کیا آپ جانتے ہیں: “اللهم إنك عفو تحب العفو فاعفُ عنا” کا کیا مطلب ہے؟
🌙 آج سے لے کر رمضان کے آخری دن کے سورج غروب ہونے تک اس دعا کو کثرت سے پڑھیں:
“اللهم إنك عفو تحب العفو فاعفُ عنا”
ترجمہ: اے اللہ! بے شک تو بہت معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس ہمیں بھی معاف فرما دے۔
⏳ ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں اور اس دعا کو بار بار پڑھتے رہیں۔
کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کر دیا تو آپ کامیاب ہوگئے، نجات پا گئے اور حقیقی سعادت حاصل کر لی۔
🌙 امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اگر تم دعا کرنا چاہو مگر وقت کم ہو اور دل میں بہت سی حاجتیں جمع ہوں تو اپنی ساری دعا کو اس ایک دعا میں جمع کر دو کہ اللہ تمہیں معاف کر دے۔
کیونکہ اگر اللہ تمہیں معاف کر دے گا تو تمہاری حاجتیں بغیر مانگے بھی پوری ہو جائیں گی۔
🌙 اس دعا کے معنی کو محسوس کریں، کیونکہ عفو (معافی) کے کئی پہلو ہیں:
◀ بدن کا عفو: ہر بیماری اور تکلیف سے شفا ملنا۔
◀ دین کا عفو: نیکی، عبادت اور اطاعت کی توفیق ملنا۔
◀ اللہ (الدیّان) کا عفو: گناہوں کو مٹا دینا، معاف کر دینا اور ان پر سزا نہ دینا۔
🌙 لغت میں “عفو” کا ایک معنی زیادتی اور کثرت بھی ہے۔
جیسے قرآن میں ہے:
“يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ”
یعنی: لوگ پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے جو ضرورت سے زیادہ ہو۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ بندے کو اس کی مانگی ہوئی چیز سے زیادہ عطا کر دیتا ہے۔
🌙 مغفرت اور عفو میں فرق
◀ مغفرت: اللہ گناہ کو معاف کر دیتا ہے لیکن وہ گناہ نامۂ اعمال میں درج رہتا ہے۔
◀ عفو: اللہ گناہ کو معاف کرنے کے ساتھ نامۂ اعمال سے مٹا بھی دیتا ہے۔
🌙 اسی دعا کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دی تھی کہ رمضان میں شبِ قدر میں اسے کثرت سے پڑھا کریں۔
لہٰذا اس دعا کو زیادہ سے زیادہ پڑھیں اور اپنے عزیزوں کو بھی یاد دلائیں۔
اللهم إنك عفو تحب العفو فاعفُ عنا
اور اگر آپ اس پیغام کو آگے پھیلانے کا ارادہ کریں تو نیت خیر کی رکھیں، شاید اللہ اسی کے ذریعے دنیا و آخرت کی کوئی بڑی پریشانی دور فرما دے۔
یاد رکھیں: نیکی کو کبھی حقیر نہ سمجھیں، آپ نہیں جانتے کون سا عمل آپ کو جنت میں داخل کر دے۔
https://www.facebook.com/share/1FYEJ6ujfQ/
https://linktr.ee/Assalafiyyahind
🌙 آج سے لے کر رمضان کے آخری دن کے سورج غروب ہونے تک اس دعا کو کثرت سے پڑھیں:
“اللهم إنك عفو تحب العفو فاعفُ عنا”
ترجمہ: اے اللہ! بے شک تو بہت معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس ہمیں بھی معاف فرما دے۔
⏳ ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں اور اس دعا کو بار بار پڑھتے رہیں۔
کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کر دیا تو آپ کامیاب ہوگئے، نجات پا گئے اور حقیقی سعادت حاصل کر لی۔
🌙 امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اگر تم دعا کرنا چاہو مگر وقت کم ہو اور دل میں بہت سی حاجتیں جمع ہوں تو اپنی ساری دعا کو اس ایک دعا میں جمع کر دو کہ اللہ تمہیں معاف کر دے۔
کیونکہ اگر اللہ تمہیں معاف کر دے گا تو تمہاری حاجتیں بغیر مانگے بھی پوری ہو جائیں گی۔
🌙 اس دعا کے معنی کو محسوس کریں، کیونکہ عفو (معافی) کے کئی پہلو ہیں:
◀ بدن کا عفو: ہر بیماری اور تکلیف سے شفا ملنا۔
◀ دین کا عفو: نیکی، عبادت اور اطاعت کی توفیق ملنا۔
◀ اللہ (الدیّان) کا عفو: گناہوں کو مٹا دینا، معاف کر دینا اور ان پر سزا نہ دینا۔
🌙 لغت میں “عفو” کا ایک معنی زیادتی اور کثرت بھی ہے۔
جیسے قرآن میں ہے:
“يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ”
یعنی: لوگ پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے جو ضرورت سے زیادہ ہو۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ بندے کو اس کی مانگی ہوئی چیز سے زیادہ عطا کر دیتا ہے۔
🌙 مغفرت اور عفو میں فرق
◀ مغفرت: اللہ گناہ کو معاف کر دیتا ہے لیکن وہ گناہ نامۂ اعمال میں درج رہتا ہے۔
◀ عفو: اللہ گناہ کو معاف کرنے کے ساتھ نامۂ اعمال سے مٹا بھی دیتا ہے۔
🌙 اسی دعا کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دی تھی کہ رمضان میں شبِ قدر میں اسے کثرت سے پڑھا کریں۔
لہٰذا اس دعا کو زیادہ سے زیادہ پڑھیں اور اپنے عزیزوں کو بھی یاد دلائیں۔
اللهم إنك عفو تحب العفو فاعفُ عنا
اور اگر آپ اس پیغام کو آگے پھیلانے کا ارادہ کریں تو نیت خیر کی رکھیں، شاید اللہ اسی کے ذریعے دنیا و آخرت کی کوئی بڑی پریشانی دور فرما دے۔
یاد رکھیں: نیکی کو کبھی حقیر نہ سمجھیں، آپ نہیں جانتے کون سا عمل آپ کو جنت میں داخل کر دے۔
https://www.facebook.com/share/1FYEJ6ujfQ/
https://linktr.ee/Assalafiyyahind
❤3
*🌺حائضہ شب قدر کی طاق راتوں میں کیا کرے🌺*
🍀 جیسا کہ آپ جانتی ہیں شب قدر میں عبادت کا ثواب 83 سال 4 مہینوں سے زیادہ ہے
*🌷حائضہ حالت حیض میں کیا نہیں کر سکتی*
👇👇👇👇👇
🌻1_نماز نہیں پڑھ سکتی
🌻2_روزہ نہیں رکھ سکتی
*🌷حائضہ حالت حیض میں ںشب قدر سے کیا نیکیاں کر کے فائدہ اٹھا سکتی ہے*
👇👇👇👇👇
*🌻 حائضہ شب قدر میں کثرت سے اللّٰہ تعالٰی کا ذکر کرے*
🌷1_ درودشریف کا ورد کرے
🌷2_ تیسرا کلمہ کا ورد کرے
🌷3_ دعائیں کثرت سے کرے جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مسنون ہیں،اور قرآن میں ربنا سے آتی ہیں
🌷4_ کثرت سے استغفار کرے
*🌻حائضہ شب قدر میں کثرت سے صدقہ کرے*
🌷1_ان طاق راتوں میں صدقہ کرے کا ثواب 1000 مہینوں سے افضل ہے یعنی 83 سال 4 مہینوں سے بھی زیادہ ہے
🌷2_حائضہ دنیا میں نعمتیں پانے کے لیے اور آزمائشوں سے بچنے کے لیے صدقہ کرے
