Pakistan Times International
343 subscribers
91 photos
17 videos
76 links
Download Telegram
لوگ موجودہ صورتحال کو کس طرح دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں


امارات نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اماراتیوں کو ہضم نہیں ہوا۔

سعودیہ نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ سعودیہ کو لگتا ہے ہم نے دفاعی معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔

چین نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ اس کے مسلسل منع کرنے کے باوجود ہم افغانستان سے لڑتے رہے اور امریکہ سے معاشقہ لڑاتے ہوئے چین کو نظر انداز کیا۔

آئی ایم ایف کا قرض واپس کرنے کا وقت بھی آ رہا ہے اور ری شیڈولنگ مشکل ہے کیونکہ ہم امریکیوں کو بھی ڈیلیور نہیں کر سکتے، نہ افغانستان میں اور نہ ایران میں۔

اس "متوازن خارجہ پالیسی" اور "شاندار سفارت کاری" کا سارا بوجھ عوام پر اور بہانہ جنگ کا، حالانکہ خود پُھدک پُھدک کر بتا رہے تھے کہ ایران ہمارے ٹینکر نہیں روکتا (بلکہ اندر خانے پاکستان کے کوٹے سے عالمی پیٹرولئیم کمپنیوں کا تیل نکلوا کر بھی دیہاڑی لگائی اور دبائی گئی ہے)۔

جو مُلک اس جنگ سے ہماری نسبت کہیں زیادہ متاثر ہوئے ہیں، وہاں قیمتوں میں ہماری نسبت بہت کم اضافہ ہوا ہے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
جہاں تک بات ہے پاکستان کی صحافت کی یہ اس وقت تک اب ٹھیک نہیں ہوگی جب تک آبپارہ ایک فون پر پرائم ٹائم جرنلسٹس کی بھرتیاں اور برطرفیاں کروانا بند نہیں کرے گا۔
چینل مالکان آبپارہ سے پوچھ کے صحافی رکھنا بند کریں
جس صحافی کی نوکری سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے مرہون منت ہے وہ کیا صحافت کرے گا؟
جہاں ملک سے وفاداری کے بدلے نہیں فلانے چوہدری صاحب اور فلانے چوہدری صاحب کے لڑکوں سے وفاداری کے بدلے نوکری ملتی ہو اس ملک میں کیا صحافت ہوگی ؟

نیلم اسلم
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
خبر دینے کے بجائے صحافیوں نے صحافت کو خبر بنا دیا۔
#islamabadTalks
‏ایران جنگ اس لحاظ سے عجیب و غریب ہے کہ تمام فریق یہ جنگ فوری ختم نہیں کرنا چاہتے
‏اس کے فریق امریکہ اسرائیل ایران سعودی عرب چین اور روس ہیں امارات کویت بحرین قطر عمان وغیرہ اس کے فریق نہیں صرف متاثرین ہیں
‏لوگ سمجھتے ہیں ٹرمپ پاگل ہے مگر ایسا نہیں اس کے پیچھے وہاں کی اسٹیبلشمنٹ ہے امریکہ ایک بڑا تیل پروڈیوسر ہے پہلے اس نے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کیا۔ اور پھر ایران جنگ چھیڑ دی۔ جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے کیا امریکہ نے کوئی بڑی بحری کاروائی کی؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ خلیجی ممالک کا تیل بند پڑا ہے چین کو اس کے حصول میں وہ آسانی نہیں جو پہلے تھی چین کا وینزویلا سے تیل بھی رکاوٹوں کا شکار ہے۔ امریکہ اس جنگ سے تیل کی معیشت اور کاروبار کو ہولڈ پر لگا کر اپنا پیٹروڈالر بچا رہا ہے۔ اس لئے دھمکیوں کے باوجود امریکہ نہیں چاہتا کہ یہ جنگ ابھی کسی انجام تک پہنچے
‏اسرائیل اس بہانے خلیجی ممالک کو کمزور ہوتا دیکھ رہا ہے اس کی لبنان میں دراندازی پر دنیا کی وہ توجہ نہیں جو عام حالات میں ہوتی ۔وہ بھی چاہتا ہے یہ جنگ ابھی چلے

