Pakistan Times International
352 subscribers
66 photos
14 videos
50 links
Download Telegram
‏پاکستان کسٹمز کی مختلف کلکٹریٹس میں ضبط شدہ اربوں روپے مالیت کا سونا اور چاندی اسٹیٹ بینک میں جمع نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کسٹمز کی تمام انفورسمنٹ بشمول ایئر پورٹ کلکٹریٹس کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ ضبط شدہ سونا اور چاندی کے مکمل ڈیٹا اسٹیٹ بینک کے حوالے کریں۔جیو نیوز کے مطابق برسوں سے ضبط شدہ سونا اور چاندی کلکٹریٹس کی لاکرز میں پڑا ہوا ہے اور اسٹیٹ بینک میں جمع نہ ہونے کے باعث یہ قومی خزانے میں ظاہر نہیں ہو رہا۔مزید اطلاعات کے مطابق کسٹمز کلکٹریٹس کی مبینہ نااہلی کی وجہ سے ضبط شدہ سونے اور چاندی کی لاکرز میں تبدیلی یا چوری ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

#PakistanCustoms#StateBankOfPakistan
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
1
اگر آپکا ایکس اکاؤنٹ ہے تو یہاں ووٹ کریں اور عاصم منیر کو اسکی اوقات دکھائیں۔
https://x.com/i/status/2026353127646179660
😁3
‏ہنر مند پاکستانیوں لیے ساڑھے دس ہزار اٹالین ورک ویزہ اعلان ساتھ ہی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کڑا امتحان شروع۔۔۔۔۔۔

کیا وہ چٹھہ بختاور میں موجود انسانی گدھ نما ایجنٹس و ڈپلو میٹک انکلیو میں موجود کرپٹ ملازمین مابین “اپواہنٹمنٹس لنڈا بازار” ختم کر پاہیں گے؟

اس سے قبل اٹلی 2025 میں ایک خوفناک قسم کا فیک ورک ویزہ سکینڈل پکڑا جاچکا ہے جس میں درجنوں پاکستانیوں کو دھوکہ دیا گیا اور مجبورا اٹالین حکومت کو یہ سب ورک پرمٹس منسوخ کرنے پڑے

اس وقت بطور صحافی (کرائم رپورٹر) میرے زہن میں ایک بڑا سوال اُٹھ رہا کہ کیا وزیر داخلہ محسن نقوی اٹلی کی جانب سے ہنر مند پاکستانیوں لیے ساڑھے دس ہزار ویزوں کے اجراء کے پراسسس کو اٹلی و پاکستان میں موجود ایجنٹ مافیاز (انسانی سمگلرز) سے بچا پائیں گے ؟

میں یہ سوال اس لیے کر رہا کہ بہت سے پاکستانی شہریوں کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ جب آپ کو یورپ کے کسی ملک میں ورک ویزہ جاری ہوتا ہے تو میرے ناقص علم مطابق وہاں کی منسٹری آف ورک اس ورک پرمنٹ کی فیس 170 یوروز چارج کرتی جو پاکستانی کرنسی میں 56100 روپے بنتے ہیں

اور یہ ورک پرمٹ یورپ کا ہر ملک کمپنی کو اس کی ماہانہ آمدن اور اس ملک کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کو جمع کروائے گئے فی کس ورکز ٹیکس کا جائزہ لے کر جاری کیا جاتا
مگر کیا کیا جائے دولت کے پجاریوں و ہوس کے مارے پاکستانی ایجینٹس و مافیاز کا جو اس 170 یوروز کے عوض جاری ہونے والے ورک پرمٹ کو Sicily اٹلی ودیگر مقامات پر موجود ایجنٹ مافیاز کے ہاتھوں 6000 سے 7000 یوروز میں فی پرمٹ سیل کرتے ہیں اور پھر یہ ورک پرمٹ پاکستان پہنچ کر 15000 سے 20000 یوروز یا اگر داؤ لگ جائے تو 22 سے 25000 یوروز تک بکتا ہے یعنی پاکستان سے کسی بھی ہنر مند یا عام شہری کو اٹلی جانے لیے 66 لاکھ روپے سے لے کر 82 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرنے ہوتے اور وہ تب جاکر اٹلی پہنچ پاتا اور permesso di soggiorno (residence permit) مل پاتا

