Pakistan Times International
344 subscribers
91 photos
17 videos
76 links
Download Telegram
پاکستان ایڈز کے تشویشناک اور تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے کی زد میں ہے: سابق مشیر صحت
‏گزشتہ 23 برس سے اسرائیلی جیل میں قید فل@سطینی تنظیم فتح کے رہنما مروان برغوثی کے سیل میں کتا چھوڑ دیا گیا جس نے انہیں شدید زخمی کردیا۔

مروان برغوثی کے وکیل بین مارمریلی نے ایکس پر کی گئی اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے 12 اپریل کو انے موکل مروان برغوثی سے ملاقات کی۔ جہاں انہوں نے نہایت اذیت ناک صورتحال کا مشاہدہ کیا۔

بین مارمریلی نے بتایا کہ ’فلس@طینی رہنما کو 8 اپریل کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دو گھنٹے سے زائد وقت تک زخمی حالت میں ان کے جسم سے خون بہتا رہا، جبکہ انہیں کوئی طبی امداد بھی نہیں دی گئی۔

مارمریلی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ برغوثی پر 24 مارچ کو ایک کتے نے حملہ کیا، جسے جیل کے محافظوں نے ان کے سیل میں چھوڑ دیا تھا۔
1😢1
اسلام آباد مسماری مہم کے حوالے سے اپڈیٹ

‏چیئرمین سی ڈی اے تبدیل ہوگئے ہیں اس وجہ سے تاخیر ہوئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

مسودہ تیار ہے آئندہ بورڈ اجلاس میں منظوری دے دی جائے گی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

راتوں رات کسی کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا،وکیل درخواست گزار فیصل صدیقی

کیا اسلام آباد میں کچی آبادیوں کیلئے کوئی جگہ مختص ہے؟ چیف جسٹس امین الدین خان

سی ڈی اے ماسٹر پلان میں کچی آبادیوں کا کوئی وجود نہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

انسانی بنیادوں پر 1995 تک قائم شدہ کچی آبادیوں کو تسلیم کیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

متبادل جگہ دیے بغیر کسی کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا، فیصل صدیقی

متبادل جگہ کے باوجود لوگوں نے پرانی جگہ خالی نہیں کی، وکیل سی ڈی اے قاسم چوہان

زیادہ تر کچی آبادیوں پر مافیاز کا کنٹرول ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

مافیا کچی آبادیاں بنوا کر زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

کچی آبادی بننے کے بعد مافیاز زمین کا قبضہ فروخت کر دیتے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

عدالت نے سی ڈی اے کو قواعد بنانے کا وقت دیتے ہوئے سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی
‏ماسٹر پلان میں چک شہزاد کے اندر شہریوں کے لئے سبزیوں اور پھلوں کی کاشتکاری کے فارموں پر امراء نے قبضہ کرکے وہاں سی ڈی اے کی اشیرباد سے محلات تعمیر کر لئے ، لیکن محنت کشوں کی جھونپڑیوں ، کچے اور چھوٹے مکانوں کو زمین بوس کرنے کے لئے حملے کے لئے دن اور رات مسلح جھتے تیار رہتے ہیں

افراسیاب خٹک
پاکستان میں اکثر مولوی جنہوں نے کبھی بلوچستان گئے نہیں اور نہ ہی زحمت کرتے ہیں یہ جاننے کی کہ وہاں کیا ہورہا ہے لوگ کیسے زندہ رہتے ہیں بس ایک بات بڑی آسانی سے کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ اسلام میں قوم پرستی کی گنجائش نہیں ۔ یہ قومیت کی لڑائی ہے۔ یقینا ٹھیک کہتے ہیں ۔ ایک بلوچ دوست درد دل سے کہنے لگا کہ خدارا انہیں بتاؤ کہ ہم قوم پرستی نہ کریں ، ہمارا کسی بلوچ سیاسی اور عسکری تنظیم سے تعلق نہ بھی ہو تب بھی فوج کے کارندے ہمیں نہیں چھوڑتے ، خفیہ اداروں کو بھی سو فیصد یقین ہو کہ ہمارا کسی سے تعلق نہیں وہ تب بھی ہمیں اٹھاتے ہیں لاپتہ کرتے ہیں ۔ کس لئے ؟ صرف اس لئے کہ ہم انکے لیے کام کریں۔ بار بار لاپتہ ہونے سے ہمارا روزگار ویسے ہی ختم ہو جاتا ہے بہت سے لوگ جو خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں انکا حکم ماننے پر راضی ہو جاتے ہیں وہ بھتہ خور منشیات فروش بن جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ فوج اور خفیہ اداروں کے لیے مخبریاں کرتے ہیں ایسے افراد کی وجہ۔سے پورے پورے خاندان لوگوں کی دشمنیاں سہتے ہیں۔ آپ بتائیں ایسے میں ان نوجوانوں کے پاس ہتھیار اٹھانے اور پہاڑوں میں جانے کے علاؤہ اور کونسا راستہ بچتا ہے ؟

