عاصم منیر کے تین سال
الیکشنز کا التواء
فالس فلیگ آپریشن
سالے کو پے در پے عہدے
بیٹیوں کو ناجائز پاسپورٹ
برباد شدہ معیشت
دس ہزار گرفتاریاں
سو کے قریب لوگوں کا قتل
برباد معیشت
افغانستان سے لڑائی
ایران سے لڑائی
سندھ طاس معاہدہ معطل
سی پیک معطل
حماس سے لڑنے کی حامی بھرلی
ترپن سو ارب کی کرپشن
جعلی حکومتیں
دو آئینی ترامیم
ججز کے بیڈرومز میں کیمرے
الیکشنز کا التواء
فالس فلیگ آپریشن
سالے کو پے در پے عہدے
بیٹیوں کو ناجائز پاسپورٹ
برباد شدہ معیشت
دس ہزار گرفتاریاں
سو کے قریب لوگوں کا قتل
برباد معیشت
افغانستان سے لڑائی
ایران سے لڑائی
سندھ طاس معاہدہ معطل
سی پیک معطل
حماس سے لڑنے کی حامی بھرلی
ترپن سو ارب کی کرپشن
جعلی حکومتیں
دو آئینی ترامیم
ججز کے بیڈرومز میں کیمرے
👍1👎1
کچھ تصویریں گردش کررہی ہیں کہ تحریک انصاف کے کچھ سیاستدان بابر افتخار کے این ڈی یو کے الوداعی ڈنر میں شریک ہیں۔ ملنا ملانا ، کسی سے اچھے تعلقات رکھنا، سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں نہ بدلنا یہ سب سیاست اور انسانیت کی خوبصورتیاں ہیں۔ ہونی چاہییں۔
لیکن ہمارا مسئلہ تھوڑا مختلف ہوچکا ہے۔ بابر افتخار اور اسکے قبیلے کی وجہ سے ہمارے لوگ مرے ہیں۔ اپاہج ہوئے ہیں۔ بے گھر ہوئے ہیں۔ دربدر ہوئے ہیں۔ ذلیل و رسوا ہوئے ہیں۔ انکے گھر گرائے گئے ہیں۔ انہیں بے عزت کیا گیا ہے۔ ان پر تشدد کیا گیا ہے۔ انکی عزتوں کا نشانہ لیکر بلیک میل کیا گیا ہے۔
ان لوگوں کا ان کے ساتھ کھڑے ہونا ، ان کے ساتھ ملنا ملانا ، ہمارے زخم چھیلتا ہے۔ اگر انکے چڈوں میں گھسنا پسند ہے تو ن لیگ ، پیپلزپارٹی میں چلے جائیں۔ ایم کیو ایم میں چلے جائیں۔ عمران خان کی قید تنہائی، درجنوں کارکنان کی شہادت ، دس ہزار گرفتاریوں اور لاکھوں صعوبتوں کو یوں اپنی خوشامد اور چاپلوسی کی نذر مت کریں۔
لیکن ہمارا مسئلہ تھوڑا مختلف ہوچکا ہے۔ بابر افتخار اور اسکے قبیلے کی وجہ سے ہمارے لوگ مرے ہیں۔ اپاہج ہوئے ہیں۔ بے گھر ہوئے ہیں۔ دربدر ہوئے ہیں۔ ذلیل و رسوا ہوئے ہیں۔ انکے گھر گرائے گئے ہیں۔ انہیں بے عزت کیا گیا ہے۔ ان پر تشدد کیا گیا ہے۔ انکی عزتوں کا نشانہ لیکر بلیک میل کیا گیا ہے۔
ان لوگوں کا ان کے ساتھ کھڑے ہونا ، ان کے ساتھ ملنا ملانا ، ہمارے زخم چھیلتا ہے۔ اگر انکے چڈوں میں گھسنا پسند ہے تو ن لیگ ، پیپلزپارٹی میں چلے جائیں۔ ایم کیو ایم میں چلے جائیں۔ عمران خان کی قید تنہائی، درجنوں کارکنان کی شہادت ، دس ہزار گرفتاریوں اور لاکھوں صعوبتوں کو یوں اپنی خوشامد اور چاپلوسی کی نذر مت کریں۔
اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار پاکستانی حکومت ہو گی: قاسم خان
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک حالیہ پوسٹ میں لکھا کہ ’میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔‘
قاسم خان نے اپنی ایکس پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’گزشتہ چھ ہفتوں سے انھیں (عمران خان) ایک ڈیتھ سیل میں مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو اُن سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی، حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں جن میں انھیں اپبے بھائی سے ملاقات کا حق دیا گیا ہے۔‘
سابق وزیرِ اعظم کے بیٹے نے اپنی ایکس پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’عمران خان سے نہ کسی فون کال پر رابطہ ہوا ہے، نہ ملاقات اور نہ ہی اس بات کی کوئی تصدیق کی جا رہے کہ وہ زندہ ہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔‘
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’یہ مکمل بلیک آؤٹ کوئی حفاظتی پروٹوکول نہیں ہے۔ یہ ان کی حالت کو چھپانے اور ہمارے خاندان کو یہ جاننے سے روکنے کی دانستہ کوشش ہے کہ آیا وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی سلوک کے نتیجے میں اگر اُن کے ساتھ کُچھ ہوتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری پاکستانی حکومت پر ہوگی۔‘
قاسم خان نے ایکس پر اپنے بیان کے آخر میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’وہ فوری طور پر ان معاملات میں مداخلت کریں۔ یہ تمام ادارے عمران خان کی زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے حکم کے مطابق اُن سے ملاقات اور اُن تک رسائی کو یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کا خاتمہ کرائیں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں، جنھیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔‘
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک حالیہ پوسٹ میں لکھا کہ ’میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔‘
قاسم خان نے اپنی ایکس پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’گزشتہ چھ ہفتوں سے انھیں (عمران خان) ایک ڈیتھ سیل میں مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو اُن سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی، حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں جن میں انھیں اپبے بھائی سے ملاقات کا حق دیا گیا ہے۔‘
سابق وزیرِ اعظم کے بیٹے نے اپنی ایکس پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’عمران خان سے نہ کسی فون کال پر رابطہ ہوا ہے، نہ ملاقات اور نہ ہی اس بات کی کوئی تصدیق کی جا رہے کہ وہ زندہ ہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔‘
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’یہ مکمل بلیک آؤٹ کوئی حفاظتی پروٹوکول نہیں ہے۔ یہ ان کی حالت کو چھپانے اور ہمارے خاندان کو یہ جاننے سے روکنے کی دانستہ کوشش ہے کہ آیا وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی سلوک کے نتیجے میں اگر اُن کے ساتھ کُچھ ہوتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری پاکستانی حکومت پر ہوگی۔‘
قاسم خان نے ایکس پر اپنے بیان کے آخر میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’وہ فوری طور پر ان معاملات میں مداخلت کریں۔ یہ تمام ادارے عمران خان کی زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے حکم کے مطابق اُن سے ملاقات اور اُن تک رسائی کو یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کا خاتمہ کرائیں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں، جنھیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔‘
👍1
Forwarded from Parent Guide
اس وقت معاشرے میں کسی چیز کو بیچنے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ اس کے تعارف میں یہ بتادیا جائے کہ اس سے آپ کو آسانی یا سہولت ہوگی۔
سہولت کا ملنا بُری بات نہیں لیکن لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہر سہولت اچھی نہیں ہوتی۔
وہ سہولت جو ہمیں اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں کا استعمال کرنے سے روک دے وہ وقتی طور پر کارآمد ہونے کے باوجود ہمارے لیے خطرناک ہے۔
اس وقت دنیا میں عضلات کی کمزوری کے مسائل بے پناہ بڑھ چکے ہیں۔
جس زمانے میں باورچی خانے میں سہولت کے لیے جدید معاون آلات نہیں ایجاد ہوئے تھے اس وقت عورتوں کو پکانے کی زحمت تو ہوتی تھی لیکن وہ بہت سے ایسے جسمانی عوارض سے بچی ہوئی تھیں جو آلات کا عادی ہو جانے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔
جسمانی سرگرمیوں کے کم ہو جانے سے بیماریوں کی بے شمار نئی اقسام نے جنم لیا ہے۔ موٹاپا، جوڑوں کے مسائل اور کندھوں کا منجمد ہو جانا ان میں سے چند ہیں۔
#SalmanAsifSiddiqui #ERDCpk #parentingcoach
سہولت کا ملنا بُری بات نہیں لیکن لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہر سہولت اچھی نہیں ہوتی۔
وہ سہولت جو ہمیں اپنے ہاتھوں اور ٹانگوں کا استعمال کرنے سے روک دے وہ وقتی طور پر کارآمد ہونے کے باوجود ہمارے لیے خطرناک ہے۔
اس وقت دنیا میں عضلات کی کمزوری کے مسائل بے پناہ بڑھ چکے ہیں۔
جس زمانے میں باورچی خانے میں سہولت کے لیے جدید معاون آلات نہیں ایجاد ہوئے تھے اس وقت عورتوں کو پکانے کی زحمت تو ہوتی تھی لیکن وہ بہت سے ایسے جسمانی عوارض سے بچی ہوئی تھیں جو آلات کا عادی ہو جانے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔
جسمانی سرگرمیوں کے کم ہو جانے سے بیماریوں کی بے شمار نئی اقسام نے جنم لیا ہے۔ موٹاپا، جوڑوں کے مسائل اور کندھوں کا منجمد ہو جانا ان میں سے چند ہیں۔
#SalmanAsifSiddiqui #ERDCpk #parentingcoach
❤1
پاکستان کی اس خطے میں ہر پڑوسی کے ساتھ خسارے کی تجارت تھی، ماسوائے افغانستان کے
یعنی پاکستان کی چین، بھارت اور ایران، ان سب کے ساتھ تجارت زیادہ تر خسارے میں ہی رہتی ہے۔ ایک افغانستان تھا جس سے پاکستان کی تجارت منافع میں رہتی تھی۔
اب سنا ہے پاکستان کی "شاندار خارجہ پالیسی" کی بدولت افغانستان نے بھی پاکستان سے تجارت بند کردی ہے۔ ظاہر ہے، اس تجارت کا پاکستان کے تاجر کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔
کہیں کچھ احمقوں کو دیکھا تھا جو افغانستان سے تجارت بند کرنے کے نعرے لگارہے تھے۔ وجہ پوچھی تو یہ بتائی گئی کہ افغانستان دشمن ملک ہے
ان بچارے احمقوں کو علم ہی نہیں کہ دیرینہ دشمن بھارت کے ساتھ مئی میں ہونے والی جھڑپ کے باوجود مسلسل (خسارے کی) تجارت جاری ہے۔
ایسے احمقوں کو ان تاجروں اور کسانوں کی کیا پرواہ جن بچاروں کا روزگار پاک افغان تجارت سے جڑا ہے
ان جاہلین کو کیا خبر کے پاکستان کے لیے ایکسپورٹس سے کمایا ایک ایک روپیہ قیمتی ہے۔
یہ وہ نادان ہیں جن کے لیے خواجہ آصف اور مقتدرہ کی بنائی پالیسیاں ہی حق سچ ہیں۔ یہ آج تک اپنا قومی مفاد ہی نہ سمجھ سکے!!!!
