عسکری ادارے کو بھتہ نہ دینے کے جرم میں ٹویوٹا موٹرز پاکستان کے مالک عامر اعوان کو قتل کر دیا ۔
عامر اعوان کی رہائش گاہ اسلام آباد آرچرڈ اسکیم فارم ہاؤس میں مسلح افراد داخل ہو رہے ہیں۔ واردات کو ڈکیتی کا رنگ دیا گیا ھے
"یہ عاصم منیر کا ویژن ھے
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
عامر اعوان کی رہائش گاہ اسلام آباد آرچرڈ اسکیم فارم ہاؤس میں مسلح افراد داخل ہو رہے ہیں۔ واردات کو ڈکیتی کا رنگ دیا گیا ھے
"یہ عاصم منیر کا ویژن ھے
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
👍2😐1
جیل میں تو سارے پاکستانی سیاستدان جاتے ہیں لیکن عمران خان وہ پہلا سیاستدان ہے جس نے اپنے رہائی کے لئے جرنیلوں سے ڈیل کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔
سئینر صحافی محمد حنیف
سئینر صحافی محمد حنیف
👍2
گاؤں میں چوہدریوں کی لڑائی ہو گئی…
مراسی روز صلح کروانے جانے لگا۔
بیوی نے طنز کرتے ہوئے کہا:
“اوئے، تُو مراسی… اور وہ بڑے بڑے چوہدری! تُو اُن کی صلح کروائے گا؟”
مراسی بڑے اطمینان سے بولا:
“او کُڑیئے، تُو صلح دی گل چھڈ… تُو بس ساڈیاں آنیاں جانیاں ویکھ!”
منقول
مراسی روز صلح کروانے جانے لگا۔
بیوی نے طنز کرتے ہوئے کہا:
“اوئے، تُو مراسی… اور وہ بڑے بڑے چوہدری! تُو اُن کی صلح کروائے گا؟”
مراسی بڑے اطمینان سے بولا:
“او کُڑیئے، تُو صلح دی گل چھڈ… تُو بس ساڈیاں آنیاں جانیاں ویکھ!”
منقول
❤3🥰1
2009 میں جب میں نے سیلن کی وجہ سے اپنا اقبال ٹاؤن والا گھر بیچا تو کچھ عرصہ مجھے کینٹ میں نچلے پورشن میں کرائے دار کی حثیت سے رہنا پڑا ،
بڑے تلخ تجربات ہوئے ، مالک مکان بڑی فیملی ہونے کے باعث پانچ اے سی چلاتے مگر اُن کا بل مُجھ سے پانچ گُنا کم آتا ، ایک بار میں نے شکایت کی تو انھوں نے اگلے دن ایک بندے سے متعارف کرایا جو واپڈا کی نوکری سے استعفی دے کر یہ خدمتِ خلق کر رہا تھا . کہا گیا اگر میں اُسے ایک بار ایک لاکھ دے دوں تو میرا بل بھی ماہانہ دو تین ہزار آیا کرے گا ،اُس نے جو تفصیل بتائی بہت خطرناک تھی .
میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے یونٹوں کا بل کوئی اور کیوں بھرے ،اور اگر وہ کسی بیوہ کے بل میں چلے گئے تو میں کیا کروں گی ،
مالک مکان کا فرسٹ ائیر کا طالبعلم بیٹا دو تین سیاستدانوں کے نام لے کر بولا وہ بھی تو فلاں فلاں لُوٹ مار کر رھے ہیں ، میں اُس کے جواز پر حیران رہ گئی ،
آج اتنے سالوں بعد بھی غریب ہی مفت خوروں اور بجلی چوروں کے ہرجانے بھر رہا ھے . ریاست کی کمزور ترین رِٹ ، بدنیتی اور سُستی کے باعث
ڈاکٹر صغری صدف
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
بڑے تلخ تجربات ہوئے ، مالک مکان بڑی فیملی ہونے کے باعث پانچ اے سی چلاتے مگر اُن کا بل مُجھ سے پانچ گُنا کم آتا ، ایک بار میں نے شکایت کی تو انھوں نے اگلے دن ایک بندے سے متعارف کرایا جو واپڈا کی نوکری سے استعفی دے کر یہ خدمتِ خلق کر رہا تھا . کہا گیا اگر میں اُسے ایک بار ایک لاکھ دے دوں تو میرا بل بھی ماہانہ دو تین ہزار آیا کرے گا ،اُس نے جو تفصیل بتائی بہت خطرناک تھی .
میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے یونٹوں کا بل کوئی اور کیوں بھرے ،اور اگر وہ کسی بیوہ کے بل میں چلے گئے تو میں کیا کروں گی ،
مالک مکان کا فرسٹ ائیر کا طالبعلم بیٹا دو تین سیاستدانوں کے نام لے کر بولا وہ بھی تو فلاں فلاں لُوٹ مار کر رھے ہیں ، میں اُس کے جواز پر حیران رہ گئی ،
آج اتنے سالوں بعد بھی غریب ہی مفت خوروں اور بجلی چوروں کے ہرجانے بھر رہا ھے . ریاست کی کمزور ترین رِٹ ، بدنیتی اور سُستی کے باعث
ڈاکٹر صغری صدف
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
لوگ موجودہ صورتحال کو کس طرح دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں
امارات نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اماراتیوں کو ہضم نہیں ہوا۔
سعودیہ نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ سعودیہ کو لگتا ہے ہم نے دفاعی معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔
چین نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ اس کے مسلسل منع کرنے کے باوجود ہم افغانستان سے لڑتے رہے اور امریکہ سے معاشقہ لڑاتے ہوئے چین کو نظر انداز کیا۔
آئی ایم ایف کا قرض واپس کرنے کا وقت بھی آ رہا ہے اور ری شیڈولنگ مشکل ہے کیونکہ ہم امریکیوں کو بھی ڈیلیور نہیں کر سکتے، نہ افغانستان میں اور نہ ایران میں۔
اس "متوازن خارجہ پالیسی" اور "شاندار سفارت کاری" کا سارا بوجھ عوام پر اور بہانہ جنگ کا، حالانکہ خود پُھدک پُھدک کر بتا رہے تھے کہ ایران ہمارے ٹینکر نہیں روکتا (بلکہ اندر خانے پاکستان کے کوٹے سے عالمی پیٹرولئیم کمپنیوں کا تیل نکلوا کر بھی دیہاڑی لگائی اور دبائی گئی ہے)۔
جو مُلک اس جنگ سے ہماری نسبت کہیں زیادہ متاثر ہوئے ہیں، وہاں قیمتوں میں ہماری نسبت بہت کم اضافہ ہوا ہے۔
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
امارات نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اماراتیوں کو ہضم نہیں ہوا۔
سعودیہ نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ سعودیہ کو لگتا ہے ہم نے دفاعی معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔
چین نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ اس کے مسلسل منع کرنے کے باوجود ہم افغانستان سے لڑتے رہے اور امریکہ سے معاشقہ لڑاتے ہوئے چین کو نظر انداز کیا۔
آئی ایم ایف کا قرض واپس کرنے کا وقت بھی آ رہا ہے اور ری شیڈولنگ مشکل ہے کیونکہ ہم امریکیوں کو بھی ڈیلیور نہیں کر سکتے، نہ افغانستان میں اور نہ ایران میں۔
اس "متوازن خارجہ پالیسی" اور "شاندار سفارت کاری" کا سارا بوجھ عوام پر اور بہانہ جنگ کا، حالانکہ خود پُھدک پُھدک کر بتا رہے تھے کہ ایران ہمارے ٹینکر نہیں روکتا (بلکہ اندر خانے پاکستان کے کوٹے سے عالمی پیٹرولئیم کمپنیوں کا تیل نکلوا کر بھی دیہاڑی لگائی اور دبائی گئی ہے)۔
جو مُلک اس جنگ سے ہماری نسبت کہیں زیادہ متاثر ہوئے ہیں، وہاں قیمتوں میں ہماری نسبت بہت کم اضافہ ہوا ہے۔
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
جہاں تک بات ہے پاکستان کی صحافت کی یہ اس وقت تک اب ٹھیک نہیں ہوگی جب تک آبپارہ ایک فون پر پرائم ٹائم جرنلسٹس کی بھرتیاں اور برطرفیاں کروانا بند نہیں کرے گا۔
چینل مالکان آبپارہ سے پوچھ کے صحافی رکھنا بند کریں
جس صحافی کی نوکری سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے مرہون منت ہے وہ کیا صحافت کرے گا؟
جہاں ملک سے وفاداری کے بدلے نہیں فلانے چوہدری صاحب اور فلانے چوہدری صاحب کے لڑکوں سے وفاداری کے بدلے نوکری ملتی ہو اس ملک میں کیا صحافت ہوگی ؟
نیلم اسلم
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
چینل مالکان آبپارہ سے پوچھ کے صحافی رکھنا بند کریں
