی ہے۔ آپ نے واسکٹ پہن رکھی ہے۔ آپ نے سفید شلوار قیمض پہن رکھی ہے۔ جب صاحب لوگ ، بھورے رنگ کے صاحب لوگ کھانا کھا رہے ہوں تو ایک عدد غلام، غلامانہ کپڑے پہن کر ، غلاموں کی طرح کمرے میں کھڑا ہونا چاہیے تاکہ صاحب لوگ مکمل تاثر لے سکیں کہ وہ چکوال کے اعوان نہیں بلکہ ایلڈر شاٹ کے ٹامی ہیں۔
Enkido
انکی وردیوں کے رنگ ، انکے کندھوں پر لٹکے ہوئے کپڑے دھونے والے برش ، انکےسینوں پر لٹکا ہوا پیتل ، انکے دیواروں پر آویزاں سوینئیرز ، ٹیبل پر دھری ٹرافیاں کچھ بھی ان کا اپنا نہیں۔ دور غلامی کو یہ شاندار وراثت سمجھ کر مناتے ہیں۔اگر قوم کی آزادی میں اس فوج کا رتی برابر بھی کردار ہوتا تو یہ سبھی نشانیاں لعنت کا طوق سمجھتے ہوئے اتار پھینکی جاتیں۔
اور اس کمرے میں آپ بھی موجود ہیں۔ آپ کو وہ بھی دکھائی نہیں دیا۔ آپ نے جالی دار نماز والی ٹوپی پہن رکھی ہے۔ آپ نے واسکٹ پہن رکھی ہے۔ آپ نے سفید شلوار قیمض پہن رکھی ہے۔ جب صاحب لوگ ، بھورے رنگ کے صاحب لوگ کھانا کھا رہے ہوں تو ایک عدد غلام، غلامانہ کپڑے پہن کر ، غلاموں کی طرح کمرے میں کھڑا ہونا چاہیے تاکہ صاحب لوگ مکمل تاثر لے سکیں کہ وہ چکوال کے اعوان نہیں بلکہ ایلڈر شاٹ کے ٹامی ہیں۔
Enkido
❤1
نواز شریف کے دیرینہ ساتھی ابصار عالم نے محسن نقوی کو "قبضہ مافیا کا سب سے بڑا کارندہ" قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وزیر داخلہ کی اہلیہ کا نام دبئی لیکس میں شامل ہے اور کالے دھن کو ایمنسٹی کے پیچھے چھپایا گیا۔ انہوں نے براہ راست سوال کیا کہ "100 ارب روپے ہنڈی کے ذریعے باہر چلے گئے، امیگریشن آپ کے زیر انتظام ہے تو یہ سب کیسے ہوا؟" یہ تلخ حقیقت اب سامنے ہے کہ جو خود ڈالروں سے بھرے جہاز دبئی بھیج رہے ہوں، وہ ملک کا پیسہ واپس کبھی نہیں لائیں گے۔
نواز شریف کے قریبی ساتھی ابصار عالم کا یہ دعویٰ کہ "سندھ سے جہازوں کے ذریعے ڈالر دبئی جا رہے ہیں" اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ نظام کے محافظ ہی جب لوٹ مار میں شریک ہوں تو ملکی دولت کی واپسی ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اس ڈاکو ڈفر الائینس کی کارستانیوں اور عیاشیوں میں عوام پستی ہے اور نقصان ملک کا ہوتا ہے ۔ 🙄 🤔
زین اللہ خٹک
نواز شریف کے قریبی ساتھی ابصار عالم کا یہ دعویٰ کہ "سندھ سے جہازوں کے ذریعے ڈالر دبئی جا رہے ہیں" اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ نظام کے محافظ ہی جب لوٹ مار میں شریک ہوں تو ملکی دولت کی واپسی ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اس ڈاکو ڈفر الائینس کی کارستانیوں اور عیاشیوں میں عوام پستی ہے اور نقصان ملک کا ہوتا ہے ۔ 🙄 🤔
زین اللہ خٹک
آج سعید بکس جانا ہوا تو ایک عجیب منظر دیکھا۔ میں بیٹھا کچھ بکس دیکھ رہا تھا کہ ایک خاتون کی کاونٹر سے آواز آئی کہ میں نے آپ کو دو ہزار روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔
کاونٹر پر کھڑا نوجوان پختون اختر کچھ حیران ہوا کہ کس چیز کی ؟
