ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
4.28K subscribers
776 photos
266 videos
162 files
1.06K links
‏دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Download Telegram
#Link_Cheker_Bot

انٹرنیٹ کی دنیا میں ہم لوگ روزانہ لنکس کا استعمال کرتے ہیں، لنکس ہم لوگوں کو انٹرنیٹ کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر لے جانے میں مدد کرتی ہیں۔
لیکن! اسی میں بہت سی لنکس ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے اندر مالویئر، ٹروجن، وغیرہ کو چھپا کر آلات کو خراب بھی کیا جا سکتا ہے، اور ہم لنک کو چیک کرنے کے لیئے بہت سے ایپس ڈائنلوڈ کرتے ہیں لیکن اب کسی ایپ کو ڈائنلوڈ کرنے کی ضرورت نہیں اب لنک چیک کرنے والے کام کو ہم ٹیلیگرام پر ہی بوٹ کی مدد سے کر سکتے ہیں۔

بوٹ کا لنک 👉

استعمال کا طریقہ!
❶ بوٹ کو اسٹارٹ کریں!
❷ زبان منتخب کریں!
❸ اپنی مرضی کی لنک ارسال کریں، اور یہ بوٹ آپ کی اس لنک کو چیک کر کے اطلاع دیگا کہ آیا لنک محفوظ ہے یا نہیں۔

مثال کے طور پر اسکرین شاٹ دیکھئے۔ 👇

❶ محفوظ لنک کا اسکرین شاٹ
❷ غیر محفوظ لنک کا اسکرین شاٹ

ضروری معلومات چینل : @impoinfo
ضروری معلومات گروپ: @grpimpoinfo
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

محترم حضرات! ہم میں سے ہر ایک اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ قرآن کریم، احادیث نبویہ اور فقہ، تینوں علوم میں کما حقہ درک حاصل کرنے کے لیے، عربیت کی مہارت امرِ لازم ہے۔ عربیت میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جن فنون میں مہارت ضروری ہے ان میں ’’نحو‘‘ سرِفہرست ہے۔ مبتدی طالب علم ہو یا منتہی یا پھر فارغ شدہ عالم دین، ان کے لیے کسی بھی علم کے حاصل کرنے، اس میں ترقی کرنے اور اسے باقی رکھنے کےلیے، اس علم کے ساتھ جڑا رہنا ضروری ہے، اس سے علم میں بڑھوتری ہوتی رہے گی۔

قرآن فہمی اور حدیث فہمی کے لیے دوسرے علوم کی طرح ’’علمِ نحو‘‘ میں مہارت ضروری ہے، ’’نحو‘‘ میں مہارت حاصل کرنے کی غرض سے ’’تعلیم النحو‘‘ چینل بنایا جا رہا ہے، جس میں نحو سے وابستہ رکھنے کی کوشش کی جائے گی، اس کا طریقہ کار یہ ہو گا:

٭… یہ چینل نحوی کوئز کی شکل میں آگے بڑھےگا۔

٭…مختلف صلاحیتوں کے مالک شرکاء کی ترقی و دلچسپی کی خاطر تین درجوں کے تین فنی و تدریبِ اعرابی سوالات دئیے جائیں گے: پہلا سوال ابتدائی درجہ کا ہوگا، دوسرا متوسط اور تیسرا اعلیٰ درجہ کا سوال ہوگا۔

٭…سوالات آپشن کے ساتھ ہوں گے، ان آپشن میں سے سوچ سمجھ کر بغیر عجلت (اگر ضرورت ہو تو تلاش اور مطالعہ کر کے جو آپشن صحیح معلوم ہو) اس آپشن کو کلک و ٹچ کرنا ہوگا، جواب صحیح ہے یا غلط، اس کا علم جواب پر کلک کرتے ہی ہو جائے گا۔

نوٹ:

یہ چینل ماہر علومِ عقلیہ و علمِ نحو حضرت مولانا الیاس صاحب دامت برکاتہم العالیہ (استاذِ حدیث مدرسہ دعوة الایمان مانیکپور ٹکولی نوساری گجرات) کے طویل تدریسی تجربہ سے استفادہ کرتے ہوئے، ان کی سر پرستی و راہنمائی میں چلے گا۔


