کچھ لوگ ڈیل کے لیے میری تشریف چوم رہے ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ
مشرق وسطی اور اسلامی ممالک کی فوج مل کر غزہ سے حماس کا خاتمہ کرے گی ، نیتن یاہو
پاکستان نے ہمیں خود اس پراسس کا حصہ بننے کی پیشکش کی ، مائیک روبیو
ہم نے بورڈ آف پیس بنانے کا اعلان کیا ہے شمولیت کی فیس ایک ارب ڈالرز ہوگی ، ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستان نے بورڈ آف پیس پر دستخط کردیے ہیں ، کٹھ پتلی وزیر اعظم شہباز شریف
ہمیں کچھ نہیں پتہ ، سب جھوٹ ہے ، یہ افواج پاکستان کے خلاف سازش ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر
مشرق وسطی اور اسلامی ممالک کی فوج مل کر غزہ سے حماس کا خاتمہ کرے گی ، نیتن یاہو
پاکستان نے ہمیں خود اس پراسس کا حصہ بننے کی پیشکش کی ، مائیک روبیو
ہم نے بورڈ آف پیس بنانے کا اعلان کیا ہے شمولیت کی فیس ایک ارب ڈالرز ہوگی ، ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستان نے بورڈ آف پیس پر دستخط کردیے ہیں ، کٹھ پتلی وزیر اعظم شہباز شریف
ہمیں کچھ نہیں پتہ ، سب جھوٹ ہے ، یہ افواج پاکستان کے خلاف سازش ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر
😁2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مولانا عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے رہے اب عمران کے جیالے عاصم منیر کو اس انداز سے رسوا کررہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان میں اسکے رشتہ داروں عزیز و اقارب پر حکومت اور ایجنسیاں زمین تنگ کردیں گی انکی عزت آبرو پر حملہ آور ہونگی ۔
گستاخی معاف کیجئے گا مگر سوال تو بنتا ہے مولانا کی جماعت سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کا پاکستانی فوج کے غ ز ہ جا کر حماس کے خلاف لڑنے پر کیا ردعمل ہے؟
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
گستاخی معاف کیجئے گا مگر سوال تو بنتا ہے مولانا کی جماعت سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کا پاکستانی فوج کے غ ز ہ جا کر حماس کے خلاف لڑنے پر کیا ردعمل ہے؟
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
👍3😁1
Pakistan Times International
Photo
یہ تصویر نہیں، ہماری بے بسی کی نمائش ہے
انس رضوی کی تصویر لیک کرنا کوئی صحافتی غلطی نہیں تھی، یہ طاقت کا مظاہرہ تھا۔
یہ کھلا اعلان تھا:
“یہ لو، جو پٹنا ہے پٹ لو۔ ہم دکھا رہے ہیں، اور تم کچھ نہیں کر سکتے۔”
یہ تصویر ایک شخص کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں ، یہ پچیس کروڑ انسانوں کو یاد دلانے کے لیے ہے کہ وہ بکھرے ہوئے، کمزور اور بے حیثیت ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ہو کر بھی ہم اس قابل نہیں کہ اپنے ایک آدمی کو بچا سکیں — اس لیے نہیں کہ ہم کم ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں جان بوجھ کر ایک نہیں رہنے دیا گیا۔
ہمیں نسلوں میں بانٹا گیا، صوبوں میں بانٹا گیا، زبانوں میں بانٹا گیا، مسلکوں اور نظریات میں بانٹا گیا۔ ہر بار ایک نیا چہرہ سامنے لایا گیا اور کہا گیا:
“دیکھو، اس کے ساتھ یہ ہوا — عبرت حاصل کرو۔”
ماہ رنگ بلوچ ہو یا پنجاب کا ایک گمنام ورکر، کہانی ایک ہی ہے۔ نام بدل جاتے ہیں، چہرے بدل جاتے ہیں، مگر ظلم کا طریقہ نہیں بدلتا۔ ہر بار کوئی ایک اٹھایا جاتا ہے، اس کی تذلیل کی جاتی ہے، اور باقیوں کو خاموش رہنے کا سبق دیا جاتا ہے۔
اور ہم؟
ہم تماشائی بنے رہتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں: “یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔”
ہم کہتے ہیں: “یہ تو اس کا قصور تھا۔”
ہم کہتے ہیں: “ہمیں کیا؟”
اصل جرم یہی ہے۔
ہم نے اپنے اصل دشمن کو پہچاننے کے بجائے ایک دوسرے کے گریبان پکڑے۔ کوئی بلوچ کو غدار کہتا رہا، کوئی پنجابی کو ظالم، کوئی مذہب کے نام پر لڑتا رہا، کوئی زبان کے نام پر۔ اور جو سب کو کچل رہا تھا، وہ مسکراتا رہا — کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ہجوم کبھی قوم نہیں بنے گا۔
یہ ظلم اس لیے نہیں چل رہا کہ ظالم طاقتور ہیں،
یہ اس لیے چل رہا ہے کہ مظلوم بکھرے ہوئے ہیں۔
جب ایک قوم تصویر لیک ہونے پر بھی ایک دوسرے کا مذاق اڑائے،
جب وہ اپنی باری آنے تک خاموش رہے،
جب وہ سمجھ لے کہ “میری باری نہیں آئی” —
تو پھر باری آتی ضرور ہے۔
اور جب آتی ہے،
تو چیخ سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
یہ لڑائی کسی ایک شخص کی نہیں،
یہ جنگ عزت، وجود اور اجتماعی شعور کی ہے۔
یا ہم ایک ہو کر پہچانیں گے کہ ہمیں کون روند رہا ہے،
یا پھر اگلی تصویر، اگلا نام، اگلا عبرت کا نمونہ
ہم میں سے ہی کوئی ہوگا۔
اور اس وقت بھی شاید ہم یہی کہیں گے:
“یہ ہمارا مسئلہ نہیں تھا۔”
انس رضوی کی تصویر لیک کرنا کوئی صحافتی غلطی نہیں تھی، یہ طاقت کا مظاہرہ تھا۔
یہ کھلا اعلان تھا:
“یہ لو، جو پٹنا ہے پٹ لو۔ ہم دکھا رہے ہیں، اور تم کچھ نہیں کر سکتے۔”