.شہزاد حسین
یعنی پاکستان کی چین، بھارت اور ایران، ان سب کے ساتھ تجارت زیادہ تر خسارے میں ہی رہتی ہے۔ ایک افغانستان تھا جس سے پاکستان کی تجارت منافع میں رہتی تھی۔
اب سنا ہے پاکستان کی "شاندار خارجہ پالیسی" کی بدولت افغانستان نے بھی پاکستان سے تجارت بند کردی ہے۔ ظاہر ہے، اس تجارت کا پاکستان کے تاجر کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔
کہیں کچھ احمقوں کو دیکھا تھا جو افغانستان سے تجارت بند کرنے کے نعرے لگارہے تھے۔ وجہ پوچھی تو یہ بتائی گئی کہ افغانستان دشمن ملک ہے
ان بچارے احمقوں کو علم ہی نہیں کہ دیرینہ دشمن بھارت کے ساتھ مئی میں ہونے والی جھڑپ کے باوجود مسلسل (خسارے کی) تجارت جاری ہے۔
ایسے احمقوں کو ان تاجروں اور کسانوں کی کیا پرواہ جن بچاروں کا روزگار پاک افغان تجارت سے جڑا ہے
ان جاہلین کو کیا خبر کے پاکستان کے لیے ایکسپورٹس سے کمایا ایک ایک روپیہ قیمتی ہے۔
یہ وہ نادان ہیں جن کے لیے خواجہ آصف اور مقتدرہ کی بنائی پالیسیاں ہی حق سچ ہیں۔ یہ آج تک اپنا قومی مفاد ہی نہ سمجھ سکے!!!!
.شہزاد حسین
👍2
پورے ملک میں واحد منتخب اور عوامی وزیر اعلی سہیل آفریدی ہے اب اسے بھی ہٹا کر گورنر راج لگا رہے ہیں مولانا فضل الرحمان نے تو چلیں پھر حکومت سے دوری اختیار کرکے اور مخالفت کرکے کچھ نہ کچھ کفارہ ادا کردیا ہے مگر نواز شریف آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم تاریخ کے کوڑے دان میں ہمیشہ کیلئے طاقتور کے تسموں سے لٹکنے والی قیادت کے طور پہ یاد رکھے جائیں گے ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی ماضی میں ضرور قربانیاں رہی ہیں مگر آج کی تاریخ میں وہ منتخب نہیں بلکہ غاصب حکمرانوں کے طور پہ پاکستان پہ قابض ہیں
فیض اللہ خان
فیض اللہ خان
👍2
Pakistan Times International
Photo
ابھی حال ہی میں، پاکستان اور افغانستان میں ایک جیسا واقعہ ہوا
میں دیت کے شرعی قانون کی بات کررہا ہوں
افغانستان میں ایک شخص نے ایک خاندان کے درجنوں افراد قتل کردئیے۔ افغان حکومت نے اس شخص کو گرفتار کرلیا۔ ہزاروں افراد کے سامنے اس کا مقدمہ پیش کیا گیا۔ مقتول کے خاندان والوں کے سامنے آپشنز پیش کیے گئے کہ آپ معاف کریں گے یا قصاص لیں گے
مقتول کے خاندان والوں نے قصاص کا فیصلہ کیا
اس فیصلے کے بعد اس خاندان کے ایک 13 سالہ بچے کو سامنے لایا گیا اور اس کے سامنے قاتل کو پیش کردیا گیا۔ بچے نے اسے قتل کرکے اپنا حساب برابر کرلیا
آپ کو اس کیس کے حوالے سے کتنے ہی تحفظات ہوں، پر یہ معاملہ عین شرعی اصولوں کے مطابق حل کیا گیا
دوسری طرف پاکستان میں متعدد واقعات ہوتے آئے جن میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد، لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے، اپنی کروڑوں روپے کی کار سے کسی عام شہری کو کچل کر ہلاک کردیتا ہے۔
میں اسے قتل عمد تو نہیں کہتا لیکن بہرحال مجرمانہ غفلت واضح طور پر موجود ہوتی ہے اور جیل کی سزا بنتی ہے
لیکن،
یہاں دیت کے قانون کا بھونڈا استعمال کرکے، مقتول کے گھر والوں سے ہمیشہ راضی نامہ قرار کر، مجرم کو صاف بچا لیا جاتا ہے۔
کارساز کراچی میں ہوا مشہور واقعہ یاد ہوگا جہاں یاک انتہائی امیر گھرانے کی لڑکی کو بچا لیا گیا تھا
اب چند دن پہلے ہی ایسا ایک واقعہ ہوتا ہے۔
ایک جج صاحب کا انڈر ایج لڑکا،لینڈ کروزر بھگاتا ہوا جارہا تھا جہاں رستے میں آنے والی دو معصوم اسکوٹی سوار لڑکیوں پر گاریاں چڑھا کر انھیں ہلاک کرڈالا
اب چونکہ یہ جج کا لڑکا تھا لہذا انتہائی برق رفتاری سے، صرف چند دنوں میں اس لڑکے کو معافی مقتولین کے خاندان سے معافی بھی مل گئی اور وہ باعزت بری ہوگیا۔ یہاں بھی دیت کے قانون کا استعمال کیا گیا جیسا کہ پہلے بھی ہوتا آیا ہے۔
یہ وہ ریاست ہے جہاں سود تو جاری و ساری ہے لیکن دیت کے قانون کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے
کیوں؟
یہ قانون اشرافیہ کے حق میں ہے
اس کی اصل روح پر افغانستان عمل پیرا ہے۔ پاکستان میں اسے محض اشرافیہ کے حق میں abuse کیا جارہا ہے
اشرافیہ کی بگڑی اولادوں کو پیغام دیا جاتا ہے کہ تم اندھا دھن گاڑیاں بھگاتے رہو، ہم تم صاف بچا لیں گے
ہم سب کو بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ کیس کے چلتے، مقتولین کے خاندان پر کیسے پریشر ڈالا جاتا ہوگا
شاہ رخ جتوئی کیس بھی آپ کو یاد ہوگا۔ اس میں بھی قاتل نے ایک معصوم لڑکے کو قتل کرکے، باآسانی "معافی" حاصل کرلی تھی
اب میں ایک دوسرے پہلو کو ڈسکس کرنا چاہ رہا ہوں کہ معاملہ ایک شرعی قانون کے استعمال کا ہے
افغانستان میں دیت کا قانون اپنی اصل روح میں استعمال کیا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں اس شرعی قانون کا مذاق بنایا ہوا ہے
اور یہ دونوں معاملات، یعنی افغانستان اور پاکستان والے کیسز، آگے پیچھے رونما ہوئے ہیں
ہمارے ہاں شریعت کے جتنے بھی guardians ہیں، آپ نے کسی کو بھی ان معاملات پر تبصرہ کرتے نہیں دیکھا ہوگا۔ اس حوالے سے علماء اور مفتیان کرام سب خاموش ہیں۔
کسی کو موازنہ یاد نہیں آرہا
اس ریاست نے تو، ریمنڈ ڈیوس کو بھی دیت کے قانون کا سہارا لے کر چھڑوایا تھا
افغانستان (بقول حضرت ڈونلڈ ٹرمپ) ہنوذ جہنم کا گڑھا ہے۔ وہاں شریعیت کا کتنا ہی پاس کیا جاتا ہو پر وہ ملعون ملک ہے
جبکہ پاکستان خدا کی خاص عنایت ہے اور اسلام کا قلعہ ہے
ایسے تمام افراد، نیشن اسٹیٹ کی خاطر، آخرت کا سودا کرچکے ہیں۔ انکا دین ایمان مقتدرہ اور اس کا بیانیہ ہے
ایسے معاملات میں کسی کو شریعت یاد نہیں آتی۔۔۔۔۔۔!!!!
