Pakistan Times International
344 subscribers
91 photos
16 videos
74 links
Download Telegram
ڈی سی اسلام آباد کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کو تاحکم ثانی معطل کیا جا رہا ہے اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔۔۔

اگر کچھ اور راؤنڈ ہوئے ایسے مذاکرات کے جس میں امریکیوں کی شمولیت اور اسلام آباد میں انکا سٹے ضروری ہوا تو عین ممکن ہے ملک کے وسیع تر مفاد میں پورے اسلام آباد کو امریکی پراپرٹی قرار دے کر تمام پاکستانیوں کو شہر بدر کردیں ۔۔
اسلام آباد

ظلم کی ہر حد پار کی جا رہی ہے
بری امام کے رہائشیوں کے سروں سے چھت چھین لی اور پھر انہی پر تشدد اور مقدمے کئے جا رہے ہیں ۔۔ شرمناک
اسـ۔ـرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ انکا ایک فوجی ہلاک اور 9 فوجی اس وقت زخمی ہوئے جب جنوبی #لبنان میں اسرائیلی ڈی نائن کیٹرپلر بلڈوزر کو دھـ.ـماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کی کی ترجمان صوفیا کالٹراپ نے جنیوا میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ اکتوبر 2023 سے دسمبر 2025 کے آخر تک اسـ.ـرائیل کے فضائی حملوں اور فوجی آپریشنز میں غزہ میں 38 ہزار فلسطینی خواتین اور بچیاں شہید ہوچکی ہیں۔ 22000 خواتین اور 16000 بچیاں ۔ یعنی ہر دن اوسطا 47 خواتین اور بچیاں شہید کی گئیں۔
#پشاور

‏باچا خان چوک پشاور میں بڑی کارروائی
ضلعی انتظامیہ نے 12 سو سے زائد مردہ مرغیاں برآمد کرلیں
گروہ مردہ مرغیوں کو صاف کر کے اس کا گوشت پشاور بھر کو سپلائی کرتا تھا مردہ مرغیوں کا گوشت شورما، چکن برگر اور دیگر دکانوں کو سپلائی ہوتا تھا،ڈپٹی کمشنر پشاور

پاکستان میں روز بڑھتی غربت کے سبب لوگ مجبور ہیں کہ اشیاء سستے داموں خریدنے کے لیے صفائی اور معیار کو نظر انداز کردیں ۔ لوگوں کی یہی کمزوری ان بے ضمیر لوگوں کے لیے راستے ہموار کرتی ہے جو مضر صحت ، ایکسپائر اور ملاوٹ شدہ اشیاء بیچتے ہیں۔ یہ ملک بھر میں ہورہا ہے دودھ سے لے کر کھانے کا تیل گھی، مصالحہ جات سے لے کر گوشت اور پھل فروٹ تک کوئی شے نہیں بچی ۔ یہی وجہ ہے کہ بیماریاں عروج پر ہیں۔ کوالٹی کنٹرول کا کوئی ادارہ اگر ملک میں ہے بھی تو اسکا کام صرف رشوتیں وصول کرنا ہے
اسلام آباد کی سڑکوں پر اب خوفناک کار ریس معمول بن چکی ہے۔ بگڑے نوجوانوں نے شہریوں کا جینا حرام کر رکھا ہےکیونکہ انہیں کسی کا خوف ڈر نہیں ہے۔
دو دن پہلے اسلام آباد کی سڑکوں پر نوجوانوں نے دہشت پھیلا دی جس پر شہریوں نے شدید ردعمل دیا جس کے بعد ان سب کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ رؤف کلاسرا ۔۔۔

