Pakistan Times International
344 subscribers
91 photos
16 videos
74 links
Download Telegram
چین نے ایران جنگ میں ’جامع اور دیرپا جنگ بندی‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال اب ایک ’انتہائی نازک مرحلے‘ میں داخل ہو چکی ہے۔
‏کارپوریٹ آڑھتی کا عروج، یا نیا IPP ماڈل؟ پنجاب ویٹ پالیسی 2026 کا بے لاگ تجزیہ
خرم مشتاق

پنجاب کی ویٹ پروکیورمنٹ پالیسی 2026 کو ایک بڑی اصلاح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت گندم کی براہ راست خریداری سے نکل رہی ہے، مارکیٹ کو آزاد کیا جا رہا ہے، اور ایک modern، efficient اور transparent نظام متعارف ہو رہا ہے۔ مگر جب اس پالیسی کو اس کے فنانشل ڈھانچے، رسک میکانزم اور مارکیٹ ڈائنامکس کے ساتھ پڑھا جائے تو ایک مختلف کہانی سامنے آتی ہے۔ یہ اصلاح کم اور ایک state-backed commercial structure زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

اس پالیسی میں حکومت نے خریداری کا عمل نجی کمپنیوں یعنی aggregators کو دے دیا ہے۔ یہ کمپنیاں کسانوں سے گندم خریدیں گی، بینکوں سے فنانسنگ لیں گی، سٹوریج کریں گی اور بعد میں مارکیٹ میں سپلائی کریں گی۔ بظاہر یہ ایک نارمل private sector activity لگتی ہے، مگر اصل حقیقت اس کے مالیاتی میکانزم میں چھپی ہوئی ہے۔

یہ aggregators جو قرضہ لیں گے وہ KIBOR پلس ون یا اس کے آس پاس ہوگا، یعنی موجودہ حالات میں تقریباً دس سے بارہ فیصد کی لاگت پر۔ اس فنانسنگ کے ساتھ صرف سود ہی شامل نہیں ہوتا بلکہ اس میں بینک کے دیگر چارجز بھی شامل ہوتے ہیں جیسے processing fee، insurance، handling charges اور working capital cost۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ effective financing cost بارہ سے چودہ فیصد تک جا سکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ بینک چارجز کون ادا کرے گا؟ بظاہر یہ لاگت نجی کمپنی یعنی aggregator اٹھا رہی ہے، مگر حقیقت میں یہ cost system کے اندر absorb ہو جاتی ہے۔ کیونکہ کمپنی اپنا margin اسی بنیاد پر set کرتی ہے اور آخرکار یہی لاگت گندم کی final price میں شامل ہو جاتی ہے۔ اگر price benchmark سے نیچے آتا ہے تو حکومت price differential دے کر اسی cost کو cover کرتی ہے۔ یعنی بالواسطہ طور پر یہ مالی بوجھ عوامی خزانے پر منتقل ہو جاتا ہے۔

اس کے ساتھ aggregators کو دس سے سولہ فیصد تک agreed profit margin دیا جا رہا ہے۔ یہ profit explicitly “guaranteed return” کے طور پر شاید نہ لکھا گیا ہو، مگر structure ایسا ہے کہ یہ margin effectively protect ہو جاتا ہے۔ کیونکہ downside risk یعنی قیمت کا گرنا، default کا خطرہ، یا stock کا نہ بکنا، یہ سب بڑی حد تک حکومت absorb کر رہی ہے۔

جب ہم financing cost اور profit margin کو اکٹھا کرتے ہیں تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ اگر بارہ سے چودہ فیصد financing cost ہے اور اس کے ساتھ دس سے سولہ فیصد margin شامل ہو جائے تو اس پورے نظام کی effective cost پندرہ سے بیس فیصد بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ بن سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گندم کی جو خریداری ہو رہی ہے، وہ اصل میں اس سے کہیں زیادہ مہنگی ہو رہی ہے جتنا بظاہر نظر آتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر حکومت خود گندم خریدتی تو اس کی borrowing cost بارہ سے چودہ فیصد کے درمیان رہتی، جبکہ اس نئے ماڈل میں یہی کام زیادہ مہنگا ہو رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ خرچ براہ راست بجٹ میں نظر آتا تھا، اب یہ بینکوں، گارنٹیوں اور پرائیویٹ کنٹریکٹس کے ذریعے price میں embed ہو گیا ہے۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ ماڈل پاور سیکٹر کے IPP model سے مماثلت اختیار کرتا ہے۔ وہاں بھی financing cost، return اور risk کو ایک ایسے structure میں ڈال دیا گیا تھا جس میں نجی سرمایہ کار کو ایک محفوظ ماحول دیا گیا اور اصل بوجھ بالآخر عوامی صارف پر منتقل ہو گیا۔ یہاں بھی profit formally guaranteed نہ ہو مگر practically secured ہے، اور financing cost بھی آخرکار public system میں absorb ہو رہی ہے۔