‏ایران اس جنگ کو خلیجی ممالک میں امریکی رسوخ کے خلاف عوامی اور عالمی ردعمل کو بڑھتا دیکھ رہا ہے وہیں اس کے پاس آبنائے ہرمز پر اپنا حق جتانے کا موقع ہے جو پہلے ایک اوپن روٹ تھا۔ پھر ایران war hardened ملک ہے جو جانتا ہے کہ جنگ جس قدر طویل ہو گی اس کا اسے اس لئے فایدہ ہو گا کہ تمام پڑوسی ممالک کے برعکس اسے پابندیوں میں رہنے کا تجربہ ہے اس لئے وہاں اس کے اثرات سے کوئی panic نہیں ہے

‏روس کو امریکہ نے پہلے افغانستان اور پھر یوکرین میں خاصا بری طرح پٹخا اب روس کو عالمی حیثیت کی اسی لیول کی واپسی کیلئے امریکہ کی کمزوری اور شکست درکار ہے وہ بھی چاہتا ہے کہ امریکہ یہاں الجھ کر نہ صرف اپنا پیسہ ضائع کرتا رہے بلکہ وہیں اپنی جنگی امداد سے ایران کے ذریعے امریکی ہزیمت کا تاثر قائم کرے
‏چین امریکہ کا اگلا واضح حریف ہے ۔ چین خود بغیر لڑے نہ صرف امریکہ کی ٹانگیں جکڑے رکھنا چاہتا ہے بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ جب امریکہ یہاں سے ہٹے تو ایران اور خلیجی کے تیل کے سورسز اس کیلئے زیادہ بآسانی دستیاب ہوں۔
‏اس جنگ کو ہر ایک اپنے مقاصد کیلئے کچھ اور عرصہ جاری رکھنا چاہتا ہے ۔
‏ہم خواہ مخواہ ہلکان نہیں ہو رہے بس خود کو relevant دکھانا چاہ رہے ہیں۔ ہم cheer leaders ہیں مگر خود کو پلیئر سمجھ رہے ہیں

شفقت چوہدری
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
کیا آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ دو دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت میں کچی آبادیوں کو عدلیہ کی ناک تلے اور میڈیا کی آنکھ کے سامنے مسمار کر کے لگ بھگ 13 ہزار خاندانوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے-
یہ زمین کن حکومتی اہلکاروں نے رشوت لے کر ان افراد کو گھر بنانے کے لیے دی تھی اس پر عدلیہ اور میڈیا خاموش ہیں-
یہ زمین اب کس کے حوالے کی جا رہی ہے اگلے ایک سال میں‌ عدلیہ اور میڈیا اسی طرح دیکھ کر خاموش رہیں گے-

وحید مراد اسلام آباد
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
‏اگر چار سال کے شدید ترین سیم پیج کے بعد بھی اکانومی تین ارب ڈالر کا جھٹکا نہیں سہ سکی اور ایک بار پھر “مخصوص” خدمات کے عوض ڈالرز لینے پڑ گیے ہیں تو پھر ایک چیز تو طےہوگئی کہ عوامی رائے، آئین اور عدالتوں کو پامال کرکے کم از کم معیشت تو ٹھیک نہیں ہوسکتی۰ باقی جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے 🙏
فرحان ملک -
(رفتار ڈیجیٹل میڈیا)
https://x.com/i/status/2044295737068888483
‏بجلی امیر غریب سب کی بند ہوتی ہے اس لیے سوشل میڈیا لوڈ شیڈنگ کی چیخیں سن رہا ہے۔ اگرچہ چھتوں پر سولر ہیں اور ساتھ دو دو بیٹریاں بھی ہیں لیکن رات کو دو گھنٹے گزر جائیں تو بیٹری ہاتھ کھڑے کردیتی ہے۔ بجلی اس صحافی کی بھی جاتی ہے جسے حکومت سے خوشامد کے بدلے لاکھوں کا معاوضہ ملتا ہے۔ طویل لوڈ شیڈنگ کے بعد اسکا یوپی ایس جواب دے جاتا ہے۔ جنریٹر چلائے تو خون جلتا ہے اس لیے وہ صحافی بھی چیخ رہا ہے۔ لیکن ایسے کسی شخص کے منہ سے آپ نے غریب کی آواز کبھی نہیں سنی ہوگی۔