وہ خاتون جن کی عمر شاید پینتس چھتس ہوگی کہنے لگی ایک سال پہلے میں نے یہاں سے کچھ بکس لی تھیں۔ میں پشاور سے ہوں ۔ واپس جاتے وقت راستے میں چیک کیا تو مجھے پتہ چلا کہ باقی کتابوں کی قیمت تو ادا کر دی تھی لیکن ایک کتاب اس بل میں شامل نہ تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ جب چکر لگے گا تو وہ میں پیسے دوں گی۔
کہنے لگیں وہ اب حج پر جارہی پیں اور نہیں چاہتیں اپنے پیچھے کچھ ایسا قرض چھوڑ جائیں۔ کتاب کا نام Power of Now تھا۔
اختر نے کتاب ڈھونڈ کر اس کی قیمت نکالی تو تین ہزار روپے بنی۔ وہ کہنے لگیں اس وقت اس پر دو ہزار لکھی تھی۔
شاید ڈالر ریٹ کم ہوگا۔
احمد سعید نے اپنے کیبن سے اختر کو اشارہ کیا کہ دو ہزار ہی لے لو۔
اس خاتون نے دو ہزار کی ادائیگی کی اور مطمئن ہو کر چلی گئی۔
احمد سعید بتانے لگے جب ان کے والد سعید صاحب کی وفات ہوئی تو بہت سارے نوجوان لڑکے اور کچھ لوگ ان سے تعزیت کرنے آئے۔ گلے لگے اور جاتے وقت وہ ایک لفافہ ان کی جیب میں ڈال جاتے۔ انہیں اس وقت تو اندازہ نہ ہوا کہ ان لفافوں میں کیا تھا کہ بہت رش تھا اور وہ سمجھے شاید وہ سب تعریت کرنے آئے تھے۔ بعد میں ان لفافوں کو کھولا تو پیسوں کے ساتھ نوٹ تھا کہ ہم نے کبھی اسٹوڈنٹ لائف میں سعید بکس سے بکس چرائی تھیں۔ اب ہم کماتے ہیں تو ضمیر پر دبائو بڑھا جب ان کی وفات کا سنا۔ ہم اس کتاب کے پیسے چھوڑ کر جارہے پیں جو چرائی تھیں۔
احمد سعید کہنے لگا رئوف صاحب جو لوگ لٹریچر پڑھتے پیں ان میں دوسروں سے ہٹ کر کچھ خاص ہوتا ہے۔
مجھے اپنے دوست شعیب بٹھل کی بات یاد آئی کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے ادب پڑھا/کتابیں پڑھ رکھی ہیں اور دوسرے وہ جنہوں نے نہیں پڑھیں۔ تیسرے کوئی نہیں ہوتے۔
احمد سعید جن کرداروں کی کہانیاں سنا رہے تھے جو ان کے باپ کی وفات پر لفافے ان کے جیب میں چھوڑ گئے تھے یا پشاور کی وہ نوجوان خاتون جو حج پر جانے سے پہلے چند سال پہلے کی کتاب کا بل چکانے آئی تھی ، وہ سب اس دنیا کی پہلی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔
تحریر/رئوف کلاسرا
کاونٹر پر کھڑا نوجوان پختون اختر کچھ حیران ہوا کہ کس چیز کی ؟
وہ خاتون جن کی عمر شاید پینتس چھتس ہوگی کہنے لگی ایک سال پہلے میں نے یہاں سے کچھ بکس لی تھیں۔ میں پشاور سے ہوں ۔ واپس جاتے وقت راستے میں چیک کیا تو مجھے پتہ چلا کہ باقی کتابوں کی قیمت تو ادا کر دی تھی لیکن ایک کتاب اس بل میں شامل نہ تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ جب چکر لگے گا تو وہ میں پیسے دوں گی۔
کہنے لگیں وہ اب حج پر جارہی پیں اور نہیں چاہتیں اپنے پیچھے کچھ ایسا قرض چھوڑ جائیں۔ کتاب کا نام Power of Now تھا۔
اختر نے کتاب ڈھونڈ کر اس کی قیمت نکالی تو تین ہزار روپے بنی۔ وہ کہنے لگیں اس وقت اس پر دو ہزار لکھی تھی۔
شاید ڈالر ریٹ کم ہوگا۔
احمد سعید نے اپنے کیبن سے اختر کو اشارہ کیا کہ دو ہزار ہی لے لو۔
اس خاتون نے دو ہزار کی ادائیگی کی اور مطمئن ہو کر چلی گئی۔
