Pakistan Times International
343 subscribers
91 photos
17 videos
76 links
Download Telegram
بین الاقوامی تنظیم پریس ایسوسی ایشن کے مطابق اسرائیلی فوج نے لبنانی صحافی علی شعیب کی موت کے بعد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر کا استعمال کیا جس میں انہیں مبینہ طور پر حزب اللہ کی وردی میں دکھایا گیا

انڈیپینڈنٹ اردو
نور عالم کی جبری گمشدگی اور پھر عرصے بعد بوگس الزامات کے تحت گرفتاری
عالمزیب محسود
Pakistan Times International
نور عالم کی جبری گمشدگی اور پھر عرصے بعد بوگس الزامات کے تحت گرفتاری عالمزیب محسود
ایک دفعہ پھر سے افسوسناک تضاد ہمارے سامنے ہے۔ نور عالم ولد ماروت خان کو 27 دسمبر 2024 کو کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں اپنے گودام سے جبری طور پر اٹھایا گیا، جس کے بعد سے وہ مسلسل لاپتہ رہے اور اہلِ خانہ دربدر انصاف مانگتے رہے، کئی جگہ دلاسے دئیے گئے کہ بندہ رہا ہو جائے گا، جب بندہ رہا نہ ہوا تو کوئی 7 ماہ بعد مجھے معلومات دی گئیں، میں نے 17 جولائی 2025 کو اسکے حوالے سے پوسٹ بھی کیا۔ دوسری طرف 13 اپریل 2026 کو اچانک سرکاری مؤقف سامنے آتا ہے کہ وہی شخص سائٹ ایریا کراچی میں کارروائی کے دوران گرفتار ہوا، اسلحہ و دھماکہ خیز مواد سمیت پکڑا گیا، اور اسے ایک تنظیم سے جوڑ دیا گیا۔
یہاں اصل سوال گرفتاری کا نہیں، سچائی کا ہے۔ کیا اس سے بڑی ڈس انفارمیشن کوئی ہو سکتی ہے کہ پہلے انسان کو غائب کر دو، پھر مہینوں بعد جھوٹے مقدمے میں پیش کر دو، اور سچ کو وردی اور کاغذ کے پیچھے چھپا دو؟ اگر ریاست ہی جھوٹے بیانیے گھڑے، لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں جکڑے، اور ادارے انصاف کے بجائے کہانیاں بنانے لگیں، تو پھر عوام کس پر یقین کریں؟ ادارے اگر قانون بچانے کے لیے ہوں تو عزت پاتے ہیں، لیکن اگر جھوٹ کو قانونی شکل دینے لگیں تو اعتماد دفن ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں ایک بات میں سب سے کرنا چاہتا ہوں، اگر خدا ناخواستہ اس طرح کا معاملہ کھبی درپیش ہو تو ہر خاندان کو چاہیے کہ:
معاملے کو مخصوص لوگوں کے بہکاوے میں چھپائے نہیں۔ فوری طور پر عدالت کا راستہ اپنائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ یہاں عدالت بازیابی نہیں کروا سکتی، مگر قانونی ریکارڈ بنانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جب ثبوت موجود ہوں تو سچ کو دبانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹس محفوظ کرے، پوسٹ کی تاریخ اور وقت محفوظ رکھے، رابطہ نمبرز، میسجز، آڈیو یا تحریری درخواستیں سنبھال کر رکھے اخباری تراشے، ویڈیوز یا نیوز کلپس محفوظ کرے۔ اگر ممکن ہو تو وکیل کے ذریعے یہ مواد ریکارڈ پر لائے۔ آخر میں معاشرے کو اس معاملے میں ایسے خاندانوں کا ساتھ دینا چاہئے کیونکہ سوال صرف اس واحد نور عالم جیسوں کا نہیں ہوتا، بلکے کل یہ کسی اور کا بھی ہو سکتا ہے۔
عالم زیب محسود
#EndEnforcedDisappearances #Pakhtunkhwa #peace #fyp #photography #socialmedia #education #ReleaseAllMissingPersons #LawAndOrder
https://www.facebook.com/share/p/1BK8m4axHx/
ہمت ہے تو بنی گالہ گراو، چک شہزاد گراو، پارک ویو گراو، بحریہ ٹاؤن گراو، اور واقعی طاقتور ہو تو ڈی ایچ اے گراو۔
کھیت کھلیانوں پر بنی ہر وہ سوسائٹی گراو جس کو بنانے کے لیے انتظامیہ نے اربوں کی رشوت کھائی ہے، اور پھر اس رشوت سے بنے افسران کے بنگلے گراو۔

