Pakistan Times International
مچھ جیل میں خواتین قیدیوں کو سپریٹینڈنٹ خرم ریاض کے احکامات پر ہراساں کیا جارہا ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور خاتون وکلاء سے درخواست ہے کہ اگر انکے لیے ممکن ہو تو وہ مچھ جیل کا وزٹ کرکے ان قیدی خواتین سے ملاقات کریں اور ان کی شکایات سن لیں۔ https://m.fa…
یہ حضرات ابھی حال ہی میں خرم ریاض کو عمرے کی مبارکباد دینے گئے تھے ۔۔۔
میرے فیس بک اکاؤنٹ پر بین لگا ہے کوئی بھائی ان مولوی صاحب کو اس سپریٹینڈنٹ کے کرتوتوں سے مطلع کرنے کے لیے کومنٹ کرے
https://www.facebook.com/share/p/1B8G2HjLr7/
میرے فیس بک اکاؤنٹ پر بین لگا ہے کوئی بھائی ان مولوی صاحب کو اس سپریٹینڈنٹ کے کرتوتوں سے مطلع کرنے کے لیے کومنٹ کرے
https://www.facebook.com/share/p/1B8G2HjLr7/
کینڈا کے صوبے Ontario کے وزیر اعلیٰ ڈَگ فورڈ نے مریم نواز کی طرح اپنے لئے ایک لگژری جہاز 28.9 ملین ڈالرز میں خریدا، جیسے ہی خبر آئی تو کہرام مچ گیا۔ اپوزیشن، میڈیا اور عوام نے وزیر اعلیٰ کے بخیئے اُدھیڑ دیئے، قوم نے کہا کہ ہمارے مسائل کچھ اور ہیں لیکن تم اپنے پُر تعیش سفر کیلئے جہاز کیسے خرید سکتے ہو، کسی نے کہا کہ جیسے ہم اکانومی کلاس میں سفر کرتے ہیں تم بھی ویسے ہی کرو، کسی نے کہا کہ ہمیں تم جیسا عیاش وزیر اعلی نہیں چاہیے، کسی نے کہا کہ تم عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر ایک rockstar کی طرح نہیں رہ سکتے، اپوزیشن نے اس جہاز کو gravy plane کا نام دے دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وزیر اعلی نے ڈھٹائی، ضد اور بے شرمی دکھانے کے بجائے فوری طور پر جہاز کو بیچنے کا حکم دے دیا ہے
یاد رکھیں کہ Ontario میں فی کَس آمدن 49000 ڈالرز ہے جبکہ پاکستان میں فی کَس آمدن صرف 1650 ڈالرز
کینیڈا کے صرف ایک صوبے Ontario کا GDP تقریباً 909 ارب ڈالرز ہے جبکہ پورے پاکستان کا 400 ارب ڈالرز سے بھی کم
یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ہے لیکن اسکی قوم نے اسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا۔ اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، انکے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر انکی ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں
امیر عباس
یاد رکھیں کہ Ontario میں فی کَس آمدن 49000 ڈالرز ہے جبکہ پاکستان میں فی کَس آمدن صرف 1650 ڈالرز
کینیڈا کے صرف ایک صوبے Ontario کا GDP تقریباً 909 ارب ڈالرز ہے جبکہ پورے پاکستان کا 400 ارب ڈالرز سے بھی کم
یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ہے لیکن اسکی قوم نے اسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا۔ اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، انکے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر انکی ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں
امیر عباس
🔥2
ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے منفی رپورٹس سامنے آرہی ہیں کہ شاید مذاکرات تعطل کا شکار ہو کر حالات دوبارہ کشیدگی اور جنگ کی طرف بڑھیں ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان مذاکرات کی تیاری پر آنے والے اخراجات بلکہ یوں کہنا ہوگا وہ غیر ضروری اخراجات جو نااہل عاصم منیر و شہباز انتظامیہ نے اپنے چھچھور پن کے سبب کیے وہ عوام کا خون نچوڑ کر ہی پورے کیے جائیں گے ۔ یعنی تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے امریکہ مذاکرات کے نئے راؤنڈ کے لیے سنجیدہ نہیں ہے
مذاکرات کا کچھ کنفرم نہیں کہ اب ہونگے یا نہیں لیکن عاصم منیر و شہباز نے تمام راولپنڈی اسلام آباد کی عوام عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ محسن نقوی ہر دو گھنٹے بعد ڈپلومیٹک انکلیو کا چکر لگا رہا ہے، ٹرانسپورٹ بند، عدالتیں اور دفاتر بند اور شہر سیکیورٹی اہلکاروں سے بھرا ہوا -
