جناح گراونڈ میں اپوزیشن کا جلسہ روکنا ہو یا حیدرآباد سے کراچی جاتے ہوئے راستے بند کرنے ہوں، یہ کام تو سندھ حکومت نے آناً فاناً کیا اور سارے وسائل جھونک دیئے لیکن 17 سے عالمی معیار کا آگ بجھانے والا محکمہ نہ بنا سکے، ابھی تو ایوان صدر میں ویژن ویژن کی گردان سنائی جا رہی تھی اور ترقی کے وہ گیت گائے گئے کہ الامان الحفیظ۔ سندھ میں 17 سال مسلسل، بلا توقف اور بلا شرکت غیرے حکومت کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی ملک کے سب سے بڑے شہر کو عالمی معیار کا فائر ڈیپارٹمنٹ نہ دے سکی، آگ لگنے کے درجنوں ہولناک واقعات ہوئے لیکن انہیں کچھ شرم نہ آئی، لوگ جل کر بھسم ہوتے رہے لیکن یہ اپنی ہی مستی میں رہے۔ ایوان صدر میں بیٹھے خاموش تماشائی باہر نکل کر داد دے رہے تھے اور اِدھر ایک ہزار دکانیں جل کر خاکستر ہو رہی تھیں۔
امیر عباس
امیر عباس
بزرگ سیاستدان راجہ منور اپنی آپ بیتی "اعتراف" میں لکھتے ہیں کہ گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر نے بازارِ حُسن لاہور کی ایک خاتون نوبہار سے خفیہ نکاح کر لیا اور اسکے خاندان کے کہنے پر تقرریاں ہونے لگیں۔ ایک رات غصے کی حالت میں بھٹو صاحب نے کھر کو کہا کہ بہتر ہوتا کہ گورنر ہاؤس کو ایک نوٹیفکیشن سے ہیرا منڈی میں منتقل کر دیا جاتا۔۔۔
ماجد نظامی
ماجد نظامی
کل شب ایک ویڈیو کلپ میں گل پلازہ کا ایک منظر ذہن سے چمٹ گیا۔۔
جہاں عقل دل کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔۔
یہ منظر لفظوں میں سمٹنے والا نہیں۔۔
ایک جگہ سے ملبہ ہٹا تو بلڈنگ کے اندر جانے کی راہ داری نمایاں ہوئی۔۔۔
بس جیسے وقت کی زنجیر ٹوٹ گئی۔
وہ لوگ جو دوروز سے اس دھوئیں تپش کے باوجود بلڈنگ کے سامنے اپنوں سے جڑی کسی اچھی خبر کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔۔
رستہ کھلتا دیکھ کر دیوانہ وار دوڑے۔۔
نہ قدموں کو ہوش تھا، نہ سانسوں کی ترتیب۔
انتظامیہ روک رہی تھی کہ عمارت مخدوش ہے
“مت جاؤ… دیوار گرنے والی ہے!”
تصویر میں لرزتی اینٹیں صاف دکھائی دیتی تھیں،
ایک آدمی اس دیوار پر چڑھ رہا تھا
جیسے زندگی اور موت کے درمیان
کوئی آخری سیڑھی ہو۔
وہ جانتا تھا دیوار گرنے سے جو نقصان ہوگا اس سے بہت زیادہ نقصان تو ہو چکا۔۔
اندر کا طوفان باہر کی آواز سننے ہی کب دے رہا تھا۔۔ایک دھن سر پر سوار۔
اپنے پیارے کا چہرہ۔۔۔
جھلسا ہوا۔۔۔کوئلہ بنا ہوا وجود نہیں بلکہ۔۔۔ایک کونے میں دبکا سہما وجود جو اپنے پیارے کو دیکھ کر ہاتھ بڑھا دے گا کہ۔۔بھائی تم آگئے۔۔بہت دیر کردی۔۔اب مجھے لے چلو"۔"
بھائی جلدی سے بھائی کا ہاتھ تھام کر شرمندگی سے سوچتا
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔۔۔۔
اس وقت ان بھاگتے قدموں کی دیوانگی میرے حواس کو آزاد نہیں ہونے دے رہی۔۔
کیسی محبت کہ اپنی جان کو
اپنے ہاتھوں سے پیچھے دھکیل دیا
اور رشتہ آگے آگیا۔
دو دن سے اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے والوں کے پورے وجود اب آنکھیں بن چکے ہیں۔۔
وہ صبر کی ہر حد پار کر چکے۔
ان کے لیے قانون ایک بے معنی لفظ۔۔۔
حفاظت ایک لاحاصل نصیحت،
اور ریاست ایک خاموش تماشائی۔
گل پلازہ جو ہزاروں خاندانوں کا کفیل تھا ۔۔۔
لوگ ملبے کے سامنے
اپنوں کو تلاش میں بیٹھے زندگی بھر کی جمع پونجی شعلوں کی نذر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
"جس نظام نے اس وقت کہا: "رکو
اس نے پہلے کیوں نہیں روکا؟
کیوں اینٹیں اجازت ناموں سے مضبوط ہوئیں۔۔
جہاں کاروبار کا لائسنس تو دیا گیا مگر زندگی کے تحفظ کا نہیں۔
جب آگ لگی تو نہ فائلیں بولیں نہ اجازت نامے۔۔
بولا تو محض وہ درد بولا جو عمارت بنانے سے پہلے اور بعد سیفٹی سے بے نیاز ہے۔
اور انسانی زندگی دکان سے کمزور۔۔
گل پلازہ کے ملبے سے جو لاشیں نکلتی ہے تو پتا چلتا ہے وہاں تو کئی سوال بھی دفن تھے،
ذمہ داریاں زمین بوس پڑی تھیں
اور وہ نظام دبا ہوا تھا
جو ہر سانحے کے بعد
خاموشی اوڑھ لیتا ہے یا معافی کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔۔
اب وقت آ گیا ہے
نظام کے نوحے کے بجائے اس کو بدلنے کا۔۔
تب تک اپنی مدد آپ کے تحت
اپنی زندگیوں کی حفاظت خود کرنا ہوگی۔۔
کیونکہ جب آگ لگتی ہے
تو صرف عمارت نہیں جلتی،
ریاست کا چہرہ بھی سیاہ ہو جاتا ہے۔
اور کل شب ریسکیو کے دوران لواحقین کا خود اندر گھسنا
ہلتی دیواروں پر چڑھنا۔۔
خطرے میں کود پڑنا
ایک دردناک سوال تھا کہ۔۔۔کیا انسانی جان کی قدر صرف اس کے لواحقین جانتے ہیں ریاست نہیں۔
اور جب ریاست تماشائی بن جائے تو انسان جان ہتھیلی پر رکھ کر خود ریاست بن جاتا ہے۔۔
چلو نکلتے اور تلاش کرتے ہیں اس ریاست کو جو ماں کے جیسی ہو۔۔
افشاں نوید
۔۔20 جنوری 2026ء
جہاں عقل دل کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔۔
یہ منظر لفظوں میں سمٹنے والا نہیں۔۔
ایک جگہ سے ملبہ ہٹا تو بلڈنگ کے اندر جانے کی راہ داری نمایاں ہوئی۔۔۔
بس جیسے وقت کی زنجیر ٹوٹ گئی۔
وہ لوگ جو دوروز سے اس دھوئیں تپش کے باوجود بلڈنگ کے سامنے اپنوں سے جڑی کسی اچھی خبر کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔۔
رستہ کھلتا دیکھ کر دیوانہ وار دوڑے۔۔
نہ قدموں کو ہوش تھا، نہ سانسوں کی ترتیب۔
انتظامیہ روک رہی تھی کہ عمارت مخدوش ہے
“مت جاؤ… دیوار گرنے والی ہے!”