تین سال سے گندم کے کاشتکار کو اسکی فصل کا ریٹ نہیں ملا آپ نے کسی کو سوشل میڈیا پر روتے پیٹتے چیختے دیکھا؟ جنکے گھر گرائے جارہے ہیں انکی آوازیں آپ نے سنیں؟ جن کے ہیلتھ کارڈ گئے ان کا رونا دھونا کبھی کان پڑا؟ جو گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچ کر اور نا جانے کیسی کیسی ضروریات روک کر بجلی کے بل دیتے رہے ان کا ذکر کبھی آیا؟ وہ جو مختلف فیکٹریوں میں مزدور تھے انکی دیہاڑیاں بس ہوگئیں فیکٹریاں رک گئیں ان کا کبھی ذکر سنا؟ نہیں ؟ لیکن لوڈشیڈنگ کا شور ہی شور ؟ ایسا کیوں؟

ہر کسی کو اپنا درد ہوتا ہے ایک کا درد دوسرے کو نہیں ہوتا۔
👍1
پاور ڈویژن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الوقت پاکستان میں بجلی کی طلب 18000 میگا واٹ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 13500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، چنانچہ بجلی کی طلب اور رسد میں 4500 میگا واٹ کا فرق ہے۔

پاکستان میں کچھ پاور پلانٹس کے ملازمین کو باقاعدہ تنخواہیں دی جاتی ہیں اور وہ پاور پلانٹس بھی بند ہیں۔

مطلب ان پاور پلانٹس کو اس وجہ سے بنایا گیا کہ جب بجلی کی ضرورت ہوگی ان کو استعمال میں لایا جائے گا۔
اب ان کو اس وجہ سے بند کیا گیا ہے کہ بجلی کی ضرورت نہیں، حالانکہ منافقت دیکھیں کہ دوسری طرف لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے کہ بجلی کی پیداوار کم ہے۔
دوسری بات کہ اگر ان کو استعمال نہیں کرنا تو ان کے ملازمین کو ختم کیا جائے، لیکن یہ بھی نہیں کر رہے، ملازمین کو ماہانہ تنخواہیں دیتے ہیں اور پاور پلانٹس بھی نہیں چلائے جارہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ جب یہ پاور پلانٹس بنائے جارہے تھے اس وقت ان کا وفاقی حکومت سے معاہدہ ہوا کہ چاہے حکومت یہ بجلی خریدے یا نہ خریدے، بجلی کا جو سالانہ نفع بنتا ہے حکومت انہیں یہ مطلوبہ رقم فراہم کرے گی، تو یہ حکومت مقررہ رقم ابھی تک ادا بھی کر رہی ہے۔
‏ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان تونسہ شریف کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں طبی غفلت کے نتیجے میں معصوم بچوں میں ایچ آئی وی (HIV) کے وائرس کی منتقلی کے ہولناک انکشاف پر شدید تشویش اور گہرے غم و غصے کا اظہار کرتی ہے۔ حالیہ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق سرکاری ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور جراثیم سے آلودہ طبی آلات کا برتاؤ درجنوں معصوم جانوں کو عمر بھر کی معذوری اور جان لیوا مرض کی جانب دھکیل چکا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالی اور ریاستی تحفظ کے تصور پر ایک کاری ضرب ہے۔
کونسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ رتوڈیرو (2019) اور جلالپور جٹاں (2009) جیسے بڑے سانحات کے باوجود تونسہ میں اس نوعیت کا واقعہ دہرایا جانا صحت کے نظام کی مجرمانہ لاپروائی اور حکومتی مانیٹرنگ کے ڈھانچے کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ پاکستان اس وقت ایشیا میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک خطرناک زون میں داخل ہو چکا ہے، جہاں غیر محفوظ انجکشنز اور اسکریننگ کے بغیر خون کی منتقلی جیسے بنیادی طبی اصولوں کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ دنیا میں سب سے زیادہ ہے، وہاں سرکاری شفا خانوں کا بیماری بانٹنے کے مراکز میں تبدیل ہو جانا 'حقِ زندگی' کے بنیادی آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور صرف نچلے عملے کو نشانہ بنانے کے بجائے ان تمام افسران اور فیصلہ سازوں کا احتساب کیا جائے جن کی غفلت سے آٹو ڈس ایبل (AD) سرنجوں کی فراہمی اور انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ بچوں کے لیے فوری طور پر مفت تاحیات علاج اور ان کے خاندانوں کے لیے معقول مالی ہرجانے کا اعلان کیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کے شعبے میں جاری اس خاموش قتلِ عام کو روکنے کے لیے 'ہیلتھ ایمرجنسی' نافذ کی جائے اور طبی اخلاقیات کو پامال کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
#StopHIVinPakistan
#TaunsaMedicalNegligence
#JusticeForTaunsaChildren
#HealthCrisisPakistan
#SafeInjectionPractices
#HumanRightsCouncilPakistan
Pakistan Times International
کیا آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ دو دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت میں کچی آبادیوں کو عدلیہ کی ناک تلے اور میڈیا کی آنکھ کے سامنے مسمار کر کے لگ بھگ 13 ہزار خاندانوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے- یہ زمین کن حکومتی اہلکاروں نے رشوت لے کر ان افراد کو گھر بنانے کے لیے دی…
‏غزہ کو نیست و نابود کر دیا گیا ہزاروں لوگ مار دیے گئے لاکھوں ایکڑ پر قبضے کر لیے گئے دنیا کچھ نہ کر سکی تو اسلام آباد کے سترہویں صدی کے گاؤں کو اگر ٹرمپ کی پسندیدہ رجیم نیست و نابود کر کے نئی جدید بستیاں تعمیر کرنا چاہ رہی ہے تو دنیا کیسے روک لے گی؟ دنیا اس پر کیا ہی بولے گی؟