🌷3_آخرت میں جنت پانے کے لیے صدقہ کریں
*🌻حائضہ قران وحدیث کی کتابیں پڑھ سکتی ہے*
🌷 1قرآن مجید کی تلاوت کرسکتی ہے
2_قران کا ترجمہ پڑھ سکتی ہے
🌷2_قرآن کی تفسیر پڑھ سکتی ہے
🌷3_حدیث کی کتابیں پڑھ سکتی ہے
🌷4_قران کی تلاوت سن سکتی ہے
🌷5_قران و حدیث کا لیکچر دے سکتی ہے
🌷6_قران و حدیث کا لیکچر سن بھی سکتی ہے
*🌻حائضہ لیلتہ القدر میں دعا مانگ سکتی ہے*
🌷1_کثرت سے دنیا و آخرت کی دعا کرے
🌷2_جنت مانگے
🌷3_جہنم سے پناہ مانگے
🌷4_ آسان حساب کی دعا مانگے
*🌺جنت میں جگہ بنانے والے کلمات🌺*
🌻ہر انسان جنت میں جانے کی خواہش رکھتا ہے، آج میں آپ کو کچھ ایسے اذکار بتاؤں گی جس سے آپ جنت میں اپنی ذاتی پراپرٹی بنا سکتے ہیں، اس پراپرٹی کے کاغذات آپ کے نام کے بنیں گے
*🌷جنت میں گھر بنانے والی سورۃ🌷*
💥حضرت معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے 10 بار سورۃ الاخلاص پڑھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے ( احمد)
*🌷جنت میں گھر بنانے والی دعا🌷*
🌻 رَبِّ ابِْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي
الْجَنَّةِ🌻
☘ اے میرے رب! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا
سورت تحریم آیت 11
*🌷جنت میں درخت لگانے والے کلمات🌷*
🌻 سُبْحَانَ اللّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ،
اللہُ اَکْبَرْ، لَا اِلَهَ اِلّاَ اللّٰهُ
☘ اے اللّٰہ تو پاک ہے،تمام تعریفیں اللّٰہ کے لیے ہیں،اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے
💥آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ پڑھا، ان میں سے ہر ایک کے بدلے جنت میں درخت لگا دیا جاتا ہے
(ابن ماجہ)
*🌷 جنت میں کھجور کا درخت لگانے والا کلمہ🌷*
*🌻سُبْحَانَ الْعَظِيْم وَ بِحَمْدِهِ*
☘اے اللہ تو اپنی عظمت کے ساتھ پاک ہے
💥حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس نے سبحان اللہ العظیم وبحمدہ پڑھا، اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے ( ترمذی)
*🌷جنت کے دروازے سے داخل ہونے والا اور جنت کے خزانے والا کلمہ🌷*
*🌻لَٓا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَا بِاللہِ🌻*
☘ نہیں ہے نیکی کرنے کی طاقت یا گناہوں سے بچنے کی مگر اللہ کی توفیق سے
💥حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے باپ نےمجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے ان کے پاس بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں اس وقت نماز پڑھ چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قدم سے مجھے ٹھوکر لگائی اور فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں، میں نے عرض کیا کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا حول و لا قوه الا بالله ( ترمذی)
💥حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا حول و لا قوة الا بالله جنت کا خزانہ ہے ( بخاری، مسلم )
*🌷 جنت مانگو ، اس دعا سے ضرور ملے گی🌷*
*🌻 اَلَلھُمَّ اِنِّيْ اَسْٔلُكَ جَنَّةُ الْفِرْدُوسٔ وَ اَعُوْذُبِكَ مِنَ النَّار🌻*
☘ اے اللہ میں تجھ سے جنت الفردوس کا سوال کرتی ہوں اور جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتی ہوں
💥حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تین مرتبہ اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے اللہ! اس کو جنت میں داخل کر دے، اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے اے اللہ اس کو جہنم سے بچا لے (ابن ماجہ)
🌻 یہ کچھ کلمات ہیں جن کو پڑھنے سے ہم جنت میں تھوڑی سی جگہ کے وارث بن جاتے ہیں، اب ہماری مرضی ہے ہم جنت میں کس دروازے سے داخل ہونا چاہتے ہیں، جنت میں کتنے گھر بنانا چاہتے ہیں، اور کتنے کھجور کے باغات چاہتے ہیں اور کتنے درخت چاہتے ہیں
🍀 جیسا کہ آپ جانتی ہیں شب قدر میں عبادت کا ثواب 83 سال 4 مہینوں سے زیادہ ہے
*🌷حائضہ حالت حیض میں کیا نہیں کر سکتی*
👇👇👇👇👇
🌻1_نماز نہیں پڑھ سکتی
🌻2_روزہ نہیں رکھ سکتی
*🌷حائضہ حالت حیض میں ںشب قدر سے کیا نیکیاں کر کے فائدہ اٹھا سکتی ہے*
👇👇👇👇👇
*🌻 حائضہ شب قدر میں کثرت سے اللّٰہ تعالٰی کا ذکر کرے*
🌷1_ درودشریف کا ورد کرے
🌷2_ تیسرا کلمہ کا ورد کرے
🌷3_ دعائیں کثرت سے کرے جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مسنون ہیں،اور قرآن میں ربنا سے آتی ہیں
🌷4_ کثرت سے استغفار کرے
*🌻حائضہ شب قدر میں کثرت سے صدقہ کرے*
🌷1_ان طاق راتوں میں صدقہ کرے کا ثواب 1000 مہینوں سے افضل ہے یعنی 83 سال 4 مہینوں سے بھی زیادہ ہے
🌷2_حائضہ دنیا میں نعمتیں پانے کے لیے اور آزمائشوں سے بچنے کے لیے صدقہ کرے
🌷3_آخرت میں جنت پانے کے لیے صدقہ کریں
*🌻حائضہ قران وحدیث کی کتابیں پڑھ سکتی ہے*
🌷 1قرآن مجید کی تلاوت کرسکتی ہے
2_قران کا ترجمہ پڑھ سکتی ہے
🌷2_قرآن کی تفسیر پڑھ سکتی ہے
🌷3_حدیث کی کتابیں پڑھ سکتی ہے
🌷4_قران کی تلاوت سن سکتی ہے
🌷5_قران و حدیث کا لیکچر دے سکتی ہے
🌷6_قران و حدیث کا لیکچر سن بھی سکتی ہے
*🌻حائضہ لیلتہ القدر میں دعا مانگ سکتی ہے*
🌷1_کثرت سے دنیا و آخرت کی دعا کرے
🌷2_جنت مانگے
🌷3_جہنم سے پناہ مانگے
🌷4_ آسان حساب کی دعا مانگے
*🌺جنت میں جگہ بنانے والے کلمات🌺*
🌻ہر انسان جنت میں جانے کی خواہش رکھتا ہے، آج میں آپ کو کچھ ایسے اذکار بتاؤں گی جس سے آپ جنت میں اپنی ذاتی پراپرٹی بنا سکتے ہیں، اس پراپرٹی کے کاغذات آپ کے نام کے بنیں گے
*🌷جنت میں گھر بنانے والی سورۃ🌷*
💥حضرت معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے 10 بار سورۃ الاخلاص پڑھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے ( احمد)
*🌷جنت میں گھر بنانے والی دعا🌷*
🌻 رَبِّ ابِْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي
الْجَنَّةِ🌻
☘ اے میرے رب! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا
سورت تحریم آیت 11
*🌷جنت میں درخت لگانے والے کلمات🌷*
🌻 سُبْحَانَ اللّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ،
اللہُ اَکْبَرْ، لَا اِلَهَ اِلّاَ اللّٰهُ
☘ اے اللّٰہ تو پاک ہے،تمام تعریفیں اللّٰہ کے لیے ہیں،اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے
💥آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ پڑھا، ان میں سے ہر ایک کے بدلے جنت میں درخت لگا دیا جاتا ہے
(ابن ماجہ)
*🌷 جنت میں کھجور کا درخت لگانے والا کلمہ🌷*
*🌻سُبْحَانَ الْعَظِيْم وَ بِحَمْدِهِ*
☘اے اللہ تو اپنی عظمت کے ساتھ پاک ہے
💥حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس نے سبحان اللہ العظیم وبحمدہ پڑھا، اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے ( ترمذی)
*🌷جنت کے دروازے سے داخل ہونے والا اور جنت کے خزانے والا کلمہ🌷*
*🌻لَٓا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَا بِاللہِ🌻*
☘ نہیں ہے نیکی کرنے کی طاقت یا گناہوں سے بچنے کی مگر اللہ کی توفیق سے
💥حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے باپ نےمجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے ان کے پاس بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں اس وقت نماز پڑھ چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قدم سے مجھے ٹھوکر لگائی اور فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں، میں نے عرض کیا کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا حول و لا قوه الا بالله ( ترمذی)
💥حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا حول و لا قوة الا بالله جنت کا خزانہ ہے ( بخاری، مسلم )
*🌷 جنت مانگو ، اس دعا سے ضرور ملے گی🌷*
*🌻 اَلَلھُمَّ اِنِّيْ اَسْٔلُكَ جَنَّةُ الْفِرْدُوسٔ وَ اَعُوْذُبِكَ مِنَ النَّار🌻*
☘ اے اللہ میں تجھ سے جنت الفردوس کا سوال کرتی ہوں اور جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتی ہوں
💥حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تین مرتبہ اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے اللہ! اس کو جنت میں داخل کر دے، اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے اے اللہ اس کو جہنم سے بچا لے (ابن ماجہ)
🌻 یہ کچھ کلمات ہیں جن کو پڑھنے سے ہم جنت میں تھوڑی سی جگہ کے وارث بن جاتے ہیں، اب ہماری مرضی ہے ہم جنت میں کس دروازے سے داخل ہونا چاہتے ہیں، جنت میں کتنے گھر بنانا چاہتے ہیں، اور کتنے کھجور کے باغات چاہتے ہیں اور کتنے درخت چاہتے ہیں
❤2
*👈 آج ہمارے پاس وقت ہے،ہم جنت میں اپنے لیے جگہ بنا سکتے ہیں،دنیا میں گھر بنانے کے لیے اور باغات لگانے کے لیے ہم اتنی محنت کرتے ہیں،گھر پھر بھی قسمت سے ملتا ہے جنت میں آسانی سے مل سکتا ہے*
❤2
"Hum ALLAH Ke Saath Nekiyaun Ki Tijarat Ka Ek Azeem-ul-Shaan Season Paaney Waley Hain... Ya'ni Ramadan Ki Aakhri Das (10) Raatein!
Nabi kareem ﷺ in Raataun Ki Bhout Qadar Aur Ta'zeem Farmaya Kartey They.
Ramadan Ke ibtedaai Bees Dinaun Mein Aap ﷺ Raat Ko ibadat Bhi Kartey They Aur Kuch Der Aaraam Bhi Farmatey.
Lekin jaisey Hee Aakhri Ashra Shuroo' Hota, Aap ﷺ ibadat Ke Liye Kamar Kas Letey, Raat Bhar jaagtey, Apney Ghar Waloun Ko Bhi jagaatey, Aur Logon Sey Alag Ho Kar Khud Ko Poori Tarah ALLAH Ki ibadat Ke Liye Faarigh Kar Letey.
is Liye Hamein Bhi Apney Pyarey Nabi ﷺ Ki is Sunnat Per Amal Karna Chahiye.
Jis Shakhs Ke Liye Mumkin Ho, Woh in Das Dinaun Ka E'itekaaf Karey, Kyunkey Yeh Sub Sey Behtareen Aur Kaamil A'mal Hai.
Aur Agar Kisi Ke Liye E'itekaaf Karna Mumkin Na Ho, To Kam-Az-Kam itna Zaroor Karey Ke Dunya Ki in Masroofiyat Ko Kam Kardey jo Waisey Bhi Kabhi Khatam Honey Wali Nahin Hain.
Aur Apna Zyadah Tar Waqt, Khaas Taur Per Raat Ka Waqt, ALLAH Ki ibadat Ke Liye Khaas Karley.
Yaad Rakhein! inhi Mubarak Raataun Mein 'Shab-E-Qadar Chupi Hai, jo Hazaar Mahinaun Sey Bhi Behtar Hai.
Jis Khush Naseeb Ko is Raat Ki ibadat Ki Taufeeq Mil Gai, Usey Waqi'atan Ek Bhout Badi Bhalaee Mil Gai!"
- الشيخ د. سعد الخثلان
Nabi kareem ﷺ in Raataun Ki Bhout Qadar Aur Ta'zeem Farmaya Kartey They.
Ramadan Ke ibtedaai Bees Dinaun Mein Aap ﷺ Raat Ko ibadat Bhi Kartey They Aur Kuch Der Aaraam Bhi Farmatey.
Lekin jaisey Hee Aakhri Ashra Shuroo' Hota, Aap ﷺ ibadat Ke Liye Kamar Kas Letey, Raat Bhar jaagtey, Apney Ghar Waloun Ko Bhi jagaatey, Aur Logon Sey Alag Ho Kar Khud Ko Poori Tarah ALLAH Ki ibadat Ke Liye Faarigh Kar Letey.
is Liye Hamein Bhi Apney Pyarey Nabi ﷺ Ki is Sunnat Per Amal Karna Chahiye.
Jis Shakhs Ke Liye Mumkin Ho, Woh in Das Dinaun Ka E'itekaaf Karey, Kyunkey Yeh Sub Sey Behtareen Aur Kaamil A'mal Hai.
Aur Agar Kisi Ke Liye E'itekaaf Karna Mumkin Na Ho, To Kam-Az-Kam itna Zaroor Karey Ke Dunya Ki in Masroofiyat Ko Kam Kardey jo Waisey Bhi Kabhi Khatam Honey Wali Nahin Hain.
Aur Apna Zyadah Tar Waqt, Khaas Taur Per Raat Ka Waqt, ALLAH Ki ibadat Ke Liye Khaas Karley.
Yaad Rakhein! inhi Mubarak Raataun Mein 'Shab-E-Qadar Chupi Hai, jo Hazaar Mahinaun Sey Bhi Behtar Hai.
Jis Khush Naseeb Ko is Raat Ki ibadat Ki Taufeeq Mil Gai, Usey Waqi'atan Ek Bhout Badi Bhalaee Mil Gai!"