احمد سعید بتانے لگے جب ان کے والد سعید صاحب کی وفات ہوئی تو بہت سارے نوجوان لڑکے اور کچھ لوگ ان سے تعزیت کرنے آئے۔ گلے لگے اور جاتے وقت وہ ایک لفافہ ان کی جیب میں ڈال جاتے۔ انہیں اس وقت تو اندازہ نہ ہوا کہ ان لفافوں میں کیا تھا کہ بہت رش تھا اور وہ سمجھے شاید وہ سب تعریت کرنے آئے تھے۔ بعد میں ان لفافوں کو کھولا تو پیسوں کے ساتھ نوٹ تھا کہ ہم نے کبھی اسٹوڈنٹ لائف میں سعید بکس سے بکس چرائی تھیں۔ اب ہم کماتے ہیں تو ضمیر پر دبائو بڑھا جب ان کی وفات کا سنا۔ ہم اس کتاب کے پیسے چھوڑ کر جارہے پیں جو چرائی تھیں۔
احمد سعید کہنے لگا رئوف صاحب جو لوگ لٹریچر پڑھتے پیں ان میں دوسروں سے ہٹ کر کچھ خاص ہوتا ہے۔
مجھے اپنے دوست شعیب بٹھل کی بات یاد آئی کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے ادب پڑھا/کتابیں پڑھ رکھی ہیں اور دوسرے وہ جنہوں نے نہیں پڑھیں۔ تیسرے کوئی نہیں ہوتے۔
احمد سعید جن کرداروں کی کہانیاں سنا رہے تھے جو ان کے باپ کی وفات پر لفافے ان کے جیب میں چھوڑ گئے تھے یا پشاور کی وہ نوجوان خاتون جو حج پر جانے سے پہلے چند سال پہلے کی کتاب کا بل چکانے آئی تھی ، وہ سب اس دنیا کی پہلی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔
تحریر/رئوف کلاسرا
❤2🥰1
میرے پاس مصدقہ خبر ہے کہ محسن نقوی نے اسلام ہائیکورٹ کے ججز کو پیغام پہنچایا کہ بڑے صاحب پنڈی والے یہ چاہتے ہیں کہ ون کانسٹیٹیوشن اپارٹمنٹس کے خلاف کاروائی ہو ،
محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹس کے خلاف آپریشن میں رینجرز کو غیر قانونی طور پر ان کی ہائی کمان کے علم میں لائے بغیر استعمال کیا !
ابصار عالم ۔۔
محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹس کے خلاف آپریشن میں رینجرز کو غیر قانونی طور پر ان کی ہائی کمان کے علم میں لائے بغیر استعمال کیا !
ابصار عالم ۔۔
شہریوں کو لوٹنے کیلئے پنجاب ای چالان کے نام سے جعلی ویب سائٹ کا انکشاف، 'پنجاب ای چالان کے نام سے کسی نے جعلی ویب سائٹ بنا رکھی ہے، میں نے ایک فیک نمبر پلیٹ لکھی، ایک شناختی کارڈ نمبر لکھا (فیک)۔ ویب سائٹ بتاتی ہے 500 چالان ہوا ہے، فوری کارڈ سے ادا کریں
احمد وڑائچ
احمد وڑائچ
جمیعت کے کارکن فضل خان بڑیچ کی فیسبک وال سے
مجھے آج جمعیت علمائے اسلام کی ایک واضح اکثریت سے ایک سوال پوچھنا ہے آپ کل سے کسی نہ کسی طرح کوشش کررہے کہ اس شہادت کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کے ذریعے امارت پہ ڈال دیں شیخ ادریس کی شہادت جو پاکستان میں امارت کے سب سے قریبی عالم دین تھے آپ شیخ ادریس شہید کی امارت سے قربت کا اندازہ اس بات سے لگائے کہ مولانا فضل الرحمن جب شیخ ہبت اللہ سے ملاقات کررہے تھے تو شیخ ادریس بھی اس ملاقات میں شامل تھے مگر آج آپ انکی شہادت امارت کے کھاتے میں کس کی خوشنودی کے لئے ڈال رہے ؟
انکی خوشنودی کے لئے جنکی مداخلت کی وجہ سے مولانا صاحب کو مفتی محمود رح کا حلقہ چھوڑ کر پشین جانا پڑا ہے ؟
چلے ہم بھی آپ کی ہمنوائی میں امارت کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں اور انھیں ختم کرنے کی آپ کی کوششوں میں شامل ہوجاتے ہیں اب امارت کی حکومت ختم ہوجاتی ہے تو آپ کو کیا لگتا وہاں عاصم منیر اور شہباز شریف کی حکومت آئے گی ؟ ظاہر ہے اشرف غنی کی حکومت آئے گی اشرف غنی ٹی ٹی پی کو ختم کریں گے ؟ ### کے بچوں اشرف غنی کے دور میں بھی ٹی ٹی پی تھی اوریہ اشرف غنی کا ہی دور تھا جس میں پشتون قوم پرستی کو پروان چڑھایا گیا وہی پشتون قوم پرستی جس کی پرچار حیات پریغال کررہے انکے وال پہ مولانا فضل الرحمان کی بدترین توہین دیکھیے ۔
