كل خير فى إتباع من سلف
590 subscribers
4.8K photos
280 videos
67 files
257 links
مت کیا کر اتنے گناہ توبہ کی آس پے اے انسان
بے اعتبار سی موت ہے نہ جانے کب آجائے________😥
Download Telegram
*الْأَنَاقَةُ أَنْ تَكُونَ أَخْلَاقُكَ أَجْمَلَ مِنْ لُبْسِكَ۔*

اصل شائستگی یہ ہے کہ تمہارے اخلاق تمہارے لباس سے زیادہ خوب صورت ہوں۔
3👍3
*👁نظر بد اور حسد سے بچنے کی دعائیں*

*🔸نظر بد سے حفاظت کی دعائیں کسی چیز کو دیکھ کر یہ کہنا*
*1⃣مَا شَاءَ اللهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ ۝*
جو الله نے چاہا کچھ قوت نہیں مگر الله کی مدد سے

*🔸پسندیدہ چیز کو دیکھ کر برکت کی دعا کرنا*
*2⃣بَارَكَ اللهُ فِیْهِ*
الله تمھیں اس میں برکت دے

*🔸معوذتین پڑھنا*
*3⃣قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ*

*🔸اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے پناہ لینا*
*4⃣أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَیْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَیْنٍ لَامَّةٍ*
میں پناہ لیتا ہوں الله کے مکمل کلمات کے ذریعے ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے

*🔸نظر بد سے حفاظت کا دم*
*5⃣اِمْسَحِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ بِیَدِكَ الشِّفَائُ لَا كَاشِفَ لَهُ اِلَّا أَنْتَ*
اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، شفا تیرے ہاتھ میں ہے، تیرے علاوہ اسے کوئی دور نہیں کرسکتا

*🔸شدید نظر لگ جانے پردعا*
*6⃣اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَ بَرْدَهَا وَ وَصَبَهَا*
اے الله!اس سے اس کی گرمی و سردی اور بیماری و لاغری کودور کر دے

*🔸صبح وشام کی دعائیں پڑھنا*
*7⃣بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَیْئ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِیْ السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ*
الله کے نام سے، وہ ذات کہ اس کے نام سے کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں، نقصان نہیں دے سکتی اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے

*🔸ہر طرح کے نقصان سے بچنے کی دعا*
*8⃣أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ*
میں الله کے کامل کلمات کی پناہ لیتاہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے

*🔸حاسد کے شر سے بچنے کی دعائیں*
*9⃣بِسْمِ ٱللَّـهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ ۝ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ۝ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ۝ وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ ۝ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ۝*
آپ کہیے کہ: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے۔ اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرےآپ کہیے کہ: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے۔ اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے

*🔸جبرائیل علیہ السلام کا دم*
*🔟بِسْمِ اللهِ أَرْقِیْكَ مِنْ كُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیْكَ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَكُلِّ عَیْنٍ وَاسْمُ اللهِ یَشْفِیْكَ*
الله کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دیتی ہے ، ہر حاسد کے حسد سے اور ہر نظر بد سے، اور الله کے نام کے ساتھ ، (الله )آپ کو شفا دے
3
قیامت والے دن قرآن کی سفارش۔۔!!
4
*سعادت کے چھ ستون اور بدبختی سے نجات*

*1. والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک:*
والدہ کی خدمت اور ان کے ساتھ نرمی اختیار کرنے والا کبھی جابر یا بدبخت نہیں ہو سکتا۔
آیت کریمہ ہے: ﴿وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا﴾ (سورہ مریم: 32)
ترجمہ: "اور (اللہ نے مجھے) اپنی والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا بنایا ہے اور مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے ادا ہونے والے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ ماں کی نافرمانی انسان کو سنگدل اور بدقسمت بنا دیتی ہے، جبکہ ان کی خدمت خوش بختی کی ضمانت ہے۔

