Pakistan Times International
352 subscribers
66 photos
14 videos
50 links
Download Telegram
اگر واقعی بند کردی گئی ہے تو یہ حکومت کا بہت اچھا فیصلہ ہے (40 ارب ضائع کردینا اگرچہ افسوسناک ہے).

پاکستان نے اس فائر وال کا زبردست نقصان اٹھایا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔ اس وقت دنیا 6G کی پلاننگ کررہی ہے جبکہ 5G نارمل استعمال میں ہے جبکہ ہم 2026 میں بھی ڈھنگ سے ویڈیو کال نہیں کرسکتے۔ ڈیٹا پر کسی کو کال کرو تو "ہیلو، آواز آرہی ہے؟" کرتے رہ جاتے ہیں۔

پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں زبردست پوٹینشل ہے۔ یہ تن تنہا پاکستان کے معاشی مسائل، خاص کر فارن ایکسچینج کی کمی کا مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کاش کے یہاں ٹیلنٹڈ نوجوانوں کو facilitate کیا جاتا۔ الٹا انھیں دشمن ڈکلیئر کرکے، ان پر انٹرنیٹ کی بندشیں تھوپ دی گئیں جس سے ملک کو کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا الٹا اربوں کا نقصان ہوگیا

ہم 2026 میں بھی بیوقوفیاں کرنے اور پھر ناکام تجربے کے بعد انھیں ریورس کرنے کی اپروچ پر چل رہے ہیں۔

تیز تر انٹرنیٹ صرف آئی ٹی سروسز کے لیے ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا content creation کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اکثریت کو اندازہ ہی نہیں کہ ویڈیو کانٹینٹ کس لیول کا پوٹینشل رکھتا ہے۔ یہ صرف آپ کی نہیں بلکہ آپ کے پورے گھر کی قسمت تبدیل کرسکتا ہے۔ ملک کے لیے انتہائی قیمتی زرمبادلہ کما سکتا ہے (اور کما رہا ہے)۔

اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لے اور اپنے پیروں پر کلہاڑی نہ مارے۔ انٹرنیٹ کے بغیر آپ جدید دنیا میں سروائیو نہیں کرسکتے

پاکستان جیسے قرضوں کے خوفناک دلدل میں ڈوبے ملک کو تو سب چھوڑ کر، انٹرنیٹ کی بہترین سروسز مہیا کرنے پر فوکس کرنا چاہیے

آپ نے جس نوجوان کو فتنہ فساد ڈکلیئر کر رکھا ہے، صرف وہی آپ کو اس قرضوں کی دلدل سے باہر نکالنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اسے facilitate کیجیے، اس کی قوت بنیں۔ اسے دشمن نہ بنائیں یا دشمن نہ سمجھیں!!!!
.
شہزاد حسین
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
گزشتہ روز PRA نے موبائل ٹیرف اور غیر مجاز کٹوتیوں کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ہماس بات کو appreciate کرتے ہیں کہ کم از کم ادارہ نے ردعمل دیا ،یہ ایک مثبت قدم ہے۔

لیکن چند نہایت سنجیدہ سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے۔

موبائل نیٹ ورکس کمپنیوں کے خلاف ہماری مہم تقریبادس دن چل رہی ہے اور ہم بار بار پی ٹی اے کو متوجہ کررہے تھے یقینا آج کا اسٹیٹمنٹ اچانک جاری نہیں ہوا ہوگا۔
ظاہر ہے اس سے پہلے مختلف موبائل کمپنیوں جیز، زونگ، ٹیلی نار، یو فون وغیرہ کے ساتھ میٹنگز اور مشاورت ہوئی ہوگی۔ انہی بات چیت کے بعد یہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہوگا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ
آج اسی دن جب یہ اسٹیٹمنٹ جاری ہو رہا ہے، مجھے اب بھی درجنوں میسیجز موصول ہو رہے ہیں کہ لوگوں کے نمبرز پر نئی سروسز ایکٹیو ہوئیں اور کٹوتی ہوئی۔

اگر جس دن ریگولیٹر بیان جاری کر رہا ہے، اسی دن نیٹ ورکس اس کی روح پر عمل نہیں کر رہے تو آگے کیا ہوگا؟