میں نے اپنی زندگی میں آپ جیسے بے شعور لوگ نہیں دیکھے جو ٹرمپ کے حکم پہ اپنے ہم فکر ہم نظریہ لوگوں کو دشمن بنانے جا رہے کیونکہ موجودہ پاکستانی رجیم انکے خلاف ہے اگلی رجیم نہیں ہوگی آپ پھر دوبارہ امارت کے قریب جائینگے ؟
کیا تم نے پاک بھارت دشمنی کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند سے ناتا توڑا؟
تمہاری قاتل داعـ.ـس ہے وہی داعـ.ـس جس کی کمر کمزور ترین امارت نے توڑ دی ہے مگر ایٹمی ملک توڑ نہیں پا رہا ۔
جو ایران اور امریکہ کے بیچ صلح تو کروا سکتے مگر جمعیت علمائے اسلام کو امن نہیں دے پا رہے ۔
فضل خان بڑیچ
مجھے آج جمعیت علمائے اسلام کی ایک واضح اکثریت سے ایک سوال پوچھنا ہے آپ کل سے کسی نہ کسی طرح کوشش کررہے کہ اس شہادت کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کے ذریعے امارت پہ ڈال دیں شیخ ادریس کی شہادت جو پاکستان میں امارت کے سب سے قریبی عالم دین تھے آپ شیخ ادریس شہید کی امارت سے قربت کا اندازہ اس بات سے لگائے کہ مولانا فضل الرحمن جب شیخ ہبت اللہ سے ملاقات کررہے تھے تو شیخ ادریس بھی اس ملاقات میں شامل تھے مگر آج آپ انکی شہادت امارت کے کھاتے میں کس کی خوشنودی کے لئے ڈال رہے ؟
انکی خوشنودی کے لئے جنکی مداخلت کی وجہ سے مولانا صاحب کو مفتی محمود رح کا حلقہ چھوڑ کر پشین جانا پڑا ہے ؟
چلے ہم بھی آپ کی ہمنوائی میں امارت کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں اور انھیں ختم کرنے کی آپ کی کوششوں میں شامل ہوجاتے ہیں اب امارت کی حکومت ختم ہوجاتی ہے تو آپ کو کیا لگتا وہاں عاصم منیر اور شہباز شریف کی حکومت آئے گی ؟ ظاہر ہے اشرف غنی کی حکومت آئے گی اشرف غنی ٹی ٹی پی کو ختم کریں گے ؟ ### کے بچوں اشرف غنی کے دور میں بھی ٹی ٹی پی تھی اوریہ اشرف غنی کا ہی دور تھا جس میں پشتون قوم پرستی کو پروان چڑھایا گیا وہی پشتون قوم پرستی جس کی پرچار حیات پریغال کررہے انکے وال پہ مولانا فضل الرحمان کی بدترین توہین دیکھیے ۔
میں نے اپنی زندگی میں آپ جیسے بے شعور لوگ نہیں دیکھے جو ٹرمپ کے حکم پہ اپنے ہم فکر ہم نظریہ لوگوں کو دشمن بنانے جا رہے کیونکہ موجودہ پاکستانی رجیم انکے خلاف ہے اگلی رجیم نہیں ہوگی آپ پھر دوبارہ امارت کے قریب جائینگے ؟
کیا تم نے پاک بھارت دشمنی کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند سے ناتا توڑا؟
تمہاری قاتل داعـ.ـس ہے وہی داعـ.ـس جس کی کمر کمزور ترین امارت نے توڑ دی ہے مگر ایٹمی ملک توڑ نہیں پا رہا ۔
جو ایران اور امریکہ کے بیچ صلح تو کروا سکتے مگر جمعیت علمائے اسلام کو امن نہیں دے پا رہے ۔
فضل خان بڑیچ
👍1
غیر ملکی خاتون صحافی؛
امریکہ نے سیکورٹی کی بنا پر پشاور میں اپنا قونصلیٹ بند کر دیا آپ کیا کہیں گے
ڈی جی آئی ایس پی آر :
یہ سوال فارن افیئرز سے پوچھیں اس کے بعد آواز کانپ رہی ہےکچھ سمجھ نہیں کیا بول رہا ہے کیونکہ سوال پوچھنے والی گوری تھی