- الشيخ د. سعد الخثلان
❤3
*🌸 KURSI PAR NAMAZ KI ADAYEGI KE SHARA’EE AHKAM*🌸
_*1️⃣Farz Namaz infiradi soorat:_*
💫 *Agar sirf Sajdah na kar sakein ::*
Qiyam aur Ruku laazmi khade ho kar karein, jab ki sirf Sajdah Kursi par baith kar ishare se karein
💫*Agar Qiyam aur Ruku na kar sakein ::* aisee Surat mein Zameen par baith kar Namaz padhna aur Sajdah karna laazmi hai warna Namaz nahi hogi
💫 *Kursi par mukammal Namaz ki ijazat ::*
Jab Mareez na khada ho sake aur na hi Zameen par baithne ki taqat rakhta ho
⭕️Note : Yaad rahe Qiyam, Ruku aur Sajdah Namaz ke laazmi arkaan hain
Shara’ee uzar ke baghair unhein chorhna Namaz ko qata’an batil kar deta hai
2️⃣ _*Ba-jama’at Farz Namaz ki soorat_*
Jama’at ki soorat mein buniyadi ahkaam wahi hain jo infiradi Namaz ke hain
Albatta Saff bandi aur Kursi ki jagah ka khaas khayal rakhna zaruri hai
💫 *Mukammal Namaz padhne ki soorat::*
Aisee soorat mein Kursi ki pichle paaye Saff ki lakeer par rakhi jayein taaki Namazi ka Jism dusre Namaziyon ki seedhi mein rahein
💫 *Agar Qiyam khade ho kar aur Sajdah Kursi par ho::*
Khade hote waqt Aediyan Saff ki lakeer par honi chahiye
Kursi ko Saff se thoda peeche rakhein, lekin agar peeche Namaziyon ko Pareshani ho to Kursi ke paaye Line par rakh kar khud (Qiyam mein) thoda aage ho jayein
💫 *Kursi ki behtareen jagah ::*
Jama’at mein koshish honi chahiye ki Kursi Saff ki aakhir mein rakhi jaye taaki dusre Namaziyon ki Safein (muttasil) Judi huyee rahein
⭕️Note: Qiyam (rukun) ko Saff milane (waajib) par fauqiyat hasil hai lihaza Ek par Amal Mumkin ho to Qiyam ko tarjeeh di jayegi, khwah Saff mein faasla rah jaye
3️⃣ *_Nafli Namaz ki adayegi ki soorat_*
Nafil aur Sunnat mein Qiyam ( khada hona) rukun nahi hai albatta khade ho kar padhna Afzal aur zyada ajar ka baais hai
💫*Bila uzar baith kar padhne ki gunjaish ::*
Nafil aur Sunnat Namazein bila kisi Uzar ke Zameen par baith kar, ya Kursi par bhi padhi ja sakti hain,
Albatta bila Uzar baith kar padhne se Sawab aadha milega
💫*Shara’ee Uzar par mukammal Sawab ::*
Agar kisi bimari ya Sahar’ee Uzar ki wajah se Nafil ya Sunnat Namaz Kursi par padhi jaye to
in sha Allah mukammal Sawab hasil hoga
⭕️ *Note: Fajar ki sunnato ki ta’keed ke pesh e nazar,*
*Uzar ke baghair unhein Khade ho kar ada karna chahiye*
4️⃣ _*Kursi par Ruku aur Sajdah ke ishare ke Usool_*
Sajdah ke ishare, Ruku ke ishare ki nisbat zyadah jhuk kar karna zaruri hai taaki dono mein wazeh farq nazar aaye
Sajdah ke liye saamne koi Takya, Desk, ya Maiz rakh kar us par Sir tekna durust nahi hai aur na hi haathon se isharah karna durust hai
Sirf Haath ko apne ghutno ke qareeb ya Raano par rakh kar,
Sir ke ishare ke zariye se jhuk jana hi kafi hai
Pls Share it for Khair …
(Islamfort)
🌸🌸🌸
_*1️⃣Farz Namaz infiradi soorat:_*
💫 *Agar sirf Sajdah na kar sakein ::*
Qiyam aur Ruku laazmi khade ho kar karein, jab ki sirf Sajdah Kursi par baith kar ishare se karein
💫*Agar Qiyam aur Ruku na kar sakein ::* aisee Surat mein Zameen par baith kar Namaz padhna aur Sajdah karna laazmi hai warna Namaz nahi hogi
💫 *Kursi par mukammal Namaz ki ijazat ::*
Jab Mareez na khada ho sake aur na hi Zameen par baithne ki taqat rakhta ho
⭕️Note : Yaad rahe Qiyam, Ruku aur Sajdah Namaz ke laazmi arkaan hain
Shara’ee uzar ke baghair unhein chorhna Namaz ko qata’an batil kar deta hai
2️⃣ _*Ba-jama’at Farz Namaz ki soorat_*
Jama’at ki soorat mein buniyadi ahkaam wahi hain jo infiradi Namaz ke hain
Albatta Saff bandi aur Kursi ki jagah ka khaas khayal rakhna zaruri hai
💫 *Mukammal Namaz padhne ki soorat::*
Aisee soorat mein Kursi ki pichle paaye Saff ki lakeer par rakhi jayein taaki Namazi ka Jism dusre Namaziyon ki seedhi mein rahein
💫 *Agar Qiyam khade ho kar aur Sajdah Kursi par ho::*
Khade hote waqt Aediyan Saff ki lakeer par honi chahiye
Kursi ko Saff se thoda peeche rakhein, lekin agar peeche Namaziyon ko Pareshani ho to Kursi ke paaye Line par rakh kar khud (Qiyam mein) thoda aage ho jayein
💫 *Kursi ki behtareen jagah ::*
Jama’at mein koshish honi chahiye ki Kursi Saff ki aakhir mein rakhi jaye taaki dusre Namaziyon ki Safein (muttasil) Judi huyee rahein
⭕️Note: Qiyam (rukun) ko Saff milane (waajib) par fauqiyat hasil hai lihaza Ek par Amal Mumkin ho to Qiyam ko tarjeeh di jayegi, khwah Saff mein faasla rah jaye
3️⃣ *_Nafli Namaz ki adayegi ki soorat_*
Nafil aur Sunnat mein Qiyam ( khada hona) rukun nahi hai albatta khade ho kar padhna Afzal aur zyada ajar ka baais hai
💫*Bila uzar baith kar padhne ki gunjaish ::*
Nafil aur Sunnat Namazein bila kisi Uzar ke Zameen par baith kar, ya Kursi par bhi padhi ja sakti hain,
Albatta bila Uzar baith kar padhne se Sawab aadha milega
💫*Shara’ee Uzar par mukammal Sawab ::*
Agar kisi bimari ya Sahar’ee Uzar ki wajah se Nafil ya Sunnat Namaz Kursi par padhi jaye to
in sha Allah mukammal Sawab hasil hoga
⭕️ *Note: Fajar ki sunnato ki ta’keed ke pesh e nazar,*
*Uzar ke baghair unhein Khade ho kar ada karna chahiye*
4️⃣ _*Kursi par Ruku aur Sajdah ke ishare ke Usool_*
Sajdah ke ishare, Ruku ke ishare ki nisbat zyadah jhuk kar karna zaruri hai taaki dono mein wazeh farq nazar aaye
Sajdah ke liye saamne koi Takya, Desk, ya Maiz rakh kar us par Sir tekna durust nahi hai aur na hi haathon se isharah karna durust hai
Sirf Haath ko apne ghutno ke qareeb ya Raano par rakh kar,
Sir ke ishare ke zariye se jhuk jana hi kafi hai
Pls Share it for Khair …
(Islamfort)
🌸🌸🌸
❤2
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Kya aurton ko Eidgah jana chahiye?
Hamare muashray mein aam tor par aurton ko Eid ki namaz ke liye Eidgah jane se rok diya jata hai, jo ke sarasar Nabi Kareem ﷺ ki sunnat ke khilaf hai!
Sayyida Umm Atiyyah R.A farmati hain:
"Humein Rasul Allah ﷺ ne hukum diya ke hum Eid al-Fitr aur Eid al-Adha ke din jawan (kunwari) larkiyon, pardah nasheen aurton, aur haiz wali aurton ko bhi Eidgah le kar jayein. Albatta haiz wali aurtein namaz ki jagah se alag rahengi, lekin woh musalmanon ki dua aur is khair ki mehfil mein shareek hongi."
(Umm Atiyyah kehti hain) maine poocha: "Ya Rasul Allah! Agar hum mein se kisi ke paas jilbab na ho to woh kya kare?" Aap ﷺ ne farmaya: "Us ki musalman behen use apni chadar odha de (lekin use Eidgah zaroor laye)."
- (Muttafaq ‘Alaih)
Yeh hadees is baat ki khuli daleel hai ke Islam mein Eidgah jana aurton ke liye kitna ahm hai ke jis ke paas pehenne ko chadar nahi, use bhi ghar baithne ki ijazat nahi di gayi balki udhaar chadar le kar aane ka hukum diya gaya.
Eid musalmanon ki taqat, khushi aur ijtemaiyat ka din hai. Aurtein bhi is khair aur dua ki mehfil ki utni hi haqdar hain jitne mard.
"Fitne" ka bahana bana kar sunnat ko nahi chhoda ja sakta. Fitne ka ilaaj mukammal shar’i pardah hai, masjid se rokna nahi.
Lehaza khushboo lagaye baghair, mukammal shar’i parday mein Eidgah zaroor jayein aur Allah ki rehmaton ko sametein!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Kya aurton ko Eidgah jana chahiye?