لیکن 2025 میں اٹالین گورنمنٹ و خفیہ ادارے اس وقت سکتہ میں آ گئے جب انکو پاکستانی انسانی سمگلرز/ایجنٹ مافیاز کی ملکی بھگت سے حاصل کیے گئے سینکڑوں ورک پرمٹس بارے اطلاع ملی

ہوا کچھ یوں کہ اٹالین بزنس مینز و دیگر لینڈ لارڈز/کمپنیز پاس پاکستانی ملازمین نے ان کے علم میں لائے بغیر جعلی طریقے سے کمپنیز کے کاغذات تیار کروا کر منسٹری آف لیبر اینڈ سوشل پالیسیز سے سینکڑوں کی تعداد میں ورک پرمٹس جاری کروائے اور یہ ورک پرمٹ اٹلی میں موجود مافیاز کے ہاتھوں بکتے ہوئے پاکستان پہنچے اور پھر یہاں سے سینکڑوں افراد اٹلی پہنچ گئے بھاری بھرکم رقوم میں یہ ورک پرمٹس خرید کر اور جب وہاں پہنچ گئے تو ورک پرمٹس میں درج کمپنیز نے انہیں کنٹریکٹس دینے سے انکار کر دیا تو بات کھل گئی اور اٹالین حکومت کو یہ ورک پرمٹس منسوخ کرنا پڑے

اور ان سب چیزوں سے بھی بڑی اور خوفناک چیز یعنی بدروح جس نے اسلام آباد میں ڈپلو میٹک انکلیو میں موجود اٹالین ایمبیسی پر اپنا کالا سیاہ بدبودار سایہ کر رکھا وہ ہے اٹلی سے جاری ان ورک پرمٹس کو پاکستان میں ساری ریکوائرمنٹس پوری کرکے اٹالین ایمبیسی اسلام آباد میں جمع کروانے لیے اپوائنٹمنٹ لینا جوکہ آج کی تاریخ میں ناممکن ہوچکا

اسلام آباد کے بدنام زمانہ علاقہ چھٹہ بختاور میں انسانوں کے روپ میں موجود گدھ خون خوار بھیڑیے یعنی ایجنٹس و ویزہ کنسلٹنٹس اور اٹالین ایمبیسی اسلام آباد اندر ملازمین کا گٹھ جوڑ بھی وزیر داخلہ محسن نقوی لیے بڑا چیلینج ثابت ہوگا کیونکہ یہ مافیاز ایک ورک پرمٹ کی اپوائنٹمنٹ لیے پانچ سے نو لاکھ روپے چارج کر رہے ہیں جس کا آج تک کوئی خفیہ ادارہ، منسٹری آف فارن افیئرز، منسٹری آف انٹیرئیر و ایف آئی اے توڑ نہ کرسکی کہ سب “کھنڈ کھاؤ تے ونڈ کھاؤ” کے فارمولا پر عمل پیرا ہیں

تو ایسے میں میں سمجھتا کہ پاکستان میں موجود ہنر مند افراد (جو کہ غریب ہیں اور ان کی کوئی سفارش نہیں) اس ساڑھے دس ہزار اٹالین ورک ویزہ سے مستفید نہ ہوسکیں گے اور آخر میں اٹلی و پاکستان میں موجود انسانی سمگلرز، چٹھہ بختاور و ڈپلو میٹک انکلیو میں موجود اٹالین ایمبیسی کے اندر موجود کرپٹ ملازمین اربوں کی دیہاڑی لگا کر ان پڑھ و غیر ہنر یافتہ افراد کو اٹلی بھیجنے میں کامیاب ہوں گے-
اسرار راجپوت
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
1
ایک اہم بات واضح کرتا چلوں؛

یہاں کچھ بھی حالات ہوجائیں پر یہ یاد رکھیے گا کہ پاکستان، بھارت اور عالمی طاقتوں کے لیے، ہمیشہ ایک تھریٹ رہا تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا

یہ سمجھنا کہ چونکہ یہاں پر ایک غلام رجیم قابض ہے، لہذا اب دشمنوں کو پاکستان کی طرف سے کوئی فکر نہیں، مکمل طور پر غلط سوچ ہے