Forwarded from BALOCHISTAN NEWS
بلوچستان کا بجٹ کہاں جاتا ہے ؟
بیٹا جیل محکمے میں گھوسٹ ملازمین کا نظام چلارہا اور باپ محکمہ زراعت میں
بیٹا جیل محکمے میں گھوسٹ ملازمین کا نظام چلارہا اور باپ محکمہ زراعت میں
معاہدے کے تحت پاکستان نے سوڈان کو 1.5 بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ اور جنگی طیارے فراہم کرنا تھے۔
نیوز ایجنسی روئٹرز نے دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع اور ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اس معاہدے کو ختم کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس خریداری کی مالی معاونت نہیں کرے گا۔
نیوز ایجنسی روئٹرز نے دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع اور ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اس معاہدے کو ختم کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس خریداری کی مالی معاونت نہیں کرے گا۔
#برطانیہ
برطانوی رکن پارلیمنٹ زارا سلطانہ نے برطانوی وزیراعظم کو جھوٹا کہا تو انہیں ہاؤس سے نکال دیا گیا
برطانوی رکن پارلیمنٹ زارا سلطانہ نے برطانوی وزیراعظم کو جھوٹا کہا تو انہیں ہاؤس سے نکال دیا گیا
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بری امام میں لوگوں کے گھر کیوں گرائے گئے ؟
باری سب کی آنی ہے خدارا جاگ جاؤ اور اٹھو اپنے حق اور دفاع میں
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
باری سب کی آنی ہے خدارا جاگ جاؤ اور اٹھو اپنے حق اور دفاع میں
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
❤1
ہم نے ففتھ جنریشن وار اور فیک نیوز کے نام پر جنگجو پیدا کیے جو اداروں کی طرف سے اختلافی آوازوں، ناقدین اور اپوزیشن کو دھمکیاں لگاتے ہیں جھوٹے مُقدمات کی توجیہات دیتے ہیں اِس نے سسکتی پاکستانی صحافت کی ساکھ بھی ختم کردی اور جزوقتی صحافیوں میں اداروں کی گود میں مُقام پانے کی ریس شروع کردی۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے نمائندے پچھلے دو ہفتوں سے مُلکی قیادت کو دُعائیں دینے اور بلائیں لینے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہیں مگر مجال کسی ایک نے بھی خبر کی ہو مگر ابھی بھی بضد ہیں کہ وہ صحافی ہیں اور اُنکو صحافی لکھا اور پُکارا جائے۔
اسد علی طور
اسد علی طور
محسن نقوی کی زیرصدارت اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں ایک ہزار ایکڑ پر نیا پارک بنے گا جبکہ بین الاقوامی معیار کی فرمز کے ساتھ جوائنٹ ونچر کے تحت فائیو سٹار ہوٹل بھی بنائے جائیں گے
عبید بھٹی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ؛
مارگلہ پہاڑیوں پر چند کنال میں بنے مونال ریسٹورنٹ کو قاضی فائز عیسیٰ اینڈ کمپنی نے یہ کہہ کر ختم کروایا کہ ماحولیات کو نقصان ہورہا ہے، اب محسن نقوی 1000 ایکڑ پر کنکریٹ کا جنگل بنانے چلے ہیں، ہزاروں شہریوں کو بے گھر کیا جارہا ہے تشدد پرچے کیے جارہے ہیں لیکن سپریم کورٹ نامی عفریت کا کہیں اتا پتا نہیں۔
عبید بھٹی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ؛
مارگلہ پہاڑیوں پر چند کنال میں بنے مونال ریسٹورنٹ کو قاضی فائز عیسیٰ اینڈ کمپنی نے یہ کہہ کر ختم کروایا کہ ماحولیات کو نقصان ہورہا ہے، اب محسن نقوی 1000 ایکڑ پر کنکریٹ کا جنگل بنانے چلے ہیں، ہزاروں شہریوں کو بے گھر کیا جارہا ہے تشدد پرچے کیے جارہے ہیں لیکن سپریم کورٹ نامی عفریت کا کہیں اتا پتا نہیں۔