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
‌‎#افغانستان
ٹاپی گیس پائپ لائن منصوبہ، جو 2026 کے آخر تک ہرات پہنچنے والا ہے، خطے میں ایک بڑے اقتصادی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ بجلی کے مقابلے میں گیس کا استعمال اخراجات میں 15 سے 25 فیصد کمی لائے گا، جبکہ ہرات کے لیے گیس کا تخمینہ بھی 500 ملین سے بڑھا کر 4.3 ارب کیوبک میٹر کر دیا گیا ہے۔ اگر صرف ایک ارب کیوبک میٹر گیس بھی استعمال کی جائے، تو اس سے سالانہ 900 ملین ڈالر کی خطیر بچت ہوگی اور تقریباً 2 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

#پاکستان کیا ایسے کسی منصوبے کے لیے امریکہ سے پوچھے بغیر فیصلہ کرسکتا ہے ؟
#خیبرپختونخوا
#باجوڑ

‏گورنمنٹ پرائمری سکول گبرے نمبر 2 باجوڑ
500 طلباء زیرِ تعلیم
برسات کے دوران قریبی ندی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث تقریباً 350 سے زائد طلباء کو سکول آنے میں شدید مشکلات کا سامنا
ایک معمولی پل کی تعمیر بھی ممکن نہیں ہوسکی
#خیبرپختونخوا
#‏مردان /رستم ماربل مائن سلائیڈنگ میں لاپتہ شخص زندہ برآمد۔۔۔

ضلع مہمند کا رہائشی خیبر خان نامی نوجوان 16 دن بعد ملبے سے زندہ مل گیا ۔ سلائیڈنگ کا واقعہ 16 دن قبل آیا تھا ۔جسمں 9 افراد جانبحق ھوئے تھے جبکہ دو افراد شدید زخمی ھوئے تھے
عاصم کی بیوی شیعہ ہے، تو عاصم اپنی بیوی کے ساتھ اکثر ایران جاتا تھا۔ پھر فیض حمید نے عاصم کی ایران دوروں کی ڈیٹیلز سعودی عرب کو لیک کر دی، اور انہیں کہا کہ عاصم ایران کے قریب ہے تو اسے آرمی چیف بننے نہیں دینا چاہیے، لیکن نواز شریف نے سعودی عرب کو کہا کہ عاصم ح*ی ہے، نہ شیعہ ہے نہ سنی، اس سے بڑا ح*ی اور کوئی جرنیل نہیں۔ تو عاصم منیر ہی آرمی چیف بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ عاصم منیر نے فیض حمید کو ذلیل کیا اور گیسٹ ہاؤس میں نظر بند کیا ہوا ہے۔
https://x.com/i/status/2044457621420446199
بین الاقوامی تنظیم پریس ایسوسی ایشن کے مطابق اسرائیلی فوج نے لبنانی صحافی علی شعیب کی موت کے بعد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر کا استعمال کیا جس میں انہیں مبینہ طور پر حزب اللہ کی وردی میں دکھایا گیا

