Pakistan Times International
346 subscribers
90 photos
16 videos
73 links
Download Telegram
‏فوجی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ شہباز حکومت کی جانب سے دوسرں کے اشاروں پہ افغانستان کے حوالے سے اپنائی گئی پالیسیاں، جن میں افغان مہاجرین کو جبراً بے دخل کرنا، سرحدیں بند کرنا، تجارت کا گلا گھونٹنا، عالمی سطح پر افغانستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوششیں، جھوٹ پر مبنی میڈیا پروپیگنڈہ، نئے تجارتی راستے کھول کر افغانستان کو نظرانداز کرنے کی احمقانہ تدابیر، اشیائے خورد و نوش کی بندش کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی سطحی حکمت عملی، فضائی حملوں سے بے گناہ بچوں اور خواتین کی شہادت کے ذریعے خوف و حراس پھیلانا، اور اقتصادی و تجارتی پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں، لگاتار ناکامی سے دوچار ہو رہی ہیں۔
حیرت انگیز طور پر، افغانستان ان تمام رکاوٹوں کے باوجود نہ صرف ناکامی سے بچا ہے بلکہ کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ اسلام آباد میں افغان حکومت کے مخالفین کو پناہ دینا اور انہیں متحرک کر کے افغانستان کا امن خراب کرنے کی کوشش بھی بری طرح ناکام ہوئی ہے، اور آج افغانستان بدامنی سے نکل کر دنیا کے پرامن ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔

اس سب یہ ظاہر ہے افغان حکمران اپنی جیبوں پر ملک و قوم کو فوقیت دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان کا حکمران اور فوجی طبقہ اپنی حکمرانی کو لمبا کرنے اور جیبیں بھرنے میں لگے ہیں۔

اگر کسی کو کوئی شک ہے تو افغانستان اور پاکستان کی کرنسی کا موازنہ حاضر ہے۔ یہ آج کا ریٹ ہے۔۔۔

عادل راجہ
https://x.com/i/status/2049112725997973593
1
نندی پور پاور پلانٹ کے نقصانات اور کرپشن پر ستمبر 2016 میں ایک انکوائری شروع کی گئی لیکن اسی دوران اسکا سارا ریکارڈ جلا دیا گیا حالانکہ وہاں ہائی سیکورٹی تعینات تھی۔ نہ صرف ریکارڈ جلایا گیا بلکہ کمپیوٹر سے بھی تمام ریکارڈ ڈیلیٹ کروا دیا گیا۔

عدنان عادل
یہ آئی پی پیز بجلی بنائیں یا نہ بنائیں، کیپیسٹی پیمنٹس کی صورت میں اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
آئی پی پیز”مافیا“ میں وزیراعظم کے بیٹے سلیمان شہباز کی آئی پی پی”چنیوٹ پاور لمیٹڈ“ بھی شامل یے۔ انکا بجلی گھر ان بجلی گھروں میں شامل یے، جنہیں کپیسٹی چارجز کی مد میں بھاری ادائیگیاں ہوتی رہی ہیں۔۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس بجلی گھر کے مین اسپونسرسلیمان شہباز ہیں،انکی شیئرہولڈنگ 94.191فیصد ہے جبکہ باقی ماندہ سپونسرز کی شیئرہولڈنگ 5.809فیصد ہے۔ دیگر شیئرہولڈرز میں شریف ڈیری فارمز پرائیویٹ لیمیٹڈ (5.808فیصد)،ندیم سعید 0.001فیصد اور محمد سجاد انور0.001فیصد شامل ہیں۔۔۔اس بجلی گھر کی گراس کپیسٹی 62.4 میگاواٹ ہے جبکہ پرائمری ایندھن ”اِمپورٹ شدہ کوئلہ/اور بگاس (گنے کی پھوک) ہے۔ دستاویز کے مطابق منصوبے کی کل لاگت 62.18784ملین ڈالرز ہے۔ منصوبے کی اس لاگت میں قرض کی رقم 49.75027ملین ڈالر ہے جبکہ ایکوئٹی اماؤنٹ 12.437568ملین ڈالر ہے