تصویر میں لرزتی اینٹیں صاف دکھائی دیتی تھیں،
ایک آدمی اس دیوار پر چڑھ رہا تھا
جیسے زندگی اور موت کے درمیان
کوئی آخری سیڑھی ہو۔
وہ جانتا تھا دیوار گرنے سے جو نقصان ہوگا اس سے بہت زیادہ نقصان تو ہو چکا۔۔
اندر کا طوفان باہر کی آواز سننے ہی کب دے رہا تھا۔۔ایک دھن سر پر سوار۔
اپنے پیارے کا چہرہ۔۔۔
جھلسا ہوا۔۔۔کوئلہ بنا ہوا وجود نہیں بلکہ۔۔۔ایک کونے میں دبکا سہما وجود جو اپنے پیارے کو دیکھ کر ہاتھ بڑھا دے گا کہ۔۔بھائی تم آگئے۔۔بہت دیر کردی۔۔اب مجھے لے چلو"۔"
بھائی جلدی سے بھائی کا ہاتھ تھام کر شرمندگی سے سوچتا
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔۔۔۔
اس وقت ان بھاگتے قدموں کی دیوانگی میرے حواس کو آزاد نہیں ہونے دے رہی۔۔
کیسی محبت کہ اپنی جان کو
اپنے ہاتھوں سے پیچھے دھکیل دیا
اور رشتہ آگے آگیا۔
دو دن سے اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے والوں کے پورے وجود اب آنکھیں بن چکے ہیں۔۔
وہ صبر کی ہر حد پار کر چکے۔
ان کے لیے قانون ایک بے معنی لفظ۔۔۔
حفاظت ایک لاحاصل نصیحت،
اور ریاست ایک خاموش تماشائی۔
گل پلازہ جو ہزاروں خاندانوں کا کفیل تھا ۔۔۔
لوگ ملبے کے سامنے
اپنوں کو تلاش میں بیٹھے زندگی بھر کی جمع پونجی شعلوں کی نذر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
"جس نظام نے اس وقت کہا: "رکو
اس نے پہلے کیوں نہیں روکا؟
کیوں اینٹیں اجازت ناموں سے مضبوط ہوئیں۔۔
جہاں کاروبار کا لائسنس تو دیا گیا مگر زندگی کے تحفظ کا نہیں۔
جب آگ لگی تو نہ فائلیں بولیں نہ اجازت نامے۔۔
بولا تو محض وہ درد بولا جو عمارت بنانے سے پہلے اور بعد سیفٹی سے بے نیاز ہے۔
اور انسانی زندگی دکان سے کمزور۔۔
گل پلازہ کے ملبے سے جو لاشیں نکلتی ہے تو پتا چلتا ہے وہاں تو کئی سوال بھی دفن تھے،
ذمہ داریاں زمین بوس پڑی تھیں
اور وہ نظام دبا ہوا تھا
جو ہر سانحے کے بعد
خاموشی اوڑھ لیتا ہے یا معافی کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔۔
اب وقت آ گیا ہے
نظام کے نوحے کے بجائے اس کو بدلنے کا۔۔
تب تک اپنی مدد آپ کے تحت
اپنی زندگیوں کی حفاظت خود کرنا ہوگی۔۔
کیونکہ جب آگ لگتی ہے
تو صرف عمارت نہیں جلتی،
ریاست کا چہرہ بھی سیاہ ہو جاتا ہے۔
اور کل شب ریسکیو کے دوران لواحقین کا خود اندر گھسنا
ہلتی دیواروں پر چڑھنا۔۔
خطرے میں کود پڑنا
ایک دردناک سوال تھا کہ۔۔۔کیا انسانی جان کی قدر صرف اس کے لواحقین جانتے ہیں ریاست نہیں۔
اور جب ریاست تماشائی بن جائے تو انسان جان ہتھیلی پر رکھ کر خود ریاست بن جاتا ہے۔۔
چلو نکلتے اور تلاش کرتے ہیں اس ریاست کو جو ماں کے جیسی ہو۔۔
افشاں نوید
۔۔20 جنوری 2026ء
Forwarded from Politics Plus
نوازشریف دور میں امریکہ میں پاکستانی سفیر اور کئی بار رکن اسمبلی رہنے والی جھنگ کی سیدہ عابدہ حسین اپنی خودنوشت ’پاور فیلیئر: دی پولیٹیکل اوڈیسی آف اے پاکستانی وومین‘ میں لکھتی ہیں کہ جب جنرل آصف نواز جنجوعہ واشنگٹن آئے تو اُس وقت کے امریکی وزیردفاع ڈک چینی سے اُن کی ملاقات ہوئی جس کے بعد عابدہ حسین کے مطابق ڈک چینی نے اپنے عملے کو کمرے سے باہر جانے کو کہا۔
عابدہ حسین کے مطابق جنرل آصف نواز نے انھیں بھی باہر جانے کو کہا۔
وہ لکھتی ہیں کہ ’اجلاس کے بعد میں نے جنرل جنجوعہ سے کہا مجھے اندازہ کرنے دیں، ڈک چینی نے آپ کو اقتدار میں آنے کے لیے حمایت کی پیشکش کی؟ میری بات سُن کر جنرل جنجوعہ حیران رہ گئے اور مجھ سے پوچھا کہ کیا ڈک چینی نے مجھے یہ بات بتائی؟‘
عابدہ حسین کے مطابق، اس ملاقات کے دوران ڈک چینی نے ’جنرل آصف نواز کو اشارہ دیا کہ اگر وہ پاکستان میں اقتدار سنبھالنا چاہیں (یعنی مارشل لا لگانا چاہیں) تو امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔‘
https://www.bbc.com/urdu/articles/cjw14p16dw3o.lite
عابدہ حسین کے مطابق جنرل آصف نواز نے انھیں بھی باہر جانے کو کہا۔