اگر کوئی پاکستانی صافی یہیں سوال پوچھتا تو ڈی جی صاحب نے گرج برس کر جواب دینا تھا
امریکہ نے سیکورٹی کی بنا پر پشاور میں اپنا قونصلیٹ بند کر دیا آپ کیا کہیں گے
ڈی جی آئی ایس پی آر :
یہ سوال فارن افیئرز سے پوچھیں اس کے بعد آواز کانپ رہی ہےکچھ سمجھ نہیں کیا بول رہا ہے کیونکہ سوال پوچھنے والی گوری تھی
اگر کوئی پاکستانی صافی یہیں سوال پوچھتا تو ڈی جی صاحب نے گرج برس کر جواب دینا تھا
👍1
مولانا فضل الرحمن کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ فوج کو مزید علماء شہید کرنے پر جری بنانے والے ہیں اور ایک طرح سے فوج کے جرائم پر انکی حوصلہ افزائی ہے۔ یہ فوج کے لیے کتنی آئیڈیل صورتحال ہے کہ فوج اپنے مخالفین کو مارے بھی اور ان مخالفین کے قتل کا الزام بھی فوج کے مخالفین پر ہی لگایا جائے۔
سوشل میڈیا پر ہم تحریک انصاف والوں نے ٹی ایل پی کے خلاف ہونے والے قتل عام اور تشدد کے خلاف بھی بھرپور آواز اٹھائی اور اب شیخ ادریس کے قتل کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے ہیں اسکے باوجود جے یو آئی کا سوشل میڈیا ہم تحریک انصاف والوں کو کس کی خوشنودی کے لیے بے دین ، سیکولر اور دین دشمن بنا کر پیش کرتا ہے۔ کیا تحریک انصاف میں سب سیکولر اور بے دین ہیں ؟
#ImranKhanPTI
#PTI
#TehreekeInsaf
#ImranKhan
زوہیب خان
سوشل میڈیا پر ہم تحریک انصاف والوں نے ٹی ایل پی کے خلاف ہونے والے قتل عام اور تشدد کے خلاف بھی بھرپور آواز اٹھائی اور اب شیخ ادریس کے قتل کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے ہیں اسکے باوجود جے یو آئی کا سوشل میڈیا ہم تحریک انصاف والوں کو کس کی خوشنودی کے لیے بے دین ، سیکولر اور دین دشمن بنا کر پیش کرتا ہے۔ کیا تحریک انصاف میں سب سیکولر اور بے دین ہیں ؟
#ImranKhanPTI
#PTI
#TehreekeInsaf
#ImranKhan
زوہیب خان
👍1
آئی پی پیز (IPPs) ~ نئی ایسٹ انڈیا کمپنی🚨
آئی پی پیز پر خدا کا قہر نازل ہو، صرف 8سال میں کپسٹی چارجز کے نام پر قوم کے 40.1 ارب ڈالر ہڑپ کر گئیں۔ انگریز “غلام ہندوستان” کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پر نوچتے تھے،آئی پی پیز “آزاد پاکستان” کو کیپسٹی چارجز کے نام پر نوچ رہی ہیں۔
آئی پی پیز پر خدا کا قہر نازل ہو، صرف 8سال میں کپسٹی چارجز کے نام پر قوم کے 40.1 ارب ڈالر ہڑپ کر گئیں۔ انگریز “غلام ہندوستان” کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پر نوچتے تھے،آئی پی پیز “آزاد پاکستان” کو کیپسٹی چارجز کے نام پر نوچ رہی ہیں۔
اسلام آباد ۔ G7/2 احمد مارکیٹ میں میرا ڈرائ کلینر رات آٹھ بجے دکان بند کر رہا تھا کہ اچانک انتظامیہ نے 8 بجکر ایک منٹ پر دکان سیل کر دی
اب دکان ڈی سیل کرنے کے لیئے سرکاری جرمانہ کے علاوہ بھاری رشوت کا مطالبہ جاری ہے جو کہ غریب آدمی بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتا
ڈی سی اسلام آباد سے موئدبانہ درخواست ہےکہ دکان ڈی سیل کرنے کے احکامات صادر فرمائیں تاکہ بیچارا اپنے بچوں کا رزق کما سکے اور سب سے اہم یہ کہ اپنے گاہکوں کے کپڑے انکے حوالہ کر سکے
شکریہ!