اس کی وجہ بتاتا چلوں۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے حکمران آتے جاتے رہتے ہیں پر یہاں کی عوام کی ایک مستقل سوچ ہے جو اسلام پسند ہے اور خود کو امت کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتی ہے

یہی سوچ پاکستان کے دشمنوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے

اس خطرے کو کاؤنٹر کرنے کے لیے، وہ ہمیشہ active رہتے ہیں اور یہاں حکومت اور طاقت کے مراکز کو کنٹرول میں رکھتے ہیں

لیکن،

وہ اس بات کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارا یہ کنٹرول کسی وقت بھی ختم ہوسکتا ہے۔ اسی لیے وہ یہاں نظام پر اپنی گرفت کسی حال میں کمزور نہیں ہونے دیتے اور اب تک اپنی اس کوشش میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں

لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان، آج بھی اور آئندہ آنے والے وقت میں ان کے لیے ایک مستقل تھریٹ رہے گا۔ وہ اسی لیے کچھ پکا بندوبست چاہتے ہیں اور ہر لیول پر، اس تھریٹ کو زائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے

عالمی قوتیں، ایران میں اس کا عملی مظاہرہ دیکھ چکی ہیں کہ جب وہاں امریکہ نواز حکومت تھی اور یکایک اس کا تختہ الٹ گیا اور وہاں امریکہ مخالف حکومت آگئی

لہذا یہ سمجھنے کی فاش غلطی کبھی نہیں کیجیے گا کہ چونکہ پاکستان کنٹرول ہوچکا ہے تو اب اسے کوئئ خطرہ نہیں

پاکستان اپنی نظریاتی اساس کی بنیاد پر، دشمنوں کے لیے ہمیشہ خطرہ رہے گا۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔۔۔۔۔!!!!
شہزاد حسین
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جو پالیسی سوچ کا فرق ہے (اور جو ان دونوں کے درمیان شدید مخاصمت کی وجہ بھی ہے)، اس کی ایک اہم جہت خارجہ پالیسی بھی ہے

اسٹیبلشمنٹ جو پاکستان پر اپنا کنٹرول ہمیشہ سے رکھتی آئی ہے، اس کنٹرول کی ایک اہم وجہ، خارجہ پالیسی کو سیاستدانوں کی بجائے، اپنے انڈر کنٹرول رکھنا بھی ہے

عمران خان جیسا influential لیڈر، اسٹیبلشمنٹ سے یہ اسپیس واپس لینا شروع ہوگیا تھا جو انھیں کسی صورت قبول نہیں

اسٹیبلشمنٹ کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے سوچ ہے کہ پاکستان، بھارت کو تو کسی نہ کسی طرح ہینڈل کرسکتا ہے، پر عالمی قوتوں خاص کر امریکہ کو ہینڈل کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔ لہذا امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم سے محفوظ رہنے اور ملک کی سالمیت کو بچانے واسطے، ہم امریکہ کے پالیسیوں کے سامنے کسی قسم کی رکاوٹ ہرگز نہ بنیں اور جیسے باقی مسلم دنیا خاص کر عرب ممالک امریکہ و اسرائیل کے ہمنوا ہیں، ہم بھی اسی رستے کو فالو کریں۔ اگر کچھ قدم اٹھانے بھی ہیں، تو رازداری سے اٹھائے جائیں اور ڈبل گیم کھیل لیا جائے لیکن کھل کر امریکی مخاصمت نہیں مول لینی۔

امریکہ کے صدر کو چاپلوسی کے زریعے اپنی مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلائے رکھیں تاکہ امریکہ جیسا جنگلی بھینسا، پاکستان کی طرف رخ کرنے سے گریز کرے اور یوں ملک کی سالمیت کو یقینی بنایا جاسکے

جبکہ،

عمران خان کی سوچ ہے کہ عالمی قوتیں جیسے امریکہ، جلد بدیر پاکستان کی طرف لازمی رخ کرے گا۔ پاکستان کا بطور مسلم ملک، علامی قوتوں سے ٹکراؤ یقینی ہے۔ یہ ہر صورت ہوگا۔ لہذا خوف کے مارے دبک بیٹھنے اور چاپلوسی سے "یس سر، یس سر" کہنے کی بجائے خود کو مضبوط کیا جائے اور اس مقابلے کے لیے تیاری کی جائے۔ اس حوالے سے مسلم دنیا کو بھی آن بورڈ لیا جائے اور اجتماعی قوت بڑھانے پر فوکس کیا جائے۔ او آئی سی جیسے پلیٹ فارمز کو حقیقی طور پر بحال کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں (یہی سوچ اور کوشش بھٹو کی بھی تھی).