وہ لکھتی ہیں کہ ’اجلاس کے بعد میں نے جنرل جنجوعہ سے کہا مجھے اندازہ کرنے دیں، ڈک چینی نے آپ کو اقتدار میں آنے کے لیے حمایت کی پیشکش کی؟ میری بات سُن کر جنرل جنجوعہ حیران رہ گئے اور مجھ سے پوچھا کہ کیا ڈک چینی نے مجھے یہ بات بتائی؟‘
عابدہ حسین کے مطابق، اس ملاقات کے دوران ڈک چینی نے ’جنرل آصف نواز کو اشارہ دیا کہ اگر وہ پاکستان میں اقتدار سنبھالنا چاہیں (یعنی مارشل لا لگانا چاہیں) تو امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔‘
https://www.bbc.com/urdu/articles/cjw14p16dw3o.lite
BBC News اردو
جنرل آصف نواز جنجوعہ: سابق آرمی چیف کی اچانک موت کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسر نے بی بی سی کو کیا بتایا؟
آٹھ جنوری 1993 کو جنرل آصف نواز جنجوعہ کی موت سرکاری موقف کے مطابق دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی مگر جن حالات میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کی موت ہوئی وہ ہنگامہ خیز تھے۔
اسلامی ریاست میں تو پرندے بھی بھوکے نہیں سوتے۔ پاکستان اور مغربی میڈیا چوبیس گھنٹے پروپیگنڈا کرتا ہے کہ افغانستان میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور کھانے پینے کو کچھ نہیں ہے، لیکن اسی ریاست میں برفباری کے دوران، جب زمین پوری طرح برف سے ڈھکی ہوتی ہے اور پرندوں کے لیے دانہ نہیں ملتا، تو وہاں کے حکام اور عوام برف ہٹا کر پرندوں کے لیے دانہ ڈالتے ہیں۔
یہی حقیقی انسانیت اور اسلامیت ہے۔ اسلامی ریاست میں کوئی بھوک سے نہیں مرتا، اور اگر کبھی ایسا ہو تو اس کے ذمہ دار خود حکام ہوتے ہیں۔
عادل راجہ
یہی حقیقی انسانیت اور اسلامیت ہے۔ اسلامی ریاست میں کوئی بھوک سے نہیں مرتا، اور اگر کبھی ایسا ہو تو اس کے ذمہ دار خود حکام ہوتے ہیں۔
عادل راجہ
گل پلازہ عمارت میں، آگ لگنے کے بعد جو حصہ نسبتاً محفوظ رہا، وہ اس کی چھت تھی۔ تصویر میں آپ چھت پر کھڑی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو صحیح سلامت حالت میں دیکھ سکتے ہیں
اگر، آگ لگنے کے بعد، ایک ہیلی کاپٹر یہاں بھیجا جاتا جو چھت سے زرا اوپر hover کرتا رہتا اور اس سے کمانڈوز نیچے اتر کر، اس چھت تک آنے والی ریمپ کے بند دروازے کو توڑ ڈالتے تو بے شمار قیمتی جانیں "انتہائی آسانی" سے بچائی جاسکتی تھیں
لیکن ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ عوام کا تحفظ اس نظام کی سرے سے ترجیح ہی نہیں
البتہ، اس نظام کی ترجیح کرکٹ ہے۔ دوسری تصویر میں آپ پی ایس ایل کے ایک میچ کے دوران، بارش ہوجانے کے بعد ہیلی کاپٹر دیکھ رہے ہیں جسے پچ سکھانے کے لیے لایا گیا تھا
میں اس بدنصیب مال سے نکلنے والی لاشیں، چھوٹے چھوٹے بچوں کی ہڈیاں دیکھ کر ابھی تک اذیت میں ہوں۔ کاش انھیں بچالیا جاتا۔ کاش کچھ extraordinary کوششیں کرلی جاتیں
یہ ریاست کرکٹ کو ایک اہم ٹول سمجھتی ہے اور اسے کافی اہمیت دیتی ہے۔
فرق صاف ظاہر ہے
اس وطن سے محبت اور نظام سے نفرت، ایک شعوری فیصلہ ہے!!!
شہزاد حسین
اگر، آگ لگنے کے بعد، ایک ہیلی کاپٹر یہاں بھیجا جاتا جو چھت سے زرا اوپر hover کرتا رہتا اور اس سے کمانڈوز نیچے اتر کر، اس چھت تک آنے والی ریمپ کے بند دروازے کو توڑ ڈالتے تو بے شمار قیمتی جانیں "انتہائی آسانی" سے بچائی جاسکتی تھیں
لیکن ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ عوام کا تحفظ اس نظام کی سرے سے ترجیح ہی نہیں
البتہ، اس نظام کی ترجیح کرکٹ ہے۔ دوسری تصویر میں آپ پی ایس ایل کے ایک میچ کے دوران، بارش ہوجانے کے بعد ہیلی کاپٹر دیکھ رہے ہیں جسے پچ سکھانے کے لیے لایا گیا تھا
میں اس بدنصیب مال سے نکلنے والی لاشیں، چھوٹے چھوٹے بچوں کی ہڈیاں دیکھ کر ابھی تک اذیت میں ہوں۔ کاش انھیں بچالیا جاتا۔ کاش کچھ extraordinary کوششیں کرلی جاتیں
یہ ریاست کرکٹ کو ایک اہم ٹول سمجھتی ہے اور اسے کافی اہمیت دیتی ہے۔
فرق صاف ظاہر ہے
اس وطن سے محبت اور نظام سے نفرت، ایک شعوری فیصلہ ہے!!!