عبید بھٹی
😢1
‏دو ماہ پہلے اویس لغاری قوم کو یہ سمجھا رہے تھے کہ ملک میں بجلی وافر ہے، اتنی زیادہ ہے کہ سستی سولر بجلی کو سسٹم میں آنے سے روکنا پڑے گا، نیٹ میٹرنگ ختم کر کے گروس میٹرنگ اس لیے لانا ضروری ہے کہ آئی پی پیز سے مہنگی بجلی کی خریداری متاثر نہ ہو—یعنی عام آدمی کی سستی بجلی مسئلہ تھی۔ آج وہی اویس لغاری کھڑے ہو کر فرما رہے ہیں کہ گیس نہیں، فرنس آئل نہیں، اور آئی پی پیز سے بھی بجلی پوری نہیں مل رہی، اس لیے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے!

یہ تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟ دو ماہ میں ملک کی توانائی کی صورتحال یکسر بدل گئی یا پالیسی بنانے والوں کی سوچ ہی شروع سے کھوکھلی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ سستی سولر بجلی کو دانستہ روکا گیا تاکہ مہنگے معاہدوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا رہے، اور اب جب سسٹم خود لڑکھڑا رہا ہے تو ناکامی کو وسائل کی کمی کا نام دیا جا رہا ہے۔

اس طرح کے لوگ جو سوٹڈ بوٹڈ ہو کر رواں انگریزی میں چکنی چوپڑی باتیں کرتے ہیں، وقتی طور پر نہ صرف بیانیہ بیچ دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات سول ایوارڈز تک حاصل کر لیتے ہیں، مگر جب اصل امتحان کا وقت آتا ہے تو یہی لوگ سب سے پہلے کشتی سے چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ فاروق لغاری نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا تھا جتنا آج اویس لغاری کی پالیسیاں مسلم لیگ (ن) کو پہنچا سکتی ہیں—پہلے سستی سولر انرجی کو نیٹ میٹرنگ ختم کر کے عملاً سسٹم سے باہر کرنا، اور اب ملک کو ایک نئے لوڈشیڈنگ بحران میں دھکیل دینا۔