کیا یہ ریگولیٹری رِٹ کی کمزوری نہیں؟

ہم ایک دس دن سے یہ مہم چلا رہے ہیں اور پورے پاکستان سے سینکڑوں اسکرین شاٹس موصول ہو چکے ہیں۔
روزانہ 5، 10، 25، 50 روپے کی کٹوتیاں — بغیر واضح اجازت کے۔

اب یہاں پہ PTA سے سوالات یہ ہیں:

• پچھلے ایک سال میں کتنی ویلیو ایڈڈ سروسز بغیر رضامندی کے ایکٹیویٹ ہوئیں؟
• کیا ان کا فرانزک آڈٹ ہوگا؟
• کیا صارفین کو خودکار ریفنڈ دیا جائے گا؟
• کیا ذمہ دار کمپنیوں پر جرمانہ ہوگا یا صرف ہدایات جاری ہوں گی؟
• تھرڈ پارٹی وی اے ایس نیٹ ورک کو بند کرنے کے لیے کیا عملی میکانزم ہے؟
• کیا کوئی ڈیڈ لائن دی گئی ہے یا سب کچھ “ہدایت جاری کر دی گئی” تک محدود رہے گا؟

آپ ریگولیٹری اتھارٹی ہیں۔
آپ کا قیام ہی صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہوا ہے۔
اگر صارفین رل رہے ہوں، ان کی جیب سے روزانہ کٹوتیاں ہو رہی ہوں اور وہ بے بس ہوں — تو پھر ریگولیٹری نظام کہاں کھڑا ہے؟

ہم شفافیت چاہتے ہیں۔
ہم سخت اور قابلِ نفاذ اقدامات چاہتے ہیں۔
ہم ماضی کی کٹوتیوں کا حساب چاہتے ہیں۔

لولی لنگڑی وضاحتوں اور لالی پاپ بیانات سے کام نہیں چلے گا۔
عملی اقدامات، انکوائری، آڈٹ، جرمانے اور ریفنڈ یہی اعتماد بحال کریں گے۔
یہ مہم جاری رہے گی ان شاءاللہ

عمار خان یاسر
https://x.com/i/status/2025711815431454730
فوج میں ترقیاں ایک طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوتی رہتی ہیں، لیکن کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ فیلڈ مارشل صاحب کئی لیفٹیننٹ جنرل صاحبان کو ریٹائر نہیں کر پا رہے اور پہلے سے منتظر کئی میجر جنرلز ابھی تک سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔ کیا اعتماد میں کمی اس کی اہم وجہ ہے یا کچھ اور بات ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ27ویں آئینی ترمیم کے بعد فیلڈ مارشل کو نئے تجویز کردہ عہدوں پر افسران فائز کرنے کے لیے جلد اقدامات کرنا پڑیں گے اور ان کے نتیجے میں موصوف کا کئی جگہوں پر اپنا ذاتی کنٹرول یقینی طور پر ختم ہو جائے گا، اور اس تشویش میں مبتلا مستری صاحب اب تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکے۔ آخر کب تک ایسے فیصلے موخر کر سکیں گے؟

عادل راجہ
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
‏آپ نے اس غزہ بورڈ کو تسلیم کیا ہے جس کو سیکورٹی کونسل کے چار مستقل اراکین جن میں برطانیہ، فرانس، روس اور چین نے تسلیم نہیں کیا، یورپ تو اس میں بیٹھا ہی نہیں ہے، آپ بیٹھ گئے ہیں، اگر کل کو یہ بورڈ آف پیس کشمیر سے متعلق فیصلہ کردے تو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا، ہندوستان کو دے دے دیا آزاد حیثیت ڈکلئیرڈ کردے تو آپ کو تھالی میں رکھ کر دینا پڑے گا

سیئنر اینکر پرسن افتخار شیرازی
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
سیاست اور پکڑے جانے والے فوجیوں سے کوئی تعلق نہیں
😁1
وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا :

"پنجاب پہلا صوبہ ہے جس نے اپنے strategic wheat reserves کیلئے پہلی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مشتمل ایک پالیسی دی۔ جس کے تحت اس سال پنجاب کے کسانوں سے تیس لاکھ میٹرک ٹن گندم 3500 روپے فی من کے حساب سے خریدی جائیگی ۔۔ مجھے یہ بتا کر خوشی ہو رہی ہے کہ الحمدُللّٰہ آج 35 ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کمپنیوں نے اس میں prequalify کیا ہے ۔"