شہزاد حسین
پاکستان اس وقت خاموش مگر خطرناک معاشی زوال سے گزر رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں 150 ٹیکسٹائل یونٹس، 100 سے زائد اسپننگ ملز اور 400 سے زائد جننگ فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک ایک کرکے ملک چھوڑ رہی ہیں، صنعتیں سکڑ رہی ہیں اور ڈی انڈسٹریلائزیشن تیزی سے حقیقت بن چکی ہے۔
ایسے میں پاکستان کو "ناقابلِ سرمایہ کاری ملک" کہنا مبالغہ نہیں بلکہ ایک تلخ اور ناقابلِ تردید سچ ہے۔
اعداد و شمار خود چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ مسئلہ کتنا سنگین ہے۔ سال 2019 میں نجی سرمایہ کاری 706 ارب روپے تھی، جو 2025 میں کم ہوکر صرف 377 ارب روپے رہ گئی ہے، یعنی تقریباً آدھی۔ جب سرمایہ کاری گرتی ہے تو روزگار ختم ہوتا ہے، پیداوار رکتی ہے اور معیشت سانس لینا چھوڑ دیتی ہے۔
حکومتی ادارے خود اعتراف کر رہے ہیں کہ بیروزگاری کی شرح گزشتہ 21 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
حکومتی ادارے 7.1 فیصد بیروزگاری کا فگر بتاتے ہیں، مگر صنعتکاروں کے مطابق یہ ڈیٹا زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا، گراؤنڈ پر بیروزگاری اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بند فیکٹریاں، خالی مشینیں اور بے روزگار ہنر مند اس بات کے گواہ ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ بحران ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اس تباہ کن سمت کو بدلنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی ہو رہی ہے؟
اگر یہی روش برقرار رہی تو سرمایہ بھی جائے گا، صنعت بھی، اور نوجوانوں کے ہاتھ میں صرف مایوسی رہ جائے گی۔
https://x.com/i/status/2014397392251191588
ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک ایک کرکے ملک چھوڑ رہی ہیں، صنعتیں سکڑ رہی ہیں اور ڈی انڈسٹریلائزیشن تیزی سے حقیقت بن چکی ہے۔
ایسے میں پاکستان کو "ناقابلِ سرمایہ کاری ملک" کہنا مبالغہ نہیں بلکہ ایک تلخ اور ناقابلِ تردید سچ ہے۔
اعداد و شمار خود چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ مسئلہ کتنا سنگین ہے۔ سال 2019 میں نجی سرمایہ کاری 706 ارب روپے تھی، جو 2025 میں کم ہوکر صرف 377 ارب روپے رہ گئی ہے، یعنی تقریباً آدھی۔ جب سرمایہ کاری گرتی ہے تو روزگار ختم ہوتا ہے، پیداوار رکتی ہے اور معیشت سانس لینا چھوڑ دیتی ہے۔
حکومتی ادارے خود اعتراف کر رہے ہیں کہ بیروزگاری کی شرح گزشتہ 21 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
حکومتی ادارے 7.1 فیصد بیروزگاری کا فگر بتاتے ہیں، مگر صنعتکاروں کے مطابق یہ ڈیٹا زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا، گراؤنڈ پر بیروزگاری اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بند فیکٹریاں، خالی مشینیں اور بے روزگار ہنر مند اس بات کے گواہ ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ بحران ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اس تباہ کن سمت کو بدلنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی ہو رہی ہے؟
اگر یہی روش برقرار رہی تو سرمایہ بھی جائے گا، صنعت بھی، اور نوجوانوں کے ہاتھ میں صرف مایوسی رہ جائے گی۔
https://x.com/i/status/2014397392251191588
X (formerly Twitter)
Harmeet Singh (@HarmeetSinghPk) on X
پاکستان اس وقت خاموش مگر خطرناک معاشی زوال سے گزر رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں 150 ٹیکسٹائل یونٹس، 100 سے زائد اسپننگ ملز اور 400 سے زائد جننگ فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک ایک کرکے ملک چھوڑ رہی ہیں، صنعتیں سکڑ رہی ہیں اور ڈی انڈسٹریلائزیشن…
ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک ایک کرکے ملک چھوڑ رہی ہیں، صنعتیں سکڑ رہی ہیں اور ڈی انڈسٹریلائزیشن…
وادی تیرہ آپریشن کس لئے ہو رہا ہے؟
اگر مثال درکار ہو تو جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو ہی دیکھ لیجیے۔ جن کے دور میں ایک کے بعد ایک بڑا آپریشن ہوا، اور جن کے نام کے ساتھ آج بھی پشاور آرمی پبلک اسکول جیسے سانحات قوم کے اجتماعی ضمیر پر سوال بن کر موجود ہیں۔
دوران سروس قوم کو قربانی صبر اور خاموشی کا درس دیا گیا،
مگر ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد وہ بھی ایک دن کے لیے پاکستان میں نہ رکے اور بیرون ملک جا کر نئی نوکری نیا پروٹوکول اور نیا آرام قبول کر لیا۔
یہی تو اصل تضاد ہے:
جن علاقوں میں آپریشن ہوئے وہ آج بھی خوف چیک پوسٹوں اور محرومی میں ہیں۔ مگر آپریشن کرنے والے
پرامن اور خوشحال ممالک میں عالمی ماہر بن کر بیٹھے ہیں۔ قبائلی علاقوں سے لوگوں کو نکالا گیا، زمینیں خالی کروائی گئیں۔ پھر انہیں علاقوں میں چلغوزے پہاڑ اور قیمتی زمین کاروبار کا حصہ بن گئی۔
یہ سب ہمیں جانا پہچانا لگتا ہے، کیونکہ یہی ماڈل كل انگریز سرکار استعمال کرتی تھی:
وسائل لوٹو، لوگوں کو قابو میں رکھو، اور اقتدار کے لیے حب الوطنی کے نعرے بیچو۔
اب بھی اگر ہم نے ایک زبان ہو کر سوال نہ اٹھایا تو تاریخ ہمیں مظلوم نہیں خاموش شریک لکھے گی۔
اگر مثال درکار ہو تو جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو ہی دیکھ لیجیے۔ جن کے دور میں ایک کے بعد ایک بڑا آپریشن ہوا، اور جن کے نام کے ساتھ آج بھی پشاور آرمی پبلک اسکول جیسے سانحات قوم کے اجتماعی ضمیر پر سوال بن کر موجود ہیں۔
دوران سروس قوم کو قربانی صبر اور خاموشی کا درس دیا گیا،
مگر ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد وہ بھی ایک دن کے لیے پاکستان میں نہ رکے اور بیرون ملک جا کر نئی نوکری نیا پروٹوکول اور نیا آرام قبول کر لیا۔
