ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
4.28K subscribers
776 photos
266 videos
162 files
1.06K links
‏دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Download Telegram
عشق خالد کا
کسی روز بپھر جائے گا
اے لعین سر تیرا کندھوں سے اتر جائے گا
عشق خالد کا کسی روز بپھر جائے گا

تو اگر ختمِ نبوتﷺ سے مکر جائے گا
پھر عدالت سے تیرا لاشہ ہی گھر جائے گا

جو میرے آقاﷺ کی ناموس کی توہین کرے
جلد دنیا سے وہ خنزیر گزر جائے گا

تیرے للکار سے غازی ابھی ان شاء اللہ
قادیانی کا ہر ایک کتا سدھر جائے گا

سچا عاشق ہے مسلماں ہے منافق تو نہیں
سوچنا مت کہ کبھی دار سے ڈر جائے گا

کرکے توہینِ نبیﷺ جس سے پناہ لے گا تو
اس کا پہلو بھی تیرے خون سے بھر جائے گا

عہد کر ختمِ نبوتﷺ کے تحفظ کا نیا
اس سے ایمان تیرا اور نکھر جائے گا

جان اگر شانِ رسالتﷺ پہ نہ ہو میری فدا
کیا میرا عشق کبھی یونہی سنور جائے گا

رخ نہ بدلے گا بھلا کیوں کوئی طوفاں بازی
عشق وایماں سے وہ جب میرے ٹکر جائے گا

🎙حافظ زین العابدین جلالی
🎙حافظ محمد انظر جلالی

مولانا ضیاءالرحمان البازی صاحب
https://t.me/tasawwufkiahy
کافی انتظار اور محنتوں کے بعد ہمیں ٹیلیگراف میں اپنی اردو زبان دیکھنے کو ملی لہٰذا ٹیلی گراف کی حمایت میں، براہ کرم پلے اسٹور میں 5 اسٹار ⭐️ تبصرہ جمع کروائیں۔ (ٹیلی گراف کو ریٹنگ دیں)

اردو مترجم ٹیم
BOUNCER TEMPORARY APP PERMISSIONS V1.21 [PATCHED].apk
2.6 MB
BOUNCER TEMPORARY APP PERMISSIONS V1.21 [PATCHED].apk
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.samruston.permission

پلے اسٹور میں قیمتاً 160 (ہندستانی) روپئے میں دستیاب ہے

باؤنسر - ایپ پرمیشن کی عارضی اجازتیں 1.20.1

تفصیل:
باؤنسر آپ کو ایپ پرمیشن کو عارضی طور پر اجازت دینے کا آپشن فراہم کرتا ہے۔ کسی مقام کی پرمیشن یا تصویر کھنچتے وقت کیمرا کی پرمیشن ، لیکن نہیں چاہتے کہ وہ ایپ دوسرے وقتوں میں کیمرا یا اسٹوریج کا استعمال کرسکے تو اس باؤنسر ایپ کا استعمال کریں۔

ایپ کی معلومات - 👇
🔰 ایپ کا نام: باؤنسر - عارضی اپلی کیشن اجازتیں
پیکیج کا نام: com.samruston.permission
ڈیولپر: سیم روسٹن
اینڈروئیڈ ورژن 7 یا اس سے زائد کے لیے۔

telegram.me/impoinfo
ADGUARD - BLOCK ADS V3.5.32Ƞ [NIGHTLY] [PREMIUM].apk
15.3 MB
ADGUARD - BLOCK ADS V3.5.32Ƞ [NIGHTLY] [PREMIUM].apk


Mod Info:
Premium features unlocked;
No startup with patched watermarks;
Skip startup tutorial.

📁 @IMPOINFO

ایڈ گارڈ پریمیم کا اپڈیٹیڈ ورژن

اس کی جانکاری اس پوسٹ میں دیکھیں:
https://t.me/impoinfo/165
CAMERA TRANSLATOR - TRANSLATE PICTURES V2.8.0 [PRO].apk
43.8 MB
CAMERA TRANSLATOR - TRANSLATE PICTURES V2.8.0 [PRO].apk

کیمرا ، تصاویر اور تصویروں میں لکھے ہوئے الفاظ کا درست اسکین اور ترجمہ کریں
اپنے کیمرا کو مترجم بنائیں
ایک تصویر لیں اور ایک لمحے کے ساتھ اس کا ترجمہ کریں
ترجمہ براہ راست تصویر پر دیا جائے گا

آٹو زبان کا پتہ لگانا
تصویر کا لامحدود ترجمہ
√ جدید ترین OCR ٹکنالوجی
+ 100+ زبانوں کی حمایت کی
√ ترجمہ شدہ متن براہ راست تصویر پر پیش کیا جاتا ہے

مندرجہ ذیل زبانوں کے درمیان ترجمہ کی تائید ہوتی ہے۔
اردو،عربی،آرمینی،بنگالی،چینی،ڈینش،ڈچ،انگریزی(آسٹریلیائی)،انگریزی(کینیڈا)،انگریزی(انڈین)،انگریزی(برطانوی)،انگریزی(امریکی)فرانسیسی،فرانسیسی(کینیڈا)،جرمن،عبرانی،ہندی،تمل،تیلگو،تھائی،ترکی،فارسی،پشتو،ملیالم،مراٹھی،میانمار(برمی)،نیپالی،پرتگالی(برازیل)،اور پنجابی زبانوں کے ساتھ ساتھ مزید سو زبانیں اور بھی
︵︵︵︵︵︵︵︵︵︵︵︵︵︵
📁
https://t.me/impoinfo
︶︶︶︶︶︶︶︶︶︶︶︶︶︶
*ممتاز صحافی اطہر علی ہاشمی انتقال کر گئے*