جب سمندر میں سونامی آجائے تو زیادہ تر کشتیوں جہازوں کی کوشش ہوتی ہے کہ فوراً ساحل کی طرف بھاگ کر جان بچائی جائے

جبکہ کچھ مضبوط دل رکھنے والے جہازوں کے کپتان کوشش کرتے ہیں کہ سونامی کی لہروں کی طرف ہی جایا جائے اور کوشش کی جائے کہ اسے بروقت پار کرلیا جائے۔ اب ظاہری بات ہے کہ سونامی کی سمت میں سفر کرنا، اس خوفناک اٹھتے طوفان کی جانب جانے کے لیے پہاڑ جیسی ہمت چاہیے۔ یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اسی اپروچ اور سوچ کا فرق ہے!!!!

شہزاد حسین
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
جیز کمپنی نے کسٹمر لوٹنے کے نئے طریقے متعارف کروائے ہیں ۔ صارف پیکج لگاتا ہے۔ کٹوتی ہو جاتی ہے پیکج لگ جاتا ہے
پھر ایک دو دن بعد جیز پیکج ختم کرکے کہتا ہے ۔ یہ پیکج ختم کردیا گیا ہے۔
یہ بالکل ایسے کہ آپ دکان پر چیز لینے جاؤ وہ پیسے کاٹ لیں اور پھر آپ چیز لے کر دکان سے باہر نکلنے لگیں تو اپکو کہا جائے یہ چیز فروخت نہیں ہوگی۔ کم بختو پھر پیسے کس چیز کے کاٹے؟

یہ پکے کے ڈاکو بن چکے ہیں

#Jazz
#Pakky_K_Daku
‏اہم سوالات ؛
مراد سعید نے کتاب ہی کیوں لکھی ہے
مراد سعید گڑے مردے کیوں اکھاڑ رہا ہے
مراد سعید کی کتاب شائع کیسے ہوگئی
مراد سعید کی کتاب اسلام آباد میں بک کیسے رہی ہے
مراد سعید کتاب لکھ رہا ہے عوام کو موبلائز کیوں نہیں کررہا
مراد سعید نے موجودہ فوجی قیادت کو کیوں کچھ نہیں کہا
مجھے مراد سعید کی کتاب سے تشویش ہورہی ہے

سادہ جواب ؛
تشریف کے اندھے مراد سعید کی اسی ہفتے کی دو ٹویٹس کے اقتباسات پڑھ لیں کیڑے کو سکون حاصل ہوگا۔

“ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟”

“ جو ہو رہا ہے، جو بساط بچھائی گئی ہے صرف بیرون آقاؤں سے کی جانے والی کمٹمنٹس کے مطابق فرد واحد کی طاقت کو دوام دینے کے لیے ہو رہا ہے چاہے وہ غزہ ہو یا افغانستان۔ یہ نہ کل پاکستان کی لڑائی تھی، نہ یہ آج پاکستان کی لڑائی ہے”
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
1
‏پاکستان وہ طاقتور ایٹمی ملک ہے
جو اپنے میزائل کی رینج بھی پوچھے بغیر اس لئے نہیں بڑھا سکتا کہ کہیں اسرائیل نشانے پر نہ آ جائے
یہ بات کسی اور نے نہیں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بتائی تھی۔ اور ڈاکٹر صاحب کی بات کسی بھی چار پانچ ستاروں والے سے زیادہ مستند تھی ' ہے اور رہے گی

شفقت چوہدری
👍1
آج دنیا کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور ناں میں ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سے پوچھا: اگر ہم ڈالر دیں تو کیا آپ ہمارے لیے کام کریں گے؟ فیلڈ مارشل نے جواب دیا؛ ہاں۔ پھر ٹرمپ نے پوچھا: کیا آپ ہمارے خلاف جانے کی ہمت کریں گے؟ فیلڈ مارشل نے کہا؛ ناں۔اس طرح ہماری ہاں اور ناں میں دنیا کے فیصلے ہو رہے ہیں ۔