یہی تو اصل تضاد ہے:
جن علاقوں میں آپریشن ہوئے وہ آج بھی خوف چیک پوسٹوں اور محرومی میں ہیں۔ مگر آپریشن کرنے والے
پرامن اور خوشحال ممالک میں عالمی ماہر بن کر بیٹھے ہیں۔ قبائلی علاقوں سے لوگوں کو نکالا گیا، زمینیں خالی کروائی گئیں۔ پھر انہیں علاقوں میں چلغوزے پہاڑ اور قیمتی زمین کاروبار کا حصہ بن گئی۔
یہ سب ہمیں جانا پہچانا لگتا ہے، کیونکہ یہی ماڈل كل انگریز سرکار استعمال کرتی تھی:
وسائل لوٹو، لوگوں کو قابو میں رکھو، اور اقتدار کے لیے حب الوطنی کے نعرے بیچو۔
اب بھی اگر ہم نے ایک زبان ہو کر سوال نہ اٹھایا تو تاریخ ہمیں مظلوم نہیں خاموش شریک لکھے گی۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جھوٹی نبوت کے دعویدار یوسف کذاب کے خلیفے زید حامد کا عاصم منیر کی جانب سے پاکستانی فوج کو اسرائیل کے ماتحت کرکے غزہ میں مروانے پر کیا موقف ہے ؟
#ImranKhanIllegallyDetained
#Iran #TirahValley
https://www.tiktok.com/@truth.journey4
#ImranKhanIllegallyDetained
#Iran #TirahValley
https://www.tiktok.com/@truth.journey4
😁1🤣1
کچھ لوگ ڈیل کے لیے میری تشریف چوم رہے ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ
مشرق وسطی اور اسلامی ممالک کی فوج مل کر غزہ سے حماس کا خاتمہ کرے گی ، نیتن یاہو
پاکستان نے ہمیں خود اس پراسس کا حصہ بننے کی پیشکش کی ، مائیک روبیو
ہم نے بورڈ آف پیس بنانے کا اعلان کیا ہے شمولیت کی فیس ایک ارب ڈالرز ہوگی ، ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستان نے بورڈ آف پیس پر دستخط کردیے ہیں ، کٹھ پتلی وزیر اعظم شہباز شریف
ہمیں کچھ نہیں پتہ ، سب جھوٹ ہے ، یہ افواج پاکستان کے خلاف سازش ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر
مشرق وسطی اور اسلامی ممالک کی فوج مل کر غزہ سے حماس کا خاتمہ کرے گی ، نیتن یاہو
پاکستان نے ہمیں خود اس پراسس کا حصہ بننے کی پیشکش کی ، مائیک روبیو
ہم نے بورڈ آف پیس بنانے کا اعلان کیا ہے شمولیت کی فیس ایک ارب ڈالرز ہوگی ، ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستان نے بورڈ آف پیس پر دستخط کردیے ہیں ، کٹھ پتلی وزیر اعظم شہباز شریف
ہمیں کچھ نہیں پتہ ، سب جھوٹ ہے ، یہ افواج پاکستان کے خلاف سازش ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر
😁2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مولانا عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے رہے اب عمران کے جیالے عاصم منیر کو اس انداز سے رسوا کررہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان میں اسکے رشتہ داروں عزیز و اقارب پر حکومت اور ایجنسیاں زمین تنگ کردیں گی انکی عزت آبرو پر حملہ آور ہونگی ۔
گستاخی معاف کیجئے گا مگر سوال تو بنتا ہے مولانا کی جماعت سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کا پاکستانی فوج کے غ ز ہ جا کر حماس کے خلاف لڑنے پر کیا ردعمل ہے؟
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
گستاخی معاف کیجئے گا مگر سوال تو بنتا ہے مولانا کی جماعت سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کا پاکستانی فوج کے غ ز ہ جا کر حماس کے خلاف لڑنے پر کیا ردعمل ہے؟
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
👍3😁1
Pakistan Times International
Photo
یہ تصویر نہیں، ہماری بے بسی کی نمائش ہے
انس رضوی کی تصویر لیک کرنا کوئی صحافتی غلطی نہیں تھی، یہ طاقت کا مظاہرہ تھا۔
یہ کھلا اعلان تھا:
“یہ لو، جو پٹنا ہے پٹ لو۔ ہم دکھا رہے ہیں، اور تم کچھ نہیں کر سکتے۔”
یہ تصویر ایک شخص کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں ، یہ پچیس کروڑ انسانوں کو یاد دلانے کے لیے ہے کہ وہ بکھرے ہوئے، کمزور اور بے حیثیت ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ہو کر بھی ہم اس قابل نہیں کہ اپنے ایک آدمی کو بچا سکیں — اس لیے نہیں کہ ہم کم ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں جان بوجھ کر ایک نہیں رہنے دیا گیا۔
ہمیں نسلوں میں بانٹا گیا، صوبوں میں بانٹا گیا، زبانوں میں بانٹا گیا، مسلکوں اور نظریات میں بانٹا گیا۔ ہر بار ایک نیا چہرہ سامنے لایا گیا اور کہا گیا:
“دیکھو، اس کے ساتھ یہ ہوا — عبرت حاصل کرو۔”
ماہ رنگ بلوچ ہو یا پنجاب کا ایک گمنام ورکر، کہانی ایک ہی ہے۔ نام بدل جاتے ہیں، چہرے بدل جاتے ہیں، مگر ظلم کا طریقہ نہیں بدلتا۔ ہر بار کوئی ایک اٹھایا جاتا ہے، اس کی تذلیل کی جاتی ہے، اور باقیوں کو خاموش رہنے کا سبق دیا جاتا ہے۔
اور ہم؟
ہم تماشائی بنے رہتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں: “یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔”
ہم کہتے ہیں: “یہ تو اس کا قصور تھا۔”
ہم کہتے ہیں: “ہمیں کیا؟”
اصل جرم یہی ہے۔
ہم نے اپنے اصل دشمن کو پہچاننے کے بجائے ایک دوسرے کے گریبان پکڑے۔ کوئی بلوچ کو غدار کہتا رہا، کوئی پنجابی کو ظالم، کوئی مذہب کے نام پر لڑتا رہا، کوئی زبان کے نام پر۔ اور جو سب کو کچل رہا تھا، وہ مسکراتا رہا — کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ہجوم کبھی قوم نہیں بنے گا۔
یہ ظلم اس لیے نہیں چل رہا کہ ظالم طاقتور ہیں،
یہ اس لیے چل رہا ہے کہ مظلوم بکھرے ہوئے ہیں۔
جب ایک قوم تصویر لیک ہونے پر بھی ایک دوسرے کا مذاق اڑائے،
جب وہ اپنی باری آنے تک خاموش رہے،
جب وہ سمجھ لے کہ “میری باری نہیں آئی” —
تو پھر باری آتی ضرور ہے۔
اور جب آتی ہے،
تو چیخ سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