جس صحافی کی نوکری سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے مرہون منت ہے وہ کیا صحافت کرے گا؟
جہاں ملک سے وفاداری کے بدلے نہیں فلانے چوہدری صاحب اور فلانے چوہدری صاحب کے لڑکوں سے وفاداری کے بدلے نوکری ملتی ہو اس ملک میں کیا صحافت ہوگی ؟
نیلم اسلم
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
خبر دینے کے بجائے صحافیوں نے صحافت کو خبر بنا دیا۔
#islamabadTalks
#islamabadTalks
ایران جنگ اس لحاظ سے عجیب و غریب ہے کہ تمام فریق یہ جنگ فوری ختم نہیں کرنا چاہتے
اس کے فریق امریکہ اسرائیل ایران سعودی عرب چین اور روس ہیں امارات کویت بحرین قطر عمان وغیرہ اس کے فریق نہیں صرف متاثرین ہیں
لوگ سمجھتے ہیں ٹرمپ پاگل ہے مگر ایسا نہیں اس کے پیچھے وہاں کی اسٹیبلشمنٹ ہے امریکہ ایک بڑا تیل پروڈیوسر ہے پہلے اس نے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کیا۔ اور پھر ایران جنگ چھیڑ دی۔ جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے کیا امریکہ نے کوئی بڑی بحری کاروائی کی؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ خلیجی ممالک کا تیل بند پڑا ہے چین کو اس کے حصول میں وہ آسانی نہیں جو پہلے تھی چین کا وینزویلا سے تیل بھی رکاوٹوں کا شکار ہے۔ امریکہ اس جنگ سے تیل کی معیشت اور کاروبار کو ہولڈ پر لگا کر اپنا پیٹروڈالر بچا رہا ہے۔ اس لئے دھمکیوں کے باوجود امریکہ نہیں چاہتا کہ یہ جنگ ابھی کسی انجام تک پہنچے
اسرائیل اس بہانے خلیجی ممالک کو کمزور ہوتا دیکھ رہا ہے اس کی لبنان میں دراندازی پر دنیا کی وہ توجہ نہیں جو عام حالات میں ہوتی ۔وہ بھی چاہتا ہے یہ جنگ ابھی چلے
ایران اس جنگ کو خلیجی ممالک میں امریکی رسوخ کے خلاف عوامی اور عالمی ردعمل کو بڑھتا دیکھ رہا ہے وہیں اس کے پاس آبنائے ہرمز پر اپنا حق جتانے کا موقع ہے جو پہلے ایک اوپن روٹ تھا۔ پھر ایران war hardened ملک ہے جو جانتا ہے کہ جنگ جس قدر طویل ہو گی اس کا اسے اس لئے فایدہ ہو گا کہ تمام پڑوسی ممالک کے برعکس اسے پابندیوں میں رہنے کا تجربہ ہے اس لئے وہاں اس کے اثرات سے کوئی panic نہیں ہے
روس کو امریکہ نے پہلے افغانستان اور پھر یوکرین میں خاصا بری طرح پٹخا اب روس کو عالمی حیثیت کی اسی لیول کی واپسی کیلئے امریکہ کی کمزوری اور شکست درکار ہے وہ بھی چاہتا ہے کہ امریکہ یہاں الجھ کر نہ صرف اپنا پیسہ ضائع کرتا رہے بلکہ وہیں اپنی جنگی امداد سے ایران کے ذریعے امریکی ہزیمت کا تاثر قائم کرے
چین امریکہ کا اگلا واضح حریف ہے ۔ چین خود بغیر لڑے نہ صرف امریکہ کی ٹانگیں جکڑے رکھنا چاہتا ہے بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ جب امریکہ یہاں سے ہٹے تو ایران اور خلیجی کے تیل کے سورسز اس کیلئے زیادہ بآسانی دستیاب ہوں۔
اس جنگ کو ہر ایک اپنے مقاصد کیلئے کچھ اور عرصہ جاری رکھنا چاہتا ہے ۔
ہم خواہ مخواہ ہلکان نہیں ہو رہے بس خود کو relevant دکھانا چاہ رہے ہیں۔ ہم cheer leaders ہیں مگر خود کو پلیئر سمجھ رہے ہیں
شفقت چوہدری
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
اس کے فریق امریکہ اسرائیل ایران سعودی عرب چین اور روس ہیں امارات کویت بحرین قطر عمان وغیرہ اس کے فریق نہیں صرف متاثرین ہیں
لوگ سمجھتے ہیں ٹرمپ پاگل ہے مگر ایسا نہیں اس کے پیچھے وہاں کی اسٹیبلشمنٹ ہے امریکہ ایک بڑا تیل پروڈیوسر ہے پہلے اس نے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کیا۔ اور پھر ایران جنگ چھیڑ دی۔ جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے کیا امریکہ نے کوئی بڑی بحری کاروائی کی؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ خلیجی ممالک کا تیل بند پڑا ہے چین کو اس کے حصول میں وہ آسانی نہیں جو پہلے تھی چین کا وینزویلا سے تیل بھی رکاوٹوں کا شکار ہے۔ امریکہ اس جنگ سے تیل کی معیشت اور کاروبار کو ہولڈ پر لگا کر اپنا پیٹروڈالر بچا رہا ہے۔ اس لئے دھمکیوں کے باوجود امریکہ نہیں چاہتا کہ یہ جنگ ابھی کسی انجام تک پہنچے
