Pakistan Times International
343 subscribers
91 photos
17 videos
76 links
Download Telegram
پاور ڈویژن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الوقت پاکستان میں بجلی کی طلب 18000 میگا واٹ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 13500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، چنانچہ بجلی کی طلب اور رسد میں 4500 میگا واٹ کا فرق ہے۔

پاکستان میں کچھ پاور پلانٹس کے ملازمین کو باقاعدہ تنخواہیں دی جاتی ہیں اور وہ پاور پلانٹس بھی بند ہیں۔

مطلب ان پاور پلانٹس کو اس وجہ سے بنایا گیا کہ جب بجلی کی ضرورت ہوگی ان کو استعمال میں لایا جائے گا۔
اب ان کو اس وجہ سے بند کیا گیا ہے کہ بجلی کی ضرورت نہیں، حالانکہ منافقت دیکھیں کہ دوسری طرف لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے کہ بجلی کی پیداوار کم ہے۔
دوسری بات کہ اگر ان کو استعمال نہیں کرنا تو ان کے ملازمین کو ختم کیا جائے، لیکن یہ بھی نہیں کر رہے، ملازمین کو ماہانہ تنخواہیں دیتے ہیں اور پاور پلانٹس بھی نہیں چلائے جارہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ جب یہ پاور پلانٹس بنائے جارہے تھے اس وقت ان کا وفاقی حکومت سے معاہدہ ہوا کہ چاہے حکومت یہ بجلی خریدے یا نہ خریدے، بجلی کا جو سالانہ نفع بنتا ہے حکومت انہیں یہ مطلوبہ رقم فراہم کرے گی، تو یہ حکومت مقررہ رقم ابھی تک ادا بھی کر رہی ہے۔
‏ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان تونسہ شریف کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں طبی غفلت کے نتیجے میں معصوم بچوں میں ایچ آئی وی (HIV) کے وائرس کی منتقلی کے ہولناک انکشاف پر شدید تشویش اور گہرے غم و غصے کا اظہار کرتی ہے۔ حالیہ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق سرکاری ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور جراثیم سے آلودہ طبی آلات کا برتاؤ درجنوں معصوم جانوں کو عمر بھر کی معذوری اور جان لیوا مرض کی جانب دھکیل چکا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالی اور ریاستی تحفظ کے تصور پر ایک کاری ضرب ہے۔
کونسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ رتوڈیرو (2019) اور جلالپور جٹاں (2009) جیسے بڑے سانحات کے باوجود تونسہ میں اس نوعیت کا واقعہ دہرایا جانا صحت کے نظام کی مجرمانہ لاپروائی اور حکومتی مانیٹرنگ کے ڈھانچے کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ پاکستان اس وقت ایشیا میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک خطرناک زون میں داخل ہو چکا ہے، جہاں غیر محفوظ انجکشنز اور اسکریننگ کے بغیر خون کی منتقلی جیسے بنیادی طبی اصولوں کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ دنیا میں سب سے زیادہ ہے، وہاں سرکاری شفا خانوں کا بیماری بانٹنے کے مراکز میں تبدیل ہو جانا 'حقِ زندگی' کے بنیادی آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور صرف نچلے عملے کو نشانہ بنانے کے بجائے ان تمام افسران اور فیصلہ سازوں کا احتساب کیا جائے جن کی غفلت سے آٹو ڈس ایبل (AD) سرنجوں کی فراہمی اور انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ بچوں کے لیے فوری طور پر مفت تاحیات علاج اور ان کے خاندانوں کے لیے معقول مالی ہرجانے کا اعلان کیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کے شعبے میں جاری اس خاموش قتلِ عام کو روکنے کے لیے 'ہیلتھ ایمرجنسی' نافذ کی جائے اور طبی اخلاقیات کو پامال کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
#StopHIVinPakistan
#TaunsaMedicalNegligence
#JusticeForTaunsaChildren
#HealthCrisisPakistan
#SafeInjectionPractices
#HumanRightsCouncilPakistan
Pakistan Times International
کیا آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ دو دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت میں کچی آبادیوں کو عدلیہ کی ناک تلے اور میڈیا کی آنکھ کے سامنے مسمار کر کے لگ بھگ 13 ہزار خاندانوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے- یہ زمین کن حکومتی اہلکاروں نے رشوت لے کر ان افراد کو گھر بنانے کے لیے دی…
‏غزہ کو نیست و نابود کر دیا گیا ہزاروں لوگ مار دیے گئے لاکھوں ایکڑ پر قبضے کر لیے گئے دنیا کچھ نہ کر سکی تو اسلام آباد کے سترہویں صدی کے گاؤں کو اگر ٹرمپ کی پسندیدہ رجیم نیست و نابود کر کے نئی جدید بستیاں تعمیر کرنا چاہ رہی ہے تو دنیا کیسے روک لے گی؟ دنیا اس پر کیا ہی بولے گی؟