یہ تصویر ایک شخص کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں ، یہ پچیس کروڑ انسانوں کو یاد دلانے کے لیے ہے کہ وہ بکھرے ہوئے، کمزور اور بے حیثیت ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ہو کر بھی ہم اس قابل نہیں کہ اپنے ایک آدمی کو بچا سکیں — اس لیے نہیں کہ ہم کم ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں جان بوجھ کر ایک نہیں رہنے دیا گیا۔
ہمیں نسلوں میں بانٹا گیا، صوبوں میں بانٹا گیا، زبانوں میں بانٹا گیا، مسلکوں اور نظریات میں بانٹا گیا۔ ہر بار ایک نیا چہرہ سامنے لایا گیا اور کہا گیا:
“دیکھو، اس کے ساتھ یہ ہوا — عبرت حاصل کرو۔”
ماہ رنگ بلوچ ہو یا پنجاب کا ایک گمنام ورکر، کہانی ایک ہی ہے۔ نام بدل جاتے ہیں، چہرے بدل جاتے ہیں، مگر ظلم کا طریقہ نہیں بدلتا۔ ہر بار کوئی ایک اٹھایا جاتا ہے، اس کی تذلیل کی جاتی ہے، اور باقیوں کو خاموش رہنے کا سبق دیا جاتا ہے۔
اور ہم؟
ہم تماشائی بنے رہتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں: “یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔”
ہم کہتے ہیں: “یہ تو اس کا قصور تھا۔”
ہم کہتے ہیں: “ہمیں کیا؟”
اصل جرم یہی ہے۔
ہم نے اپنے اصل دشمن کو پہچاننے کے بجائے ایک دوسرے کے گریبان پکڑے۔ کوئی بلوچ کو غدار کہتا رہا، کوئی پنجابی کو ظالم، کوئی مذہب کے نام پر لڑتا رہا، کوئی زبان کے نام پر۔ اور جو سب کو کچل رہا تھا، وہ مسکراتا رہا — کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ہجوم کبھی قوم نہیں بنے گا۔
یہ ظلم اس لیے نہیں چل رہا کہ ظالم طاقتور ہیں،
یہ اس لیے چل رہا ہے کہ مظلوم بکھرے ہوئے ہیں۔
جب ایک قوم تصویر لیک ہونے پر بھی ایک دوسرے کا مذاق اڑائے،
جب وہ اپنی باری آنے تک خاموش رہے،
جب وہ سمجھ لے کہ “میری باری نہیں آئی” —
تو پھر باری آتی ضرور ہے۔
اور جب آتی ہے،
تو چیخ سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
یہ لڑائی کسی ایک شخص کی نہیں،
یہ جنگ عزت، وجود اور اجتماعی شعور کی ہے۔
یا ہم ایک ہو کر پہچانیں گے کہ ہمیں کون روند رہا ہے،
یا پھر اگلی تصویر، اگلا نام، اگلا عبرت کا نمونہ
ہم میں سے ہی کوئی ہوگا۔
اور اس وقت بھی شاید ہم یہی کہیں گے:
“یہ ہمارا مسئلہ نہیں تھا۔”
👍2
Forwarded from TALKING PICS
ضلع کرم کے متاثرین کے کیمپ میں دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے،
جہاں ایک 8 سالہ بچے کے پاؤں میں جرابوں کے بجائے پلاسٹک کے شاپرز لپٹے ہوئے تھے ایسے مناظر جنہیں لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
#FrozenToDeathInTirah
#TirahValley
#PakistanArmyOppression
@talkingpics
جہاں ایک 8 سالہ بچے کے پاؤں میں جرابوں کے بجائے پلاسٹک کے شاپرز لپٹے ہوئے تھے ایسے مناظر جنہیں لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
#FrozenToDeathInTirah
#TirahValley
#PakistanArmyOppression
@talkingpics
❤1
ریاستیں اپنی ضرورت کے حساب سے اپنا ماسک تبدیل کرتی ہیں۔ ماسک سے مراد یہاں سول حکومتیں ہیں۔
مثلاً امریکہ کئی دہائیوں تک سافٹ پاور کا حامل تھا۔ کوئی ملک اس کی مرضی کے خلاف جانا گوارا ہی نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے وہاں حالیہ عرصے میں کلنٹن، بش، اوبامہ اور بائیڈن جیسے نارمل رویوں کے حامل حکمران رہے
لیکن اب امریکہ کے لیے غیر معمولی صورتحال بنتی جارہی ہے۔ ڈالر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ کچھ اسٹریٹیجک بلاکس اپنی کرنسی میں ٹریڈ کو فروغ دے رہے ہیں۔ دنیا اب امریکی اثر و رسوخ کو کھل کر نظر انداز کررہی ہے
اسی وجہ سے امریکہ کو اب بحالت مجبوری، جارحانہ انداز اختیار کرنا پڑ رہا ہے
لہذا اب اوبامہ یا بائیڈن جیسے شخص کی بجائے، ٹرمپ جیسا شخص سامنے لانا امریکہ کی مجبوری بن چکا ہے۔
یہ نارمل بات نہیں کہ ایک طرف امریکہ چین کے خلاف کھل کر سرد جنگ لڑ رہا ہے جبکہ دوسری طرف کینیڈا اور یورپ جیسے دیرینہ اتحادی، امریکہ کو نظر انداز کرکے، چین سے ٹریڈ ڈیلز کررہے ہیں
دنیا بہت ہنگامہ خیز ہونے جارہی ہے!!!!
شہزاد حسین
مثلاً امریکہ کئی دہائیوں تک سافٹ پاور کا حامل تھا۔ کوئی ملک اس کی مرضی کے خلاف جانا گوارا ہی نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے وہاں حالیہ عرصے میں کلنٹن، بش، اوبامہ اور بائیڈن جیسے نارمل رویوں کے حامل حکمران رہے
لیکن اب امریکہ کے لیے غیر معمولی صورتحال بنتی جارہی ہے۔ ڈالر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ کچھ اسٹریٹیجک بلاکس اپنی کرنسی میں ٹریڈ کو فروغ دے رہے ہیں۔ دنیا اب امریکی اثر و رسوخ کو کھل کر نظر انداز کررہی ہے
اسی وجہ سے امریکہ کو اب بحالت مجبوری، جارحانہ انداز اختیار کرنا پڑ رہا ہے
لہذا اب اوبامہ یا بائیڈن جیسے شخص کی بجائے، ٹرمپ جیسا شخص سامنے لانا امریکہ کی مجبوری بن چکا ہے۔
یہ نارمل بات نہیں کہ ایک طرف امریکہ چین کے خلاف کھل کر سرد جنگ لڑ رہا ہے جبکہ دوسری طرف کینیڈا اور یورپ جیسے دیرینہ اتحادی، امریکہ کو نظر انداز کرکے، چین سے ٹریڈ ڈیلز کررہے ہیں
دنیا بہت ہنگامہ خیز ہونے جارہی ہے!!!!