اسرائیل اس بہانے خلیجی ممالک کو کمزور ہوتا دیکھ رہا ہے اس کی لبنان میں دراندازی پر دنیا کی وہ توجہ نہیں جو عام حالات میں ہوتی ۔وہ بھی چاہتا ہے یہ جنگ ابھی چلے
ایران اس جنگ کو خلیجی ممالک میں امریکی رسوخ کے خلاف عوامی اور عالمی ردعمل کو بڑھتا دیکھ رہا ہے وہیں اس کے پاس آبنائے ہرمز پر اپنا حق جتانے کا موقع ہے جو پہلے ایک اوپن روٹ تھا۔ پھر ایران war hardened ملک ہے جو جانتا ہے کہ جنگ جس قدر طویل ہو گی اس کا اسے اس لئے فایدہ ہو گا کہ تمام پڑوسی ممالک کے برعکس اسے پابندیوں میں رہنے کا تجربہ ہے اس لئے وہاں اس کے اثرات سے کوئی panic نہیں ہے
روس کو امریکہ نے پہلے افغانستان اور پھر یوکرین میں خاصا بری طرح پٹخا اب روس کو عالمی حیثیت کی اسی لیول کی واپسی کیلئے امریکہ کی کمزوری اور شکست درکار ہے وہ بھی چاہتا ہے کہ امریکہ یہاں الجھ کر نہ صرف اپنا پیسہ ضائع کرتا رہے بلکہ وہیں اپنی جنگی امداد سے ایران کے ذریعے امریکی ہزیمت کا تاثر قائم کرے
چین امریکہ کا اگلا واضح حریف ہے ۔ چین خود بغیر لڑے نہ صرف امریکہ کی ٹانگیں جکڑے رکھنا چاہتا ہے بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ جب امریکہ یہاں سے ہٹے تو ایران اور خلیجی کے تیل کے سورسز اس کیلئے زیادہ بآسانی دستیاب ہوں۔
اس جنگ کو ہر ایک اپنے مقاصد کیلئے کچھ اور عرصہ جاری رکھنا چاہتا ہے ۔
ہم خواہ مخواہ ہلکان نہیں ہو رہے بس خود کو relevant دکھانا چاہ رہے ہیں۔ ہم cheer leaders ہیں مگر خود کو پلیئر سمجھ رہے ہیں
شفقت چوہدری
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
کیا آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ دو دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت میں کچی آبادیوں کو عدلیہ کی ناک تلے اور میڈیا کی آنکھ کے سامنے مسمار کر کے لگ بھگ 13 ہزار خاندانوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے-
یہ زمین کن حکومتی اہلکاروں نے رشوت لے کر ان افراد کو گھر بنانے کے لیے دی تھی اس پر عدلیہ اور میڈیا خاموش ہیں-
یہ زمین اب کس کے حوالے کی جا رہی ہے اگلے ایک سال میں عدلیہ اور میڈیا اسی طرح دیکھ کر خاموش رہیں گے-
وحید مراد اسلام آباد
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
یہ زمین کن حکومتی اہلکاروں نے رشوت لے کر ان افراد کو گھر بنانے کے لیے دی تھی اس پر عدلیہ اور میڈیا خاموش ہیں-
یہ زمین اب کس کے حوالے کی جا رہی ہے اگلے ایک سال میں عدلیہ اور میڈیا اسی طرح دیکھ کر خاموش رہیں گے-
وحید مراد اسلام آباد
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
اگر چار سال کے شدید ترین سیم پیج کے بعد بھی اکانومی تین ارب ڈالر کا جھٹکا نہیں سہ سکی اور ایک بار پھر “مخصوص” خدمات کے عوض ڈالرز لینے پڑ گیے ہیں تو پھر ایک چیز تو طےہوگئی کہ عوامی رائے، آئین اور عدالتوں کو پامال کرکے کم از کم معیشت تو ٹھیک نہیں ہوسکتی۰ باقی جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے 🙏
فرحان ملک -
(رفتار ڈیجیٹل میڈیا)
https://x.com/i/status/2044295737068888483
فرحان ملک -
(رفتار ڈیجیٹل میڈیا)
https://x.com/i/status/2044295737068888483
X (formerly Twitter)
Farhan Mallick (@FarhanGMallick) on X
اگر چار سال کے شدید ترین سیم پیج کے بعد بھی اکانومی تین ارب ڈالر کا جھٹکا نہیں سہ سکی اور ایک بار پھر “مخصوص” خدمات کے عوض ڈالرز لینے پڑ گیے ہیں تو پھر ایک چیز تو طےہوگئی کہ عوامی رائے، آئین اور عدالتوں کو پامال کرکے کم از کم معیشت تو ٹھیک نہیں ہوسکتی۰ باقی…
