ISLAMIC MEDIA SERVICE
16 subscribers
29 photos
4 videos
44 files
132 links
قرآن کریم،حمد، نعت ونظم، بیانات (فضائل و مسائل ہر اعتبار سے) حدیث شریف، فتاوی، درس نظامی، سیرت، تاریخ ،اصلاحی کتب، عقائدوعلم الاحکام، دعائیں وظائف طب ودیگر مفید کتب ڈاؤنلوڈکرنے کیلئے جوائن کریں۔
(اہلسنت والجماعت دیوبند)
👉@IslamicMediaService
Download Telegram
https://youtu.be/FkGqM96jHVw
حضرت امیر معاویہ رضی الله عنه کے بارے مولانا سلمان ندوی کا رجوع..

آپ حضرات اس ویڈیو کو دیکھ کر ضرور بتائیں کہ کیا یہ رجوع ہے یا پھر منہ میں جوتا مارنا...
الله ہمیں ہدایت پر قائم وادائم فرمائیں
*زقوم اور اسٹرابری*

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوری رحمہ اللہ نے قرآن کریم کی آیت : *ان شجرۃ الزقوم* کے تحت لکھا ہے کہ:
ایک مجلس میں احقر اور دو عالم جو اصل میں ہندی ہیں اورسکونت مکہ میں ہے مجمع کثیر کے ساتھ موجود تھے ، ان دونوں  میں سے ایک عالم نے کہا کہ مکہ میں زقوم کا پھل کھایا جاتا ہے جس کو ’’برشومی‘‘ کہتے ہیں جبکہ قرآن کریم سے وہ جہنمیوں کا کھانا معلوم ہوتا ہے ، سو ایسی لذیذ چیز سے کیا وعید ہوئی ؟ احقر نے کہا کہ قرآن کریم میں لفظ ’’شجرۃ الزّقّوم‘‘ یعنی ’’زقوم کا درخت ’’آیاہے ، "ثمرۃ الزّقّوم" یعنی ’’زقوم کاپھل ‘‘نہیں آیا ، اور درخت نہیں کھایا جاتا ، اس جواب کو ان دونوں حضرات اور دیگر اہل مجلس نے بہت پسند کیا ، لیکن اس جواب کی ضرورت بھی اس وقت ہے جبکہ "برشومی" اسی زقوم کا پھل ہو جس کا ذکرقرآن میں ہے ، اوراگر یہ کوئی دوسری قسم کا پھل ہے توپھر سوال ہی واقع نہیں ہوتا۔

[بیان القرآن جلد ۲صفحہ ٣۸۰]

بِسۡـــــــــمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡـمَـٰنِ ٱلرَّحِـــــــيمِ


