Pakistan Times International
345 subscribers
91 photos
16 videos
74 links
Download Telegram
‏ہم واپڈا سے بجلی خریدیں گے تو 60 روپے فی یونٹ دیں گے۔
جب ہم اپنی سولر بجلی واپڈا کو دیں گے تو صرف 10 روپے فی یونٹ ملیں گے
بہتر ہے اپنے سولر سے ایکسٹرا بجلی 10 روپے فی یونٹ اس حکومت کو دینے کی بجائے آپ 30 روپے فی یونٹ اپنے ہمسائے کو دے دیں ۔
اس کا بھی بھلا ہوجائے گا اور آپ کا بھی ۔

کاشف چوہدری
‏کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ نوجوان صالح آصف کی اسٹارٹ اپ ’کرسر‘ کا ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ 60 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا ہے۔

رائٹرز کے مطابق صالح آصف کی کمپنی کرسر نے کمپیوٹر کوڈنگ کو خود کار بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ڈویلپرز کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

دنیا کی ہزاروں آئی ٹی کمپنیوں جن میں ایڈوب، نیویڈیا، شاپی فائے سمیت بڑی کمپنیاں شامل ہیں کے ڈویلپرز کوڈنگ کے لیے کراچی کے اس نوجوان کی کمپنی سے مستفید ہوتے ہیں۔

معاہدے کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے کرسر کو خریدنے کا مفاہدہ کیا ہے، یہ معاہدہ 60 ارب ڈالر کا ہے، اور اگر اس سال کے آخر تک اسپیس ایکس یہ رقم ادا نہ کرسکی تو وہ کرسر کمپنی کو 10 ارب ڈالر دے کر صالح آصف کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

علاوہ ازیں صالح آصف کا نام فوربز میگزین کی ارب پتی افراد کی فہرست میں بھی شامل ہوگیا ہے۔ کرسر کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 29 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔

صالح آصف کراچی سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے نکسر کالج سے تعلیم حاصل کی، اور بعد میں میساچوسٹس آف ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا۔ پھر وہاں انہوں نے تین دوستوں کے ساتھ مل کر اے آی کوڈ ایڈیٹنگ ٹول کرسر بنانے والی کمپنی Anysphereکی بنیاد رکھی۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
‏عدالتوں میں انصاف مانگنے والے غریب لوگ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، جبکہ حکومتی جبر ہر ادارے سے ٹپک رہا ہے۔ پنجاب پولیس ایک بے سدھ، نیم مردہ حالت میں شخص کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں گھسیٹ کر پیش کر رہی ہے۔ دو اہلکار اسے سہارا دے کر نہیں، بلکہ اٹھا کر لا رہے ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ تشدد کیا گیا ہے

یہ منظر کسی مہذب ریاست کا نہیں، ظلم زدہ نظام کا چہرہ ہے۔ جہاں کمزور کو مارا جاتا ہے، غریب کو رلایا جاتا ہے، اور طاقتور قانون سے بالا تر بیٹھے ہوتے ہیں۔ انصاف کے ایوانوں میں اگر اس حال میں لوگ لائے جائیں تو پھر یہ عدالتیں نہیں، مظلوموں کی تذلیل گاہیں بن جاتی ہیں۔

اللہ ان غریبوں پر رحم کرے، اور اس ظالمانہ نظام کو نیست و نابود کرے۔

#نااہل_حکمراں_عوام_پریشان
#ShameOnJudges
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
عوام پہلے ہی بجلی پٹرول گیس سے مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں
اوپر سے ٹریفک اہلکاروں کے مہنگے چالانوں، تشدد اور گالی گلوچ پر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ۔
2019 میں سکینڈل سامنے آیا تھا کہ چینی شہری جھوٹے قبول اسلام یا قبول عیسائیت کو ظاہر کرکے مسلمان اور عیسائی لڑکیوں سے شادی کرکے ان سے چین میں جسم فروشی کرواتے رہے ۔ اس ویلاگ میں خاتون نے اسی معاملے پر تحقیق کی ہے کہ کیا یہ کام اب بھی چل رہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اس معاملے کو پاک چین تعلقات کے سبب نظر انداز کرتا رہا ہے
https://youtu.be/87X6ts2iNwU?si=jg0My0Y9pYnoXGlQ
‏آج صدر راولپنڈی، GPO چوک پر ایک عجیب منظر دیکھا، جو ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے

میں بائیک پر کھڑا تھا کہ دو خواتین نے رکشہ بُک کیا۔ کرایہ طے ہونے لگا۔
رکشہ والے نے کہا: 250 روپے لگیں گے باجی
خواتین: نہیں بھائی، 200 سے ایک روپیہ اوپر نہیں دیں گی، بس!
کافی بحث کے بعد غریب رکشے والا 200 پر مان گیا۔ پسینہ بہا کر، محنت سے کمانے والا 50 روپے ہار گیا۔

خواتین رکشے میں بیٹھیں ہی تھیں کہ ایک بھکاری آ گیا۔ ہاتھ پھیلایا۔
اور بنا ایک لمحہ سوچے، اُن میں سے ایک خاتون نے پرس سے 100 کا نوٹ نکال کر اُسے دے دیا۔

میں یہ سب دیکھ کر بس سوچتا رہ گیا...

جس رکشے والے نے دھوپ میں جل کر آپ کو منزل تک پہنچانا تھا، اُس سے 50 روپے کے لیے جھگڑا کر لیا۔
اور جس نے صرف ہاتھ پھیلایا، اُسے 100 روپے فوراً دے دیے؟

یہ کیسی سوچ بن گئی ہے ہماری؟
محنت کی قیمت کم اور بھیک کی قیمت زیادہ کیوں ہو گئی ہے؟
کیا وہ رکشہ ڈرائیور اُس 100 روپے کا زیادہ حقدار نہیں تھا جس نے پسینہ بہانا تھا؟

کبھی کبھی لگتا ہے ہم ہمدردی غلط جگہ دکھا رہے ہیں۔ محنت کش کو اُس کا حق دو، عزت دو۔ بھیک نہیں، روزگار کو فروغ دو۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

اسامہ خان۔۔۔۔
1👍1
جو ابھی پیٹرول کی قیمتوں میں 27 روپے اضافہ ہوا ہے یہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ سے نہیں کیا گیا یہ شہباز شریف نے لیوی 80 روپے سے بڑھا کر 107 روپے کر دی ہے کیونکہ ریونیو میں شاڑٹ فال آ رہا تھا جو کہ FBR کی ناکامی ہے جنہیں مراعات اور گاڑیاں لے کر دی گئیں ہیں

اسد طور
😢2
پیٹ حلق تک بھرا ہوا ہو، تاحیات ملازمتوں کی ضمانت حاصل ہو، اور ڈی ایچ اے میں پلاٹ اور گھر ہوں تو یہ سوال کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔
2
یہ فرعونی نظام اپنے ایک پالتو کتے یا کتیا پر بھی جائز تنقید برداشت نہیں کرتا
👍2
بھارتی ریٹائرڈ میجر گورو آریہ کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں وہ سامنے بیٹھے انٹرویو لینے والے شخص سے کہہ رہا تھا کہ ہمیں (بھارت کو) بلوچستان میں ماہانہ 500 ملین ڈالرز ڈالنے چاہئیں (تاکہ وہاں بدامنی کو بڑھاوا دیا جاسکے)۔ میجر کے مطابق بھارت کو بلوچستان میں سالانہ 6 ارب ڈالر انجیکٹ کرنا چاہیے اور یہ سلسلہ کم سے کم دس سال تک چلنا چاہیے۔