بجلی امیر غریب سب کی بند ہوتی ہے اس لیے سوشل میڈیا لوڈ شیڈنگ کی چیخیں سن رہا ہے۔ اگرچہ چھتوں پر سولر ہیں اور ساتھ دو دو بیٹریاں بھی ہیں لیکن رات کو دو گھنٹے گزر جائیں تو بیٹری ہاتھ کھڑے کردیتی ہے۔ بجلی اس صحافی کی بھی جاتی ہے جسے حکومت سے خوشامد کے بدلے لاکھوں کا معاوضہ ملتا ہے۔ طویل لوڈ شیڈنگ کے بعد اسکا یوپی ایس جواب دے جاتا ہے۔ جنریٹر چلائے تو خون جلتا ہے اس لیے وہ صحافی بھی چیخ رہا ہے۔ لیکن ایسے کسی شخص کے منہ سے آپ نے غریب کی آواز کبھی نہیں سنی ہوگی۔
تین سال سے گندم کے کاشتکار کو اسکی فصل کا ریٹ نہیں ملا آپ نے کسی کو سوشل میڈیا پر روتے پیٹتے چیختے دیکھا؟ جنکے گھر گرائے جارہے ہیں انکی آوازیں آپ نے سنیں؟ جن کے ہیلتھ کارڈ گئے ان کا رونا دھونا کبھی کان پڑا؟ جو گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچ کر اور نا جانے کیسی کیسی ضروریات روک کر بجلی کے بل دیتے رہے ان کا ذکر کبھی آیا؟ وہ جو مختلف فیکٹریوں میں مزدور تھے انکی دیہاڑیاں بس ہوگئیں فیکٹریاں رک گئیں ان کا کبھی ذکر سنا؟ نہیں ؟ لیکن لوڈشیڈنگ کا شور ہی شور ؟ ایسا کیوں؟
ہر کسی کو اپنا درد ہوتا ہے ایک کا درد دوسرے کو نہیں ہوتا۔
تین سال سے گندم کے کاشتکار کو اسکی فصل کا ریٹ نہیں ملا آپ نے کسی کو سوشل میڈیا پر روتے پیٹتے چیختے دیکھا؟ جنکے گھر گرائے جارہے ہیں انکی آوازیں آپ نے سنیں؟ جن کے ہیلتھ کارڈ گئے ان کا رونا دھونا کبھی کان پڑا؟ جو گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچ کر اور نا جانے کیسی کیسی ضروریات روک کر بجلی کے بل دیتے رہے ان کا ذکر کبھی آیا؟ وہ جو مختلف فیکٹریوں میں مزدور تھے انکی دیہاڑیاں بس ہوگئیں فیکٹریاں رک گئیں ان کا کبھی ذکر سنا؟ نہیں ؟ لیکن لوڈشیڈنگ کا شور ہی شور ؟ ایسا کیوں؟
ہر کسی کو اپنا درد ہوتا ہے ایک کا درد دوسرے کو نہیں ہوتا۔
👍1
پاور ڈویژن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الوقت پاکستان میں بجلی کی طلب 18000 میگا واٹ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 13500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، چنانچہ بجلی کی طلب اور رسد میں 4500 میگا واٹ کا فرق ہے۔
پاکستان میں کچھ پاور پلانٹس کے ملازمین کو باقاعدہ تنخواہیں دی جاتی ہیں اور وہ پاور پلانٹس بھی بند ہیں۔
مطلب ان پاور پلانٹس کو اس وجہ سے بنایا گیا کہ جب بجلی کی ضرورت ہوگی ان کو استعمال میں لایا جائے گا۔
اب ان کو اس وجہ سے بند کیا گیا ہے کہ بجلی کی ضرورت نہیں، حالانکہ منافقت دیکھیں کہ دوسری طرف لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے کہ بجلی کی پیداوار کم ہے۔
دوسری بات کہ اگر ان کو استعمال نہیں کرنا تو ان کے ملازمین کو ختم کیا جائے، لیکن یہ بھی نہیں کر رہے، ملازمین کو ماہانہ تنخواہیں دیتے ہیں اور پاور پلانٹس بھی نہیں چلائے جارہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ جب یہ پاور پلانٹس بنائے جارہے تھے اس وقت ان کا وفاقی حکومت سے معاہدہ ہوا کہ چاہے حکومت یہ بجلی خریدے یا نہ خریدے، بجلی کا جو سالانہ نفع بنتا ہے حکومت انہیں یہ مطلوبہ رقم فراہم کرے گی، تو یہ حکومت مقررہ رقم ابھی تک ادا بھی کر رہی ہے۔
پاکستان میں کچھ پاور پلانٹس کے ملازمین کو باقاعدہ تنخواہیں دی جاتی ہیں اور وہ پاور پلانٹس بھی بند ہیں۔
مطلب ان پاور پلانٹس کو اس وجہ سے بنایا گیا کہ جب بجلی کی ضرورت ہوگی ان کو استعمال میں لایا جائے گا۔
اب ان کو اس وجہ سے بند کیا گیا ہے کہ بجلی کی ضرورت نہیں، حالانکہ منافقت دیکھیں کہ دوسری طرف لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے کہ بجلی کی پیداوار کم ہے۔