صحافی مسعود چوہدری مریم نواز کے دعوے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

‏قوم کو بے وقوف سمجھنے والوں کو خبر ہو کہ یہ جن پری کوالیفائ کرنے والی کمپنیوں کا ذکر ہو رہا ہے یہ وہی ہیں جنہوں نے کسان سے سستے ترین داموں پر گندم خریدی اور حکومت ہمارے کسان دوستوں کی مسلسل ریکویسٹ کے باوجود کہتی رہی کہ اوپن مارکیٹ ہے، حکومت گندم کیوں خریدے؟

ہم بتاتے رہے کہ فرنٹ مین سستے داموں گندم خرید رہے ہیں، کسان کو بلیک میل کر رہے ہیں، اور بعد میں حکومت کو ہی گندم بیچیں گے۔جواب میں کہا جاتا رہا کہ اب حکومت پنجاب کسی سے گندم نہیں خریدے گی۔ اب پنجاب حکومت مافیا کیجانب سے کی گئ خریداری کو ہی اپنی کامیابی بنا کر پیش کر رہی ہے۔ الفاظ خواہ کچھ بھی استعمال کر لیں، دراصل یہ استحصال اور ظلم کیا گیا ہے!

بیچارے کسان سے 2000 روپے من پر گندم نہیں خریدی گئ، درمیان دار مافیا سے 3500 روپے من خریداری کر لی!

کس کس نے کتنے کتنے ارب کمائے؟ 🤨

سٹریٹجک ویٹ ریزرو 😔
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
‏موجودہ رجیم کی پالیسیاں۔

فتنہ الہندوستان کی وجہ سے افغانستان کے ساتھ تجارت مکمل بند کر دی کہ وہاں سے دہشت گرد پاکستان پر حملے کرتے ہیں انکے پیچھے ہندوستان ہے۔
جبکہ ہندوستان کے ساتھ تجارت جاری ہے۔ ہندوستان کو ایکسپورٹس آٹے میں نمک برابر اور امپورٹس نمک میں آٹے برابر ۔۔ یعنی تجارتی خسارہ۔
افغانستان کو ایکسپورٹ نمک میں آٹے برابر اور امپورٹس آٹے میں نمک برابر تھیں یعنی تجارتی سرپلس کے باوجود افغانستان سے تجارت بند۔

افغانستان سے تجارت بند کرنے کی وجہ سے تجارتی خسارہ مزید بڑھ گیا کیونکہ پاکستان افغانستان کو ایکسپورٹس بہت زیادہ کرتا تھا جبکہ امپورٹس بہت کم تھیں۔ پاکستان کے دو صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کروڑوں عوام کی معیشت کا بڑا دارومدار افغانستان سے تجارت پر ہے۔

ڈان کی خبر

پاکستان کی 9 ممالک، افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کو ہونے والی برآمدات کی مالیت مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ (7MFY26) میں 16.86 فیصد کمی کے ساتھ 2.307 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 2.775 ارب ڈالر تھی۔
مالی سال 2025 میں ان نو ممالک کو ہونے والی برآمدات میں 1.49 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جو جولائی سے جون تک بڑھ کر 4.401 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ اس سے پچھلے سال اسی عرصے میں یہ 4.336 ارب ڈالر تھیں۔
اس کے برعکس، درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 23.69 فیصد بڑھ کر 11.31 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 9.14 ارب ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 میں بھی درآمدات 20.66 فیصد اضافے کے ساتھ 16.698 ارب ڈالر رہیں جو اس سے پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں 13.838 ارب ڈالر تھیں۔
مزید تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ چین سے ہونے والی درآمدات مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 24.58 فیصد اضافے کے ساتھ 11.097 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 8.907 ارب ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 میں چین سے درآمدات 16.312 ارب ڈالر رہیں، جو ایک سال پہلے کے 13.504 ارب ڈالر کے مقابلے میں 20.79 فیصد زیادہ تھیں۔ اس خطے میں درآمدات کا بڑا حصہ چین سے آتا ہے، جس کے بعد جزوی طور پر بھارت اور بنگلہ دیش کا نمبر ہے۔
چین کو پاکستان کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے جو مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 1.02 فیصد گر کر 1.467 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 1.482 ارب ڈالر تھیں۔