حکومت اس پالیسی کو زیرو بجٹ ماڈل کہہ رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ زیرو بجٹ نہیں بلکہ deferred cost model ہے۔ آج حکومت اپنے بجٹ سے گندم نہیں خرید رہی، اس لیے cash outflow نہیں ہو رہا۔ مگر ایک سال کے اندر جب price differential دینا پڑے گا، یا credit guarantee استعمال ہوگی، یا surplus stock اٹھانا پڑے گا، تو یہی لاگت بڑھ کر واپس آئے گی۔ یعنی fiscal space create نہیں ہوئی، صرف وقتی طور پر دکھائی گئی ہے۔

اس پالیسی میں limited number of players یعنی تقریباً دس یا گیارہ aggregators کو مرکزی کردار دیا گیا ہے۔ جب entry محدود ہو، financing state-backed ہو، margins structured ہوں اور downside risk کم ہو، تو competition حقیقی نہیں رہتی۔ یہاں collusion کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ قیمتوں کو ایک خاص حد میں رکھنے، سپلائی کو کنٹرول کرنے اور coordinated behavior پیدا کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس سے market efficiency کے بجائے rent-seeking کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
۱/۲
کابل/تاشقند: افغانستان اور ازبکستان نے سرحدی علاقوں میں منـــشیات کی نقل و حمل کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور آپریشنل ہم آہنگی کو فروغ دے گی۔

تفصیلات کے مطابق افغان وزارتِ داخلہ کے معاون برائے انسدادِ منـــشیات 'عبدالرحمن منیر' اور ازبکستان کے وزیرِ داخلہ 'عزیز تاشپولادویچ' کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات میں اس اہم پیش رفت پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں ممالک کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ منـــشیات کی اسمگلنگ ایک علاقائی خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے انفرادی کوششوں کے بجائے مشترکہ محاذ ضروری ہے۔

اس معاہدے کے تحت بننے والی تکنیکی ٹیم سرحدوں پر جدید مانیٹرنگ اور اسمگلنگ کے راستوں کی نشان دہی کے لیے کام کرے گی۔
طاقتور کے سامنے بخوشی سرنڈر کرجانے والا،

طاقتور کے سامنے ڈٹ جانے والے سے شدید نفرت کرتا ہے

شہزاد حسین
👍1
گرمی کی شدت ہر سال بڑھ رہی ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے فوج ملک بھر میں بہت سے علاقوں میں درختوں کی بے دریغ کٹائی کا کام مسلسل کروارہی ہے، کہیں سیکیورٹی کے نام پر اور کہیں زمینیں قبضے کرنے کے لیے ۔ اس پالیسی کے نتائج پاکستان اور پاکستان کی عوام کے لیے تباہ کن ہونگے
لاہور میں افسوسناک واقعہ
اچھرہ کے علاقہ میں گھر سے تین بچوں کی نعشیں برآمد، تینوں کو گلا کاٹ کاٹ کر قتل کیا گیا، وقوعہ کے وقت والدین گھر سے باہر تھے، بچوں کی عمریں ڈیڑھ سے پانچ سال کے درمیان ہیں۔ مقتولین میں دو بچیاں اور ایک بچہ شامل ہیں۔
خیبر: باڑہ اکاخیل میں فائرنگ، ایس ایس جی کے دو افسران زخمی، کیپٹن بلال ہلاک

قبائلی ضلع خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے علاقے اکاخیل میں فوجی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں پاکستان آرمی کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے دو افسران شدید زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق کیپٹن بلال اور میجر عادل کو سر میں گولیاں لگیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر پشاور کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم کیپٹن بلال زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ میجر عادل کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور وہ تاحال زیر علاج ہیں۔

واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
پشاور: کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ احتساب عدالت میں شریک ملزم محمد ایوب کی پلی بارگین درخواست پر سماعت ہوئی، جس کی صدارت جسٹس محمد ظفر نے کی۔

سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین پہلے ہی ملزم کی پلی بارگین درخواست منظور کر چکے ہیں۔ ملزم کے وکیل بیرسٹر حسیب پیرزادہ نے عدالت سے استدعا کی کہ پلی بارگین کی منظوری کو برقرار رکھتے ہوئے ملزم کو رہا کیا جائے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد شریک ملزم محمد ایوب کی پلی بارگین درخواست 3 ارب 86 کروڑ روپے کے عوض منظور کرتے ہوئے اس کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

واضح رہے کہ محمد ایوب 40 ارب روپے مالیت کے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں شریک ملزم تھا، اور نیب کی جانب سے اس کی پلی بارگین درخواست پہلے ہی منظور کی جا چکی تھی۔
اب ‎آئی ایم ایف نے نئی گیارہ شرائط بھیجی ہیں اگر ایک ارب ڈالر کی قسط لینی ہے۔اب تک 75 شرائط بھیج چکے ہیں۔ان میں ایک شرط بھی ایسی نہیں کہ وزیروں مشیروں اور خوشامدی دوستوں کی تعداد کم کرو،جہاز نہ خریدو،لگژری گاڑیاں مت لو،وزیروں /ارکان کی تنخواہیں راتوں رات پانچ سو گنا نہ بڑھا دو، سیکورٹی ایکسچینج کمشن آف پاکستان نے جو سترہ ماہ پرانی تاریخ سے سوا ارب روپے ہتھیا لیے وہ ریکور کرائیں، یہ سیکورٹی ایکسچینج کمشن اب سات ارب روپے کا دفتر بنا رہا ہے وہ نہ بنائیں، پانچ سو ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کے نام پر جو ارکان اسمبلی کو رشوت دی جاتی ہے جس میں بقول شاہد خاقان عباسی تیس فیصد کمشن ہے اسے بند کریں،اپنے اللے تللے روکیں، وزارتوں اور وزیروں کی تعداد دس تک لائیں۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ملے گی۔شرائط ہیں تو وہ یہ ہیں اگلے چھ ماہ میں بجلی گیس پٹرول کی قیمتیں بڑھانی ہیں۔

رؤف کلاسرا
بغیر لیڈی پولیس کے گھر میں گھسنا اور خواتین سے دست درازی کرنا صرف پنجاب میں ہی ہو سکتا ہے۔پچھلے دنوں کسی کام سے پنجاب پولیس کے ایک سینئیر افسر سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے ببانگ دہل کہا کہ اب ہم صرف اشرافیہ کا مسلح ونگ بن کر رہ گئے ہیں جو حکم پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔پولیس کو علم ہے کہ جن کے حکم پر ہم یہ کھل کھیل رہے ہیں وہ ووٹ پر نہیں بلکہ فوجی بوٹ پر آتے ہیں لہذا کسی قسم کے احتساب اور پکڑ کا انہیں کوئی ڈر نہیں۔

احمد فرہاد
اسلام آباد مذاکرات پر عوامی تبصرے

اب یہ بات تو امریکی صحافی کی ٹرمپ سے رابطہ کے بعد واضح ہو گئی ہے کہ ہفتہ کے دن سے پہلے مزاکرات ممکن نہیں وہ بھی ایرانی پاسداران کی مرضی ہوئ تو - اس طرح عوام کو عذاب میں مبتلا ہوئے دو ہفتے مکمل ہو جائیں گے جو سبز پاسپورٹ گلے میں لٹکائے شادی مرگ کا شکار ہیں
#خیبرپختونخوا

#چارسدہ عزیز آباد چوکی پر ہینڈ گرنیٹ حـ.ملے میں کانسٹیبل سجاد شدید زخـ.می ہو گئے-
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی بحالی کی کوششیں اس وقت مزید غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئیں، جب ایران نے آبنائے ہرمز میں تین مال بردار غیر ملکی بحری جہازوں پر فائرنگ کی اور دو کو قبضے میں لے لیا۔
#بلوچستان

ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کے میڈیکل سپریٹینڈنٹ کی جانب سے ایک سرکلر (حکمنامہ) جاری کیا گیا ہے جسکے مطابق اب اگر کوئی ہارٹ اٹیک کا مریض ٹیچنگ ہسپتال لورالائی لایا جائے تو ڈاکٹر اس وقت تک مریض کو ہاتھ نہیں لگائے گا جب تک مریض کے ورثاء مخصوص انجکشن streptokinase کے مد میں مبلغ 1500 روپیہ قیمت ادا نہیں کرتے۔ یعنی دل کا مریض بستر مرگ پر تڑپ رہا ہوگا، مریض کے بچے اور لواحقین غم سے نڈھال ہونگے اور ڈاکٹر صاحب کا عملہ مریض کے پاس کھڑا انجکشن کا معاوضہ مانگ رہا ہوگا۔
محکمہ جیل خانہ جات خیبرپختونخوا کی جانب سے ایک خبر فخریہ شئیر کی جارہی ہے کہ محکمے نے ‏خواجہ سرا صوبیہ خان المعروف بیبو کو بطور وارڈن تعینات کیا ہے۔ لیکن یہ خبر شئیر کرتے وقت بعض جگہوں پر خواجہ سرا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور بعض جگہوں پر ٹرانس جینڈر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ خواجہ سرا یقینا معاشرے کا ایک مظلوم طبقہ ہے جسے ہمارا بے حس معاشرہ بے حیائی اور جسم فروشی کی طرف دھکیلتا رہا ہے۔ اس معاشرتی بگاڑ میں مزید اِضافہ ٹرانس جینڈر نامی فتنہ جسکی سرپرستی امریکہ اور مغربی ممالک کررہے ہیں۔ عام طور پر خواجہ سرا اور ٹرانس جینڈر میڈیا پر ایک معنوں میں استعمال کیے جارہے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ جدا ہیں خواجہ سرا کا جسمانی نقص پیدائشی ہے۔ جبکہ ٹرانس جینڈر وہ افراد ہیں جو ہوتے تو مرد ہیں لیکن خود کو عورت بناتے ہیں ۔ اس طرح سے یہ ہم جنس پرستی کا چور راستہ بن چکا ہے۔ اس بے حیائی کی سرپرستی امریکہ اور تمام مغربی ممالک کررہے ہیں ۔ اسی سرپرستی کے سبب پاکستان میں ٹرانس جینڈرز کی حوصلہ افزائی کے لیے قانون سازی کروائی گئی ، اور اب ملازمتوں میں ان کے لیے کوٹہ رکھا جارہا ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ میڈیا پر انکو ہیرو بنا کر پیش کیا جارہا ہے مثال کے طور پر کراچی کا ایک ٹرانس جینڈر سی ایس ایس آفیسر کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا جبکہ اس سے قبل اسکی فحش اور ہم جنس پرستانہ فوٹ شوٹ کی تصاویر وائرل رہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستان میں ایک بڑی تعداد غیر ملکی ویزوں کے حصول کے لیے بھی ٹرانس جینڈر بن رہے ہیں۔ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یہ ہر پاکستانی پر فرض ہے کہ وہ اس فتنے کے متعلق آواز اٹھائے آگاہی پھیلائے ۔

سلیمان آفریدی
2
‏ہم واپڈا سے بجلی خریدیں گے تو 60 روپے فی یونٹ دیں گے۔
جب ہم اپنی سولر بجلی واپڈا کو دیں گے تو صرف 10 روپے فی یونٹ ملیں گے
بہتر ہے اپنے سولر سے ایکسٹرا بجلی 10 روپے فی یونٹ اس حکومت کو دینے کی بجائے آپ 30 روپے فی یونٹ اپنے ہمسائے کو دے دیں ۔
اس کا بھی بھلا ہوجائے گا اور آپ کا بھی ۔

کاشف چوہدری
‏کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ نوجوان صالح آصف کی اسٹارٹ اپ ’کرسر‘ کا ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ 60 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا ہے۔

رائٹرز کے مطابق صالح آصف کی کمپنی کرسر نے کمپیوٹر کوڈنگ کو خود کار بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ڈویلپرز کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

دنیا کی ہزاروں آئی ٹی کمپنیوں جن میں ایڈوب، نیویڈیا، شاپی فائے سمیت بڑی کمپنیاں شامل ہیں کے ڈویلپرز کوڈنگ کے لیے کراچی کے اس نوجوان کی کمپنی سے مستفید ہوتے ہیں۔

معاہدے کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے کرسر کو خریدنے کا مفاہدہ کیا ہے، یہ معاہدہ 60 ارب ڈالر کا ہے، اور اگر اس سال کے آخر تک اسپیس ایکس یہ رقم ادا نہ کرسکی تو وہ کرسر کمپنی کو 10 ارب ڈالر دے کر صالح آصف کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