دوسری بات کہ اگر ان کو استعمال نہیں کرنا تو ان کے ملازمین کو ختم کیا جائے، لیکن یہ بھی نہیں کر رہے، ملازمین کو ماہانہ تنخواہیں دیتے ہیں اور پاور پلانٹس بھی نہیں چلائے جارہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ جب یہ پاور پلانٹس بنائے جارہے تھے اس وقت ان کا وفاقی حکومت سے معاہدہ ہوا کہ چاہے حکومت یہ بجلی خریدے یا نہ خریدے، بجلی کا جو سالانہ نفع بنتا ہے حکومت انہیں یہ مطلوبہ رقم فراہم کرے گی، تو یہ حکومت مقررہ رقم ابھی تک ادا بھی کر رہی ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان تونسہ شریف کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں طبی غفلت کے نتیجے میں معصوم بچوں میں ایچ آئی وی (HIV) کے وائرس کی منتقلی کے ہولناک انکشاف پر شدید تشویش اور گہرے غم و غصے کا اظہار کرتی ہے۔ حالیہ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق سرکاری ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور جراثیم سے آلودہ طبی آلات کا برتاؤ درجنوں معصوم جانوں کو عمر بھر کی معذوری اور جان لیوا مرض کی جانب دھکیل چکا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالی اور ریاستی تحفظ کے تصور پر ایک کاری ضرب ہے۔
کونسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ رتوڈیرو (2019) اور جلالپور جٹاں (2009) جیسے بڑے سانحات کے باوجود تونسہ میں اس نوعیت کا واقعہ دہرایا جانا صحت کے نظام کی مجرمانہ لاپروائی اور حکومتی مانیٹرنگ کے ڈھانچے کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ پاکستان اس وقت ایشیا میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک خطرناک زون میں داخل ہو چکا ہے، جہاں غیر محفوظ انجکشنز اور اسکریننگ کے بغیر خون کی منتقلی جیسے بنیادی طبی اصولوں کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ دنیا میں سب سے زیادہ ہے، وہاں سرکاری شفا خانوں کا بیماری بانٹنے کے مراکز میں تبدیل ہو جانا 'حقِ زندگی' کے بنیادی آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور صرف نچلے عملے کو نشانہ بنانے کے بجائے ان تمام افسران اور فیصلہ سازوں کا احتساب کیا جائے جن کی غفلت سے آٹو ڈس ایبل (AD) سرنجوں کی فراہمی اور انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ بچوں کے لیے فوری طور پر مفت تاحیات علاج اور ان کے خاندانوں کے لیے معقول مالی ہرجانے کا اعلان کیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کے شعبے میں جاری اس خاموش قتلِ عام کو روکنے کے لیے 'ہیلتھ ایمرجنسی' نافذ کی جائے اور طبی اخلاقیات کو پامال کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
#StopHIVinPakistan
#TaunsaMedicalNegligence
#JusticeForTaunsaChildren
#HealthCrisisPakistan
#SafeInjectionPractices
#HumanRightsCouncilPakistan
کونسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ رتوڈیرو (2019) اور جلالپور جٹاں (2009) جیسے بڑے سانحات کے باوجود تونسہ میں اس نوعیت کا واقعہ دہرایا جانا صحت کے نظام کی مجرمانہ لاپروائی اور حکومتی مانیٹرنگ کے ڈھانچے کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ پاکستان اس وقت ایشیا میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک خطرناک زون میں داخل ہو چکا ہے، جہاں غیر محفوظ انجکشنز اور اسکریننگ کے بغیر خون کی منتقلی جیسے بنیادی طبی اصولوں کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ دنیا میں سب سے زیادہ ہے، وہاں سرکاری شفا خانوں کا بیماری بانٹنے کے مراکز میں تبدیل ہو جانا 'حقِ زندگی' کے بنیادی آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور صرف نچلے عملے کو نشانہ بنانے کے بجائے ان تمام افسران اور فیصلہ سازوں کا احتساب کیا جائے جن کی غفلت سے آٹو ڈس ایبل (AD) سرنجوں کی فراہمی اور انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ بچوں کے لیے فوری طور پر مفت تاحیات علاج اور ان کے خاندانوں کے لیے معقول مالی ہرجانے کا اعلان کیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کے شعبے میں جاری اس خاموش قتلِ عام کو روکنے کے لیے 'ہیلتھ ایمرجنسی' نافذ کی جائے اور طبی اخلاقیات کو پامال کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