6 اگست، 2020 www.dawnnews.tv - ویب ڈیسک, انٹرٹینمنٹ ڈیسک کے ذریعہ
44 برس سے صحافت سے وابستہ سینئر صحافی اور روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف اطہر علی ہاشمی کراچی میں انتقال کر گئے۔
ان کی عمر 74 برس تھی، آج صبح فجر کے وقت نیند کی حالت میں وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔
اطہر ہاشمی کے انتقال کی تصدیق ان کے بیٹے حماد علی ہاشمی نے ان کے ہی فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کی۔
وہ نہ صرف اردو کے استاد تھے بلکہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو صحافت کرنا سکھائی۔
ان کا شمار عرب نیوز ویب سائٹ ’اردو نیوز‘ جدہ کے بانیوں میں ہوتا تھا اس کے علاوہ وہ روزنامہ امت کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف بھی بنے، اور روزنامہ جنگ لندن سے بھی وابستہ رہے۔
اطہر علی ہاشمی کو زبان و بیان پر گہری گرفت حاصل تھی۔
ان کا مشہور کالم *’خبر لیجیے زباں بگڑی‘* اردو دانی کے لحاظ سے سند کی حیثیت رکھتا ہے جس میں وہ اردو زبان کی بول چال میں رائج غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی تصیح کرتے تھے۔
اطہر علی ہاشمی کی نماز جنازہ آج دوپہر ڈیڑھ بجے کراچی میں ادا کی گئی۔
‏Source www.dawnnews.tv
http://www.bhatkallys.com/ur/articles/atharhashimi-155/
اطہر ہاشمی بھی رخصت ہوگئے۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
اسی ہفتے دائرہ علم وادب میں اطہر ہاشمی صاحب کا واٹس اپ نمبر نظر آیا تو بہت حیرت ہوئی، جی چاہا کہ اس ترقی پر آپ کو مبارکباد دی جائے، اور دو روز قبل ان سے فون پر کچھ ہلکی پھلکی ہنسی مذاق کی باتیں ہوئیں، انہوں نے بتایا کہ وہ آفس جارہے ہیں۔ اور یہ کہ انہوں نے اپنی عادتیں نہیں بدلی ہیں، فون کو صرف بات چیت کے لئے استعمال کرتے ہیں،بچے واٹس اپ وغیرہ دیکھ کر بتلاتے ہیں، ان کی باتیں سن کر دل خوش ہوا، وہ بڑی اپنائیت سے بات کررہے تھے، لیکن آج صبح ان کی دائمی جدائی کی خبر آئی تو دل دھک سے بیٹھ گیا، خبر ماننے کو جی نہیں چاہ رہا تھا، عجیب کیفیت ہوئی، لیکن جانے والا اپنے رب کی بارگاہ میں جا چکا تھا۔
جنوری ۲۰۱۵ء سے آپ کے کالم((خبر لیجے زباں بگڑی)) پر نظر پڑنے لگی، یہ ہمیں اتنا پسند آیا جتنا کسی زمانے میں مشفق خواجہ کا کالم سخن در سخن پسند آیا کرتا تھا،اور جس کا انتظار ہوا کرتا تھا،دونوں کا موضوع الگ تھا، لیکن بے ساختگی اور بانکپن میں مماثلت ضرور تھی، یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہمیں سوشل میڈیا کا دور ملا،ایمیل گروپوں ، فیس بک اور واٹس اپ پر ہم نے ان کی پوسٹنگ شروع کردی، اور پابندی سے ترسیل کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران ہم نے اس بات کا اہتمام کیا کہ قارئین کے تاثرات اور تبصروں کو جمع کرکے ہاشمی صاحب کو بھیجتے رہیں، ہاشمی صاحب ایمیل نہیں دیکھتے تھے، رابطہ کے لئے انہوں نے فرائیڈے اسپیشل کے جناب شکیل صاحب سے ملوادیا، جوموصولہ تبصروں کو ہاشمی صاحب تک پہنچاتے تھے۔ اس دوران فرائیڈے اسپیشل کی ویب سائٹس مشکلات سے دوچار رہی تو اہتمام سے اپنے دستیاب کالموں کی انپیج فائل بھجوادی۔
ان سے بات چیت کے بعد گزشتہ دو روز کے اندر ہم نے آپ کو کالموں پر موصولہ چھ تبصرے واٹس اپ سے بھیج دئے تھے، لیکن ان کا جواب کیا آتا؟ آپ کے اس دنیا سے اٹھ جانے کی خبرنے دلوں کو مغموم کردیا، انا للہ والیہ راجعون۔
ایک ڈیڑھ سال قبل انہیں بڑی پریشانیاں ہوئی تھیں، وہ خود سخت بیمار ہوئے، پھر ان کی اہلیہ شدید بیمار ہوئیں تو ٹوٹ سے گئے، بات بات پر کہنے لگے کہ میں نے ان سے کہ دیا ہے کہ زندگی کا ساتھ نہ چھوڑیں، پہلے نہ جائیں۔ کسے معلوم تھا کہ یہ مزاح نہیں تھا، درد دل کی آرزو تھی،جو قبول ہوئی، پھر حالات میں ٹہراؤ آگیا، روازنہ معمولات میں مشغول ہوگئے، بجھتی لو کی طرح جو بجھنے سے پہلے بھڑک اٹھتی ہے۔
ہاشمی صاحب نے زندگی کی ۷۴ بہاریں دیکھیں، غالبا آپ کا جائے پیدائش بلند شہر (بھارت) تھا، تعلیمی مراحل یف سی کالج لاہور، اور کراچی یونیورسٹی میں مکمل کئے۔ صحافت ان کا ترجیحی میدان نہیں تھا، لیکن ۱۹۷۹ء کے حالات میں اتفاقی طور پر انہوں نے جسارت کراچی میں لکھنا شروع کردیا، اور پھر اسی کے اسیر ہوگئے، اس دوران جب جدہ سے اردو نیوز جاری ہوا تو اسلامی فکر سے وابستہ اردو صحافیوں کی ایک ٹیم اس سے وابستہ ہوئی، جب ۱۹۹۰ء میں سعودی عرب میں سعودی نائزیشن شروع ہوا توپھر آپ واپس آکر جسارت سے دوبارہ وابستہ ہوگئے۔ اب کہ وہ اس میں چیف ایڈیٹر کے منصب پر فائز ہوئےاور آخر دم تک اس منصب پر رہے۔ آپ نے جنگ لندن، روزنامہ امت کراچی میں بھی وقتا فوقتا ذمہ داریاں سنبھالیں۔
ہاشمی صاحب سے بالمشافہ ملنے کا ہمیں کبھی اتفاق نہیں ہوا، لیکن جب بھی فون پر بات ہوئی بڑی اپنائیت کا احساس ہوا، وہ بے پناہ سادگی اور بے تکلفی کے عادی تھے، ان کی بے نفسی کا یہ عالم تھا کہ اپنی ذات کے بارے میں کہنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا،ان میں ایک کامیاب استاد اور رہنما کی صفات بہ اتم پائی جاتی تھیں۔ انہوں نے اپنی تربیت میں صحافیوں اور لکھنے والوں کی ایک قطار کھڑی کی ہے، ان کی زندگی ہمیشہ مشعل راہ بن کر آئندہ نسلوں کو روشنی فراہم کرتی رہے گی۔ ایک عظیم انسان ہمارے درمیاں سے اٹھ گیا ہے،اسے دیکھنے والوں کی گواہی ہے کہ اس نے ایک روشن اوراجلی زندگی گزاری، اس کا کردار داغ دھبوں سے پاک تھا، وہ چاہتا تو بہتے دریا میں ہاتھ بھگو سکتا تھا، لیکن اس نے اپنے فرض منصبی کا حق ادا کیا، اب ہم اس کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے دعائیں ہی کرسکتے ہیں۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ۔