عبید بھٹی
😢1
‏دو ماہ پہلے اویس لغاری قوم کو یہ سمجھا رہے تھے کہ ملک میں بجلی وافر ہے، اتنی زیادہ ہے کہ سستی سولر بجلی کو سسٹم میں آنے سے روکنا پڑے گا، نیٹ میٹرنگ ختم کر کے گروس میٹرنگ اس لیے لانا ضروری ہے کہ آئی پی پیز سے مہنگی بجلی کی خریداری متاثر نہ ہو—یعنی عام آدمی کی سستی بجلی مسئلہ تھی۔ آج وہی اویس لغاری کھڑے ہو کر فرما رہے ہیں کہ گیس نہیں، فرنس آئل نہیں، اور آئی پی پیز سے بھی بجلی پوری نہیں مل رہی، اس لیے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے!

یہ تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟ دو ماہ میں ملک کی توانائی کی صورتحال یکسر بدل گئی یا پالیسی بنانے والوں کی سوچ ہی شروع سے کھوکھلی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ سستی سولر بجلی کو دانستہ روکا گیا تاکہ مہنگے معاہدوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا رہے، اور اب جب سسٹم خود لڑکھڑا رہا ہے تو ناکامی کو وسائل کی کمی کا نام دیا جا رہا ہے۔

اس طرح کے لوگ جو سوٹڈ بوٹڈ ہو کر رواں انگریزی میں چکنی چوپڑی باتیں کرتے ہیں، وقتی طور پر نہ صرف بیانیہ بیچ دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات سول ایوارڈز تک حاصل کر لیتے ہیں، مگر جب اصل امتحان کا وقت آتا ہے تو یہی لوگ سب سے پہلے کشتی سے چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ فاروق لغاری نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا تھا جتنا آج اویس لغاری کی پالیسیاں مسلم لیگ (ن) کو پہنچا سکتی ہیں—پہلے سستی سولر انرجی کو نیٹ میٹرنگ ختم کر کے عملاً سسٹم سے باہر کرنا، اور اب ملک کو ایک نئے لوڈشیڈنگ بحران میں دھکیل دینا۔

اگر یہی روش جاری رہی تو ن لیگ کا عوام کے درمیان جانا بھی مشکل ہو جائے گا—اور اس سب کی بڑی وجہ یہی غلط پالیسی فیصلے اور ان کے معمار ہوں گے

صدیق جان
پاکستان نے ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے جس میں دنیا نے پہلی بار لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فوج کا ایک کیمرہ مین دیکھا ہے 🤣🤣🤣🤣🤣
‏نور خان بیس پہ ڈی جے وینس کا جہاز اُترا تو اس وقت ایک دوست ائیرپورٹ روڈ کے ساتھ متصل ایک گلی میں اپنی گاڑی پہ تھا۔اس کے مطابق جب ان کا قافلہ اس روڈ سے گُزرا تو اُس کی گاڑی کا الیکٹرک سسٹم فلکر کرنے لگا اور گاڑی خودبخود بند ہو گئی۔اسے یہ سمجھ نہیں آئی کہ ایسا کیا تھا ان کے قافلے کے پاس جس نے سٹارٹ گاڑی کو بند کر دیا۔اس نے بہت کوشش کی سٹارٹ کرنے کی لیکن تقریبا پورے تین منٹ تک گاڑی نے کرنٹ ہی نہ پکڑا۔ جب وہ قافلہ دور چلا گیا تو اس کے کوشش کرنے پہ گاڑی فوری سٹارٹ ہو گئی۔آپ کے خیال میں ایسا کون سا سسٹم ہو گا جو چلتی گاڑی کو بند کر دے؟؟؟
اور اگر کوئی سسٹم تھا جو اس قافلے کیساتھ جو گاڑیاں تھی وہ بند کیوں نہیں ہوئی؟؟؟