#StopHIVinPakistan
#TaunsaMedicalNegligence
#JusticeForTaunsaChildren
#HealthCrisisPakistan
#SafeInjectionPractices
#HumanRightsCouncilPakistan
Pakistan Times International
کیا آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ دو دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت میں کچی آبادیوں کو عدلیہ کی ناک تلے اور میڈیا کی آنکھ کے سامنے مسمار کر کے لگ بھگ 13 ہزار خاندانوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے- یہ زمین کن حکومتی اہلکاروں نے رشوت لے کر ان افراد کو گھر بنانے کے لیے دی…
غزہ کو نیست و نابود کر دیا گیا ہزاروں لوگ مار دیے گئے لاکھوں ایکڑ پر قبضے کر لیے گئے دنیا کچھ نہ کر سکی تو اسلام آباد کے سترہویں صدی کے گاؤں کو اگر ٹرمپ کی پسندیدہ رجیم نیست و نابود کر کے نئی جدید بستیاں تعمیر کرنا چاہ رہی ہے تو دنیا کیسے روک لے گی؟ دنیا اس پر کیا ہی بولے گی؟
عبید بھٹی
عبید بھٹی
😢1
دو ماہ پہلے اویس لغاری قوم کو یہ سمجھا رہے تھے کہ ملک میں بجلی وافر ہے، اتنی زیادہ ہے کہ سستی سولر بجلی کو سسٹم میں آنے سے روکنا پڑے گا، نیٹ میٹرنگ ختم کر کے گروس میٹرنگ اس لیے لانا ضروری ہے کہ آئی پی پیز سے مہنگی بجلی کی خریداری متاثر نہ ہو—یعنی عام آدمی کی سستی بجلی مسئلہ تھی۔ آج وہی اویس لغاری کھڑے ہو کر فرما رہے ہیں کہ گیس نہیں، فرنس آئل نہیں، اور آئی پی پیز سے بھی بجلی پوری نہیں مل رہی، اس لیے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے!
یہ تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟ دو ماہ میں ملک کی توانائی کی صورتحال یکسر بدل گئی یا پالیسی بنانے والوں کی سوچ ہی شروع سے کھوکھلی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ سستی سولر بجلی کو دانستہ روکا گیا تاکہ مہنگے معاہدوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا رہے، اور اب جب سسٹم خود لڑکھڑا رہا ہے تو ناکامی کو وسائل کی کمی کا نام دیا جا رہا ہے۔
اس طرح کے لوگ جو سوٹڈ بوٹڈ ہو کر رواں انگریزی میں چکنی چوپڑی باتیں کرتے ہیں، وقتی طور پر نہ صرف بیانیہ بیچ دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات سول ایوارڈز تک حاصل کر لیتے ہیں، مگر جب اصل امتحان کا وقت آتا ہے تو یہی لوگ سب سے پہلے کشتی سے چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ فاروق لغاری نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا تھا جتنا آج اویس لغاری کی پالیسیاں مسلم لیگ (ن) کو پہنچا سکتی ہیں—پہلے سستی سولر انرجی کو نیٹ میٹرنگ ختم کر کے عملاً سسٹم سے باہر کرنا، اور اب ملک کو ایک نئے لوڈشیڈنگ بحران میں دھکیل دینا۔
اگر یہی روش جاری رہی تو ن لیگ کا عوام کے درمیان جانا بھی مشکل ہو جائے گا—اور اس سب کی بڑی وجہ یہی غلط پالیسی فیصلے اور ان کے معمار ہوں گے
صدیق جان
یہ تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟ دو ماہ میں ملک کی توانائی کی صورتحال یکسر بدل گئی یا پالیسی بنانے والوں کی سوچ ہی شروع سے کھوکھلی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ سستی سولر بجلی کو دانستہ روکا گیا تاکہ مہنگے معاہدوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا رہے، اور اب جب سسٹم خود لڑکھڑا رہا ہے تو ناکامی کو وسائل کی کمی کا نام دیا جا رہا ہے۔