علاوہ ازیں صالح آصف کا نام فوربز میگزین کی ارب پتی افراد کی فہرست میں بھی شامل ہوگیا ہے۔ کرسر کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 29 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔

صالح آصف کراچی سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے نکسر کالج سے تعلیم حاصل کی، اور بعد میں میساچوسٹس آف ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا۔ پھر وہاں انہوں نے تین دوستوں کے ساتھ مل کر اے آی کوڈ ایڈیٹنگ ٹول کرسر بنانے والی کمپنی Anysphereکی بنیاد رکھی۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
‏عدالتوں میں انصاف مانگنے والے غریب لوگ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، جبکہ حکومتی جبر ہر ادارے سے ٹپک رہا ہے۔ پنجاب پولیس ایک بے سدھ، نیم مردہ حالت میں شخص کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں گھسیٹ کر پیش کر رہی ہے۔ دو اہلکار اسے سہارا دے کر نہیں، بلکہ اٹھا کر لا رہے ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ تشدد کیا گیا ہے

یہ منظر کسی مہذب ریاست کا نہیں، ظلم زدہ نظام کا چہرہ ہے۔ جہاں کمزور کو مارا جاتا ہے، غریب کو رلایا جاتا ہے، اور طاقتور قانون سے بالا تر بیٹھے ہوتے ہیں۔ انصاف کے ایوانوں میں اگر اس حال میں لوگ لائے جائیں تو پھر یہ عدالتیں نہیں، مظلوموں کی تذلیل گاہیں بن جاتی ہیں۔

اللہ ان غریبوں پر رحم کرے، اور اس ظالمانہ نظام کو نیست و نابود کرے۔

#نااہل_حکمراں_عوام_پریشان
#ShameOnJudges
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
عوام پہلے ہی بجلی پٹرول گیس سے مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں
اوپر سے ٹریفک اہلکاروں کے مہنگے چالانوں، تشدد اور گالی گلوچ پر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ۔
2019 میں سکینڈل سامنے آیا تھا کہ چینی شہری جھوٹے قبول اسلام یا قبول عیسائیت کو ظاہر کرکے مسلمان اور عیسائی لڑکیوں سے شادی کرکے ان سے چین میں جسم فروشی کرواتے رہے ۔ اس ویلاگ میں خاتون نے اسی معاملے پر تحقیق کی ہے کہ کیا یہ کام اب بھی چل رہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اس معاملے کو پاک چین تعلقات کے سبب نظر انداز کرتا رہا ہے
https://youtu.be/87X6ts2iNwU?si=jg0My0Y9pYnoXGlQ
‏آج صدر راولپنڈی، GPO چوک پر ایک عجیب منظر دیکھا، جو ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے

میں بائیک پر کھڑا تھا کہ دو خواتین نے رکشہ بُک کیا۔ کرایہ طے ہونے لگا۔
رکشہ والے نے کہا: 250 روپے لگیں گے باجی
خواتین: نہیں بھائی، 200 سے ایک روپیہ اوپر نہیں دیں گی، بس!
کافی بحث کے بعد غریب رکشے والا 200 پر مان گیا۔ پسینہ بہا کر، محنت سے کمانے والا 50 روپے ہار گیا۔

خواتین رکشے میں بیٹھیں ہی تھیں کہ ایک بھکاری آ گیا۔ ہاتھ پھیلایا۔
اور بنا ایک لمحہ سوچے، اُن میں سے ایک خاتون نے پرس سے 100 کا نوٹ نکال کر اُسے دے دیا۔

میں یہ سب دیکھ کر بس سوچتا رہ گیا...

جس رکشے والے نے دھوپ میں جل کر آپ کو منزل تک پہنچانا تھا، اُس سے 50 روپے کے لیے جھگڑا کر لیا۔
اور جس نے صرف ہاتھ پھیلایا، اُسے 100 روپے فوراً دے دیے؟

یہ کیسی سوچ بن گئی ہے ہماری؟
محنت کی قیمت کم اور بھیک کی قیمت زیادہ کیوں ہو گئی ہے؟
کیا وہ رکشہ ڈرائیور اُس 100 روپے کا زیادہ حقدار نہیں تھا جس نے پسینہ بہانا تھا؟

کبھی کبھی لگتا ہے ہم ہمدردی غلط جگہ دکھا رہے ہیں۔ محنت کش کو اُس کا حق دو، عزت دو۔ بھیک نہیں، روزگار کو فروغ دو۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

اسامہ خان۔۔۔۔
1👍1