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
چونکہ ایوب خان، یحیی خان اور ضیاء الحق کے تجربات سے جنرلوں نے سیکھ لیا تھا کہ سویلین قوتوں کو مکمل طور پر کچلا نہیں جاسکتا اور بین الاقوامی ماحول ایسا نہیں کہ جمہوریت کا گلا بالکل گھونٹ دیا جائے اس لیے فوج نے دیگر ذرائع سے ریاستی اقتدار میں پارٹنر بننے کو ترجیح دی۔

خاکی کمپنی ص 176
👍2
ان تین خبروں کو ایک سانس میں پڑھیں۔

1/کراچی میں کاٹن ایکسچینج کی کئی دہائیوں سے موجود عمارت اب ایف آئی اے نے کہا ہم لے رہے ہیں۔

2/ملتان میں کاٹن ریسرچ انسٹویٹ پر بیوروکریٹک ایلیٹ جم خانہ بننے کا پلان ہے۔

3/ پاکستان پر سال دو ارب ڈالرز کی کاٹن امپورٹ کررہا ہے کیونکہ اس کی پیدوار 33 فیصد کم ہوگئی ہے۔

رؤف کلاسرا
‏بجلی ہے نہی مگر بل ڈبل۔ اگر آپ نے سولر لگا لیا تو پھر بھی آپ کو روکا جا رہا ہے یا جرمانہ ڈالا جا رہا ہے۔ آسان الفاظ میں مسلہ سمجھیے۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہوا ہے اور ابھی بھی جاری ہے کیونکہ حکومتی خاندان اس چوری میں شامل ہیں۔ زرا اس کو آسان الفاظ میں سمجھیے۔ مثال سمجھئے کہ تیس سے بتیس روپئے میں آئ پی پی کارخانے لگائے گئے۔ اس میں انہوں نے صرف نو روپئے لگائے جس کا بیشتر حصہ بھی آسان شرائط پر ایڈوانس کے طور پر دیا گیا۔ باقی رقم ساری سرکاری قرضہ تھی۔ مگر ان کو گارنٹی دی گئ کہ ان سات روپئے سالانہ منافع کے طور پر ملیں گیں چاہے وہ زرا بجلی بھی نہ بنائیں۔ یعنی وہ ساری لاگت جو کہ رعائتی دی گئ اک سال میں پوری کر چکے۔ تقریبا بغیر پیسہ لگائے پاکستان کو گروی رکھ دیا گیا کہ ان کمپنیوں کو تیس سال تک ہم منافع دیتے رہیں گیں۔ چین کا نام استعمال ہو رہا ہے تا کہ کوئ بول نہ سکے مگر قوم کو تیس سال سے زیادہ ان کو ہر سال سات روپئے دینے ہیں۔ بغیر بجلی بنائے۔ اس طرح کا فراڈ تاریخ میں نہی ملتا۔ یعنی سارا پراجیکٹس فراڈ رھا کیونکہ زیادہ تو کمپنیاں شریفوں اور زرداریوں کی یا ان کے رشتہ دار اور پارٹنرز کی ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔ جس کی وجہ سے ہر پاکستانی تڑپ رہا ہے۔ نہ بجلی ہے اور بل ڈبل۔ مگر اس مافیا کو ہاتھ نہی ڈال سکتا کیونکہ اس کا نام ہے حکومتی پارٹی۔ کر لو جو کرنا ہے۔ خبردار اگر سولر لگایا۔ کیونکہ پھر ان کو دو ہزار ارب یعنی سات بلین ڈالر کیسے جائے گا بغیر بجلی بنائے۔ تاریخ میں ایسا فراڈ نہی ہوا۔ جس پر کوئ بولتا بھی نہی اور کچھ کرتا بھی نہی۔ بس عوام سے امید کرتے ہیں کہ کھوتے ہیں چپ کر کے بل دہے جائیں گیں۔ کچھ شرم کرو

عامر متین
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
پاکستانی حکمرانوں اور بیوروکریٹ کی دلچسپ باریک واردارت۔