2020-08-06
👍1
Audio
غزل
(منظر بھوپالی)
طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
عکس پر نہ اِتراؤ، آئینہ ہمارا ہے

آپ کی غلامی کا، بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے
آبرو سے مرنے کا، فیصلہ ہمارا ہے

عمر بھر تو کوئی بھی، جنگ لڑ نہیں سکتا
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے، تجربہ ہمارا ہے

اپنی رہنمائی پر، اب غرور مت کرنا
آپ سے بہت آگے، نقشِ پا ہمارا ہے

غیرتِ جہاد اپنی، زخم کھا کے جاگے گی
پہلا وار تم کر لو، دوسرا ہمارا ہے
کیا قرآن کریم کی تفسیر و تشریح پر علما کی اجارہ داری ہے؟
(مفتی محمد تقی عثمانی)

بعض لوگ یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ قرآن کریم تمام انسانوں کے لئے ہدایت کی کتاب ہے، لہذا ہر شخص کو اس سے اپنی سمجھ کے موافق فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے اور اس کی تشریح و تفسیر پر صرف علماء کی اجارہ داری قائم نہیں کی جاسکتی۔

یہ انتہائی سطحی اعتراض ہے جسے حقیقت پسندی اور معاملہ فہمی سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ کوئی ماہر قانون یا ڈاکٹر اگر اپنے فن پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو ظاہر ہے اس کا مقصد پوری انسانیت کو فائدہ پہنچانا ہی ہوتا ہے۔ اب اگر ایسا شخص جو ان علوم و فنون کے مبادی سے واقف نہیں ہے، کھڑا ہوکر یہ اعتراض کرنے لگے کہ یہ کتابیں تو پوری انسانیت کے فائدے کے لئے لکھی گئی تھیں ان پر ماہرین قانون اور ڈاکٹروں نے اپنی اجارہ داری کیوں قائم کرلی ہے؟ تو اسکی عقل پر ماتم کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے؟

اگر کسی کتاب سے فائدہ اٹھانے کے لئے اہلیت کی کچھ صفات مقرر کرنا اجارہ داری قائم کرنے کی تعریف میں آتا ہے تو پھر دنیا کے کسی علم و ہنر کو جاہلوں اور اناڑیوں کی دستبرد سے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ کتاب انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہوتی ہیں لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے دو ہی طریقے ہیں یا تو انسان اس علم و فن کو ماہر اساتذہ سے حاصل کرے یا جن لوگوں نے اس علم و فن کو حاصل کرنے کے لئے اپنی عمریں کھپائی ہیں ان میں سے جس پر زیادہ اعتماد ہو اس کی تشریح و تفسیر پر بھروسہ کرے۔

کیا دنیا میں صرف قرآن و سنت ہی (معاذاللہ) ایسے لاوارث رہ گئے ہیں کہ ان سے مسائل مستنبط کرنے کے لئے اہلیت کی کوئی شرط درکار نہیں؟ اور ان پر ہر کس و ناکس مشق ستم کرسکتا ہے؟

[ علوم القرآن ، ص 364 ]

منقول
telegram.me/impoinfo
روحانی تجربہ. ...

کسی کے ساتھ رہنا محض جسمانی (مادی یا فزیکل) تجربہ نہیں بلکہ یہ ایک روحانی ( spirtual , ماورائے بدن ) تجربہ بھی ہے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ محض وقت نہیں بلکہ جذبات، احساسات اور روح بھی بانٹتے ہیں، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے.
A man is known by the company he keeps

ہم شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے ساتھ رہنے بسنے والے لوگوں کا اثر قبول کرتے ہیں. ہماری سوچ اور گفتگو میں ہمارے ماحول کا رنگ نمایاں ہوتا ہے، آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں
علمی ماحول میں پروان چڑھنے والے بچے عموماً لائق اور پڑھنے کے شوقین ملیں گے، ادبی ماحول والے بچے ادب شناس ہوں گے،

گالی گلوچ والے ماحول کا رنگ بھی بچوں پر ویسا ہی اثر ڈالے گا، لڑائی جھگڑے والے گھر میں بچہ ضدی لڑاکا یا گھبرایا سہما نکلے گا

ہماری سوچ ہمارے ماحول میں ایسے ہی سرائیت کرتی ہے جیسے خوشبو ایک جگہ سے چاروں طرف پھیلتی ہے، نمازی پرہیزگار والدین کے بچے عموماً دین بیزار نہیں ہوتے، نرم خو ماں کی بیٹی عموما ترش رو نہیں ہوتی،

بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ رشتہ کرتے ہوئے لڑکی کی ماں کو دیکھو، اس کا مفہوم کیا ہے؟ کہ جس لڑکی نے آپ کے گھر کی بہو/بیوی بننا ہے اور آپ کی آئندہ نسل کی تربیت کرنی ہے اس کی ماں کیسی بہو، کیسی بیوی اور کیسی ماں ہے، ایک سگھڑ ماں کی بیٹی ارادتا کچھ نہ بھی سیکھے سگھڑاپا اس کی گھٹی میں شامل ہو ہی جاتا ہے ..