شیراز بٹ
سیکورٹی ایکسچینج کمشن آف پاکستان سات ارب روپے کا نیا دفتر تعمیر کررہا ہے۔ پچھلے سال کمشن چیرمین اور تین کمشنر چالیس کروڑ الاونس سترہ ماہ پرانی تاریخوں سے وصول کر گئے ہیں۔ تنخواہیں دینے تک کے لیے بنکوں سے بھاری قرضہ لیا جارہا ہے۔ پٹرول گیس بجلی کی قیتمیں اور ٹیکس بڑھ رہے ہیں اور عوام سے وصول کیے گئے اس بھاری ٹیکس سے 7 ارب روپے کا صرف ایک دفتر بن رہا ہے..
سینٹ فنانس کمیٹی میں سینٹر انوشہ رحمن صاحبہ کا کہنا تھا حالت یہ ہے بچوں کے دودھ پر ٹیکس لگایا گیا ہے اور یہاں ایک دفتر سات ارب کا بن رہا ہے اور اس کے کمشنرز ایک ہی دن بورڈ ممبرر اور وزارت فنانس کے ساتھ مل کر کروڑں روپے کی دیہاڑی لگا لیتے ہیں اور وہ بھی سترہ ماہ پرانی تاریخوں سے۔
مچھ جیل میں خواتین قیدیوں کو سپریٹینڈنٹ خرم ریاض کے احکامات پر ہراساں کیا جارہا ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور خاتون وکلاء سے درخواست ہے کہ اگر انکے لیے ممکن ہو تو وہ مچھ جیل کا وزٹ کرکے ان قیدی خواتین سے ملاقات کریں اور ان کی شکایات سن لیں۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02JuFKPdLWcaVLm4UFtvkssugnR7BN4r1v5KptDMpKj6e3xrCFFYSWG2JwTdFz4jh6l&id=61564963904808&mibextid=Nif5oz
دہشت کی علامت سمجھنے جانے والے مچھ جیل کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہاں خواتین قیدیوں کو مہینوں سے ہراساں اور بلیک میل کیا جارہا ہے۔ مچھ کی ایک بااثر اور معزز شخصیت نے انکشاف کیا ہے کہ مچھ جیل میں موجود خواتین قیدیوں کو جیل انتظامیہ مبینہ طور پر جیل سپریٹینڈنٹ خرم ریاض کے احکامات پر تنگ کررہی ہے اور ہر دوسرے روز تلاشی کے نام پر ہراساں کرتی ہے۔ خواتین کے ورثاء کی جانب سے مچھ شہر کی معزز اور بااثر شخصیات کے علاوہ مچھ جیل میں قید پشتون اور بلوچ قبائلی شخصیات کے پاس بھی اس مسئلے کے حوالے سے پیغام پہنچایا گیا تھا۔ مچھ جیل سے ریٹائرڈ ہونے والے ایک سابق افسر کا کہنا تھا کہ یہ مچھ جیل کی تاریخ رہی ہے کہ سپریٹینڈنٹ مچھ شہر کی معزز شخصیات کی کسی قیدی کے حوالے سے جائز شکایت سن کر داد رسی کرتے تھے اسکے علاؤہ مچھ جیل میں قید ہونے والی بااثر بلوچ و پشتون قبائلی شخصیات کی بھی جائز شکایت سنتے تھے اور داد رسی کرتے تھے۔ اور ایسا انگریز دور میں بھی ہوتا رہا۔ یہ مچھ جیل کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ موجودہ سپریٹینڈنٹ خرم ریاض نے پشتون اور بلوچ قبائلی رہنماؤں کی اسطرح تذلیل کی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ چونکہ جیل میں فنڈز کی کمی اور سہولیات کا فقدان ہے۔ غریب قیدی دوائی راشن ، جرمانوں اور دیگر چھوٹی موٹی ضرورتوں کےلیے قبائلی رہنماؤں سرداروں اور صاحب حیثیت افراد کے پاس جاتے تھے اور بلوچ و پشتون سردار اپنی قبائلی روایات کا پاس رکھتے ہوئے قیدیوں کی ہر ممکن مدد کرتے تھے یہ ایک طرح سے جیل انتظامیہ سے بھی تعاون ہی تھا۔ لیکن موجودہ سپریٹینڈنٹ نے اپنی تعیناتی کے ساتھ ہی یہ نظام درہم برہم کیا ۔ اس وقت بی کلاس قصوری قیدیوں کے بند وارڈ کی طرح کردیا گیا ہے اور عام قیدیوں کی ان تک رسائی ناممکن بنادی گئی ہے۔ سردار نسیم کا واقعہ تو حال ہی کا ہے جنہیں پہلے بی کلاس سے نکالا گیا ، پھر مختلف بارکوں میں نشعے کے عادی اور ذہنی مریض افراد کے ساتھ رکھا گیا یہاں تک کہ ان پر قاتلانہ حملے کا واقعہ پیش آیا ۔ یہی وجہ ہے جب ہراسانی کا شکار قیدی خواتین کے ورثاء کی جانب سے ان قبائلی شخصیات پر بار بار پیغام پہنچانے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں ہے کہ یہ شخصیات خود بھی اس سپریٹینڈنٹ کے ظلم کا شکار ہیں۔ موجودہ سپریٹینڈنٹ خرم ریاض پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ مچھ جیل میں قید افراد کے بااثر مخالف فریق سے رشوت کے عوض قیدیوں کو تنگ کرتے ہیں۔ سردار عجب خان ، حاجی صوبہ خان ، میر نور سمیت کئی معزز شخصیات یہ الزامات لگا چکے ہیں ۔ بہت سے ایسے قیدی بھی ہیں جو اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں لیکن سپریٹینڈنٹ مخالف فریق سے بھاری رقم کے عوض رہائی قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ خرم ریاض عمر قید کے قیدیوں کو 30 سے 35 لاکھ رشوت لے کر کئی قیدیوں کو چھوڑ چکے ہیں دوسری جانب دس سال بارہ سال تیرہ سال والے قیدی ابھی تک جیل میں ہیں کیونکہ مخالف فریق سے خرم ریاض رشوت وصول کررہا ہے۔ بہرحال مرد قیدیوں سے ہونے والی زیادتیاں پھر بھی قابل برداشت ہیں لیکن خواتین قیدیوں سے ہراسگی کا معاملہ نہایت سنگین ہے یہ بلوچ و پشتون روایات کے خلاف ہے جسے کسی صورت اہل علاقہ بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اور مچھ شہر میں اس حوالے سے سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

