Pakistan Times International
354 subscribers
66 photos
14 videos
50 links
Download Telegram
‏گستاخی معاف

اگر کسی چھوٹے گاؤں سے بڑی سڑک گزر جائے تو وہاں پر صدیوں سے آباد تھوڑے سے کتوں کی سوچ ، اپروچ ، آبادی ، معیشت اور سیاست پر بہت زیادہ فرق پڑ جاتا ہے۔ جب سڑک گزرتی ہے تو ساتھ ایک کریانہ ایک نائی کی دوکان اور ایک چائے کا کھوکھا لاتی ہے۔ چائے کے کھوکھے کیساتھ ایک قصائی پھٹا لگا لیتا ہے جس پر سرخ کلغی والی سفید برائلر مرغیاں بکنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ساتھ پڑے ایک نیلے سے ڈرم میں انتڑیوں اور مرغیوں کی کھالوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

یہاں سے کتیک معیشت ، معاشرت اور بہبود پر بوم آنا شروع ہوجاتا ہے۔ مہینوں مردار کا انتظار کرکے مردہ ڈنگروں کا گوشت کھانے والے مریل مریل سے کتے یکایک پنجوں اور انتڑیوں کی گرمائش کی تاب نا لاتے ہوئے افزائش کتیکاں میں بہت زیادہ اضافہ کربیٹھتے ہیں۔ پورے علاقے میں چند کتوں کی جگہ اب دھڑا دھڑ کتے ہی کتے نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ پیدائش و افزائش اس قدر سرعت سے ہوتی ہے کہ معاشرہ “ کتی سوئی “ جیسے محاورے ایجاد کربیٹھتا ہے۔

قرب و جوار سے مختلف نسل کے مارشل ریس کتے بھی وہاں پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں۔ آس پاس کے دیہات کے لوگڑ نومولود کتورے شاپروں میں ڈال کر سڑک کے قریب چھوڑے جانے لگتے ہیں۔ لوگڑ کتوں کی نسل میں انکی آمیزش کتیک سماج کو دو آتشہ کردیتی ہے۔ کتیک سماج آبادیوں سے دور دراز مردہ ڈنگروں کی ہڈیاں چھوڑ کر معاشی ہب میں آبیٹھتا ہے۔ اب یہاں سے حالات کی ستم ظریفی شروع ہوتی ہے۔

یہ بیچارے کیونکہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور نئے نئے شہر میں آئے ہوتے ہیں تو عجیب و غریب حرکتیں کرنا شروع کردیتے ہیں۔ پردے میں سرانجام دیے جانے والے امور بیچ سڑک شروع کردیتے ہیں۔ رات کو پھٹے کے اوپر چڑھ کر سونے کی کوشش کرتے ہیں۔ نوجوان کتے ، چڑھتی جوانیوں والی کتیوں کو اپنا فلیکس دکھانے کے چکر میں ہر آتے جاتے موٹر سائیکل ، رکشے اور گاڑی کے پیچھے دوووووور تک بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔

کیونکہ سڑک نئی نئی گزری ہوتی ہے تو انہیں تہذیب اور تمدن کے راز ابھی معلوم نہیں ہوتے کہ ان کا کام چھیچھڑے کھانا ، مزید کتے پیدا کرنا اور آرام کرنا ہوتا ہے۔ نئی جگہ ، معاشی ترقی ، چڑھتی جوانی ، انتڑیوں کی گرمائش اور وغیرہ وغیرہ کے زیر اثر وہ ہر گاڑی ، ہر موٹرسائیکل کے ساتھ بھاگنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جیسے جیسے کتے سمجھدار ہوتے جاتے ہیں ، معاشی سائیکل تھوڑا سٹیبل ہوتا ہے اور انہیں نئے ماحول کی سمجھ آنا شروع ہوتی ہے تو وہ جان جاتے ہیں کہ دن کو ایک عدد چاؤں اور رات کو بلا تعطل بھونکنا انکی ذمہ داری ہے۔ ہر جاتی آتی گاڑی کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ ہر گز ہر گز اچھے نہیں لگتے۔ ایسا کرنے سے کتیاں بھی متاثر نہیں ہوتیں اور انکے کسی ٹرک کے نیچے آنے کے امکانات بھی بہت بڑھ جاتے ہیں۔

