حضرت سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ
حضرت عتبہ اُن بزرگوں میں ہیں جنہوں نے ابتدأ ہی میں داعیٔ توحید کو لبیک کہا اور مسلمان ہو گئے۔تیر اندازی کے لحاظ سے آپ کا شمار کاملینِ فن میں تھا۔ ۱۴ ہجری میں خلیفہ دوم نے آپ کو بندرگاہ ابلہ بلسان اور اس کے ملحقہ مقامات کی فتح پر مامور فرمایا۔ حضرت عتبہؓ نے اِس مہم کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ حضرت عمرؓ کے ہی حکم سے حضرت عتبہؓ نے آٹھ سو آدمیوں کے ساتھ شہر بصرہ کی داغ بیل ڈالی، ہر قبیلہ کے لیے ایک ایک محلّہ مخصوص کر دیا۔ اِس نئے شہر کے سب سے پہلے والی بھی حضرت عتبہؓ ہی مقرر ہوئے۔
تقویٰ ، زہد، جفاکشی اور خاکساری آپ کے خصوصی اوصاف ہیں۔ آپؓ نے بصرہ کی جامع مسجد میں ایک خطبہ دیا تھا، یہاں اُس کے چند فقرے نقل کیے جاتے ہیں۔ اس سے آپ کے خوفِ قیامت ، زہد اور خاکساری کا اندازہ ہوگا:
’’صاحبو! دُنیا گزر جانے والی، آنے جانے والی ہے۔ اس کا بڑا حصہ گزر چکا ہے اور اب اُس کا تھوڑا حصہ باقی ہے جس طرح کہ برتن کا پانی پھینک دینے کے بعد آخر میں کچھ دیر تک قطرات کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔ ہاں تم اِس دنیا سے ایک دوسری جگہ منتقل ہونے والے ہو جس کو کبھی زوال نہیں، تو پھر کیوں نہیں اپنے ساتھ بہتر سے بہتر تحائف لے جاتے ہو؟ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ اگر پتھر کا کوئی ٹکڑا جہنم کے کنارے سے لڑھکایا جائے تو ستّر برس میں بھی وہ اُس کی گہرائی کو طے نہیں کر سکتا۔ لیکن اللہ کی قسم! تم اُس جہنم کو بھر دو گے۔ کیا تم اِس پر تعجّب کرتے ہوئے؟
اللہ کی قسم مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہوں گے کہ چالیس سال میں اُس کی مسافت طے ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک دن ایسا بھی آئے گا جب کہ اُن پر سخت ازدحام ہوگا۔ میں جب ایمان لایا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف چھ آدمی تھے، عسرت و ناداری کی یہ حالت تھی کہ درخت کے پتوں پر گزارہ تھا جس سے آنتوں میں زخم پڑ جاتے تھے۔ مجھے ایک دفعہ ایک چادر مل گئی جس کو چاک کر کے میں نے اور سعد نے تہبند بنایا۔ لیکن ایک دن یہ بھی آیا کہ جب ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا امیر ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ اُس کے نزدیک حقیر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بڑا سمجھوں۔ نبوت ختم ہو چکی ہے، انجام کار بادشاہت قائم ہو گی اور تم عنقریب ہمارے بعد امیروں کو آزماؤ گے۔
(سیر الصحابہؓ ج۲ مہاجرین حصہ اول ص ۴۱۷)
۱۷ ہجری میں وفات ہوئی۔ نور اللہ مرقدہ
ناشر:ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
https://chirpwire.net/Wire/v/13952
حضرت عتبہ اُن بزرگوں میں ہیں جنہوں نے ابتدأ ہی میں داعیٔ توحید کو لبیک کہا اور مسلمان ہو گئے۔تیر اندازی کے لحاظ سے آپ کا شمار کاملینِ فن میں تھا۔ ۱۴ ہجری میں خلیفہ دوم نے آپ کو بندرگاہ ابلہ بلسان اور اس کے ملحقہ مقامات کی فتح پر مامور فرمایا۔ حضرت عتبہؓ نے اِس مہم کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ حضرت عمرؓ کے ہی حکم سے حضرت عتبہؓ نے آٹھ سو آدمیوں کے ساتھ شہر بصرہ کی داغ بیل ڈالی، ہر قبیلہ کے لیے ایک ایک محلّہ مخصوص کر دیا۔ اِس نئے شہر کے سب سے پہلے والی بھی حضرت عتبہؓ ہی مقرر ہوئے۔
تقویٰ ، زہد، جفاکشی اور خاکساری آپ کے خصوصی اوصاف ہیں۔ آپؓ نے بصرہ کی جامع مسجد میں ایک خطبہ دیا تھا، یہاں اُس کے چند فقرے نقل کیے جاتے ہیں۔ اس سے آپ کے خوفِ قیامت ، زہد اور خاکساری کا اندازہ ہوگا:
’’صاحبو! دُنیا گزر جانے والی، آنے جانے والی ہے۔ اس کا بڑا حصہ گزر چکا ہے اور اب اُس کا تھوڑا حصہ باقی ہے جس طرح کہ برتن کا پانی پھینک دینے کے بعد آخر میں کچھ دیر تک قطرات کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔ ہاں تم اِس دنیا سے ایک دوسری جگہ منتقل ہونے والے ہو جس کو کبھی زوال نہیں، تو پھر کیوں نہیں اپنے ساتھ بہتر سے بہتر تحائف لے جاتے ہو؟ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ اگر پتھر کا کوئی ٹکڑا جہنم کے کنارے سے لڑھکایا جائے تو ستّر برس میں بھی وہ اُس کی گہرائی کو طے نہیں کر سکتا۔ لیکن اللہ کی قسم! تم اُس جہنم کو بھر دو گے۔ کیا تم اِس پر تعجّب کرتے ہوئے؟
اللہ کی قسم مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہوں گے کہ چالیس سال میں اُس کی مسافت طے ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک دن ایسا بھی آئے گا جب کہ اُن پر سخت ازدحام ہوگا۔ میں جب ایمان لایا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف چھ آدمی تھے، عسرت و ناداری کی یہ حالت تھی کہ درخت کے پتوں پر گزارہ تھا جس سے آنتوں میں زخم پڑ جاتے تھے۔ مجھے ایک دفعہ ایک چادر مل گئی جس کو چاک کر کے میں نے اور سعد نے تہبند بنایا۔ لیکن ایک دن یہ بھی آیا کہ جب ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا امیر ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ اُس کے نزدیک حقیر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بڑا سمجھوں۔ نبوت ختم ہو چکی ہے، انجام کار بادشاہت قائم ہو گی اور تم عنقریب ہمارے بعد امیروں کو آزماؤ گے۔
(سیر الصحابہؓ ج۲ مہاجرین حصہ اول ص ۴۱۷)
۱۷ ہجری میں وفات ہوئی۔ نور اللہ مرقدہ
ناشر:ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
https://chirpwire.net/Wire/v/13952
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
کورونا وائرس سے متعلق کئی سوالات
جو کرونا کو وبا سمجھتے ہیں کیا وہ اس کا جواب دیں گے؟
telegram.me/impoinfo
جو کرونا کو وبا سمجھتے ہیں کیا وہ اس کا جواب دیں گے؟
telegram.me/impoinfo
امیر المؤمنین سیّدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ
حضرت ابو بکر کا سلسلۂ نسب چھٹی پشت میں مُرّہ پر آنحضرت ﷺ سے مل جاتا ہے۔
ولادت: آپ حضور اکرم ﷺ کی ولادت مبارکہ کے دو سال بعد پیدا ہوئے، وفات کے وقت آپ کی بھی عمر ترسٹھ سال تھی۔
حکومت کے ذمّہ داروں کو نصائح: آپ جب کسی شخص کو کسی ذمہ داری کے عہدہ پر مامور فرماتے تو عموماً بلا کر اُس کے فرائض کی تشریح کر دیتے اور نہایت مؤثر الفاظ میں سلاست روی اور تقویٰ کی نصیحت فرماتے۔ چنانچہ حضرت سیدنا عمرو بن العاص اور حضرت سیدنا ولید ابن عقبہ رضی اللہ عنہما کو قبیلہ قصاعہ پر محصِّل صدقہ بنا کر بھیجا تو اِن الفاظ میں نصیحت فرمائی:
پوشیدہ اور ظاہر ہر موقع پر اللہ کا خوف رکھنا، کیوں کہ جو اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے اللہ اُس کے لیے (ہر مشکل سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور رزق کا ایسا ذریعہ پیدا کرتا ہے جس کا اُس کو گمان بھی نہیں ہوتااور جو اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اُس کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اُس کو اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔
تقویٰ: ورع و تقویٰ آپ کا امتیازی وصف تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ کے ایک غلام نے کھانے کی کوئی چیز لاکر پیش کی، جب تناول فرما چکے تو غلام نے کہا، آپ جانتے ہیں کہ یہ کس طرح حاصل ہوا؟ فرمایا، بیان کرو! غلام نے کہا کہ میں نے(زمانۂ) جاہلیت میں ایک شخص کی فال کھولی تھی، میں فال کھولنا جانتا نہ تھا، صرف اُس کو دھوکہ دیا تھا۔ لیکن آج اُس سے ملاقات ہوئی تو اُس نے اسی صلہ میں یہ کھانا دیا ۔ یہ سرگزشت سُنی تو منہ میں اُنگلی ڈال کر جو کچھ کھایا تھا قے کر دیا۔ فرمایا کرتے تھے کہ جو جسم اَکلِ حرام سے پرورش پاتا ہے جہنم اُس کا بہترین مسکن ہے۔
فائدہ: اس سے اکل حلال کی کیسی کچھ اہمیت معلوم ہوئی جو صوفیہ کرام کے اصول میں سے اہم اصل ہے۔