*2. اللہ سے دعا مانگنا:*
جو شخص اپنے رب سے مانگنے کا عادی ہو، وہ کبھی محروم اور ناامید نہیں رہتا۔
آیت کریمہ ہے: ﴿وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا﴾ (سورہ مریم: 4)
ترجمہ: "اور اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم و ناخوش نہیں رہا۔"
یہ حضرت زکریا علیہ السلام کی عاجزی ہے؛ دعا دراصل اللہ پر مکمل بھروسے کا نام ہے، اور جس کا بھروسہ اللہ پر ہو، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔

*3. قرآنِ کریم سے تعلق:*
قرآن ہدایت اور سکون کا سرچشمہ ہے، اسے پڑھنے اور سمجھنے والا کبھی ذہنی یا روحانی تنگی کا شکار نہیں ہوتا۔
آیت کریمہ ہے: ﴿مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى﴾ (سورہ طٰہٰ: 2)
ترجمہ: "ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت (اور بدبختی) میں پڑ جائیں۔"
قرآن کا مقصد انسان کی زندگی کو آسان اور پُرسکون بنانا ہے، نہ کہ اسے تنگی میں ڈالنا۔

*4. ہدایت کی پیروی:*
اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے والا دنیا کی گمراہی اور آخرت کی سختی سے محفوظ رہتا ہے۔
آیت کریمہ ہے: ﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى﴾ (سورہ طٰہٰ: 123)
ترجمہ: "پس جس نے میری ہدایت کی پیروی کی، وہ نہ (دنیا میں) بھٹکے گا اور نہ (آخرت میں) بدبخت ہوگا۔"
صراطِ مستقیم پر چلنے کا صلہ یہ ہے کہ انسان ذہنی انتشار سے بچ جاتا ہے اور اسے حقیقی سکون ملتا ہے۔

*5. اللہ کا خوف اور خشیت:*
دل میں اللہ کا ڈر رکھنے والا نصیحت قبول کرتا ہے اور بڑی تباہی سے بچ جاتا ہے۔
آیت کریمہ ہے: ﴿سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ * وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى﴾ (سورہ الاعلیٰ: 10-11)
ترجمہ: "عنقریب وہ شخص نصیحت حاصل کر لے گا جو (اللہ سے) ڈرتا ہے، اور اس (نصیحت) سے وہ دور رہے گا جو بڑا بدبخت ہے۔"
جس کے دل میں اللہ کی عظمت کا ڈر ہو، وہ گناہوں کی نحوست سے بچا رہتا ہے، جبکہ بے خوف انسان بدبختی کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔

*6. تقویٰ اور پرہیزگاری:*
تقویٰ انسان کو جہنم کی آگ اور ابدی ناکامی سے بچانے والی ڈھال ہے۔
آیت کریمہ ہے: ﴿فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ * لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى... وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى﴾ (سورہ اللیل: 14-17)
ترجمہ: "پس میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے، جس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے... اور اس سے وہ (شخص) دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے۔"
یہاں واضح کر دیا گیا کہ بدبختی کا انجام آگ ہے، جبکہ تقویٰ کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان صفات کو اپنانے کی توفیق دے اور ہمیں "سعادت" والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

*شاھد سنابلی*
2
*_"ہمیشہ کے لیے ایک نصیحت یاد رکھیں:جب تک کام پورا نہ ہو جائے، اس کا چرچا نہ کریں۔"_*

 naseehat yaad rakhen: jab tak kaam poora na ho jaye, iska charcha na karein."
👍1
🌹
*"الأمل بالله حبل لا ينقطع"*
_اللہ سے امید وہ رسی ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتی_

چاہے زندگی کتنی ہی سخت ہو، حالات کتنے ہی الجھے ہوں، جب تک یہ رسی ہاتھ میں ہے، سہارا باقی ہے۔ انسان چھوڑ دے، دنیا پیچھے ہٹ جائے، لیکن اللہ کی رحمت کا سلسلہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔

گلاب کی طرح... کانٹوں کے درمیان بھی کھلتا ہے، اور نرمی سے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امید کبھی ختم نہیں ہوتی 🍃
💎 *Ham sal ke, Duniya ke sabse behtareen dino me hai. Lihaza sunehre mauqe' se faida uthaye. Allāh ka zikr kasrat se kijye.*

💎🎁 *Kia aap ko nahi pasand ke 'Arsh 'Azeem ke pas aap ka zikr kiya jaye* ?

وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ
Sabqat le jane walon ko isi me sabqat karni chahiye.
_*🔮اخلاق حسنہ سے متصف لوگوں کی مہابت ومحبوبیت ہوتی ہے ، اور وہ قابل احترام ہوتے ہیں، ان سے ملنا خوشی فراہم کرتا ہے ۔*_

_[علامہ ابن القیم/ رحمه اللہ ]_

💫
*متقی آدمی کے لیے صحت اور خوشدلی ہزار نعمت ہے...*

معاذ بن عبداللہ بن خُبیب اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا (عبید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انھونے فرمایا: ہم ایک محفل میں حاضر تھے کہ نبیﷺ تشریف لے آئے۔ آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا (یعنی آپ اسی وقت غسل کرکے آئے تھے) ہم میں سے کسی نے آپ سے عرض کیا: آج ہم آپ کو (زیادہ) خوش دیکھ رہے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: "ہاں، اللہ کا شکر ہے۔" پھر لوگوں نے خوشحالی (اور دولت مندی) کا ذکر چھیڑ دیا تو آپﷺ نے فرمایا: "اگر پاس تقویٰ ہو تو دولت مند ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ اور جس کے پاس تقویٰ ہو اس کے لیے صحت، مالداری سے بہتر ہے۔اور خوش دلی بھی (اللہ کی) ایک نعمت ہے۔" [سنن ابن ماجه:2141 صححه الألباني, مسند أحمد:5/372,381, المستدرك للحاكم: 2/3, وصححه الحاكم، والذهبي، والبوصيري.]

1٭ متقی کے لیے دولت مند ہونے میں حرج نہیں:
دولت بذات خود کوئی بری چیز نہیں۔ اس کے حصول کا طریقہ اور ناجائز مقام پر خرچ کرنا اسے برا بناتا ہے۔ متقی آدمی کے لیے دولت مند ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ وہ روزی حلال طریقے سے کماتا ہے اور نیکی کے کاموں میں اور جائز ضروریات پوری کرنے میں خرچ کرتا ہے۔ اور تقویٰ ساتھ ہونے کی صورت میں مال کا فتنہ اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔ اور مال و دولت اسے کبھی اللہ کی یاد، نماز و دیگر عبادات سے نہیں روکتے۔

لیکن غیر متقی کے لیے مالدار ہونے میں حرج ہے۔ کیونکہ وہ روزی کمانے میں حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا۔ اور خرچ کرتے وقت فخر و ریا یا غیر ضروری عیش و عشرت میں خرچ کرتا ہے۔ اور تقویٰ نہ رہنے کی وجہ سے وہ مال کے فتنے میں ملوث ہوجاتا ہے۔ اسے مال کی فکر اتنی ہوجاتی ہے کہ فکرِ آخرت سے غافل ہوکر غیر اسلامی طریقے پر زندگی گزارتا ہے۔ نمازوں کی پابندی اور دیگر اعمال صالحہ کرنے کی فرصت نہیں ملتی اور ایسے آدمی کے لیے دولت ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔ جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے“ [سنن ترمذی:2376]

2٭ صحت ہزار نعمت ہے:
صحت، دولت سے بڑی نعمت ہے۔ اسی لیے بولا جاتا ہے۔ صحت ہزار نعمت ہے۔ حدیث میں خاص طور پر متقی آدمی کے لیے بولا گیا ہے۔ کیونکہ اگر کسی کے پاس تقویٰ اور صحت ہو لیکن دولت نہ ہو تو وہ دولت نہ ہونے کی وجہ سے مایوس نہیں ہوتا، بلکہ وہ اللہ سے ہر حال میں راضی رہتا ہے اور صحت جیسی بڑی نعمت اس کے پاس دیکھ کر اس پر خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے دولت سے بڑی نعمت اسے عطا کردی ہے۔ اور اسے آخرت اور جنت کی فکر رہتی ہے۔صحت کی حالت میں دولت کم ہونے کے باوجود نیکی کے بہت سے کام کیے جاسکتے ہیں۔