مثل مشہور ہے. .

باپ پہ بیٹا.،پتا پہ گھوڑا
بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا

بس یہی سوچ کر اپنے آپ پر نظر ڈالیں. . آپ اپنی اولاد سے جو توقع کرتے ہیں ویسا خود بن کر دکھائیں. بچے آپ کا آئینہ ہیں. وہ آپ کی مثال سے سیکھتے ہیں. .
آپ قرآن سکھائیں یا لغو گفتگو. .
لطائف یا وظائف. ,یا گالم گلوچ..
یہ آپ کے اپنے ظرف پر منحصر ہے. ...

اور صرف اولاد ہی کیوں ,زندگی کا ہم سفر بھی آپ کو جیسا درکار ہے آپ خود ویسے ہی بن جائیں کچھ ہی عرصے میں آپ کا ساتھی آپ کے من چاہے روپ میں آپ کے سامنے ہو گا ..

بسا اوقات ہم جس سے کوئی خونی رشتہ نہیں رکھتے محض اک رابطہ رکھتے ہیں کبھی دل کا کبھی خیال کا ،خواب کا یا گفتگو کا. .اس کا روحانی اثر ہم قبول کرتے ہیں .. اور اس رنگ میں رنگتے چلے جاتے ہیں

اسی طرح آپ اپنے نیٹ فرینڈز پر نظر ڈالیں. .جن کے ساتھ آپ دن کا کچھ یا بیشتر حصہ گزارتے ہیں ..ان کی باتوں کا جواب دیتے ہیں. ان کے سوالات پر غور کرتے ہیں. ان سے آرٹیکلز، ویڈیوز یا آڈیوز کا تبادلہ کرتے ہیں. .

یہ سب آپ کی شخصیت و کردار سازی کا حصہ ہے ..یہ تربیت آپ خود حاصل کر رہے ہیں. ..
گویا آج کا دور تربیت کے لحاظ سے تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہے . ذرا چوکے اور زمیں بوس ہوئے. . غور کریں کہ آپ کی تربیت میں کس کا حصہ زیادہ ہے. اور وہ آپ کی کن خطوط پر ذہن و کردارسازی کر رہا ہے. .

بس اس ساری تحریر کا لب لباب یہ ہے کہ اب ہماری ذہنی و روحانی تربیت صرف ہمارے والدین نہیں کر رہے ہیں، بلکہ والدین کے ساتھ ساتھ گھریلو ماحول، سکول، دوست، معاشرہ اور سب سے اہم سوشل میڈیا ہماری ذہنی و روحانی تربیت کا ذمہ دار ہے، میرے خیال میں سوشل میڈیا کا کردار 50 فیصد اور باقی تمام عوامل مل کر 50 فیصد رول ادا کر رہے ہیں.

انجام کار ہماری اپنی انگلی کا شعوری ٹچ ہماری تربیت کر رہا ہے .. رکیں. . ٹھہریں. . احتساب کریں. . اپنی کمپنی کا سوچ سمجھ کر انتخاب کریں.

📚✍🏻...منقول

اسلامی فکر

t.me/impoinfo
حضرت سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ

حضرت عتبہ اُن بزرگوں میں ہیں جنہوں نے ابتدأ ہی میں داعیٔ توحید کو لبیک کہا اور مسلمان ہو گئے۔تیر اندازی کے لحاظ سے آپ کا شمار کاملینِ فن میں تھا۔ ۱۴ ہجری میں خلیفہ دوم نے آپ کو بندرگاہ ابلہ بلسان اور اس کے ملحقہ مقامات کی فتح پر مامور فرمایا۔ حضرت عتبہؓ نے اِس مہم کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ حضرت عمرؓ کے ہی حکم سے حضرت عتبہؓ نے آٹھ سو آدمیوں کے ساتھ شہر بصرہ کی داغ بیل ڈالی، ہر قبیلہ کے لیے ایک ایک محلّہ مخصوص کر دیا۔ اِس نئے شہر کے سب سے پہلے والی بھی حضرت عتبہؓ ہی مقرر ہوئے۔
تقویٰ ، زہد، جفاکشی اور خاکساری آپ کے خصوصی اوصاف ہیں۔ آپؓ نے بصرہ کی جامع مسجد میں ایک خطبہ دیا تھا، یہاں اُس کے چند فقرے نقل کیے جاتے ہیں۔ اس سے آپ کے خوفِ قیامت ، زہد اور خاکساری کا اندازہ ہوگا:
’’صاحبو! دُنیا گزر جانے والی، آنے جانے والی ہے۔ اس کا بڑا حصہ گزر چکا ہے اور اب اُس کا تھوڑا حصہ باقی ہے جس طرح کہ برتن کا پانی پھینک دینے کے بعد آخر میں کچھ دیر تک قطرات کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔ ہاں تم اِس دنیا سے ایک دوسری جگہ منتقل ہونے والے ہو جس کو کبھی زوال نہیں، تو پھر کیوں نہیں اپنے ساتھ بہتر سے بہتر تحائف لے جاتے ہو؟ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ اگر پتھر کا کوئی ٹکڑا جہنم کے کنارے سے لڑھکایا جائے تو ستّر برس میں بھی وہ اُس کی گہرائی کو طے نہیں کر سکتا۔ لیکن اللہ کی قسم! تم اُس جہنم کو بھر دو گے۔ کیا تم اِس پر تعجّب کرتے ہوئے؟
اللہ کی قسم مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہوں گے کہ چالیس سال میں اُس کی مسافت طے ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک دن ایسا بھی آئے گا جب کہ اُن پر سخت ازدحام ہوگا۔ میں جب ایمان لایا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف چھ آدمی تھے، عسرت و ناداری کی یہ حالت تھی کہ درخت کے پتوں پر گزارہ تھا جس سے آنتوں میں زخم پڑ جاتے تھے۔ مجھے ایک دفعہ ایک چادر مل گئی جس کو چاک کر کے میں نے اور سعد نے تہبند بنایا۔ لیکن ایک دن یہ بھی آیا کہ جب ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا امیر ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ اُس کے نزدیک حقیر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بڑا سمجھوں۔ نبوت ختم ہو چکی ہے، انجام کار بادشاہت قائم ہو گی اور تم عنقریب ہمارے بعد امیروں کو آزماؤ گے۔
(سیر الصحابہؓ ج۲ مہاجرین حصہ اول ص ۴۱۷)
۱۷ ہجری میں وفات ہوئی۔ نور اللہ مرقدہ