زُھد: امارت، دنیا طلبی و جاہ پسندی سے قطعی نفرت تھی۔ خلافت کا بارِ گراں بھی محض اُمّتِ مرحومہ کو تفریق و اختلاف سے محفوظ رکھنے کے یے اُٹھا لیا تھا، ورنہ دل سے اِس ذمہ داری کے متمنی نہ تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے پینے کے لیے پانی مانگا، لوگوں نے پانی میں شہد ملا کر پیش کیا۔ لیکن جیسے ہی منہ کے قریب لے گئے بے اختیار آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اِس قدر روئے کہ تمام حاضرین پر رقت طاری ہو گئی۔ جب کسی قدر سکون ہوا تو لوگوں نے گریہ و زاری کی وجہ پوچھی۔ بولے’’ایک روز میں آں حضرت ﷺ کے ساتھ تھا، آپ کسی چیز کو ’’دور ہو! دور ہو!‘‘ فرما رہے تھے۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا چیز ہے؟ جس کو آپ دور فرما رہے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’دنیا زیب و زینت کے ساتھ میرے سامنے آئی تھی، میں نے اُس کو دور کر دیا‘‘۔ اِس وقت یکایک حضور اکرم ﷺ کا یہ واقعہ مجھے یاد آگیا اور میں ڈرا کہ مبادا دُنیا کے دامِ مکر و فریب کا شکار نہ ہو جاؤں‘‘۔
تواضع: آپ کے اندر تواضع و خاکساری کی خاص صفت تھی۔ اس لیے کسی معمولی سے کام کے کرنے سے آپ کو عار نہ ہوتا تھا۔ اکثر بھیڑ بکریاں تک خود ہی چَرا لیتے اور محلّہ والوں کی بکریاں دوہ دیتے تھے۔ چنانچہ منصبِ خلافت کے لیے جب آپ کا انتخاب ہوا تو محلّہ کی ایک لڑکی کو فکر لاحق ہوئی اور اُس نے تاسّف آمیز لہجے میں کہا، اب ہماری بکریاں کون دوہے گا؟ حضرت ابوبکرؓ نے سُنا تو فرمایا، اللہ کی قسم! میں تمہاری بکریاں دوہ دیا کروں گا، امید ہے کہ خلافت مجھے مخلوق کی خدمت گزاری سے باز نہ رکھے گی۔
انفاق فی سبیل اللہ: حضرت ابوبکر صدیق ؓکے پاس قبولِ اسلام کے وقت چالیس ہزار درہم نقد موجود تھے، آپ نے یہ تمام دولت راہِ خدا میں صرف کردی۔ آں حضرت ﷺ نے بارہا اِس فیاضی کے بر محل ہونے کا اعتراف فرمایا۔’’ابوبکر کے مال سے زیادہ کوئی مال میرے لیے مفید نہ ہوا‘‘۔
آپ کی عبادت و ریاضت: آپ رات رات بھر نمازیں پڑھتے تھے، دن کو اکثر روزے رکھتے تھے۔ خصوصاً موسمِ گرما روزوں میں ہی بسر ہوتا تھا۔ خشوع و خضوع کا یہ عالم تھا کہ نماز میں لکڑی کی طرح بے حس و حرکت نظر آتے تھے۔ رِقّت اِس قدر طاری ہوتی کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی تھی۔ خوفِ محشر اور عبرت پذیری سے دنیاکا ذرّہ ذرہ اُن کے لیے سرمایۂ عبرت تھا۔ کوئی سر سبز درخت دیکھتے تو کہتے، کاش میں درخت ہی ہوتا کہ عاقبت کے جھگڑوں سے چھوٹ جاتا۔ نیکو کاری و حصولِ ثواب کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا۔ آج تم میں سے روزے سے کوئی ہے؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا، میں! پھر پوچھا، آج کسی نے جنازہ کی مشایعت کی ہے؟ عرض کیا، میں نے! کسی نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ عرض کیا، میں نے! اور کسی نے مریض کی عیادت کی ہے؟ جواب دیا کہ، میں نے! تو آں حضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایک دن میں اِس قدر نیکیاں جمع کی ہوں وہ یقیناً جنت میں جائے گا۔ (سیر صحابہ، ج ۱ ،ص ۹۲)
(جاری)
ناشر: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
ویب لنک 👇
https://chirpwire.net/Wire/v/13966
حضرت ابو بکر کا سلسلۂ نسب چھٹی پشت میں مُرّہ پر آنحضرت ﷺ سے مل جاتا ہے۔
ولادت: آپ حضور اکرم ﷺ کی ولادت مبارکہ کے دو سال بعد پیدا ہوئے، وفات کے وقت آپ کی بھی عمر ترسٹھ سال تھی۔
حکومت کے ذمّہ داروں کو نصائح: آپ جب کسی شخص کو کسی ذمہ داری کے عہدہ پر مامور فرماتے تو عموماً بلا کر اُس کے فرائض کی تشریح کر دیتے اور نہایت مؤثر الفاظ میں سلاست روی اور تقویٰ کی نصیحت فرماتے۔ چنانچہ حضرت سیدنا عمرو بن العاص اور حضرت سیدنا ولید ابن عقبہ رضی اللہ عنہما کو قبیلہ قصاعہ پر محصِّل صدقہ بنا کر بھیجا تو اِن الفاظ میں نصیحت فرمائی:
پوشیدہ اور ظاہر ہر موقع پر اللہ کا خوف رکھنا، کیوں کہ جو اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے اللہ اُس کے لیے (ہر مشکل سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور رزق کا ایسا ذریعہ پیدا کرتا ہے جس کا اُس کو گمان بھی نہیں ہوتااور جو اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اُس کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اُس کو اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔
تقویٰ: ورع و تقویٰ آپ کا امتیازی وصف تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ کے ایک غلام نے کھانے کی کوئی چیز لاکر پیش کی، جب تناول فرما چکے تو غلام نے کہا، آپ جانتے ہیں کہ یہ کس طرح حاصل ہوا؟ فرمایا، بیان کرو! غلام نے کہا کہ میں نے(زمانۂ) جاہلیت میں ایک شخص کی فال کھولی تھی، میں فال کھولنا جانتا نہ تھا، صرف اُس کو دھوکہ دیا تھا۔ لیکن آج اُس سے ملاقات ہوئی تو اُس نے اسی صلہ میں یہ کھانا دیا ۔ یہ سرگزشت سُنی تو منہ میں اُنگلی ڈال کر جو کچھ کھایا تھا قے کر دیا۔ فرمایا کرتے تھے کہ جو جسم اَکلِ حرام سے پرورش پاتا ہے جہنم اُس کا بہترین مسکن ہے۔
فائدہ: اس سے اکل حلال کی کیسی کچھ اہمیت معلوم ہوئی جو صوفیہ کرام کے اصول میں سے اہم اصل ہے۔
زُھد: امارت، دنیا طلبی و جاہ پسندی سے قطعی نفرت تھی۔ خلافت کا بارِ گراں بھی محض اُمّتِ مرحومہ کو تفریق و اختلاف سے محفوظ رکھنے کے یے اُٹھا لیا تھا، ورنہ دل سے اِس ذمہ داری کے متمنی نہ تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے پینے کے لیے پانی مانگا، لوگوں نے پانی میں شہد ملا کر پیش کیا۔ لیکن جیسے ہی منہ کے قریب لے گئے بے اختیار آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اِس قدر روئے کہ تمام حاضرین پر رقت طاری ہو گئی۔ جب کسی قدر سکون ہوا تو لوگوں نے گریہ و زاری کی وجہ پوچھی۔ بولے’’ایک روز میں آں حضرت ﷺ کے ساتھ تھا، آپ کسی چیز کو ’’دور ہو! دور ہو!‘‘ فرما رہے تھے۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا چیز ہے؟ جس کو آپ دور فرما رہے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’دنیا زیب و زینت کے ساتھ میرے سامنے آئی تھی، میں نے اُس کو دور کر دیا‘‘۔ اِس وقت یکایک حضور اکرم ﷺ کا یہ واقعہ مجھے یاد آگیا اور میں ڈرا کہ مبادا دُنیا کے دامِ مکر و فریب کا شکار نہ ہو جاؤں‘‘۔
تواضع: آپ کے اندر تواضع و خاکساری کی خاص صفت تھی۔ اس لیے کسی معمولی سے کام کے کرنے سے آپ کو عار نہ ہوتا تھا۔ اکثر بھیڑ بکریاں تک خود ہی چَرا لیتے اور محلّہ والوں کی بکریاں دوہ دیتے تھے۔ چنانچہ منصبِ خلافت کے لیے جب آپ کا انتخاب ہوا تو محلّہ کی ایک لڑکی کو فکر لاحق ہوئی اور اُس نے تاسّف آمیز لہجے میں کہا، اب ہماری بکریاں کون دوہے گا؟ حضرت ابوبکرؓ نے سُنا تو فرمایا، اللہ کی قسم! میں تمہاری بکریاں دوہ دیا کروں گا، امید ہے کہ خلافت مجھے مخلوق کی خدمت گزاری سے باز نہ رکھے گی۔
انفاق فی سبیل اللہ: حضرت ابوبکر صدیق ؓکے پاس قبولِ اسلام کے وقت چالیس ہزار درہم نقد موجود تھے، آپ نے یہ تمام دولت راہِ خدا میں صرف کردی۔ آں حضرت ﷺ نے بارہا اِس فیاضی کے بر محل ہونے کا اعتراف فرمایا۔’’ابوبکر کے مال سے زیادہ کوئی مال میرے لیے مفید نہ ہوا‘‘۔
آپ کی عبادت و ریاضت: آپ رات رات بھر نمازیں پڑھتے تھے، دن کو اکثر روزے رکھتے تھے۔ خصوصاً موسمِ گرما روزوں میں ہی بسر ہوتا تھا۔ خشوع و خضوع کا یہ عالم تھا کہ نماز میں لکڑی کی طرح بے حس و حرکت نظر آتے تھے۔ رِقّت اِس قدر طاری ہوتی کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی تھی۔ خوفِ محشر اور عبرت پذیری سے دنیاکا ذرّہ ذرہ اُن کے لیے سرمایۂ عبرت تھا۔ کوئی سر سبز درخت دیکھتے تو کہتے، کاش میں درخت ہی ہوتا کہ عاقبت کے جھگڑوں سے چھوٹ جاتا۔ نیکو کاری و حصولِ ثواب کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا۔ آج تم میں سے روزے سے کوئی ہے؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا، میں! پھر پوچھا، آج کسی نے جنازہ کی مشایعت کی ہے؟ عرض کیا، میں نے! کسی نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ عرض کیا، میں نے! اور کسی نے مریض کی عیادت کی ہے؟ جواب دیا کہ، میں نے! تو آں حضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایک دن میں اِس قدر نیکیاں جمع کی ہوں وہ یقیناً جنت میں جائے گا۔ (سیر صحابہ، ج ۱ ،ص ۹۲)