شہزاد حسین
جب ایک ڈیڑھ سو روپے کی لنڈے کی جیکٹ پہننے والے کو دو ہزار کا چالان کرو گے تو کیا وہ زندہ رہ پائے گا ؟
افسوس گجرات میں شام کے وقت طاہر بیگ جو کہ ایک دیہاڑی دار غریب بندہ تھا اپنے کام سے واپس آرہا تھا کہ وراڈن والوں نے روکا
یہ بیچارہ منتیں کرتا رہا کہ میرے حالات نہیں ہیں لیکن کسی نے ایک نہیں سنی ان کو اپنے کمیشن سے غرض تھا
حتیٰ کے یہ رونے لگ گیا کہ میری جیب میں چند سو کے علاوہ کچھ نہیں ہے گھر میں بچے انتظار میں ہیں مجھ پہ رحم کرو
لیکن انہوں نے 2000 کا چالان کردیا جس کی وجہ سے یہ وہیں موقع پہ گرا اور ختم ہوگیا ۔
وارڈن والوں نے اس کی موٹر سائیکل کو پکڑا اور اس کو لے گئے جبکہ یہ وہیں پہ گرا پڑا رہا کہنے لگے کہ ڈرامے بازی کر رہا ہے ۔
جب لوگ اکٹھے ہوئے اور اس کو لیٹایا تو پتا چلا کہ یہ بیچارہ دو ہزار کا صدمہ برداشت نہیں کر سکا جب جیب چیک کی گئی تو چند سو روپے اور ایک پرانا سا موبائل نکلا
یہ ہماری بے حسی کا عالم ہے اب چاہے ڈی پی او نوٹس لے لیں لیکن کیا ہوگا ؟؟؟
کیا اس کے گھر والوں کی کفالت حکومت کرے گی ؟؟؟؟
https://x.com/i/status/2022919655069782474
افسوس گجرات میں شام کے وقت طاہر بیگ جو کہ ایک دیہاڑی دار غریب بندہ تھا اپنے کام سے واپس آرہا تھا کہ وراڈن والوں نے روکا
یہ بیچارہ منتیں کرتا رہا کہ میرے حالات نہیں ہیں لیکن کسی نے ایک نہیں سنی ان کو اپنے کمیشن سے غرض تھا
حتیٰ کے یہ رونے لگ گیا کہ میری جیب میں چند سو کے علاوہ کچھ نہیں ہے گھر میں بچے انتظار میں ہیں مجھ پہ رحم کرو
لیکن انہوں نے 2000 کا چالان کردیا جس کی وجہ سے یہ وہیں موقع پہ گرا اور ختم ہوگیا ۔
وارڈن والوں نے اس کی موٹر سائیکل کو پکڑا اور اس کو لے گئے جبکہ یہ وہیں پہ گرا پڑا رہا کہنے لگے کہ ڈرامے بازی کر رہا ہے ۔
جب لوگ اکٹھے ہوئے اور اس کو لیٹایا تو پتا چلا کہ یہ بیچارہ دو ہزار کا صدمہ برداشت نہیں کر سکا جب جیب چیک کی گئی تو چند سو روپے اور ایک پرانا سا موبائل نکلا
یہ ہماری بے حسی کا عالم ہے اب چاہے ڈی پی او نوٹس لے لیں لیکن کیا ہوگا ؟؟؟
کیا اس کے گھر والوں کی کفالت حکومت کرے گی ؟؟؟؟
https://x.com/i/status/2022919655069782474
عاصم منیر کی ناکام مہم جوئی، ظلم و بربریت اور ناجائز مطالبات کے باوجود افغان حکومت نے سعودی عرب کی درخواست پر ایک بار پھر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تین فوجیوں کو رہا کر دیا جو عاصم منیر کی ذاتی انتہا پسندی اور جنگی جنون سے پیدا ہونے والے حالات کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ افغان حکومت کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے اور اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آزاد حکومتیں اپنے فیصلے خود کرتی ہیں، نہ کہ غلام حکومتوں کی طرح ہر قدم پر امریکہ سے اجازت لینے کی محتاج ہوتی ہیں۔
عادل راجہ
عادل راجہ
حکومت پنجاب نے ایک لگژری بزنس جیٹ خریدا ہے جس کی مالیت دس ارب روپے سے زائد ہے
جیسا کہ ٹک ٹاکر وزیر اعلیٰ کی کنیز عظمیٰ نے کہا یہ طیارہ پنجاب ایئر کے لیے لیا گیا ہے مگر گلف اسٹریم سیریز کے اس نوعیت کے طیارے عموماً وی آئی پی اور محدود نجی سفر کے لیے استعمال ہوتے ہیں نہ کہ عوامی فضائی سروس کے لیے
اس طیارے کے اخراجات محض خریداری تک محدود نہیں اندازہ ہے کہ اس کا آپریٹنگ خرچ پچیس لاکھ روپے فی گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ ہے جبکہ سالانہ مینٹیننس لاگت تین سے پانچ ملین ڈالر کے درمیان رہتی ہے بزنس جیٹس میں کیلنڈر بیسڈ اور فلائٹ آور بیسڈ دونوں طرح کی لازمی دیکھ بھال شامل ہوتی ہے یعنی جہاز کھڑا رہنے پر بھی بھاری اخراجات جاری رہتے ہیں ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسے صوبے میں جہاں بنیادی سہولیات اور انسانی ترقی کے اشاریے شدید دباؤ میں ہوں یہ خرچ عوامی مفاد کے مطابق ہے
پاکستان میں کروڑوں افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، بچے غذائی قلت اور تعلیمی محرومی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، مگر پنجاب کی فارم 47 والی ٹک ٹاکر وزير اعلی کی ترجیحات ایک لگژری سرکاری طیارے کی خریداری میں جھلکتی ہیں۔ یہ فیصلہ انتظامی ضرورت سے زیادہ اشرافیانہ ذہنیت اور وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔جب عوام بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہوں اور اقتدار کے ایوانوں میں آسائشیں بڑھائی جا رہی ہوں تو یہ حکمرانی نہیں بلکہ عوامی مسائل سے لاتعلقی کا کھلا اظہار ہوتا ہے۔
#نااہل_حکمراں_عوام_پریشان
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
جیسا کہ ٹک ٹاکر وزیر اعلیٰ کی کنیز عظمیٰ نے کہا یہ طیارہ پنجاب ایئر کے لیے لیا گیا ہے مگر گلف اسٹریم سیریز کے اس نوعیت کے طیارے عموماً وی آئی پی اور محدود نجی سفر کے لیے استعمال ہوتے ہیں نہ کہ عوامی فضائی سروس کے لیے
اس طیارے کے اخراجات محض خریداری تک محدود نہیں اندازہ ہے کہ اس کا آپریٹنگ خرچ پچیس لاکھ روپے فی گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ ہے جبکہ سالانہ مینٹیننس لاگت تین سے پانچ ملین ڈالر کے درمیان رہتی ہے بزنس جیٹس میں کیلنڈر بیسڈ اور فلائٹ آور بیسڈ دونوں طرح کی لازمی دیکھ بھال شامل ہوتی ہے یعنی جہاز کھڑا رہنے پر بھی بھاری اخراجات جاری رہتے ہیں ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسے صوبے میں جہاں بنیادی سہولیات اور انسانی ترقی کے اشاریے شدید دباؤ میں ہوں یہ خرچ عوامی مفاد کے مطابق ہے
پاکستان میں کروڑوں افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، بچے غذائی قلت اور تعلیمی محرومی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، مگر پنجاب کی فارم 47 والی ٹک ٹاکر وزير اعلی کی ترجیحات ایک لگژری سرکاری طیارے کی خریداری میں جھلکتی ہیں۔ یہ فیصلہ انتظامی ضرورت سے زیادہ اشرافیانہ ذہنیت اور وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔جب عوام بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہوں اور اقتدار کے ایوانوں میں آسائشیں بڑھائی جا رہی ہوں تو یہ حکمرانی نہیں بلکہ عوامی مسائل سے لاتعلقی کا کھلا اظہار ہوتا ہے۔