*بھارت سے ہونے والی درآمدات مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 9.44 فیصد کم ہو کر 122.56 ملین ڈالر رہ گئیں، جو پہلے 135.35 ملین ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 میں نئی دہلی سے درآمدات بڑھ کر 220.58 ملین ڈالر ہو گئی تھیں جو اس سے پچھلے سال 206.89 ملین ڈالر تھیں۔ اس دوران برآمدات 2.926 ملین ڈالر رہیں، جن میں 0.404 ملین ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا۔*

*افغانستان کو ہونے والی برآمدات میں بڑی کمی دیکھی گئی، جو مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 59.07 فیصد گر کر 228.96 ملین ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 559.52 ملین ڈالر تھیں۔ اسی طرح درآمدات بھی 58.18 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 6.36 ملین ڈالر رہیں، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 15.21 ملین ڈالر تھیں۔*

https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
Pakistan Times International
Photo
جب آپ کی آبزرویشن تیز ہو تو آپ کو کئی ایسے patterns نظر آنے لگتے ہیں جو عام لوگوں کی نظروں سے عمومی طور پر اوجھل رہتے ہیں۔ اس کی ایک دلچسپ مثال "پینٹاگون پیزا انڈیکس" یا PPI ہے

معاملہ کچھ یوں ہے کہ کہا جاتا ہے کہ اگر امریکی اسٹریٹجک عمارات جیسے پینٹاگون وغیرہ کے اطراف میں موجود فاسٹ فوڈز خاص کر پیزا کے حوالے سے، رات میں کیے جانے والے آرڈرز میں یکدم تیزی آجائے تو اس کا مطلب ہے کہ پینٹاگون میں موجود عملہ، اوور ٹائم لگا رہا ہے (جبھی پیزا کے آرڈرز میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے)

اور اس عملے کا اوور ٹائم لگانے کا مطلب ہے کہ پینٹاگون میں، امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے کسی اگلے ملٹری ایکشن پر زور و شور سے کام ہورہا ہے۔

آسان الفاظ میں، یہ تھیوری یہ کہتی ہے کہ جب امریکہ کسی ملٹری ایکشن پر کام کررہا ہوتا ہے تو پینٹاگون میں افسران اور عملے کو لمبے ورکنگ آورز تک کام کرنا پڑتا ہے۔ جب وہ رات گئے دیر تک رکتے ہیں تو لیٹ نائٹ snacking کے لیے پیزا آرڈر کرتے ہیں

اسی لیے یہ پینٹاگون پیزا انڈیکس نامی اصطلاح وجود میں آئی ہے

آج کل کی اطلاعات کے مطابق، اس انڈیکس میں پھر سے بھاری اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو اس بات کا سگنل ہے کہ امریکہ پھر کسی بڑے ملٹری ایکشن کی تیاری کررہا ہے جو کہ ظاہر ہے، ایران پر کاروائی کے حوالے سے ہے

سمجھانے کا مقصد ہے کہ شارپ آبزرویشن ہو، تو بہت سے کارآمد پیٹرنز، آپ کو مستقبل قریب میں جھانکنے اور اسی مطابق فیصلہ لینے کی زبردست صلاحیت فراہم کرسکتے ہیں

اس صلاحیت کو آپ بھی ڈیویلپ کرسکیں تو اپنی فیلڈ میں ہم عصروں سے کافی آگے جاسکتے ہیں۔

بڑے انویسٹرز اس صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ وہ وقت سے پہلے جان لیتے ہیں کہ اب مارکیٹ میں کیا ہونے والا ہے۔ وہ اسی حساب سے مارکیٹ میں داخل ہوتے یا پہلے ہی ایگزٹ کرجاتے ہیں!!!