شہزاد حسین
میں دیت کے شرعی قانون کی بات کررہا ہوں
افغانستان میں ایک شخص نے ایک خاندان کے درجنوں افراد قتل کردئیے۔ افغان حکومت نے اس شخص کو گرفتار کرلیا۔ ہزاروں افراد کے سامنے اس کا مقدمہ پیش کیا گیا۔ مقتول کے خاندان والوں کے سامنے آپشنز پیش کیے گئے کہ آپ معاف کریں گے یا قصاص لیں گے
مقتول کے خاندان والوں نے قصاص کا فیصلہ کیا
اس فیصلے کے بعد اس خاندان کے ایک 13 سالہ بچے کو سامنے لایا گیا اور اس کے سامنے قاتل کو پیش کردیا گیا۔ بچے نے اسے قتل کرکے اپنا حساب برابر کرلیا
آپ کو اس کیس کے حوالے سے کتنے ہی تحفظات ہوں، پر یہ معاملہ عین شرعی اصولوں کے مطابق حل کیا گیا
دوسری طرف پاکستان میں متعدد واقعات ہوتے آئے جن میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد، لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے، اپنی کروڑوں روپے کی کار سے کسی عام شہری کو کچل کر ہلاک کردیتا ہے۔
میں اسے قتل عمد تو نہیں کہتا لیکن بہرحال مجرمانہ غفلت واضح طور پر موجود ہوتی ہے اور جیل کی سزا بنتی ہے
لیکن،
یہاں دیت کے قانون کا بھونڈا استعمال کرکے، مقتول کے گھر والوں سے ہمیشہ راضی نامہ قرار کر، مجرم کو صاف بچا لیا جاتا ہے۔
کارساز کراچی میں ہوا مشہور واقعہ یاد ہوگا جہاں یاک انتہائی امیر گھرانے کی لڑکی کو بچا لیا گیا تھا
اب چند دن پہلے ہی ایسا ایک واقعہ ہوتا ہے۔
ایک جج صاحب کا انڈر ایج لڑکا،لینڈ کروزر بھگاتا ہوا جارہا تھا جہاں رستے میں آنے والی دو معصوم اسکوٹی سوار لڑکیوں پر گاریاں چڑھا کر انھیں ہلاک کرڈالا
اب چونکہ یہ جج کا لڑکا تھا لہذا انتہائی برق رفتاری سے، صرف چند دنوں میں اس لڑکے کو معافی مقتولین کے خاندان سے معافی بھی مل گئی اور وہ باعزت بری ہوگیا۔ یہاں بھی دیت کے قانون کا استعمال کیا گیا جیسا کہ پہلے بھی ہوتا آیا ہے۔
یہ وہ ریاست ہے جہاں سود تو جاری و ساری ہے لیکن دیت کے قانون کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے
کیوں؟
یہ قانون اشرافیہ کے حق میں ہے
اس کی اصل روح پر افغانستان عمل پیرا ہے۔ پاکستان میں اسے محض اشرافیہ کے حق میں abuse کیا جارہا ہے
اشرافیہ کی بگڑی اولادوں کو پیغام دیا جاتا ہے کہ تم اندھا دھن گاڑیاں بھگاتے رہو، ہم تم صاف بچا لیں گے
ہم سب کو بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ کیس کے چلتے، مقتولین کے خاندان پر کیسے پریشر ڈالا جاتا ہوگا
شاہ رخ جتوئی کیس بھی آپ کو یاد ہوگا۔ اس میں بھی قاتل نے ایک معصوم لڑکے کو قتل کرکے، باآسانی "معافی" حاصل کرلی تھی
اب میں ایک دوسرے پہلو کو ڈسکس کرنا چاہ رہا ہوں کہ معاملہ ایک شرعی قانون کے استعمال کا ہے
افغانستان میں دیت کا قانون اپنی اصل روح میں استعمال کیا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں اس شرعی قانون کا مذاق بنایا ہوا ہے
اور یہ دونوں معاملات، یعنی افغانستان اور پاکستان والے کیسز، آگے پیچھے رونما ہوئے ہیں
ہمارے ہاں شریعت کے جتنے بھی guardians ہیں، آپ نے کسی کو بھی ان معاملات پر تبصرہ کرتے نہیں دیکھا ہوگا۔ اس حوالے سے علماء اور مفتیان کرام سب خاموش ہیں۔
کسی کو موازنہ یاد نہیں آرہا
اس ریاست نے تو، ریمنڈ ڈیوس کو بھی دیت کے قانون کا سہارا لے کر چھڑوایا تھا
افغانستان (بقول حضرت ڈونلڈ ٹرمپ) ہنوذ جہنم کا گڑھا ہے۔ وہاں شریعیت کا کتنا ہی پاس کیا جاتا ہو پر وہ ملعون ملک ہے
جبکہ پاکستان خدا کی خاص عنایت ہے اور اسلام کا قلعہ ہے
ایسے تمام افراد، نیشن اسٹیٹ کی خاطر، آخرت کا سودا کرچکے ہیں۔ انکا دین ایمان مقتدرہ اور اس کا بیانیہ ہے
ایسے معاملات میں کسی کو شریعت یاد نہیں آتی۔۔۔۔۔۔!!!!