(جاری)
ناشر: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
ویب لنک 👇
https://chirpwire.net/Wire/v/13966
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
https://www.google.com/get/noto/#nastaliq-aran
گوگل نے نوٹو نستعلیق کے نام سے ایک ویب فونٹ جاری کیا ہے۔ اس چینل کے جن حضرات کو ویب سائٹ یا بلاگ بنانے کا تجربہ ہے وہ CSS style sheet میں اس فونٹ کو شامل کر کے دیکھیں کہ یہ کس طرح کام کر رہا ہے۔ نتیجہ سے بھی مجھے واقف کریں۔
@abusarim
گوگل نے نوٹو نستعلیق کے نام سے ایک ویب فونٹ جاری کیا ہے۔ اس چینل کے جن حضرات کو ویب سائٹ یا بلاگ بنانے کا تجربہ ہے وہ CSS style sheet میں اس فونٹ کو شامل کر کے دیکھیں کہ یہ کس طرح کام کر رہا ہے۔ نتیجہ سے بھی مجھے واقف کریں۔
@abusarim
امیر المؤمنین سیّدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ
قسط دوم
تصوّف: سب سے اوّل تصفیہ و تزکیۂ باطن کے لیے کلمۂ طیبہ کا طریقۂ ذکر حضرت ابو بکرؓ نے تلقین کیا۔ حضرت جنید ؒ کا قول ہے کہ توحید میں بزرگ تر کلام حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا یہ مقولہ ’’سبحان من لم یجعل لخلقہ سبیلا الا بالعجز‘‘۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق کے لیے سوائے عجز کے کوئی راستہ نہیں بنایا۔
کشف المحجوب میں ہے، طریقۂ تصوّف کے امام ابوبکرؓ ہیں۔ انقطاع عن الاغیار ( جو جانِ تصوّف ہے) اُن کے اِس خطبہ سے عیاں ہے ’’اِلّا مَن کان یعبُدُ محمداً الخ‘‘ محبتِ دنیا سے پاک و صاف ہونے کا شاید غزوۂ تبوک کا وہ واقعہ ہے آنحضرت ﷺ نے پوچھا، اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑ آئے؟ کہا اللہ اور اُس کا رسول۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے تصوّفِ صدیقیؓ کے ذیل میں حضرت صدیقِ اکبرؓ کے اُن تمام اوصاف کی تفصیل کی ہے جو اساسِ تصوّف ہیں۔ مثلاً توّکل، احتیاط، تواضع، اللہ کی مخلوق پر شفقت، رضا، خوفِ الٰہی، جو صاحب شائقِ تفصیل ہوں ’’ازالۃ الخفاء‘‘ دیکھیں۔ ہم مضمون کے عام فہم نہ ہونے کے سبب زیادہ تفصیل سے نہیں لکھتے۔ صرف خوفِ الٰہی کی ایک مثال پر اکتفاء کرتے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے ایک روز درخت پر ایک چڑیا دیکھی تو حسرت سے کہا:
’’اے پرندے خوش حال ہے تو، پھل کھاتا ہے، درخت کے سایہ میں بسر کرتا ہے، حساب کا کچھ کھٹکا نہیں۔ کاش ابوبکر تجھ سا ہوتا۔‘‘
نماز میں خشیتِ الٰہی کا یہ عالم ہوتا کہ ایک چوبِ خشک کی طرح کھڑے ہوتے۔ طریقۂ نقشبندیہ جو آج تک عالم میں فیض رساں ہے اُس کا سلسلہ بواسطۂ حضرت امام جعفر صادق حضرت ابوبکرؓ تک پہنچتا ہے۔
آپؓ کے ارشادات: اب آپؓ کے ارشادات ’’طبقاتِ کبریٰ‘‘ سے ملاحظہ فرمائیں!
آپ فرمایا کرتے تھے کہ سب سے بڑی سمجھداری تقویٰ ہے اور اعلیٰ درجہ کی حماقت فسق و فجور ہے اور امانت بہت بڑی سچائی ہے اور بد ترین جھوٹ خیانت ہے۔
آپ کبھی لا علمی سے مشتبہ کھانا کھا لیتے تو تحقیق کے بعد اس کو قے کر دیتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرماتے کہ یا اللہ! اِس کھانے کا اثر جو میری رگوں اور آنتوں میں سرایت کر گیا ہے اُس پر مواخذہ نہ فرمائیے۔
آپ فرمیا کرتے تھے کہ اِس دین کا آخر اُنہی چیزوں سے درست ہو گا جن سے اِس کا اوّل درست ہوا تھا۔ اور اِن باتوں کا تحمّل وہی کر سکتا ہے جو قدر میں سب سے افضل اور اپنے نفس پر سب سے زیادہ قابو یافتہ ہے۔
فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی دنیا کی زینتوں میں سے کسی زینت پر عجب کرتا ہے تو جب تک اُس سے علیحدگی اختیار نہیں کرتا اُس وقت تک اللہ تعالیٰ اُس سے ناراض رہتے ہیں۔
آپ فرماتے تھے کہ کاش میں کوئی شجر (درخت) ہوتا جو کاٹ دیا جاتا اور کھا لیا جاتا۔ اور آپ اپنی زبان کو پکڑ کر فرماتے کہ اِسی نے مجھ کو ہلاکت کے مواقع میں پہنچایا۔ اور آپ کا یہ حال تھا کہ جب اونٹ کی مہار گر جاتی تو اونٹ کو بیٹھا کر اُس کو اُٹھاتے اور آپ سے کہا جاتا کہ آپ نے ہم کو کیوں نہ حکم دیا؟ تو فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم فرمایا ہے کہ لوگوں سے کسی قسم کا سوال نہ کریں۔
صحابۂ کرامؓ سے آپ فرمایا کرتے کہ میں آپ حضرات کے اُمور کا والی ضرور بنا دیا گیا ہوں، مگر میں آپ لوگوں سے بہتر نہیں ہوں۔ لہٰذا میری آپ لوگ مدد کیا کریں۔ جب مجھے راہِ راست پر دیکھیں تو اتّباع کریں اور جب میرے اندر کجی دیکھیں تو درست کر دیا کریں۔
آپ پر حُزن اور خوف کا غلبہ رہتا تھا، حتیٰ کہ آپ کے منہ سے بھنی ہوئی کلیجی کی بو آتی تھی۔ (طبقاتِ کبریٰ، ج۱، ص ۱۱۵)
آپ کے ارشادات ’’سیرت خلفاء راشدین‘‘ سے ملاحظہ فرمائیں:
ایک روز خطبہ میں فرمایا: وہ حسین و خوبصورت لوگ کہاں گئے جن کو اپنی جوانی و خوبصورتی پر ناز تھا؟ وہ بادشاہ کہاں گئے جنہوں نے شہر آباد کیے تھے اور قلعے بنائے تھے؟ وہ بہادر کہاں گئے جو میدان جنگ میں ہمیشہ غالب رہا کرتے تھے؟ زمانہ نے اُن کو ہلاک کر دیا اور وہ قبر کی تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا کرتے تھے کہ خبردار، کوئی کسی شخص کو حقیر نہ سمجھے، کیوں کہ چھوٹے درجے کا مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا ہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے بزرگی کو تقویٰ میں پایا، اور تونگری کو یقین میں، اور عزت کو تواضع میں۔
فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ لونڈی و غلاموں کو اولاد کی طرح رکھو۔ اُن کو وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔
فرمایا کہ میں پاکی بیان کرتا ہوں اُس ذات کی جس نے اپنی مخلوق کے لیے کوئی راستہ اپنی معرفت کا نہیں رکھا سوائے اِس کے کہ اُس کی معرفت سے عاجز ہو جائیں۔ (امام الصوفیہ حضرت جنید بغداد ؒاِس کلام کی نسبت فرماتے ہیں کہ ’’اشرفُ کلمۃ فی التوحید)
فرمایا کہ جو شخص اللہ کی محبت کو مزہ چکھ لیتا ہے، پھر اُس کو طلبِ دنیا کی فرصت نہیں ملتی اور انسانوں سے اس کو وحشت ہوتی ہے۔(جاری)
ناشر: ضروری معلومات چینل
t.me/impoinfo
ویب لنک 👇
https://chirpwire.net/Wire/v/15582
قسط دوم
تصوّف: سب سے اوّل تصفیہ و تزکیۂ باطن کے لیے کلمۂ طیبہ کا طریقۂ ذکر حضرت ابو بکرؓ نے تلقین کیا۔ حضرت جنید ؒ کا قول ہے کہ توحید میں بزرگ تر کلام حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا یہ مقولہ ’’سبحان من لم یجعل لخلقہ سبیلا الا بالعجز‘‘۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق کے لیے سوائے عجز کے کوئی راستہ نہیں بنایا۔
کشف المحجوب میں ہے، طریقۂ تصوّف کے امام ابوبکرؓ ہیں۔ انقطاع عن الاغیار ( جو جانِ تصوّف ہے) اُن کے اِس خطبہ سے عیاں ہے ’’اِلّا مَن کان یعبُدُ محمداً الخ‘‘ محبتِ دنیا سے پاک و صاف ہونے کا شاید غزوۂ تبوک کا وہ واقعہ ہے آنحضرت ﷺ نے پوچھا، اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑ آئے؟ کہا اللہ اور اُس کا رسول۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے تصوّفِ صدیقیؓ کے ذیل میں حضرت صدیقِ اکبرؓ کے اُن تمام اوصاف کی تفصیل کی ہے جو اساسِ تصوّف ہیں۔ مثلاً توّکل، احتیاط، تواضع، اللہ کی مخلوق پر شفقت، رضا، خوفِ الٰہی، جو صاحب شائقِ تفصیل ہوں ’’ازالۃ الخفاء‘‘ دیکھیں۔ ہم مضمون کے عام فہم نہ ہونے کے سبب زیادہ تفصیل سے نہیں لکھتے۔ صرف خوفِ الٰہی کی ایک مثال پر اکتفاء کرتے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے ایک روز درخت پر ایک چڑیا دیکھی تو حسرت سے کہا:
’’اے پرندے خوش حال ہے تو، پھل کھاتا ہے، درخت کے سایہ میں بسر کرتا ہے، حساب کا کچھ کھٹکا نہیں۔ کاش ابوبکر تجھ سا ہوتا۔‘‘
نماز میں خشیتِ الٰہی کا یہ عالم ہوتا کہ ایک چوبِ خشک کی طرح کھڑے ہوتے۔ طریقۂ نقشبندیہ جو آج تک عالم میں فیض رساں ہے اُس کا سلسلہ بواسطۂ حضرت امام جعفر صادق حضرت ابوبکرؓ تک پہنچتا ہے۔
آپؓ کے ارشادات: اب آپؓ کے ارشادات ’’طبقاتِ کبریٰ‘‘ سے ملاحظہ فرمائیں!