بہرحال جیسے جیسے فوج ایران کے خلاف محاذ کھولنے یا نہ کھولنے کے قریب جائے گی اور یہ جنگ طویل ہوتی جائیگی ویسے ویسے عمران خان کی رہائی ، ضمانت کی درخواستوں ، ممکنہ ڈیل اور وغیرہ وغیرہ کی شدت میں اضافہ ہوتا جائے گا تاکہ آپ انکے پھٹے ہوئے گریبان نا دیکھیں بالکل ادھر ادھر بھٹکتے اور بہکتے رہیں ۔ عاصم منیر یا فوج کبھی بھی ان حالات میں عمران خان کو رہا کرکے اپنے لیے مسائل میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے۔ عمران خان کی جیل میں رکھنے کی قیمت ملکی معیشت تباہ کرکے ، ٹرمپ کا ہر حکم مان کر اور غیر ضروری جنگوں میں الجھ کر چکائی جارہی ہے اور یہ لوگ اس سے بھی بڑی قیمت چکا لیں گے لیکن عمران خان کو رہا نہیں کریں گے کیونکہ عمران خان کی رہائی اس سسٹم کی موت ہے۔

عمران خان کا موقف سب کے علم میں ہے۔ وہ کسی مشروط رہائی پر آمادہ نہیں ہوگا۔ یہ آفر دے دی۔ یہ پیغام پہنچا دیا گیا یہ پیش رفت ہوگئی سب دھوکہ ہے اور فضول باتیں ہیں ۔ آخری دفعہ پاک بھارت جھڑپوں سے عین پہلے انہی عدالتوں میب علی امین گنڈاپور سے عمران خان کی پیرول پر رہائی کی درخواست ڈلوا دی گئی۔ اب ایک بار پھر فوج مشکل میں آئی ہے تو آپ کو روزانہ عدالتوں کے باہر کھڑا کیا جارہا ہے۔ جیت کے لیے مخالف فریق کو شکست دینا لازمی ہوتا ہے۔ مفاہمت سے جیت نہیں اقتدار ملتا ہے اور عمران خان اقتدار کے لیے نہیں لڑرہا۔ ہر گاڑی ، موٹرسائیکل اور ٹرک کے پیچھے بھاگنے سے گریز کریں۔ شکریہ۔
🥴2
اگر ہمیں اپنے محلے کی جنگوں میں بھی ڈالر نہیں ملنے تو پھر کب ملنے ہیں؟

سیکیورٹی ذرائع جنگ ختم ہونے کی خبریں سن کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
😁4
‏کراچی سے لوٹا ہوں اور دیکھ آیا ہوں کہ جمہوریت بہترین انتقام کیسے لیتی ہے.

آپ یقین کریں لاہور اسلام آباد تو دور کی بات ہے اس سے تو ہمارے سرگودھا کا انفراسٹرکچر بہتر حالت میں ہے.

کراچی پہنچتے ہی، صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے برادرم سبوخ سید کے ساتھ ساحل پر گیا. چونکہ سمندر پر سورج طلوع ہوتا دیکھنا تھا نزدیک ترین سپاٹ پر پہنچے. ساحل گندگی اور غلاظت سے بھرا پڑا تھا. متلی ہونے لگی.

واپس ہوئے تو خیال آیا عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی جائے. مزار تو ابھی بند تھا لیکن اس کے اطراف میں دیوار کے ساتھ ساتھ گندگی اور غلاظت کے نشانات دیکھ کر دل لہو گیا. آگے پل کی طرف گئے تو پل کے نیچے ایک صاحب باقاعدہ شلوار اتار کر فٹ پاتھ پر رفع حاجت کر رہے تھے.

