Pakistan Times International
354 subscribers
66 photos
14 videos
50 links
Download Telegram
آج دنیا کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور ناں میں ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سے پوچھا: اگر ہم ڈالر دیں تو کیا آپ ہمارے لیے کام کریں گے؟ فیلڈ مارشل نے جواب دیا؛ ہاں۔ پھر ٹرمپ نے پوچھا: کیا آپ ہمارے خلاف جانے کی ہمت کریں گے؟ فیلڈ مارشل نے کہا؛ ناں۔اس طرح ہماری ہاں اور ناں میں دنیا کے فیصلے ہو رہے ہیں ۔

زید حامد
👏1
‏کیا آپ جانتے ہیں؟

بھارت روس سے سستا تیل خرید سکتا ہے لیکن پاکستانیوں کو مہنگا تیل خریدنا ہے۔

کیونکہ آپ کی فوج اللہ کی فوج ہے
سائفر کے آگے لیٹ جانے والی فوج ہے

اور آپ نے بچپن میں 23 مارچ کی پریڈ دیکھ رکھی ہے۔
پٹرول کی قیمت عالمی منڈی سے منسلک ہے
ٹھیک ہے
ہم مانتے ہیں
جنگی حالات ہیں
ہم مانتے ہیں
تو کیا لاکھوں روپے تنخواہ والے افسران اور اشرافئہ بھی کچھ قربانی دے سکتے ہیں کہ نہیں؟
پنجاب نے ابھی انّے وا سینئیر بیوروکریٹس کی گاڑیوں اور فیول میں اضافہ کیا
اس سے پہلے وفاقی حکومت نے ججوں کو اندھا دھند پٹرول دیا ہے۔
سارا بوجھ عام انسان ہی اٹھائے؟ اشرافیہ کوئی حصہ ڈالنے کو تیار نہیں؟
ابھی پنجاب حکومت کے نئے جہاز کے ماہانہ شاہانہ اخراجات کا سن کر بھی عوام میں شدید غصہ ہے ۔اشرافیہ کچھ تو مشکلات شئیر کرے ۔
انتہائی اعلیٰ درجے کے ذلیل انسان تھے وہ اشخاص جنہوں نے یہ قانون بنایا تھا کہ لاکھوں تنخواہ لینے والے کو پٹرول بجلی، گاڑی اور گھر سب فری ملے گا اور 30 ہزار تنخواہ لینے والا ہر چیز اپنی تنخواہ سے خریدے گا۔
‏امریکہ کی وینزویلا کے خلاف کاروائی اور تیل اپنے زیر کنٹرول لانے کے جنگی اقدام کی اب سمجھ آ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے کئی بڑے ممالک شدید متاثر ہونگے جن میں
چین کا درآمدی تیل کا بڑا حصہ خلیج سے آتا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے چین کو سب سے بڑا معاشی جھٹکا لگ سکتا ہے۔
بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً 80٪ تیل درآمد کرتا ہے۔اور زیادہ تیل خلیجی ممالک سے آتا ہے۔
جاپان پورا تیل باہر سے خریدتا ہے، خاص طور پر خلیج سے
پاکستان اور جنوبی کوریا کا انحصار بھی بڑی حد تک خلیجی تیل پر ہے۔
چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے بڑے صنعتی ممالک کو زیادہ معاشی نقصان اس لئے ہو گا کہ ان کی صنعتیں بہت زیادہ تیل استعمال کرتی ہیں
شفقت چوہدری
2👍1
جیسے بازاروں میں رش بڑھتے ہی جیب کتروں کی موج لگ جاتی ہے اور وہ رش کا فایدہ اٹھاتے ہوئے آسانی سے لوگوں کی جیبیں کُتر لیتے ہیں، ویسے ہی موجودہ مشترکہ ٹولہ مسائل کے رش کو لوگوں کی جیبیں کترنے کیلیے استعمال کرتا ہے۔ پٹرول ڈیزل مٹی کے تیل میں دو سو روپے اضافہ جیب کترنے کی مہارت ہے