امید ہے کہ شرکاء توجہ سے نوازیں گے۔

والسلام
من جانب افراد انتظامیہ تعلیم النحو

جوائن کیجئے 👇👇
https://telegram.me/Taleem_Nahw
کیا نفس کی اصلاح کے لیے کامل پیر کی صحبت ضروری ہے؟ تصوف کے اصل اعمال کیا ہیں؟ اس طرح کی مزید جانکاری کے لیے چینل ”تصوّف کیا ہے؟“ میں شامل ہوں

https://t.me/tasawwufkiahy
Audio
بہت ہی اہم بیان ضرور سماعت فرمائیں

عنوان : توبہ

حضرت حکیم محمد اختر نور اللہ مرقدہٗ

بشکریہ : فیضانِ محبت چینل

t.me/impoinfo
👍1
التماس 🙏🏻 ضرور پڑھیں اور آگے شئیر کریں

جب میں کسی کے پروفائل میں لڑکی کی تصویر یا اسٹیٹس میں گانے لگے دیکھتا ہوں تو دو چیزوں سے ڈر جاتا ہوں۔
1️⃣ایک کہ میرے نامہ اعمال میں لکھا جائے۔👇🏻
کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوۡنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ (المائدہ 79) انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، برا طرز عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا۔

2️⃣یا آپ کے نامہ اعمال میں لکھا جائے۔👇🏻
كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ (صحیح البخاری) میری ساری (مسلم) امت معاف کر دی جائے گی سوائے علانیہ گناہوں کرنے والوں کے۔

🔸اپنی پروفائل اور اسٹیٹس تبدیل کرلیں
اللّٰہ کی قسم آپ اپنے بوجھ کے ساتھ ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جو ان کو دیکھتے ہیں۔ یہ آپ کی برائی کی سند بنتے رہیں گے اگرچہ آپ وفات کیوں نہ پا جائیں۔

📍لڑکی، لڑکی کا ہاتھ، لڑکی کے بال، لڑکی کی آنکھیں، لڑکی کا منہ، لڑکی کا جسم تمام کے تمام فتنہ ہیں۔ قیامت کے روز ان گناہوں پر انگلیاں اور آنکھیں گواہ بنیں گی۔

⬅️اس دن سے ڈریں جس دن تم اللّٰہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

فتنہ پرور عریاں تصاویر اسٹیٹس میں سب کے سامنے لگانا جاری گناہوں میں سے ایک ہے۔

🔸 اگر صدقہ جاریہ نہیں کر سکتے تو گناہ جاریہ بھی نہ کریں۔
خدارا خود بھی اس فتنے سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں.. اس پر روز قیامت باز پرس ہو گی

اسلامی فکر چینل سے نقل شدہ

————————
یقیناً یہ بڑے فکر کی بات ہے آج لوگ اپنے اس عمل کو گناہ بھی نہیں سمجھ رہے ہیں، اپنی ناجائز عشق کا اظہار اسٹیٹس یا پروفائل میں لگا کر کرتے ہیں۔ اللہ جزائے خیر عطا فرمائے اس عبارت کو لکھنے والے کو۔ اس میسج کو فارورڈ کرنے سے قبل ہم سب پہلے اپنا جائزہ لیں، اگر خدا نخواستہ اس عیب میں ملوث ہیں تو سب سے پہلے اصلاح ہماری ہونی چاہیے، اگر بفضل خدا اس گناہ سے محفوظ ہیں تب ہی اس پیغام کو آپ دوسروں تک پہنچانے کا حق رکھتے ہیں، کیوں کہ اللہ کو یہ بات نا پسند ہے کہ تم وہ بات کہو (یا اس کی تبلیغ کرو) جس پر تم خود عمل پیرا نہیں۔ (منتظم ضروری معلومات چینل)

telegram.me/impoinfo
عشق خالد کا
کسی روز بپھر جائے گا
اے لعین سر تیرا کندھوں سے اتر جائے گا
عشق خالد کا کسی روز بپھر جائے گا