#نااہل_حکمراں_عوام_پریشان
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 132 followers • News and unbiased commentary
جب پاکستانی کرکٹرز نے اپنے محسن عمران خان کو انعام کے لالچ میں اذیت ناک لمحے سے دوچار کیا۔۔۔عمران خان نے اپنی کتاب" میں اور میرا پاکستان" میں لکھا ہے:۔
"۔۔۔آسٹریلیا سے وطن واپس آتے ہوئے جب سنگا پور میں ہم رکے تو پاکستانی سفیر نے شوکت خانم کے لیے مجھے چیک دیا۔ میرا خیال ہے کہ تب کھلاڑیوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ انعام تو دراصل انہیں ملنا چاہیے تھا۔ پھر ہم لاہور پہنچے جہاں شہر کے تاجروں نے سترہویں صدی کے مغل بادشاہ شاہ جہاں کے تعمیر کردہ شالیمار باغ میں ہمارے اعزاز میں استقبالیے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہسپتال کے لیے کچھ رقم انہوں نے اکٹھی کر رکھی ہے۔ میں ششدر رہ گیا جب ٹیم اس تقریب سے احتجاجا اٹھ کر چلی گئی۔ زندگی میں کتنے ہی حادثے مجھ پر گزرے ہیں۔ میری ماں کی موت، اشرف الحق کی زبانی مشرقی پاکستان کے قتل عام کی تفصیل، کھیل کے زمانہ عروج میں ٹانگ ٹوٹ جانا لیکن ایسی اذیت مجھے کبھی نہ پہنچی تھی۔ یہ وہ کھلاڑی تھے، جن کے انتخاب اور تربیت میں میرا حصہ تھا۔ میں بری طرح مایوس ہوا۔ انعامات ہمیشہ برابر تقسیم کیے جاتے ۔ اگر کوئی مین آف دی میچ ہو تب بھی کھلاڑیوں کو حصہ دیا جاتا۔ تقریباً دس گیارہ برس سے میں مین آف دی سیریز چلا آرہا تھا۔ ہر بار ہر انعام میں نے تقسیم کیا۔ اکثر کھلاڑیوں نے بعد میں معافی مانگی۔ بعض نے کہا کہ دوسروں نے انہیں گمراہ کیا۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ 1992ء کی فتح کے بعد لالچ کے بیج بوئے گئے ۔ سب کو 90 ہزار پاؤنڈ فی کس ملے۔ کبھی کسی کھلاڑی نے اتنی دولت نہ کمائی تھی۔۔۔"
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
"۔۔۔آسٹریلیا سے وطن واپس آتے ہوئے جب سنگا پور میں ہم رکے تو پاکستانی سفیر نے شوکت خانم کے لیے مجھے چیک دیا۔ میرا خیال ہے کہ تب کھلاڑیوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ انعام تو دراصل انہیں ملنا چاہیے تھا۔ پھر ہم لاہور پہنچے جہاں شہر کے تاجروں نے سترہویں صدی کے مغل بادشاہ شاہ جہاں کے تعمیر کردہ شالیمار باغ میں ہمارے اعزاز میں استقبالیے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہسپتال کے لیے کچھ رقم انہوں نے اکٹھی کر رکھی ہے۔ میں ششدر رہ گیا جب ٹیم اس تقریب سے احتجاجا اٹھ کر چلی گئی۔ زندگی میں کتنے ہی حادثے مجھ پر گزرے ہیں۔ میری ماں کی موت، اشرف الحق کی زبانی مشرقی پاکستان کے قتل عام کی تفصیل، کھیل کے زمانہ عروج میں ٹانگ ٹوٹ جانا لیکن ایسی اذیت مجھے کبھی نہ پہنچی تھی۔ یہ وہ کھلاڑی تھے، جن کے انتخاب اور تربیت میں میرا حصہ تھا۔ میں بری طرح مایوس ہوا۔ انعامات ہمیشہ برابر تقسیم کیے جاتے ۔ اگر کوئی مین آف دی میچ ہو تب بھی کھلاڑیوں کو حصہ دیا جاتا۔ تقریباً دس گیارہ برس سے میں مین آف دی سیریز چلا آرہا تھا۔ ہر بار ہر انعام میں نے تقسیم کیا۔ اکثر کھلاڑیوں نے بعد میں معافی مانگی۔ بعض نے کہا کہ دوسروں نے انہیں گمراہ کیا۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ 1992ء کی فتح کے بعد لالچ کے بیج بوئے گئے ۔ سب کو 90 ہزار پاؤنڈ فی کس ملے۔ کبھی کسی کھلاڑی نے اتنی دولت نہ کمائی تھی۔۔۔"
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 132 followers • News and unbiased commentary
اگر واقعی بند کردی گئی ہے تو یہ حکومت کا بہت اچھا فیصلہ ہے (40 ارب ضائع کردینا اگرچہ افسوسناک ہے).
پاکستان نے اس فائر وال کا زبردست نقصان اٹھایا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔ اس وقت دنیا 6G کی پلاننگ کررہی ہے جبکہ 5G نارمل استعمال میں ہے جبکہ ہم 2026 میں بھی ڈھنگ سے ویڈیو کال نہیں کرسکتے۔ ڈیٹا پر کسی کو کال کرو تو "ہیلو، آواز آرہی ہے؟" کرتے رہ جاتے ہیں۔
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں زبردست پوٹینشل ہے۔ یہ تن تنہا پاکستان کے معاشی مسائل، خاص کر فارن ایکسچینج کی کمی کا مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کاش کے یہاں ٹیلنٹڈ نوجوانوں کو facilitate کیا جاتا۔ الٹا انھیں دشمن ڈکلیئر کرکے، ان پر انٹرنیٹ کی بندشیں تھوپ دی گئیں جس سے ملک کو کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا الٹا اربوں کا نقصان ہوگیا
ہم 2026 میں بھی بیوقوفیاں کرنے اور پھر ناکام تجربے کے بعد انھیں ریورس کرنے کی اپروچ پر چل رہے ہیں۔
تیز تر انٹرنیٹ صرف آئی ٹی سروسز کے لیے ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا content creation کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اکثریت کو اندازہ ہی نہیں کہ ویڈیو کانٹینٹ کس لیول کا پوٹینشل رکھتا ہے۔ یہ صرف آپ کی نہیں بلکہ آپ کے پورے گھر کی قسمت تبدیل کرسکتا ہے۔ ملک کے لیے انتہائی قیمتی زرمبادلہ کما سکتا ہے (اور کما رہا ہے)۔
اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لے اور اپنے پیروں پر کلہاڑی نہ مارے۔ انٹرنیٹ کے بغیر آپ جدید دنیا میں سروائیو نہیں کرسکتے
پاکستان جیسے قرضوں کے خوفناک دلدل میں ڈوبے ملک کو تو سب چھوڑ کر، انٹرنیٹ کی بہترین سروسز مہیا کرنے پر فوکس کرنا چاہیے
آپ نے جس نوجوان کو فتنہ فساد ڈکلیئر کر رکھا ہے، صرف وہی آپ کو اس قرضوں کی دلدل سے باہر نکالنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اسے facilitate کیجیے، اس کی قوت بنیں۔ اسے دشمن نہ بنائیں یا دشمن نہ سمجھیں!!!!
.