اگر یہی روش جاری رہی تو ن لیگ کا عوام کے درمیان جانا بھی مشکل ہو جائے گا—اور اس سب کی بڑی وجہ یہی غلط پالیسی فیصلے اور ان کے معمار ہوں گے

صدیق جان
پاکستان نے ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے جس میں دنیا نے پہلی بار لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فوج کا ایک کیمرہ مین دیکھا ہے 🤣🤣🤣🤣🤣
‏نور خان بیس پہ ڈی جے وینس کا جہاز اُترا تو اس وقت ایک دوست ائیرپورٹ روڈ کے ساتھ متصل ایک گلی میں اپنی گاڑی پہ تھا۔اس کے مطابق جب ان کا قافلہ اس روڈ سے گُزرا تو اُس کی گاڑی کا الیکٹرک سسٹم فلکر کرنے لگا اور گاڑی خودبخود بند ہو گئی۔اسے یہ سمجھ نہیں آئی کہ ایسا کیا تھا ان کے قافلے کے پاس جس نے سٹارٹ گاڑی کو بند کر دیا۔اس نے بہت کوشش کی سٹارٹ کرنے کی لیکن تقریبا پورے تین منٹ تک گاڑی نے کرنٹ ہی نہ پکڑا۔ جب وہ قافلہ دور چلا گیا تو اس کے کوشش کرنے پہ گاڑی فوری سٹارٹ ہو گئی۔آپ کے خیال میں ایسا کون سا سسٹم ہو گا جو چلتی گاڑی کو بند کر دے؟؟؟
اور اگر کوئی سسٹم تھا جو اس قافلے کیساتھ جو گاڑیاں تھی وہ بند کیوں نہیں ہوئی؟؟؟

چوہدری شاہد محمود
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ثالثی کیوں کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے حساس مواقع پر ہی کیوں متحرک ہوتا ہے، جبکہ دوسری جانب افغانستان کے ساتھ کشیدگی کا ماحول خود پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے...
پاکستان جرنیل دنیا کی ثالثی کرانے کے مشن میں مصروف ہیں اور اپنا ملک تاریخی اندھیروں میں ڈوب چکا ہے کیونکہ یہاں گیس اور انرجی کی قیمت بے انتہا زیادہ ہو چکی ہے
عوام کی جیبیں کاٹنے میں عالمی منڈی کا کوئی کردار نہیں۔۔۔ #پاکستان کی حکومت کا ہاتھ ہے، جسے عوام کا بھرکس نکالنے کیلئے #ایران جنگ کا بہانہ مل گیا ہے۔۔روزنامہ دنیا میں مدثر علی رانا ‎کی خبر کے مطابق”۔۔۔ #امریکا ایران جنگ کے دوران گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عوام سے  180 ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی۔ رواں مالی سال جولائی سے مڈ اپریل تک مجموعی طور پر 1 ہزار 234 ارب روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کلیکشن رہی جو گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً 4 سو ارب روپے زیادہ ہے ۔گزشتہ ایک ماہ مارچ کے دوران مالی سال 2024-25 کے مارچ کی نسبت 52 ارب روپے پی ڈی ایل کی مد میں اضافی اکٹھے کیے گئے ۔ رواں مالی سال کے لیے پی ڈی ایل کا ہدف 14 سو 68 ارب روپے مقرر ہے اور مالی سال کے اختتام تک حکومت کے اس ہدف سے زیادہ وصولی کا امکان ہے."
1
پاکستان ایڈز کے تشویشناک اور تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے کی زد میں ہے: سابق مشیر صحت
‏گزشتہ 23 برس سے اسرائیلی جیل میں قید فل@سطینی تنظیم فتح کے رہنما مروان برغوثی کے سیل میں کتا چھوڑ دیا گیا جس نے انہیں شدید زخمی کردیا۔

مروان برغوثی کے وکیل بین مارمریلی نے ایکس پر کی گئی اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے 12 اپریل کو انے موکل مروان برغوثی سے ملاقات کی۔ جہاں انہوں نے نہایت اذیت ناک صورتحال کا مشاہدہ کیا۔