آپ فرمایا کرتے تھے کہ سب سے بڑی سمجھداری تقویٰ ہے اور اعلیٰ درجہ کی حماقت فسق و فجور ہے اور امانت بہت بڑی سچائی ہے اور بد ترین جھوٹ خیانت ہے۔
آپ کبھی لا علمی سے مشتبہ کھانا کھا لیتے تو تحقیق کے بعد اس کو قے کر دیتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرماتے کہ یا اللہ! اِس کھانے کا اثر جو میری رگوں اور آنتوں میں سرایت کر گیا ہے اُس پر مواخذہ نہ فرمائیے۔
آپ فرمیا کرتے تھے کہ اِس دین کا آخر اُنہی چیزوں سے درست ہو گا جن سے اِس کا اوّل درست ہوا تھا۔ اور اِن باتوں کا تحمّل وہی کر سکتا ہے جو قدر میں سب سے افضل اور اپنے نفس پر سب سے زیادہ قابو یافتہ ہے۔
فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی دنیا کی زینتوں میں سے کسی زینت پر عجب کرتا ہے تو جب تک اُس سے علیحدگی اختیار نہیں کرتا اُس وقت تک اللہ تعالیٰ اُس سے ناراض رہتے ہیں۔
آپ فرماتے تھے کہ کاش میں کوئی شجر (درخت) ہوتا جو کاٹ دیا جاتا اور کھا لیا جاتا۔ اور آپ اپنی زبان کو پکڑ کر فرماتے کہ اِسی نے مجھ کو ہلاکت کے مواقع میں پہنچایا۔ اور آپ کا یہ حال تھا کہ جب اونٹ کی مہار گر جاتی تو اونٹ کو بیٹھا کر اُس کو اُٹھاتے اور آپ سے کہا جاتا کہ آپ نے ہم کو کیوں نہ حکم دیا؟ تو فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم فرمایا ہے کہ لوگوں سے کسی قسم کا سوال نہ کریں۔
صحابۂ کرامؓ سے آپ فرمایا کرتے کہ میں آپ حضرات کے اُمور کا والی ضرور بنا دیا گیا ہوں، مگر میں آپ لوگوں سے بہتر نہیں ہوں۔ لہٰذا میری آپ لوگ مدد کیا کریں۔ جب مجھے راہِ راست پر دیکھیں تو اتّباع کریں اور جب میرے اندر کجی دیکھیں تو درست کر دیا کریں۔
آپ پر حُزن اور خوف کا غلبہ رہتا تھا، حتیٰ کہ آپ کے منہ سے بھنی ہوئی کلیجی کی بو آتی تھی۔ (طبقاتِ کبریٰ، ج۱، ص ۱۱۵)
آپ کے ارشادات ’’سیرت خلفاء راشدین‘‘ سے ملاحظہ فرمائیں:
ایک روز خطبہ میں فرمایا: وہ حسین و خوبصورت لوگ کہاں گئے جن کو اپنی جوانی و خوبصورتی پر ناز تھا؟ وہ بادشاہ کہاں گئے جنہوں نے شہر آباد کیے تھے اور قلعے بنائے تھے؟ وہ بہادر کہاں گئے جو میدان جنگ میں ہمیشہ غالب رہا کرتے تھے؟ زمانہ نے اُن کو ہلاک کر دیا اور وہ قبر کی تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا کرتے تھے کہ خبردار، کوئی کسی شخص کو حقیر نہ سمجھے، کیوں کہ چھوٹے درجے کا مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا ہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے بزرگی کو تقویٰ میں پایا، اور تونگری کو یقین میں، اور عزت کو تواضع میں۔
فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ لونڈی و غلاموں کو اولاد کی طرح رکھو۔ اُن کو وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔
فرمایا کہ میں پاکی بیان کرتا ہوں اُس ذات کی جس نے اپنی مخلوق کے لیے کوئی راستہ اپنی معرفت کا نہیں رکھا سوائے اِس کے کہ اُس کی معرفت سے عاجز ہو جائیں۔ (امام الصوفیہ حضرت جنید بغداد ؒاِس کلام کی نسبت فرماتے ہیں کہ ’’اشرفُ کلمۃ فی التوحید)
فرمایا کہ جو شخص اللہ کی محبت کو مزہ چکھ لیتا ہے، پھر اُس کو طلبِ دنیا کی فرصت نہیں ملتی اور انسانوں سے اس کو وحشت ہوتی ہے۔(جاری)
ناشر: ضروری معلومات چینل
t.me/impoinfo
ویب لنک 👇
https://chirpwire.net/Wire/v/15582
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
قوت ایمانی کا ایک واقعہ! 🌹
نصیر خان بلوچی اور پنجاب کی سکھ حکومت کے درمیان ایک مرتبہ جنگ ہوئی۔
ایک موقعہ پر اس جنگ میں نصیر خان زخمی ہو کر گھوڑے سے گرے، دو سکھ سپاہی پاس سے گزرے ایک نے چاہا کہ کام تمام کر دیں، اس زمانہ میں بلوچی بڑے بڑے بال رکھتے تھے، نصیر خان کی بھی لٹیں تھیں، دوسرے سکھ نے کہا کہ نہیں، نہیں! یہ ہمارا بھائی ہے، اس کو نہ مارو۔ جب جنگ ختم ہوئی اور نصیر خان بلوچی اپنی دارالحکومت میں پہنچا تو اس نے خود بھی اپنے بال ترشوائے اور پوری قوم کو بال ترشوانے کا حکم دیا۔اس نے کہا کہ اس منحوس بالوں نے میرے مسلمان ہونے کے بارے میں شبہ پیدا کر دیا، اور میں شہادت سے محروم رہا۔۔
افسوس! کہ آج ہم اپنے نبیﷺ اور صحابہ کرام کی شکل و صورت اختیار کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں، اور ان یہودو نصاریٰ کی وضع قطع اور شکل و صورت اختیار کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، جو ہمارے نبیﷺ کے جان تک کے دشمن رہے۔
مآخذ: کشکول نوادر
صفحہ: 37
https://t.me/impoinfo
نصیر خان بلوچی اور پنجاب کی سکھ حکومت کے درمیان ایک مرتبہ جنگ ہوئی۔
ایک موقعہ پر اس جنگ میں نصیر خان زخمی ہو کر گھوڑے سے گرے، دو سکھ سپاہی پاس سے گزرے ایک نے چاہا کہ کام تمام کر دیں، اس زمانہ میں بلوچی بڑے بڑے بال رکھتے تھے، نصیر خان کی بھی لٹیں تھیں، دوسرے سکھ نے کہا کہ نہیں، نہیں! یہ ہمارا بھائی ہے، اس کو نہ مارو۔ جب جنگ ختم ہوئی اور نصیر خان بلوچی اپنی دارالحکومت میں پہنچا تو اس نے خود بھی اپنے بال ترشوائے اور پوری قوم کو بال ترشوانے کا حکم دیا۔اس نے کہا کہ اس منحوس بالوں نے میرے مسلمان ہونے کے بارے میں شبہ پیدا کر دیا، اور میں شہادت سے محروم رہا۔۔
افسوس! کہ آج ہم اپنے نبیﷺ اور صحابہ کرام کی شکل و صورت اختیار کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں، اور ان یہودو نصاریٰ کی وضع قطع اور شکل و صورت اختیار کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، جو ہمارے نبیﷺ کے جان تک کے دشمن رہے۔
مآخذ: کشکول نوادر
صفحہ: 37
https://t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
امیر المؤمنین سیّدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ
قسط سوم
مرضِ وفات میں لوگ عیادت کو آئے اور کہنے لگے، اے خلیفۂ رسول اللہﷺ کسی طبیب کو آپ کے لیے بلایا جائے؟ تو فرمایا کہ طبیب تو مجھ کو دیکھ چکا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر طبیب نے کیا کہا؟ فرمایا، اُس نے کہا اِنِّی فَعَّال لَمَااُرِیْد۔
فرمایا کہ جب میں کسی شرابی کو گرفتار کرتا ہوں تو دل میں یہ آرزو پیدا ہوتی ہے کہ اللہ اُس کی ستر پوشی کرے۔ اور کسی چور کو گرفتار کرتا ہوں تو اُس وقت یہی خواہش دل میں پیدا ہوتی ہے۔ عبد اللہ ابن حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خطبہ پڑھا۔ جس میں حسب ذیل ارشادات تھے۔
’’اے لوگو! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو، اور اللہ کی تعریف ایسی کرو جس کا وہ سزاوار ہے اور اُمید و خوف دونوں کو ملحوظ رکھو اور دعا مانگنے میں الحاف (اصرار) بھی اختیار کرو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام اور اُن کے گھر والوں کی تعریف میں فرمایا ۔( ترجمہ) ’’یہ سب نیک کاموں میں دوڑتے تھے اور امید و بیم کے ساتھ ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور ہمارے سامنے دب کر رہتے تھے‘‘۔
اے اللہ کے بندو! خوب سمجھ لو، اللہ نے اپنے حق میں تمہاری جانوں کو گِروی کر دیا ہے اور اس پر تم سے عہد لیے ہیں اور تم سے قلیل فانی (دنیا) کو بعوض کثیر باقی (جنت و نعیم جنت) کے مول لیا ہے۔
یہ اللہ کی کتاب تم میں موجود ہے، جس کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے، جس کی روشنی کبھی گُل نہ ہوگی۔ لہٰذا تم کلامِ الٰہی کی تصدیق کرو اور اللہ کی کتاب سے نصیحت حاصل کرتے رہو اور تاریکی والے دن کے لیے اُس سے بینائی حاصل کرو۔ تم کو اللہ نے اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے اور تم پر کراماً کاتبین (اعمال لکھنے والے فرشتوں) کو مسلط کیا ہے جو کچھ تم کرتے ہو وہ فرشتے جانتے ہیں۔
اے اللہ کے بندو! تم ہر صبح اور ہر شام (یعنی ہر لحظہ) اُس میعاد سے قریب ہوتے جاتے ہو جس کا علم تم سے غائب ہے۔ پس اگر تم سے ہو سکے کہ تمہاری عمریںاس حال میں ختم ہوں کہ تم اللہ کے کام میں مشغول ہو تو ایسا ہی کرو۔ مگر اللہ کی مدد کے بغیر تم ایسا نہیں کرسکتے (لہٰذا اللہ ہی سے توفیق مانگو)۔
اے لوگو! اپنی عمر کی مہلتوں میں نیکیوں کی طرف سبقت کرو، قبل اس کے کہ تمہاری عمریں ختم ہو جائیں اور تم کو اپنی بد اعمالیوں سے سابقہ پڑے۔ کچھ لوگوں نے اپنی زندگی غیروں کے لیے صرف کر دیں اور اپنی جانوں کو فراموش کردیا، میں تم کو منع کرتا ہوں، تم ایسے نہ بنو۔
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کبھی خطبہ میں انسان کی پیدائش کا حال بیان کرتے تو فرماتے کہ انسان دو مرتبہ مقامِ نجاست سے نکلا ہے ( ایک مرتبہ صُلبِ پدر سے اور ایک مرتبہ شکمِ مادر سے) اُس وقت کیفیت یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے کو نجس سمجھنے لگتا ہے۔