عبید بھٹی
‏آجکل افغانستان کے حوالے سے جو کردار خواجہ آصف کو دیا گیا ہے، کچھ اسی طرح کا کردار کبھی شیخ رشید کو بھارت کے خلاف دیا گیا تھا۔ فرق یہ تھا کہ شیخ رشید کا بیانیہ یا تنقید زیادہ تر بھارتی حکومت یا فوج کے خلاف ہوتی تھی، جو کسی بھی ملک کے درمیان ایک سیاسی معاملہ سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر ‏خواجہ آصف کے بیانات میں اکثر عام افغان مزدوروں، محنت کشوں اور عوام کے خلاف نفرت، لسانیت، غرور و تکبر اور سخت لہجہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ رویہ افسوسناک ہے، کیونکہ یہ شور و غوغا دہشت گردی یا افغان حکومت کے خلاف انتہائی کم اور افغان مہاجرین کے خلاف انتہائی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
👍2
‏گستاخی معاف

اگر کسی چھوٹے گاؤں سے بڑی سڑک گزر جائے تو وہاں پر صدیوں سے آباد تھوڑے سے کتوں کی سوچ ، اپروچ ، آبادی ، معیشت اور سیاست پر بہت زیادہ فرق پڑ جاتا ہے۔ جب سڑک گزرتی ہے تو ساتھ ایک کریانہ ایک نائی کی دوکان اور ایک چائے کا کھوکھا لاتی ہے۔ چائے کے کھوکھے کیساتھ ایک قصائی پھٹا لگا لیتا ہے جس پر سرخ کلغی والی سفید برائلر مرغیاں بکنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ساتھ پڑے ایک نیلے سے ڈرم میں انتڑیوں اور مرغیوں کی کھالوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

یہاں سے کتیک معیشت ، معاشرت اور بہبود پر بوم آنا شروع ہوجاتا ہے۔ مہینوں مردار کا انتظار کرکے مردہ ڈنگروں کا گوشت کھانے والے مریل مریل سے کتے یکایک پنجوں اور انتڑیوں کی گرمائش کی تاب نا لاتے ہوئے افزائش کتیکاں میں بہت زیادہ اضافہ کربیٹھتے ہیں۔ پورے علاقے میں چند کتوں کی جگہ اب دھڑا دھڑ کتے ہی کتے نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ پیدائش و افزائش اس قدر سرعت سے ہوتی ہے کہ معاشرہ “ کتی سوئی “ جیسے محاورے ایجاد کربیٹھتا ہے۔

قرب و جوار سے مختلف نسل کے مارشل ریس کتے بھی وہاں پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں۔ آس پاس کے دیہات کے لوگڑ نومولود کتورے شاپروں میں ڈال کر سڑک کے قریب چھوڑے جانے لگتے ہیں۔ لوگڑ کتوں کی نسل میں انکی آمیزش کتیک سماج کو دو آتشہ کردیتی ہے۔ کتیک سماج آبادیوں سے دور دراز مردہ ڈنگروں کی ہڈیاں چھوڑ کر معاشی ہب میں آبیٹھتا ہے۔ اب یہاں سے حالات کی ستم ظریفی شروع ہوتی ہے۔

یہ بیچارے کیونکہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور نئے نئے شہر میں آئے ہوتے ہیں تو عجیب و غریب حرکتیں کرنا شروع کردیتے ہیں۔ پردے میں سرانجام دیے جانے والے امور بیچ سڑک شروع کردیتے ہیں۔ رات کو پھٹے کے اوپر چڑھ کر سونے کی کوشش کرتے ہیں۔ نوجوان کتے ، چڑھتی جوانیوں والی کتیوں کو اپنا فلیکس دکھانے کے چکر میں ہر آتے جاتے موٹر سائیکل ، رکشے اور گاڑی کے پیچھے دوووووور تک بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔

کیونکہ سڑک نئی نئی گزری ہوتی ہے تو انہیں تہذیب اور تمدن کے راز ابھی معلوم نہیں ہوتے کہ ان کا کام چھیچھڑے کھانا ، مزید کتے پیدا کرنا اور آرام کرنا ہوتا ہے۔ نئی جگہ ، معاشی ترقی ، چڑھتی جوانی ، انتڑیوں کی گرمائش اور وغیرہ وغیرہ کے زیر اثر وہ ہر گاڑی ، ہر موٹرسائیکل کے ساتھ بھاگنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جیسے جیسے کتے سمجھدار ہوتے جاتے ہیں ، معاشی سائیکل تھوڑا سٹیبل ہوتا ہے اور انہیں نئے ماحول کی سمجھ آنا شروع ہوتی ہے تو وہ جان جاتے ہیں کہ دن کو ایک عدد چاؤں اور رات کو بلا تعطل بھونکنا انکی ذمہ داری ہے۔ ہر جاتی آتی گاڑی کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ ہر گز ہر گز اچھے نہیں لگتے۔ ایسا کرنے سے کتیاں بھی متاثر نہیں ہوتیں اور انکے کسی ٹرک کے نیچے آنے کے امکانات بھی بہت بڑھ جاتے ہیں۔

بہرحال جیسے جیسے فوج ایران کے خلاف محاذ کھولنے یا نہ کھولنے کے قریب جائے گی اور یہ جنگ طویل ہوتی جائیگی ویسے ویسے عمران خان کی رہائی ، ضمانت کی درخواستوں ، ممکنہ ڈیل اور وغیرہ وغیرہ کی شدت میں اضافہ ہوتا جائے گا تاکہ آپ انکے پھٹے ہوئے گریبان نا دیکھیں بالکل ادھر ادھر بھٹکتے اور بہکتے رہیں ۔ عاصم منیر یا فوج کبھی بھی ان حالات میں عمران خان کو رہا کرکے اپنے لیے مسائل میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے۔ عمران خان کی جیل میں رکھنے کی قیمت ملکی معیشت تباہ کرکے ، ٹرمپ کا ہر حکم مان کر اور غیر ضروری جنگوں میں الجھ کر چکائی جارہی ہے اور یہ لوگ اس سے بھی بڑی قیمت چکا لیں گے لیکن عمران خان کو رہا نہیں کریں گے کیونکہ عمران خان کی رہائی اس سسٹم کی موت ہے۔

عمران خان کا موقف سب کے علم میں ہے۔ وہ کسی مشروط رہائی پر آمادہ نہیں ہوگا۔ یہ آفر دے دی۔ یہ پیغام پہنچا دیا گیا یہ پیش رفت ہوگئی سب دھوکہ ہے اور فضول باتیں ہیں ۔ آخری دفعہ پاک بھارت جھڑپوں سے عین پہلے انہی عدالتوں میب علی امین گنڈاپور سے عمران خان کی پیرول پر رہائی کی درخواست ڈلوا دی گئی۔ اب ایک بار پھر فوج مشکل میں آئی ہے تو آپ کو روزانہ عدالتوں کے باہر کھڑا کیا جارہا ہے۔ جیت کے لیے مخالف فریق کو شکست دینا لازمی ہوتا ہے۔ مفاہمت سے جیت نہیں اقتدار ملتا ہے اور عمران خان اقتدار کے لیے نہیں لڑرہا۔ ہر گاڑی ، موٹرسائیکل اور ٹرک کے پیچھے بھاگنے سے گریز کریں۔ شکریہ۔
🥴2
اگر ہمیں اپنے محلے کی جنگوں میں بھی ڈالر نہیں ملنے تو پھر کب ملنے ہیں؟

سیکیورٹی ذرائع جنگ ختم ہونے کی خبریں سن کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
😁4
‏کراچی سے لوٹا ہوں اور دیکھ آیا ہوں کہ جمہوریت بہترین انتقام کیسے لیتی ہے.