نوٹ: پوسٹ کا موضوع تیز آبزرویشن اور pattern recognition کی صلاحیت کی اہمیت ہے۔ ایران، امریکہ جنگ یا اسرائیل نہیں

شہزاد حسین
‏پاکستان کسٹمز کی مختلف کلکٹریٹس میں ضبط شدہ اربوں روپے مالیت کا سونا اور چاندی اسٹیٹ بینک میں جمع نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کسٹمز کی تمام انفورسمنٹ بشمول ایئر پورٹ کلکٹریٹس کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ ضبط شدہ سونا اور چاندی کے مکمل ڈیٹا اسٹیٹ بینک کے حوالے کریں۔جیو نیوز کے مطابق برسوں سے ضبط شدہ سونا اور چاندی کلکٹریٹس کی لاکرز میں پڑا ہوا ہے اور اسٹیٹ بینک میں جمع نہ ہونے کے باعث یہ قومی خزانے میں ظاہر نہیں ہو رہا۔مزید اطلاعات کے مطابق کسٹمز کلکٹریٹس کی مبینہ نااہلی کی وجہ سے ضبط شدہ سونے اور چاندی کی لاکرز میں تبدیلی یا چوری ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

#PakistanCustoms#StateBankOfPakistan
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
1
اگر آپکا ایکس اکاؤنٹ ہے تو یہاں ووٹ کریں اور عاصم منیر کو اسکی اوقات دکھائیں۔
https://x.com/i/status/2026353127646179660
😁3
‏ہنر مند پاکستانیوں لیے ساڑھے دس ہزار اٹالین ورک ویزہ اعلان ساتھ ہی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کڑا امتحان شروع۔۔۔۔۔۔

کیا وہ چٹھہ بختاور میں موجود انسانی گدھ نما ایجنٹس و ڈپلو میٹک انکلیو میں موجود کرپٹ ملازمین مابین “اپواہنٹمنٹس لنڈا بازار” ختم کر پاہیں گے؟

اس سے قبل اٹلی 2025 میں ایک خوفناک قسم کا فیک ورک ویزہ سکینڈل پکڑا جاچکا ہے جس میں درجنوں پاکستانیوں کو دھوکہ دیا گیا اور مجبورا اٹالین حکومت کو یہ سب ورک پرمٹس منسوخ کرنے پڑے

اس وقت بطور صحافی (کرائم رپورٹر) میرے زہن میں ایک بڑا سوال اُٹھ رہا کہ کیا وزیر داخلہ محسن نقوی اٹلی کی جانب سے ہنر مند پاکستانیوں لیے ساڑھے دس ہزار ویزوں کے اجراء کے پراسسس کو اٹلی و پاکستان میں موجود ایجنٹ مافیاز (انسانی سمگلرز) سے بچا پائیں گے ؟

میں یہ سوال اس لیے کر رہا کہ بہت سے پاکستانی شہریوں کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ جب آپ کو یورپ کے کسی ملک میں ورک ویزہ جاری ہوتا ہے تو میرے ناقص علم مطابق وہاں کی منسٹری آف ورک اس ورک پرمنٹ کی فیس 170 یوروز چارج کرتی جو پاکستانی کرنسی میں 56100 روپے بنتے ہیں

اور یہ ورک پرمٹ یورپ کا ہر ملک کمپنی کو اس کی ماہانہ آمدن اور اس ملک کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کو جمع کروائے گئے فی کس ورکز ٹیکس کا جائزہ لے کر جاری کیا جاتا
مگر کیا کیا جائے دولت کے پجاریوں و ہوس کے مارے پاکستانی ایجینٹس و مافیاز کا جو اس 170 یوروز کے عوض جاری ہونے والے ورک پرمٹ کو Sicily اٹلی ودیگر مقامات پر موجود ایجنٹ مافیاز کے ہاتھوں 6000 سے 7000 یوروز میں فی پرمٹ سیل کرتے ہیں اور پھر یہ ورک پرمٹ پاکستان پہنچ کر 15000 سے 20000 یوروز یا اگر داؤ لگ جائے تو 22 سے 25000 یوروز تک بکتا ہے یعنی پاکستان سے کسی بھی ہنر مند یا عام شہری کو اٹلی جانے لیے 66 لاکھ روپے سے لے کر 82 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرنے ہوتے اور وہ تب جاکر اٹلی پہنچ پاتا اور permesso di soggiorno (residence permit) مل پاتا

لیکن 2025 میں اٹالین گورنمنٹ و خفیہ ادارے اس وقت سکتہ میں آ گئے جب انکو پاکستانی انسانی سمگلرز/ایجنٹ مافیاز کی ملکی بھگت سے حاصل کیے گئے سینکڑوں ورک پرمٹس بارے اطلاع ملی