فرمایا کرتے تھے کہ اے لوگو! خدا کے خوف سے روؤ، اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرو۔
ایک اور خطبہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ گزشتہ سال گرمیوں میں مَیں نے تمہارے نبی ﷺ سے سنا تھا، یہ کہہ کر رونے لگے پھر فرمایا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ سے گناہوں کی بخشش اور دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرو۔
فرمایا کرتے تھے کہ سچ بولنا اور نیکی کرنا جنت میں جانے کا سبب ہے اور جھوٹ بولنا اور بدکاری کرنا دوزخ میں جانے کا سبب ہے۔
فرمایا کرتے تھے اے اللہ کے بندو! آپس میں قطعِ تعلق نہ کرو، بُغض نہ رکھو، ایک دوسرے پر حسد نہ کرو اور بھائی بھائی بن کر رہو جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم فرمایا ہے۔
اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ! مجھے حق دکھا اور حق کی پیروی کی توفیق عطا فرما۔ اور مجھے باطل کی پہچان دے اور اُس سے بچنے کی توفیق مرحمت فرما۔ اور حق اور باطل کو میرے اوپر مشتبہ نہ کرنا، ورنہ میں ہوائے نفسانی کا تابع ہو جاؤں گا۔
اخیر وقت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کوئی درد انگیز حسرت آمیز شعر پڑھا تو فرمایا یہ نہ کہو، بلکہ یہ آیت پڑھو (ترجمہ) ’’اور موت کی سختی حقیقتاً آ پہنچی۔ یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔ (سیرت خلفاء راشدین ص 62)
ایک مرتبہ آپ نے منبر پر روتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے معافی و عافیت کا سوال کرو، اِس لیے کہ تم میں سے کسی کو ایمان کے بعد عافیت سے زیادہ بھلی بات نہیں دی گئی۔ (مسند احمد بن حنبلؓ)
ارشاد فرمایا کہ صدق اختیار کرو، اس کا جوڑ نیکی سے ہے اور یہ دونوں جنت میں لے جاتے ہیں اور کذب سے بچتے رہو، اس کا جوڑ فجور سے ہے اور یہ دونوں دوزخ میں لے جاتے ہیں۔ (ایضاً)
ارشاد فرمایا کہ غناء کو نکاح میں تلاش کرو، اس لیے کہ نکاح کرنے پر اللہ تعالیٰ غربت دور کر دیں گے۔ (موسوۃ آثار الصحابہ)
وفات: آپ کی وفات مدینہ منورہ میں ترسٹھ سال کی عمر میں ۲۲؍ جمادی الآخر ۱۳ ہجری مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی اور سرور کائنات ﷺ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (طبقات کبریٰ) تمت
ناشر: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
قسط سوم
مرضِ وفات میں لوگ عیادت کو آئے اور کہنے لگے، اے خلیفۂ رسول اللہﷺ کسی طبیب کو آپ کے لیے بلایا جائے؟ تو فرمایا کہ طبیب تو مجھ کو دیکھ چکا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر طبیب نے کیا کہا؟ فرمایا، اُس نے کہا اِنِّی فَعَّال لَمَااُرِیْد۔
فرمایا کہ جب میں کسی شرابی کو گرفتار کرتا ہوں تو دل میں یہ آرزو پیدا ہوتی ہے کہ اللہ اُس کی ستر پوشی کرے۔ اور کسی چور کو گرفتار کرتا ہوں تو اُس وقت یہی خواہش دل میں پیدا ہوتی ہے۔ عبد اللہ ابن حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خطبہ پڑھا۔ جس میں حسب ذیل ارشادات تھے۔
’’اے لوگو! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو، اور اللہ کی تعریف ایسی کرو جس کا وہ سزاوار ہے اور اُمید و خوف دونوں کو ملحوظ رکھو اور دعا مانگنے میں الحاف (اصرار) بھی اختیار کرو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام اور اُن کے گھر والوں کی تعریف میں فرمایا ۔( ترجمہ) ’’یہ سب نیک کاموں میں دوڑتے تھے اور امید و بیم کے ساتھ ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور ہمارے سامنے دب کر رہتے تھے‘‘۔
اے اللہ کے بندو! خوب سمجھ لو، اللہ نے اپنے حق میں تمہاری جانوں کو گِروی کر دیا ہے اور اس پر تم سے عہد لیے ہیں اور تم سے قلیل فانی (دنیا) کو بعوض کثیر باقی (جنت و نعیم جنت) کے مول لیا ہے۔
یہ اللہ کی کتاب تم میں موجود ہے، جس کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے، جس کی روشنی کبھی گُل نہ ہوگی۔ لہٰذا تم کلامِ الٰہی کی تصدیق کرو اور اللہ کی کتاب سے نصیحت حاصل کرتے رہو اور تاریکی والے دن کے لیے اُس سے بینائی حاصل کرو۔ تم کو اللہ نے اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے اور تم پر کراماً کاتبین (اعمال لکھنے والے فرشتوں) کو مسلط کیا ہے جو کچھ تم کرتے ہو وہ فرشتے جانتے ہیں۔
اے اللہ کے بندو! تم ہر صبح اور ہر شام (یعنی ہر لحظہ) اُس میعاد سے قریب ہوتے جاتے ہو جس کا علم تم سے غائب ہے۔ پس اگر تم سے ہو سکے کہ تمہاری عمریںاس حال میں ختم ہوں کہ تم اللہ کے کام میں مشغول ہو تو ایسا ہی کرو۔ مگر اللہ کی مدد کے بغیر تم ایسا نہیں کرسکتے (لہٰذا اللہ ہی سے توفیق مانگو)۔
اے لوگو! اپنی عمر کی مہلتوں میں نیکیوں کی طرف سبقت کرو، قبل اس کے کہ تمہاری عمریں ختم ہو جائیں اور تم کو اپنی بد اعمالیوں سے سابقہ پڑے۔ کچھ لوگوں نے اپنی زندگی غیروں کے لیے صرف کر دیں اور اپنی جانوں کو فراموش کردیا، میں تم کو منع کرتا ہوں، تم ایسے نہ بنو۔
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کبھی خطبہ میں انسان کی پیدائش کا حال بیان کرتے تو فرماتے کہ انسان دو مرتبہ مقامِ نجاست سے نکلا ہے ( ایک مرتبہ صُلبِ پدر سے اور ایک مرتبہ شکمِ مادر سے) اُس وقت کیفیت یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے کو نجس سمجھنے لگتا ہے۔
فرمایا کرتے تھے کہ اے لوگو! خدا کے خوف سے روؤ، اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرو۔
ایک اور خطبہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ گزشتہ سال گرمیوں میں مَیں نے تمہارے نبی ﷺ سے سنا تھا، یہ کہہ کر رونے لگے پھر فرمایا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ سے گناہوں کی بخشش اور دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرو۔
فرمایا کرتے تھے کہ سچ بولنا اور نیکی کرنا جنت میں جانے کا سبب ہے اور جھوٹ بولنا اور بدکاری کرنا دوزخ میں جانے کا سبب ہے۔
فرمایا کرتے تھے اے اللہ کے بندو! آپس میں قطعِ تعلق نہ کرو، بُغض نہ رکھو، ایک دوسرے پر حسد نہ کرو اور بھائی بھائی بن کر رہو جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم فرمایا ہے۔
اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ! مجھے حق دکھا اور حق کی پیروی کی توفیق عطا فرما۔ اور مجھے باطل کی پہچان دے اور اُس سے بچنے کی توفیق مرحمت فرما۔ اور حق اور باطل کو میرے اوپر مشتبہ نہ کرنا، ورنہ میں ہوائے نفسانی کا تابع ہو جاؤں گا۔
اخیر وقت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کوئی درد انگیز حسرت آمیز شعر پڑھا تو فرمایا یہ نہ کہو، بلکہ یہ آیت پڑھو (ترجمہ) ’’اور موت کی سختی حقیقتاً آ پہنچی۔ یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔ (سیرت خلفاء راشدین ص 62)
ایک مرتبہ آپ نے منبر پر روتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے معافی و عافیت کا سوال کرو، اِس لیے کہ تم میں سے کسی کو ایمان کے بعد عافیت سے زیادہ بھلی بات نہیں دی گئی۔ (مسند احمد بن حنبلؓ)
ارشاد فرمایا کہ صدق اختیار کرو، اس کا جوڑ نیکی سے ہے اور یہ دونوں جنت میں لے جاتے ہیں اور کذب سے بچتے رہو، اس کا جوڑ فجور سے ہے اور یہ دونوں دوزخ میں لے جاتے ہیں۔ (ایضاً)
ارشاد فرمایا کہ غناء کو نکاح میں تلاش کرو، اس لیے کہ نکاح کرنے پر اللہ تعالیٰ غربت دور کر دیں گے۔ (موسوۃ آثار الصحابہ)
وفات: آپ کی وفات مدینہ منورہ میں ترسٹھ سال کی عمر میں ۲۲؍ جمادی الآخر ۱۳ ہجری مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی اور سرور کائنات ﷺ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (طبقات کبریٰ) تمت
ناشر: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
ٹیلی گرام کے صارفین کے لیے ایک خوش خبری
ٹیلی گرام کے بیٹا ورژن میں ویڈیو کال کو شامل کر دیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ 14 اگست کو اسٹیبل ورژن میں اسے شامل کر دیا جائے۔
t.me/impoinfo
ٹیلی گرام کے بیٹا ورژن میں ویڈیو کال کو شامل کر دیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ 14 اگست کو اسٹیبل ورژن میں اسے شامل کر دیا جائے۔
t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
Forwarded from ٭Requested Apps٭ (ابو ارحم اعظمی)
CAMSCANNER PHONE PDF CREATOR V5.17.7.20200309 [FULL].zip
59.8 MB
CAMSCANNER PHONE PDF CREATOR V5.17.7.20200309 [FULL].zip
نوٹ • ان زپ کرکے دونوں اے پی کے فائل انسٹال کریں اور لطف اٹھائیں۔
@RequestedApps
نوٹ • ان زپ کرکے دونوں اے پی کے فائل انسٹال کریں اور لطف اٹھائیں۔