شہزاد حسین
❤4
ناسا سائنسدان یہ تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھتا ہے
"مکہ، سعودی عرب کا خلا سے نظارہ۔ مرکز میں روشن مقام کعبہ ہے، اسلام کا مقدس ترین مقام، خلا سے بھی نظر آتا ہے۔"
سبحـــــان اللہ
#خاتم_النبیین_محمدﷺ
"مکہ، سعودی عرب کا خلا سے نظارہ۔ مرکز میں روشن مقام کعبہ ہے، اسلام کا مقدس ترین مقام، خلا سے بھی نظر آتا ہے۔"
سبحـــــان اللہ
#خاتم_النبیین_محمدﷺ
❤2
سیکیوریٹی اسٹیٹ کیسے معشیت کھا جاتی ہے؟
اس کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ ایک اہم حالیہ مثال دیتا چلوں؛
پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ ایکسپورٹس کی گراوٹ ہے۔ ملک میں معشیت کی بیک بون ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ہے جس میں اہم ترین وہ بڑے ٹرالرز ہیں، جو کنٹینرز میں لدے مال کو ایک مقام سے دوسرے مقام لے کر جاتے ہیں
کیا آپ جانتے ہیں کہ مختلف مسائل کی وجہ سے، ٹرانسپورٹرز نے کئی دن سے ہڑتال کر رکھی ہے؟
اس ہڑتال کی وجوہات، بیک گراؤنڈ اور ان کے مطالبات کی فہرست طویل ہے۔ میں آپ کے ساتھ ایک ایسا واقعہ شئیر کرتا چلوں جس کا میں خود گواہ ہوں۔
پاکستان چونکہ ایک سیکیوریٹی اسٹیٹ ہے لہذا یہاں پر سویلین لیڈرشپ کو مینڈیٹ نہیں دیا جاسکتا تاکہ پالیسی میکنگ اپنے ہاتھ میں رکھی جاسکے
اسے یقینی بنانے کے لیے، سیاسی جلسے جلوسوں اور احتجاجی تحاریک کو کچلنا ضروری ہے
کچلنے کے لیے راستے بند کرنا اہم ترین امر ہے
اور اس اہم ترین "کام" کے لیے، کنٹینرز اور ٹرالرز زبردستی پکڑے جاتے ہیں۔
کچھ ہفتوں پہلے کشمیر میں زبردست احتجاج ہورہا تھا۔ اس احتجاج کو روکنے کے لیے ٹرالرز اور کنٹینرز زبردستی پکڑے گئے اور ان کے زریعے راستے بند کردئیے گئے
اس پکڑا دھکڑی میں ہمارے ایک بہت اچھے دوست، جن کا ٹرانسپورٹ کا بہت پرانا بزنس ہے، کے بھی ٹرالرز زبردستی پکڑ لیے گئے۔
پولیس اور مظاہرین کی آپس کی دھینگا مشتی میں، ان کے کنٹینرز اور ٹرالرز کو سخت نقصان پہنچا جو ملینز میں تھا۔ یہ صرف ایک بندے کی بات بتارہا ہوں۔ اندازہ کیجیے کہ کل نقصان کتنا بڑا اور شدید ہوگا۔
راستوں کی بندشوں کی وجہ سے جو کاروباری نقصان ہوا وہ الگ ہے
توڑ پھوڑ کے بعد پولیس تو کنارے سے نکل گئی۔ یہ بچارے ٹرانسپورٹرز اپنے اپنے کنٹینرز اور کروڑوں روپے مالیت کے ٹرالرز کی ریکوری کرنے کے لیے دھکے کھاتے پھر رہے تھے۔ کوئی سرکاری اہلکار مدد کو نہیں آیا۔ بڑی مشکل سے اپنی مدد آپ کے تحت انھوں نے اپنے کنٹینرز اور ٹرالرز بازیاب کیے لیکن بھاری نقصان پہنچ گیا تھا
تصور کیجیے کہ آپ لاکھوں کروڑوں انویسٹ کرکے کوئی ٹرالر خریدیں یا کسی کمپنی سے کنٹینر اٹھائیں، اور پھر سرکاری اہلکار وہ آپ سے زبردستی چھین کر مظاہرین کے آگے رکھ دے
آپ کے دل پر کیا گزرے گی؟
میرا ان ٹرانسپورٹرز کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے۔ ان کے مسائل بہت قریب سے جانتا ہوں۔ ان کے کیا خیالات اور جذبات ہوتے ہیں، یہاں لکھ نہیں سکتا
یہاں کا کاروباری اور تاجر طبقہ ایسے حالات سے دوچار ہے۔ جو بینکوں اور یونیورسٹیوں کالجوں کیں بیٹھ کر معشیت پر لیکچر دیتے اور کتابی باتیں کرتے ہیں، وہ عملی بزنس کی مشکلات اور چیلنجز سے مکمل طور پر بے خبر ہیں
آئے دن چالان اور جرمانوں کی بھرمار نے کاروباری طبقے کو بری طرح زچ کرکے رکھ دیا ہے۔ ان کی آپریشنل کاسٹ بلاوجہ بڑھتی جارہی ہے
یہ اپنی کاسٹ کو کس پر منتقل کریں گے؟
آپ، یعنی اینڈ کنزیومر پر۔۔۔۔۔۔۔
سیکیوریٹی اسٹیٹ ہونے کا تاوان پوری قوم نے بھرنا ہے۔ آپ مجھے ایک فائدہ نہیں گنوا سکتے جبکہ میں آپ کو ہزاروں نقصانات گنوا سکتا ہوں۔ یہ پالیسیاں ہماری معشیت، امن، تحفظ، قانون، سب کچھ بری طرح کھا رہی ہے۔
میں نے ابھی آپ کو ایک مثال دی ہے۔ ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جو عوام اور کاروباری طبقے کو روزانہ کی بنیاد پر ذلیل و خوار کررہی ہیں
جس ملک میں کاروبار کے یہ حالات ہوں، کیا وہ اپنی ایکسپورٹس بڑھا سکتا ہے؟ کیا وہ مینوفیکچرنگ ہب بن سکتا ہے؟ کیا وہاں ملٹی نیشنلز انویسٹمنٹ کرنے آئیں گی؟
خدارا اپنی آنکھیں کھولیے۔ اس نظام سے سوال کیجیے جو آپ اور آپ کے مستقبل کو کھارہا ہے!!!!
.
شہزاد حسین
اس کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ ایک اہم حالیہ مثال دیتا چلوں؛
پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ ایکسپورٹس کی گراوٹ ہے۔ ملک میں معشیت کی بیک بون ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ہے جس میں اہم ترین وہ بڑے ٹرالرز ہیں، جو کنٹینرز میں لدے مال کو ایک مقام سے دوسرے مقام لے کر جاتے ہیں
کیا آپ جانتے ہیں کہ مختلف مسائل کی وجہ سے، ٹرانسپورٹرز نے کئی دن سے ہڑتال کر رکھی ہے؟
اس ہڑتال کی وجوہات، بیک گراؤنڈ اور ان کے مطالبات کی فہرست طویل ہے۔ میں آپ کے ساتھ ایک ایسا واقعہ شئیر کرتا چلوں جس کا میں خود گواہ ہوں۔
پاکستان چونکہ ایک سیکیوریٹی اسٹیٹ ہے لہذا یہاں پر سویلین لیڈرشپ کو مینڈیٹ نہیں دیا جاسکتا تاکہ پالیسی میکنگ اپنے ہاتھ میں رکھی جاسکے
اسے یقینی بنانے کے لیے، سیاسی جلسے جلوسوں اور احتجاجی تحاریک کو کچلنا ضروری ہے
کچلنے کے لیے راستے بند کرنا اہم ترین امر ہے
اور اس اہم ترین "کام" کے لیے، کنٹینرز اور ٹرالرز زبردستی پکڑے جاتے ہیں۔
کچھ ہفتوں پہلے کشمیر میں زبردست احتجاج ہورہا تھا۔ اس احتجاج کو روکنے کے لیے ٹرالرز اور کنٹینرز زبردستی پکڑے گئے اور ان کے زریعے راستے بند کردئیے گئے
اس پکڑا دھکڑی میں ہمارے ایک بہت اچھے دوست، جن کا ٹرانسپورٹ کا بہت پرانا بزنس ہے، کے بھی ٹرالرز زبردستی پکڑ لیے گئے۔
پولیس اور مظاہرین کی آپس کی دھینگا مشتی میں، ان کے کنٹینرز اور ٹرالرز کو سخت نقصان پہنچا جو ملینز میں تھا۔ یہ صرف ایک بندے کی بات بتارہا ہوں۔ اندازہ کیجیے کہ کل نقصان کتنا بڑا اور شدید ہوگا۔
راستوں کی بندشوں کی وجہ سے جو کاروباری نقصان ہوا وہ الگ ہے
توڑ پھوڑ کے بعد پولیس تو کنارے سے نکل گئی۔ یہ بچارے ٹرانسپورٹرز اپنے اپنے کنٹینرز اور کروڑوں روپے مالیت کے ٹرالرز کی ریکوری کرنے کے لیے دھکے کھاتے پھر رہے تھے۔ کوئی سرکاری اہلکار مدد کو نہیں آیا۔ بڑی مشکل سے اپنی مدد آپ کے تحت انھوں نے اپنے کنٹینرز اور ٹرالرز بازیاب کیے لیکن بھاری نقصان پہنچ گیا تھا
تصور کیجیے کہ آپ لاکھوں کروڑوں انویسٹ کرکے کوئی ٹرالر خریدیں یا کسی کمپنی سے کنٹینر اٹھائیں، اور پھر سرکاری اہلکار وہ آپ سے زبردستی چھین کر مظاہرین کے آگے رکھ دے
آپ کے دل پر کیا گزرے گی؟
میرا ان ٹرانسپورٹرز کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے۔ ان کے مسائل بہت قریب سے جانتا ہوں۔ ان کے کیا خیالات اور جذبات ہوتے ہیں، یہاں لکھ نہیں سکتا
یہاں کا کاروباری اور تاجر طبقہ ایسے حالات سے دوچار ہے۔ جو بینکوں اور یونیورسٹیوں کالجوں کیں بیٹھ کر معشیت پر لیکچر دیتے اور کتابی باتیں کرتے ہیں، وہ عملی بزنس کی مشکلات اور چیلنجز سے مکمل طور پر بے خبر ہیں
آئے دن چالان اور جرمانوں کی بھرمار نے کاروباری طبقے کو بری طرح زچ کرکے رکھ دیا ہے۔ ان کی آپریشنل کاسٹ بلاوجہ بڑھتی جارہی ہے
یہ اپنی کاسٹ کو کس پر منتقل کریں گے؟
آپ، یعنی اینڈ کنزیومر پر۔۔۔۔۔۔۔
سیکیوریٹی اسٹیٹ ہونے کا تاوان پوری قوم نے بھرنا ہے۔ آپ مجھے ایک فائدہ نہیں گنوا سکتے جبکہ میں آپ کو ہزاروں نقصانات گنوا سکتا ہوں۔ یہ پالیسیاں ہماری معشیت، امن، تحفظ، قانون، سب کچھ بری طرح کھا رہی ہے۔
میں نے ابھی آپ کو ایک مثال دی ہے۔ ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جو عوام اور کاروباری طبقے کو روزانہ کی بنیاد پر ذلیل و خوار کررہی ہیں
جس ملک میں کاروبار کے یہ حالات ہوں، کیا وہ اپنی ایکسپورٹس بڑھا سکتا ہے؟ کیا وہ مینوفیکچرنگ ہب بن سکتا ہے؟ کیا وہاں ملٹی نیشنلز انویسٹمنٹ کرنے آئیں گی؟
خدارا اپنی آنکھیں کھولیے۔ اس نظام سے سوال کیجیے جو آپ اور آپ کے مستقبل کو کھارہا ہے!!!!