صرف اسی مارکیٹ میں متعدد و مسلسل غیر قانونی افعال پر سالہا سال میں ایکشن/جرمانے نہ کر سکنے والی ضلعی انتظامیہ کی اس مخصوص معاملہ میں غریب دکاندار کے لیئے مخصوص مستعدی قابل تعریف ہے۔
جبکہ اسی معاملہ میں ایک منٹ کی دیری پر مستعد کاروائی کی وجہ بسمجھ راقم وجہ عناد یہ ہے کہ بیچارے کی چند دن پہلے ضلعی انتظامیہ کے بڑے افسر بمعنی درجہ چہارم کے سرکاری ملازم کیساتھ کپڑوں کے ڈرائ کلیننگ بل پر تو تکار ہوئ تھی اور وہ عالمگیر افسر صاحب ارشاد فرما کر گئے تھے کہ جس دن تم نے دکان آٹھ بجے بند نہ کی اس دن تمہیں سبق سکھاؤں گا۔ بیچارا پہلے بھی اور اس دن کے بعد سے تو ویسے ہی انتہائ محتاط ہو گیا تھا اور سات بجے سے ساڑھے سات بجے کے درمیان دکان بند کر دیتا تھا لیکن شو مئ قسمت، کل رات بیچارے سے غلطی ہو گئ کہ آٹھ بجنے میں15 منٹ قبل ایک گاہک کا بل بنانے لگ گیا اور دکان بند کرتے کرتے سرکاری ڈیڈ لائن سے ایک منٹ زیادہ ہو گیا اور جناب سرکار کی عملداری کی پکڑ میں آگیا۔ اب بیچارہ کو اسکی سنگین غلطی کا احساس ہو چکا ہے اور جناب سے معافی کا خواستگار ہے۔ ایک منٹ کی غلطی کا جائز جرمانہ ادا کرنے کے لیئے تیار ہے۔ لیکن جناب کے عملہ کے سروس چارجز بمعنی رشوت کی طلب اتنی زیادہ ہے کہ بیچارہ برداشت نہیں کر سکتا ہے۔ شفقت فرمائیں۔ شکریہ!
مسعود چوہدری
https://x.com/i/status/2052669052372562328
اب دکان ڈی سیل کرنے کے لیئے سرکاری جرمانہ کے علاوہ بھاری رشوت کا مطالبہ جاری ہے جو کہ غریب آدمی بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتا
ڈی سی اسلام آباد سے موئدبانہ درخواست ہےکہ دکان ڈی سیل کرنے کے احکامات صادر فرمائیں تاکہ بیچارا اپنے بچوں کا رزق کما سکے اور سب سے اہم یہ کہ اپنے گاہکوں کے کپڑے انکے حوالہ کر سکے
شکریہ!
صرف اسی مارکیٹ میں متعدد و مسلسل غیر قانونی افعال پر سالہا سال میں ایکشن/جرمانے نہ کر سکنے والی ضلعی انتظامیہ کی اس مخصوص معاملہ میں غریب دکاندار کے لیئے مخصوص مستعدی قابل تعریف ہے۔
جبکہ اسی معاملہ میں ایک منٹ کی دیری پر مستعد کاروائی کی وجہ بسمجھ راقم وجہ عناد یہ ہے کہ بیچارے کی چند دن پہلے ضلعی انتظامیہ کے بڑے افسر بمعنی درجہ چہارم کے سرکاری ملازم کیساتھ کپڑوں کے ڈرائ کلیننگ بل پر تو تکار ہوئ تھی اور وہ عالمگیر افسر صاحب ارشاد فرما کر گئے تھے کہ جس دن تم نے دکان آٹھ بجے بند نہ کی اس دن تمہیں سبق سکھاؤں گا۔ بیچارا پہلے بھی اور اس دن کے بعد سے تو ویسے ہی انتہائ محتاط ہو گیا تھا اور سات بجے سے ساڑھے سات بجے کے درمیان دکان بند کر دیتا تھا لیکن شو مئ قسمت، کل رات بیچارے سے غلطی ہو گئ کہ آٹھ بجنے میں15 منٹ قبل ایک گاہک کا بل بنانے لگ گیا اور دکان بند کرتے کرتے سرکاری ڈیڈ لائن سے ایک منٹ زیادہ ہو گیا اور جناب سرکار کی عملداری کی پکڑ میں آگیا۔ اب بیچارہ کو اسکی سنگین غلطی کا احساس ہو چکا ہے اور جناب سے معافی کا خواستگار ہے۔ ایک منٹ کی غلطی کا جائز جرمانہ ادا کرنے کے لیئے تیار ہے۔ لیکن جناب کے عملہ کے سروس چارجز بمعنی رشوت کی طلب اتنی زیادہ ہے کہ بیچارہ برداشت نہیں کر سکتا ہے۔ شفقت فرمائیں۔ شکریہ!