ناشر:ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo

https://chirpwire.net/Wire/v/13952
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
کورونا وائرس سے متعلق کئی سوالات
جو کرونا کو وبا سمجھتے ہیں کیا وہ اس کا جواب دیں گے؟

telegram.me/impoinfo
امیر المؤمنین سیّدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ

حضرت ابو بکر کا سلسلۂ نسب چھٹی پشت میں مُرّہ پر آنحضرت ﷺ سے مل جاتا ہے۔
ولادت: آپ حضور اکرم ﷺ کی ولادت مبارکہ کے دو سال بعد پیدا ہوئے، وفات کے وقت آپ کی بھی عمر ترسٹھ سال تھی۔
حکومت کے ذمّہ داروں کو نصائح: آپ جب کسی شخص کو کسی ذمہ داری کے عہدہ پر مامور فرماتے تو عموماً بلا کر اُس کے فرائض کی تشریح کر دیتے اور نہایت مؤثر الفاظ میں سلاست روی اور تقویٰ کی نصیحت فرماتے۔ چنانچہ حضرت سیدنا عمرو بن العاص اور حضرت سیدنا ولید ابن عقبہ رضی اللہ عنہما کو قبیلہ قصاعہ پر محصِّل صدقہ بنا کر بھیجا تو اِن الفاظ میں نصیحت فرمائی:
پوشیدہ اور ظاہر ہر موقع پر اللہ کا خوف رکھنا، کیوں کہ جو اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے اللہ اُس کے لیے (ہر مشکل سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور رزق کا ایسا ذریعہ پیدا کرتا ہے جس کا اُس کو گمان بھی نہیں ہوتااور جو اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اُس کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اُس کو اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔
تقویٰ: ورع و تقویٰ آپ کا امتیازی وصف تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ کے ایک غلام نے کھانے کی کوئی چیز لاکر پیش کی، جب تناول فرما چکے تو غلام نے کہا، آپ جانتے ہیں کہ یہ کس طرح حاصل ہوا؟ فرمایا، بیان کرو! غلام نے کہا کہ میں نے(زمانۂ) جاہلیت میں ایک شخص کی فال کھولی تھی، میں فال کھولنا جانتا نہ تھا، صرف اُس کو دھوکہ دیا تھا۔ لیکن آج اُس سے ملاقات ہوئی تو اُس نے اسی صلہ میں یہ کھانا دیا ۔ یہ سرگزشت سُنی تو منہ میں اُنگلی ڈال کر جو کچھ کھایا تھا قے کر دیا۔ فرمایا کرتے تھے کہ جو جسم اَکلِ حرام سے پرورش پاتا ہے جہنم اُس کا بہترین مسکن ہے۔
فائدہ: اس سے اکل حلال کی کیسی کچھ اہمیت معلوم ہوئی جو صوفیہ کرام کے اصول میں سے اہم اصل ہے۔
زُھد: امارت، دنیا طلبی و جاہ پسندی سے قطعی نفرت تھی۔ خلافت کا بارِ گراں بھی محض اُمّتِ مرحومہ کو تفریق و اختلاف سے محفوظ رکھنے کے یے اُٹھا لیا تھا، ورنہ دل سے اِس ذمہ داری کے متمنی نہ تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے پینے کے لیے پانی مانگا، لوگوں نے پانی میں شہد ملا کر پیش کیا۔ لیکن جیسے ہی منہ کے قریب لے گئے بے اختیار آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اِس قدر روئے کہ تمام حاضرین پر رقت طاری ہو گئی۔ جب کسی قدر سکون ہوا تو لوگوں نے گریہ و زاری کی وجہ پوچھی۔ بولے’’ایک روز میں آں حضرت ﷺ کے ساتھ تھا، آپ کسی چیز کو ’’دور ہو! دور ہو!‘‘ فرما رہے تھے۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا چیز ہے؟ جس کو آپ دور فرما رہے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’دنیا زیب و زینت کے ساتھ میرے سامنے آئی تھی، میں نے اُس کو دور کر دیا‘‘۔ اِس وقت یکایک حضور اکرم ﷺ کا یہ واقعہ مجھے یاد آگیا اور میں ڈرا کہ مبادا دُنیا کے دامِ مکر و فریب کا شکار نہ ہو جاؤں‘‘۔
تواضع: آپ کے اندر تواضع و خاکساری کی خاص صفت تھی۔ اس لیے کسی معمولی سے کام کے کرنے سے آپ کو عار نہ ہوتا تھا۔ اکثر بھیڑ بکریاں تک خود ہی چَرا لیتے اور محلّہ والوں کی بکریاں دوہ دیتے تھے۔ چنانچہ منصبِ خلافت کے لیے جب آپ کا انتخاب ہوا تو محلّہ کی ایک لڑکی کو فکر لاحق ہوئی اور اُس نے تاسّف آمیز لہجے میں کہا، اب ہماری بکریاں کون دوہے گا؟ حضرت ابوبکرؓ نے سُنا تو فرمایا، اللہ کی قسم! میں تمہاری بکریاں دوہ دیا کروں گا، امید ہے کہ خلافت مجھے مخلوق کی خدمت گزاری سے باز نہ رکھے گی۔
انفاق فی سبیل اللہ: حضرت ابوبکر صدیق ؓکے پاس قبولِ اسلام کے وقت چالیس ہزار درہم نقد موجود تھے، آپ نے یہ تمام دولت راہِ خدا میں صرف کردی۔ آں حضرت ﷺ نے بارہا اِس فیاضی کے بر محل ہونے کا اعتراف فرمایا۔’’ابوبکر کے مال سے زیادہ کوئی مال میرے لیے مفید نہ ہوا‘‘۔
آپ کی عبادت و ریاضت: آپ رات رات بھر نمازیں پڑھتے تھے، دن کو اکثر روزے رکھتے تھے۔ خصوصاً موسمِ گرما روزوں میں ہی بسر ہوتا تھا۔ خشوع و خضوع کا یہ عالم تھا کہ نماز میں  لکڑی کی طرح بے حس و حرکت نظر آتے تھے۔ رِقّت اِس قدر طاری ہوتی کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی تھی۔ خوفِ محشر اور عبرت پذیری سے دنیاکا ذرّہ ذرہ اُن کے لیے سرمایۂ عبرت تھا۔ کوئی سر سبز درخت دیکھتے تو کہتے، کاش میں درخت ہی ہوتا کہ عاقبت کے جھگڑوں سے چھوٹ جاتا۔ نیکو کاری و حصولِ ثواب کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا۔ آج تم میں سے روزے سے کوئی ہے؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا، میں! پھر پوچھا، آج کسی نے جنازہ کی مشایعت کی ہے؟ عرض کیا، میں نے! کسی نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ عرض کیا، میں نے! اور کسی نے مریض کی عیادت کی ہے؟ جواب دیا کہ، میں نے! تو آں حضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایک دن میں اِس قدر نیکیاں جمع کی ہوں وہ یقیناً جنت میں جائے گا۔ (سیر صحابہ، ج ۱ ،ص ۹۲)
(جاری)
ناشر: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
ویب لنک 👇
https://chirpwire.net/Wire/v/13966
https://www.google.com/get/noto/#nastaliq-aran