بین مارمریلی نے بتایا کہ ’فلس@طینی رہنما کو 8 اپریل کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دو گھنٹے سے زائد وقت تک زخمی حالت میں ان کے جسم سے خون بہتا رہا، جبکہ انہیں کوئی طبی امداد بھی نہیں دی گئی۔

مارمریلی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ برغوثی پر 24 مارچ کو ایک کتے نے حملہ کیا، جسے جیل کے محافظوں نے ان کے سیل میں چھوڑ دیا تھا۔
1😢1
اسلام آباد مسماری مہم کے حوالے سے اپڈیٹ

‏چیئرمین سی ڈی اے تبدیل ہوگئے ہیں اس وجہ سے تاخیر ہوئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

مسودہ تیار ہے آئندہ بورڈ اجلاس میں منظوری دے دی جائے گی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

راتوں رات کسی کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا،وکیل درخواست گزار فیصل صدیقی

کیا اسلام آباد میں کچی آبادیوں کیلئے کوئی جگہ مختص ہے؟ چیف جسٹس امین الدین خان

سی ڈی اے ماسٹر پلان میں کچی آبادیوں کا کوئی وجود نہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

انسانی بنیادوں پر 1995 تک قائم شدہ کچی آبادیوں کو تسلیم کیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

متبادل جگہ دیے بغیر کسی کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا، فیصل صدیقی

متبادل جگہ کے باوجود لوگوں نے پرانی جگہ خالی نہیں کی، وکیل سی ڈی اے قاسم چوہان

زیادہ تر کچی آبادیوں پر مافیاز کا کنٹرول ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

مافیا کچی آبادیاں بنوا کر زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

کچی آبادی بننے کے بعد مافیاز زمین کا قبضہ فروخت کر دیتے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

عدالت نے سی ڈی اے کو قواعد بنانے کا وقت دیتے ہوئے سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی
‏ماسٹر پلان میں چک شہزاد کے اندر شہریوں کے لئے سبزیوں اور پھلوں کی کاشتکاری کے فارموں پر امراء نے قبضہ کرکے وہاں سی ڈی اے کی اشیرباد سے محلات تعمیر کر لئے ، لیکن محنت کشوں کی جھونپڑیوں ، کچے اور چھوٹے مکانوں کو زمین بوس کرنے کے لئے حملے کے لئے دن اور رات مسلح جھتے تیار رہتے ہیں

افراسیاب خٹک
پاکستان میں اکثر مولوی جنہوں نے کبھی بلوچستان گئے نہیں اور نہ ہی زحمت کرتے ہیں یہ جاننے کی کہ وہاں کیا ہورہا ہے لوگ کیسے زندہ رہتے ہیں بس ایک بات بڑی آسانی سے کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ اسلام میں قوم پرستی کی گنجائش نہیں ۔ یہ قومیت کی لڑائی ہے۔ یقینا ٹھیک کہتے ہیں ۔ ایک بلوچ دوست درد دل سے کہنے لگا کہ خدارا انہیں بتاؤ کہ ہم قوم پرستی نہ کریں ، ہمارا کسی بلوچ سیاسی اور عسکری تنظیم سے تعلق نہ بھی ہو تب بھی فوج کے کارندے ہمیں نہیں چھوڑتے ، خفیہ اداروں کو بھی سو فیصد یقین ہو کہ ہمارا کسی سے تعلق نہیں وہ تب بھی ہمیں اٹھاتے ہیں لاپتہ کرتے ہیں ۔ کس لئے ؟ صرف اس لئے کہ ہم انکے لیے کام کریں۔ بار بار لاپتہ ہونے سے ہمارا روزگار ویسے ہی ختم ہو جاتا ہے بہت سے لوگ جو خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں انکا حکم ماننے پر راضی ہو جاتے ہیں وہ بھتہ خور منشیات فروش بن جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ فوج اور خفیہ اداروں کے لیے مخبریاں کرتے ہیں ایسے افراد کی وجہ۔سے پورے پورے خاندان لوگوں کی دشمنیاں سہتے ہیں۔ آپ بتائیں ایسے میں ان نوجوانوں کے پاس ہتھیار اٹھانے اور پہاڑوں میں جانے کے علاؤہ اور کونسا راستہ بچتا ہے ؟

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W