اس کے برعکس غیر متقی جس کے پاس صحت ہو پر مال نہ ہو وہ اس پر راضی نہیں رہتا۔ اسے مال کی فکر لگی رہتی ہے۔ وہ صحت جیسی عظیم نعمت اپنے پاس ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو کنگال سمجھتا ہے۔ وہ اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر کرنے کے بجائے اوپر والے لوگوں کو دیکھ کر مایوس رہتا ہے۔ اپنی صحت کو اللہ کی اطاعت میں گزارنے کے بجائے وہ آخرت سے غافل زندگی گزارتا ہے۔ نبیﷺ نے لوگوں کی اکثریت کے بارے میں ارشاد فرمایا: "دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، (اور وہ) صحت اور فراغت ہے۔"( صحیح بخاری: 6412)

3٭ خوشدلی بھی نعمت ہے:
جس طرح صحت ایک بڑی نعمت ہے۔ اسی طرح طبیعت کا خوش ہونا بھی بڑی نعمت ہے۔ اگر مال لاکھوں کروڑوں ہو، لیکن صحت اور خوش دلی و اطمینان نفس نہ ہو تو سب بیکار ہے۔ مومن کو خوش و خرم رہنا چاہیے۔ مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا بھی معمولی نیکی نہیں۔(صحیح مسلم:2626)

جو نعمتیں ہمیں حاصل نہیں، ان کے نہ ہونے پر افسوس کرنے کے بجائے ان نعمتوں پر توجہ کرنی چاہیے جو حاصل ہیں۔ تاکہ دل میں شکر کا جزبہ پیدا ہو اور ناشکری جیسے برے عمل سے محفوظ رہ سکیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿الضحي:۱۱﴾ "اور آپ اپنے رب کی نعمت کا ذکر کرتے رہیں"۔
پہلا کامیاب منصوبہ جو عورت اپنے بچوں کو پیش کرتی ہے، وہ ایک اچھا والد ہے۔ ♥️

أول مشروع ناجح تُقدّمه النساء ل أبنائها هو أب جيّد."
2
Khawateen ki namaz
*ایک سال اور گھٹ گیا*

✍🏻فانی زندگی کا ایک اور سال گزر گیا، سلسلۂ روز و شب کا ایک اور برس بیت گیا۔

*کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا*
*جیون کا اک اور سنہرا سال گزر گیا*
دنیا کی دوسری قومیں سال کے اختتام اور نیا سال شروع ہونے پر خوشیاں مناتی ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتی ہیں، مومن اس طرح کی خوشی نہیں مناتا ہے، خوشی تو وہ منائے جن کو ماضی کے بارے میں نیک عملی کا یقین ہو، لیکن کون ایسی غلط فہمی میں مبتلاء ہو سکتا ہے، ہمیں تو ماضی کے بارے میں بھی افسوس ہے اور آئندہ کا اندیشہ ہے۔
ہاں سال کی تکمیل تجدیدِ عہد کا موقع ہے، ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست کرے کہ اللہ!یہ سال کیسا بھی گزرا، گزر گیا کوتاہیوں کو معاف فرما کر آنے والے سال کو عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت ہر اعتبار سے بہتر بنادے۔
مومن کے لئے خوشی کا دن تو وہ ہے کہ موت قریب آ رہی ہو، منھ پر کلمہ جاری ہو، قبر و حشر کے مراحل بھی آسان ہو تو وہ خوشی کی گھڑیاں اور دن ہوگا۔
کیونکہ اس چند روزہ حیاتِ مستعار کا سب سے حسین تحفہ ہی حسن خاتمہ ہے، جس کے لئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلی ہوئی یہ دعا کتنی خوبصورت ہے، اسے اپنی معمول کی دعاؤں میں شامل کر لینا چاہیے :

اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ

اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو حسن خاتمہ کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔آمین
🌹 🌹🌹🌹
*اَﻟﺴَّـﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴـﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ اللّٰه ﻭَﺑَﺮَﻛـَﺎﺗُﻪ*