اس طرح کے لوگ جو سوٹڈ بوٹڈ ہو کر رواں انگریزی میں چکنی چوپڑی باتیں کرتے ہیں، وقتی طور پر نہ صرف بیانیہ بیچ دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات سول ایوارڈز تک حاصل کر لیتے ہیں، مگر جب اصل امتحان کا وقت آتا ہے تو یہی لوگ سب سے پہلے کشتی سے چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ فاروق لغاری نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا تھا جتنا آج اویس لغاری کی پالیسیاں مسلم لیگ (ن) کو پہنچا سکتی ہیں—پہلے سستی سولر انرجی کو نیٹ میٹرنگ ختم کر کے عملاً سسٹم سے باہر کرنا، اور اب ملک کو ایک نئے لوڈشیڈنگ بحران میں دھکیل دینا۔
اگر یہی روش جاری رہی تو ن لیگ کا عوام کے درمیان جانا بھی مشکل ہو جائے گا—اور اس سب کی بڑی وجہ یہی غلط پالیسی فیصلے اور ان کے معمار ہوں گے
صدیق جان
پاکستان نے ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے جس میں دنیا نے پہلی بار لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فوج کا ایک کیمرہ مین دیکھا ہے 🤣🤣🤣🤣🤣
نور خان بیس پہ ڈی جے وینس کا جہاز اُترا تو اس وقت ایک دوست ائیرپورٹ روڈ کے ساتھ متصل ایک گلی میں اپنی گاڑی پہ تھا۔اس کے مطابق جب ان کا قافلہ اس روڈ سے گُزرا تو اُس کی گاڑی کا الیکٹرک سسٹم فلکر کرنے لگا اور گاڑی خودبخود بند ہو گئی۔اسے یہ سمجھ نہیں آئی کہ ایسا کیا تھا ان کے قافلے کے پاس جس نے سٹارٹ گاڑی کو بند کر دیا۔اس نے بہت کوشش کی سٹارٹ کرنے کی لیکن تقریبا پورے تین منٹ تک گاڑی نے کرنٹ ہی نہ پکڑا۔ جب وہ قافلہ دور چلا گیا تو اس کے کوشش کرنے پہ گاڑی فوری سٹارٹ ہو گئی۔آپ کے خیال میں ایسا کون سا سسٹم ہو گا جو چلتی گاڑی کو بند کر دے؟؟؟
اور اگر کوئی سسٹم تھا جو اس قافلے کیساتھ جو گاڑیاں تھی وہ بند کیوں نہیں ہوئی؟؟؟
چوہدری شاہد محمود
اور اگر کوئی سسٹم تھا جو اس قافلے کیساتھ جو گاڑیاں تھی وہ بند کیوں نہیں ہوئی؟؟؟
چوہدری شاہد محمود
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ثالثی کیوں کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے حساس مواقع پر ہی کیوں متحرک ہوتا ہے، جبکہ دوسری جانب افغانستان کے ساتھ کشیدگی کا ماحول خود پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے...
پاکستان جرنیل دنیا کی ثالثی کرانے کے مشن میں مصروف ہیں اور اپنا ملک تاریخی اندھیروں میں ڈوب چکا ہے کیونکہ یہاں گیس اور انرجی کی قیمت بے انتہا زیادہ ہو چکی ہے
عوام کی جیبیں کاٹنے میں عالمی منڈی کا کوئی کردار نہیں۔۔۔ #پاکستان کی حکومت کا ہاتھ ہے، جسے عوام کا بھرکس نکالنے کیلئے #ایران جنگ کا بہانہ مل گیا ہے۔۔روزنامہ دنیا میں مدثر علی رانا کی خبر کے مطابق”۔۔۔ #امریکا ایران جنگ کے دوران گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عوام سے 180 ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی۔ رواں مالی سال جولائی سے مڈ اپریل تک مجموعی طور پر 1 ہزار 234 ارب روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کلیکشن رہی جو گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً 4 سو ارب روپے زیادہ ہے ۔گزشتہ ایک ماہ مارچ کے دوران مالی سال 2024-25 کے مارچ کی نسبت 52 ارب روپے پی ڈی ایل کی مد میں اضافی اکٹھے کیے گئے ۔ رواں مالی سال کے لیے پی ڈی ایل کا ہدف 14 سو 68 ارب روپے مقرر ہے اور مالی سال کے اختتام تک حکومت کے اس ہدف سے زیادہ وصولی کا امکان ہے."
❤1
پاکستان ایڈز کے تشویشناک اور تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرے کی زد میں ہے: سابق مشیر صحت