یہ لڑائی کسی ایک شخص کی نہیں،
یہ جنگ عزت، وجود اور اجتماعی شعور کی ہے۔
یا ہم ایک ہو کر پہچانیں گے کہ ہمیں کون روند رہا ہے،
یا پھر اگلی تصویر، اگلا نام، اگلا عبرت کا نمونہ
ہم میں سے ہی کوئی ہوگا۔
اور اس وقت بھی شاید ہم یہی کہیں گے:
“یہ ہمارا مسئلہ نہیں تھا۔”
انس رضوی کی تصویر لیک کرنا کوئی صحافتی غلطی نہیں تھی، یہ طاقت کا مظاہرہ تھا۔
یہ کھلا اعلان تھا:
“یہ لو، جو پٹنا ہے پٹ لو۔ ہم دکھا رہے ہیں، اور تم کچھ نہیں کر سکتے۔”
یہ تصویر ایک شخص کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں ، یہ پچیس کروڑ انسانوں کو یاد دلانے کے لیے ہے کہ وہ بکھرے ہوئے، کمزور اور بے حیثیت ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ہو کر بھی ہم اس قابل نہیں کہ اپنے ایک آدمی کو بچا سکیں — اس لیے نہیں کہ ہم کم ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں جان بوجھ کر ایک نہیں رہنے دیا گیا۔
ہمیں نسلوں میں بانٹا گیا، صوبوں میں بانٹا گیا، زبانوں میں بانٹا گیا، مسلکوں اور نظریات میں بانٹا گیا۔ ہر بار ایک نیا چہرہ سامنے لایا گیا اور کہا گیا:
“دیکھو، اس کے ساتھ یہ ہوا — عبرت حاصل کرو۔”
ماہ رنگ بلوچ ہو یا پنجاب کا ایک گمنام ورکر، کہانی ایک ہی ہے۔ نام بدل جاتے ہیں، چہرے بدل جاتے ہیں، مگر ظلم کا طریقہ نہیں بدلتا۔ ہر بار کوئی ایک اٹھایا جاتا ہے، اس کی تذلیل کی جاتی ہے، اور باقیوں کو خاموش رہنے کا سبق دیا جاتا ہے۔
اور ہم؟
ہم تماشائی بنے رہتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں: “یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔”
ہم کہتے ہیں: “یہ تو اس کا قصور تھا۔”
ہم کہتے ہیں: “ہمیں کیا؟”
اصل جرم یہی ہے۔
ہم نے اپنے اصل دشمن کو پہچاننے کے بجائے ایک دوسرے کے گریبان پکڑے۔ کوئی بلوچ کو غدار کہتا رہا، کوئی پنجابی کو ظالم، کوئی مذہب کے نام پر لڑتا رہا، کوئی زبان کے نام پر۔ اور جو سب کو کچل رہا تھا، وہ مسکراتا رہا — کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ہجوم کبھی قوم نہیں بنے گا۔
یہ ظلم اس لیے نہیں چل رہا کہ ظالم طاقتور ہیں،
یہ اس لیے چل رہا ہے کہ مظلوم بکھرے ہوئے ہیں۔
جب ایک قوم تصویر لیک ہونے پر بھی ایک دوسرے کا مذاق اڑائے،
جب وہ اپنی باری آنے تک خاموش رہے،
جب وہ سمجھ لے کہ “میری باری نہیں آئی” —
تو پھر باری آتی ضرور ہے۔
اور جب آتی ہے،
تو چیخ سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
یہ لڑائی کسی ایک شخص کی نہیں،
یہ جنگ عزت، وجود اور اجتماعی شعور کی ہے۔
یا ہم ایک ہو کر پہچانیں گے کہ ہمیں کون روند رہا ہے،
یا پھر اگلی تصویر، اگلا نام، اگلا عبرت کا نمونہ
ہم میں سے ہی کوئی ہوگا۔
اور اس وقت بھی شاید ہم یہی کہیں گے:
“یہ ہمارا مسئلہ نہیں تھا۔”
👍2
Forwarded from TALKING PICS
ضلع کرم کے متاثرین کے کیمپ میں دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے،
جہاں ایک 8 سالہ بچے کے پاؤں میں جرابوں کے بجائے پلاسٹک کے شاپرز لپٹے ہوئے تھے ایسے مناظر جنہیں لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
#FrozenToDeathInTirah
#TirahValley
#PakistanArmyOppression
@talkingpics
جہاں ایک 8 سالہ بچے کے پاؤں میں جرابوں کے بجائے پلاسٹک کے شاپرز لپٹے ہوئے تھے ایسے مناظر جنہیں لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
#FrozenToDeathInTirah
#TirahValley
#PakistanArmyOppression
@talkingpics
❤1
ریاستیں اپنی ضرورت کے حساب سے اپنا ماسک تبدیل کرتی ہیں۔ ماسک سے مراد یہاں سول حکومتیں ہیں۔
مثلاً امریکہ کئی دہائیوں تک سافٹ پاور کا حامل تھا۔ کوئی ملک اس کی مرضی کے خلاف جانا گوارا ہی نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے وہاں حالیہ عرصے میں کلنٹن، بش، اوبامہ اور بائیڈن جیسے نارمل رویوں کے حامل حکمران رہے
لیکن اب امریکہ کے لیے غیر معمولی صورتحال بنتی جارہی ہے۔ ڈالر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ کچھ اسٹریٹیجک بلاکس اپنی کرنسی میں ٹریڈ کو فروغ دے رہے ہیں۔ دنیا اب امریکی اثر و رسوخ کو کھل کر نظر انداز کررہی ہے
اسی وجہ سے امریکہ کو اب بحالت مجبوری، جارحانہ انداز اختیار کرنا پڑ رہا ہے
لہذا اب اوبامہ یا بائیڈن جیسے شخص کی بجائے، ٹرمپ جیسا شخص سامنے لانا امریکہ کی مجبوری بن چکا ہے۔
یہ نارمل بات نہیں کہ ایک طرف امریکہ چین کے خلاف کھل کر سرد جنگ لڑ رہا ہے جبکہ دوسری طرف کینیڈا اور یورپ جیسے دیرینہ اتحادی، امریکہ کو نظر انداز کرکے، چین سے ٹریڈ ڈیلز کررہے ہیں
دنیا بہت ہنگامہ خیز ہونے جارہی ہے!!!!
شہزاد حسین
مثلاً امریکہ کئی دہائیوں تک سافٹ پاور کا حامل تھا۔ کوئی ملک اس کی مرضی کے خلاف جانا گوارا ہی نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے وہاں حالیہ عرصے میں کلنٹن، بش، اوبامہ اور بائیڈن جیسے نارمل رویوں کے حامل حکمران رہے
لیکن اب امریکہ کے لیے غیر معمولی صورتحال بنتی جارہی ہے۔ ڈالر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ کچھ اسٹریٹیجک بلاکس اپنی کرنسی میں ٹریڈ کو فروغ دے رہے ہیں۔ دنیا اب امریکی اثر و رسوخ کو کھل کر نظر انداز کررہی ہے
اسی وجہ سے امریکہ کو اب بحالت مجبوری، جارحانہ انداز اختیار کرنا پڑ رہا ہے
لہذا اب اوبامہ یا بائیڈن جیسے شخص کی بجائے، ٹرمپ جیسا شخص سامنے لانا امریکہ کی مجبوری بن چکا ہے۔
یہ نارمل بات نہیں کہ ایک طرف امریکہ چین کے خلاف کھل کر سرد جنگ لڑ رہا ہے جبکہ دوسری طرف کینیڈا اور یورپ جیسے دیرینہ اتحادی، امریکہ کو نظر انداز کرکے، چین سے ٹریڈ ڈیلز کررہے ہیں
دنیا بہت ہنگامہ خیز ہونے جارہی ہے!!!!