ہوا کچھ یوں کہ اٹالین بزنس مینز و دیگر لینڈ لارڈز/کمپنیز پاس پاکستانی ملازمین نے ان کے علم میں لائے بغیر جعلی طریقے سے کمپنیز کے کاغذات تیار کروا کر منسٹری آف لیبر اینڈ سوشل پالیسیز سے سینکڑوں کی تعداد میں ورک پرمٹس جاری کروائے اور یہ ورک پرمٹ اٹلی میں موجود مافیاز کے ہاتھوں بکتے ہوئے پاکستان پہنچے اور پھر یہاں سے سینکڑوں افراد اٹلی پہنچ گئے بھاری بھرکم رقوم میں یہ ورک پرمٹس خرید کر اور جب وہاں پہنچ گئے تو ورک پرمٹس میں درج کمپنیز نے انہیں کنٹریکٹس دینے سے انکار کر دیا تو بات کھل گئی اور اٹالین حکومت کو یہ ورک پرمٹس منسوخ کرنا پڑے

اور ان سب چیزوں سے بھی بڑی اور خوفناک چیز یعنی بدروح جس نے اسلام آباد میں ڈپلو میٹک انکلیو میں موجود اٹالین ایمبیسی پر اپنا کالا سیاہ بدبودار سایہ کر رکھا وہ ہے اٹلی سے جاری ان ورک پرمٹس کو پاکستان میں ساری ریکوائرمنٹس پوری کرکے اٹالین ایمبیسی اسلام آباد میں جمع کروانے لیے اپوائنٹمنٹ لینا جوکہ آج کی تاریخ میں ناممکن ہوچکا

اسلام آباد کے بدنام زمانہ علاقہ چھٹہ بختاور میں انسانوں کے روپ میں موجود گدھ خون خوار بھیڑیے یعنی ایجنٹس و ویزہ کنسلٹنٹس اور اٹالین ایمبیسی اسلام آباد اندر ملازمین کا گٹھ جوڑ بھی وزیر داخلہ محسن نقوی لیے بڑا چیلینج ثابت ہوگا کیونکہ یہ مافیاز ایک ورک پرمٹ کی اپوائنٹمنٹ لیے پانچ سے نو لاکھ روپے چارج کر رہے ہیں جس کا آج تک کوئی خفیہ ادارہ، منسٹری آف فارن افیئرز، منسٹری آف انٹیرئیر و ایف آئی اے توڑ نہ کرسکی کہ سب “کھنڈ کھاؤ تے ونڈ کھاؤ” کے فارمولا پر عمل پیرا ہیں

تو ایسے میں میں سمجھتا کہ پاکستان میں موجود ہنر مند افراد (جو کہ غریب ہیں اور ان کی کوئی سفارش نہیں) اس ساڑھے دس ہزار اٹالین ورک ویزہ سے مستفید نہ ہوسکیں گے اور آخر میں اٹلی و پاکستان میں موجود انسانی سمگلرز، چٹھہ بختاور و ڈپلو میٹک انکلیو میں موجود اٹالین ایمبیسی کے اندر موجود کرپٹ ملازمین اربوں کی دیہاڑی لگا کر ان پڑھ و غیر ہنر یافتہ افراد کو اٹلی بھیجنے میں کامیاب ہوں گے-
اسرار راجپوت
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
1
ایک اہم بات واضح کرتا چلوں؛

یہاں کچھ بھی حالات ہوجائیں پر یہ یاد رکھیے گا کہ پاکستان، بھارت اور عالمی طاقتوں کے لیے، ہمیشہ ایک تھریٹ رہا تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا

یہ سمجھنا کہ چونکہ یہاں پر ایک غلام رجیم قابض ہے، لہذا اب دشمنوں کو پاکستان کی طرف سے کوئی فکر نہیں، مکمل طور پر غلط سوچ ہے

اس کی وجہ بتاتا چلوں۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے حکمران آتے جاتے رہتے ہیں پر یہاں کی عوام کی ایک مستقل سوچ ہے جو اسلام پسند ہے اور خود کو امت کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتی ہے

یہی سوچ پاکستان کے دشمنوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے

اس خطرے کو کاؤنٹر کرنے کے لیے، وہ ہمیشہ active رہتے ہیں اور یہاں حکومت اور طاقت کے مراکز کو کنٹرول میں رکھتے ہیں