شہزاد حسین
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
پاکستان نے اس فائر وال کا زبردست نقصان اٹھایا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔ اس وقت دنیا 6G کی پلاننگ کررہی ہے جبکہ 5G نارمل استعمال میں ہے جبکہ ہم 2026 میں بھی ڈھنگ سے ویڈیو کال نہیں کرسکتے۔ ڈیٹا پر کسی کو کال کرو تو "ہیلو، آواز آرہی ہے؟" کرتے رہ جاتے ہیں۔
پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری میں زبردست پوٹینشل ہے۔ یہ تن تنہا پاکستان کے معاشی مسائل، خاص کر فارن ایکسچینج کی کمی کا مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کاش کے یہاں ٹیلنٹڈ نوجوانوں کو facilitate کیا جاتا۔ الٹا انھیں دشمن ڈکلیئر کرکے، ان پر انٹرنیٹ کی بندشیں تھوپ دی گئیں جس سے ملک کو کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا الٹا اربوں کا نقصان ہوگیا
ہم 2026 میں بھی بیوقوفیاں کرنے اور پھر ناکام تجربے کے بعد انھیں ریورس کرنے کی اپروچ پر چل رہے ہیں۔
تیز تر انٹرنیٹ صرف آئی ٹی سروسز کے لیے ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا content creation کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اکثریت کو اندازہ ہی نہیں کہ ویڈیو کانٹینٹ کس لیول کا پوٹینشل رکھتا ہے۔ یہ صرف آپ کی نہیں بلکہ آپ کے پورے گھر کی قسمت تبدیل کرسکتا ہے۔ ملک کے لیے انتہائی قیمتی زرمبادلہ کما سکتا ہے (اور کما رہا ہے)۔
اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لے اور اپنے پیروں پر کلہاڑی نہ مارے۔ انٹرنیٹ کے بغیر آپ جدید دنیا میں سروائیو نہیں کرسکتے
پاکستان جیسے قرضوں کے خوفناک دلدل میں ڈوبے ملک کو تو سب چھوڑ کر، انٹرنیٹ کی بہترین سروسز مہیا کرنے پر فوکس کرنا چاہیے
آپ نے جس نوجوان کو فتنہ فساد ڈکلیئر کر رکھا ہے، صرف وہی آپ کو اس قرضوں کی دلدل سے باہر نکالنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اسے facilitate کیجیے، اس کی قوت بنیں۔ اسے دشمن نہ بنائیں یا دشمن نہ سمجھیں!!!!
.
شہزاد حسین
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 132 followers • News and unbiased commentary
گزشتہ روز PRA نے موبائل ٹیرف اور غیر مجاز کٹوتیوں کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ہماس بات کو appreciate کرتے ہیں کہ کم از کم ادارہ نے ردعمل دیا ،یہ ایک مثبت قدم ہے۔
لیکن چند نہایت سنجیدہ سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے۔
موبائل نیٹ ورکس کمپنیوں کے خلاف ہماری مہم تقریبادس دن چل رہی ہے اور ہم بار بار پی ٹی اے کو متوجہ کررہے تھے یقینا آج کا اسٹیٹمنٹ اچانک جاری نہیں ہوا ہوگا۔
ظاہر ہے اس سے پہلے مختلف موبائل کمپنیوں جیز، زونگ، ٹیلی نار، یو فون وغیرہ کے ساتھ میٹنگز اور مشاورت ہوئی ہوگی۔ انہی بات چیت کے بعد یہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہوگا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ
آج اسی دن جب یہ اسٹیٹمنٹ جاری ہو رہا ہے، مجھے اب بھی درجنوں میسیجز موصول ہو رہے ہیں کہ لوگوں کے نمبرز پر نئی سروسز ایکٹیو ہوئیں اور کٹوتی ہوئی۔
اگر جس دن ریگولیٹر بیان جاری کر رہا ہے، اسی دن نیٹ ورکس اس کی روح پر عمل نہیں کر رہے تو آگے کیا ہوگا؟
کیا یہ ریگولیٹری رِٹ کی کمزوری نہیں؟
ہم ایک دس دن سے یہ مہم چلا رہے ہیں اور پورے پاکستان سے سینکڑوں اسکرین شاٹس موصول ہو چکے ہیں۔
روزانہ 5، 10، 25، 50 روپے کی کٹوتیاں — بغیر واضح اجازت کے۔
اب یہاں پہ PTA سے سوالات یہ ہیں:
• پچھلے ایک سال میں کتنی ویلیو ایڈڈ سروسز بغیر رضامندی کے ایکٹیویٹ ہوئیں؟
• کیا ان کا فرانزک آڈٹ ہوگا؟
• کیا صارفین کو خودکار ریفنڈ دیا جائے گا؟
• کیا ذمہ دار کمپنیوں پر جرمانہ ہوگا یا صرف ہدایات جاری ہوں گی؟
• تھرڈ پارٹی وی اے ایس نیٹ ورک کو بند کرنے کے لیے کیا عملی میکانزم ہے؟
• کیا کوئی ڈیڈ لائن دی گئی ہے یا سب کچھ “ہدایت جاری کر دی گئی” تک محدود رہے گا؟
آپ ریگولیٹری اتھارٹی ہیں۔
آپ کا قیام ہی صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہوا ہے۔
اگر صارفین رل رہے ہوں، ان کی جیب سے روزانہ کٹوتیاں ہو رہی ہوں اور وہ بے بس ہوں — تو پھر ریگولیٹری نظام کہاں کھڑا ہے؟
ہم شفافیت چاہتے ہیں۔
ہم سخت اور قابلِ نفاذ اقدامات چاہتے ہیں۔
ہم ماضی کی کٹوتیوں کا حساب چاہتے ہیں۔
لولی لنگڑی وضاحتوں اور لالی پاپ بیانات سے کام نہیں چلے گا۔
عملی اقدامات، انکوائری، آڈٹ، جرمانے اور ریفنڈ یہی اعتماد بحال کریں گے۔
یہ مہم جاری رہے گی ان شاءاللہ
عمار خان یاسر
https://x.com/i/status/2025711815431454730
لیکن چند نہایت سنجیدہ سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے۔
موبائل نیٹ ورکس کمپنیوں کے خلاف ہماری مہم تقریبادس دن چل رہی ہے اور ہم بار بار پی ٹی اے کو متوجہ کررہے تھے یقینا آج کا اسٹیٹمنٹ اچانک جاری نہیں ہوا ہوگا۔
ظاہر ہے اس سے پہلے مختلف موبائل کمپنیوں جیز، زونگ، ٹیلی نار، یو فون وغیرہ کے ساتھ میٹنگز اور مشاورت ہوئی ہوگی۔ انہی بات چیت کے بعد یہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہوگا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ
آج اسی دن جب یہ اسٹیٹمنٹ جاری ہو رہا ہے، مجھے اب بھی درجنوں میسیجز موصول ہو رہے ہیں کہ لوگوں کے نمبرز پر نئی سروسز ایکٹیو ہوئیں اور کٹوتی ہوئی۔
اگر جس دن ریگولیٹر بیان جاری کر رہا ہے، اسی دن نیٹ ورکس اس کی روح پر عمل نہیں کر رہے تو آگے کیا ہوگا؟
کیا یہ ریگولیٹری رِٹ کی کمزوری نہیں؟
ہم ایک دس دن سے یہ مہم چلا رہے ہیں اور پورے پاکستان سے سینکڑوں اسکرین شاٹس موصول ہو چکے ہیں۔
روزانہ 5، 10، 25، 50 روپے کی کٹوتیاں — بغیر واضح اجازت کے۔
اب یہاں پہ PTA سے سوالات یہ ہیں:
• پچھلے ایک سال میں کتنی ویلیو ایڈڈ سروسز بغیر رضامندی کے ایکٹیویٹ ہوئیں؟
• کیا ان کا فرانزک آڈٹ ہوگا؟
• کیا صارفین کو خودکار ریفنڈ دیا جائے گا؟
• کیا ذمہ دار کمپنیوں پر جرمانہ ہوگا یا صرف ہدایات جاری ہوں گی؟
• تھرڈ پارٹی وی اے ایس نیٹ ورک کو بند کرنے کے لیے کیا عملی میکانزم ہے؟
• کیا کوئی ڈیڈ لائن دی گئی ہے یا سب کچھ “ہدایت جاری کر دی گئی” تک محدود رہے گا؟
آپ ریگولیٹری اتھارٹی ہیں۔
آپ کا قیام ہی صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہوا ہے۔
اگر صارفین رل رہے ہوں، ان کی جیب سے روزانہ کٹوتیاں ہو رہی ہوں اور وہ بے بس ہوں — تو پھر ریگولیٹری نظام کہاں کھڑا ہے؟