گوگل نے نوٹو نستعلیق کے نام سے ایک ویب فونٹ جاری کیا ہے۔ اس چینل کے جن حضرات کو ویب سائٹ یا بلاگ بنانے کا تجربہ ہے وہ CSS style sheet میں اس فونٹ کو شامل کر کے دیکھیں کہ یہ کس طرح کام کر رہا ہے۔ نتیجہ سے بھی مجھے واقف کریں۔
@abusarim
امیر المؤمنین سیّدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ
قسط دوم

تصوّف: سب سے اوّل تصفیہ و تزکیۂ باطن کے لیے کلمۂ طیبہ کا طریقۂ ذکر حضرت ابو بکرؓ نے تلقین کیا۔ حضرت جنید ؒ کا قول ہے کہ توحید میں بزرگ تر کلام حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا یہ مقولہ ’’سبحان من لم یجعل لخلقہ سبیلا الا بالعجز‘‘۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق کے لیے سوائے عجز کے کوئی راستہ نہیں بنایا۔
کشف المحجوب میں ہے، طریقۂ تصوّف کے امام ابوبکرؓ ہیں۔ انقطاع عن الاغیار ( جو جانِ تصوّف ہے) اُن کے اِس خطبہ سے عیاں ہے ’’اِلّا مَن کان یعبُدُ محمداً الخ‘‘ محبتِ دنیا سے پاک و صاف ہونے کا شاید غزوۂ تبوک کا وہ واقعہ ہے آنحضرت ﷺ نے پوچھا، اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑ آئے؟ کہا اللہ اور اُس کا رسول۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے تصوّفِ صدیقیؓ کے ذیل میں حضرت صدیقِ اکبرؓ کے اُن تمام اوصاف کی تفصیل کی ہے جو اساسِ تصوّف ہیں۔ مثلاً توّکل، احتیاط، تواضع، اللہ کی مخلوق پر شفقت، رضا، خوفِ الٰہی، جو صاحب شائقِ تفصیل ہوں ’’ازالۃ الخفاء‘‘ دیکھیں۔ ہم مضمون کے عام فہم نہ ہونے کے سبب زیادہ تفصیل سے نہیں لکھتے۔ صرف خوفِ الٰہی کی ایک مثال پر اکتفاء کرتے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے ایک روز درخت پر ایک چڑیا دیکھی تو حسرت سے کہا:
’’اے پرندے خوش حال ہے تو، پھل کھاتا ہے، درخت کے سایہ میں بسر کرتا ہے، حساب کا کچھ کھٹکا نہیں۔ کاش ابوبکر تجھ سا ہوتا۔‘‘
نماز میں خشیتِ الٰہی کا یہ عالم ہوتا کہ ایک چوبِ خشک کی طرح کھڑے ہوتے۔ طریقۂ نقشبندیہ جو آج تک عالم میں فیض رساں ہے اُس کا سلسلہ بواسطۂ حضرت امام جعفر صادق حضرت ابوبکرؓ تک پہنچتا ہے۔
آپؓ کے ارشادات: اب آپؓ کے ارشادات ’’طبقاتِ کبریٰ‘‘ سے ملاحظہ فرمائیں!
آپ فرمایا کرتے تھے کہ سب سے بڑی سمجھداری تقویٰ ہے اور اعلیٰ درجہ کی حماقت فسق و فجور ہے اور امانت بہت بڑی سچائی ہے اور بد ترین جھوٹ خیانت ہے۔
آپ کبھی لا علمی سے مشتبہ کھانا کھا لیتے تو تحقیق کے بعد اس کو قے کر دیتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرماتے کہ یا اللہ! اِس کھانے کا اثر جو میری رگوں اور آنتوں میں سرایت کر گیا ہے اُس پر مواخذہ نہ فرمائیے۔
آپ فرمیا کرتے تھے کہ اِس دین کا آخر اُنہی چیزوں سے درست ہو گا جن سے اِس کا اوّل درست ہوا تھا۔ اور اِن باتوں کا تحمّل وہی کر سکتا ہے جو قدر میں سب سے افضل اور اپنے نفس پر سب سے زیادہ قابو یافتہ ہے۔
فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی دنیا کی زینتوں میں سے کسی زینت پر عجب کرتا ہے تو جب تک اُس سے علیحدگی اختیار نہیں کرتا اُس وقت تک اللہ تعالیٰ اُس سے ناراض رہتے ہیں۔