چوہدری شاہد محمود
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ثالثی کیوں کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے حساس مواقع پر ہی کیوں متحرک ہوتا ہے، جبکہ دوسری جانب افغانستان کے ساتھ کشیدگی کا ماحول خود پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے...
پاکستان جرنیل دنیا کی ثالثی کرانے کے مشن میں مصروف ہیں اور اپنا ملک تاریخی اندھیروں میں ڈوب چکا ہے کیونکہ یہاں گیس اور انرجی کی قیمت بے انتہا زیادہ ہو چکی ہے
عوام کی جیبیں کاٹنے میں عالمی منڈی کا کوئی کردار نہیں۔۔۔ #پاکستان کی حکومت کا ہاتھ ہے، جسے عوام کا بھرکس نکالنے کیلئے #ایران جنگ کا بہانہ مل گیا ہے۔۔روزنامہ دنیا میں مدثر علی رانا ‎کی خبر کے مطابق”۔۔۔ #امریکا ایران جنگ کے دوران گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عوام سے  180 ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی۔ رواں مالی سال جولائی سے مڈ اپریل تک مجموعی طور پر 1 ہزار 234 ارب روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کلیکشن رہی جو گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً 4 سو ارب روپے زیادہ ہے ۔گزشتہ ایک ماہ مارچ کے دوران مالی سال 2024-25 کے مارچ کی نسبت 52 ارب روپے پی ڈی ایل کی مد میں اضافی اکٹھے کیے گئے ۔ رواں مالی سال کے لیے پی ڈی ایل کا ہدف 14 سو 68 ارب روپے مقرر ہے اور مالی سال کے اختتام تک حکومت کے اس ہدف سے زیادہ وصولی کا امکان ہے."
1
پاکستان ایڈز کے تشویشناک اور تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے کی زد میں ہے: سابق مشیر صحت
‏گزشتہ 23 برس سے اسرائیلی جیل میں قید فل@سطینی تنظیم فتح کے رہنما مروان برغوثی کے سیل میں کتا چھوڑ دیا گیا جس نے انہیں شدید زخمی کردیا۔

مروان برغوثی کے وکیل بین مارمریلی نے ایکس پر کی گئی اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے 12 اپریل کو انے موکل مروان برغوثی سے ملاقات کی۔ جہاں انہوں نے نہایت اذیت ناک صورتحال کا مشاہدہ کیا۔

بین مارمریلی نے بتایا کہ ’فلس@طینی رہنما کو 8 اپریل کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دو گھنٹے سے زائد وقت تک زخمی حالت میں ان کے جسم سے خون بہتا رہا، جبکہ انہیں کوئی طبی امداد بھی نہیں دی گئی۔

مارمریلی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ برغوثی پر 24 مارچ کو ایک کتے نے حملہ کیا، جسے جیل کے محافظوں نے ان کے سیل میں چھوڑ دیا تھا۔
1😢1
اسلام آباد مسماری مہم کے حوالے سے اپڈیٹ

‏چیئرمین سی ڈی اے تبدیل ہوگئے ہیں اس وجہ سے تاخیر ہوئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

مسودہ تیار ہے آئندہ بورڈ اجلاس میں منظوری دے دی جائے گی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

راتوں رات کسی کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا،وکیل درخواست گزار فیصل صدیقی

کیا اسلام آباد میں کچی آبادیوں کیلئے کوئی جگہ مختص ہے؟ چیف جسٹس امین الدین خان

سی ڈی اے ماسٹر پلان میں کچی آبادیوں کا کوئی وجود نہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

انسانی بنیادوں پر 1995 تک قائم شدہ کچی آبادیوں کو تسلیم کیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

متبادل جگہ دیے بغیر کسی کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا، فیصل صدیقی

متبادل جگہ کے باوجود لوگوں نے پرانی جگہ خالی نہیں کی، وکیل سی ڈی اے قاسم چوہان

زیادہ تر کچی آبادیوں پر مافیاز کا کنٹرول ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

مافیا کچی آبادیاں بنوا کر زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

کچی آبادی بننے کے بعد مافیاز زمین کا قبضہ فروخت کر دیتے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

عدالت نے سی ڈی اے کو قواعد بنانے کا وقت دیتے ہوئے سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی
‏ماسٹر پلان میں چک شہزاد کے اندر شہریوں کے لئے سبزیوں اور پھلوں کی کاشتکاری کے فارموں پر امراء نے قبضہ کرکے وہاں سی ڈی اے کی اشیرباد سے محلات تعمیر کر لئے ، لیکن محنت کشوں کی جھونپڑیوں ، کچے اور چھوٹے مکانوں کو زمین بوس کرنے کے لئے حملے کے لئے دن اور رات مسلح جھتے تیار رہتے ہیں