.
شہزاد حسین
❤2👍1
کیا عاصم منیر امریکہ کو انکار کرسکتا ہے؟
اچانک سے جناب محمد مالک صاحب کھل کر فوجی کنٹرولڈ میڈیا پر بیٹھے بتا رہے ہیں کہ یہ حماس سے ہتھیار چھیننے جانے والی فورس تھی اور “ اعلی سطح” پر فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ یہ فوج نہیں بھیجی جائیگی۔ حالانکہ اب سے کچھ دن پہلے تک اس چیز کی ہوا بھی کہیں نہیں نکلنے دی جارہی تھی اور جہاں ذکر ناگزیر تھا وہاں اسے ڈی ویپنائزیشن کی بجائے امن فورس کا نام دیا جارہا تھا۔ اب اس اچانک کے پیچھے کیا ہے؟
اب اس دوران ایک اور مضحکہ خیز ڈویلپمنٹ بھی ہوئی۔ شہباز شریف صاحب کافی دیر جھنڈے وغیرہ لگا کر پیوٹن کا انتظار کرتے رہے لیکن جناب پیوٹن تشریف نہ لائے۔ شہباز شریف نے سفارتی آداب اور ملکی عزت کا پاس نہ رکھا ( اپنی غیرت ہوتی تو خیال آتا ) اور ایک چلتی ہوئی میٹنگ میں گھس گئے پھر صدر پیوٹن کا پکڑے ہاتھ کھڑے رہے۔ ساتھ ایک اور واردات یہ ہوئی کہ رائٹرز نے “ ایک اعلی سطح “ سورس کے حوالے کیساتھ یہ بھی چھاپ دیا کہ عاصم منیر امریکہ جارہا ہے۔ یہ تو ہوئی خبر۔ حقیقت پھر یہ ہوگی کہ عاصم منیر کو امریکہ طلب کیا گیا ہے اور یہ “اعلی سطح سورس” میڈیا کو یہ خبر لیک کرکے پہلے سے ماحول بنانا چاہتا ہے کہ امریکہ کی عاصم منیر سے ڈیمانڈ ہے کیا۔
اب ذرا دماغ لڑائیں۔ اچانک سے میڈیا پر تسلیم کرنا پڑرہا ہے کہ امریکی ڈیمانڈ حماس سے ہتھیار چھیننے کی ہے ساتھ ہی ساتھ شہباز شریف کسی بھی طرح پیوٹن کیساتھ نظر بھی آنا چاہتے ہیں۔ یعنی بادی النظر میں دو کام کیے جارہے ہیں۔ ایک تو کسی طرح عوامی رائے عامہ بنانے کی کوشش ہے کہ پاکستان کے اندر اس فعل کی کوئی مخالفت پیدا ہو جو امریکہ کو دکھائی جاسکے۔ اگر آنے والے دنوں میں ہومیو پیتھک عسکری جماعتیں یعنی جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور وغیرہ وغیرہ غزہ فوج بھیجنے کی سخت مخالفت کرتی دکھائی دیں تو اسکا مطلب ہوگا کہ یہ مفروضہ تو درست ہے۔
دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ شہباز شریف جو پیوٹن کیساتھ گھستا ہوا نظر آیا یہ حرکت عادت سے مجبور ہوکر نہیں بلکہ امریکہ کو اپنا آپشن دکھانے کے لیے کیا گیا۔ اس پھرتی کے جواب میں تو ٹرمپ شہباز شریف کو یہی کہے گا کہ میرا پتر ایڈا توں ہوشیار نئیں جتنا ۔۔۔ خیر چھوڑیں آگے چلیں۔ یہ مفروضہ درست ثابت ہونے کی نشانی یہ ہوگی کہ کٹھ پتلی حکومت اور فوج کے نمائندے آنے والے دنوں میں چین جاتے آتے بھی نظر آئیں گے۔ لیکن یہاں سے کچھ نہیں نکلنے والا کیونکہ عاصم منیر اور یہ کٹھ پتلی حکومت اپنے سارے انڈے امریکہ کے نیچے رکھ چکے۔ اب ان میں سے بچے ٹرمپ ہی نکالے گا۔
اب چلتے ہیں مدعے پر کیا واقعی عاصم منیر امریکہ کو انکار کرسکتا ہے؟ اس سوال کا مختصر جواب ہے نہیں۔ کسی بھی قیمت پر نہیں۔تفصیل یوں ہے کہ ملک اللہ کے آسرے پر تو چل ہی رہا ہے ساتھ آئی ایم ایف ، عرب ممالک کے قرضوں اور سب سے بڑھ کر امریکی آشیر باد پر چل رہا ہے۔ عرب ممالک کو بھی امریکہ کی مجبوری ہے پاکستان کی نہیں۔ امریکہ ایک جھٹکے میں “ وینٹی لیٹرز “ کی تاریں کھینچ سکتا ہے۔
ماضی میں کئی ممالک کے ڈکٹیٹرز نے امریکہ کو انکار کیے رکھا۔ لیکن ان کے پاس دو میں سے ایک یا دونوں موجود تھے۔ وسائل یا پھر عوام میں مقبولیت۔ عاصم منیر کا خانہ دونوں طرف سے خالی ہے۔ نہ تیل گیس کے معدنیات کے وسائل ہیں اور نہ ہی عوام میں کوئی مقبولیت۔ یعنی عاصم منیر کے پاس کھڑے ہونے صرف غیر ملکی حمایت ہے اور یہ حمایت بھی امریکہ و عرب ممالک سے میسر ہے۔
اسی طرح عاصم منیر کا یہ پہلا اور آخری چانس ہے کیونکہ عاصم منیر سیاستدان نہیں ہے۔ سیاستدان کو اقتدار سے نکالا جاتا ہے۔ اس پر ریڈ لائن لگائی جاتی ہے ، اس کی جان پر بھی حملے ہوتے ہیں اور اسکے کردار پر بھی۔ اسے اغواء کیا جاتا ہے ، اسے قید تنہائی میں بھی ڈالا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے وزن پر واپس آنے کو تیار بیٹھا ہے۔ عاصم منیر کی اس سب میں سے گزرنے کی اوقات نہیں کیونکہ اسکی طاقت کا سارا دارومدار اسکے عہدے پر ہے۔ عہدہ ختم تو سب ختم۔
معاشی ناکامیوں ، سیاسی عدم استحکام اور عوامی نفرت کے بعد عہدے کا سارا انحصار ہے غیر ملکی حمایت پر۔ غیر ملکی حمایت میں سردست سرفہرست ہے امریکہ۔ امریکہ کو یہ بات بہت اچھی طرح ہے معلوم۔ لہذا عاصم منیر پہلوان پٹھہ ٹرمپ پہلوان لنگوٹ کس لے ، اسے خلیفے ٹرمپ کے تھاپڑے پر لڑنا ہے ورنہ پہ چپیڑیں کھا کر لڑنا ہے۔ اسکے حکم عدولی کا اسکے پاس کوئی موقع نہیں اور ٹرمپ کو عاصم منیر کی سبھی کمزوریوں کا ٹھیک ٹھیک علم ہے۔ لہذا غزہ میں پاکستانی فوج صرف اس صورت میں نہیں جائیگی کہ امریکہ حماس کی کسی غیر ملکی فورس کے ہاتھوں ڈی ویپنائزیشن کا منصوبہ ترک کردے۔
پریڈ ہوشیااااااااااااااار
پریڈ غزہ جانے کو تیااااار
اچانک سے جناب محمد مالک صاحب کھل کر فوجی کنٹرولڈ میڈیا پر بیٹھے بتا رہے ہیں کہ یہ حماس سے ہتھیار چھیننے جانے والی فورس تھی اور “ اعلی سطح” پر فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ یہ فوج نہیں بھیجی جائیگی۔ حالانکہ اب سے کچھ دن پہلے تک اس چیز کی ہوا بھی کہیں نہیں نکلنے دی جارہی تھی اور جہاں ذکر ناگزیر تھا وہاں اسے ڈی ویپنائزیشن کی بجائے امن فورس کا نام دیا جارہا تھا۔ اب اس اچانک کے پیچھے کیا ہے؟
اب اس دوران ایک اور مضحکہ خیز ڈویلپمنٹ بھی ہوئی۔ شہباز شریف صاحب کافی دیر جھنڈے وغیرہ لگا کر پیوٹن کا انتظار کرتے رہے لیکن جناب پیوٹن تشریف نہ لائے۔ شہباز شریف نے سفارتی آداب اور ملکی عزت کا پاس نہ رکھا ( اپنی غیرت ہوتی تو خیال آتا ) اور ایک چلتی ہوئی میٹنگ میں گھس گئے پھر صدر پیوٹن کا پکڑے ہاتھ کھڑے رہے۔ ساتھ ایک اور واردات یہ ہوئی کہ رائٹرز نے “ ایک اعلی سطح “ سورس کے حوالے کیساتھ یہ بھی چھاپ دیا کہ عاصم منیر امریکہ جارہا ہے۔ یہ تو ہوئی خبر۔ حقیقت پھر یہ ہوگی کہ عاصم منیر کو امریکہ طلب کیا گیا ہے اور یہ “اعلی سطح سورس” میڈیا کو یہ خبر لیک کرکے پہلے سے ماحول بنانا چاہتا ہے کہ امریکہ کی عاصم منیر سے ڈیمانڈ ہے کیا۔