انڈیپینڈنٹ اردو
نور عالم کی جبری گمشدگی اور پھر عرصے بعد بوگس الزامات کے تحت گرفتاری
عالمزیب محسود
Pakistan Times International
نور عالم کی جبری گمشدگی اور پھر عرصے بعد بوگس الزامات کے تحت گرفتاری عالمزیب محسود
ایک دفعہ پھر سے افسوسناک تضاد ہمارے سامنے ہے۔ نور عالم ولد ماروت خان کو 27 دسمبر 2024 کو کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں اپنے گودام سے جبری طور پر اٹھایا گیا، جس کے بعد سے وہ مسلسل لاپتہ رہے اور اہلِ خانہ دربدر انصاف مانگتے رہے، کئی جگہ دلاسے دئیے گئے کہ بندہ رہا ہو جائے گا، جب بندہ رہا نہ ہوا تو کوئی 7 ماہ بعد مجھے معلومات دی گئیں، میں نے 17 جولائی 2025 کو اسکے حوالے سے پوسٹ بھی کیا۔ دوسری طرف 13 اپریل 2026 کو اچانک سرکاری مؤقف سامنے آتا ہے کہ وہی شخص سائٹ ایریا کراچی میں کارروائی کے دوران گرفتار ہوا، اسلحہ و دھماکہ خیز مواد سمیت پکڑا گیا، اور اسے ایک تنظیم سے جوڑ دیا گیا۔
یہاں اصل سوال گرفتاری کا نہیں، سچائی کا ہے۔ کیا اس سے بڑی ڈس انفارمیشن کوئی ہو سکتی ہے کہ پہلے انسان کو غائب کر دو، پھر مہینوں بعد جھوٹے مقدمے میں پیش کر دو، اور سچ کو وردی اور کاغذ کے پیچھے چھپا دو؟ اگر ریاست ہی جھوٹے بیانیے گھڑے، لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں جکڑے، اور ادارے انصاف کے بجائے کہانیاں بنانے لگیں، تو پھر عوام کس پر یقین کریں؟ ادارے اگر قانون بچانے کے لیے ہوں تو عزت پاتے ہیں، لیکن اگر جھوٹ کو قانونی شکل دینے لگیں تو اعتماد دفن ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں ایک بات میں سب سے کرنا چاہتا ہوں، اگر خدا ناخواستہ اس طرح کا معاملہ کھبی درپیش ہو تو ہر خاندان کو چاہیے کہ:
معاملے کو مخصوص لوگوں کے بہکاوے میں چھپائے نہیں۔ فوری طور پر عدالت کا راستہ اپنائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ یہاں عدالت بازیابی نہیں کروا سکتی، مگر قانونی ریکارڈ بنانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جب ثبوت موجود ہوں تو سچ کو دبانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹس محفوظ کرے، پوسٹ کی تاریخ اور وقت محفوظ رکھے، رابطہ نمبرز، میسجز، آڈیو یا تحریری درخواستیں سنبھال کر رکھے اخباری تراشے، ویڈیوز یا نیوز کلپس محفوظ کرے۔ اگر ممکن ہو تو وکیل کے ذریعے یہ مواد ریکارڈ پر لائے۔ آخر میں معاشرے کو اس معاملے میں ایسے خاندانوں کا ساتھ دینا چاہئے کیونکہ سوال صرف اس واحد نور عالم جیسوں کا نہیں ہوتا، بلکے کل یہ کسی اور کا بھی ہو سکتا ہے۔
عالم زیب محسود
#EndEnforcedDisappearances #Pakhtunkhwa #peace #fyp #photography #socialmedia #education #ReleaseAllMissingPersons #LawAndOrder
https://www.facebook.com/share/p/1BK8m4axHx/
ہمت ہے تو بنی گالہ گراو، چک شہزاد گراو، پارک ویو گراو، بحریہ ٹاؤن گراو، اور واقعی طاقتور ہو تو ڈی ایچ اے گراو۔
کھیت کھلیانوں پر بنی ہر وہ سوسائٹی گراو جس کو بنانے کے لیے انتظامیہ نے اربوں کی رشوت کھائی ہے، اور پھر اس رشوت سے بنے افسران کے بنگلے گراو۔