زید حامد
👏1
‏کیا آپ جانتے ہیں؟

بھارت روس سے سستا تیل خرید سکتا ہے لیکن پاکستانیوں کو مہنگا تیل خریدنا ہے۔

کیونکہ آپ کی فوج اللہ کی فوج ہے
سائفر کے آگے لیٹ جانے والی فوج ہے

اور آپ نے بچپن میں 23 مارچ کی پریڈ دیکھ رکھی ہے۔
پٹرول کی قیمت عالمی منڈی سے منسلک ہے
ٹھیک ہے
ہم مانتے ہیں
جنگی حالات ہیں
ہم مانتے ہیں
تو کیا لاکھوں روپے تنخواہ والے افسران اور اشرافئہ بھی کچھ قربانی دے سکتے ہیں کہ نہیں؟
پنجاب نے ابھی انّے وا سینئیر بیوروکریٹس کی گاڑیوں اور فیول میں اضافہ کیا
اس سے پہلے وفاقی حکومت نے ججوں کو اندھا دھند پٹرول دیا ہے۔
سارا بوجھ عام انسان ہی اٹھائے؟ اشرافیہ کوئی حصہ ڈالنے کو تیار نہیں؟
ابھی پنجاب حکومت کے نئے جہاز کے ماہانہ شاہانہ اخراجات کا سن کر بھی عوام میں شدید غصہ ہے ۔اشرافیہ کچھ تو مشکلات شئیر کرے ۔
انتہائی اعلیٰ درجے کے ذلیل انسان تھے وہ اشخاص جنہوں نے یہ قانون بنایا تھا کہ لاکھوں تنخواہ لینے والے کو پٹرول بجلی، گاڑی اور گھر سب فری ملے گا اور 30 ہزار تنخواہ لینے والا ہر چیز اپنی تنخواہ سے خریدے گا۔
‏امریکہ کی وینزویلا کے خلاف کاروائی اور تیل اپنے زیر کنٹرول لانے کے جنگی اقدام کی اب سمجھ آ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے کئی بڑے ممالک شدید متاثر ہونگے جن میں
چین کا درآمدی تیل کا بڑا حصہ خلیج سے آتا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے چین کو سب سے بڑا معاشی جھٹکا لگ سکتا ہے۔
بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً 80٪ تیل درآمد کرتا ہے۔اور زیادہ تیل خلیجی ممالک سے آتا ہے۔
جاپان پورا تیل باہر سے خریدتا ہے، خاص طور پر خلیج سے
پاکستان اور جنوبی کوریا کا انحصار بھی بڑی حد تک خلیجی تیل پر ہے۔
چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے بڑے صنعتی ممالک کو زیادہ معاشی نقصان اس لئے ہو گا کہ ان کی صنعتیں بہت زیادہ تیل استعمال کرتی ہیں
شفقت چوہدری
2👍1
جیسے بازاروں میں رش بڑھتے ہی جیب کتروں کی موج لگ جاتی ہے اور وہ رش کا فایدہ اٹھاتے ہوئے آسانی سے لوگوں کی جیبیں کُتر لیتے ہیں، ویسے ہی موجودہ مشترکہ ٹولہ مسائل کے رش کو لوگوں کی جیبیں کترنے کیلیے استعمال کرتا ہے۔ پٹرول ڈیزل مٹی کے تیل میں دو سو روپے اضافہ جیب کترنے کی مہارت ہے

عبید بھٹی
‏آجکل افغانستان کے حوالے سے جو کردار خواجہ آصف کو دیا گیا ہے، کچھ اسی طرح کا کردار کبھی شیخ رشید کو بھارت کے خلاف دیا گیا تھا۔ فرق یہ تھا کہ شیخ رشید کا بیانیہ یا تنقید زیادہ تر بھارتی حکومت یا فوج کے خلاف ہوتی تھی، جو کسی بھی ملک کے درمیان ایک سیاسی معاملہ سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر ‏خواجہ آصف کے بیانات میں اکثر عام افغان مزدوروں، محنت کشوں اور عوام کے خلاف نفرت، لسانیت، غرور و تکبر اور سخت لہجہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ رویہ افسوسناک ہے، کیونکہ یہ شور و غوغا دہشت گردی یا افغان حکومت کے خلاف انتہائی کم اور افغان مہاجرین کے خلاف انتہائی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
👍2
‏گستاخی معاف