پیپلز پارٹی سے پوچھا جانا چاہیے کیا گڑھی خدا بخش کے مزاروں کے اطراف میں بھی ایسی ہی بد انتظامی ہے؟

جب جب موبائل فون نکالا ، کسی نے تنبیہہ کر دی کہ جیب میں ڈالو کوئی چھین لے گا. یاد رہے کہ ہر بار تنبہہہ کرنے والا کوئی مقامی ہی تھا. یعنی یہ تنبیہہ مشاہدے کی بنیاد پر کی جا رہی تھی نہ کہ بدگمانی کی بنیاد پر.

حالت یہ تھی کہ صبح سویرے ساحل کے لیے نکلے تو گارڈ کہنے لگا میری مانیں تو نہ جائیں، یہ وقت خطرناک ہو سکتا ہے. گارڈ بھی وہیں کا تھا.

رات کے آخری پہر برادرم فیض اللہ خان 1952 کےبنے ایک قدیم اور معروف ہوٹل پر ہمیں کباب کھلانے لے گئے تو راستے میں وہ سڑک پڑی جسے یونیورسٹی روڈ کہتے ہیں اور جو کئی سالوں سے اسی طرح کھدی پڑی ہے اور مکمل ہونے میں نہیں آ رہی. جانے کتنے پیسے کس کس نے کھا لیے ہوں یا شاید نہ کھائے ہوں اور پوری ایمانداری سے جمہوریت اپنے شہریوں سے انتقام لینے پر تلی پڑی ہو.

میں نے سڑک کا حال دیکھ کر فیض اللہ خان صاحب سے پوچھا کیا پیپلز پارٹی پر اس سڑک کی وجہ سے عوامی دباؤ نہیں آتا؟ انہوں نے جو، جواب دیا وہ ان کے کھلائے گئے لذیذ کبابوں اور سبوخ سید صاحب کی پرلطف رفاقت سے بھی زیادہ مزیدار تھا.

زندہ بھٹو کے مزاج خراب ہوں یا شمال مغرب کے انقلابیوں کی طبیعت بوجھل ہو جائے ، سچ یہ ہے کہ ترقیاتی کاموں اور انتظامی مہارت میں ن لیگ ان سے آگے ہے،. بہت آگے.

کراچی والوں سے واقعی ہمدردی ہو رہی ہے. کوئی شہر اس سلوک کا مستحق نہیں جو کراچی کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے. کراچی سسک رہا ہے. کراچی واقعی سسک رہا ہے.

جو لوگ کراچی میں نہیں رہ رہے وہ شکر کریں اور کراچی والوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ انہیں اس اذیت سے نجات دلا دے.

آصف محمود
👍2
‏مریم والے جیٹ کا فلائٹ ریکارڈر کچھ عجیب سا ہے ۔02 مارچ 2026 کو اس کی فلائٹ لاہور سے لاہور ریکارڈ ہے جو صبح 8:57 پر اڑی اور دن 12:11 پر واپس لینڈ کیا فلائٹ کا یہ دورانیہ 3 گھنٹے 14 منٹ ہے۔
بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دوران یہ صرف لاہور کے اردگرد اڑتا رہا اور واپس لینڈ کر گیا
مگر اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس دوران اس نے کسی ملٹری ایئر بیس پر لینڈ کیا جو ریکارڈ میں ظاہر نہیں ہوتا ۔
پھر 8 مارچ کو یہ لاہور سے نان سٹاپ ویانا کیلئے اڑا جس فلائٹ کا دورانیہ قریبا 7 گھنٹے تھا ۔ تب سے یہ ویانا ائیرپورٹ پر چارٹرڈ ہینگر میں کھڑا ہے جس کا پارکنگ بل ہر چار گھنٹے بعد چارج ہوتا ہے اسکا مطلب ہے اب تک صرف پارکنگ چارج 30000 یورو یعنی ایک کروڑ روپے لگ چکا ہے
سوال یہ ہے کہ اس جہاز پر گیا کون ہے ؟