اس تحریر کے توسط سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور خاتون وکلاء سے درخواست ہے کہ اگر انکے لیے ممکن ہو تو وہ مچھ جیل کا وزٹ کرکے ان قیدی خواتین سے ملاقات کریں اور ان کی شکایات سن لیں۔

#Balochistan #MachJail
#womenrights
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02JuFKPdLWcaVLm4UFtvkssugnR7BN4r1v5KptDMpKj6e3xrCFFYSWG2JwTdFz4jh6l&id=61564963904808&mibextid=Nif5oz
#لاہور

تھانہ ڈیفنس میں نوجوان پر تھانے میں تشدد کا واقعہ

ورثاء کے مطابق 22 سالہ بچی تھانہ ڈیفنس اے کے علاقے میں گھریلو ملازمہ ہے، بچی پر چوری کے الزام پر اسے تھانے لے جایا گیا جب لڑکی کا بھائی اسے ملنے گیا تو پولیس نے اسے بھی حراست میں لے لیا جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اسلام آباد

‏سی ڈی اے میں وقتی طور ہر متعین چند ایک پی اے ایس افسران نہ جانے کیا سوچ کر میرے شہر عزیز (اسلام آباد) کے ہزاروں لوگوں کے گھر گرا چکے ہیں- اور کتنوں کو مزید بے گھر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں-

سی ایس ایس پاس ان افسروں نے اپنے اذہان میں اس قبیح عمل کے لیے نہ جانے کیا کیا جواز گھڑ ے ہوں گے-

عمر اعجاز گیلانی
🚨🚨
سول سروسز اکیڈیمی کو بند اور سی ایس ایس کا نظام ختم کرنےکی اشد ضرورت ہے یہ چھچھورے ٹک ٹاکر ڈی سی، اے سی، ایس پیز پیدا کررہی جو انتہائی جاہل اور غریب کُش انسان کو انسان نہ سمجھنے والے جانوروں سے بدتر درندے ہیں۔ جو نظام انسان دوست اور غریب پرور افسران نہ پیدا کرےبند کرنا چاہئے