*کچھ بھی مانگنے سے پہلے، مانگنے کے ساتھ اور مانگنے کے بعد اپنے لیے اور سب کے لیے ھمیشہ خیر اور عافیت ھی مانگیں، جس کو خیر اور عافیت مل گئی اس کو سب کچھ مل گیا، اللّٰه تعالیٰ ھمارے ھر کام میں خیر و برکت اور عافیت عطا فرمائے آمین۔*

*یا رب ذوالجلال*
*ھمارے عیب، دانستہ و نادانستہ گناہ، کوتاھیاں معاف فرماتے ھوئے ھم پر اپنا رحم و کرم فرما، ھماری مانگی اور بن مانگی دُعائیں ھمارے دین ، دنیا اور آخرت کی بہتری کے لیۓ اپنی بارگاہ میں قبُول و منظُور فرما، ھماری مشکلیں، پریشانیاں آسان فرما، اللّٰه تعالیٰ ھم سب کے لیۓ آسانیاں فرمائے، اور آسانیاں بانٹنے کی خواھش، ھمت اور توفیق عطا فرمائے، آج کا دن اور ھر آنے والا دن ھم سب سے جُڑے ھوئے پیاروں کے لیۓ خُوشیوں، کامیابیوں، امن اور سکون سے بھر پُور ھو۔ آمین۔*
مومن کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جس کے ساتھ چاہے بیٹھ جائے! انسان کو کتنے ہی نقصانات صرف بری صحبتوں اور مجلسوں کی وجہ سے پہنچے ہیں۔
آپ اس بات کے پابند ہیں کہ ہر کسی کے ساتھ نہ بیٹھیں، بلکہ نیک اور خیر والے لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔

یہ بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے بھی معلوم ہوتی ہے:
(وَّاتَّبِعۡ سَبِیۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَیَّ)
"اور اُس شخص کے راستے کی پیروی کرو جو میری طرف رجوع کرنے والا ہے۔"

شیخ عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ

.*Momin ke liye ye munasib nahi ke woh jis ke sath chahe baith jaye! Insan ko kitne hi nuqsanat sirf buri sohbaton aur majlison ki wajah se pahunche hain* .
Aap is baat ke paband hain ke har kisi ke sath na baithen, balkay *NEK aur khair wale logon ki sohbat ikhtiyar karen* .
Ye bat Allāh Ta'ala ke is farman se bhi maloom hoti hai:
"Aur us shakhs ke raste ki pairwi karo jo meri taraf rujoo' karne wala hai."

Shaykh Abdul Razzaq Al-Badr Hafidhahullāh
لوگوں سے اس طرح میل جول رکھو کہ اگر تم مر جاؤ تو وہ تم پر روئیں اور اگر زندہ رہو تو تمھارے مشتاق رہیں۔

علی بن اصمع رحمہ اللہ
(المجالسۃ وجواہر العلم لأبی بکر الدینوری، ۲/ ۱۶۸)

اللهم ارزقنا صحبة الأخيار في الدارين اللهم وفقنا جميعاً لما تحب وترضى اللهم آمین یا رب
مومن کی زندگی میں دوسروں کی جانب سے ملنے والی تکالیف عموماً ہوتی ہیں اور یہ ہوں گی بھی کیوں نہ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
​وَ جَعَلۡنَا بَعۡضَکُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَةً ؕ اَتَصۡبِرُوۡنَ ۚ وَ کَانَ رَبُّك بَصِیۡرًا
​"اور ہم نے تم میں سے ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش بنا دیا، کیا تم صبر کرو گے؟ اور تمہارا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے"۔
(الفرقان: 20)

(🖊️فريد الله الصافى)
*🚨Aashoorah (10 Muharram) Ke Din Ki Bida'aat Se Bacho*

*10 Muharram ke din ye kaam ghair sharaii aur bida'at hain: ⬇️*

1️⃣. 10 Muharram ko Sharbat pilaana Sunnat nahi balke Bida'at hai.

2️⃣. Iss din khaas pakwaan (Haleem, Khichda, Zarda waghera) banana Deen ka hissa nahi hai.

3️⃣. 10 Muharram ko *"Eid"* ya *"Yaum-e-Shahaadat"* kehna ghalat hai.

4️⃣. Masajid ya Sadkon(roads) par juloos nikaalna, Majaalis qaayem karna Bida'at hai.