تو اگر ختمِ نبوتﷺ سے مکر جائے گا
پھر عدالت سے تیرا لاشہ ہی گھر جائے گا

جو میرے آقاﷺ کی ناموس کی توہین کرے
جلد دنیا سے وہ خنزیر گزر جائے گا

تیرے للکار سے غازی ابھی ان شاء اللہ
قادیانی کا ہر ایک کتا سدھر جائے گا

سچا عاشق ہے مسلماں ہے منافق تو نہیں
سوچنا مت کہ کبھی دار سے ڈر جائے گا

کرکے توہینِ نبیﷺ جس سے پناہ لے گا تو
اس کا پہلو بھی تیرے خون سے بھر جائے گا

عہد کر ختمِ نبوتﷺ کے تحفظ کا نیا
اس سے ایمان تیرا اور نکھر جائے گا

جان اگر شانِ رسالتﷺ پہ نہ ہو میری فدا
کیا میرا عشق کبھی یونہی سنور جائے گا

رخ نہ بدلے گا بھلا کیوں کوئی طوفاں بازی
عشق وایماں سے وہ جب میرے ٹکر جائے گا

🎙حافظ زین العابدین جلالی
🎙حافظ محمد انظر جلالی

مولانا ضیاءالرحمان البازی صاحب
https://t.me/tasawwufkiahy
کافی انتظار اور محنتوں کے بعد ہمیں ٹیلیگراف میں اپنی اردو زبان دیکھنے کو ملی لہٰذا ٹیلی گراف کی حمایت میں، براہ کرم پلے اسٹور میں 5 اسٹار ⭐️ تبصرہ جمع کروائیں۔ (ٹیلی گراف کو ریٹنگ دیں)

اردو مترجم ٹیم
BOUNCER TEMPORARY APP PERMISSIONS V1.21 [PATCHED].apk
2.6 MB
BOUNCER TEMPORARY APP PERMISSIONS V1.21 [PATCHED].apk
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.samruston.permission

پلے اسٹور میں قیمتاً 160 (ہندستانی) روپئے میں دستیاب ہے

باؤنسر - ایپ پرمیشن کی عارضی اجازتیں 1.20.1

تفصیل:
باؤنسر آپ کو ایپ پرمیشن کو عارضی طور پر اجازت دینے کا آپشن فراہم کرتا ہے۔ کسی مقام کی پرمیشن یا تصویر کھنچتے وقت کیمرا کی پرمیشن ، لیکن نہیں چاہتے کہ وہ ایپ دوسرے وقتوں میں کیمرا یا اسٹوریج کا استعمال کرسکے تو اس باؤنسر ایپ کا استعمال کریں۔

ایپ کی معلومات - 👇
🔰 ایپ کا نام: باؤنسر - عارضی اپلی کیشن اجازتیں
پیکیج کا نام: com.samruston.permission
ڈیولپر: سیم روسٹن
اینڈروئیڈ ورژن 7 یا اس سے زائد کے لیے۔

telegram.me/impoinfo
ADGUARD - BLOCK ADS V3.5.32Ƞ [NIGHTLY] [PREMIUM].apk
15.3 MB
ADGUARD - BLOCK ADS V3.5.32Ƞ [NIGHTLY] [PREMIUM].apk


Mod Info:
Premium features unlocked;
No startup with patched watermarks;
Skip startup tutorial.

📁 @IMPOINFO

ایڈ گارڈ پریمیم کا اپڈیٹیڈ ورژن

اس کی جانکاری اس پوسٹ میں دیکھیں:
https://t.me/impoinfo/165
CAMERA TRANSLATOR - TRANSLATE PICTURES V2.8.0 [PRO].apk
43.8 MB
CAMERA TRANSLATOR - TRANSLATE PICTURES V2.8.0 [PRO].apk

کیمرا ، تصاویر اور تصویروں میں لکھے ہوئے الفاظ کا درست اسکین اور ترجمہ کریں
اپنے کیمرا کو مترجم بنائیں
ایک تصویر لیں اور ایک لمحے کے ساتھ اس کا ترجمہ کریں
ترجمہ براہ راست تصویر پر دیا جائے گا

آٹو زبان کا پتہ لگانا
تصویر کا لامحدود ترجمہ
√ جدید ترین OCR ٹکنالوجی
+ 100+ زبانوں کی حمایت کی
√ ترجمہ شدہ متن براہ راست تصویر پر پیش کیا جاتا ہے