0.8k🔹امتِ مسلمه مفتی أنس یونس چینل


0.8k🔸آپ کےمسائل اور ان کاشرعی حل


0.9k🔹باغِ ترنم حمد نعت نظم گروپ


0.8k🔸فضلاء دارالعلوم دیوبند گروپ


0.5k🔹مـدلـل احـکـام و مـسـائـل چینل


0.9k🔸تقاریر قاری حنیف صاحبؒ چینل


0.4k🔹تحفظِ جدید دینی مسائل گروپ


0.5k🔸مكتب امام ابوحنيفه رح چینل


0.3k🔹اسلامک میڈیا سروس چینل


0.6k🔸مسلم میڈیا سروسز چینل


0.3k🔹تحفظِ اخبار عالم گروپ


0.3k🔸تحفظِ اردو ادب گروپ


0.9k🔹بے لوث طبی خدمات چینل


0.6k🔸حکایتوں کا گلدستہ گروپ


0.6k🔹کتب خانہ عزیزیہ گروپ


0.3k🔸احناف اسلامک سروس چینل


0.3k🔹تحفظِ قرآن وسنت گروپ


0.6k🔸اللہ ﷻ والوں کی باتیں


0.5k🔹درسی کتب کے ویڈیوز چینل


0.5k🔸بزم نعت و نظمیں چینل


0.5k🔹تحفظِ عربی ادب گروپ


0.3k🔸تحفظِ میڈیا گروپ


0.4k🔹الوعي الإسلامي گروپ


0.3k🔸وقت کا پیغام گروپ


0.6k🔸کہانیاں اور معلومات


0.3k🔹فیضِ نقشبندیه چینل


0.4k🔸تحفظِ انسانیت گروپ


0.8k🔹 المسائل الاسلامیة چینل


0.5k🔸تعلیم وتربیت گروپ


0.7k🔹آزمودہ نسخے چینل


0.3k🔸حق و باطل گروپ


0.4k🔹العلما والصلاح گروپ


0.7k🔸مکتبہ فکر دیوبند چینل


0.5k🔹پیغامِ صحت گروپ


0.4k🔸انوارِ أولياء چینل


0.9k🔹مولانا مکی چینل


0.7k🔸اِظْہَارِحَقْ چینل


0.7k🔹ٹیوٹر گائیڈ گروپ


0.5k🔸تحفظ دین گروپ


0.7k🔹مشعلِ راہ چینل


0.5k🔸العربية چینل


0.7k🔻دعوت و تبلیغ چینل


8.7k🔻نُـــور ڪُـتُــب خَـانـه

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ......
چانکیہ کی وراثت ابھی زندہ ہے۔
یاسر ندیم الواجدی

سکھوں کے ایک مشہور اسکالر ڈاکٹر سکھ پریت سنگھ نے 584 صفحات کی ایک کتاب لکھی ہے، کتاب کا نام ہے "سکھ ازم کے خلاف فکری حملے پر ردعمل" (انگریزی نام کا ترجمہ) کتاب میں انھوں نے صحفہ نمبر 582 پر آر ایس ایس کی پالیسیاں نمبر وار درج کی ہیں۔ یہ ایک خفیہ سرکیولر ہے جو تنظیم کی طرف سے اپنے خاص ممبران کو دیا گیا ہے، ڈاکٹر سنگھ کے حوالے سے اس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
1- زیادہ سے زیادہ دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار جمع رکھیں۔
2- سرکاری افسران میں ہندوتوا کے تئیں بیداری لائی جائے۔
3- طبی عملے کے درمیان بھی ہندوتوا کے تئیں بیداری لائی جائے اور ان کو اس بات کا قائل کیا جائے کہ وہ دلتوں اور مسلمانوں کے نوزائیدہ بچوں کا درست علاج نہ کریں اور یہ بچے معذور پروان چڑھیں۔
4- نچلی ذات کے ہندووں میں "جے شری رام" کے نعرے کو پھیلایا جائے۔
5- ہندوتوا وادی سیکیولر پروگراموں کا بائیکاٹ کیا جائے۔
6- ڈرگ، نشہ، جوا اور لاٹری کی تجارتوں کا تعاون کیا جائے ۔
7- سرکاری دفاتر میں ہندو تہواروں کو بڑے پیمانے پر منایاجائے۔
8- مسلم اور دلت لڑکیوں کو طوائف بنانے کی کوشش کی جائے۔
9- اساتذہ کی مدد سے "غیر سورن" بچوں کو ایسی غذائیں فراہم کی جائیں کہ ان کی جسمانی افزائش متاثر ہوجائے۔
10- ایس سی اور ایس ٹی کے بچوں میں ہندوازم کو مضبوط کرنے کے لیے ان کو ہندو مذہبی اسکولوں میں داخل کیا جائے۔
11- فسادات کے دوران مسلم اور دلت خواتین کی عصمت دری کی جائے اور "سورت" میں پیش کیے جانے والے طریقہ کار کو ملحوظ رکھا جائے۔
12- غیر ہندو عباد گاہوں کے قریب ہندو معبودوں کی تصاویر آویزاں کی جائیں اور ایسا لٹریچر عام کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ یہ اصلا ہندووں کی عبادت گاہیں ہیں۔ (اس تعلق سے ناگپور ہیڈ کوارٹر سے مواد حاصل کیا جاسکتا ہے)۔
13- اسلام اور بدھ ازم کے خلاف لٹریچر عام کیا جائے اور مہاراجہ اشوک کو ہندو ثابت کیا جائے۔
14- لائبریریوں سے اسلام، بدھ ازم اور دیگر مذاہب کے لٹریچر کو تدریجا ختم کردیا جائے۔
15- خالی جگہوں پر اونچی برادری کے ہندووں کو ہی ملازمت دی جائے۔
16- رامائن کے اسٹیکرز، کیلنڈرز اور پمفلٹ زیادہ سے زیادہ تقسیم کرائے جائیں۔
17- پسماندہ ذاتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے سادھو سنتوں کی خدمات برابر لی جاتی رہیں۔
18- جینیوں، سکھوں اور بدھ مت کے ماننے والوں کی تبدیلی مذہب کے پروگرام بڑ ے پیمانے پر منعقد ہوں۔ (پٹنہ ماڈل سامنے رہے)
19- منڈل کمیشن مخالف پروگرام زیادہ سے زیادہ منعقد کیے جائیں
20- مسلمانوں کی مختلف ذاتوں میں تفرقہ ڈالا جائے۔
21- سیاسی پالیسی کے لیے چانکیہ نیتی کو سامنے رکھا جائے۔
22- دلتوں میں دیوداسی کی روایت کو بڑھاوا دیا جائے، اس کے لیے ایسی تصاویر ان میں تقسیم کی جائیں جن میں بھگوانوں کو لڑکیوں کے ساتھ بوس وکنار کرتے ہوے دکھایا گیا ہو۔
23- میڈیا کو کنٹرول کیا جائے اور ایڈیٹرس کو برہمن واد کے تحفظ کے لیے آمادہ کیا جائے۔
24- ایس سی، ایس ٹی امیدوار جو برہمن واد کی حمایت کریں ان کی الیکش میں جیت کو یقینی بنایا جائے۔
25- مسلمانوں ہی میں سے ایسے افراد کا انتخاب کیا جائے جو مسلم مخالف ذہنیت کے ساتھ لکھیں۔
26- سورن برادری کے تاجروں کا مکمل تعاون کیا جائے۔
27- غیر ہندووں کے کاموں پر نظر رکھی جائے اور ہیڈ کوارٹر کو مطلع کیا جاتا رہے۔
28- ہندو/برہمن واد مخالف لوگوں کو قتل کرکے پہلے سے بتائے گئے طریقے کے مطابق ان کی لاش کو ٹھکانے لگادیا جائے۔
29- چاند کی چودہویں تاریخ کو رضاکاروں کی لازمی میٹنگ ہو۔
30- پیغامات کی ترسیل برابر جاری رہے۔