اسد علی طور
1
ایل این جی ٹرمینلز کے معاہدے ناقص ہیں، اگر معاہدے کے مطابق ہمیں گیس نہ بھی ملے تو 15 ملین ڈالر کی کیپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑتی ہے، جو سمجھ سے باہر ہے،

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک
ڈی سی اسلام آباد کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کو تاحکم ثانی معطل کیا جا رہا ہے اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔۔۔

اگر کچھ اور راؤنڈ ہوئے ایسے مذاکرات کے جس میں امریکیوں کی شمولیت اور اسلام آباد میں انکا سٹے ضروری ہوا تو عین ممکن ہے ملک کے وسیع تر مفاد میں پورے اسلام آباد کو امریکی پراپرٹی قرار دے کر تمام پاکستانیوں کو شہر بدر کردیں ۔۔
اسلام آباد

ظلم کی ہر حد پار کی جا رہی ہے
بری امام کے رہائشیوں کے سروں سے چھت چھین لی اور پھر انہی پر تشدد اور مقدمے کئے جا رہے ہیں ۔۔ شرمناک
اسـ۔ـرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ انکا ایک فوجی ہلاک اور 9 فوجی اس وقت زخمی ہوئے جب جنوبی #لبنان میں اسرائیلی ڈی نائن کیٹرپلر بلڈوزر کو دھـ.ـماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کی کی ترجمان صوفیا کالٹراپ نے جنیوا میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ اکتوبر 2023 سے دسمبر 2025 کے آخر تک اسـ.ـرائیل کے فضائی حملوں اور فوجی آپریشنز میں غزہ میں 38 ہزار فلسطینی خواتین اور بچیاں شہید ہوچکی ہیں۔ 22000 خواتین اور 16000 بچیاں ۔ یعنی ہر دن اوسطا 47 خواتین اور بچیاں شہید کی گئیں۔
#پشاور

‏باچا خان چوک پشاور میں بڑی کارروائی
ضلعی انتظامیہ نے 12 سو سے زائد مردہ مرغیاں برآمد کرلیں
گروہ مردہ مرغیوں کو صاف کر کے اس کا گوشت پشاور بھر کو سپلائی کرتا تھا مردہ مرغیوں کا گوشت شورما، چکن برگر اور دیگر دکانوں کو سپلائی ہوتا تھا،ڈپٹی کمشنر پشاور

پاکستان میں روز بڑھتی غربت کے سبب لوگ مجبور ہیں کہ اشیاء سستے داموں خریدنے کے لیے صفائی اور معیار کو نظر انداز کردیں ۔ لوگوں کی یہی کمزوری ان بے ضمیر لوگوں کے لیے راستے ہموار کرتی ہے جو مضر صحت ، ایکسپائر اور ملاوٹ شدہ اشیاء بیچتے ہیں۔ یہ ملک بھر میں ہورہا ہے دودھ سے لے کر کھانے کا تیل گھی، مصالحہ جات سے لے کر گوشت اور پھل فروٹ تک کوئی شے نہیں بچی ۔ یہی وجہ ہے کہ بیماریاں عروج پر ہیں۔ کوالٹی کنٹرول کا کوئی ادارہ اگر ملک میں ہے بھی تو اسکا کام صرف رشوتیں وصول کرنا ہے
اسلام آباد کی سڑکوں پر اب خوفناک کار ریس معمول بن چکی ہے۔ بگڑے نوجوانوں نے شہریوں کا جینا حرام کر رکھا ہےکیونکہ انہیں کسی کا خوف ڈر نہیں ہے۔
دو دن پہلے اسلام آباد کی سڑکوں پر نوجوانوں نے دہشت پھیلا دی جس پر شہریوں نے شدید ردعمل دیا جس کے بعد ان سب کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ رؤف کلاسرا ۔۔۔