شیراز بٹ
سیکورٹی ایکسچینج کمشن آف پاکستان سات ارب روپے کا نیا دفتر تعمیر کررہا ہے۔ پچھلے سال کمشن چیرمین اور تین کمشنر چالیس کروڑ الاونس سترہ ماہ پرانی تاریخوں سے وصول کر گئے ہیں۔ تنخواہیں دینے تک کے لیے بنکوں سے بھاری قرضہ لیا جارہا ہے۔ پٹرول گیس بجلی کی قیتمیں اور ٹیکس بڑھ رہے ہیں اور عوام سے وصول کیے گئے اس بھاری ٹیکس سے 7 ارب روپے کا صرف ایک دفتر بن رہا ہے..
سینٹ فنانس کمیٹی میں سینٹر انوشہ رحمن صاحبہ کا کہنا تھا حالت یہ ہے بچوں کے دودھ پر ٹیکس لگایا گیا ہے اور یہاں ایک دفتر سات ارب کا بن رہا ہے اور اس کے کمشنرز ایک ہی دن بورڈ ممبرر اور وزارت فنانس کے ساتھ مل کر کروڑں روپے کی دیہاڑی لگا لیتے ہیں اور وہ بھی سترہ ماہ پرانی تاریخوں سے۔
مچھ جیل میں خواتین قیدیوں کو سپریٹینڈنٹ خرم ریاض کے احکامات پر ہراساں کیا جارہا ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور خاتون وکلاء سے درخواست ہے کہ اگر انکے لیے ممکن ہو تو وہ مچھ جیل کا وزٹ کرکے ان قیدی خواتین سے ملاقات کریں اور ان کی شکایات سن لیں۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02JuFKPdLWcaVLm4UFtvkssugnR7BN4r1v5KptDMpKj6e3xrCFFYSWG2JwTdFz4jh6l&id=61564963904808&mibextid=Nif5oz
دہشت کی علامت سمجھنے جانے والے مچھ جیل کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہاں خواتین قیدیوں کو مہینوں سے ہراساں اور بلیک میل کیا جارہا ہے۔ مچھ کی ایک بااثر اور معزز شخصیت نے انکشاف کیا ہے کہ مچھ جیل میں موجود خواتین قیدیوں کو جیل انتظامیہ مبینہ طور پر جیل سپریٹینڈنٹ خرم ریاض کے احکامات پر تنگ کررہی ہے اور ہر دوسرے روز تلاشی کے نام پر ہراساں کرتی ہے۔ خواتین کے ورثاء کی جانب سے مچھ شہر کی معزز اور بااثر شخصیات کے علاوہ مچھ جیل میں قید پشتون اور بلوچ قبائلی شخصیات کے پاس بھی اس مسئلے کے حوالے سے پیغام پہنچایا گیا تھا۔ مچھ جیل سے ریٹائرڈ ہونے والے ایک سابق افسر کا کہنا تھا کہ یہ مچھ جیل کی تاریخ رہی ہے کہ سپریٹینڈنٹ مچھ شہر کی معزز شخصیات کی کسی قیدی کے حوالے سے جائز شکایت سن کر داد رسی کرتے تھے اسکے علاؤہ مچھ جیل میں قید ہونے والی بااثر بلوچ و پشتون قبائلی شخصیات کی بھی جائز شکایت سنتے تھے اور داد رسی کرتے تھے۔ اور ایسا انگریز دور میں بھی ہوتا رہا۔ یہ مچھ جیل کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ موجودہ سپریٹینڈنٹ خرم ریاض نے پشتون اور بلوچ قبائلی رہنماؤں کی اسطرح تذلیل کی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ چونکہ جیل میں فنڈز کی کمی اور سہولیات کا فقدان ہے۔ غریب قیدی دوائی راشن ، جرمانوں اور دیگر چھوٹی موٹی ضرورتوں کےلیے قبائلی رہنماؤں سرداروں اور صاحب حیثیت افراد کے پاس جاتے تھے اور بلوچ و پشتون سردار اپنی قبائلی روایات کا پاس رکھتے ہوئے قیدیوں کی ہر ممکن مدد کرتے تھے یہ ایک طرح سے جیل انتظامیہ سے بھی تعاون ہی تھا۔ لیکن موجودہ سپریٹینڈنٹ نے اپنی تعیناتی کے ساتھ ہی یہ نظام درہم برہم کیا ۔ اس وقت بی کلاس قصوری قیدیوں کے بند وارڈ کی طرح کردیا گیا ہے اور عام قیدیوں کی ان تک رسائی ناممکن بنادی گئی ہے۔ سردار نسیم کا واقعہ تو حال ہی کا ہے جنہیں پہلے بی کلاس سے نکالا گیا ، پھر مختلف بارکوں میں نشعے کے عادی اور ذہنی مریض افراد کے ساتھ رکھا گیا یہاں تک کہ ان پر قاتلانہ حملے کا واقعہ پیش آیا ۔ یہی وجہ ہے جب ہراسانی کا شکار قیدی خواتین کے ورثاء کی جانب سے ان قبائلی شخصیات پر بار بار پیغام پہنچانے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں ہے کہ یہ شخصیات خود بھی اس سپریٹینڈنٹ کے ظلم کا شکار ہیں۔ موجودہ سپریٹینڈنٹ خرم ریاض پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ مچھ جیل میں قید افراد کے بااثر مخالف فریق سے رشوت کے عوض قیدیوں کو تنگ کرتے ہیں۔ سردار عجب خان ، حاجی صوبہ خان ، میر نور سمیت کئی معزز شخصیات یہ الزامات لگا چکے ہیں ۔ بہت سے ایسے قیدی بھی ہیں جو اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں لیکن سپریٹینڈنٹ مخالف فریق سے بھاری رقم کے عوض رہائی قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ خرم ریاض عمر قید کے قیدیوں کو 30 سے 35 لاکھ رشوت لے کر کئی قیدیوں کو چھوڑ چکے ہیں دوسری جانب دس سال بارہ سال تیرہ سال والے قیدی ابھی تک جیل میں ہیں کیونکہ مخالف فریق سے خرم ریاض رشوت وصول کررہا ہے۔ بہرحال مرد قیدیوں سے ہونے والی زیادتیاں پھر بھی قابل برداشت ہیں لیکن خواتین قیدیوں سے ہراسگی کا معاملہ نہایت سنگین ہے یہ بلوچ و پشتون روایات کے خلاف ہے جسے کسی صورت اہل علاقہ بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اور مچھ شہر میں اس حوالے سے سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