اگر کسی چھوٹے گاؤں سے بڑی سڑک گزر جائے تو وہاں پر صدیوں سے آباد تھوڑے سے کتوں کی سوچ ، اپروچ ، آبادی ، معیشت اور سیاست پر بہت زیادہ فرق پڑ جاتا ہے۔ جب سڑک گزرتی ہے تو ساتھ ایک کریانہ ایک نائی کی دوکان اور ایک چائے کا کھوکھا لاتی ہے۔ چائے کے کھوکھے کیساتھ ایک قصائی پھٹا لگا لیتا ہے جس پر سرخ کلغی والی سفید برائلر مرغیاں بکنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ساتھ پڑے ایک نیلے سے ڈرم میں انتڑیوں اور مرغیوں کی کھالوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

یہاں سے کتیک معیشت ، معاشرت اور بہبود پر بوم آنا شروع ہوجاتا ہے۔ مہینوں مردار کا انتظار کرکے مردہ ڈنگروں کا گوشت کھانے والے مریل مریل سے کتے یکایک پنجوں اور انتڑیوں کی گرمائش کی تاب نا لاتے ہوئے افزائش کتیکاں میں بہت زیادہ اضافہ کربیٹھتے ہیں۔ پورے علاقے میں چند کتوں کی جگہ اب دھڑا دھڑ کتے ہی کتے نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ پیدائش و افزائش اس قدر سرعت سے ہوتی ہے کہ معاشرہ “ کتی سوئی “ جیسے محاورے ایجاد کربیٹھتا ہے۔

قرب و جوار سے مختلف نسل کے مارشل ریس کتے بھی وہاں پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں۔ آس پاس کے دیہات کے لوگڑ نومولود کتورے شاپروں میں ڈال کر سڑک کے قریب چھوڑے جانے لگتے ہیں۔ لوگڑ کتوں کی نسل میں انکی آمیزش کتیک سماج کو دو آتشہ کردیتی ہے۔ کتیک سماج آبادیوں سے دور دراز مردہ ڈنگروں کی ہڈیاں چھوڑ کر معاشی ہب میں آبیٹھتا ہے۔ اب یہاں سے حالات کی ستم ظریفی شروع ہوتی ہے۔

یہ بیچارے کیونکہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور نئے نئے شہر میں آئے ہوتے ہیں تو عجیب و غریب حرکتیں کرنا شروع کردیتے ہیں۔ پردے میں سرانجام دیے جانے والے امور بیچ سڑک شروع کردیتے ہیں۔ رات کو پھٹے کے اوپر چڑھ کر سونے کی کوشش کرتے ہیں۔ نوجوان کتے ، چڑھتی جوانیوں والی کتیوں کو اپنا فلیکس دکھانے کے چکر میں ہر آتے جاتے موٹر سائیکل ، رکشے اور گاڑی کے پیچھے دوووووور تک بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔

کیونکہ سڑک نئی نئی گزری ہوتی ہے تو انہیں تہذیب اور تمدن کے راز ابھی معلوم نہیں ہوتے کہ ان کا کام چھیچھڑے کھانا ، مزید کتے پیدا کرنا اور آرام کرنا ہوتا ہے۔ نئی جگہ ، معاشی ترقی ، چڑھتی جوانی ، انتڑیوں کی گرمائش اور وغیرہ وغیرہ کے زیر اثر وہ ہر گاڑی ، ہر موٹرسائیکل کے ساتھ بھاگنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جیسے جیسے کتے سمجھدار ہوتے جاتے ہیں ، معاشی سائیکل تھوڑا سٹیبل ہوتا ہے اور انہیں نئے ماحول کی سمجھ آنا شروع ہوتی ہے تو وہ جان جاتے ہیں کہ دن کو ایک عدد چاؤں اور رات کو بلا تعطل بھونکنا انکی ذمہ داری ہے۔ ہر جاتی آتی گاڑی کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ ہر گز ہر گز اچھے نہیں لگتے۔ ایسا کرنے سے کتیاں بھی متاثر نہیں ہوتیں اور انکے کسی ٹرک کے نیچے آنے کے امکانات بھی بہت بڑھ جاتے ہیں۔