افراسیاب خٹک
پاکستان میں اکثر مولوی جنہوں نے کبھی بلوچستان گئے نہیں اور نہ ہی زحمت کرتے ہیں یہ جاننے کی کہ وہاں کیا ہورہا ہے لوگ کیسے زندہ رہتے ہیں بس ایک بات بڑی آسانی سے کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ اسلام میں قوم پرستی کی گنجائش نہیں ۔ یہ قومیت کی لڑائی ہے۔ یقینا ٹھیک کہتے ہیں ۔ ایک بلوچ دوست درد دل سے کہنے لگا کہ خدارا انہیں بتاؤ کہ ہم قوم پرستی نہ کریں ، ہمارا کسی بلوچ سیاسی اور عسکری تنظیم سے تعلق نہ بھی ہو تب بھی فوج کے کارندے ہمیں نہیں چھوڑتے ، خفیہ اداروں کو بھی سو فیصد یقین ہو کہ ہمارا کسی سے تعلق نہیں وہ تب بھی ہمیں اٹھاتے ہیں لاپتہ کرتے ہیں ۔ کس لئے ؟ صرف اس لئے کہ ہم انکے لیے کام کریں۔ بار بار لاپتہ ہونے سے ہمارا روزگار ویسے ہی ختم ہو جاتا ہے بہت سے لوگ جو خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں انکا حکم ماننے پر راضی ہو جاتے ہیں وہ بھتہ خور منشیات فروش بن جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ فوج اور خفیہ اداروں کے لیے مخبریاں کرتے ہیں ایسے افراد کی وجہ۔سے پورے پورے خاندان لوگوں کی دشمنیاں سہتے ہیں۔ آپ بتائیں ایسے میں ان نوجوانوں کے پاس ہتھیار اٹھانے اور پہاڑوں میں جانے کے علاؤہ اور کونسا راستہ بچتا ہے ؟

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
‌‎#افغانستان
ٹاپی گیس پائپ لائن منصوبہ، جو 2026 کے آخر تک ہرات پہنچنے والا ہے، خطے میں ایک بڑے اقتصادی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ بجلی کے مقابلے میں گیس کا استعمال اخراجات میں 15 سے 25 فیصد کمی لائے گا، جبکہ ہرات کے لیے گیس کا تخمینہ بھی 500 ملین سے بڑھا کر 4.3 ارب کیوبک میٹر کر دیا گیا ہے۔ اگر صرف ایک ارب کیوبک میٹر گیس بھی استعمال کی جائے، تو اس سے سالانہ 900 ملین ڈالر کی خطیر بچت ہوگی اور تقریباً 2 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

#پاکستان کیا ایسے کسی منصوبے کے لیے امریکہ سے پوچھے بغیر فیصلہ کرسکتا ہے ؟
#خیبرپختونخوا
#باجوڑ

‏گورنمنٹ پرائمری سکول گبرے نمبر 2 باجوڑ
500 طلباء زیرِ تعلیم
برسات کے دوران قریبی ندی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث تقریباً 350 سے زائد طلباء کو سکول آنے میں شدید مشکلات کا سامنا
ایک معمولی پل کی تعمیر بھی ممکن نہیں ہوسکی
#خیبرپختونخوا
#‏مردان /رستم ماربل مائن سلائیڈنگ میں لاپتہ شخص زندہ برآمد۔۔۔

ضلع مہمند کا رہائشی خیبر خان نامی نوجوان 16 دن بعد ملبے سے زندہ مل گیا ۔ سلائیڈنگ کا واقعہ 16 دن قبل آیا تھا ۔جسمں 9 افراد جانبحق ھوئے تھے جبکہ دو افراد شدید زخمی ھوئے تھے
عاصم کی بیوی شیعہ ہے، تو عاصم اپنی بیوی کے ساتھ اکثر ایران جاتا تھا۔ پھر فیض حمید نے عاصم کی ایران دوروں کی ڈیٹیلز سعودی عرب کو لیک کر دی، اور انہیں کہا کہ عاصم ایران کے قریب ہے تو اسے آرمی چیف بننے نہیں دینا چاہیے، لیکن نواز شریف نے سعودی عرب کو کہا کہ عاصم ح*ی ہے، نہ شیعہ ہے نہ سنی، اس سے بڑا ح*ی اور کوئی جرنیل نہیں۔ تو عاصم منیر ہی آرمی چیف بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ عاصم منیر نے فیض حمید کو ذلیل کیا اور گیسٹ ہاؤس میں نظر بند کیا ہوا ہے۔
https://x.com/i/status/2044457621420446199
بین الاقوامی تنظیم پریس ایسوسی ایشن کے مطابق اسرائیلی فوج نے لبنانی صحافی علی شعیب کی موت کے بعد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر کا استعمال کیا جس میں انہیں مبینہ طور پر حزب اللہ کی وردی میں دکھایا گیا