اب ذرا دماغ لڑائیں۔ اچانک سے میڈیا پر تسلیم کرنا پڑرہا ہے کہ امریکی ڈیمانڈ حماس سے ہتھیار چھیننے کی ہے ساتھ ہی ساتھ شہباز شریف کسی بھی طرح پیوٹن کیساتھ نظر بھی آنا چاہتے ہیں۔ یعنی بادی النظر میں دو کام کیے جارہے ہیں۔ ایک تو کسی طرح عوامی رائے عامہ بنانے کی کوشش ہے کہ پاکستان کے اندر اس فعل کی کوئی مخالفت پیدا ہو جو امریکہ کو دکھائی جاسکے۔ اگر آنے والے دنوں میں ہومیو پیتھک عسکری جماعتیں یعنی جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور وغیرہ وغیرہ غزہ فوج بھیجنے کی سخت مخالفت کرتی دکھائی دیں تو اسکا مطلب ہوگا کہ یہ مفروضہ تو درست ہے۔
دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ شہباز شریف جو پیوٹن کیساتھ گھستا ہوا نظر آیا یہ حرکت عادت سے مجبور ہوکر نہیں بلکہ امریکہ کو اپنا آپشن دکھانے کے لیے کیا گیا۔ اس پھرتی کے جواب میں تو ٹرمپ شہباز شریف کو یہی کہے گا کہ میرا پتر ایڈا توں ہوشیار نئیں جتنا ۔۔۔ خیر چھوڑیں آگے چلیں۔ یہ مفروضہ درست ثابت ہونے کی نشانی یہ ہوگی کہ کٹھ پتلی حکومت اور فوج کے نمائندے آنے والے دنوں میں چین جاتے آتے بھی نظر آئیں گے۔ لیکن یہاں سے کچھ نہیں نکلنے والا کیونکہ عاصم منیر اور یہ کٹھ پتلی حکومت اپنے سارے انڈے امریکہ کے نیچے رکھ چکے۔ اب ان میں سے بچے ٹرمپ ہی نکالے گا۔
اب چلتے ہیں مدعے پر کیا واقعی عاصم منیر امریکہ کو انکار کرسکتا ہے؟ اس سوال کا مختصر جواب ہے نہیں۔ کسی بھی قیمت پر نہیں۔تفصیل یوں ہے کہ ملک اللہ کے آسرے پر تو چل ہی رہا ہے ساتھ آئی ایم ایف ، عرب ممالک کے قرضوں اور سب سے بڑھ کر امریکی آشیر باد پر چل رہا ہے۔ عرب ممالک کو بھی امریکہ کی مجبوری ہے پاکستان کی نہیں۔ امریکہ ایک جھٹکے میں “ وینٹی لیٹرز “ کی تاریں کھینچ سکتا ہے۔
ماضی میں کئی ممالک کے ڈکٹیٹرز نے امریکہ کو انکار کیے رکھا۔ لیکن ان کے پاس دو میں سے ایک یا دونوں موجود تھے۔ وسائل یا پھر عوام میں مقبولیت۔ عاصم منیر کا خانہ دونوں طرف سے خالی ہے۔ نہ تیل گیس کے معدنیات کے وسائل ہیں اور نہ ہی عوام میں کوئی مقبولیت۔ یعنی عاصم منیر کے پاس کھڑے ہونے صرف غیر ملکی حمایت ہے اور یہ حمایت بھی امریکہ و عرب ممالک سے میسر ہے۔
اسی طرح عاصم منیر کا یہ پہلا اور آخری چانس ہے کیونکہ عاصم منیر سیاستدان نہیں ہے۔ سیاستدان کو اقتدار سے نکالا جاتا ہے۔ اس پر ریڈ لائن لگائی جاتی ہے ، اس کی جان پر بھی حملے ہوتے ہیں اور اسکے کردار پر بھی۔ اسے اغواء کیا جاتا ہے ، اسے قید تنہائی میں بھی ڈالا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے وزن پر واپس آنے کو تیار بیٹھا ہے۔ عاصم منیر کی اس سب میں سے گزرنے کی اوقات نہیں کیونکہ اسکی طاقت کا سارا دارومدار اسکے عہدے پر ہے۔ عہدہ ختم تو سب ختم۔
معاشی ناکامیوں ، سیاسی عدم استحکام اور عوامی نفرت کے بعد عہدے کا سارا انحصار ہے غیر ملکی حمایت پر۔ غیر ملکی حمایت میں سردست سرفہرست ہے امریکہ۔ امریکہ کو یہ بات بہت اچھی طرح ہے معلوم۔ لہذا عاصم منیر پہلوان پٹھہ ٹرمپ پہلوان لنگوٹ کس لے ، اسے خلیفے ٹرمپ کے تھاپڑے پر لڑنا ہے ورنہ پہ چپیڑیں کھا کر لڑنا ہے۔ اسکے حکم عدولی کا اسکے پاس کوئی موقع نہیں اور ٹرمپ کو عاصم منیر کی سبھی کمزوریوں کا ٹھیک ٹھیک علم ہے۔ لہذا غزہ میں پاکستانی فوج صرف اس صورت میں نہیں جائیگی کہ امریکہ حماس کی کسی غیر ملکی فورس کے ہاتھوں ڈی ویپنائزیشن کا منصوبہ ترک کردے۔
پریڈ ہوشیااااااااااااااار
پریڈ غزہ جانے کو تیااااار
❤2👍1
جسٹس صفدرشاہ نے بھٹو کو پھانسی سے اختلاف کیا تو انکی میٹرک کی سند جعلی قرار دی گئی۔ جسٹس جہانگیری نے ایجنسیوں کی مداخلت اور فارم 45 کھولے تو ڈگری جعلی قرار دیدی۔ زمانہ بدل گیا مگر طریقہ واردات نہیں بدلا۔
نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
جیسے ایبٹ آباد میں امریکی ہیلی کاپٹر آئے سسٹم کو پتہ نہیں چلا یا سسٹم نے آنکھ کان ناک بند رکھے
ویسے ہی وینزویلا میں امریکی ہیلی کاپٹر آئے صدر اور اس کی بیوی کو اٹھایا وہاں بھی سسٹم آنکھیں موندے پڑا رہا
غدار ہر کہیں ہوتے ہیں جو اصرار کرتے ہیں کہ انہیں محافظ بھی کہا جائے
شفقت چوہدری
ویسے ہی وینزویلا میں امریکی ہیلی کاپٹر آئے صدر اور اس کی بیوی کو اٹھایا وہاں بھی سسٹم آنکھیں موندے پڑا رہا
غدار ہر کہیں ہوتے ہیں جو اصرار کرتے ہیں کہ انہیں محافظ بھی کہا جائے
شفقت چوہدری
Pakistan Times International
Photo
دو ہزار روپے کے چالان نے موٹر سائیکل سوار کی
زندگی ختم کر دی ، بائیک کی اگلی اور پچھلی نمبر پلیٹ میں
ڈیزائن کا فرق تھا ، ٹریفک سارجنٹ نے رعایت نہیں دی
تفصیلات کے مطابق چکوال میں دو ہزار روپے کے
ظالمانہ چالان نے ایک گھر کا چراغ بجھا دیا
بھاری مالیت کے چالان درحقیقت "موت" بانٹ رہے ہیں
ون فائیو چوک پر ٹریفک سارجنٹ نے موٹرسائیکل پر
سوار باپ بیٹے کو بدوں نمبر پلیٹ کے باعث چالان کیا۔
جس سے باپ پر سکتہ طاری ہو گیا، متوفی قریب کھوکھا نما دوکان پر چالان جمع کروانے گیا ، جہاں بیٹے کے سامنے چالان جمع کرواتے ہوئے باپ کی حالت بگڑ گئی اور اسے فوری ہسپتال لے جایا گیا۔ لواحقین کے مطابق موٹرسائیکل سوار کے پاس ڈرائیونگ لائسنس اور ہیلمٹ موجود تھا، تاہم ٹریفک اہلکار نے رعایت نہ دی
متوفی حوالدار محمد خان بعمر 45 سال ڈھوک گجر کا رہائشی بتایا جاتا ہے جو آرمی سے ریٹائرڈ تھا اور سوئی گیس میں بطور سیکورٹی گارڈ تعینات تھا۔ خاندانی ذرائع سے متوفی کی میڈیکل ہسٹری بھی کلئیر بتائی جاتی ہے۔ دونوں باپ بیٹے گزشتہ روز موٹرسائیکل پر تلہ گنگ جھاٹلہ گئے ہوئے تھے، واپسی پر 15 چوک میں ٹریفک سارجنٹ نے روک لیا۔
واقعہ کے بعد لواحقین کی جانب سے ہسپتال میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر تھانہ سٹی پولیس کی بھاری نفری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چکوال پہنچ گئی۔
زندگی ختم کر دی ، بائیک کی اگلی اور پچھلی نمبر پلیٹ میں
ڈیزائن کا فرق تھا ، ٹریفک سارجنٹ نے رعایت نہیں دی
تفصیلات کے مطابق چکوال میں دو ہزار روپے کے
ظالمانہ چالان نے ایک گھر کا چراغ بجھا دیا
بھاری مالیت کے چالان درحقیقت "موت" بانٹ رہے ہیں