ہم شفافیت چاہتے ہیں۔
ہم سخت اور قابلِ نفاذ اقدامات چاہتے ہیں۔
ہم ماضی کی کٹوتیوں کا حساب چاہتے ہیں۔
لولی لنگڑی وضاحتوں اور لالی پاپ بیانات سے کام نہیں چلے گا۔
عملی اقدامات، انکوائری، آڈٹ، جرمانے اور ریفنڈ یہی اعتماد بحال کریں گے۔
یہ مہم جاری رہے گی ان شاءاللہ
عمار خان یاسر
https://x.com/i/status/2025711815431454730
X (formerly Twitter)
Ammar Khan Yasir (@ammarkhanyasir) on X
گزشتہ روز PRA نے موبائل ٹیرف اور غیر مجاز کٹوتیوں کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ہماس بات کو appreciate کرتے ہیں کہ کم از کم ادارہ نے ردعمل دیا ،یہ ایک مثبت قدم ہے۔
لیکن چند نہایت سنجیدہ سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے۔
موبائل نیٹ ورکس کمپنیوں کے خلاف…
لیکن چند نہایت سنجیدہ سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے۔
موبائل نیٹ ورکس کمپنیوں کے خلاف…
فوج میں ترقیاں ایک طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوتی رہتی ہیں، لیکن کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ فیلڈ مارشل صاحب کئی لیفٹیننٹ جنرل صاحبان کو ریٹائر نہیں کر پا رہے اور پہلے سے منتظر کئی میجر جنرلز ابھی تک سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔ کیا اعتماد میں کمی اس کی اہم وجہ ہے یا کچھ اور بات ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ27ویں آئینی ترمیم کے بعد فیلڈ مارشل کو نئے تجویز کردہ عہدوں پر افسران فائز کرنے کے لیے جلد اقدامات کرنا پڑیں گے اور ان کے نتیجے میں موصوف کا کئی جگہوں پر اپنا ذاتی کنٹرول یقینی طور پر ختم ہو جائے گا، اور اس تشویش میں مبتلا مستری صاحب اب تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکے۔ آخر کب تک ایسے فیصلے موخر کر سکیں گے؟
عادل راجہ
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
عادل راجہ
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 132 followers • News and unbiased commentary
آپ نے اس غزہ بورڈ کو تسلیم کیا ہے جس کو سیکورٹی کونسل کے چار مستقل اراکین جن میں برطانیہ، فرانس، روس اور چین نے تسلیم نہیں کیا، یورپ تو اس میں بیٹھا ہی نہیں ہے، آپ بیٹھ گئے ہیں، اگر کل کو یہ بورڈ آف پیس کشمیر سے متعلق فیصلہ کردے تو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا، ہندوستان کو دے دے دیا آزاد حیثیت ڈکلئیرڈ کردے تو آپ کو تھالی میں رکھ کر دینا پڑے گا
سیئنر اینکر پرسن افتخار شیرازی
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
سیئنر اینکر پرسن افتخار شیرازی
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 132 followers • News and unbiased commentary
Haider Majeed Advocate (important member of PTI and leader of ILF) previously convicted by military courts and having served two years, has been abducted while campaiging for Lahore High Court Bar Elections.
https://x.com/i/status/2025954517918114000
https://x.com/i/status/2025954517918114000
X (formerly Twitter)
Abuzar Salman Niazi (@SalmanKNiazi1) on X
Haider Majeed Advocate (important member of PTI and leader of ILF) previously convicted by military courts and having served two years, has been abducted while campaiging for Lahore High Court Bar Elections.
وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا :
"پنجاب پہلا صوبہ ہے جس نے اپنے strategic wheat reserves کیلئے پہلی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مشتمل ایک پالیسی دی۔ جس کے تحت اس سال پنجاب کے کسانوں سے تیس لاکھ میٹرک ٹن گندم 3500 روپے فی من کے حساب سے خریدی جائیگی ۔۔ مجھے یہ بتا کر خوشی ہو رہی ہے کہ الحمدُللّٰہ آج 35 ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کمپنیوں نے اس میں prequalify کیا ہے ۔"
صحافی مسعود چوہدری مریم نواز کے دعوے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
قوم کو بے وقوف سمجھنے والوں کو خبر ہو کہ یہ جن پری کوالیفائ کرنے والی کمپنیوں کا ذکر ہو رہا ہے یہ وہی ہیں جنہوں نے کسان سے سستے ترین داموں پر گندم خریدی اور حکومت ہمارے کسان دوستوں کی مسلسل ریکویسٹ کے باوجود کہتی رہی کہ اوپن مارکیٹ ہے، حکومت گندم کیوں خریدے؟
ہم بتاتے رہے کہ فرنٹ مین سستے داموں گندم خرید رہے ہیں، کسان کو بلیک میل کر رہے ہیں، اور بعد میں حکومت کو ہی گندم بیچیں گے۔جواب میں کہا جاتا رہا کہ اب حکومت پنجاب کسی سے گندم نہیں خریدے گی۔ اب پنجاب حکومت مافیا کیجانب سے کی گئ خریداری کو ہی اپنی کامیابی بنا کر پیش کر رہی ہے۔ الفاظ خواہ کچھ بھی استعمال کر لیں، دراصل یہ استحصال اور ظلم کیا گیا ہے!
بیچارے کسان سے 2000 روپے من پر گندم نہیں خریدی گئ، درمیان دار مافیا سے 3500 روپے من خریداری کر لی!
کس کس نے کتنے کتنے ارب کمائے؟ 🤨
سٹریٹجک ویٹ ریزرو 😔
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
"پنجاب پہلا صوبہ ہے جس نے اپنے strategic wheat reserves کیلئے پہلی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مشتمل ایک پالیسی دی۔ جس کے تحت اس سال پنجاب کے کسانوں سے تیس لاکھ میٹرک ٹن گندم 3500 روپے فی من کے حساب سے خریدی جائیگی ۔۔ مجھے یہ بتا کر خوشی ہو رہی ہے کہ الحمدُللّٰہ آج 35 ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کمپنیوں نے اس میں prequalify کیا ہے ۔"
صحافی مسعود چوہدری مریم نواز کے دعوے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
قوم کو بے وقوف سمجھنے والوں کو خبر ہو کہ یہ جن پری کوالیفائ کرنے والی کمپنیوں کا ذکر ہو رہا ہے یہ وہی ہیں جنہوں نے کسان سے سستے ترین داموں پر گندم خریدی اور حکومت ہمارے کسان دوستوں کی مسلسل ریکویسٹ کے باوجود کہتی رہی کہ اوپن مارکیٹ ہے، حکومت گندم کیوں خریدے؟
ہم بتاتے رہے کہ فرنٹ مین سستے داموں گندم خرید رہے ہیں، کسان کو بلیک میل کر رہے ہیں، اور بعد میں حکومت کو ہی گندم بیچیں گے۔جواب میں کہا جاتا رہا کہ اب حکومت پنجاب کسی سے گندم نہیں خریدے گی۔ اب پنجاب حکومت مافیا کیجانب سے کی گئ خریداری کو ہی اپنی کامیابی بنا کر پیش کر رہی ہے۔ الفاظ خواہ کچھ بھی استعمال کر لیں، دراصل یہ استحصال اور ظلم کیا گیا ہے!