اور ۔۔۔۔

‏گلف سٹریم G 500 اگر ایئر پنجاب کیلئے خریدا گیا تو اس کا ابھی تک رجسٹرڈ مالک: TVPX Aircraft Solutions Inc. کیوں ہے
یہ trustee سسٹم اس لئے استعمال ہوتا ہے تاکہ اصل مالک پبلک ریکارڈ میں ظاہر نہ ہو۔
اس کا مطلب ہے کہ بالآخر یہ پتہ چلے گا کہ اس کی ملکیت پنجاب حکومت نہیں شریفوں میں سے کوئی ہے

شفقت چوہدری
2👍2
ایران کی آٹھ ملکوں سے جنگ چل رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل روز بمباری کرتے ہیں۔ دہائیوں سے عالمی پابندیاں ہیں۔

لیکن ابھی بھی وہاں اتنے لوگ نہیں مرے جتنے پاکستان میں جرنیلوں کی ناقص پالیسیوں کے ہاتھ مر گئے۔ شرح خواندگی وہاں زیادہ ہے۔ فی کس آمدن وہاں زیادہ ہے۔

ادھورا نہیں پورا سوچیے
Pakistan Times International
Photo
‏پنجاب حکومت کے حالیہ خرید کردہ گلف سٹریم G500 لگژری جہاز کو چلانے کے لیے مبینہ طور پر دو عدد غیر ملکی پائلٹس بھرتی کئے گئے ہیں جن کی تنخواہ مبینہ طور پر 32 ہزار اور 28 ہزار ڈالر ماہانہ ہے۔ یعنی کل ساٹھ ہزار ڈالر ماہانہ صرف تنخواہ کی مد میں دیے جا رہے ہیں۔ یہ رقم پاکستان روپوں میں 283 روپے فی ڈالر کے حساب سے ایک کروڑ ستر لاکھ ماہانہ بنتی ہے۔ ان پائلٹس کی سالانہ بیس کروڑ چالیس لاکھ روپے تنخواہ کے اور دیگر آپریشنل اخراجات کیلئے حکومت پنجاب نے کل 86 کروڑ 15 لاکھ روپے مختص کئے ہیں۔ ساڑھے چھ کروڑ روپے پائلٹس اور انجینئرز کی امریکہ میں لازمی ریفریشر ٹریننگ پروگرام پر خرچ ہوں گے۔ تربیت سے متعلق سرگرمیوں پر چودہ کروڑ تینتیس لاکھ‘ اس طیارے کے آپریشنل پروگرامز اور سبسکرپشن سروسز کیلئے پچاس کروڑ روپے جبکہ ایندھن کی مد میں مزید پانچ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ انشورنس کی مد میں ساڑھے چھ کروڑ کے لگ بھگ خرچہ آئے گا۔ یاد رہے کہ اس جہاز کے فالتو پرزہ جات وغیرہ پہلے سے آ چکے ہیں اور ان پر ڈیوٹی وغیرہ ادا کی جا چکی ہے‘ تاہم سامان کے کرائے کی مد میں اٹھارہ لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ تکنیکی عملے اور کنسلٹنسی کی مد میں پچاس لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔سننے میں آیا ہے کہ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث طیارے کی طبیعت ناساز ہو گئی تھی اور وہ آج کل اپنے میڈیکل چیک اپ کے لیے ویانا گیا تھا

خالد مسعود خان
🥴2
‏بچوں پر بم گرانا ، سکول ہوسپٹلز پر بم گرانا صحافیوں کو قتل کرنا
لوگوں کو اٹھا لینا تشدد کرنا
لگتا ہے پاکستان آرمی کا کنٹرول اسرائیل کے ہاتھ میں ہے
کیونکہ یہ سب تو وہ کرتے ہیں ۔
‏اب تو لازم ہے خرافات سے باہر آؤ
فرقے بازی سے فسادات سے باہر آؤ