آپ فرماتے تھے کہ کاش میں کوئی شجر (درخت) ہوتا جو کاٹ دیا جاتا اور کھا لیا جاتا۔ اور آپ اپنی زبان کو پکڑ کر فرماتے کہ اِسی نے مجھ کو ہلاکت کے مواقع میں پہنچایا۔ اور آپ کا یہ حال تھا کہ جب اونٹ کی مہار گر جاتی تو اونٹ کو بیٹھا کر اُس کو اُٹھاتے اور آپ سے کہا جاتا کہ آپ نے ہم کو کیوں نہ حکم دیا؟ تو فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم فرمایا ہے کہ لوگوں سے کسی قسم کا سوال نہ کریں۔
صحابۂ کرامؓ سے آپ فرمایا کرتے کہ میں آپ حضرات کے اُمور کا والی ضرور بنا دیا گیا ہوں، مگر میں آپ لوگوں سے بہتر نہیں ہوں۔ لہٰذا میری آپ لوگ مدد کیا کریں۔ جب مجھے راہِ راست پر دیکھیں تو اتّباع کریں اور جب میرے اندر کجی دیکھیں تو درست کر دیا کریں۔
آپ پر حُزن اور خوف کا غلبہ رہتا تھا، حتیٰ کہ آپ کے منہ سے بھنی ہوئی کلیجی کی بو آتی تھی۔ (طبقاتِ کبریٰ، ج۱، ص ۱۱۵)
آپ کے ارشادات ’’سیرت خلفاء راشدین‘‘ سے ملاحظہ فرمائیں:
ایک روز خطبہ میں فرمایا: وہ حسین و خوبصورت لوگ کہاں گئے جن کو اپنی جوانی و خوبصورتی پر ناز تھا؟ وہ بادشاہ کہاں گئے جنہوں نے شہر آباد کیے تھے اور قلعے بنائے تھے؟ وہ بہادر کہاں گئے جو میدان جنگ میں ہمیشہ غالب رہا کرتے تھے؟ زمانہ نے اُن کو ہلاک کر دیا اور وہ قبر کی تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا کرتے تھے کہ خبردار، کوئی کسی شخص کو حقیر نہ سمجھے، کیوں کہ چھوٹے درجے کا مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا ہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے بزرگی کو تقویٰ میں پایا، اور تونگری کو یقین میں، اور عزت کو تواضع میں۔
فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ لونڈی و غلاموں کو اولاد کی طرح رکھو۔ اُن کو وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔
فرمایا کہ میں پاکی بیان کرتا ہوں اُس ذات کی جس نے اپنی مخلوق کے لیے کوئی راستہ اپنی معرفت کا نہیں رکھا سوائے اِس کے کہ اُس کی معرفت سے عاجز ہو جائیں۔ (امام الصوفیہ حضرت جنید بغداد ؒاِس کلام کی نسبت فرماتے ہیں کہ ’’اشرفُ کلمۃ فی التوحید)
فرمایا کہ جو شخص اللہ کی محبت کو مزہ چکھ لیتا ہے، پھر اُس کو طلبِ دنیا کی فرصت نہیں ملتی اور انسانوں سے اس کو وحشت ہوتی ہے۔(جاری)
ناشر: ضروری معلومات چینل
t.me/impoinfo
ویب لنک 👇
https://chirpwire.net/Wire/v/15582
قوت ایمانی کا ایک واقعہ! 🌹

نصیر خان بلوچی اور پنجاب کی سکھ حکومت کے درمیان ایک مرتبہ جنگ ہوئی۔
ایک موقعہ پر اس جنگ میں نصیر خان زخمی ہو کر گھوڑے سے گرے، دو سکھ سپاہی پاس سے گزرے ایک نے چاہا کہ کام تمام کر دیں، اس زمانہ میں بلوچی بڑے بڑے بال رکھتے تھے، نصیر خان کی بھی لٹیں تھیں، دوسرے سکھ نے کہا کہ نہیں، نہیں! یہ ہمارا بھائی ہے، اس کو نہ مارو۔ جب جنگ ختم ہوئی اور نصیر خان بلوچی اپنی دارالحکومت میں پہنچا تو اس نے خود بھی اپنے بال ترشوائے اور پوری قوم کو بال ترشوانے کا حکم دیا۔اس نے کہا کہ اس منحوس بالوں نے میرے مسلمان ہونے کے بارے میں شبہ پیدا کر دیا، اور میں شہادت سے محروم رہا۔۔

افسوس! کہ آج ہم اپنے نبیﷺ اور صحابہ کرام کی شکل و صورت اختیار کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں، اور ان یہودو نصاریٰ کی وضع قطع اور شکل و صورت اختیار کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، جو ہمارے نبیﷺ کے جان تک کے دشمن رہے۔

مآخذ: کشکول نوادر
صفحہ: 37

https://t.me/impoinfo
امیر المؤمنین سیّدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ
قسط سوم