انڈیپینڈنٹ اردو
نور عالم کی جبری گمشدگی اور پھر عرصے بعد بوگس الزامات کے تحت گرفتاری
عالمزیب محسود
Pakistan Times International
نور عالم کی جبری گمشدگی اور پھر عرصے بعد بوگس الزامات کے تحت گرفتاری عالمزیب محسود
ایک دفعہ پھر سے افسوسناک تضاد ہمارے سامنے ہے۔ نور عالم ولد ماروت خان کو 27 دسمبر 2024 کو کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں اپنے گودام سے جبری طور پر اٹھایا گیا، جس کے بعد سے وہ مسلسل لاپتہ رہے اور اہلِ خانہ دربدر انصاف مانگتے رہے، کئی جگہ دلاسے دئیے گئے کہ بندہ رہا ہو جائے گا، جب بندہ رہا نہ ہوا تو کوئی 7 ماہ بعد مجھے معلومات دی گئیں، میں نے 17 جولائی 2025 کو اسکے حوالے سے پوسٹ بھی کیا۔ دوسری طرف 13 اپریل 2026 کو اچانک سرکاری مؤقف سامنے آتا ہے کہ وہی شخص سائٹ ایریا کراچی میں کارروائی کے دوران گرفتار ہوا، اسلحہ و دھماکہ خیز مواد سمیت پکڑا گیا، اور اسے ایک تنظیم سے جوڑ دیا گیا۔
یہاں اصل سوال گرفتاری کا نہیں، سچائی کا ہے۔ کیا اس سے بڑی ڈس انفارمیشن کوئی ہو سکتی ہے کہ پہلے انسان کو غائب کر دو، پھر مہینوں بعد جھوٹے مقدمے میں پیش کر دو، اور سچ کو وردی اور کاغذ کے پیچھے چھپا دو؟ اگر ریاست ہی جھوٹے بیانیے گھڑے، لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں جکڑے، اور ادارے انصاف کے بجائے کہانیاں بنانے لگیں، تو پھر عوام کس پر یقین کریں؟ ادارے اگر قانون بچانے کے لیے ہوں تو عزت پاتے ہیں، لیکن اگر جھوٹ کو قانونی شکل دینے لگیں تو اعتماد دفن ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں ایک بات میں سب سے کرنا چاہتا ہوں، اگر خدا ناخواستہ اس طرح کا معاملہ کھبی درپیش ہو تو ہر خاندان کو چاہیے کہ:
معاملے کو مخصوص لوگوں کے بہکاوے میں چھپائے نہیں۔ فوری طور پر عدالت کا راستہ اپنائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ یہاں عدالت بازیابی نہیں کروا سکتی، مگر قانونی ریکارڈ بنانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جب ثبوت موجود ہوں تو سچ کو دبانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹس محفوظ کرے، پوسٹ کی تاریخ اور وقت محفوظ رکھے، رابطہ نمبرز، میسجز، آڈیو یا تحریری درخواستیں سنبھال کر رکھے اخباری تراشے، ویڈیوز یا نیوز کلپس محفوظ کرے۔ اگر ممکن ہو تو وکیل کے ذریعے یہ مواد ریکارڈ پر لائے۔ آخر میں معاشرے کو اس معاملے میں ایسے خاندانوں کا ساتھ دینا چاہئے کیونکہ سوال صرف اس واحد نور عالم جیسوں کا نہیں ہوتا، بلکے کل یہ کسی اور کا بھی ہو سکتا ہے۔
عالم زیب محسود
#EndEnforcedDisappearances #Pakhtunkhwa #peace #fyp #photography #socialmedia #education #ReleaseAllMissingPersons #LawAndOrder
https://www.facebook.com/share/p/1BK8m4axHx/