لیکن،

وہ اس بات کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارا یہ کنٹرول کسی وقت بھی ختم ہوسکتا ہے۔ اسی لیے وہ یہاں نظام پر اپنی گرفت کسی حال میں کمزور نہیں ہونے دیتے اور اب تک اپنی اس کوشش میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں

لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان، آج بھی اور آئندہ آنے والے وقت میں ان کے لیے ایک مستقل تھریٹ رہے گا۔ وہ اسی لیے کچھ پکا بندوبست چاہتے ہیں اور ہر لیول پر، اس تھریٹ کو زائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے

عالمی قوتیں، ایران میں اس کا عملی مظاہرہ دیکھ چکی ہیں کہ جب وہاں امریکہ نواز حکومت تھی اور یکایک اس کا تختہ الٹ گیا اور وہاں امریکہ مخالف حکومت آگئی

لہذا یہ سمجھنے کی فاش غلطی کبھی نہیں کیجیے گا کہ چونکہ پاکستان کنٹرول ہوچکا ہے تو اب اسے کوئئ خطرہ نہیں

پاکستان اپنی نظریاتی اساس کی بنیاد پر، دشمنوں کے لیے ہمیشہ خطرہ رہے گا۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔۔۔۔۔!!!!
شہزاد حسین
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جو پالیسی سوچ کا فرق ہے (اور جو ان دونوں کے درمیان شدید مخاصمت کی وجہ بھی ہے)، اس کی ایک اہم جہت خارجہ پالیسی بھی ہے

اسٹیبلشمنٹ جو پاکستان پر اپنا کنٹرول ہمیشہ سے رکھتی آئی ہے، اس کنٹرول کی ایک اہم وجہ، خارجہ پالیسی کو سیاستدانوں کی بجائے، اپنے انڈر کنٹرول رکھنا بھی ہے

عمران خان جیسا influential لیڈر، اسٹیبلشمنٹ سے یہ اسپیس واپس لینا شروع ہوگیا تھا جو انھیں کسی صورت قبول نہیں

اسٹیبلشمنٹ کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے سوچ ہے کہ پاکستان، بھارت کو تو کسی نہ کسی طرح ہینڈل کرسکتا ہے، پر عالمی قوتوں خاص کر امریکہ کو ہینڈل کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔ لہذا امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم سے محفوظ رہنے اور ملک کی سالمیت کو بچانے واسطے، ہم امریکہ کے پالیسیوں کے سامنے کسی قسم کی رکاوٹ ہرگز نہ بنیں اور جیسے باقی مسلم دنیا خاص کر عرب ممالک امریکہ و اسرائیل کے ہمنوا ہیں، ہم بھی اسی رستے کو فالو کریں۔ اگر کچھ قدم اٹھانے بھی ہیں، تو رازداری سے اٹھائے جائیں اور ڈبل گیم کھیل لیا جائے لیکن کھل کر امریکی مخاصمت نہیں مول لینی۔

امریکہ کے صدر کو چاپلوسی کے زریعے اپنی مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلائے رکھیں تاکہ امریکہ جیسا جنگلی بھینسا، پاکستان کی طرف رخ کرنے سے گریز کرے اور یوں ملک کی سالمیت کو یقینی بنایا جاسکے

جبکہ،

عمران خان کی سوچ ہے کہ عالمی قوتیں جیسے امریکہ، جلد بدیر پاکستان کی طرف لازمی رخ کرے گا۔ پاکستان کا بطور مسلم ملک، علامی قوتوں سے ٹکراؤ یقینی ہے۔ یہ ہر صورت ہوگا۔ لہذا خوف کے مارے دبک بیٹھنے اور چاپلوسی سے "یس سر، یس سر" کہنے کی بجائے خود کو مضبوط کیا جائے اور اس مقابلے کے لیے تیاری کی جائے۔ اس حوالے سے مسلم دنیا کو بھی آن بورڈ لیا جائے اور اجتماعی قوت بڑھانے پر فوکس کیا جائے۔ او آئی سی جیسے پلیٹ فارمز کو حقیقی طور پر بحال کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں (یہی سوچ اور کوشش بھٹو کی بھی تھی).