شہزاد حسین
جب ایک ڈیڑھ سو روپے کی لنڈے کی جیکٹ پہننے والے کو دو ہزار کا چالان کرو گے تو کیا وہ زندہ رہ پائے گا ؟
افسوس گجرات میں شام کے وقت طاہر بیگ جو کہ ایک دیہاڑی دار غریب بندہ تھا اپنے کام سے واپس آرہا تھا کہ وراڈن والوں نے روکا
یہ بیچارہ منتیں کرتا رہا کہ میرے حالات نہیں ہیں لیکن کسی نے ایک نہیں سنی ان کو اپنے کمیشن سے غرض تھا
حتیٰ کے یہ رونے لگ گیا کہ میری جیب میں چند سو کے علاوہ کچھ نہیں ہے گھر میں بچے انتظار میں ہیں مجھ پہ رحم کرو
لیکن انہوں نے 2000 کا چالان کردیا جس کی وجہ سے یہ وہیں موقع پہ گرا اور ختم ہوگیا ۔
وارڈن والوں نے اس کی موٹر سائیکل کو پکڑا اور اس کو لے گئے جبکہ یہ وہیں پہ گرا پڑا رہا کہنے لگے کہ ڈرامے بازی کر رہا ہے ۔
جب لوگ اکٹھے ہوئے اور اس کو لیٹایا تو پتا چلا کہ یہ بیچارہ دو ہزار کا صدمہ برداشت نہیں کر سکا جب جیب چیک کی گئی تو چند سو روپے اور ایک پرانا سا موبائل نکلا
یہ ہماری بے حسی کا عالم ہے اب چاہے ڈی پی او نوٹس لے لیں لیکن کیا ہوگا ؟؟؟
کیا اس کے گھر والوں کی کفالت حکومت کرے گی ؟؟؟؟
https://x.com/i/status/2022919655069782474
افسوس گجرات میں شام کے وقت طاہر بیگ جو کہ ایک دیہاڑی دار غریب بندہ تھا اپنے کام سے واپس آرہا تھا کہ وراڈن والوں نے روکا
یہ بیچارہ منتیں کرتا رہا کہ میرے حالات نہیں ہیں لیکن کسی نے ایک نہیں سنی ان کو اپنے کمیشن سے غرض تھا
حتیٰ کے یہ رونے لگ گیا کہ میری جیب میں چند سو کے علاوہ کچھ نہیں ہے گھر میں بچے انتظار میں ہیں مجھ پہ رحم کرو
لیکن انہوں نے 2000 کا چالان کردیا جس کی وجہ سے یہ وہیں موقع پہ گرا اور ختم ہوگیا ۔
وارڈن والوں نے اس کی موٹر سائیکل کو پکڑا اور اس کو لے گئے جبکہ یہ وہیں پہ گرا پڑا رہا کہنے لگے کہ ڈرامے بازی کر رہا ہے ۔
جب لوگ اکٹھے ہوئے اور اس کو لیٹایا تو پتا چلا کہ یہ بیچارہ دو ہزار کا صدمہ برداشت نہیں کر سکا جب جیب چیک کی گئی تو چند سو روپے اور ایک پرانا سا موبائل نکلا
یہ ہماری بے حسی کا عالم ہے اب چاہے ڈی پی او نوٹس لے لیں لیکن کیا ہوگا ؟؟؟
کیا اس کے گھر والوں کی کفالت حکومت کرے گی ؟؟؟؟
https://x.com/i/status/2022919655069782474
عاصم منیر کی ناکام مہم جوئی، ظلم و بربریت اور ناجائز مطالبات کے باوجود افغان حکومت نے سعودی عرب کی درخواست پر ایک بار پھر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تین فوجیوں کو رہا کر دیا جو عاصم منیر کی ذاتی انتہا پسندی اور جنگی جنون سے پیدا ہونے والے حالات کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ افغان حکومت کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے اور اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آزاد حکومتیں اپنے فیصلے خود کرتی ہیں، نہ کہ غلام حکومتوں کی طرح ہر قدم پر امریکہ سے اجازت لینے کی محتاج ہوتی ہیں۔
عادل راجہ
عادل راجہ
حکومت پنجاب نے ایک لگژری بزنس جیٹ خریدا ہے جس کی مالیت دس ارب روپے سے زائد ہے
جیسا کہ ٹک ٹاکر وزیر اعلیٰ کی کنیز عظمیٰ نے کہا یہ طیارہ پنجاب ایئر کے لیے لیا گیا ہے مگر گلف اسٹریم سیریز کے اس نوعیت کے طیارے عموماً وی آئی پی اور محدود نجی سفر کے لیے استعمال ہوتے ہیں نہ کہ عوامی فضائی سروس کے لیے
اس طیارے کے اخراجات محض خریداری تک محدود نہیں اندازہ ہے کہ اس کا آپریٹنگ خرچ پچیس لاکھ روپے فی گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ ہے جبکہ سالانہ مینٹیننس لاگت تین سے پانچ ملین ڈالر کے درمیان رہتی ہے بزنس جیٹس میں کیلنڈر بیسڈ اور فلائٹ آور بیسڈ دونوں طرح کی لازمی دیکھ بھال شامل ہوتی ہے یعنی جہاز کھڑا رہنے پر بھی بھاری اخراجات جاری رہتے ہیں ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسے صوبے میں جہاں بنیادی سہولیات اور انسانی ترقی کے اشاریے شدید دباؤ میں ہوں یہ خرچ عوامی مفاد کے مطابق ہے
پاکستان میں کروڑوں افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، بچے غذائی قلت اور تعلیمی محرومی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، مگر پنجاب کی فارم 47 والی ٹک ٹاکر وزير اعلی کی ترجیحات ایک لگژری سرکاری طیارے کی خریداری میں جھلکتی ہیں۔ یہ فیصلہ انتظامی ضرورت سے زیادہ اشرافیانہ ذہنیت اور وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔جب عوام بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہوں اور اقتدار کے ایوانوں میں آسائشیں بڑھائی جا رہی ہوں تو یہ حکمرانی نہیں بلکہ عوامی مسائل سے لاتعلقی کا کھلا اظہار ہوتا ہے۔
#نااہل_حکمراں_عوام_پریشان
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
جیسا کہ ٹک ٹاکر وزیر اعلیٰ کی کنیز عظمیٰ نے کہا یہ طیارہ پنجاب ایئر کے لیے لیا گیا ہے مگر گلف اسٹریم سیریز کے اس نوعیت کے طیارے عموماً وی آئی پی اور محدود نجی سفر کے لیے استعمال ہوتے ہیں نہ کہ عوامی فضائی سروس کے لیے