Hamare muashray mein aam tor par aurton ko Eid ki namaz ke liye Eidgah jane se rok diya jata hai, jo ke sarasar Nabi Kareem ﷺ ki sunnat ke khilaf hai!
Sayyida Umm Atiyyah R.A farmati hain:
"Humein Rasul Allah ﷺ ne hukum diya ke hum Eid al-Fitr aur Eid al-Adha ke din jawan (kunwari) larkiyon, pardah nasheen aurton, aur haiz wali aurton ko bhi Eidgah le kar jayein. Albatta haiz wali aurtein namaz ki jagah se alag rahengi, lekin woh musalmanon ki dua aur is khair ki mehfil mein shareek hongi."
(Umm Atiyyah kehti hain) maine poocha: "Ya Rasul Allah! Agar hum mein se kisi ke paas jilbab na ho to woh kya kare?" Aap ﷺ ne farmaya: "Us ki musalman behen use apni chadar odha de (lekin use Eidgah zaroor laye)."
- (Muttafaq ‘Alaih)
Yeh hadees is baat ki khuli daleel hai ke Islam mein Eidgah jana aurton ke liye kitna ahm hai ke jis ke paas pehenne ko chadar nahi, use bhi ghar baithne ki ijazat nahi di gayi balki udhaar chadar le kar aane ka hukum diya gaya.
Eid musalmanon ki taqat, khushi aur ijtemaiyat ka din hai. Aurtein bhi is khair aur dua ki mehfil ki utni hi haqdar hain jitne mard.
"Fitne" ka bahana bana kar sunnat ko nahi chhoda ja sakta. Fitne ka ilaaj mukammal shar’i pardah hai, masjid se rokna nahi.
Lehaza khushboo lagaye baghair, mukammal shar’i parday mein Eidgah zaroor jayein aur Allah ki rehmaton ko sametein!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
❤2
عنوان:عید کے دن جمعہ کا حکم
اردو ترجمہ:
جو شخص عید کی نماز میں حاضر ہو جائے، اس کے لیے جمعہ کی نماز میں حاضر نہ ہونے کی رخصت ہے، اور وہ ظہر کے وقت ظہر کی نماز پڑھ لے۔ البتہ اگر وہ رخصت چھوڑ کر لوگوں کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
رومن اردو:
Jo shakhs Eid ki namaz mein hazir ho jaye us ke liye Jumu‘ah ki namaz mein hazir na hone ki rukhsat hai, aur woh Zuhr ke waqt Zuhr ki namaz parh le. Albattah agar woh rukhsat chhor kar logon ke saath Jumu‘ah ki namaz ada kare to yeh zyada behtar hai.
مکمل حوالہ:
فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
جمع وترتیب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش
جلد 7، صفحات 116–120
(اللجنة الدائمة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز، عبد الرزاق عفيفي، عبد الله بن غديان، عبد الله بن قعود)
اردو ترجمہ:
جو شخص عید کی نماز میں حاضر ہو جائے، اس کے لیے جمعہ کی نماز میں حاضر نہ ہونے کی رخصت ہے، اور وہ ظہر کے وقت ظہر کی نماز پڑھ لے۔ البتہ اگر وہ رخصت چھوڑ کر لوگوں کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
رومن اردو:
Jo shakhs Eid ki namaz mein hazir ho jaye us ke liye Jumu‘ah ki namaz mein hazir na hone ki rukhsat hai, aur woh Zuhr ke waqt Zuhr ki namaz parh le. Albattah agar woh rukhsat chhor kar logon ke saath Jumu‘ah ki namaz ada kare to yeh zyada behtar hai.
مکمل حوالہ:
فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
جمع وترتیب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش
جلد 7، صفحات 116–120
(اللجنة الدائمة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز، عبد الرزاق عفيفي، عبد الله بن غديان، عبد الله بن قعود)
❤2
*Assalamu Alaikum*
*Wa Rahmatulahi*
*Wa Barkatahu*
*Bismillahirrahmanirraheem*
*✦ Eid ki Namaz ka Tareeqa*
✦ 1. Eid ki Namaz mein Pahli raakat mein 7 takbire hain aur dusri rakat mein 5 Takbire hain - (Sunan Abu Dawud,1150-Sahih)
✦2. Sabse pahle Dil se Eid ki Namaz ki Niyyat karke Allahu Akbar kah kar haath baandh le aur dheemi aawaz mein sana padhe
سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰی جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرَكَ
Subhanaka Allahumma Wa bi hamdika,
Wa tabarakas-muka, wa taala jadduka, wa la ilaha gairuka.
✦ 3. Uske bad 7 baar takbir padhenge..aur har takbir ke waqt haath utha kar chodh de ya haatho ko baandh le (dono sahi hai)
Allahu Akbar... Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar
✦ 4. Saatvi takbir ke baad haath baandh le aur Bismillahirrhamanirrahim padh kar Surah fatiha aur phir koi Surah padh le
✦5. Phir ruku aur do sajde kar le
✦ 6. Aur Allahu Akbar kah kar dusri rakat ke liye khade ho jaye aur khade hote hi 5 baar takbire bole
Allahu Akbar... Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar..aur har takbir ke waqt haath utha kar chodh de ya baadh le
✦7. phir paanchvi takbir ke baad haath baandh kar Surah fatiha aur koi surah padh le phir ruku aur do sajde kar le
✦ 8. uske baad Attahiyat , Durud ibrhaim , Dua aur phir salam pher de
*Note : Ghar par Eid ki Namaz padane walo ko khutba nahi dena hai, eid ki Namaz ghar par jamat bana kar bhi padh sakte hain aur akele bhi padh sakte hain*
سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰی جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرَكَ
*Wa Rahmatulahi*
*Wa Barkatahu*
*Bismillahirrahmanirraheem*
*✦ Eid ki Namaz ka Tareeqa*
✦ 1. Eid ki Namaz mein Pahli raakat mein 7 takbire hain aur dusri rakat mein 5 Takbire hain - (Sunan Abu Dawud,1150-Sahih)
✦2. Sabse pahle Dil se Eid ki Namaz ki Niyyat karke Allahu Akbar kah kar haath baandh le aur dheemi aawaz mein sana padhe
سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰی جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرَكَ
Subhanaka Allahumma Wa bi hamdika,
Wa tabarakas-muka, wa taala jadduka, wa la ilaha gairuka.