شہر کے شہر مٹے جاتے ہیں جنگوں کے طفیل
کوڑھ مغزی کے مضافات سے باہر آؤ

ہاتھ باندھے ہو یا کھولے ہو انہیں فرق نہیں
متحد ہو کے لڑو گھات سے باہر آؤ

امت ِ خاص ہو اس خاص تشکر میں جیو
بے سبب گرمئ جذبات سے باہر آؤ

سوگ و گریہ کی رسومات الگ ہیں ہرجا
بے سبب ایسے سوالات سے باہر آؤ

کربلا بزم نہیں رزم سے تحریر ہوئ
خالی باتوں سے روایات سے باہر آؤ

معجزہ اور کرامات بھی ممکن ہیں تب ہی
جب تعصب کی حوالات سے باہر آؤ

مقتل وقت یہ کہتا ہے تقدُّم قَوُمی
بیٹھ صرف مناجات سے باہر آؤ

خیر کی بات کرو خیر کو تقسیم کرو
شرپسندی کی روایات سے باہر آؤ

ثروت ِ حرف و سخن بانٹ دو ،ابلاغ کرو
جب کبھی گردشِ حالات دے باہر آؤ

ڈاکٹر ثروت رضوی
فوج اور خفیہ اداروں میں بہت سے لوگ آج بھی عمران خان کے چاہنے والے موجود ہیں جو عاصم منیر اور اسکی پالیسیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں وہ اور کچھ نہ بھی کرسکیں البتہ فوج کی بہت سے خفیہ باتیں لیک کر رہے ہیں۔ ایک پی ٹی آئی کارکن جن کے والد آئی ایس آئی میں ہیں اسکا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے سبب فوج و سیکیورٹی فورسز میں موجود اہل تشیع افسران اور اہلکاروں کو سیکیورٹی تھریٹ کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ اعلی افسران کی میٹنگ میں یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ ان افسران کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو کے پی کے اور بلوچستان میں ان حساس مقامات پر تعینات کیا جائے جو مقامات بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ اسکے علاؤہ جلد ریٹائرمنٹ اور دوسرے آپشنز بھی زیر بحث لائے گئے تاکہ فوج اور سیکیورٹی فورسز میں اہل تشیع افراد میں کمی لائی جاسکے ۔

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W

https://t.me/PTIOrg
1
واقعی سیاست سے کوئی تعلق نہیں
#PTI
#PakTimesInt
#Politics
🤣4
میرا چوکیدار مجھے کہتا ہے اگر تمہیں ہمسائے اچھے لگتے ہیں تو انکے گھر چلے جاؤ. 🤪🤷
#PTI
#PakTimesInt
#Politics
🤣7
پاکستان کی تقریباً 60–65٪ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر ان کے پاس نہ نوکری ہے، نہ سمت، نہ کوئی مصروفیت۔ جب ایک نوجوان سارا دن فارغ ہو، کسی ایک کمانے والے فرد پر انحصار کرے، اور اوپر سے ہر قسم کا کانٹینٹ اس کے سامنے ہو، تو اس کے اندر ایک شدید فرسٹریشن پیدا ہوتی ہے۔

یہی فرسٹریشن پھر معاشرے میں یوں نظر آتی ہے کل لاہور کے ڈیفنس، رایا کے علاقے میں یہی منظر دیکھا۔ گزیٹڈ ہالیڈے تھا، سڑکیں بلاک، پولیس اور سیکیورٹی موجود، مگر اس کے باوجود نوجوانوں کا ایک ہجوم بدتمیزی، ہوٹنگ اور ہلڑ بازی کر رہا تھا۔ فیملیز اپنی خواتین کو بچا کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ایک عجیب اور uncomfortable ماحول تھا جہاں فیملی کے ساتھ کھڑا ہونا بھی مشکل ہو گیا تھا۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، بلکہ اب ہر گزیٹڈ ہالیڈے پر یہی pattern بن چکا ہے۔ جیسے ہی پبلک اسپیسز پر رش بڑھتا ہے، ویسے ہی نوجوانوں کی یہی ہلڑ بازی، harassment اور chaos سامنے آ جاتا ہے اور فیملیز ان جگہوں سے دور رہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ سب ہو کیوں رہا ہے؟