بیچارے کسان سے 2000 روپے من پر گندم نہیں خریدی گئ، درمیان دار مافیا سے 3500 روپے من خریداری کر لی!
کس کس نے کتنے کتنے ارب کمائے؟ 🤨
سٹریٹجک ویٹ ریزرو 😔
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 132 followers • News and unbiased commentary
موجودہ رجیم کی پالیسیاں۔
فتنہ الہندوستان کی وجہ سے افغانستان کے ساتھ تجارت مکمل بند کر دی کہ وہاں سے دہشت گرد پاکستان پر حملے کرتے ہیں انکے پیچھے ہندوستان ہے۔
جبکہ ہندوستان کے ساتھ تجارت جاری ہے۔ ہندوستان کو ایکسپورٹس آٹے میں نمک برابر اور امپورٹس نمک میں آٹے برابر ۔۔ یعنی تجارتی خسارہ۔
افغانستان کو ایکسپورٹ نمک میں آٹے برابر اور امپورٹس آٹے میں نمک برابر تھیں یعنی تجارتی سرپلس کے باوجود افغانستان سے تجارت بند۔
افغانستان سے تجارت بند کرنے کی وجہ سے تجارتی خسارہ مزید بڑھ گیا کیونکہ پاکستان افغانستان کو ایکسپورٹس بہت زیادہ کرتا تھا جبکہ امپورٹس بہت کم تھیں۔ پاکستان کے دو صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کروڑوں عوام کی معیشت کا بڑا دارومدار افغانستان سے تجارت پر ہے۔
ڈان کی خبر
پاکستان کی 9 ممالک، افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کو ہونے والی برآمدات کی مالیت مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ (7MFY26) میں 16.86 فیصد کمی کے ساتھ 2.307 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 2.775 ارب ڈالر تھی۔
مالی سال 2025 میں ان نو ممالک کو ہونے والی برآمدات میں 1.49 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جو جولائی سے جون تک بڑھ کر 4.401 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ اس سے پچھلے سال اسی عرصے میں یہ 4.336 ارب ڈالر تھیں۔
اس کے برعکس، درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 23.69 فیصد بڑھ کر 11.31 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 9.14 ارب ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 میں بھی درآمدات 20.66 فیصد اضافے کے ساتھ 16.698 ارب ڈالر رہیں جو اس سے پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں 13.838 ارب ڈالر تھیں۔
مزید تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ چین سے ہونے والی درآمدات مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 24.58 فیصد اضافے کے ساتھ 11.097 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 8.907 ارب ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 میں چین سے درآمدات 16.312 ارب ڈالر رہیں، جو ایک سال پہلے کے 13.504 ارب ڈالر کے مقابلے میں 20.79 فیصد زیادہ تھیں۔ اس خطے میں درآمدات کا بڑا حصہ چین سے آتا ہے، جس کے بعد جزوی طور پر بھارت اور بنگلہ دیش کا نمبر ہے۔
چین کو پاکستان کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے جو مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 1.02 فیصد گر کر 1.467 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 1.482 ارب ڈالر تھیں۔
*بھارت سے ہونے والی درآمدات مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 9.44 فیصد کم ہو کر 122.56 ملین ڈالر رہ گئیں، جو پہلے 135.35 ملین ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 میں نئی دہلی سے درآمدات بڑھ کر 220.58 ملین ڈالر ہو گئی تھیں جو اس سے پچھلے سال 206.89 ملین ڈالر تھیں۔ اس دوران برآمدات 2.926 ملین ڈالر رہیں، جن میں 0.404 ملین ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا۔*
*افغانستان کو ہونے والی برآمدات میں بڑی کمی دیکھی گئی، جو مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 59.07 فیصد گر کر 228.96 ملین ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 559.52 ملین ڈالر تھیں۔ اسی طرح درآمدات بھی 58.18 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 6.36 ملین ڈالر رہیں، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 15.21 ملین ڈالر تھیں۔*
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
فتنہ الہندوستان کی وجہ سے افغانستان کے ساتھ تجارت مکمل بند کر دی کہ وہاں سے دہشت گرد پاکستان پر حملے کرتے ہیں انکے پیچھے ہندوستان ہے۔
جبکہ ہندوستان کے ساتھ تجارت جاری ہے۔ ہندوستان کو ایکسپورٹس آٹے میں نمک برابر اور امپورٹس نمک میں آٹے برابر ۔۔ یعنی تجارتی خسارہ۔
افغانستان کو ایکسپورٹ نمک میں آٹے برابر اور امپورٹس آٹے میں نمک برابر تھیں یعنی تجارتی سرپلس کے باوجود افغانستان سے تجارت بند۔
افغانستان سے تجارت بند کرنے کی وجہ سے تجارتی خسارہ مزید بڑھ گیا کیونکہ پاکستان افغانستان کو ایکسپورٹس بہت زیادہ کرتا تھا جبکہ امپورٹس بہت کم تھیں۔ پاکستان کے دو صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کروڑوں عوام کی معیشت کا بڑا دارومدار افغانستان سے تجارت پر ہے۔
ڈان کی خبر
پاکستان کی 9 ممالک، افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کو ہونے والی برآمدات کی مالیت مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ (7MFY26) میں 16.86 فیصد کمی کے ساتھ 2.307 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 2.775 ارب ڈالر تھی۔
مالی سال 2025 میں ان نو ممالک کو ہونے والی برآمدات میں 1.49 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جو جولائی سے جون تک بڑھ کر 4.401 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ اس سے پچھلے سال اسی عرصے میں یہ 4.336 ارب ڈالر تھیں۔
اس کے برعکس، درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 23.69 فیصد بڑھ کر 11.31 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 9.14 ارب ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 میں بھی درآمدات 20.66 فیصد اضافے کے ساتھ 16.698 ارب ڈالر رہیں جو اس سے پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں 13.838 ارب ڈالر تھیں۔
مزید تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ چین سے ہونے والی درآمدات مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 24.58 فیصد اضافے کے ساتھ 11.097 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 8.907 ارب ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 میں چین سے درآمدات 16.312 ارب ڈالر رہیں، جو ایک سال پہلے کے 13.504 ارب ڈالر کے مقابلے میں 20.79 فیصد زیادہ تھیں۔ اس خطے میں درآمدات کا بڑا حصہ چین سے آتا ہے، جس کے بعد جزوی طور پر بھارت اور بنگلہ دیش کا نمبر ہے۔