✦ 3. Uske bad 7 baar takbir padhenge..aur har takbir ke waqt haath utha kar chodh de ya haatho ko baandh le (dono sahi hai)
Allahu Akbar... Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar
✦ 4. Saatvi takbir ke baad haath baandh le aur Bismillahirrhamanirrahim padh kar Surah fatiha aur phir koi Surah padh le
✦5. Phir ruku aur do sajde kar le
✦ 6. Aur Allahu Akbar kah kar dusri rakat ke liye khade ho jaye aur khade hote hi 5 baar takbire bole
Allahu Akbar... Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar...Allahu Akbar..aur har takbir ke waqt haath utha kar chodh de ya baadh le
✦7. phir paanchvi takbir ke baad haath baandh kar Surah fatiha aur koi surah padh le phir ruku aur do sajde kar le
✦ 8. uske baad Attahiyat , Durud ibrhaim , Dua aur phir salam pher de
*Note : Ghar par Eid ki Namaz padane walo ko khutba nahi dena hai, eid ki Namaz ghar par jamat bana kar bhi padh sakte hain aur akele bhi padh sakte hain*
سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰی جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرَكَ
❤3
*👁نظر بد اور حسد سے بچنے کی دعائیں*
*🔸نظر بد سے حفاظت کی دعائیں کسی چیز کو دیکھ کر یہ کہنا*
*1⃣مَا شَاءَ اللهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ *
جو الله نے چاہا کچھ قوت نہیں مگر الله کی مدد سے
*🔸پسندیدہ چیز کو دیکھ کر برکت کی دعا کرنا*
*2⃣بَارَكَ اللهُ فِیْهِ*
الله تمھیں اس میں برکت دے
*🔸معوذتین پڑھنا*
*3⃣قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ*
*🔸اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے پناہ لینا*
*4⃣أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَیْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَیْنٍ لَامَّةٍ*
میں پناہ لیتا ہوں الله کے مکمل کلمات کے ذریعے ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے
*🔸نظر بد سے حفاظت کا دم*
*5⃣اِمْسَحِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ بِیَدِكَ الشِّفَائُ لَا كَاشِفَ لَهُ اِلَّا أَنْتَ*
اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، شفا تیرے ہاتھ میں ہے، تیرے علاوہ اسے کوئی دور نہیں کرسکتا
*🔸شدید نظر لگ جانے پردعا*
*6⃣اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَ بَرْدَهَا وَ وَصَبَهَا*
اے الله!اس سے اس کی گرمی و سردی اور بیماری و لاغری کودور کر دے
*🔸صبح وشام کی دعائیں پڑھنا*
*7⃣بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَیْئ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِیْ السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ*
الله کے نام سے، وہ ذات کہ اس کے نام سے کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں، نقصان نہیں دے سکتی اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے
*🔸ہر طرح کے نقصان سے بچنے کی دعا*
*8⃣أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ*
میں الله کے کامل کلمات کی پناہ لیتاہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے
*🔸حاسد کے شر سے بچنے کی دعائیں*
*9⃣بِسْمِ ٱللَّـهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ *
آپ کہیے کہ: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے۔ اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرےآپ کہیے کہ: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے۔ اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے
*🔸جبرائیل علیہ السلام کا دم*
*🔟بِسْمِ اللهِ أَرْقِیْكَ مِنْ كُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیْكَ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَكُلِّ عَیْنٍ وَاسْمُ اللهِ یَشْفِیْكَ*
الله کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دیتی ہے ، ہر حاسد کے حسد سے اور ہر نظر بد سے، اور الله کے نام کے ساتھ ، (الله )آپ کو شفا دے
▪▪▪▪
*🔸نظر بد سے حفاظت کی دعائیں کسی چیز کو دیکھ کر یہ کہنا*
*1⃣مَا شَاءَ اللهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ *
جو الله نے چاہا کچھ قوت نہیں مگر الله کی مدد سے
*🔸پسندیدہ چیز کو دیکھ کر برکت کی دعا کرنا*
*2⃣بَارَكَ اللهُ فِیْهِ*
الله تمھیں اس میں برکت دے
*🔸معوذتین پڑھنا*
*3⃣قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ*
*🔸اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے پناہ لینا*
*4⃣أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَیْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَیْنٍ لَامَّةٍ*
میں پناہ لیتا ہوں الله کے مکمل کلمات کے ذریعے ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے
*🔸نظر بد سے حفاظت کا دم*
*5⃣اِمْسَحِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ بِیَدِكَ الشِّفَائُ لَا كَاشِفَ لَهُ اِلَّا أَنْتَ*
اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، شفا تیرے ہاتھ میں ہے، تیرے علاوہ اسے کوئی دور نہیں کرسکتا
*🔸شدید نظر لگ جانے پردعا*
*6⃣اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَ بَرْدَهَا وَ وَصَبَهَا*
اے الله!اس سے اس کی گرمی و سردی اور بیماری و لاغری کودور کر دے
*🔸صبح وشام کی دعائیں پڑھنا*
*7⃣بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَیْئ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِیْ السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ*
الله کے نام سے، وہ ذات کہ اس کے نام سے کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں، نقصان نہیں دے سکتی اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے
*🔸ہر طرح کے نقصان سے بچنے کی دعا*
*8⃣أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ*
میں الله کے کامل کلمات کی پناہ لیتاہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے
*🔸حاسد کے شر سے بچنے کی دعائیں*
*9⃣بِسْمِ ٱللَّـهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ *
آپ کہیے کہ: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے۔ اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرےآپ کہیے کہ: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے۔ اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے
*🔸جبرائیل علیہ السلام کا دم*
*🔟بِسْمِ اللهِ أَرْقِیْكَ مِنْ كُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیْكَ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَكُلِّ عَیْنٍ وَاسْمُ اللهِ یَشْفِیْكَ*
الله کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دیتی ہے ، ہر حاسد کے حسد سے اور ہر نظر بد سے، اور الله کے نام کے ساتھ ، (الله )آپ کو شفا دے
▪▪▪▪
❤3
*سعادت کے چھ ستون اور بدبختی سے نجات*
*1. والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک:*
والدہ کی خدمت اور ان کے ساتھ نرمی اختیار کرنے والا کبھی جابر یا بدبخت نہیں ہو سکتا۔
آیت کریمہ ہے: ﴿وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا﴾ (سورہ مریم: 32)
ترجمہ: "اور (اللہ نے مجھے) اپنی والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا بنایا ہے اور مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے ادا ہونے والے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ ماں کی نافرمانی انسان کو سنگدل اور بدقسمت بنا دیتی ہے، جبکہ ان کی خدمت خوش بختی کی ضمانت ہے۔
*2. اللہ سے دعا مانگنا:*
جو شخص اپنے رب سے مانگنے کا عادی ہو، وہ کبھی محروم اور ناامید نہیں رہتا۔
آیت کریمہ ہے: ﴿وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا﴾ (سورہ مریم: 4)
ترجمہ: "اور اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم و ناخوش نہیں رہا۔"
یہ حضرت زکریا علیہ السلام کی عاجزی ہے؛ دعا دراصل اللہ پر مکمل بھروسے کا نام ہے، اور جس کا بھروسہ اللہ پر ہو، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔
*3. قرآنِ کریم سے تعلق:*