آپ یقین کریں لاہور اسلام آباد تو دور کی بات ہے اس سے تو ہمارے سرگودھا کا انفراسٹرکچر بہتر حالت میں ہے.

کراچی پہنچتے ہی، صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے برادرم سبوخ سید کے ساتھ ساحل پر گیا. چونکہ سمندر پر سورج طلوع ہوتا دیکھنا تھا نزدیک ترین سپاٹ پر پہنچے. ساحل گندگی اور غلاظت سے بھرا پڑا تھا. متلی ہونے لگی.

واپس ہوئے تو خیال آیا عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی جائے. مزار تو ابھی بند تھا لیکن اس کے اطراف میں دیوار کے ساتھ ساتھ گندگی اور غلاظت کے نشانات دیکھ کر دل لہو گیا. آگے پل کی طرف گئے تو پل کے نیچے ایک صاحب باقاعدہ شلوار اتار کر فٹ پاتھ پر رفع حاجت کر رہے تھے.

پیپلز پارٹی سے پوچھا جانا چاہیے کیا گڑھی خدا بخش کے مزاروں کے اطراف میں بھی ایسی ہی بد انتظامی ہے؟

جب جب موبائل فون نکالا ، کسی نے تنبیہہ کر دی کہ جیب میں ڈالو کوئی چھین لے گا. یاد رہے کہ ہر بار تنبہہہ کرنے والا کوئی مقامی ہی تھا. یعنی یہ تنبیہہ مشاہدے کی بنیاد پر کی جا رہی تھی نہ کہ بدگمانی کی بنیاد پر.

حالت یہ تھی کہ صبح سویرے ساحل کے لیے نکلے تو گارڈ کہنے لگا میری مانیں تو نہ جائیں، یہ وقت خطرناک ہو سکتا ہے. گارڈ بھی وہیں کا تھا.

رات کے آخری پہر برادرم فیض اللہ خان 1952 کےبنے ایک قدیم اور معروف ہوٹل پر ہمیں کباب کھلانے لے گئے تو راستے میں وہ سڑک پڑی جسے یونیورسٹی روڈ کہتے ہیں اور جو کئی سالوں سے اسی طرح کھدی پڑی ہے اور مکمل ہونے میں نہیں آ رہی. جانے کتنے پیسے کس کس نے کھا لیے ہوں یا شاید نہ کھائے ہوں اور پوری ایمانداری سے جمہوریت اپنے شہریوں سے انتقام لینے پر تلی پڑی ہو.

میں نے سڑک کا حال دیکھ کر فیض اللہ خان صاحب سے پوچھا کیا پیپلز پارٹی پر اس سڑک کی وجہ سے عوامی دباؤ نہیں آتا؟ انہوں نے جو، جواب دیا وہ ان کے کھلائے گئے لذیذ کبابوں اور سبوخ سید صاحب کی پرلطف رفاقت سے بھی زیادہ مزیدار تھا.

زندہ بھٹو کے مزاج خراب ہوں یا شمال مغرب کے انقلابیوں کی طبیعت بوجھل ہو جائے ، سچ یہ ہے کہ ترقیاتی کاموں اور انتظامی مہارت میں ن لیگ ان سے آگے ہے،. بہت آگے.

کراچی والوں سے واقعی ہمدردی ہو رہی ہے. کوئی شہر اس سلوک کا مستحق نہیں جو کراچی کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے. کراچی سسک رہا ہے. کراچی واقعی سسک رہا ہے.

جو لوگ کراچی میں نہیں رہ رہے وہ شکر کریں اور کراچی والوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ انہیں اس اذیت سے نجات دلا دے.