بہرحال جیسے جیسے فوج ایران کے خلاف محاذ کھولنے یا نہ کھولنے کے قریب جائے گی اور یہ جنگ طویل ہوتی جائیگی ویسے ویسے عمران خان کی رہائی ، ضمانت کی درخواستوں ، ممکنہ ڈیل اور وغیرہ وغیرہ کی شدت میں اضافہ ہوتا جائے گا تاکہ آپ انکے پھٹے ہوئے گریبان نا دیکھیں بالکل ادھر ادھر بھٹکتے اور بہکتے رہیں ۔ عاصم منیر یا فوج کبھی بھی ان حالات میں عمران خان کو رہا کرکے اپنے لیے مسائل میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے۔ عمران خان کی جیل میں رکھنے کی قیمت ملکی معیشت تباہ کرکے ، ٹرمپ کا ہر حکم مان کر اور غیر ضروری جنگوں میں الجھ کر چکائی جارہی ہے اور یہ لوگ اس سے بھی بڑی قیمت چکا لیں گے لیکن عمران خان کو رہا نہیں کریں گے کیونکہ عمران خان کی رہائی اس سسٹم کی موت ہے۔

عمران خان کا موقف سب کے علم میں ہے۔ وہ کسی مشروط رہائی پر آمادہ نہیں ہوگا۔ یہ آفر دے دی۔ یہ پیغام پہنچا دیا گیا یہ پیش رفت ہوگئی سب دھوکہ ہے اور فضول باتیں ہیں ۔ آخری دفعہ پاک بھارت جھڑپوں سے عین پہلے انہی عدالتوں میب علی امین گنڈاپور سے عمران خان کی پیرول پر رہائی کی درخواست ڈلوا دی گئی۔ اب ایک بار پھر فوج مشکل میں آئی ہے تو آپ کو روزانہ عدالتوں کے باہر کھڑا کیا جارہا ہے۔ جیت کے لیے مخالف فریق کو شکست دینا لازمی ہوتا ہے۔ مفاہمت سے جیت نہیں اقتدار ملتا ہے اور عمران خان اقتدار کے لیے نہیں لڑرہا۔ ہر گاڑی ، موٹرسائیکل اور ٹرک کے پیچھے بھاگنے سے گریز کریں۔ شکریہ۔
🥴2
اگر ہمیں اپنے محلے کی جنگوں میں بھی ڈالر نہیں ملنے تو پھر کب ملنے ہیں؟

سیکیورٹی ذرائع جنگ ختم ہونے کی خبریں سن کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
😁4
‏کراچی سے لوٹا ہوں اور دیکھ آیا ہوں کہ جمہوریت بہترین انتقام کیسے لیتی ہے.

آپ یقین کریں لاہور اسلام آباد تو دور کی بات ہے اس سے تو ہمارے سرگودھا کا انفراسٹرکچر بہتر حالت میں ہے.

کراچی پہنچتے ہی، صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے برادرم سبوخ سید کے ساتھ ساحل پر گیا. چونکہ سمندر پر سورج طلوع ہوتا دیکھنا تھا نزدیک ترین سپاٹ پر پہنچے. ساحل گندگی اور غلاظت سے بھرا پڑا تھا. متلی ہونے لگی.

واپس ہوئے تو خیال آیا عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی جائے. مزار تو ابھی بند تھا لیکن اس کے اطراف میں دیوار کے ساتھ ساتھ گندگی اور غلاظت کے نشانات دیکھ کر دل لہو گیا. آگے پل کی طرف گئے تو پل کے نیچے ایک صاحب باقاعدہ شلوار اتار کر فٹ پاتھ پر رفع حاجت کر رہے تھے.

پیپلز پارٹی سے پوچھا جانا چاہیے کیا گڑھی خدا بخش کے مزاروں کے اطراف میں بھی ایسی ہی بد انتظامی ہے؟

جب جب موبائل فون نکالا ، کسی نے تنبیہہ کر دی کہ جیب میں ڈالو کوئی چھین لے گا. یاد رہے کہ ہر بار تنبہہہ کرنے والا کوئی مقامی ہی تھا. یعنی یہ تنبیہہ مشاہدے کی بنیاد پر کی جا رہی تھی نہ کہ بدگمانی کی بنیاد پر.