ان میں سے جو کسی جج سیاستدان بیوروکریٹ کی اولادیں ہیں وہ ایک فون کال پر نکل آئیں گے باقی رشوتیں دے کر
#‏چین کے ایک سابق پولیس اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ صوبہ #سنکیانگ (جسے مقبوضہ مشرقی ترکستان بھی کہا جاتا ہے) میں لاکھوں مسلمانوں کو کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ ان کے نماز اور قرآن پڑھنے اور روزے رکھنے پر پابندیاں ہیں۔ مساجد کو بند یا شہید کردیا گیا ہے۔ اسکولوں میں اویغور زبان کے استعمال کی ممانعت ہے، جس سے نئی نسل اپنی زبان اور ثقافت سے دور ہو رہی ہے۔
ژانگ یابو نے 2023 میں پولیس کی ملازمت چھوڑ دی تھی اور ملک سے فرار ہوگئے تھے۔ سنکیانگ میں اویغور آبادی پر ریاستی جبر سے متعلق رپورٹ فارن پالیسی میگزین میں شائع ہوئی ہے جس میں ان کا بیان شامل ہے۔
ژانگ یابو نے بتایا کہ 2014 سے 2016 کے دوران انھوں نے حراستی مراکز میں مسلمان قیدیوں پر تشدد، جنسی زیادتی اور اموات تک دیکھیں۔ بعد میں وہ دیہی علاقوں میں تعینات رہے جہاں انھوں نے دیکھا کہ کیمپوں سے نکلنے والے بہت سے افراد کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ 2017 سے 2021 کے درمیان پانچ لاکھ سے زائد افراد کو قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
انھوں نے بتایا کہ 2017 سے 2019 تک جاری بڑے پیمانے پر حراستی مہم جاری رہی۔ لیکن 2023 میں مقامی حکام کو نیا حکم دیا گیا کہ وہ اویغور باشندوں کو مختصر مدت کے لیے حراست میں لینے کے اہداف پورے کریں۔ اس مقصد کے لیے لوگوں کی گزشتہ کئی سال کی زندگیوں کا جائزہ لیا گیا اور معمولی خلاف ورزیوں، جیسے سرکاری تقریبات میں شرکت نہ کرنے یا جبری مشقت سے انکار کرنے پر بھی انھیں گرفتار کیا جانے لگا۔ ان افراد کو سخت حالات میں 15 دن تک رکھا جاتا تاکہ خوف پیدا کیا جاسکے۔
ان لوگوں سے جبری مشقت بھی پالیسی کا حصہ ہے۔ اویغور باشندوں کو گھر سے دور علاقوں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جسے حکومت غربت کے خاتمے کے پروگرام کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک وسیع جبری نظام ہے۔ 2025 تک لاکھوں افراد کو اس طرح منتقل کیا جاچکا تھا۔
اگر کوئی شخص انکار کرے تو اسے سزا کے طور پر اضافی مشقت، مسلسل نگرانی یا مختصر حراست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دیہی علاقوں کی آبادی کم ہو گئی ہے اور وہاں صرف بوڑھے اور بچے رہ گئے ہیں جس سے سماجی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
‏کینڈا کے صوبے Ontario کے وزیر اعلیٰ ڈَگ فورڈ نے مریم نواز کی طرح اپنے لئے ایک لگژری جہاز 28.9 ملین ڈالرز میں خریدا، جیسے ہی خبر آئی تو کہرام مچ گیا۔ اپوزیشن، میڈیا اور عوام نے وزیر اعلیٰ کے بخیئے اُدھیڑ دیئے، قوم نے کہا کہ ہمارے مسائل کچھ اور ہیں لیکن تم اپنے پُر تعیش سفر کیلئے جہاز کیسے خرید سکتے ہو، کسی نے کہا کہ جیسے ہم اکانومی کلاس میں سفر کرتے ہیں تم بھی ویسے ہی کرو، کسی نے کہا کہ ہمیں تم جیسا عیاش وزیر اعلی نہیں چاہیے، کسی نے کہا کہ تم عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر ایک rockstar کی طرح نہیں رہ سکتے، اپوزیشن نے اس جہاز کو gravy plane کا نام دے دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وزیر اعلی نے ڈھٹائی، ضد اور بے شرمی دکھانے کے بجائے فوری طور پر جہاز کو بیچنے کا حکم دے دیا ہے
یاد رکھیں کہ Ontario میں فی کَس آمدن 49000 ڈالرز ہے جبکہ پاکستان میں فی کَس آمدن صرف 1650 ڈالرز
کینیڈا کے صرف ایک صوبے Ontario کا GDP تقریباً 909 ارب ڈالرز ہے جبکہ پورے پاکستان کا 400 ارب ڈالرز سے بھی کم
یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ہے لیکن اسکی قوم نے اسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا۔ اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، انکے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر انکی ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں

امیر عباس
🔥2