@RequestedApps
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امیر المؤمنین سیّدنا حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ
قسط اوّل
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلۂ نسب آٹھویں پشت میں کعب بن لوی پر رسول اللہ ﷺ سے جا کر مل جاتا ہے۔
اللہ کا خوف و خشیت: سیدنا حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے، جب اس آیت پر پہنچے : ان عذاب ربک لواقع ما لہ من دافع ’’ تیرے رب کا عذاب ہو کر رہنے والاہے اس کو کوئی دفع کرنے والانہیں۔تو بہت متاثر ہوئے اور روتے روتے آنکھیں سوج گئیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ اس آیت پر و اذا اُلقو منھا مکانا ضیقا مقرنین دعوا ھنالک تبورا۔ ’’ اور جب وہ اُس کو (دوزخ کی) کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے ۔ (الفرقان) اِ قدر خضوع و خشوع طاری ہوا کہ اگر کوئی اُن کے حال سے ناواقف شخص دیکھ لیتا تو یہ سمجھتا کہ اِسی حالت میں روح پرواز کر جائے گی۔
حضورﷺ سے محبت اور اتباع سنّت: سیدنا عمر فاروقؓ کے دستور عمل کا سب سے زرّیں صفحہ اتّباعِ سنت تھا۔ وہ خوردونوش، لباس و وضع، نشست و برخاست غرض ہر چیزیں اُسوۂ حسنہ کو پیش نظر رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ فقر و فاقہ سے زندگی بسر کی تھی، اِس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے روم و ایران کی بادشاہت ملنے کے بعد بھی فقر و فاقہ کی زندگی کا ساتھ نہ چھوڑا۔ آپ کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کو جو کام جس طرح کرتے دیکھا اُسی طرح وہ بھی عمل پیرا ہوں۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی تھی، سیدنا عمر فاروقؓ جب اُسی طرف سے گزرتے تو اُس جگہ دو رکعت نماز ادا کر لیتے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا، یہ نماز کیسی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے یہاں رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
یہ کوشش صرف اپنی ذات تک محدود نہ تھی بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ہر شخص کا دل اتباع سنّت کے جذبہ سے معمور ہو جائے۔
زُہد و قناعت: حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کا جسم مبارک کبھی نرم و ملائم کپڑے سے چھوا تک نہیں۔ بدن پر بارہ بارہ پیوند کا کُرتہ، سر پر پھٹا ہوا عمامہ اور پاؤں میں بوسیدہ جوتیاں ہوتی تھیں اِسی حالت میں وہ قیصر و کسریٰ کے سفیروں سے ملتے تھے۔ قناعت کا یہ حال تھا کہ اپنے زمانۂ خلافت میں چند برس تک مسلمانوں کے مال سے ایک کوڑی بھی نہیں لی۔ حالاں کہ فقر و فاقہ سے حالت تباہ تھی۔صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے آپ کی عسرت و تنگدستی کو دیکھ کر اس قدر تنخواہ مقرر کر دی جو معمولی خوراک اور لباس کے لیے کافی ہو، لیکن اسے بھی آپ نے اس شرط پر قبول کیا کہ جب تک ضرورت ہے لوں گا اور جب میری مالی حالت درست ہو جائے گی تو کچھ نہ لوں گا۔
ایک دفعہ حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا یہ سُن کر کہ مالِ غنیمت آیا ہوا ہے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور کہا، امیر المؤمنین! اس میں سے میرا حق مجھ کو عنایت کیجیے، میں ذوی القربیٰ میں سے ہوں۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ نورِ نظر! تیرا حق میرے خاص مال میں ہے۔ یہ تو غنیمت کا مال ہے۔ افسوس ہے کہ تو نے اپنے باپ کو دھوکہ دیناچاہا۔
تواضع: حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کی عظمت و شان اور عرب داب کا ایک طرف تو یہ حال تھا کہ محض آپ کے نام سے قیصر و کسریٰ کے ایوانِ حکومت میں لرزہ پیدا ہو جاتا تھا اور دوسری طرف آپ کی تواضع و خاکساری کا یہ عالم تھا کہ کندھے پر مُشک رکھ کر بیوہ عورتوں کے لیے پانی بھرتے تھے۔ مجاہدین کی بیویوں کا بازار سے سودا خرید کر لادیتے تھےپھر اس حالت میں تھک کر مسجد کے گوشہ میں فرشِ خاک پر لیٹ جاتے تھے۔
آپؓ کی خصوصیات و ارشادات: لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سب سے پہلے آپ کو امیر المؤمنین کہا گیا ہے آپ کے کثرتِ علم، وفورِ عقل و فہم، زہد و تواضع اور مسلمانوں کے ساتھ رفق و انصاف اور وقوف مع الحق اور رسول اللہ ﷺ کے آثار کی تعظیم اور شدت متابعت پر پوری امت کا اجماع ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عمری اجازت چاہی، تو آپﷺ نے اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا کہ بھائی! اپنی دعا میں مجھے فراموش نہ کرنا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اپنی دعا میں مجھے بھی شریک کر لینا۔
قصابوں کی منڈی میں دُرّہ لے کر جایا کرتے تھے اور جس کو دو دن متواتر گوشت خریدتے دیکھتے اس کو درہ مارتے اور کہتے کہ اپنے پڑوسیوں اور عزیزوں کے لیے اپنے پیٹ کو تھوڑی تکلیف کیوں نہیں دیتے۔ یعنی اپنے اوپر تھوڑی تنگی برداشت کر کے اُن کی مدد کرو تاکہ اُن کو بھی آرام ملے۔
ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ اگر مجھے حسان کا خوف نہ ہوتا تو حکم دیتا کہ میرے لیے تنور میں دنبہ بھونا جائے اور اگر آپ کو کسی ایسی چیز کی خواہش ہوتی جس کی قیمت ایک درہم ہوتی تو اسکو ایک سال تک ٹالتے رہتے تھے۔
ناشر: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
گفتگو کے لیے اس گروپ میں شامل ہوں
t.me/grpimpoinfo
🌐Weblink : https://chirpwire.net/Wire/v/19998
قسط اوّل
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلۂ نسب آٹھویں پشت میں کعب بن لوی پر رسول اللہ ﷺ سے جا کر مل جاتا ہے۔
اللہ کا خوف و خشیت: سیدنا حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے، جب اس آیت پر پہنچے : ان عذاب ربک لواقع ما لہ من دافع ’’ تیرے رب کا عذاب ہو کر رہنے والاہے اس کو کوئی دفع کرنے والانہیں۔تو بہت متاثر ہوئے اور روتے روتے آنکھیں سوج گئیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ اس آیت پر و اذا اُلقو منھا مکانا ضیقا مقرنین دعوا ھنالک تبورا۔ ’’ اور جب وہ اُس کو (دوزخ کی) کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے ۔ (الفرقان) اِ قدر خضوع و خشوع طاری ہوا کہ اگر کوئی اُن کے حال سے ناواقف شخص دیکھ لیتا تو یہ سمجھتا کہ اِسی حالت میں روح پرواز کر جائے گی۔
حضورﷺ سے محبت اور اتباع سنّت: سیدنا عمر فاروقؓ کے دستور عمل کا سب سے زرّیں صفحہ اتّباعِ سنت تھا۔ وہ خوردونوش، لباس و وضع، نشست و برخاست غرض ہر چیزیں اُسوۂ حسنہ کو پیش نظر رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ فقر و فاقہ سے زندگی بسر کی تھی، اِس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے روم و ایران کی بادشاہت ملنے کے بعد بھی فقر و فاقہ کی زندگی کا ساتھ نہ چھوڑا۔ آپ کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کو جو کام جس طرح کرتے دیکھا اُسی طرح وہ بھی عمل پیرا ہوں۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی تھی، سیدنا عمر فاروقؓ جب اُسی طرف سے گزرتے تو اُس جگہ دو رکعت نماز ادا کر لیتے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا، یہ نماز کیسی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے یہاں رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
یہ کوشش صرف اپنی ذات تک محدود نہ تھی بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ہر شخص کا دل اتباع سنّت کے جذبہ سے معمور ہو جائے۔
زُہد و قناعت: حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کا جسم مبارک کبھی نرم و ملائم کپڑے سے چھوا تک نہیں۔ بدن پر بارہ بارہ پیوند کا کُرتہ، سر پر پھٹا ہوا عمامہ اور پاؤں میں بوسیدہ جوتیاں ہوتی تھیں اِسی حالت میں وہ قیصر و کسریٰ کے سفیروں سے ملتے تھے۔ قناعت کا یہ حال تھا کہ اپنے زمانۂ خلافت میں چند برس تک مسلمانوں کے مال سے ایک کوڑی بھی نہیں لی۔ حالاں کہ فقر و فاقہ سے حالت تباہ تھی۔صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے آپ کی عسرت و تنگدستی کو دیکھ کر اس قدر تنخواہ مقرر کر دی جو معمولی خوراک اور لباس کے لیے کافی ہو، لیکن اسے بھی آپ نے اس شرط پر قبول کیا کہ جب تک ضرورت ہے لوں گا اور جب میری مالی حالت درست ہو جائے گی تو کچھ نہ لوں گا۔
ایک دفعہ حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا یہ سُن کر کہ مالِ غنیمت آیا ہوا ہے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور کہا، امیر المؤمنین! اس میں سے میرا حق مجھ کو عنایت کیجیے، میں ذوی القربیٰ میں سے ہوں۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ نورِ نظر! تیرا حق میرے خاص مال میں ہے۔ یہ تو غنیمت کا مال ہے۔ افسوس ہے کہ تو نے اپنے باپ کو دھوکہ دیناچاہا۔