قرآن ہدایت اور سکون کا سرچشمہ ہے، اسے پڑھنے اور سمجھنے والا کبھی ذہنی یا روحانی تنگی کا شکار نہیں ہوتا۔
آیت کریمہ ہے: ﴿مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى﴾ (سورہ طٰہٰ: 2)
ترجمہ: "ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت (اور بدبختی) میں پڑ جائیں۔"
قرآن کا مقصد انسان کی زندگی کو آسان اور پُرسکون بنانا ہے، نہ کہ اسے تنگی میں ڈالنا۔
*4. ہدایت کی پیروی:*
اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے والا دنیا کی گمراہی اور آخرت کی سختی سے محفوظ رہتا ہے۔
آیت کریمہ ہے: ﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى﴾ (سورہ طٰہٰ: 123)
ترجمہ: "پس جس نے میری ہدایت کی پیروی کی، وہ نہ (دنیا میں) بھٹکے گا اور نہ (آخرت میں) بدبخت ہوگا۔"
صراطِ مستقیم پر چلنے کا صلہ یہ ہے کہ انسان ذہنی انتشار سے بچ جاتا ہے اور اسے حقیقی سکون ملتا ہے۔
*5. اللہ کا خوف اور خشیت:*
دل میں اللہ کا ڈر رکھنے والا نصیحت قبول کرتا ہے اور بڑی تباہی سے بچ جاتا ہے۔
آیت کریمہ ہے: ﴿سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ * وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى﴾ (سورہ الاعلیٰ: 10-11)
ترجمہ: "عنقریب وہ شخص نصیحت حاصل کر لے گا جو (اللہ سے) ڈرتا ہے، اور اس (نصیحت) سے وہ دور رہے گا جو بڑا بدبخت ہے۔"
جس کے دل میں اللہ کی عظمت کا ڈر ہو، وہ گناہوں کی نحوست سے بچا رہتا ہے، جبکہ بے خوف انسان بدبختی کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔
*6. تقویٰ اور پرہیزگاری:*
تقویٰ انسان کو جہنم کی آگ اور ابدی ناکامی سے بچانے والی ڈھال ہے۔
آیت کریمہ ہے: ﴿فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ * لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى... وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى﴾ (سورہ اللیل: 14-17)
ترجمہ: "پس میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے، جس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے... اور اس سے وہ (شخص) دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے۔"
یہاں واضح کر دیا گیا کہ بدبختی کا انجام آگ ہے، جبکہ تقویٰ کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان صفات کو اپنانے کی توفیق دے اور ہمیں "سعادت" والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
*شاھد سنابلی*
*1. والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک:*
والدہ کی خدمت اور ان کے ساتھ نرمی اختیار کرنے والا کبھی جابر یا بدبخت نہیں ہو سکتا۔
آیت کریمہ ہے: ﴿وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا﴾ (سورہ مریم: 32)
ترجمہ: "اور (اللہ نے مجھے) اپنی والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا بنایا ہے اور مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے ادا ہونے والے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ ماں کی نافرمانی انسان کو سنگدل اور بدقسمت بنا دیتی ہے، جبکہ ان کی خدمت خوش بختی کی ضمانت ہے۔
*2. اللہ سے دعا مانگنا:*
جو شخص اپنے رب سے مانگنے کا عادی ہو، وہ کبھی محروم اور ناامید نہیں رہتا۔
آیت کریمہ ہے: ﴿وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا﴾ (سورہ مریم: 4)
ترجمہ: "اور اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم و ناخوش نہیں رہا۔"
یہ حضرت زکریا علیہ السلام کی عاجزی ہے؛ دعا دراصل اللہ پر مکمل بھروسے کا نام ہے، اور جس کا بھروسہ اللہ پر ہو، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔
*3. قرآنِ کریم سے تعلق:*
قرآن ہدایت اور سکون کا سرچشمہ ہے، اسے پڑھنے اور سمجھنے والا کبھی ذہنی یا روحانی تنگی کا شکار نہیں ہوتا۔
آیت کریمہ ہے: ﴿مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى﴾ (سورہ طٰہٰ: 2)
ترجمہ: "ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت (اور بدبختی) میں پڑ جائیں۔"
قرآن کا مقصد انسان کی زندگی کو آسان اور پُرسکون بنانا ہے، نہ کہ اسے تنگی میں ڈالنا۔
*4. ہدایت کی پیروی:*
اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے والا دنیا کی گمراہی اور آخرت کی سختی سے محفوظ رہتا ہے۔
آیت کریمہ ہے: ﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى﴾ (سورہ طٰہٰ: 123)
ترجمہ: "پس جس نے میری ہدایت کی پیروی کی، وہ نہ (دنیا میں) بھٹکے گا اور نہ (آخرت میں) بدبخت ہوگا۔"
صراطِ مستقیم پر چلنے کا صلہ یہ ہے کہ انسان ذہنی انتشار سے بچ جاتا ہے اور اسے حقیقی سکون ملتا ہے۔
*5. اللہ کا خوف اور خشیت:*
دل میں اللہ کا ڈر رکھنے والا نصیحت قبول کرتا ہے اور بڑی تباہی سے بچ جاتا ہے۔
آیت کریمہ ہے: ﴿سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ * وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى﴾ (سورہ الاعلیٰ: 10-11)
ترجمہ: "عنقریب وہ شخص نصیحت حاصل کر لے گا جو (اللہ سے) ڈرتا ہے، اور اس (نصیحت) سے وہ دور رہے گا جو بڑا بدبخت ہے۔"
جس کے دل میں اللہ کی عظمت کا ڈر ہو، وہ گناہوں کی نحوست سے بچا رہتا ہے، جبکہ بے خوف انسان بدبختی کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔
*6. تقویٰ اور پرہیزگاری:*
تقویٰ انسان کو جہنم کی آگ اور ابدی ناکامی سے بچانے والی ڈھال ہے۔
آیت کریمہ ہے: ﴿فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ * لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى... وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى﴾ (سورہ اللیل: 14-17)
ترجمہ: "پس میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے، جس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے... اور اس سے وہ (شخص) دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے۔"
یہاں واضح کر دیا گیا کہ بدبختی کا انجام آگ ہے، جبکہ تقویٰ کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان صفات کو اپنانے کی توفیق دے اور ہمیں "سعادت" والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
*شاھد سنابلی*
❤2
🌹
*"الأمل بالله حبل لا ينقطع"*
_اللہ سے امید وہ رسی ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتی_
چاہے زندگی کتنی ہی سخت ہو، حالات کتنے ہی الجھے ہوں، جب تک یہ رسی ہاتھ میں ہے، سہارا باقی ہے۔ انسان چھوڑ دے، دنیا پیچھے ہٹ جائے، لیکن اللہ کی رحمت کا سلسلہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔
گلاب کی طرح... کانٹوں کے درمیان بھی کھلتا ہے، اور نرمی سے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امید کبھی ختم نہیں ہوتی 🍃
*"الأمل بالله حبل لا ينقطع"*
_اللہ سے امید وہ رسی ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتی_
چاہے زندگی کتنی ہی سخت ہو، حالات کتنے ہی الجھے ہوں، جب تک یہ رسی ہاتھ میں ہے، سہارا باقی ہے۔ انسان چھوڑ دے، دنیا پیچھے ہٹ جائے، لیکن اللہ کی رحمت کا سلسلہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔
گلاب کی طرح... کانٹوں کے درمیان بھی کھلتا ہے، اور نرمی سے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امید کبھی ختم نہیں ہوتی 🍃
*متقی آدمی کے لیے صحت اور خوشدلی ہزار نعمت ہے...*
معاذ بن عبداللہ بن خُبیب اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا (عبید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انھونے فرمایا: ہم ایک محفل میں حاضر تھے کہ نبیﷺ تشریف لے آئے۔ آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا (یعنی آپ اسی وقت غسل کرکے آئے تھے) ہم میں سے کسی نے آپ سے عرض کیا: آج ہم آپ کو (زیادہ) خوش دیکھ رہے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: "ہاں، اللہ کا شکر ہے۔" پھر لوگوں نے خوشحالی (اور دولت مندی) کا ذکر چھیڑ دیا تو آپﷺ نے فرمایا: "اگر پاس تقویٰ ہو تو دولت مند ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ اور جس کے پاس تقویٰ ہو اس کے لیے صحت، مالداری سے بہتر ہے۔اور خوش دلی بھی (اللہ کی) ایک نعمت ہے۔" [سنن ابن ماجه:2141 صححه الألباني, مسند أحمد:5/372,381, المستدرك للحاكم: 2/3, وصححه الحاكم، والذهبي، والبوصيري.]