کیونکہ نہ معیشت ان نوجوانوں کو absorb کر رہی ہے
نہ ریاست نے ان کے لیے کوئی constructive outlets بنائے ہیں اور نہ ہی معاشرے نے ان کے لیے کوئی balanced راستہ چھوڑا ہے

اوپر سے نکاح کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ایک نارمل نوجوان کے لیے وہ بھی تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، جبکہ exposure اپنی انتہا پر ہے۔ نتیجہ؟ ایک مسلسل build ہوتی ہوئی frustration، جس کا کوئی positive outlet موجود نہیں۔

یہ صرف ایک سوشل مسئلہ نہیں، یہ نیشنل سیکیورٹی تھریٹ ہے۔

ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں نوجوان بے روزگار، frustrated اور غیر مصروف ہوں، وہاں یہ energy کسی نہ کسی شکل میں نکلے گی اور اگر ریاست اسے direction نہیں دے گی، تو یہ chaos کی صورت میں ہی سامنے آئے گی۔

اگر ریاست نے اب بھی روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کے لیے صحت مند سرگرمیاں پیدا نہ کیں تو یہ youth dividend نہیں، بلکہ youth disaster بن جائے گا۔

خرم مشتاق
ریاست نے جسطرح غربت مسلط کی ہے ایسے میں ایک بہت بڑی تعداد کا تعلیم سے دور رہ کر روٹی پیسے کے پیچھے بھاگنا اور معاشرے میں جہالت کا دیو تیار ہونا یقینی تھا
اگر حکومت میں کسی کو احساس ہو تو والنٹیئر پروگرام بناکر سکول چلائے لوگ رضاکارانہ اپنے اوقات سے ایک گھنٹہ دیں اور پڑھائیں
👍2
ایران جنگ کے حوالے سے ممکنہ مذاکرات کے متعلق فوج کے اندرونی ذرائع کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔
یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان کی فوجی قیادت نہ ہی ثالثی کررہی ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے لیے اخلاص رکھتی ہے۔ ایران نے جس طرح ردعمل میں حملے کیے ہیں امریکہ اپنی جنگی سٹریٹیجی اور منصوبہ بندی کے لیے کچھ وقت چاہتا ہے جبکہ پاکستان کو اس لیے وقت درکار ہے تاکہ پاکستان میں اور بالخصوص فوج میں اہل تشیع کے ردعمل اور بغاوت کو کچلنے کے لیے تیاری کی جاسکے۔ جیسے پہلے ہم بتا چکے ہیں کہ ایک میٹنگ میں یہ مشورہ دیا جاچکا ہے کہ اہل تشیع افسران اور اہلکاروں کو زیادہ سے زیادہ کے پی کے اور بلوچستان میں ان جگہوں پر تعینات کیا جائے جو جگہیں طالبان اور بی ایل اے کے مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بلوچستان اور کے پی کے میں کمانڈ کو یہ میسج دے دیا گیا ہے کہ جو اہل تشیع وہاں تعینات ہیں یا ہونے جارہے ہیں انکے وہاں دوران تعیناتی مارے جانے کی صورت میں اس پوسٹ میں موجود افسر کو خصوصی پیکج اور ترقی دی جائے گی۔
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
پاکستانی جرنیلوں کو یقین ہے جتنا دو افغان جنگوں میں کمایا اس سے کہیں زیادہ کمائی کے مواقع ایران جنگ میں ہیں اگرچہ خون خرابہ بھی اسی حساب سے زیادہ ہے مگر اسکی انہیں بالکل پرواہ نہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
عسکری ادارے کو بھتہ نہ دینے کے جرم میں ٹویوٹا موٹرز پاکستان کے مالک عامر اعوان کو قتل کر دیا ۔

عامر اعوان کی رہائش گاہ اسلام آباد آرچرڈ اسکیم فارم ہاؤس میں مسلح افراد داخل ہو رہے ہیں۔ واردات کو ڈکیتی کا رنگ دیا گیا ھے
"یہ عاصم منیر کا ویژن ھے