اس تحریر کے توسط سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور خاتون وکلاء سے درخواست ہے کہ اگر انکے لیے ممکن ہو تو وہ مچھ جیل کا وزٹ کرکے ان قیدی خواتین سے ملاقات کریں اور ان کی شکایات سن لیں۔

#Balochistan #MachJail
#womenrights
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02JuFKPdLWcaVLm4UFtvkssugnR7BN4r1v5KptDMpKj6e3xrCFFYSWG2JwTdFz4jh6l&id=61564963904808&mibextid=Nif5oz
#لاہور

تھانہ ڈیفنس میں نوجوان پر تھانے میں تشدد کا واقعہ

ورثاء کے مطابق 22 سالہ بچی تھانہ ڈیفنس اے کے علاقے میں گھریلو ملازمہ ہے، بچی پر چوری کے الزام پر اسے تھانے لے جایا گیا جب لڑکی کا بھائی اسے ملنے گیا تو پولیس نے اسے بھی حراست میں لے لیا جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اسلام آباد

‏سی ڈی اے میں وقتی طور ہر متعین چند ایک پی اے ایس افسران نہ جانے کیا سوچ کر میرے شہر عزیز (اسلام آباد) کے ہزاروں لوگوں کے گھر گرا چکے ہیں- اور کتنوں کو مزید بے گھر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں-

سی ایس ایس پاس ان افسروں نے اپنے اذہان میں اس قبیح عمل کے لیے نہ جانے کیا کیا جواز گھڑ ے ہوں گے-

عمر اعجاز گیلانی
🚨🚨
سول سروسز اکیڈیمی کو بند اور سی ایس ایس کا نظام ختم کرنےکی اشد ضرورت ہے یہ چھچھورے ٹک ٹاکر ڈی سی، اے سی، ایس پیز پیدا کررہی جو انتہائی جاہل اور غریب کُش انسان کو انسان نہ سمجھنے والے جانوروں سے بدتر درندے ہیں۔ جو نظام انسان دوست اور غریب پرور افسران نہ پیدا کرےبند کرنا چاہئے

اسد علی طور
1
ایل این جی ٹرمینلز کے معاہدے ناقص ہیں، اگر معاہدے کے مطابق ہمیں گیس نہ بھی ملے تو 15 ملین ڈالر کی کیپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑتی ہے، جو سمجھ سے باہر ہے،

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک
ڈی سی اسلام آباد کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کو تاحکم ثانی معطل کیا جا رہا ہے اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔۔۔

اگر کچھ اور راؤنڈ ہوئے ایسے مذاکرات کے جس میں امریکیوں کی شمولیت اور اسلام آباد میں انکا سٹے ضروری ہوا تو عین ممکن ہے ملک کے وسیع تر مفاد میں پورے اسلام آباد کو امریکی پراپرٹی قرار دے کر تمام پاکستانیوں کو شہر بدر کردیں ۔۔