مسعود چوہدری
https://x.com/i/status/2052669052372562328
X (formerly Twitter)
Masood Chaudhary (@Masoodch06) on X
اسلام آباد ۔ G7/2 احمد مارکیٹ میں میرا ڈرائ کلینر رات آٹھ بجے دکان بند کر رہا تھا کہ اچانک انتظامیہ نے 8 بجکر ایک منٹ پر دکان سیل کر دی
اب دکان ڈی سیل کرنے کے لیئے سرکاری جرمانہ کے علاوہ بھاری رشوت کا مطالبہ جاری ہے جو کہ غریب آدمی بالکل بھی برداشت نہیں…
اب دکان ڈی سیل کرنے کے لیئے سرکاری جرمانہ کے علاوہ بھاری رشوت کا مطالبہ جاری ہے جو کہ غریب آدمی بالکل بھی برداشت نہیں…
"بالآخر مائی جندو کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے"
5 جون 1992 کی رات: ڈاکووں کے خلاف آپریشن میں میجر ارشد جمیل اعوان کی سربراہی میں ایک فوجی دستے نے RAW سے رابطہ رکھنے والے( اس دور کے خوارج) نو ڈاکو مار کر بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمدگی کا دعویٰ کیا
وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل آصف نواز دونوں ٹنڈو بہاول گئے اور انعامی رقم کا اعلان بھی کیا
نیشنل میڈیا ( آج کی طرح) اس پر خوب پروگرام کرتا رہا مگر پھر مقامی صحافیوں نے اس کے اصل حقائق کا پردہ فاش کر دیا۔
دراصل میجر ارشد کے بعض قرابت داروں نے مائی جندو کے خاندان کی زمین پر قبضہ کرنے کیلئے میجر ارشد سے مدد مانگی۔
5 جون کی رات میجر ارشد نے اپنے 15 فوجیوں کے ساتھ مائی جندو کے گھر میں موجود نو افراد کو اغوا کر لیا۔ جن میں مائی جندو کے دو بیٹے بہادر اور منٹھار اور داماد حاجی اکرم بھی شامل تھے۔
میجر ارشد اور اُن کے دستہ نے دریائے سندھ کے کنارے ان تمام افراد کو قطار میں کھڑا کر کے گولیاں مار کر قتل کر کے ڈاکو قرار دے دیا۔
مقامی اخبارات سے یہ کہانی عالمی میڈیا تک گئی اور شور مچ گیا۔ (اس وقت پیکا آرڈیننس نہیں تھا ورنہ مقامی صحافی اندر ہوتے)
ٹنڈو بہاول کے مقتولین کی لاشیں جب گاؤں پہنچیں تو ہر شخص رو رہا تھا سوائے مرنے والوں کی ماں مائی جندو کے۔ جب رشتہ داروں نے اسے رلانے کی کوشش کی تو اس نے کہا مائی جندو اس وقت روئے گی جب اس کے بیٹوں کے قاتل کو سزائے موت ہوگی
میجر ارشد اور دستے کے ارکان کو گرفتار کر کے کورٹ مارشل کی کاروائی شروع ہوئی مائی جندو اور اُن کے خاندان کو ( آج کے تیراہ کی طرح) سمجھوتے کے بدلے بڑی زرعی زمین کی پیشکش ہوئی مگر وہ ڈٹ گئے۔ کورٹ مارشل میں میجر ارشد کو سزائے موت سنائی گئی مگر ( کلبھوشن یادو کی طرح) سزا پر عمل ہونے کا نام نہیں کے رہا تھا چار سال گزر گئے
ستمبر 1996 میں مائی جندو کی دو صاحبزادیوں حاکم زادی اور زیب النِسا نے اعلان کیا کہ اگر اُن کے بھائیوں اور شوہر کے قاتلوں کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ حیدرآباد میں عدالت کے سامنے خود سوزی کر لیں گی۔ عدالتیں آج جیسی ہی تھیں سزا پر عمل نہ ہوا تو مائی جندو کی بیٹیوں نے 11 ستمبر 1996 کو اپنی دھمکی پر عملدرآمد کر دیا شدید جھلس جانے کے باعث انہوں نے کراچی کے سول ہسپتال میں دم توڑ دیا۔
دو جانوں کی جھلسی لاشوں نے نظام کو مجبور کر دیا اور بالآخر 28 اکتوبر 1996 کو میجر ارشد کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی
جب مجرم کو پھانسی دی جارہی تھی تو مائی جندو کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ گرا اور پھر آنسوؤں کی بارش شروع ہوگئی