اس وقت سرکاری اداروں کے اپنے ایک ہزار ارب روپے مختلف پرائیویٹ بنکوں کے کرنٹ اکاونٹ میں پڑے ہیں۔حکومت ان بنکوں میں یہ ڈیپازٹ رکھ کر انہی بنکوں سے مہنگے کمرشل قرضے لے کر اربوں کا سود ان بنکوں کو دیتی ہے۔
یہ پیسہ اسٹیٹ بنک یا نیشنل بنک میں رکھنے کی بجائے جہاں سے یہ خود ضرورت پڑنے پر بغیر سود ادا کیے اسے قرضہ سمجھ کر پھر واپس کر سکتی ہے، یہ ان بنکوں کو سود دے رہی ہے۔ اس سال پاکستان نے ان قرضوں پر تین ہزار ارب روپے صرف سود دینا ہے۔
اس سے بڑا گورکھ دھندا اور کیا ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے ڈیپازٹ پیسوں پرائیوٹ بنکوں کو ہی مارک اپ دے رہے ہیں۔ ایسا آپ نے پہلے کہیں سنا یا پڑھا ؟

رؤف کلاسرا
بری امام کے غریب متاثرین کو بے دردی سے بے گھر کر دیا گیا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کے گھر اجاڑ کر انہیں لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے، اور آج وہ اپنی ہی زمین پر بے بس کھڑے رو رہے ہیں۔

ادھر حکومت کی جانب سے مارگلہ ہلز کے دامن میں ایک ہزار ایکڑ پر مشتمل بڑا پارک بنانے کا منصوبہ سامنے آیا ہے، جس کا اعلان محسن نقوی نے کیا۔
اس منصوبے پر شہریوں اور ماہرین کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آ رہے ہیں، اور کئی لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اس ترقی کے نام پر غریبوں کے گھر ہی قربان کیے جا رہے ہیں؟

یہ ترقی نہیں… یہ غریبوں کے گھروں کی قیمت پر بننے والا “پارک” ہے۔
‏ابھی چند دن پہلے پاکستان نے UAE کو 3.45 ارب ڈالر کا ڈپازٹ بڑی مشکل سے واپس کیا ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق UAE کا ٹیلی کام گروپ e& (سابقہ اتیصالات) PTCL میں اپنی انویسٹمنٹ نکالنے کا جائزہ لے رہا ہے۔ PTCL میں e& کے پاس 26 فیصد شیئرز اور مینجمنٹ کنٹرول ہے۔ یہ جائزہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
PTCL پاکستان کی ٹیلی کام کی بیک بون ہے ۔ فکسڈ لائنز، براڈ بینڈ اور انٹرنیٹ سروسز اسی کے ذریعے چلتی ہیں۔ اگر یہ انویسٹمنٹ نکل گئی تو ٹیلی کام سیکٹر کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا۔
اسلام آباد

‏Big Breaking.
شاہراہِ دستور پر موجود متنازع ترین کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کو خالی کرانے کی اطلاعات ۔۔۔رات گئے پولیس کے ذریعے عمارت کو خالی کرانے کے احکامات دئیے گئے ہیں۔۔ ایک رہائشی کے مطابق چند پولیس اہلکار ہر اپارٹمنٹ میں جا کر اطلاع دے رہے ہیں کہ عمارت کو آج شام تک خالی کر دیا جائے۔
سی ڈی اے نے 2005 میں 13 ایکٹرز کی یہ زمین لگژری ہوٹل کیلئے 99 سالہ لیز پر ایک کمپنی کو دی تھی تاہم کمپنی نے ہوٹل کی بجائے لگژری اپارٹمنٹس بنا کر فروخت کر دئیے۔
پاکستان میں علاج
👍2
‏اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر واقع کانسٹیٹیوشن ٹاورز کا معاملہ گزشتہ رات سے سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔ تقریباً ہر بڑے صحافی اور انفلوئنسر نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا، لیکن جب اسلام آباد کے قدیم گاؤں سید پور سمیت مسلم آباد، بری امام، علامہ اقبال کالونی اور رمشا کالونی میں تجاوزات کے نام پر لوگوں کو بے دخل کیا گیا تو کتنے صحافیوں اور انفلوئنسرز نے اس معاملے کو اجاگر کیا اور اس پر بات کی؟