پوری دنیا کا میڈیا دیکھیں تو سب سے زیادہ پاکستان میڈیا، اس کے اینکر اور انکے ایرانی شرکاء ٹاک شوز، ایرانی حکومت کو مس گائیڈ کر رہے ہیں، بے وقت انہیں بہادری کا استعارہ بنا کر مروانے کی کوشش میں ہیں جہاں دو ملین کا ایک ڈالر ہے، بیوقوف دوست ایران کے ساتھ پاکستان کو بھی ڈبوئیں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے، جبکہ وہ ایران کی جانب سے ایک مشترکہ/متفقہ تجویز کے انتظار میں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کی حکومت شدید طور پر منقسم ہونے کی حقیقت کی بنیاد پر، جو کہ غیر متوقع نہیں ہے اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر، ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ایران کے خلاف اپنے حملے کو اس وقت تک مؤخر کریں، جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔
اس لیے میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناکہ بندی جاری رکھے اور ہر دوسرے پہلو سے تیار اور مستعد رہے اور اسی بنا پر میں جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کرتا ہوں جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کر دی جاتی اور مذاکرات کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کی حکومت شدید طور پر منقسم ہونے کی حقیقت کی بنیاد پر، جو کہ غیر متوقع نہیں ہے اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر، ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ایران کے خلاف اپنے حملے کو اس وقت تک مؤخر کریں، جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔
اس لیے میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناکہ بندی جاری رکھے اور ہر دوسرے پہلو سے تیار اور مستعد رہے اور اسی بنا پر میں جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کرتا ہوں جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کر دی جاتی اور مذاکرات کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔
المیہ دیکھیں ۔۔!
کہ نقیب اللہ محسود سمیت 444 پاکستانیوں کا قاتل ، جی آئی ٹی JIT اور تمام دوسرے خفیا و اشکارہ اداروں سے ثابت شدہ دھشتگرد قاتل راؤ انور آزادانہ ملک سے باہر اور اندر آتا جاتا رہتا ہے ۔ جبکہ اسی نقیب اللہ اور دوسرے لاکھوں پشتونوں کے لئے ریاست پاکستان سے انصاف مانگنے کی پاداش میں ھم 1240 افراد ایک پرامن تحریک کے شیڈول فور اور ای سی ایل اور دوسری پابندیوں میں پڑے ہیں نہ ملک سے باہر اور نہ اندر آسکتے ہیں۔
حیات پریغال
کہ نقیب اللہ محسود سمیت 444 پاکستانیوں کا قاتل ، جی آئی ٹی JIT اور تمام دوسرے خفیا و اشکارہ اداروں سے ثابت شدہ دھشتگرد قاتل راؤ انور آزادانہ ملک سے باہر اور اندر آتا جاتا رہتا ہے ۔ جبکہ اسی نقیب اللہ اور دوسرے لاکھوں پشتونوں کے لئے ریاست پاکستان سے انصاف مانگنے کی پاداش میں ھم 1240 افراد ایک پرامن تحریک کے شیڈول فور اور ای سی ایل اور دوسری پابندیوں میں پڑے ہیں نہ ملک سے باہر اور نہ اندر آسکتے ہیں۔
حیات پریغال
سیالکوٹ
ایک ٹریفک وارڈن نے شہری کا اوورسیز لائسنس ہی پھاڑ ڈالا ۔ وردی پہن کر یہ فرعون ہی بن جاتے ہیں
ایک ٹریفک وارڈن نے شہری کا اوورسیز لائسنس ہی پھاڑ ڈالا ۔ وردی پہن کر یہ فرعون ہی بن جاتے ہیں
چین نے ایران جنگ میں ’جامع اور دیرپا جنگ بندی‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال اب ایک ’انتہائی نازک مرحلے‘ میں داخل ہو چکی ہے۔
کارپوریٹ آڑھتی کا عروج، یا نیا IPP ماڈل؟ پنجاب ویٹ پالیسی 2026 کا بے لاگ تجزیہ
خرم مشتاق
پنجاب کی ویٹ پروکیورمنٹ پالیسی 2026 کو ایک بڑی اصلاح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت گندم کی براہ راست خریداری سے نکل رہی ہے، مارکیٹ کو آزاد کیا جا رہا ہے، اور ایک modern، efficient اور transparent نظام متعارف ہو رہا ہے۔ مگر جب اس پالیسی کو اس کے فنانشل ڈھانچے، رسک میکانزم اور مارکیٹ ڈائنامکس کے ساتھ پڑھا جائے تو ایک مختلف کہانی سامنے آتی ہے۔ یہ اصلاح کم اور ایک state-backed commercial structure زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