اس طیارے کے اخراجات محض خریداری تک محدود نہیں اندازہ ہے کہ اس کا آپریٹنگ خرچ پچیس لاکھ روپے فی گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ ہے جبکہ سالانہ مینٹیننس لاگت تین سے پانچ ملین ڈالر کے درمیان رہتی ہے بزنس جیٹس میں کیلنڈر بیسڈ اور فلائٹ آور بیسڈ دونوں طرح کی لازمی دیکھ بھال شامل ہوتی ہے یعنی جہاز کھڑا رہنے پر بھی بھاری اخراجات جاری رہتے ہیں ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسے صوبے میں جہاں بنیادی سہولیات اور انسانی ترقی کے اشاریے شدید دباؤ میں ہوں یہ خرچ عوامی مفاد کے مطابق ہے
پاکستان میں کروڑوں افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، بچے غذائی قلت اور تعلیمی محرومی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، مگر پنجاب کی فارم 47 والی ٹک ٹاکر وزير اعلی کی ترجیحات ایک لگژری سرکاری طیارے کی خریداری میں جھلکتی ہیں۔ یہ فیصلہ انتظامی ضرورت سے زیادہ اشرافیانہ ذہنیت اور وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔جب عوام بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہوں اور اقتدار کے ایوانوں میں آسائشیں بڑھائی جا رہی ہوں تو یہ حکمرانی نہیں بلکہ عوامی مسائل سے لاتعلقی کا کھلا اظہار ہوتا ہے۔
#نااہل_حکمراں_عوام_پریشان
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 187 followers • News and unbiased commentary
جب پاکستانی کرکٹرز نے اپنے محسن عمران خان کو انعام کے لالچ میں اذیت ناک لمحے سے دوچار کیا۔۔۔عمران خان نے اپنی کتاب" میں اور میرا پاکستان" میں لکھا ہے:۔
"۔۔۔آسٹریلیا سے وطن واپس آتے ہوئے جب سنگا پور میں ہم رکے تو پاکستانی سفیر نے شوکت خانم کے لیے مجھے چیک دیا۔ میرا خیال ہے کہ تب کھلاڑیوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ انعام تو دراصل انہیں ملنا چاہیے تھا۔ پھر ہم لاہور پہنچے جہاں شہر کے تاجروں نے سترہویں صدی کے مغل بادشاہ شاہ جہاں کے تعمیر کردہ شالیمار باغ میں ہمارے اعزاز میں استقبالیے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہسپتال کے لیے کچھ رقم انہوں نے اکٹھی کر رکھی ہے۔ میں ششدر رہ گیا جب ٹیم اس تقریب سے احتجاجا اٹھ کر چلی گئی۔ زندگی میں کتنے ہی حادثے مجھ پر گزرے ہیں۔ میری ماں کی موت، اشرف الحق کی زبانی مشرقی پاکستان کے قتل عام کی تفصیل، کھیل کے زمانہ عروج میں ٹانگ ٹوٹ جانا لیکن ایسی اذیت مجھے کبھی نہ پہنچی تھی۔ یہ وہ کھلاڑی تھے، جن کے انتخاب اور تربیت میں میرا حصہ تھا۔ میں بری طرح مایوس ہوا۔ انعامات ہمیشہ برابر تقسیم کیے جاتے ۔ اگر کوئی مین آف دی میچ ہو تب بھی کھلاڑیوں کو حصہ دیا جاتا۔ تقریباً دس گیارہ برس سے میں مین آف دی سیریز چلا آرہا تھا۔ ہر بار ہر انعام میں نے تقسیم کیا۔ اکثر کھلاڑیوں نے بعد میں معافی مانگی۔ بعض نے کہا کہ دوسروں نے انہیں گمراہ کیا۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ 1992ء کی فتح کے بعد لالچ کے بیج بوئے گئے ۔ سب کو 90 ہزار پاؤنڈ فی کس ملے۔ کبھی کسی کھلاڑی نے اتنی دولت نہ کمائی تھی۔۔۔"
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
"۔۔۔آسٹریلیا سے وطن واپس آتے ہوئے جب سنگا پور میں ہم رکے تو پاکستانی سفیر نے شوکت خانم کے لیے مجھے چیک دیا۔ میرا خیال ہے کہ تب کھلاڑیوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ انعام تو دراصل انہیں ملنا چاہیے تھا۔ پھر ہم لاہور پہنچے جہاں شہر کے تاجروں نے سترہویں صدی کے مغل بادشاہ شاہ جہاں کے تعمیر کردہ شالیمار باغ میں ہمارے اعزاز میں استقبالیے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہسپتال کے لیے کچھ رقم انہوں نے اکٹھی کر رکھی ہے۔ میں ششدر رہ گیا جب ٹیم اس تقریب سے احتجاجا اٹھ کر چلی گئی۔ زندگی میں کتنے ہی حادثے مجھ پر گزرے ہیں۔ میری ماں کی موت، اشرف الحق کی زبانی مشرقی پاکستان کے قتل عام کی تفصیل، کھیل کے زمانہ عروج میں ٹانگ ٹوٹ جانا لیکن ایسی اذیت مجھے کبھی نہ پہنچی تھی۔ یہ وہ کھلاڑی تھے، جن کے انتخاب اور تربیت میں میرا حصہ تھا۔ میں بری طرح مایوس ہوا۔ انعامات ہمیشہ برابر تقسیم کیے جاتے ۔ اگر کوئی مین آف دی میچ ہو تب بھی کھلاڑیوں کو حصہ دیا جاتا۔ تقریباً دس گیارہ برس سے میں مین آف دی سیریز چلا آرہا تھا۔ ہر بار ہر انعام میں نے تقسیم کیا۔ اکثر کھلاڑیوں نے بعد میں معافی مانگی۔ بعض نے کہا کہ دوسروں نے انہیں گمراہ کیا۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ 1992ء کی فتح کے بعد لالچ کے بیج بوئے گئے ۔ سب کو 90 ہزار پاؤنڈ فی کس ملے۔ کبھی کسی کھلاڑی نے اتنی دولت نہ کمائی تھی۔۔۔"
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 187 followers • News and unbiased commentary