یعنی 60 ارب ڈالرز۔۔۔۔۔۔۔

بھارت مسائل کا گڑھ ہے۔ دنیا کا کون سا مسئلہ ہے جو بھارت میں نہیں پایا جاتا۔ انتہا کا گندہ، غلیظ ترین، بیماریوں سے اٹا ہوا ملک ہے۔ یقیناً بھارت کے میکرو اکنامک نمبرز شاندار ہیں، ارب پتیوں اور خوشحال مڈل کلاس کی تعداد میں اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے۔ اپنی بڑی آبادی کی وجہ سے ایک نہایت پرکشش مارکیٹ ہے

لیکن بھارت کے اس ترقی کرتے چہرے کے پیچھے، ایک انتہائی پسماندہ چہرہ بھی چھپا ہے

میں ٹرینوں میں بھارتی عوام کو جانوروں کی طرح لدا ٹھونسا ہوا دیکھتا ہوں تو دل ہول کر رہ جاتا ہے۔ وہاں کی جھونپڑ پٹیوں میں زندگی کسی جہنم جیسی محسوس ہوتی ہے۔ ایک بڑی اکثریت صاف پانی سے محروم ہے۔ اکثریت اتنی غریب ہے کہ وہ ڈھنگ سے اپنے جنازے نہیں کرپاتے۔ دریا کنارے ادھ جلی تیرتی انسانی لاشوں کا منظر عام ہے جنھیں اکثر آوارہ کتے یا گدھ کوے بھنبھوڑ رہے ہوتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میرا کئی دنوں تک دل خراب رہتا ہے

اور اسی بھارت کا ایک سو کالڈ "محب وطن" انٹرویوز میں بیٹھ کر کہتا ہے کہ (پاکستان کو سبق سکھانے واسطے) بھارت سرکار کو 6 ارب ڈالر سالانہ رقم بلوچستان میں انجیکٹ کرنی چاہیے

اس محب وطن کو یہ خیال کبھی نہیں آتا کہ اتنی رقم سے لاکھوں بھارتیوں کا بھلا بھی ہوسکتا ہے

ایسے محب وطن، اپنے ہم وطنوں کی حالت زار سے اس قدر کٹے ہوئے ہیں کہ انھیں احساس ہی نہیں کہ دسیوں کروڑوں بھارتی، جو روزانہ ٹرین سے لٹک کر سفر کرتے، گندا پانی پیتے، دہلی ممبئی، لکھنؤ جیسے انتہائی آلودہ شہروں میں سانس لے کر اپنے پھیپڑے تباہ کرتے ہیں، انھیں اس بات سے زرہ برابر فرق نہیں پڑتا کہ بلوچستان میں کیا ہورہا ہے

یہ تحریر، میجر گورو آریہ جیسے کمین، سو کالڈ حب الوطن کے لیے نہیں، بلکہ اس دنیا کی ہر ریاست میں موجود، ایسے ہی عوام سے مکمل طور پر کٹے ہوئے حب الوطنوں کا نوحہ ہے

مخصوص ریاستی بیانیے کا پروپگینڈا کرنے والا ہر انسان، درحقیقت اندر سے میجر گورو آریہ ہے

یہ سارے کے سارے ایک جیسا سوچتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاست کا سب سے اہم مسئلہ، گریٹ گیمز کھیلنا ہے

آپ ایک کام کیجیے۔

گوادر کے ساحلی علاقوں کے نزدیک آباد بستیوں سے شروعات کیجیے اور گلگت بلتستان کی سرسبز وادیوں تک جا پہنچیے

راستے میں جہاں جہاں عام عوام ملے، ان سے ان کے مسائل اور ترجیہات پوچھتے چلے جائیے۔

کسی کو مہنگائی، کسی کو بیروزگاری، کسی کو کام نہ ہونے، کسی کو لوڈ شیڈنگ، کسی کو لاقانونیت، کسی کو امن و آمان، کسی کو صحت کی ناکافی سہولیات تو کسی کو تعلیم کے مواقع نہ ہونے کا مسئلہ ہوگا۔ کوئی پانی نہ ملنے، تو کوئی گیس نہ ہونے کی دہائی دے رہا ہوگا