اس پالیسی میں حکومت نے خریداری کا عمل نجی کمپنیوں یعنی aggregators کو دے دیا ہے۔ یہ کمپنیاں کسانوں سے گندم خریدیں گی، بینکوں سے فنانسنگ لیں گی، سٹوریج کریں گی اور بعد میں مارکیٹ میں سپلائی کریں گی۔ بظاہر یہ ایک نارمل private sector activity لگتی ہے، مگر اصل حقیقت اس کے مالیاتی میکانزم میں چھپی ہوئی ہے۔
یہ aggregators جو قرضہ لیں گے وہ KIBOR پلس ون یا اس کے آس پاس ہوگا، یعنی موجودہ حالات میں تقریباً دس سے بارہ فیصد کی لاگت پر۔ اس فنانسنگ کے ساتھ صرف سود ہی شامل نہیں ہوتا بلکہ اس میں بینک کے دیگر چارجز بھی شامل ہوتے ہیں جیسے processing fee، insurance، handling charges اور working capital cost۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ effective financing cost بارہ سے چودہ فیصد تک جا سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ بینک چارجز کون ادا کرے گا؟ بظاہر یہ لاگت نجی کمپنی یعنی aggregator اٹھا رہی ہے، مگر حقیقت میں یہ cost system کے اندر absorb ہو جاتی ہے۔ کیونکہ کمپنی اپنا margin اسی بنیاد پر set کرتی ہے اور آخرکار یہی لاگت گندم کی final price میں شامل ہو جاتی ہے۔ اگر price benchmark سے نیچے آتا ہے تو حکومت price differential دے کر اسی cost کو cover کرتی ہے۔ یعنی بالواسطہ طور پر یہ مالی بوجھ عوامی خزانے پر منتقل ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ aggregators کو دس سے سولہ فیصد تک agreed profit margin دیا جا رہا ہے۔ یہ profit explicitly “guaranteed return” کے طور پر شاید نہ لکھا گیا ہو، مگر structure ایسا ہے کہ یہ margin effectively protect ہو جاتا ہے۔ کیونکہ downside risk یعنی قیمت کا گرنا، default کا خطرہ، یا stock کا نہ بکنا، یہ سب بڑی حد تک حکومت absorb کر رہی ہے۔
جب ہم financing cost اور profit margin کو اکٹھا کرتے ہیں تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ اگر بارہ سے چودہ فیصد financing cost ہے اور اس کے ساتھ دس سے سولہ فیصد margin شامل ہو جائے تو اس پورے نظام کی effective cost پندرہ سے بیس فیصد بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ بن سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گندم کی جو خریداری ہو رہی ہے، وہ اصل میں اس سے کہیں زیادہ مہنگی ہو رہی ہے جتنا بظاہر نظر آتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر حکومت خود گندم خریدتی تو اس کی borrowing cost بارہ سے چودہ فیصد کے درمیان رہتی، جبکہ اس نئے ماڈل میں یہی کام زیادہ مہنگا ہو رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ خرچ براہ راست بجٹ میں نظر آتا تھا، اب یہ بینکوں، گارنٹیوں اور پرائیویٹ کنٹریکٹس کے ذریعے price میں embed ہو گیا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ ماڈل پاور سیکٹر کے IPP model سے مماثلت اختیار کرتا ہے۔ وہاں بھی financing cost، return اور risk کو ایک ایسے structure میں ڈال دیا گیا تھا جس میں نجی سرمایہ کار کو ایک محفوظ ماحول دیا گیا اور اصل بوجھ بالآخر عوامی صارف پر منتقل ہو گیا۔ یہاں بھی profit formally guaranteed نہ ہو مگر practically secured ہے، اور financing cost بھی آخرکار public system میں absorb ہو رہی ہے۔
حکومت اس پالیسی کو زیرو بجٹ ماڈل کہہ رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ زیرو بجٹ نہیں بلکہ deferred cost model ہے۔ آج حکومت اپنے بجٹ سے گندم نہیں خرید رہی، اس لیے cash outflow نہیں ہو رہا۔ مگر ایک سال کے اندر جب price differential دینا پڑے گا، یا credit guarantee استعمال ہوگی، یا surplus stock اٹھانا پڑے گا، تو یہی لاگت بڑھ کر واپس آئے گی۔ یعنی fiscal space create نہیں ہوئی، صرف وقتی طور پر دکھائی گئی ہے۔