1٭ متقی کے لیے دولت مند ہونے میں حرج نہیں:
دولت بذات خود کوئی بری چیز نہیں۔ اس کے حصول کا طریقہ اور ناجائز مقام پر خرچ کرنا اسے برا بناتا ہے۔ متقی آدمی کے لیے دولت مند ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ وہ روزی حلال طریقے سے کماتا ہے اور نیکی کے کاموں میں اور جائز ضروریات پوری کرنے میں خرچ کرتا ہے۔ اور تقویٰ ساتھ ہونے کی صورت میں مال کا فتنہ اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔ اور مال و دولت اسے کبھی اللہ کی یاد، نماز و دیگر عبادات سے نہیں روکتے۔
لیکن غیر متقی کے لیے مالدار ہونے میں حرج ہے۔ کیونکہ وہ روزی کمانے میں حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا۔ اور خرچ کرتے وقت فخر و ریا یا غیر ضروری عیش و عشرت میں خرچ کرتا ہے۔ اور تقویٰ نہ رہنے کی وجہ سے وہ مال کے فتنے میں ملوث ہوجاتا ہے۔ اسے مال کی فکر اتنی ہوجاتی ہے کہ فکرِ آخرت سے غافل ہوکر غیر اسلامی طریقے پر زندگی گزارتا ہے۔ نمازوں کی پابندی اور دیگر اعمال صالحہ کرنے کی فرصت نہیں ملتی اور ایسے آدمی کے لیے دولت ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔ جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے“ [سنن ترمذی:2376]
2٭ صحت ہزار نعمت ہے:
صحت، دولت سے بڑی نعمت ہے۔ اسی لیے بولا جاتا ہے۔ صحت ہزار نعمت ہے۔ حدیث میں خاص طور پر متقی آدمی کے لیے بولا گیا ہے۔ کیونکہ اگر کسی کے پاس تقویٰ اور صحت ہو لیکن دولت نہ ہو تو وہ دولت نہ ہونے کی وجہ سے مایوس نہیں ہوتا، بلکہ وہ اللہ سے ہر حال میں راضی رہتا ہے اور صحت جیسی بڑی نعمت اس کے پاس دیکھ کر اس پر خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے دولت سے بڑی نعمت اسے عطا کردی ہے۔ اور اسے آخرت اور جنت کی فکر رہتی ہے۔صحت کی حالت میں دولت کم ہونے کے باوجود نیکی کے بہت سے کام کیے جاسکتے ہیں۔
اس کے برعکس غیر متقی جس کے پاس صحت ہو پر مال نہ ہو وہ اس پر راضی نہیں رہتا۔ اسے مال کی فکر لگی رہتی ہے۔ وہ صحت جیسی عظیم نعمت اپنے پاس ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو کنگال سمجھتا ہے۔ وہ اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر کرنے کے بجائے اوپر والے لوگوں کو دیکھ کر مایوس رہتا ہے۔ اپنی صحت کو اللہ کی اطاعت میں گزارنے کے بجائے وہ آخرت سے غافل زندگی گزارتا ہے۔ نبیﷺ نے لوگوں کی اکثریت کے بارے میں ارشاد فرمایا: "دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، (اور وہ) صحت اور فراغت ہے۔"( صحیح بخاری: 6412)
3٭ خوشدلی بھی نعمت ہے:
جس طرح صحت ایک بڑی نعمت ہے۔ اسی طرح طبیعت کا خوش ہونا بھی بڑی نعمت ہے۔ اگر مال لاکھوں کروڑوں ہو، لیکن صحت اور خوش دلی و اطمینان نفس نہ ہو تو سب بیکار ہے۔ مومن کو خوش و خرم رہنا چاہیے۔ مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا بھی معمولی نیکی نہیں۔(صحیح مسلم:2626)
جو نعمتیں ہمیں حاصل نہیں، ان کے نہ ہونے پر افسوس کرنے کے بجائے ان نعمتوں پر توجہ کرنی چاہیے جو حاصل ہیں۔ تاکہ دل میں شکر کا جزبہ پیدا ہو اور ناشکری جیسے برے عمل سے محفوظ رہ سکیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿الضحي:۱۱﴾ "اور آپ اپنے رب کی نعمت کا ذکر کرتے رہیں"۔
معاذ بن عبداللہ بن خُبیب اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا (عبید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انھونے فرمایا: ہم ایک محفل میں حاضر تھے کہ نبیﷺ تشریف لے آئے۔ آپ کے سر مبارک پر پانی کا اثر تھا (یعنی آپ اسی وقت غسل کرکے آئے تھے) ہم میں سے کسی نے آپ سے عرض کیا: آج ہم آپ کو (زیادہ) خوش دیکھ رہے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: "ہاں، اللہ کا شکر ہے۔" پھر لوگوں نے خوشحالی (اور دولت مندی) کا ذکر چھیڑ دیا تو آپﷺ نے فرمایا: "اگر پاس تقویٰ ہو تو دولت مند ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ اور جس کے پاس تقویٰ ہو اس کے لیے صحت، مالداری سے بہتر ہے۔اور خوش دلی بھی (اللہ کی) ایک نعمت ہے۔" [سنن ابن ماجه:2141 صححه الألباني, مسند أحمد:5/372,381, المستدرك للحاكم: 2/3, وصححه الحاكم، والذهبي، والبوصيري.]
1٭ متقی کے لیے دولت مند ہونے میں حرج نہیں:
دولت بذات خود کوئی بری چیز نہیں۔ اس کے حصول کا طریقہ اور ناجائز مقام پر خرچ کرنا اسے برا بناتا ہے۔ متقی آدمی کے لیے دولت مند ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ وہ روزی حلال طریقے سے کماتا ہے اور نیکی کے کاموں میں اور جائز ضروریات پوری کرنے میں خرچ کرتا ہے۔ اور تقویٰ ساتھ ہونے کی صورت میں مال کا فتنہ اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔ اور مال و دولت اسے کبھی اللہ کی یاد، نماز و دیگر عبادات سے نہیں روکتے۔
لیکن غیر متقی کے لیے مالدار ہونے میں حرج ہے۔ کیونکہ وہ روزی کمانے میں حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا۔ اور خرچ کرتے وقت فخر و ریا یا غیر ضروری عیش و عشرت میں خرچ کرتا ہے۔ اور تقویٰ نہ رہنے کی وجہ سے وہ مال کے فتنے میں ملوث ہوجاتا ہے۔ اسے مال کی فکر اتنی ہوجاتی ہے کہ فکرِ آخرت سے غافل ہوکر غیر اسلامی طریقے پر زندگی گزارتا ہے۔ نمازوں کی پابندی اور دیگر اعمال صالحہ کرنے کی فرصت نہیں ملتی اور ایسے آدمی کے لیے دولت ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔ جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے“ [سنن ترمذی:2376]
2٭ صحت ہزار نعمت ہے:
صحت، دولت سے بڑی نعمت ہے۔ اسی لیے بولا جاتا ہے۔ صحت ہزار نعمت ہے۔ حدیث میں خاص طور پر متقی آدمی کے لیے بولا گیا ہے۔ کیونکہ اگر کسی کے پاس تقویٰ اور صحت ہو لیکن دولت نہ ہو تو وہ دولت نہ ہونے کی وجہ سے مایوس نہیں ہوتا، بلکہ وہ اللہ سے ہر حال میں راضی رہتا ہے اور صحت جیسی بڑی نعمت اس کے پاس دیکھ کر اس پر خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے دولت سے بڑی نعمت اسے عطا کردی ہے۔ اور اسے آخرت اور جنت کی فکر رہتی ہے۔صحت کی حالت میں دولت کم ہونے کے باوجود نیکی کے بہت سے کام کیے جاسکتے ہیں۔
اس کے برعکس غیر متقی جس کے پاس صحت ہو پر مال نہ ہو وہ اس پر راضی نہیں رہتا۔ اسے مال کی فکر لگی رہتی ہے۔ وہ صحت جیسی عظیم نعمت اپنے پاس ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو کنگال سمجھتا ہے۔ وہ اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر کرنے کے بجائے اوپر والے لوگوں کو دیکھ کر مایوس رہتا ہے۔ اپنی صحت کو اللہ کی اطاعت میں گزارنے کے بجائے وہ آخرت سے غافل زندگی گزارتا ہے۔ نبیﷺ نے لوگوں کی اکثریت کے بارے میں ارشاد فرمایا: "دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، (اور وہ) صحت اور فراغت ہے۔"( صحیح بخاری: 6412)
3٭ خوشدلی بھی نعمت ہے:
جس طرح صحت ایک بڑی نعمت ہے۔ اسی طرح طبیعت کا خوش ہونا بھی بڑی نعمت ہے۔ اگر مال لاکھوں کروڑوں ہو، لیکن صحت اور خوش دلی و اطمینان نفس نہ ہو تو سب بیکار ہے۔ مومن کو خوش و خرم رہنا چاہیے۔ مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا بھی معمولی نیکی نہیں۔(صحیح مسلم:2626)
جو نعمتیں ہمیں حاصل نہیں، ان کے نہ ہونے پر افسوس کرنے کے بجائے ان نعمتوں پر توجہ کرنی چاہیے جو حاصل ہیں۔ تاکہ دل میں شکر کا جزبہ پیدا ہو اور ناشکری جیسے برے عمل سے محفوظ رہ سکیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿الضحي:۱۱﴾ "اور آپ اپنے رب کی نعمت کا ذکر کرتے رہیں"۔