ون فائیو چوک پر ٹریفک سارجنٹ نے موٹرسائیکل پر
سوار باپ بیٹے کو بدوں نمبر پلیٹ کے باعث چالان کیا۔
جس سے باپ پر سکتہ طاری ہو گیا، متوفی قریب کھوکھا نما دوکان پر چالان جمع کروانے گیا ، جہاں بیٹے کے سامنے چالان جمع کرواتے ہوئے باپ کی حالت بگڑ گئی اور اسے فوری ہسپتال لے جایا گیا۔ لواحقین کے مطابق موٹرسائیکل سوار کے پاس ڈرائیونگ لائسنس اور ہیلمٹ موجود تھا، تاہم ٹریفک اہلکار نے رعایت نہ دی
متوفی حوالدار محمد خان بعمر 45 سال ڈھوک گجر کا رہائشی بتایا جاتا ہے جو آرمی سے ریٹائرڈ تھا اور سوئی گیس میں بطور سیکورٹی گارڈ تعینات تھا۔ خاندانی ذرائع سے متوفی کی میڈیکل ہسٹری بھی کلئیر بتائی جاتی ہے۔ دونوں باپ بیٹے گزشتہ روز موٹرسائیکل پر تلہ گنگ جھاٹلہ گئے ہوئے تھے، واپسی پر 15 چوک میں ٹریفک سارجنٹ نے روک لیا۔
واقعہ کے بعد لواحقین کی جانب سے ہسپتال میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر تھانہ سٹی پولیس کی بھاری نفری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چکوال پہنچ گئی۔
#بریکنگ #نیوز
“پنجاب دی دھی رانی” کی راج نیتی میں معصوم کالج طالبات ہوئیں غیر محفوظ۔۔۔۔۔کسی عام انسان سے نہیں بلکہ دھی رانی کی اپنی کیبنٹ ممبر سے۔۔۔۔۔۔
“تم نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے MPA چوھدری نعیم اعجاز خلاف سی ایم کمپلینٹ سیل کو شکایت کیوں درج کروائی؟ ابھی واپس لو شکایت اور گورنمنٹ ایسوسی ایٹ گرلز کالج جھٹہ ہتھیال ایڈمنسٹریشن خلاف بیان حلفی لکھو ورنہ۔۔۔۔۔” ن لیگی ایم پی اے/پارلیمانی سیکریٹری چوھدری نعیم اعجاز کے بندوں کا کالج طالبات کے گھر گھر جاکر دھمکیاں دینے و ہراساں کرنے کا عمل شروع
کالج کی پرنسپل نے ایک بار پھر ن لیگی ایم پی اے PP-10 چودھری نعیم اعجاز و انکے بندوں خلاف کالج طالبات کو ان کے گھروں میں جاکر ڈرانے، دھمکانے اور ہراساں کرنے خلاف لیگل ایکشن لیے تھانہ روات میں شکایت درج کروا دی: زرائع
تاہم راولپنڈی پولیس و اس کے بڑے مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہے جس سے نوجوان طالبات و ان کے غریب والدین میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی
دوسری جانب سی ایم کمپلینٹ سیل کی جانب سے “ن لیگی ایم پی اے چوھدری نعیم اعجاز کے خلاف جھٹہ ہتھیال سرکاری گرلز کالج انتظامیہ/طالبات جانب سے سی ایم کمپلینٹ سیل میں کالج فنگشن میں انہیں بطور مہمان خصوصی نہ مدعو کرنے پر دھمکیاں دینے کی شکایت” کی انکوائری لیے پنجاب حکومت جانب سے بنائی جانے والی کمیٹی بھی طاقتور ایم پی اے و ہم نواؤں ہاتھوں بنی یرغمال
تین رکنی سرکاری کالجز پرنسپلز پر مشتمل کمیٹی کا دورہ جھٹہ ہتھیال و ن لیگی ایم پی اے و ساتھیوں خلاف سی ایم کمپلینٹ سیل میں دائر تحریری درخواست پر دستخط کرنے والی طالبات سے سوال جواب
زرائع مطابق متعدد طالبات نے انکوائری کمیٹی سامنے تحریری درخواست پر سائن کرنے کا اقرار کیا
تاہم انکوائری کمیٹی میں طاقتور ن لیگی ایم پی اے کے بندے بھی گھس گئے جن میں دو کی شناخت ندیم و شعیب کے نام سے ہوئی
زرائع کا کہنا ہے ن لیگی ایم پی اے کے بندوں نے ایک طالبہ کے انتہائی غریب چچا کو پکڑ کر زلیل کیا اور اسے اپنی بھتیجی کو ایم پی اے خلاف شکایت بازی سے باز رہنے لیے دباؤ ڈالا
مزید برآں ن لیگی ایم پی اے کے بندوں نے انکوائری کمیٹی سامنے پیش ہونے والی دیگر طالبات کو بھی شدید نتائج کی دھمکیاں دیں
واضع رہے چند دن قبل جھٹہ ہتھیال میں موجود سرکاری گرلز کالج کی طالبات نے کالج پرنسپل کو تحریری طور پر شکایات درج کروائیں تھی کے حمکران جماعت کے ایم پی اے چوھدری نعیم اعجاز کو کالج کے کسی فنگشن میں مدعو نہ کیا جائے کیونکہ انکی شہرت اچھی نہ ہے
کالج طالبات کا یہ بھی کہنا تھا کہ نعیم اعجاز ساتھ اوباش قسم کے لوگ بھی کالج میں گھس آتے اور طالبات اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں
کالج طالبات کا یہ بھی کہنا تھا کہ ن لیگ آئندہ ٹکٹ کسی شریف انسان کو دے تاکہ اہلیان علاقہ سکھ کا سانس لے سکیں
کالج پرنسپل نے طالبات کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسپلن کمیٹی سامنے معاملہ رکھا جنہوں نے بعد ازاں سی ایم کمپلینٹ سیل کو شکایت درج کروائی کہ ن لیگی ایم پی اے چوھدری نعیم اعجاز کالج میں فنکشن پر نہ مدعو کرنے وجہ سے انتظامیہ کو دھمکیاں دیتا ہے اور کالج طالبات ان کی بری شہرت کی وجہ سے انہیں کالج میں بطور مہمان خصوصی بلانے کی متمنی نہ ہیں
کالج انتظامیہ کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے سی ایم کمپلینٹ سیل نے معاملہ انکوائری لیے راولپنڈی پولیس کو ارسال کیا
تاہم پولیس میں موجود چند بڑوں نے ہمیشہ کی طرح اس انتہائی حساس نوعیت کے وقوعہ کو بھی دبا دیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ن لیگی ایم پی اے کے بندوں نے مبینہ طور پر طالبات کو ایک بار پھر سے ان کے گھروں میں جاکر ڈرانے دھمکانے و ہراساں کرنے کا عمل شروع کر دیا
کالج طالبات کے غریب والدین کی سی ایم پنجاب مریم نواز و آئی جی پنجاب سے انصاف و سکیورٹی فراہم کیے جانے کی اپیل
جبکہ دوسری جانب ایم پی اے نعیم اعجاز کی جانب سے تاحال ان سنگین نوعیت کے الزمات پر کوئی بیان منظر عام پر نہ آیا
جبکہ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے “جھٹہ ہتھیال گرلز کالج انتظامیہ دھمکیاں/طالبات ہراساں سکینڈل” کو جھوٹ اور نعیم اعجاز کے سیاسی مخلافین کی جانب سے سازش قرار دیا ہے
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
“پنجاب دی دھی رانی” کی راج نیتی میں معصوم کالج طالبات ہوئیں غیر محفوظ۔۔۔۔۔کسی عام انسان سے نہیں بلکہ دھی رانی کی اپنی کیبنٹ ممبر سے۔۔۔۔۔۔
“تم نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے MPA چوھدری نعیم اعجاز خلاف سی ایم کمپلینٹ سیل کو شکایت کیوں درج کروائی؟ ابھی واپس لو شکایت اور گورنمنٹ ایسوسی ایٹ گرلز کالج جھٹہ ہتھیال ایڈمنسٹریشن خلاف بیان حلفی لکھو ورنہ۔۔۔۔۔” ن لیگی ایم پی اے/پارلیمانی سیکریٹری چوھدری نعیم اعجاز کے بندوں کا کالج طالبات کے گھر گھر جاکر دھمکیاں دینے و ہراساں کرنے کا عمل شروع