کانسٹیٹیوشن ٹاورز کی بلند و بالا عمارت یقیناً ایک بڑی خبر ہے، اور یہاں کے مکین بھی اہم ہیں، لیکن صحافتی اصولوں کے مطابق شہر کے ان پسماندہ طبقات کی راتوں رات بے دخلی اور ان کے گھروں پر بلڈوزر چلنا بھی کسی طور کم اہم نہیں تھا، جو اسی ایلیٹ کلاس کو اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

یہ فرق کیوں ہے؟ اس پر آپ ضرور غور کریں۔

دریں اثنا، اس تھریڈ میں ان بے گھر ہونے والے پسماندہ طبقات کی کہانی بھی ضرور پڑھیے اور سنیے گا۔

نعمت خان
مچھ جیل وارڈرز کا احتجاج
لائن افسر احمد خان رشوت لے کر من پسند وارڈرز کی ڈیوٹیاں لگا رہا ہے اور جو رشوت نہ دیں انکی ٹرانسفر کروارہا ہے۔ غریب وارڈرز جو معمولی تنخواہوں پر کام کررہے ہیں ، انکی تنخواہیں ہڑپ کر لی جاتی ہیں
1👎1
آج افسران کی چھٹی تھی اور لیکن جس کے نام پر چھٹی تھی وہ کام پر گیا تھا ۔۔۔

یکم مئی لیبر ڈے
‏اگر CSS کرنے والے اتنے قابل ہیں تو پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہے؟ اور TCS میں ایک بھی CSS آفیسر کام نہیں کرتا لیکن TCS پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے؟
آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں؟
آپ پولیس کا حال دیکھ لیں؟
آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھلیں وہاں کوئی CSS افسر نہیں ہے تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔
اینگرو گروپ
عارف حبیب گروپ
ڈی جی خان سیمنٹ سمیت تمام کامیاب ادارے پروفیشنل لوگ چلا رہے ہیں ۔
دنیا میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے ایسےپروفیشنلز جو اپنے ممالک کو آسمان تک لیے گئے اور بدقسمتی میں ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ایک پروفیشنل ڈاکٹر اور انجنیئر کے اوپر ڈپٹی کمشنر روعب جماتا ہے
جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے ۔اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں ہونگےعرب ممالک میں سی ایس ایس جیسا امتحان نہیں ہوتا وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے
جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں
پاکستان کو ترقی کے لئے سرکاری افسر شاہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز ۔سائنسدانوں اور انجینئرز ضرورت ہے

محمد آصف
کیا یہ پاکستان کی تقدیر ہے کہ یہاں کانسٹی ٹیوشن ایوینیو پر صریحاً غیر قانونی طور پر بنے وہ دو مینار تو سلامت رہیں جن میں پاکستان کے طاقتور ترین سیاستدانوں ، بیورو کریٹوں ، ججوں اور اشرافیہ کے اپارٹمنٹ ہیں لیکن کراچی کا سترہ منزلہ نسلہ ٹاور عدالت کے حکم پر 2021 میں اسلئے زمیں بوس کر دیا جائے کہ وہاں بیچارے مڈل کلاس پاکستانی اپاٹمنٹوں کے مالک تھے اور جو آج بھی نہ جانے کہاں کہاں دھکے کھا رہے ہونگے؟؟

احمد بلال محبوب
‏موسی ورک کو اغوا کیا گیا تو کتنے دن مکمل خاموشی رہی کہ شاید کچھ رستہ نکل آئے ابھی تک موسی کا کوئی اتاپتہ کسی کو معلوم نہیں۔ حافظ سعد ریاض کو اغواء کیا گیا تو ساتھ ہی ایک ایف آئی آر درج ہوگئی۔ کم از کم معلوم تو ہے کہ وہ کدھر ہیں۔ موسی ورک کے پرانے ٹویٹس کھنگالے گئے تو جا بجا حب الوطنی ، عزم اور ایک نوجوان کے خواب نظر آئے۔ حافظ صاحب کے پرانے ٹویٹس میں کہیں کسی کے اغواء کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو کہیں قتل عام کو جھٹلایا جارہا ہے۔ موسی ورک کے اغواء پر چند عدد لوگوں کے سواء سبھی خاموش رہے۔ سعد ریاض کے اغواء پر سبھی کو ہمدردیاں اور مذمتیں یاد آگئیں ۔ سعد ریاض کے گزشتہ افکار بتا رہے ہیں کہ اٹھانے والوں کو یہاں بھی کوئی “تکنیکی غلطی” لگی ہے جو جلد درست کردی جائے گی۔ اللہ سے دعا ہے کہ حافظ صاحب کو محفوظ رکھے کیونکہ یہ بلا اندھی ہے۔ یہ اکثر اپنے بچے پیروں تلے روند دیتی ہے۔