5 جون 1992 کی رات: ڈاکووں کے خلاف آپریشن میں میجر ارشد جمیل اعوان کی سربراہی میں ایک فوجی دستے نے RAW سے رابطہ رکھنے والے( اس دور کے خوارج) نو ڈاکو مار کر بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمدگی کا دعویٰ کیا
وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل آصف نواز دونوں ٹنڈو بہاول گئے اور انعامی رقم کا اعلان بھی کیا
نیشنل میڈیا ( آج کی طرح) اس پر خوب پروگرام کرتا رہا مگر پھر مقامی صحافیوں نے اس کے اصل حقائق کا پردہ فاش کر دیا۔
دراصل میجر ارشد کے بعض قرابت داروں نے مائی جندو کے خاندان کی زمین پر قبضہ کرنے کیلئے میجر ارشد سے مدد مانگی۔
5 جون کی رات میجر ارشد نے اپنے 15 فوجیوں کے ساتھ مائی جندو کے گھر میں موجود نو افراد کو اغوا کر لیا۔ جن میں مائی جندو کے دو بیٹے بہادر اور منٹھار اور داماد حاجی اکرم بھی شامل تھے۔
میجر ارشد اور اُن کے دستہ نے دریائے سندھ کے کنارے ان تمام افراد کو قطار میں کھڑا کر کے گولیاں مار کر قتل کر کے ڈاکو قرار دے دیا۔
مقامی اخبارات سے یہ کہانی عالمی میڈیا تک گئی اور شور مچ گیا۔ (اس وقت پیکا آرڈیننس نہیں تھا ورنہ مقامی صحافی اندر ہوتے)
ٹنڈو بہاول کے مقتولین کی لاشیں جب گاؤں پہنچیں تو ہر شخص رو رہا تھا سوائے مرنے والوں کی ماں مائی جندو کے۔ جب رشتہ داروں نے اسے رلانے کی کوشش کی تو اس نے کہا مائی جندو اس وقت روئے گی جب اس کے بیٹوں کے قاتل کو سزائے موت ہوگی
میجر ارشد اور دستے کے ارکان کو گرفتار کر کے کورٹ مارشل کی کاروائی شروع ہوئی مائی جندو اور اُن کے خاندان کو ( آج کے تیراہ کی طرح) سمجھوتے کے بدلے بڑی زرعی زمین کی پیشکش ہوئی مگر وہ ڈٹ گئے۔ کورٹ مارشل میں میجر ارشد کو سزائے موت سنائی گئی مگر ( کلبھوشن یادو کی طرح) سزا پر عمل ہونے کا نام نہیں کے رہا تھا چار سال گزر گئے
ستمبر 1996 میں مائی جندو کی دو صاحبزادیوں حاکم زادی اور زیب النِسا نے اعلان کیا کہ اگر اُن کے بھائیوں اور شوہر کے قاتلوں کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ حیدرآباد میں عدالت کے سامنے خود سوزی کر لیں گی۔ عدالتیں آج جیسی ہی تھیں سزا پر عمل نہ ہوا تو مائی جندو کی بیٹیوں نے 11 ستمبر 1996 کو اپنی دھمکی پر عملدرآمد کر دیا شدید جھلس جانے کے باعث انہوں نے کراچی کے سول ہسپتال میں دم توڑ دیا۔
دو جانوں کی جھلسی لاشوں نے نظام کو مجبور کر دیا اور بالآخر 28 اکتوبر 1996 کو میجر ارشد کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی
جب مجرم کو پھانسی دی جارہی تھی تو مائی جندو کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ گرا اور پھر آنسوؤں کی بارش شروع ہوگئی
🏆1
مجھے یہ جان کر نہایت خوشی ہوئی کہ بھارت کی فوج اب سیاست میں دخل اندازی کرنے لگی ہے۔ ان شاءاللہ اب ہمارے دیرینہ دشمن کو تباہی و بربادی سے مودی کا باپ بھی نہیں بچا سکتا۔ وہ دن دور نہیں جب بھارت کٹورا ہاتھ میں لیے دنیا بھر سے بھیک مانگتا پھر رہا ہوگا اور ملٹی نیشنل کمپنیاں بھارت چھوڑ کر بھاگ رہی ہوں گی
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
شہزاد حسین
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
شہزاد حسین
🤔2