آصف محمود
👍2
‏مریم والے جیٹ کا فلائٹ ریکارڈر کچھ عجیب سا ہے ۔02 مارچ 2026 کو اس کی فلائٹ لاہور سے لاہور ریکارڈ ہے جو صبح 8:57 پر اڑی اور دن 12:11 پر واپس لینڈ کیا فلائٹ کا یہ دورانیہ 3 گھنٹے 14 منٹ ہے۔
بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دوران یہ صرف لاہور کے اردگرد اڑتا رہا اور واپس لینڈ کر گیا
مگر اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس دوران اس نے کسی ملٹری ایئر بیس پر لینڈ کیا جو ریکارڈ میں ظاہر نہیں ہوتا ۔
پھر 8 مارچ کو یہ لاہور سے نان سٹاپ ویانا کیلئے اڑا جس فلائٹ کا دورانیہ قریبا 7 گھنٹے تھا ۔ تب سے یہ ویانا ائیرپورٹ پر چارٹرڈ ہینگر میں کھڑا ہے جس کا پارکنگ بل ہر چار گھنٹے بعد چارج ہوتا ہے اسکا مطلب ہے اب تک صرف پارکنگ چارج 30000 یورو یعنی ایک کروڑ روپے لگ چکا ہے
سوال یہ ہے کہ اس جہاز پر گیا کون ہے ؟

اور ۔۔۔۔

‏گلف سٹریم G 500 اگر ایئر پنجاب کیلئے خریدا گیا تو اس کا ابھی تک رجسٹرڈ مالک: TVPX Aircraft Solutions Inc. کیوں ہے
یہ trustee سسٹم اس لئے استعمال ہوتا ہے تاکہ اصل مالک پبلک ریکارڈ میں ظاہر نہ ہو۔
اس کا مطلب ہے کہ بالآخر یہ پتہ چلے گا کہ اس کی ملکیت پنجاب حکومت نہیں شریفوں میں سے کوئی ہے

شفقت چوہدری
2👍2
ایران کی آٹھ ملکوں سے جنگ چل رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل روز بمباری کرتے ہیں۔ دہائیوں سے عالمی پابندیاں ہیں۔

لیکن ابھی بھی وہاں اتنے لوگ نہیں مرے جتنے پاکستان میں جرنیلوں کی ناقص پالیسیوں کے ہاتھ مر گئے۔ شرح خواندگی وہاں زیادہ ہے۔ فی کس آمدن وہاں زیادہ ہے۔

ادھورا نہیں پورا سوچیے
Pakistan Times International
Photo
‏پنجاب حکومت کے حالیہ خرید کردہ گلف سٹریم G500 لگژری جہاز کو چلانے کے لیے مبینہ طور پر دو عدد غیر ملکی پائلٹس بھرتی کئے گئے ہیں جن کی تنخواہ مبینہ طور پر 32 ہزار اور 28 ہزار ڈالر ماہانہ ہے۔ یعنی کل ساٹھ ہزار ڈالر ماہانہ صرف تنخواہ کی مد میں دیے جا رہے ہیں۔ یہ رقم پاکستان روپوں میں 283 روپے فی ڈالر کے حساب سے ایک کروڑ ستر لاکھ ماہانہ بنتی ہے۔ ان پائلٹس کی سالانہ بیس کروڑ چالیس لاکھ روپے تنخواہ کے اور دیگر آپریشنل اخراجات کیلئے حکومت پنجاب نے کل 86 کروڑ 15 لاکھ روپے مختص کئے ہیں۔ ساڑھے چھ کروڑ روپے پائلٹس اور انجینئرز کی امریکہ میں لازمی ریفریشر ٹریننگ پروگرام پر خرچ ہوں گے۔ تربیت سے متعلق سرگرمیوں پر چودہ کروڑ تینتیس لاکھ‘ اس طیارے کے آپریشنل پروگرامز اور سبسکرپشن سروسز کیلئے پچاس کروڑ روپے جبکہ ایندھن کی مد میں مزید پانچ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ انشورنس کی مد میں ساڑھے چھ کروڑ کے لگ بھگ خرچہ آئے گا۔ یاد رہے کہ اس جہاز کے فالتو پرزہ جات وغیرہ پہلے سے آ چکے ہیں اور ان پر ڈیوٹی وغیرہ ادا کی جا چکی ہے‘ تاہم سامان کے کرائے کی مد میں اٹھارہ لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ تکنیکی عملے اور کنسلٹنسی کی مد میں پچاس لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔سننے میں آیا ہے کہ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث طیارے کی طبیعت ناساز ہو گئی تھی اور وہ آج کل اپنے میڈیکل چیک اپ کے لیے ویانا گیا تھا