اس پالیسی میں limited number of players یعنی تقریباً دس یا گیارہ aggregators کو مرکزی کردار دیا گیا ہے۔ جب entry محدود ہو، financing state-backed ہو، margins structured ہوں اور downside risk کم ہو، تو competition حقیقی نہیں رہتی۔ یہاں collusion کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ قیمتوں کو ایک خاص حد میں رکھنے، سپلائی کو کنٹرول کرنے اور coordinated behavior پیدا کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس سے market efficiency کے بجائے rent-seeking کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
۱/۲
خرم مشتاق
پنجاب کی ویٹ پروکیورمنٹ پالیسی 2026 کو ایک بڑی اصلاح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت گندم کی براہ راست خریداری سے نکل رہی ہے، مارکیٹ کو آزاد کیا جا رہا ہے، اور ایک modern، efficient اور transparent نظام متعارف ہو رہا ہے۔ مگر جب اس پالیسی کو اس کے فنانشل ڈھانچے، رسک میکانزم اور مارکیٹ ڈائنامکس کے ساتھ پڑھا جائے تو ایک مختلف کہانی سامنے آتی ہے۔ یہ اصلاح کم اور ایک state-backed commercial structure زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
اس پالیسی میں حکومت نے خریداری کا عمل نجی کمپنیوں یعنی aggregators کو دے دیا ہے۔ یہ کمپنیاں کسانوں سے گندم خریدیں گی، بینکوں سے فنانسنگ لیں گی، سٹوریج کریں گی اور بعد میں مارکیٹ میں سپلائی کریں گی۔ بظاہر یہ ایک نارمل private sector activity لگتی ہے، مگر اصل حقیقت اس کے مالیاتی میکانزم میں چھپی ہوئی ہے۔
یہ aggregators جو قرضہ لیں گے وہ KIBOR پلس ون یا اس کے آس پاس ہوگا، یعنی موجودہ حالات میں تقریباً دس سے بارہ فیصد کی لاگت پر۔ اس فنانسنگ کے ساتھ صرف سود ہی شامل نہیں ہوتا بلکہ اس میں بینک کے دیگر چارجز بھی شامل ہوتے ہیں جیسے processing fee، insurance، handling charges اور working capital cost۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ effective financing cost بارہ سے چودہ فیصد تک جا سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ بینک چارجز کون ادا کرے گا؟ بظاہر یہ لاگت نجی کمپنی یعنی aggregator اٹھا رہی ہے، مگر حقیقت میں یہ cost system کے اندر absorb ہو جاتی ہے۔ کیونکہ کمپنی اپنا margin اسی بنیاد پر set کرتی ہے اور آخرکار یہی لاگت گندم کی final price میں شامل ہو جاتی ہے۔ اگر price benchmark سے نیچے آتا ہے تو حکومت price differential دے کر اسی cost کو cover کرتی ہے۔ یعنی بالواسطہ طور پر یہ مالی بوجھ عوامی خزانے پر منتقل ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ aggregators کو دس سے سولہ فیصد تک agreed profit margin دیا جا رہا ہے۔ یہ profit explicitly “guaranteed return” کے طور پر شاید نہ لکھا گیا ہو، مگر structure ایسا ہے کہ یہ margin effectively protect ہو جاتا ہے۔ کیونکہ downside risk یعنی قیمت کا گرنا، default کا خطرہ، یا stock کا نہ بکنا، یہ سب بڑی حد تک حکومت absorb کر رہی ہے۔
جب ہم financing cost اور profit margin کو اکٹھا کرتے ہیں تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ اگر بارہ سے چودہ فیصد financing cost ہے اور اس کے ساتھ دس سے سولہ فیصد margin شامل ہو جائے تو اس پورے نظام کی effective cost پندرہ سے بیس فیصد بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ بن سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گندم کی جو خریداری ہو رہی ہے، وہ اصل میں اس سے کہیں زیادہ مہنگی ہو رہی ہے جتنا بظاہر نظر آتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر حکومت خود گندم خریدتی تو اس کی borrowing cost بارہ سے چودہ فیصد کے درمیان رہتی، جبکہ اس نئے ماڈل میں یہی کام زیادہ مہنگا ہو رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ خرچ براہ راست بجٹ میں نظر آتا تھا، اب یہ بینکوں، گارنٹیوں اور پرائیویٹ کنٹریکٹس کے ذریعے price میں embed ہو گیا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ ماڈل پاور سیکٹر کے IPP model سے مماثلت اختیار کرتا ہے۔ وہاں بھی financing cost، return اور risk کو ایک ایسے structure میں ڈال دیا گیا تھا جس میں نجی سرمایہ کار کو ایک محفوظ ماحول دیا گیا اور اصل بوجھ بالآخر عوامی صارف پر منتقل ہو گیا۔ یہاں بھی profit formally guaranteed نہ ہو مگر practically secured ہے، اور financing cost بھی آخرکار public system میں absorb ہو رہی ہے۔
حکومت اس پالیسی کو زیرو بجٹ ماڈل کہہ رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ زیرو بجٹ نہیں بلکہ deferred cost model ہے۔ آج حکومت اپنے بجٹ سے گندم نہیں خرید رہی، اس لیے cash outflow نہیں ہو رہا۔ مگر ایک سال کے اندر جب price differential دینا پڑے گا، یا credit guarantee استعمال ہوگی، یا surplus stock اٹھانا پڑے گا، تو یہی لاگت بڑھ کر واپس آئے گی۔ یعنی fiscal space create نہیں ہوئی، صرف وقتی طور پر دکھائی گئی ہے۔
اس پالیسی میں limited number of players یعنی تقریباً دس یا گیارہ aggregators کو مرکزی کردار دیا گیا ہے۔ جب entry محدود ہو، financing state-backed ہو، margins structured ہوں اور downside risk کم ہو، تو competition حقیقی نہیں رہتی۔ یہاں collusion کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ قیمتوں کو ایک خاص حد میں رکھنے، سپلائی کو کنٹرول کرنے اور coordinated behavior پیدا کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس سے market efficiency کے بجائے rent-seeking کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
۱/۲
کابل/تاشقند: افغانستان اور ازبکستان نے سرحدی علاقوں میں منـــشیات کی نقل و حمل کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور آپریشنل ہم آہنگی کو فروغ دے گی۔
تفصیلات کے مطابق افغان وزارتِ داخلہ کے معاون برائے انسدادِ منـــشیات 'عبدالرحمن منیر' اور ازبکستان کے وزیرِ داخلہ 'عزیز تاشپولادویچ' کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات میں اس اہم پیش رفت پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ منـــشیات کی اسمگلنگ ایک علاقائی خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے انفرادی کوششوں کے بجائے مشترکہ محاذ ضروری ہے۔
اس معاہدے کے تحت بننے والی تکنیکی ٹیم سرحدوں پر جدید مانیٹرنگ اور اسمگلنگ کے راستوں کی نشان دہی کے لیے کام کرے گی۔
تفصیلات کے مطابق افغان وزارتِ داخلہ کے معاون برائے انسدادِ منـــشیات 'عبدالرحمن منیر' اور ازبکستان کے وزیرِ داخلہ 'عزیز تاشپولادویچ' کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات میں اس اہم پیش رفت پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ منـــشیات کی اسمگلنگ ایک علاقائی خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے انفرادی کوششوں کے بجائے مشترکہ محاذ ضروری ہے۔
اس معاہدے کے تحت بننے والی تکنیکی ٹیم سرحدوں پر جدید مانیٹرنگ اور اسمگلنگ کے راستوں کی نشان دہی کے لیے کام کرے گی۔
طاقتور کے سامنے بخوشی سرنڈر کرجانے والا،
طاقتور کے سامنے ڈٹ جانے والے سے شدید نفرت کرتا ہے
شہزاد حسین
طاقتور کے سامنے ڈٹ جانے والے سے شدید نفرت کرتا ہے
شہزاد حسین
👍1
گرمی کی شدت ہر سال بڑھ رہی ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے فوج ملک بھر میں بہت سے علاقوں میں درختوں کی بے دریغ کٹائی کا کام مسلسل کروارہی ہے، کہیں سیکیورٹی کے نام پر اور کہیں زمینیں قبضے کرنے کے لیے ۔ اس پالیسی کے نتائج پاکستان اور پاکستان کی عوام کے لیے تباہ کن ہونگے