تواضع: حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کی عظمت و شان اور عرب داب کا ایک طرف تو یہ حال تھا کہ محض آپ کے نام سے قیصر و کسریٰ کے ایوانِ حکومت میں لرزہ پیدا ہو جاتا تھا اور دوسری طرف آپ کی تواضع و خاکساری کا یہ عالم تھا کہ کندھے پر مُشک رکھ کر بیوہ عورتوں کے لیے پانی بھرتے تھے۔ مجاہدین کی بیویوں کا بازار سے سودا خرید کر لادیتے تھےپھر اس حالت میں تھک کر مسجد کے گوشہ میں فرشِ خاک پر لیٹ جاتے تھے۔
آپؓ کی خصوصیات و ارشادات: لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سب سے پہلے آپ کو امیر المؤمنین کہا گیا ہے آپ کے کثرتِ علم، وفورِ عقل و فہم، زہد و تواضع اور مسلمانوں کے ساتھ رفق و انصاف اور وقوف مع الحق اور رسول اللہ ﷺ کے آثار کی تعظیم اور شدت متابعت پر پوری امت کا اجماع ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عمری اجازت چاہی، تو آپﷺ نے اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا کہ بھائی! اپنی دعا میں مجھے فراموش نہ کرنا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اپنی دعا میں مجھے بھی شریک کر لینا۔
قصابوں کی منڈی میں دُرّہ لے کر جایا کرتے تھے اور جس کو دو دن متواتر گوشت خریدتے دیکھتے اس کو درہ مارتے اور کہتے کہ اپنے پڑوسیوں اور عزیزوں کے لیے اپنے پیٹ کو تھوڑی تکلیف کیوں نہیں دیتے۔ یعنی اپنے اوپر تھوڑی تنگی برداشت کر کے اُن کی مدد کرو تاکہ اُن کو بھی آرام ملے۔
ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ اگر مجھے حسان کا خوف نہ ہوتا تو حکم دیتا کہ میرے لیے تنور میں دنبہ بھونا جائے اور اگر آپ کو کسی ایسی چیز کی خواہش ہوتی جس کی قیمت ایک درہم ہوتی تو اسکو ایک سال تک ٹالتے رہتے تھے۔
ناشر: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
گفتگو کے لیے اس گروپ میں شامل ہوں
t.me/grpimpoinfo
🌐Weblink : https://chirpwire.net/Wire/v/19998
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
Tg-7.0-Beta-@impoinfo.apk
52.2 MB
ٹیلی گرام ایپ — ویڈیو کال کی خصوصیت کے ساتھ — یہ بی ٹا ورژن ہے — ڈاؤنلوڈ کریں اور آزمائیں ۔
🔥 Beta 7.0 (2054) • Stable 6.3 (2042) - TAndroid
🆕 نیا کیا ہے:
ویڈیو کال 📹
telegram.me/impoinfo
🔥 Beta 7.0 (2054) • Stable 6.3 (2042) - TAndroid
🆕 نیا کیا ہے:
ویڈیو کال 📹
telegram.me/impoinfo
Forwarded from 🌹 Islamic Quiz 🌹
482.یہ بات مشہور ہے کہ "قیامت کے دن ایک عورت کی وجہ سے چار آدمیوں(بھائی،شوہر،باپ،بیٹا)کو جہنم میں ڈالا جائیگا"
تو کیا یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے ؟
تو کیا یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے ؟
Anonymous Quiz
47%
جی ہاں مذکورہ بات حدیث میں مذکور ہے
31%
مذکورہ بات کسی بھی سند سے نفیا و اثباتا منقول نہیں، اسکی نسبت حضور کی جانب کرنا درست نہیں
11%
ضعیف حدیث ہے
11%
رب زدنی علما
Forwarded from 🌹 Islamic Quiz 🌹
471. عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے کے متعلق مشہور ہے کہ"عمامہ کے ساتھ ایک نماز بغیر عمامہ کی پچیس نمازوں کے برابر ہے اور ایک جمعہ عمامہ کے ساتھ بغیر عمامہ کی ستر جمعہ کے برابر ہے"
کیا ایسی کوئی روایت احادیث کی کی کتب میں مذکور ہے ؟
کیا ایسی کوئی روایت احادیث کی کی کتب میں مذکور ہے ؟
Anonymous Quiz
18%
جی ہاں صحیح روایت میں یہ فضیلت موجود ہے
28%
ضعیف روایت ہے؛چونکہ فضیلت کے باب میں ضعیف روایت قابل عمل ہے؛ لہذا ثواب کی امید رکھنی چاہیئے
43%
موضوع و من گھڑت روایت ہے، اسکی نسبت حضورؐ کی جانب کرنا اور اسکو بیان کرنا درست نہیں
11%
رب زدنی علما
جو حضرات ٹیلی گرام آفیشیل ایپ استعمال کر رہے ہیں، وہ یہ چیک کریں کہ اردو کی تحریر کو بولڈ (موٹا) کرنے سے وہ ہو رہی ہے یا نہیں۔
میرے موبائل (ریڈمی 1S) میں تحریر بولڈ کرنے سے نہیں ہو رہی، معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ ریڈمی کے موبائل کا مسئلہ ہے یا ٹیلی گرام ایپ کا۔ اگر یہ ایپ کی خرابی ہے تو اس کی شکایت ٹیلی گرام ڈیولپر ٹیم تک پہنچاؤں گا۔
نتیجہ اس بوٹ میں بتائیں
@abusarimbot
میرے موبائل (ریڈمی 1S) میں تحریر بولڈ کرنے سے نہیں ہو رہی، معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ ریڈمی کے موبائل کا مسئلہ ہے یا ٹیلی گرام ایپ کا۔ اگر یہ ایپ کی خرابی ہے تو اس کی شکایت ٹیلی گرام ڈیولپر ٹیم تک پہنچاؤں گا۔
نتیجہ اس بوٹ میں بتائیں
@abusarimbot
امیر المؤمنین سیّدنا حضرت عُمر فاروقؓ
آخری قسط
ایک مرتبہ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے مجھے ایسا بنایا کہ میرے اوپر کوئی (حاکم ) نہیں۔ اِس پر لوگوں نے دریافت کیا کہ آخر اس بات کے کہنے کا کیا سبب ہوا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اِظہار تشکر‘‘ اور منبر سے نیچے اُتر آئے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اے کاش میں دُنبہ ہوتا کہ لوگ جس قدر چاہتے مجھے تیار کرتے، پھر کاٹ کھا جاتے، پھر فُضلہ ہو کر نکل جاتا، مگر آدمی نہ بنایا جاتا۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ فانی (دُنیا) کا نقصان برداشت کر لینا، باقی (آخرت) کا نقصان کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ کبھی تنکا زمین سے اٹھاتے اور فرماتے کہ کاش میں بھی تنکا ہوتا، اے کاش میں بھولابسرا ہو جاتا۔ وسطِ شب میں آپ کو نماز پڑھنا بہت مرغوب تھی۔ آٹے کی بوریاں اپنی پیٹھ پر لاد کر بیواؤں اور یتیموں کو پہنچاتے تھے اور جب کوئی کہتا کہ لائیے میں پہنچادوں تو فرماتے کہ قیامت کے دن میرے گناہوں کو کون اٹھائے گا۔ (طبقات کبریٰ)
آپ نے اپنے تمام حکام کو یہ فرمان بھیجا تھا کہ تمہارے کاموں میں سب سے زیادہ اہتمام کے قابل میرے نزدیک نماز ہے۔ جس نے نماز کی حفاظت کی اُس نے اپنا دین محفوظ کر لیا اور جس نے نماز کو ضائع کردیا تو وہ دوسری چیزوں کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کرے گا۔ فرمایا کہ دعا آسمان و زمین کے درمیان رکی رہتی ہے یہاں تک کہ حضور ﷺ پر درود پڑھا جائے۔
فرمایا کرتے تھے کہ سب سے افضل عبادت یہ ہے کہ فرائض کو ادا کرے اور منہیات سے بچے اور نیت اپنی اللہ کے ساتھ درست رکھے۔ (سیرت خلفا راشدین)
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو حضرت عمرؓ نے لکھا کہ صبر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک صبر مصیبت پر اور دوسرا صبر معصیت کے ترک پر۔ دوسری قسم پہلی قسم سے افضل ہے اور مدارِ ایمان ہے۔
فائدہ: امیر المؤمنین سیدنا عمر ؓ نے معصیت کے ترک پر صبر کرنے کو مصیبت پر صبر کرنے سے افضل قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ معصیت کے ترک پر صبر کرنا نہایت دُشوار عمل ہے بلکہ طاعت پر صبر و قرار سے بھی افضل ہے جیسا کہ حضرت مولانا محمد احمد صاحبؒ فرماتے تھے کہ طاعات کو بجالانا صالحین کا کام ہے اور معاصی کو ترک کرنا صدیقین کا کام ہے۔ اس سے ترک معاصی کی کیسی کچھ اہمیت ثابت ہوتی ہے۔
آخری وصیّت: آخری وصیت میں فرمایا کہ دیکھو کتاب اللہ سے غفلت نہ کرنا جب تک تم اُس کی پیروی کرتے رہو گے گمراہ نہ ہوگے۔ دیکھو مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اعزاز و اکرام میں کوتاہی نہ کرنا۔ مسلمان تو بہت ہوں گے مگر مہاجرینؓ اب کہاں اور انصارؓ کا لحاظ بھی رکھنا ، وہ اسلام کے ملجاء و ماویٰ ہیں اور بددؤں کا خیال رکھنا وہ تمہاری اصل ہیں اور ذمّی کافروں سے جو معاہدہ ہو جائے اُس پر قائم رہنا۔
فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم نہیں کرتا جو دوسروں پر رحم نہ کرے اور اُس شخص کی خطائیں نہیں بخشتا جو دوسروں کی خطائیں نہ بخشے۔
فرماتے تھے کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، جب تک یہ دونوں چیزیں تم میں رہیں گی اُس وقت تک بھلائی رہے گی۔ ایک فیصلے میں انصاف کرنا، دوسرے تقسیم میں انصاف کرنا۔
نیز فرمایا میں تم کو ایک ایسے راستہ پر چھوڑ جاتا ہوں جس پر نشانِ قدم بنے ہوئے ہیں۔ اب اگر کوئی قدم از خود کجی اختیار کرے گا تو وہ راستہ سے ہٹ جائے گا۔
فرمایا کرتے تھے کہ تین چیزیں تیرے بھائی کے دل میں تیری محبت قائم کر دیں گی۔ اوّل جب ملاقات ہو تو سلام کرنے میں ابتدا کرنا۔ دوم اُس کے ناموں میں سے جو نام اُس کو پسند ہو اُسی نام سے اُس کو پکارنا۔ سوم محفل میں اُس کے لیے جگہ کشادہ کرنا۔