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
👍2
جیل میں تو سارے پاکستانی سیاستدان جاتے ہیں لیکن عمران خان وہ پہلا سیاستدان ہے جس نے اپنے رہائی کے لئے جرنیلوں سے ڈیل کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔

سئینر صحافی محمد حنیف
👍2
‏گاؤں میں چوہدریوں کی لڑائی ہو گئی…
مراسی روز صلح کروانے جانے لگا۔
بیوی نے طنز کرتے ہوئے کہا:
“اوئے، تُو مراسی… اور وہ بڑے بڑے چوہدری! تُو اُن کی صلح کروائے گا؟”
مراسی بڑے اطمینان سے بولا:
“او کُڑیئے، تُو صلح دی گل چھڈ… تُو بس ساڈیاں آنیاں جانیاں ویکھ!”
منقول
3🥰1
‏2009 میں جب میں نے سیلن کی وجہ سے اپنا اقبال ٹاؤن والا گھر بیچا تو کچھ عرصہ مجھے کینٹ میں نچلے پورشن میں کرائے دار کی حثیت سے رہنا پڑا ،
بڑے تلخ تجربات ہوئے ، مالک مکان بڑی فیملی ہونے کے باعث پانچ اے سی چلاتے مگر اُن کا بل مُجھ سے پانچ گُنا کم آتا ، ایک بار میں نے شکایت کی تو انھوں نے اگلے دن ایک بندے سے متعارف کرایا جو واپڈا کی نوکری سے استعفی دے کر یہ خدمتِ خلق کر رہا تھا . کہا گیا اگر میں اُسے ایک بار ایک لاکھ دے دوں تو میرا بل بھی ماہانہ دو تین ہزار آیا کرے گا ،اُس نے جو تفصیل بتائی بہت خطرناک تھی .
میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے یونٹوں کا بل کوئی اور کیوں بھرے ،اور اگر وہ کسی بیوہ کے بل میں چلے گئے تو میں کیا کروں گی ،
مالک مکان کا فرسٹ ائیر کا طالبعلم بیٹا دو تین سیاستدانوں کے نام لے کر بولا وہ بھی تو فلاں فلاں لُوٹ مار کر رھے ہیں ، میں اُس کے جواز پر حیران رہ گئی ،
آج اتنے سالوں بعد بھی غریب ہی مفت خوروں اور بجلی چوروں کے ہرجانے بھر رہا ھے . ریاست کی کمزور ترین رِٹ ، بدنیتی اور سُستی کے باعث

ڈاکٹر صغری صدف
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
لوگ موجودہ صورتحال کو کس طرح دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں


امارات نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اماراتیوں کو ہضم نہیں ہوا۔

سعودیہ نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ سعودیہ کو لگتا ہے ہم نے دفاعی معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔

چین نے قرض واپس مانگ لیا کیونکہ اس کے مسلسل منع کرنے کے باوجود ہم افغانستان سے لڑتے رہے اور امریکہ سے معاشقہ لڑاتے ہوئے چین کو نظر انداز کیا۔

آئی ایم ایف کا قرض واپس کرنے کا وقت بھی آ رہا ہے اور ری شیڈولنگ مشکل ہے کیونکہ ہم امریکیوں کو بھی ڈیلیور نہیں کر سکتے، نہ افغانستان میں اور نہ ایران میں۔

اس "متوازن خارجہ پالیسی" اور "شاندار سفارت کاری" کا سارا بوجھ عوام پر اور بہانہ جنگ کا، حالانکہ خود پُھدک پُھدک کر بتا رہے تھے کہ ایران ہمارے ٹینکر نہیں روکتا (بلکہ اندر خانے پاکستان کے کوٹے سے عالمی پیٹرولئیم کمپنیوں کا تیل نکلوا کر بھی دیہاڑی لگائی اور دبائی گئی ہے)۔

جو مُلک اس جنگ سے ہماری نسبت کہیں زیادہ متاثر ہوئے ہیں، وہاں قیمتوں میں ہماری نسبت بہت کم اضافہ ہوا ہے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W