#enkido
👍1
Pakistan Times International
Photo
‏ملکہ کی تصویر دکھائی دے گئی کھانا کھاتےہوئے اور کھانےکے کمرے میں موجود سکاٹش دھن آپ کو نہ دکھائی دی نہ سنائی دی۔ یعنی وہ کونسی ٹریننگ ہے ، وہ کونسا رکھ رکھاؤ اور آداب ہیں کہ ایک انسان کو کھانےکے دوران اس قدر بلند ایسی واہیات اور غیر ملکی دھنیں سننے پر مجبور کرتے ہیں ؟ اگر پاکستانی فوج کے افسران ڈھول کی تھاپ پر روٹی کھا رہے ہوں تو پھر بھی کچھ سمجھ آئے کہ ولولہ انگیزی بڑھائی جارہی ہے۔

انکی وردیوں کے رنگ ، انکے کندھوں پر لٹکے ہوئے کپڑے دھونے والے برش ، انکےسینوں پر لٹکا ہوا پیتل ، انکے دیواروں پر آویزاں سوینئیرز ، ٹیبل پر دھری ٹرافیاں کچھ بھی ان کا اپنا نہیں۔ دور غلامی کو یہ شاندار وراثت سمجھ کر مناتے ہیں۔اگر قوم کی آزادی میں اس فوج کا رتی برابر بھی کردار ہوتا تو یہ سبھی نشانیاں لعنت کا طوق سمجھتے ہوئے اتار پھینکی جاتیں۔

اور اس کمرے میں آپ بھی موجود ہیں۔ آپ کو وہ بھی دکھائی نہیں دیا۔ آپ نے جالی دار نماز والی ٹوپی پہن رکھی ہے۔ آپ نے واسکٹ پہن رکھی ہے۔ آپ نے سفید شلوار قیمض پہن رکھی ہے۔ جب صاحب لوگ ، بھورے رنگ کے صاحب لوگ کھانا کھا رہے ہوں تو ایک عدد غلام، غلامانہ کپڑے پہن کر ، غلاموں کی طرح کمرے میں کھڑا ہونا چاہیے تاکہ صاحب لوگ مکمل تاثر لے سکیں کہ وہ چکوال کے اعوان نہیں بلکہ ایلڈر شاٹ کے ٹامی ہیں۔

Enkido
1
‏نواز شریف کے دیرینہ ساتھی ابصار عالم نے محسن نقوی کو "قبضہ مافیا کا سب سے بڑا کارندہ" قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وزیر داخلہ کی اہلیہ کا نام دبئی لیکس میں شامل ہے اور کالے دھن کو ایمنسٹی کے پیچھے چھپایا گیا۔ انہوں نے براہ راست سوال کیا کہ "100 ارب روپے ہنڈی کے ذریعے باہر چلے گئے، امیگریشن آپ کے زیر انتظام ہے تو یہ سب کیسے ہوا؟" یہ تلخ حقیقت اب سامنے ہے کہ جو خود ڈالروں سے بھرے جہاز دبئی بھیج رہے ہوں، وہ ملک کا پیسہ واپس کبھی نہیں لائیں گے۔

نواز شریف کے قریبی ساتھی ابصار عالم کا یہ دعویٰ کہ "سندھ سے جہازوں کے ذریعے ڈالر دبئی جا رہے ہیں" اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ نظام کے محافظ ہی جب لوٹ مار میں شریک ہوں تو ملکی دولت کی واپسی ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اس ڈاکو ڈفر الائینس کی کارستانیوں اور عیاشیوں میں عوام پستی ہے اور نقصان ملک کا ہوتا ہے ۔ 🙄 🤔

زین اللہ خٹک