حالت یہ تھی کہ صبح سویرے ساحل کے لیے نکلے تو گارڈ کہنے لگا میری مانیں تو نہ جائیں، یہ وقت خطرناک ہو سکتا ہے. گارڈ بھی وہیں کا تھا.

رات کے آخری پہر برادرم فیض اللہ خان 1952 کےبنے ایک قدیم اور معروف ہوٹل پر ہمیں کباب کھلانے لے گئے تو راستے میں وہ سڑک پڑی جسے یونیورسٹی روڈ کہتے ہیں اور جو کئی سالوں سے اسی طرح کھدی پڑی ہے اور مکمل ہونے میں نہیں آ رہی. جانے کتنے پیسے کس کس نے کھا لیے ہوں یا شاید نہ کھائے ہوں اور پوری ایمانداری سے جمہوریت اپنے شہریوں سے انتقام لینے پر تلی پڑی ہو.

میں نے سڑک کا حال دیکھ کر فیض اللہ خان صاحب سے پوچھا کیا پیپلز پارٹی پر اس سڑک کی وجہ سے عوامی دباؤ نہیں آتا؟ انہوں نے جو، جواب دیا وہ ان کے کھلائے گئے لذیذ کبابوں اور سبوخ سید صاحب کی پرلطف رفاقت سے بھی زیادہ مزیدار تھا.

زندہ بھٹو کے مزاج خراب ہوں یا شمال مغرب کے انقلابیوں کی طبیعت بوجھل ہو جائے ، سچ یہ ہے کہ ترقیاتی کاموں اور انتظامی مہارت میں ن لیگ ان سے آگے ہے،. بہت آگے.

کراچی والوں سے واقعی ہمدردی ہو رہی ہے. کوئی شہر اس سلوک کا مستحق نہیں جو کراچی کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے. کراچی سسک رہا ہے. کراچی واقعی سسک رہا ہے.

جو لوگ کراچی میں نہیں رہ رہے وہ شکر کریں اور کراچی والوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ انہیں اس اذیت سے نجات دلا دے.

آصف محمود
👍2
‏مریم والے جیٹ کا فلائٹ ریکارڈر کچھ عجیب سا ہے ۔02 مارچ 2026 کو اس کی فلائٹ لاہور سے لاہور ریکارڈ ہے جو صبح 8:57 پر اڑی اور دن 12:11 پر واپس لینڈ کیا فلائٹ کا یہ دورانیہ 3 گھنٹے 14 منٹ ہے۔
بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دوران یہ صرف لاہور کے اردگرد اڑتا رہا اور واپس لینڈ کر گیا
مگر اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس دوران اس نے کسی ملٹری ایئر بیس پر لینڈ کیا جو ریکارڈ میں ظاہر نہیں ہوتا ۔
پھر 8 مارچ کو یہ لاہور سے نان سٹاپ ویانا کیلئے اڑا جس فلائٹ کا دورانیہ قریبا 7 گھنٹے تھا ۔ تب سے یہ ویانا ائیرپورٹ پر چارٹرڈ ہینگر میں کھڑا ہے جس کا پارکنگ بل ہر چار گھنٹے بعد چارج ہوتا ہے اسکا مطلب ہے اب تک صرف پارکنگ چارج 30000 یورو یعنی ایک کروڑ روپے لگ چکا ہے
سوال یہ ہے کہ اس جہاز پر گیا کون ہے ؟

اور ۔۔۔۔

‏گلف سٹریم G 500 اگر ایئر پنجاب کیلئے خریدا گیا تو اس کا ابھی تک رجسٹرڈ مالک: TVPX Aircraft Solutions Inc. کیوں ہے
یہ trustee سسٹم اس لئے استعمال ہوتا ہے تاکہ اصل مالک پبلک ریکارڈ میں ظاہر نہ ہو۔
اس کا مطلب ہے کہ بالآخر یہ پتہ چلے گا کہ اس کی ملکیت پنجاب حکومت نہیں شریفوں میں سے کوئی ہے

شفقت چوہدری
2👍2