جب سمندر میں سونامی آجائے تو زیادہ تر کشتیوں جہازوں کی کوشش ہوتی ہے کہ فوراً ساحل کی طرف بھاگ کر جان بچائی جائے

جبکہ کچھ مضبوط دل رکھنے والے جہازوں کے کپتان کوشش کرتے ہیں کہ سونامی کی لہروں کی طرف ہی جایا جائے اور کوشش کی جائے کہ اسے بروقت پار کرلیا جائے۔ اب ظاہری بات ہے کہ سونامی کی سمت میں سفر کرنا، اس خوفناک اٹھتے طوفان کی جانب جانے کے لیے پہاڑ جیسی ہمت چاہیے۔ یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اسی اپروچ اور سوچ کا فرق ہے!!!!

شہزاد حسین
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
جیز کمپنی نے کسٹمر لوٹنے کے نئے طریقے متعارف کروائے ہیں ۔ صارف پیکج لگاتا ہے۔ کٹوتی ہو جاتی ہے پیکج لگ جاتا ہے
پھر ایک دو دن بعد جیز پیکج ختم کرکے کہتا ہے ۔ یہ پیکج ختم کردیا گیا ہے۔
یہ بالکل ایسے کہ آپ دکان پر چیز لینے جاؤ وہ پیسے کاٹ لیں اور پھر آپ چیز لے کر دکان سے باہر نکلنے لگیں تو اپکو کہا جائے یہ چیز فروخت نہیں ہوگی۔ کم بختو پھر پیسے کس چیز کے کاٹے؟

یہ پکے کے ڈاکو بن چکے ہیں

#Jazz
#Pakky_K_Daku
‏اہم سوالات ؛
مراد سعید نے کتاب ہی کیوں لکھی ہے
مراد سعید گڑے مردے کیوں اکھاڑ رہا ہے
مراد سعید کی کتاب شائع کیسے ہوگئی
مراد سعید کی کتاب اسلام آباد میں بک کیسے رہی ہے
مراد سعید کتاب لکھ رہا ہے عوام کو موبلائز کیوں نہیں کررہا
مراد سعید نے موجودہ فوجی قیادت کو کیوں کچھ نہیں کہا
مجھے مراد سعید کی کتاب سے تشویش ہورہی ہے

سادہ جواب ؛
تشریف کے اندھے مراد سعید کی اسی ہفتے کی دو ٹویٹس کے اقتباسات پڑھ لیں کیڑے کو سکون حاصل ہوگا۔

“ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟”

“ جو ہو رہا ہے، جو بساط بچھائی گئی ہے صرف بیرون آقاؤں سے کی جانے والی کمٹمنٹس کے مطابق فرد واحد کی طاقت کو دوام دینے کے لیے ہو رہا ہے چاہے وہ غزہ ہو یا افغانستان۔ یہ نہ کل پاکستان کی لڑائی تھی، نہ یہ آج پاکستان کی لڑائی ہے”
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
1
‏پاکستان وہ طاقتور ایٹمی ملک ہے
جو اپنے میزائل کی رینج بھی پوچھے بغیر اس لئے نہیں بڑھا سکتا کہ کہیں اسرائیل نشانے پر نہ آ جائے
یہ بات کسی اور نے نہیں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بتائی تھی۔ اور ڈاکٹر صاحب کی بات کسی بھی چار پانچ ستاروں والے سے زیادہ مستند تھی ' ہے اور رہے گی

شفقت چوہدری
👍1
آج دنیا کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور ناں میں ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سے پوچھا: اگر ہم ڈالر دیں تو کیا آپ ہمارے لیے کام کریں گے؟ فیلڈ مارشل نے جواب دیا؛ ہاں۔ پھر ٹرمپ نے پوچھا: کیا آپ ہمارے خلاف جانے کی ہمت کریں گے؟ فیلڈ مارشل نے کہا؛ ناں۔اس طرح ہماری ہاں اور ناں میں دنیا کے فیصلے ہو رہے ہیں ۔

زید حامد
👏1
‏کیا آپ جانتے ہیں؟

بھارت روس سے سستا تیل خرید سکتا ہے لیکن پاکستانیوں کو مہنگا تیل خریدنا ہے۔

کیونکہ آپ کی فوج اللہ کی فوج ہے
سائفر کے آگے لیٹ جانے والی فوج ہے

اور آپ نے بچپن میں 23 مارچ کی پریڈ دیکھ رکھی ہے۔