5️⃣. Gham manana, Maatam karna, Noha aur Seena koobi karna(seena peetna) Sunnat ke khilaaf hai.

6️⃣. 10 Muharram ko Qabrastan ki khaas ziyaarat karna ghalat hai.

7️⃣. Jhanda uthaana ya nikaalna Islami tareeqa nahi hai.

8️⃣. Iss din Hara(green) ya Siyah(black) kapde khaas taur par pahenna ya patti bandhna ghair sharii amal hai.

9️⃣. "Ya Hussain", "Ya Ali Madad" kehna Shirk hai.

🔟. Bacchon ko Nange paaon ya Pyaasa juloos me le jaana Zulm hai.

1️⃣1️⃣. Roads band karna aur logon ko Takleef dena Haram hai.

1️⃣2️⃣. Zanjeer zani ya khud ko Chaku se maarna Haram hai.

*📢 Islam sirf Nabi ﷺ ki Sunnat ko follow karne ka Hukum deta hai, lehaza Bida'at se bachiye aur sunnat ko apnaaniye.*

🤲 Allah Hame Qur'an aur Hadees ke mutabiq Aamaal karne ki Taufeeq de aur Shirk o Bida'at se mahfooz rakhe Aameen ya Rabbal Aalameen
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

السؤال:

اگر عمرہ یا حج کے دوران طواف شروع کرنے سے پہلے یا طواف کے دوران عورت کو حیض آ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

الجواب بعون الله الوهاب:

اگر طواف شروع کرنے سے پہلے عورت کو حیض آ جائے تو وہ حیض ختم ہونے اور پاک ہونے کا انتظار کرے، پھر غسل کر کے طواف ادا کرے۔

اور اگر طواف کے دوران حیض آ جائے تو اس کا طواف باطل ہو جائے گا، لہٰذا وہ حیض ختم ہونے اور غسل کرنے کے بعد دوبارہ طواف کرے گی۔

اس کی دلیل سیدہ عائشہ رضي الله عنها کی روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان سے فرمایا:

«افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي»

ترجمہ:

"حاجی جو اعمال کرتے ہیں وہ سب تم بھی کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا یہاں تک کہ پاک ہو جاؤ۔"

صحيح البخاري: 305
صحيح مسلم: 1211

اسی طرح نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے:

«الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ، إِلَّا أَنَّ اللَّـهَ أَحَلَّ فِيهِ الْكَلَامَ»

ترجمہ:

"بیت اللہ کا طواف نماز کی مانند ہے، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس میں گفتگو کی اجازت دی ہے۔"

جامع الترمذي: 960
سنن النسائي: 2922
وصححه الألباني رحمه الله

لہٰذا جس طرح حیض آنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے، اسی طرح طواف کے دوران حیض آ جانے سے بھی طواف باطل ہو جاتا ہے۔

والله تعالى أعلم.

✍️ د. طارق صفي الرحمن المباركفوري حفظه الله

25/06/2026

#فقه_الحج_والعمرة
⚠️ Important Reminder

Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuh 🤍

Muharram ke dino me bohot se messages forward kiye ja rahe hain jin me likha hota hai ke Aashura ke din falan Nabi ki dua qubool hui, falan waqia hua, falan Nabi ko nijaat mili, waghairah.

⚠️ Har baat sahih nahi hoti. In me se bohot si riwayaat ki koi sahih daleel Qur'an ya Sahih Ahadith me nahi milti.

📌 Deen ki baat share karna bohot badi zimmedari hai. Is liye bina tahqeeq kisi bhi Islamic message ko forward na karein.

Rasulullah ﷺ ne farmaya:

"Insaan ke jhoot bolne ke liye itna hi kaafi hai ke woh har suni hui baat aage bayan kar de."

(Sahih Muslim)

🤲 Is liye sirf wahi baat share karein jo authentic (Qur'an aur Sahih Hadith se sabit) ho.

Allah Ta'ala humein sahih ilm hasil karne, us par amal karne aur sirf haq baat hi aage pahunchane ki tawfeeq ata farmaye. Ameen. 🌸
2👍2