ان میں سے جو کسی جج سیاستدان بیوروکریٹ کی اولادیں ہیں وہ ایک فون کال پر نکل آئیں گے باقی رشوتیں دے کر
#‏چین کے ایک سابق پولیس اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ صوبہ #سنکیانگ (جسے مقبوضہ مشرقی ترکستان بھی کہا جاتا ہے) میں لاکھوں مسلمانوں کو کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ ان کے نماز اور قرآن پڑھنے اور روزے رکھنے پر پابندیاں ہیں۔ مساجد کو بند یا شہید کردیا گیا ہے۔ اسکولوں میں اویغور زبان کے استعمال کی ممانعت ہے، جس سے نئی نسل اپنی زبان اور ثقافت سے دور ہو رہی ہے۔
ژانگ یابو نے 2023 میں پولیس کی ملازمت چھوڑ دی تھی اور ملک سے فرار ہوگئے تھے۔ سنکیانگ میں اویغور آبادی پر ریاستی جبر سے متعلق رپورٹ فارن پالیسی میگزین میں شائع ہوئی ہے جس میں ان کا بیان شامل ہے۔
ژانگ یابو نے بتایا کہ 2014 سے 2016 کے دوران انھوں نے حراستی مراکز میں مسلمان قیدیوں پر تشدد، جنسی زیادتی اور اموات تک دیکھیں۔ بعد میں وہ دیہی علاقوں میں تعینات رہے جہاں انھوں نے دیکھا کہ کیمپوں سے نکلنے والے بہت سے افراد کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ 2017 سے 2021 کے درمیان پانچ لاکھ سے زائد افراد کو قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
انھوں نے بتایا کہ 2017 سے 2019 تک جاری بڑے پیمانے پر حراستی مہم جاری رہی۔ لیکن 2023 میں مقامی حکام کو نیا حکم دیا گیا کہ وہ اویغور باشندوں کو مختصر مدت کے لیے حراست میں لینے کے اہداف پورے کریں۔ اس مقصد کے لیے لوگوں کی گزشتہ کئی سال کی زندگیوں کا جائزہ لیا گیا اور معمولی خلاف ورزیوں، جیسے سرکاری تقریبات میں شرکت نہ کرنے یا جبری مشقت سے انکار کرنے پر بھی انھیں گرفتار کیا جانے لگا۔ ان افراد کو سخت حالات میں 15 دن تک رکھا جاتا تاکہ خوف پیدا کیا جاسکے۔
ان لوگوں سے جبری مشقت بھی پالیسی کا حصہ ہے۔ اویغور باشندوں کو گھر سے دور علاقوں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جسے حکومت غربت کے خاتمے کے پروگرام کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک وسیع جبری نظام ہے۔ 2025 تک لاکھوں افراد کو اس طرح منتقل کیا جاچکا تھا۔
اگر کوئی شخص انکار کرے تو اسے سزا کے طور پر اضافی مشقت، مسلسل نگرانی یا مختصر حراست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دیہی علاقوں کی آبادی کم ہو گئی ہے اور وہاں صرف بوڑھے اور بچے رہ گئے ہیں جس سے سماجی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
‏کینڈا کے صوبے Ontario کے وزیر اعلیٰ ڈَگ فورڈ نے مریم نواز کی طرح اپنے لئے ایک لگژری جہاز 28.9 ملین ڈالرز میں خریدا، جیسے ہی خبر آئی تو کہرام مچ گیا۔ اپوزیشن، میڈیا اور عوام نے وزیر اعلیٰ کے بخیئے اُدھیڑ دیئے، قوم نے کہا کہ ہمارے مسائل کچھ اور ہیں لیکن تم اپنے پُر تعیش سفر کیلئے جہاز کیسے خرید سکتے ہو، کسی نے کہا کہ جیسے ہم اکانومی کلاس میں سفر کرتے ہیں تم بھی ویسے ہی کرو، کسی نے کہا کہ ہمیں تم جیسا عیاش وزیر اعلی نہیں چاہیے، کسی نے کہا کہ تم عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر ایک rockstar کی طرح نہیں رہ سکتے، اپوزیشن نے اس جہاز کو gravy plane کا نام دے دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وزیر اعلی نے ڈھٹائی، ضد اور بے شرمی دکھانے کے بجائے فوری طور پر جہاز کو بیچنے کا حکم دے دیا ہے
یاد رکھیں کہ Ontario میں فی کَس آمدن 49000 ڈالرز ہے جبکہ پاکستان میں فی کَس آمدن صرف 1650 ڈالرز
کینیڈا کے صرف ایک صوبے Ontario کا GDP تقریباً 909 ارب ڈالرز ہے جبکہ پورے پاکستان کا 400 ارب ڈالرز سے بھی کم
یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ہے لیکن اسکی قوم نے اسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا۔ اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، انکے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر انکی ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں

امیر عباس
🔥2
ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے منفی رپورٹس سامنے آرہی ہیں کہ شاید مذاکرات تعطل کا شکار ہو کر حالات دوبارہ کشیدگی اور جنگ کی طرف بڑھیں ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان مذاکرات کی تیاری پر آنے والے اخراجات بلکہ یوں کہنا ہوگا وہ غیر ضروری اخراجات جو نااہل عاصم منیر و شہباز انتظامیہ نے اپنے چھچھور پن کے سبب کیے وہ عوام کا خون نچوڑ کر ہی پورے کیے جائیں گے ۔ یعنی تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے امریکہ مذاکرات کے نئے راؤنڈ کے لیے سنجیدہ نہیں ہے
مذاکرات کا کچھ کنفرم نہیں کہ اب ہونگے یا نہیں لیکن عاصم منیر و شہباز نے ‏تمام راولپنڈی اسلام آباد کی عوام عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ محسن نقوی ہر دو گھنٹے بعد ڈپلومیٹک انکلیو کا چکر لگا رہا ہے، ٹرانسپورٹ بند، عدالتیں اور دفاتر بند اور شہر سیکیورٹی اہلکاروں سے بھرا ہوا -
Forwarded from BALOCHISTAN NEWS
بلوچستان کا بجٹ کہاں جاتا ہے ؟
بیٹا جیل محکمے میں گھوسٹ ملازمین کا نظام چلارہا اور باپ محکمہ زراعت میں
معاہدے کے تحت پاکستان نے سوڈان کو 1.5 بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ اور جنگی طیارے فراہم کرنا تھے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع اور ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اس معاہدے کو ختم کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس خریداری کی مالی معاونت نہیں کرے گا۔
#برطانیہ

‏برطانوی رکن پارلیمنٹ زارا سلطانہ نے برطانوی وزیراعظم کو جھوٹا کہا تو انہیں ہاؤس سے نکال دیا گیا
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بری امام میں لوگوں کے گھر کیوں گرائے گئے ؟
باری سب کی آنی ہے خدارا جاگ جاؤ اور اٹھو اپنے حق اور دفاع میں
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
1
‏ہم نے ففتھ جنریشن وار اور فیک نیوز کے نام پر جنگجو پیدا کیے جو اداروں کی طرف سے اختلافی آوازوں، ناقدین اور اپوزیشن کو دھمکیاں لگاتے ہیں جھوٹے مُقدمات کی توجیہات دیتے ہیں اِس نے سسکتی پاکستانی صحافت کی ساکھ بھی ختم کردی اور جزوقتی صحافیوں میں اداروں کی گود میں مُقام پانے کی ریس شروع کردی۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے نمائندے پچھلے دو ہفتوں سے مُلکی قیادت کو دُعائیں دینے اور بلائیں لینے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہیں مگر مجال کسی ایک نے بھی خبر کی ہو مگر ابھی بھی بضد ہیں کہ وہ صحافی ہیں اور اُنکو صحافی لکھا اور پُکارا جائے۔

اسد علی طور
‏محسن نقوی کی زیرصدارت اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں ایک ہزار ایکڑ پر نیا پارک بنے گا جبکہ بین الاقوامی معیار کی فرمز کے ساتھ جوائنٹ ونچر کے تحت فائیو سٹار ہوٹل بھی بنائے جائیں گے

عبید بھٹی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ؛
مارگلہ پہاڑیوں پر چند کنال میں بنے مونال ریسٹورنٹ کو قاضی فائز عیسیٰ اینڈ کمپنی نے یہ کہہ کر ختم کروایا کہ ماحولیات کو نقصان ہورہا ہے، اب محسن نقوی 1000 ایکڑ پر کنکریٹ کا جنگل بنانے چلے ہیں، ہزاروں شہریوں کو بے گھر کیا جارہا ہے تشدد پرچے کیے جارہے ہیں لیکن سپریم کورٹ نامی عفریت کا کہیں اتا پتا نہیں۔
پوری دنیا کا میڈیا دیکھیں تو سب سے زیادہ پاکستان میڈیا، اس کے اینکر اور انکے ایرانی شرکاء ٹاک شوز، ایرانی حکومت کو مس گائیڈ کر رہے ہیں، بے وقت انہیں بہادری کا استعارہ بنا کر مروانے کی کوشش میں ہیں جہاں دو ملین کا ایک ڈالر ہے، بیوقوف دوست ایران کے ساتھ پاکستان کو بھی ڈبوئیں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے، جبکہ وہ ایران کی جانب سے ایک مشترکہ/متفقہ تجویز کے انتظار میں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کی حکومت شدید طور پر منقسم ہونے کی حقیقت کی بنیاد پر، جو کہ غیر متوقع نہیں ہے اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر، ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ایران کے خلاف اپنے حملے کو اس وقت تک مؤخر کریں، جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔

اس لیے میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناکہ بندی جاری رکھے اور ہر دوسرے پہلو سے تیار اور مستعد رہے اور اسی بنا پر میں جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کرتا ہوں جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کر دی جاتی اور مذاکرات کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