فرماتے تھے کہ جب کوئی بندہ اللہ کے لیے تواضع کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی حکمت کو بلند کر دیتا ہے۔ وہ اپنی نظر میں حقیر ہوتا ہے مگر لوگوں میں اُس کی عزت ہوتی ہے۔فرماتے تھے کہ جو شخص چاہتا ہوں کہ اُس کی زندگی کامیابی میں گزرے اُس کو چاہیے کہ اپنے باپ کے بعد اُس کے دوستوں سے نیک سلوک کرے۔
فرمایا کرتے تھے کہ علماء کی مجلسوں سے علیحدہ نہ رہا کرو۔ اللہ نے روئے زمین پر علماء کی مجلس سے زیادہ بزرگ کوئی مقام نہیں پیدا کیا۔ (مراد علماء ربانین ہیں نہ کہ علماء دنیا)
فرمایا کرتے تھے کہ توبہ کرنے والوں کے پاس بیٹھا کرو۔ اُن کے دل بہت نرم ہوتے ہیں۔
اخیر عمر میں بکثرت یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسولؐ کے شہر میں موت دے۔
زخمی ہونے کے بعد نماز پڑھی اور زخم سے خون جاری تھا۔ فرمایا کہ جس کی نماز جاتی رہی اُس کا دین میں کچھ حصہ نہیں۔
بالکل آخری وقت میں زمین پر اپنا منہ رکھ دیا اور فرمایا کہ عمر کی خرابی ہے اگر اُس کے رب نے اُس کی خطاؤں کو بخش نہ دیا۔
آپ کی شہادت: 27؍ ذی الحجہ 23 ہجری زخمی ہوئے اور پانچویں دن یکم محرم الحرام 24 ہجری بعمر ترسٹھ سال رحلت فرمائی۔ حضرت صہیب ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور خاص روضۂ نبویؐ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ نور اللہ مرقدہٗ
@impoinfo
آخری قسط
ایک مرتبہ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے مجھے ایسا بنایا کہ میرے اوپر کوئی (حاکم ) نہیں۔ اِس پر لوگوں نے دریافت کیا کہ آخر اس بات کے کہنے کا کیا سبب ہوا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اِظہار تشکر‘‘ اور منبر سے نیچے اُتر آئے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اے کاش میں دُنبہ ہوتا کہ لوگ جس قدر چاہتے مجھے تیار کرتے، پھر کاٹ کھا جاتے، پھر فُضلہ ہو کر نکل جاتا، مگر آدمی نہ بنایا جاتا۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ فانی (دُنیا) کا نقصان برداشت کر لینا، باقی (آخرت) کا نقصان کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ کبھی تنکا زمین سے اٹھاتے اور فرماتے کہ کاش میں بھی تنکا ہوتا، اے کاش میں بھولابسرا ہو جاتا۔ وسطِ شب میں آپ کو نماز پڑھنا بہت مرغوب تھی۔ آٹے کی بوریاں اپنی پیٹھ پر لاد کر بیواؤں اور یتیموں کو پہنچاتے تھے اور جب کوئی کہتا کہ لائیے میں پہنچادوں تو فرماتے کہ قیامت کے دن میرے گناہوں کو کون اٹھائے گا۔ (طبقات کبریٰ)
آپ نے اپنے تمام حکام کو یہ فرمان بھیجا تھا کہ تمہارے کاموں میں سب سے زیادہ اہتمام کے قابل میرے نزدیک نماز ہے۔ جس نے نماز کی حفاظت کی اُس نے اپنا دین محفوظ کر لیا اور جس نے نماز کو ضائع کردیا تو وہ دوسری چیزوں کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کرے گا۔ فرمایا کہ دعا آسمان و زمین کے درمیان رکی رہتی ہے یہاں تک کہ حضور ﷺ پر درود پڑھا جائے۔
فرمایا کرتے تھے کہ سب سے افضل عبادت یہ ہے کہ فرائض کو ادا کرے اور منہیات سے بچے اور نیت اپنی اللہ کے ساتھ درست رکھے۔ (سیرت خلفا راشدین)
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو حضرت عمرؓ نے لکھا کہ صبر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک صبر مصیبت پر اور دوسرا صبر معصیت کے ترک پر۔ دوسری قسم پہلی قسم سے افضل ہے اور مدارِ ایمان ہے۔
فائدہ: امیر المؤمنین سیدنا عمر ؓ نے معصیت کے ترک پر صبر کرنے کو مصیبت پر صبر کرنے سے افضل قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ معصیت کے ترک پر صبر کرنا نہایت دُشوار عمل ہے بلکہ طاعت پر صبر و قرار سے بھی افضل ہے جیسا کہ حضرت مولانا محمد احمد صاحبؒ فرماتے تھے کہ طاعات کو بجالانا صالحین کا کام ہے اور معاصی کو ترک کرنا صدیقین کا کام ہے۔ اس سے ترک معاصی کی کیسی کچھ اہمیت ثابت ہوتی ہے۔
آخری وصیّت: آخری وصیت میں فرمایا کہ دیکھو کتاب اللہ سے غفلت نہ کرنا جب تک تم اُس کی پیروی کرتے رہو گے گمراہ نہ ہوگے۔ دیکھو مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اعزاز و اکرام میں کوتاہی نہ کرنا۔ مسلمان تو بہت ہوں گے مگر مہاجرینؓ اب کہاں اور انصارؓ کا لحاظ بھی رکھنا ، وہ اسلام کے ملجاء و ماویٰ ہیں اور بددؤں کا خیال رکھنا وہ تمہاری اصل ہیں اور ذمّی کافروں سے جو معاہدہ ہو جائے اُس پر قائم رہنا۔
فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم نہیں کرتا جو دوسروں پر رحم نہ کرے اور اُس شخص کی خطائیں نہیں بخشتا جو دوسروں کی خطائیں نہ بخشے۔
فرماتے تھے کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، جب تک یہ دونوں چیزیں تم میں رہیں گی اُس وقت تک بھلائی رہے گی۔ ایک فیصلے میں انصاف کرنا، دوسرے تقسیم میں انصاف کرنا۔
نیز فرمایا میں تم کو ایک ایسے راستہ پر چھوڑ جاتا ہوں جس پر نشانِ قدم بنے ہوئے ہیں۔ اب اگر کوئی قدم از خود کجی اختیار کرے گا تو وہ راستہ سے ہٹ جائے گا۔
فرمایا کرتے تھے کہ تین چیزیں تیرے بھائی کے دل میں تیری محبت قائم کر دیں گی۔ اوّل جب ملاقات ہو تو سلام کرنے میں ابتدا کرنا۔ دوم اُس کے ناموں میں سے جو نام اُس کو پسند ہو اُسی نام سے اُس کو پکارنا۔ سوم محفل میں اُس کے لیے جگہ کشادہ کرنا۔
فرماتے تھے کہ جب کوئی بندہ اللہ کے لیے تواضع کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی حکمت کو بلند کر دیتا ہے۔ وہ اپنی نظر میں حقیر ہوتا ہے مگر لوگوں میں اُس کی عزت ہوتی ہے۔فرماتے تھے کہ جو شخص چاہتا ہوں کہ اُس کی زندگی کامیابی میں گزرے اُس کو چاہیے کہ اپنے باپ کے بعد اُس کے دوستوں سے نیک سلوک کرے۔
فرمایا کرتے تھے کہ علماء کی مجلسوں سے علیحدہ نہ رہا کرو۔ اللہ نے روئے زمین پر علماء کی مجلس سے زیادہ بزرگ کوئی مقام نہیں پیدا کیا۔ (مراد علماء ربانین ہیں نہ کہ علماء دنیا)
فرمایا کرتے تھے کہ توبہ کرنے والوں کے پاس بیٹھا کرو۔ اُن کے دل بہت نرم ہوتے ہیں۔
اخیر عمر میں بکثرت یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسولؐ کے شہر میں موت دے۔
زخمی ہونے کے بعد نماز پڑھی اور زخم سے خون جاری تھا۔ فرمایا کہ جس کی نماز جاتی رہی اُس کا دین میں کچھ حصہ نہیں۔
بالکل آخری وقت میں زمین پر اپنا منہ رکھ دیا اور فرمایا کہ عمر کی خرابی ہے اگر اُس کے رب نے اُس کی خطاؤں کو بخش نہ دیا۔
آپ کی شہادت: 27؍ ذی الحجہ 23 ہجری زخمی ہوئے اور پانچویں دن یکم محرم الحرام 24 ہجری بعمر ترسٹھ سال رحلت فرمائی۔ حضرت صہیب ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور خاص روضۂ نبویؐ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ نور اللہ مرقدہٗ
@impoinfo
آباد رہیں گے ویرانے شاداب رہیں گی زنجیریں
کلام......... حفیظ میرٹھی
آواز..... مولانا سید احمد سالک برماور ندوی بھٹکلی
____________________
آباد رہیں گے ویرانے شاداب رہیں گی زنجیریں
جب تک دیوانے زندہ ہیں پھولیں گی پھلیں گی زنجیریں
آزادی کا دروازہ بھی خود ہی کھولیں گی زنجیریں
ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی جب حد سے بڑھیں گی زنجیریں
جب سب کے لب سل جائیں گے ہاتھوں سے قلم چھن جائیں گے
باطل سے لوہا لینے کا اعلان کریں گی زنجیریں
مجبوروں کو ترسائیں گی، یوں اور ہمیں تڑپائیں گی
زلفوں کی یاد دلائیں گی جب جب لہرائیں گی زنجیریں
اندھوں بہروں کی نگری میں یوں کون توجہ کرتا ہے
ماحول سنے گا دیکھے گا جس وقت بجیں گی زنجیریں
جو زنجیروں سے باہر ہیں آزاد انہیں بھی مت سمجھو
جب ہاتھ کٹیں گے ظالم کے اس وقت کٹیں گی زنجیریں
لے دے کے حفیظ ان سے ہی تھی، امیدِ وفا دیوانوں کو
کیا ہوگا جب دیوانوں سے، ناطہ توڑیں گی زنجیریں
t.me/impoinfo
کلام......... حفیظ میرٹھی
آواز..... مولانا سید احمد سالک برماور ندوی بھٹکلی
____________________
آباد رہیں گے ویرانے شاداب رہیں گی زنجیریں
جب تک دیوانے زندہ ہیں پھولیں گی پھلیں گی زنجیریں
آزادی کا دروازہ بھی خود ہی کھولیں گی زنجیریں
ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی جب حد سے بڑھیں گی زنجیریں
جب سب کے لب سل جائیں گے ہاتھوں سے قلم چھن جائیں گے
باطل سے لوہا لینے کا اعلان کریں گی زنجیریں
مجبوروں کو ترسائیں گی، یوں اور ہمیں تڑپائیں گی
زلفوں کی یاد دلائیں گی جب جب لہرائیں گی زنجیریں
اندھوں بہروں کی نگری میں یوں کون توجہ کرتا ہے
ماحول سنے گا دیکھے گا جس وقت بجیں گی زنجیریں
جو زنجیروں سے باہر ہیں آزاد انہیں بھی مت سمجھو
جب ہاتھ کٹیں گے ظالم کے اس وقت کٹیں گی زنجیریں
لے دے کے حفیظ ان سے ہی تھی، امیدِ وفا دیوانوں کو
کیا ہوگا جب دیوانوں سے، ناطہ توڑیں گی زنجیریں
t.me/impoinfo
Telegram
attachBot channel