چین کو پاکستان کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے جو مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 1.02 فیصد گر کر 1.467 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 1.482 ارب ڈالر تھیں۔
*بھارت سے ہونے والی درآمدات مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 9.44 فیصد کم ہو کر 122.56 ملین ڈالر رہ گئیں، جو پہلے 135.35 ملین ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025 میں نئی دہلی سے درآمدات بڑھ کر 220.58 ملین ڈالر ہو گئی تھیں جو اس سے پچھلے سال 206.89 ملین ڈالر تھیں۔ اس دوران برآمدات 2.926 ملین ڈالر رہیں، جن میں 0.404 ملین ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا۔*
*افغانستان کو ہونے والی برآمدات میں بڑی کمی دیکھی گئی، جو مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ میں 59.07 فیصد گر کر 228.96 ملین ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 559.52 ملین ڈالر تھیں۔ اسی طرح درآمدات بھی 58.18 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 6.36 ملین ڈالر رہیں، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 15.21 ملین ڈالر تھیں۔*
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 132 followers • News and unbiased commentary
Pakistan Times International
Photo
جب آپ کی آبزرویشن تیز ہو تو آپ کو کئی ایسے patterns نظر آنے لگتے ہیں جو عام لوگوں کی نظروں سے عمومی طور پر اوجھل رہتے ہیں۔ اس کی ایک دلچسپ مثال "پینٹاگون پیزا انڈیکس" یا PPI ہے
معاملہ کچھ یوں ہے کہ کہا جاتا ہے کہ اگر امریکی اسٹریٹجک عمارات جیسے پینٹاگون وغیرہ کے اطراف میں موجود فاسٹ فوڈز خاص کر پیزا کے حوالے سے، رات میں کیے جانے والے آرڈرز میں یکدم تیزی آجائے تو اس کا مطلب ہے کہ پینٹاگون میں موجود عملہ، اوور ٹائم لگا رہا ہے (جبھی پیزا کے آرڈرز میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے)
اور اس عملے کا اوور ٹائم لگانے کا مطلب ہے کہ پینٹاگون میں، امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے کسی اگلے ملٹری ایکشن پر زور و شور سے کام ہورہا ہے۔
آسان الفاظ میں، یہ تھیوری یہ کہتی ہے کہ جب امریکہ کسی ملٹری ایکشن پر کام کررہا ہوتا ہے تو پینٹاگون میں افسران اور عملے کو لمبے ورکنگ آورز تک کام کرنا پڑتا ہے۔ جب وہ رات گئے دیر تک رکتے ہیں تو لیٹ نائٹ snacking کے لیے پیزا آرڈر کرتے ہیں
اسی لیے یہ پینٹاگون پیزا انڈیکس نامی اصطلاح وجود میں آئی ہے
آج کل کی اطلاعات کے مطابق، اس انڈیکس میں پھر سے بھاری اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو اس بات کا سگنل ہے کہ امریکہ پھر کسی بڑے ملٹری ایکشن کی تیاری کررہا ہے جو کہ ظاہر ہے، ایران پر کاروائی کے حوالے سے ہے
سمجھانے کا مقصد ہے کہ شارپ آبزرویشن ہو، تو بہت سے کارآمد پیٹرنز، آپ کو مستقبل قریب میں جھانکنے اور اسی مطابق فیصلہ لینے کی زبردست صلاحیت فراہم کرسکتے ہیں
اس صلاحیت کو آپ بھی ڈیویلپ کرسکیں تو اپنی فیلڈ میں ہم عصروں سے کافی آگے جاسکتے ہیں۔
بڑے انویسٹرز اس صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ وہ وقت سے پہلے جان لیتے ہیں کہ اب مارکیٹ میں کیا ہونے والا ہے۔ وہ اسی حساب سے مارکیٹ میں داخل ہوتے یا پہلے ہی ایگزٹ کرجاتے ہیں!!!
نوٹ: پوسٹ کا موضوع تیز آبزرویشن اور pattern recognition کی صلاحیت کی اہمیت ہے۔ ایران، امریکہ جنگ یا اسرائیل نہیں
شہزاد حسین
معاملہ کچھ یوں ہے کہ کہا جاتا ہے کہ اگر امریکی اسٹریٹجک عمارات جیسے پینٹاگون وغیرہ کے اطراف میں موجود فاسٹ فوڈز خاص کر پیزا کے حوالے سے، رات میں کیے جانے والے آرڈرز میں یکدم تیزی آجائے تو اس کا مطلب ہے کہ پینٹاگون میں موجود عملہ، اوور ٹائم لگا رہا ہے (جبھی پیزا کے آرڈرز میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے)
اور اس عملے کا اوور ٹائم لگانے کا مطلب ہے کہ پینٹاگون میں، امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے کسی اگلے ملٹری ایکشن پر زور و شور سے کام ہورہا ہے۔
آسان الفاظ میں، یہ تھیوری یہ کہتی ہے کہ جب امریکہ کسی ملٹری ایکشن پر کام کررہا ہوتا ہے تو پینٹاگون میں افسران اور عملے کو لمبے ورکنگ آورز تک کام کرنا پڑتا ہے۔ جب وہ رات گئے دیر تک رکتے ہیں تو لیٹ نائٹ snacking کے لیے پیزا آرڈر کرتے ہیں
اسی لیے یہ پینٹاگون پیزا انڈیکس نامی اصطلاح وجود میں آئی ہے
آج کل کی اطلاعات کے مطابق، اس انڈیکس میں پھر سے بھاری اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو اس بات کا سگنل ہے کہ امریکہ پھر کسی بڑے ملٹری ایکشن کی تیاری کررہا ہے جو کہ ظاہر ہے، ایران پر کاروائی کے حوالے سے ہے
سمجھانے کا مقصد ہے کہ شارپ آبزرویشن ہو، تو بہت سے کارآمد پیٹرنز، آپ کو مستقبل قریب میں جھانکنے اور اسی مطابق فیصلہ لینے کی زبردست صلاحیت فراہم کرسکتے ہیں
اس صلاحیت کو آپ بھی ڈیویلپ کرسکیں تو اپنی فیلڈ میں ہم عصروں سے کافی آگے جاسکتے ہیں۔
بڑے انویسٹرز اس صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ وہ وقت سے پہلے جان لیتے ہیں کہ اب مارکیٹ میں کیا ہونے والا ہے۔ وہ اسی حساب سے مارکیٹ میں داخل ہوتے یا پہلے ہی ایگزٹ کرجاتے ہیں!!!
نوٹ: پوسٹ کا موضوع تیز آبزرویشن اور pattern recognition کی صلاحیت کی اہمیت ہے۔ ایران، امریکہ جنگ یا اسرائیل نہیں
شہزاد حسین
پاکستان کسٹمز کی مختلف کلکٹریٹس میں ضبط شدہ اربوں روپے مالیت کا سونا اور چاندی اسٹیٹ بینک میں جمع نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کسٹمز کی تمام انفورسمنٹ بشمول ایئر پورٹ کلکٹریٹس کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ ضبط شدہ سونا اور چاندی کے مکمل ڈیٹا اسٹیٹ بینک کے حوالے کریں۔جیو نیوز کے مطابق برسوں سے ضبط شدہ سونا اور چاندی کلکٹریٹس کی لاکرز میں پڑا ہوا ہے اور اسٹیٹ بینک میں جمع نہ ہونے کے باعث یہ قومی خزانے میں ظاہر نہیں ہو رہا۔مزید اطلاعات کے مطابق کسٹمز کلکٹریٹس کی مبینہ نااہلی کی وجہ سے ضبط شدہ سونے اور چاندی کی لاکرز میں تبدیلی یا چوری ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
#PakistanCustoms #StateBankOfPakistan
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
#PakistanCustoms #StateBankOfPakistan
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 132 followers • News and unbiased commentary
❤1