خالد مسعود خان
🥴2
‏بچوں پر بم گرانا ، سکول ہوسپٹلز پر بم گرانا صحافیوں کو قتل کرنا
لوگوں کو اٹھا لینا تشدد کرنا
لگتا ہے پاکستان آرمی کا کنٹرول اسرائیل کے ہاتھ میں ہے
کیونکہ یہ سب تو وہ کرتے ہیں ۔
‏اب تو لازم ہے خرافات سے باہر آؤ
فرقے بازی سے فسادات سے باہر آؤ

شہر کے شہر مٹے جاتے ہیں جنگوں کے طفیل
کوڑھ مغزی کے مضافات سے باہر آؤ

ہاتھ باندھے ہو یا کھولے ہو انہیں فرق نہیں
متحد ہو کے لڑو گھات سے باہر آؤ

امت ِ خاص ہو اس خاص تشکر میں جیو
بے سبب گرمئ جذبات سے باہر آؤ

سوگ و گریہ کی رسومات الگ ہیں ہرجا
بے سبب ایسے سوالات سے باہر آؤ

کربلا بزم نہیں رزم سے تحریر ہوئ
خالی باتوں سے روایات سے باہر آؤ

معجزہ اور کرامات بھی ممکن ہیں تب ہی
جب تعصب کی حوالات سے باہر آؤ

مقتل وقت یہ کہتا ہے تقدُّم قَوُمی
بیٹھ صرف مناجات سے باہر آؤ

خیر کی بات کرو خیر کو تقسیم کرو
شرپسندی کی روایات سے باہر آؤ

ثروت ِ حرف و سخن بانٹ دو ،ابلاغ کرو
جب کبھی گردشِ حالات دے باہر آؤ

ڈاکٹر ثروت رضوی
فوج اور خفیہ اداروں میں بہت سے لوگ آج بھی عمران خان کے چاہنے والے موجود ہیں جو عاصم منیر اور اسکی پالیسیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں وہ اور کچھ نہ بھی کرسکیں البتہ فوج کی بہت سے خفیہ باتیں لیک کر رہے ہیں۔ ایک پی ٹی آئی کارکن جن کے والد آئی ایس آئی میں ہیں اسکا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے سبب فوج و سیکیورٹی فورسز میں موجود اہل تشیع افسران اور اہلکاروں کو سیکیورٹی تھریٹ کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ اعلی افسران کی میٹنگ میں یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ ان افسران کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو کے پی کے اور بلوچستان میں ان حساس مقامات پر تعینات کیا جائے جو مقامات بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ اسکے علاؤہ جلد ریٹائرمنٹ اور دوسرے آپشنز بھی زیر بحث لائے گئے تاکہ فوج اور سیکیورٹی فورسز میں اہل تشیع افراد میں کمی لائی جاسکے ۔

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W

https://t.me/PTIOrg
1
واقعی سیاست سے کوئی تعلق نہیں
#PTI
#PakTimesInt
#Politics
🤣4
میرا چوکیدار مجھے کہتا ہے اگر تمہیں ہمسائے اچھے لگتے ہیں تو انکے گھر چلے جاؤ. 🤪🤷
#PTI
#PakTimesInt
#Politics
🤣7