کالج کی پرنسپل نے ایک بار پھر ن لیگی ایم پی اے PP-10 چودھری نعیم اعجاز و انکے بندوں خلاف کالج طالبات کو ان کے گھروں میں جاکر ڈرانے، دھمکانے اور ہراساں کرنے خلاف لیگل ایکشن لیے تھانہ روات میں شکایت درج کروا دی: زرائع
تاہم راولپنڈی پولیس و اس کے بڑے مکمل طور پر بے بس دکھائی دے رہے جس سے نوجوان طالبات و ان کے غریب والدین میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی
دوسری جانب سی ایم کمپلینٹ سیل کی جانب سے “ن لیگی ایم پی اے چوھدری نعیم اعجاز کے خلاف جھٹہ ہتھیال سرکاری گرلز کالج انتظامیہ/طالبات جانب سے سی ایم کمپلینٹ سیل میں کالج فنگشن میں انہیں بطور مہمان خصوصی نہ مدعو کرنے پر دھمکیاں دینے کی شکایت” کی انکوائری لیے پنجاب حکومت جانب سے بنائی جانے والی کمیٹی بھی طاقتور ایم پی اے و ہم نواؤں ہاتھوں بنی یرغمال
تین رکنی سرکاری کالجز پرنسپلز پر مشتمل کمیٹی کا دورہ جھٹہ ہتھیال و ن لیگی ایم پی اے و ساتھیوں خلاف سی ایم کمپلینٹ سیل میں دائر تحریری درخواست پر دستخط کرنے والی طالبات سے سوال جواب
زرائع مطابق متعدد طالبات نے انکوائری کمیٹی سامنے تحریری درخواست پر سائن کرنے کا اقرار کیا
تاہم انکوائری کمیٹی میں طاقتور ن لیگی ایم پی اے کے بندے بھی گھس گئے جن میں دو کی شناخت ندیم و شعیب کے نام سے ہوئی
زرائع کا کہنا ہے ن لیگی ایم پی اے کے بندوں نے ایک طالبہ کے انتہائی غریب چچا کو پکڑ کر زلیل کیا اور اسے اپنی بھتیجی کو ایم پی اے خلاف شکایت بازی سے باز رہنے لیے دباؤ ڈالا
مزید برآں ن لیگی ایم پی اے کے بندوں نے انکوائری کمیٹی سامنے پیش ہونے والی دیگر طالبات کو بھی شدید نتائج کی دھمکیاں دیں
واضع رہے چند دن قبل جھٹہ ہتھیال میں موجود سرکاری گرلز کالج کی طالبات نے کالج پرنسپل کو تحریری طور پر شکایات درج کروائیں تھی کے حمکران جماعت کے ایم پی اے چوھدری نعیم اعجاز کو کالج کے کسی فنگشن میں مدعو نہ کیا جائے کیونکہ انکی شہرت اچھی نہ ہے
کالج طالبات کا یہ بھی کہنا تھا کہ نعیم اعجاز ساتھ اوباش قسم کے لوگ بھی کالج میں گھس آتے اور طالبات اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں
کالج طالبات کا یہ بھی کہنا تھا کہ ن لیگ آئندہ ٹکٹ کسی شریف انسان کو دے تاکہ اہلیان علاقہ سکھ کا سانس لے سکیں
کالج پرنسپل نے طالبات کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسپلن کمیٹی سامنے معاملہ رکھا جنہوں نے بعد ازاں سی ایم کمپلینٹ سیل کو شکایت درج کروائی کہ ن لیگی ایم پی اے چوھدری نعیم اعجاز کالج میں فنکشن پر نہ مدعو کرنے وجہ سے انتظامیہ کو دھمکیاں دیتا ہے اور کالج طالبات ان کی بری شہرت کی وجہ سے انہیں کالج میں بطور مہمان خصوصی بلانے کی متمنی نہ ہیں
کالج انتظامیہ کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے سی ایم کمپلینٹ سیل نے معاملہ انکوائری لیے راولپنڈی پولیس کو ارسال کیا
تاہم پولیس میں موجود چند بڑوں نے ہمیشہ کی طرح اس انتہائی حساس نوعیت کے وقوعہ کو بھی دبا دیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ن لیگی ایم پی اے کے بندوں نے مبینہ طور پر طالبات کو ایک بار پھر سے ان کے گھروں میں جاکر ڈرانے دھمکانے و ہراساں کرنے کا عمل شروع کر دیا
کالج طالبات کے غریب والدین کی سی ایم پنجاب مریم نواز و آئی جی پنجاب سے انصاف و سکیورٹی فراہم کیے جانے کی اپیل
جبکہ دوسری جانب ایم پی اے نعیم اعجاز کی جانب سے تاحال ان سنگین نوعیت کے الزمات پر کوئی بیان منظر عام پر نہ آیا
جبکہ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے “جھٹہ ہتھیال گرلز کالج انتظامیہ دھمکیاں/طالبات ہراساں سکینڈل” کو جھوٹ اور نعیم اعجاز کے سیاسی مخلافین کی جانب سے سازش قرار دیا ہے
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 187 followers • News and unbiased commentary
پی ٹی اے میں بیٹھے کتے کے بچوں کا نیا دھندا
آپ کی پیڈ فون خریدتے وقت اسکا آئی ایم ای آئی نمبر چیک کریں تو وہ رجسٹر بتائے گا ۔ آپ موبائل خرید لیں گے اور پھر کچھ دنوں بعد اپکو میسج آئے گا کہ یہ فون رجسٹر نہیں ہے ۔ آخر کیسے ؟ جبکہ آپ نے خریدنے سے پہلے چیک کیا 8484 پر میسج کرکے، تو اب کیسے یہ نان رجسٹر فون بن گیا۔ہوتا کیا ہے کہ کوئی یہ آئی ایم ای آئی نمبر جعلی طریقے سے کسی فون پر چڑھاتا ہے تو اصولی طور پر پی ٹی اے کو صرف اسے ہی بند کرنا چاہئیے نہ کہ اوریجنل فون کو۔ لیکن ایسا نہیں ہو رہا ۔ پی ٹی اے دونوں فون بند کررہی ہے۔ کی پیڈ فون چونکہ اب زیادہ تر غریب اور کم پڑھے لکھے افراد استعمال کررہے ہیں اسلئے کوئی اس ظلم زیادتی بدمعاشی کو چیلنج نہیں ۔ اگر پی ٹی اے کی اس بدمعاشی کو لگام نہیں ڈالی گئی تو جلد یہ سور یہ دو نمبریاں اینڈرائڈ سمارٹ مہنگے فونز تک پھیلا سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کی بدمعاشی نا منظور
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
آپ کی پیڈ فون خریدتے وقت اسکا آئی ایم ای آئی نمبر چیک کریں تو وہ رجسٹر بتائے گا ۔ آپ موبائل خرید لیں گے اور پھر کچھ دنوں بعد اپکو میسج آئے گا کہ یہ فون رجسٹر نہیں ہے ۔ آخر کیسے ؟ جبکہ آپ نے خریدنے سے پہلے چیک کیا 8484 پر میسج کرکے، تو اب کیسے یہ نان رجسٹر فون بن گیا۔ہوتا کیا ہے کہ کوئی یہ آئی ایم ای آئی نمبر جعلی طریقے سے کسی فون پر چڑھاتا ہے تو اصولی طور پر پی ٹی اے کو صرف اسے ہی بند کرنا چاہئیے نہ کہ اوریجنل فون کو۔ لیکن ایسا نہیں ہو رہا ۔ پی ٹی اے دونوں فون بند کررہی ہے۔ کی پیڈ فون چونکہ اب زیادہ تر غریب اور کم پڑھے لکھے افراد استعمال کررہے ہیں اسلئے کوئی اس ظلم زیادتی بدمعاشی کو چیلنج نہیں ۔ اگر پی ٹی اے کی اس بدمعاشی کو لگام نہیں ڈالی گئی تو جلد یہ سور یہ دو نمبریاں اینڈرائڈ سمارٹ مہنگے فونز تک پھیلا سکتے ہیں۔
پی ٹی اے کی بدمعاشی نا منظور
https://whatsapp.com/channel/0029VbC13XQG8l5BZq0yZ60W
WhatsApp.com
Pakistan times international
Channel • 187 followers • News and unbiased commentary