مرضِ وفات میں لوگ عیادت کو آئے اور کہنے لگے، اے خلیفۂ رسول اللہﷺ کسی طبیب کو آپ کے لیے بلایا جائے؟ تو فرمایا کہ طبیب تو مجھ کو دیکھ چکا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر طبیب نے کیا کہا؟ فرمایا، اُس نے کہا اِنِّی فَعَّال لَمَااُرِیْد۔
فرمایا کہ جب میں کسی شرابی کو گرفتار کرتا ہوں تو دل میں یہ آرزو پیدا ہوتی ہے کہ اللہ اُس کی ستر پوشی کرے۔ اور کسی چور کو گرفتار کرتا ہوں تو اُس وقت یہی خواہش دل میں پیدا ہوتی ہے۔ عبد اللہ ابن حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خطبہ پڑھا۔ جس میں حسب ذیل ارشادات تھے۔
’’اے لوگو! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو، اور اللہ کی تعریف ایسی کرو جس کا وہ سزاوار ہے اور اُمید و خوف دونوں کو ملحوظ رکھو اور دعا مانگنے میں الحاف (اصرار) بھی اختیار کرو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام اور اُن کے گھر والوں کی تعریف میں فرمایا ۔( ترجمہ) ’’یہ سب نیک کاموں میں دوڑتے تھے اور امید و بیم کے ساتھ ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور ہمارے سامنے دب کر رہتے تھے‘‘۔
اے اللہ کے بندو! خوب سمجھ لو، اللہ نے اپنے حق میں تمہاری جانوں کو گِروی کر دیا ہے اور اس پر تم سے عہد لیے ہیں اور تم سے قلیل فانی (دنیا) کو بعوض کثیر باقی (جنت و نعیم جنت) کے مول لیا ہے۔
یہ اللہ کی کتاب تم میں موجود ہے، جس کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے، جس کی روشنی کبھی گُل نہ ہوگی۔ لہٰذا تم کلامِ الٰہی کی تصدیق کرو اور اللہ کی کتاب سے نصیحت حاصل کرتے رہو اور تاریکی والے دن کے لیے اُس سے بینائی حاصل کرو۔ تم کو اللہ نے اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے اور تم پر کراماً کاتبین (اعمال لکھنے والے فرشتوں) کو مسلط کیا ہے جو کچھ تم کرتے ہو وہ فرشتے جانتے ہیں۔
اے اللہ کے بندو! تم ہر صبح اور ہر شام (یعنی ہر لحظہ) اُس میعاد سے قریب ہوتے جاتے ہو جس کا علم تم سے غائب ہے۔ پس اگر تم سے ہو سکے کہ تمہاری عمریںاس حال میں ختم ہوں کہ تم اللہ کے کام میں مشغول ہو تو ایسا ہی کرو۔ مگر اللہ کی مدد کے بغیر تم ایسا نہیں کرسکتے (لہٰذا اللہ ہی سے توفیق مانگو)۔
اے لوگو! اپنی عمر کی مہلتوں میں نیکیوں کی طرف سبقت کرو، قبل اس کے کہ تمہاری عمریں ختم ہو جائیں اور تم کو اپنی بد اعمالیوں سے سابقہ پڑے۔ کچھ لوگوں نے اپنی زندگی غیروں کے لیے صرف کر دیں اور اپنی جانوں کو فراموش کردیا، میں تم کو منع کرتا ہوں، تم ایسے نہ بنو۔
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کبھی خطبہ میں انسان کی پیدائش کا حال بیان کرتے تو فرماتے کہ انسان دو مرتبہ مقامِ نجاست سے نکلا ہے ( ایک مرتبہ صُلبِ پدر سے اور ایک مرتبہ شکمِ مادر سے) اُس وقت کیفیت یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے کو نجس سمجھنے لگتا ہے۔
فرمایا کرتے تھے کہ اے لوگو! خدا کے خوف سے روؤ، اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرو۔
ایک اور خطبہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ گزشتہ سال گرمیوں میں مَیں نے تمہارے نبی ﷺ سے سنا تھا، یہ کہہ کر رونے لگے پھر فرمایا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ سے گناہوں کی بخشش اور دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرو۔
فرمایا کرتے تھے کہ سچ بولنا اور نیکی کرنا جنت میں جانے کا سبب ہے اور جھوٹ بولنا اور بدکاری کرنا دوزخ میں جانے کا سبب ہے۔
فرمایا کرتے تھے اے اللہ کے بندو! آپس میں قطعِ تعلق نہ کرو، بُغض نہ رکھو، ایک دوسرے پر حسد نہ کرو اور بھائی بھائی بن کر رہو جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم فرمایا ہے۔
اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ! مجھے حق دکھا اور حق کی پیروی کی توفیق عطا فرما۔ اور مجھے باطل کی پہچان دے اور اُس سے بچنے کی توفیق مرحمت فرما۔ اور حق اور باطل کو میرے اوپر مشتبہ نہ کرنا، ورنہ میں ہوائے نفسانی کا تابع ہو جاؤں گا۔
اخیر وقت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کوئی درد انگیز حسرت آمیز شعر پڑھا تو فرمایا یہ نہ کہو، بلکہ یہ آیت پڑھو (ترجمہ) ’’اور موت کی سختی حقیقتاً آ پہنچی۔ یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔ (سیرت خلفاء راشدین ص 62)
ایک مرتبہ آپ نے منبر پر روتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے معافی و عافیت کا سوال کرو، اِس لیے کہ تم میں سے کسی کو ایمان کے بعد عافیت سے زیادہ بھلی بات نہیں دی گئی۔ (مسند احمد بن حنبلؓ)
ارشاد فرمایا کہ صدق اختیار کرو، اس کا جوڑ نیکی سے ہے اور یہ دونوں جنت میں لے جاتے ہیں اور کذب سے بچتے رہو، اس کا جوڑ فجور سے ہے اور یہ دونوں دوزخ میں لے جاتے ہیں۔ (ایضاً)
ارشاد فرمایا کہ غناء کو نکاح میں تلاش کرو، اس لیے کہ نکاح کرنے پر اللہ تعالیٰ غربت دور کر دیں گے۔ (موسوۃ آثار الصحابہ)
وفات: آپ کی وفات مدینہ منورہ میں ترسٹھ سال کی عمر میں ۲۲؍ جمادی الآخر ۱۳ ہجری مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی اور سرور کائنات ﷺ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (طبقات کبریٰ) تمت
ناشر: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
ٹیلی گرام کے صارفین کے لیے ایک خوش خبری

ٹیلی گرام کے بیٹا ورژن میں ویڈیو کال کو شامل کر دیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ 14 اگست کو اسٹیبل ورژن میں اسے شامل کر دیا جائے۔

t.me/impoinfo