99.9999 فیصد عوام کے مسائل یہی ہیں

عوام کو عالمی شطرنج کی بساط پر کھیلے جانے والے کسی کھیل سے کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں۔ نہ کسی بھارتی کو بلوچستان میں بدامنی سے کوئی مطلب ہے، نہ کسی پاکستانی کو دنیا میں واہ واہ ہونے سے کوئی سروکار

لیکن آپ ان سو کالڈ کمین قسم کے محبت وطنوں کی وال پر جائیں تو وہاں آپ کو عوامی مسائل مکمل طور پر غائب نظر آئیں گے۔ یہ سارے بس گریٹ گیمز کے فضول لالی پاپس وال پر سجائے بیچنے بیٹھیں ہوں گے جن سے عوام کی انتہائی بھاری اکثریت کا دور دور تک کچھ لینا دینا نہیں

گریٹ گیمز کھیلتے ہوئے وہ ممالک اچھے لگتے ہیں جہاں ترجیحی بنیادوں پر، اکثریتی عوامی مسائل کو حل کرلیا گیا ہو

آپ ایسے تمام لکھاریوں کو خاموشی سے چیک کیجیے جنھوں نے شاندار خارجہ پالیسی پر لکھ لکھ کر قلم توڑ ڈالے۔ آپ کو ان کی وال پر، عوامی مسائل پر ایک لفظ نہیں ملے گا۔

ان سب کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے جو انتہائی تعفن زدہ اور گندے لیٹرین میں بیٹھا ہوا ہو پر گندگی پر بات کرنے کی بجائے آپ کو اوپر جلتا ہوا ہے زردی مائل بلب دکھا کر کہے کہ اس جگہ کی کیا بات ہے کہ یہاں ایک روشن بلب جگمگا رہا ہے

آپ بھارت ، پاکستان، اسرائیل، امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے ان افراد کو چیک کرلیجیے جو ریاستی بیانیہ بیچتے ہیں۔ یہ سب کے سب آپ کو بلکل ایک جیسے غبی، احمق، عوامی معاملات سے مکمل کٹے ہوئے اور انتہائی درجے کے بے حس نظر آئیں گے

ان سب کے اندر ایک میجر گورو آریہ بستا ہے۔۔۔۔۔۔!!!!

شہزاد حسین
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
ایک سال میں اس نے معیشت ٹھیک کرنی تھی
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
🤣1
پاکستان میں بیف اور مٹن کی قیمتیں آئے روز ایسے بڑھنے لگی ہیں جیسے جانور آبنائے ہرمز سے لائے جارہے ہوں
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
ترکمانستان کے گیس کے ذخائر پر چین کی مضبوط گرفت

توانائی سے مالا مال مگر دنیا سے کسی حد تک کٹا ہوا ملک ترکمانستان یورپ اور برصغیر کی منڈیوں تک رسائی چاہتا ہے، لیکن اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ چین اس کے وسیع گیس ذخائر پر سبقت لے جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

ترکمانستان کے وسیع گیس ذخائر، جو دنیا میں چوتھے بڑے ذخائر سمجھے جاتے ہیں، تک رسائی کے لیے سب سے زیادہ سرمایہ کاری چین کر رہا ہے۔ اگرچہ ترکمانستان یورپ اور برصغیر کی جانب برآمدات بڑھانا چاہتا ہے، لیکن سرمایہ کاری کے ذریعے چین نے اس کے گیس ذخائر میں فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔

ترکمانستان کے وسیع و عریض ریگستان میں، گالکِنیش کے بہت بڑی گیس فیلڈ پر چینی انجینئر دن رات کام کر رہے ہیں۔