حق کو پھلنےپھولنے کے لیے اس طرح کی سازشوں کا سہارا نہیں لینا پڑتا ہے، یہ ہمیشہ سے باطل کا طریقہ رہا ہے، البتہ حق کے تحفظ کے لیے باطل کی ریشہ دوانیوں سے مکمل واقفیت بہت ضروری ہے۔ مندرجہ بالا تفصیلات میں کوئی بھی چیز نئی یا تعجب خیز نہیں ہے، لیکن ان باتوں کا ایک سکھ اسکالر کی طرف سے بطور ثبوت پیش کیا جانا یقینا اہمیت کا حامل ہے.
https://www.facebook.com/islamicmediaservice1/
جامعہ امام محمد انورشاہ، دیوبند کے صدرالمدرسین اور معروف عالم دین حضرت مولانا عبدالرشید بستوی صاحب کا سانحۂ ارتحال:

آج بتاریخ 25 اکتوبر بروز جمعرات شام تقریباً 8 بجے ملک کی انتہائ معروف و مقبول شخصیت، علمی دنیا کے گوہر بے مثال. حضرت مولانا عبدالرشید صاحب قاسمی بستوی، استاذ حدیث جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند حرکتِ قلب بند ہونے کی بنا پر اس دار فانی سے دار بقاء کی جانب کوچ کر گئے. آپ کو آج ھی شام دیوبند سے میرٹھ منتقل کیا گیا تھا، لیکن وقت موعود پورا ہوجانے کی بناء پر آپ نے راستے میں ہی داعئ اجل کو لبیک کہہ دیا۔

مرحوم جامعہ ہذا کے قدیم استاذ اور کئی اہم کتابوں کے مصنف تھے اور کم و بیش 22 سال سے جامعہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے 52 برس کی عمر پائی۔

جامعہ کے مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ کشمیری نے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارے ایک مخلص اور بہترین استاذ کھو دیا، اس سے مجھے سخت صدمہ لاحق ہے۔
مدارس، متعلقین اور قارئین سے ان کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔

نمازِ جنازہ کل بعدِ جمعہ دارالعلوم کے احاطۂ مولسری میں ادا کی جائے گی اور قبرستانِ انوری میں تدفین عمل میں آئے گی۔

فضیل احمد ناصری
بچھڑ کر بھی محبت کے زمانے یاد رہتے ہیں.
اجڑ جاتی ہے محفل اور چہرے یاد رہتے ہیں.
شگفتہ لوگ بھی ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں اندر سے.
بہت روتے ہیں وہ جنکو لطیفے یاد رہتے ہیں.
منور رانا
Bichad kar bhi Muhabbat ke Zamane yaad rehte hain
Ujad jati hai Mehfil aur chehre yaad rehte hain
Shagufta loog bhi tute hue hote hain andar se
Bahut rute hain wo jinko latife yaad rehte hain.
fb.com/islamicmediaservice1/
@islamicmediaservice