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
ایک کلپ نظر سے گزرا
کراچی میں ایک کار والے کے 500 روپے کا چالان کرنے پر کار والے نے گاڑی ٹریفک والے پر چڑھانے کی کوشش کی۔ ٹریفک والا جان بچانے کے لیے گاڑی کے بونٹ پر چڑھ گیا۔ کار والے نے اسکے بونٹ پر ہوتے ہوئے شہر کا اچھا خاصہ چکر لگوا دیا۔
👻1
‏ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ ہے IPPs۔ یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے۔
ان معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے آپ پہلے سے واقف ہیں لیکن ان خون آشام اداروں کے مالک کون کون ہیں وہ بھی آپکو پتہ ہونا چاہیے
28 فیصد شریف خاندان ۔۔ %16 نواز لیگ کے رہنما ۔۔۔ تقریبا % 16 ہی زرداری اور %8 پیپلز پارٹی کے رہنما اور %10 اسٹیبلشمنٹ جو اس ملکے کی سلامتی کی ٹھیکدار ہے ۔۔ %8 وہ جن کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے یعنی چینی کمپنیاں ۔۔ %8 ہمارے مسلم برادر عرب کے سرمایہ کار (قطری) بابو اور تقریبا %6 فیصد پاکستانی سرمایہ دار ہیں ۔۔
یعنی 78 فیصد صرف تین گروپس ( شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ) کی ملکیت ہیں۔ ۔۔ اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجیے ۔۔۔ یہی وہ 90 لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز، سٹیل ملز، سیمنٹ، کھاد، کپڑے، بنک، LPG اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں۔۔۔۔
یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا %125 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئےلیکن یہ بجلی گھر صرف %48 فیصد بجلی فراہم کرتے ہیں """ لیکن قیمت عوام سے %125 فیصد کی وصول کرتے آ رہے ہیں، لہذا پچھلے 5 سال میں 6 ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا اج بھی 2900 ارب کا مقروض ہے۔
یہ تحریر بہت قیمتی ہے ۔۔۔ اس کو شیئر کریں تاکہ ان بدبخت اور لٹیرے حکمرانوں کاحال اس عوام کو پتہ چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد فیصل
دنیا کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں بنک میں سٹاف کیلئے چھوٹے چھوٹے کیبن بنے ہوں گے اور باقی پورے ہال میں کسٹمر ز کیلئے وی آئی پی قسم کی نشستیں بنی ہو گی کافی مشینیں اور ٹھنڈے گرم پانی کے ڈسپنسرز لگے ہوں گے کام کے اوقات میں آپ اگر کام والے کپڑوں میں جائیں گے تو عملہ پہلے آپ کو ترجیع دے گا آپ اپنا لین دین منٹوں میں سرانجام دے کر فارغ ہوں جائیں گے
ایک ہمارا ملک پاکستان ہے جہاں ہمارے ہی پیسوں پر چلنے والے بنکوں کا عملہ کسٹمرز کو سارا سارا دن نہ صرف دھوپ میں لائنوں میں کھڑا رکھتا ہے بلکہ خود اے سی کمروں میں بیٹھ کر خوش گپیاں کر رہے ہوتے ہیں اور کام ایسا کر رہے ہوتے جیسے یہ ان کی ڈیوٹی نہیں بلکہ عوام پر احسان عظیم کر رہے ہیں
پاکستانی بنکوں کے سروس چارجز دوسروں ملکوں کے مقابلے میں ڈبل ہوتے ہیں لیکن کسٹمرز کیلئے کوئی سہولت نہیں 👇
مردہ قوم
کیا سہیل آفریدی اور گنڈا پور میں یہی فرق ہے کہ سہیل آفریدی کی پریزینٹیشن اچھی ہے باقی ڈیوٹی اسکی بھی یہی ہے کہ عوامی طاقت اور غصہ ڈیفیوز کرتا رہے
اللہ کی نعمت پر بھتہ لینے والے حکمران
👎1