مندرجہ ذیل زبانوں کے درمیان ترجمہ کی تائید ہوتی ہے۔
اردو،عربی،آرمینی،بنگالی،چینی،ڈینش،ڈچ،انگریزی(آسٹریلیائی)،انگریزی(کینیڈا)،انگریزی(انڈین)،انگریزی(برطانوی)،انگریزی(امریکی)فرانسیسی،فرانسیسی(کینیڈا)،جرمن،عبرانی،ہندی،تمل،تیلگو،تھائی،ترکی،فارسی،پشتو،ملیالم،مراٹھی،میانمار(برمی)،نیپالی،پرتگالی(برازیل)،اور پنجابی زبانوں کے ساتھ ساتھ مزید سو زبانیں اور بھی
︵︵︵︵︵︵︵︵︵︵︵︵︵︵
📁
https://t.me/impoinfo
︶︶︶︶︶︶︶︶︶︶︶︶︶︶
*ممتاز صحافی اطہر علی ہاشمی انتقال کر گئے*

6 اگست، 2020 www.dawnnews.tv - ویب ڈیسک, انٹرٹینمنٹ ڈیسک کے ذریعہ
44 برس سے صحافت سے وابستہ سینئر صحافی اور روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف اطہر علی ہاشمی کراچی میں انتقال کر گئے۔
ان کی عمر 74 برس تھی، آج صبح فجر کے وقت نیند کی حالت میں وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔
اطہر ہاشمی کے انتقال کی تصدیق ان کے بیٹے حماد علی ہاشمی نے ان کے ہی فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کی۔
وہ نہ صرف اردو کے استاد تھے بلکہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو صحافت کرنا سکھائی۔
ان کا شمار عرب نیوز ویب سائٹ ’اردو نیوز‘ جدہ کے بانیوں میں ہوتا تھا اس کے علاوہ وہ روزنامہ امت کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف بھی بنے، اور روزنامہ جنگ لندن سے بھی وابستہ رہے۔
اطہر علی ہاشمی کو زبان و بیان پر گہری گرفت حاصل تھی۔
ان کا مشہور کالم *’خبر لیجیے زباں بگڑی‘* اردو دانی کے لحاظ سے سند کی حیثیت رکھتا ہے جس میں وہ اردو زبان کی بول چال میں رائج غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی تصیح کرتے تھے۔
اطہر علی ہاشمی کی نماز جنازہ آج دوپہر ڈیڑھ بجے کراچی میں ادا کی گئی۔
‏Source www.dawnnews.tv
http://www.bhatkallys.com/ur/articles/atharhashimi-155/
اطہر ہاشمی بھی رخصت ہوگئے۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل
اسی ہفتے دائرہ علم وادب میں اطہر ہاشمی صاحب کا واٹس اپ نمبر نظر آیا تو بہت حیرت ہوئی، جی چاہا کہ اس ترقی پر آپ کو مبارکباد دی جائے، اور دو روز قبل ان سے فون پر کچھ ہلکی پھلکی ہنسی مذاق کی باتیں ہوئیں، انہوں نے بتایا کہ وہ آفس جارہے ہیں۔ اور یہ کہ انہوں نے اپنی عادتیں نہیں بدلی ہیں، فون کو صرف بات چیت کے لئے استعمال کرتے ہیں،بچے واٹس اپ وغیرہ دیکھ کر بتلاتے ہیں، ان کی باتیں سن کر دل خوش ہوا، وہ بڑی اپنائیت سے بات کررہے تھے، لیکن آج صبح ان کی دائمی جدائی کی خبر آئی تو دل دھک سے بیٹھ گیا، خبر ماننے کو جی نہیں چاہ رہا تھا، عجیب کیفیت ہوئی، لیکن جانے والا اپنے رب کی بارگاہ میں جا چکا تھا۔
جنوری ۲۰۱۵ء سے آپ کے کالم((خبر لیجے زباں بگڑی)) پر نظر پڑنے لگی، یہ ہمیں اتنا پسند آیا جتنا کسی زمانے میں مشفق خواجہ کا کالم سخن در سخن پسند آیا کرتا تھا،اور جس کا انتظار ہوا کرتا تھا،دونوں کا موضوع الگ تھا، لیکن بے ساختگی اور بانکپن میں مماثلت ضرور تھی، یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہمیں سوشل میڈیا کا دور ملا،ایمیل گروپوں ، فیس بک اور واٹس اپ پر ہم نے ان کی پوسٹنگ شروع کردی، اور پابندی سے ترسیل کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران ہم نے اس بات کا اہتمام کیا کہ قارئین کے تاثرات اور تبصروں کو جمع کرکے ہاشمی صاحب کو بھیجتے رہیں، ہاشمی صاحب ایمیل نہیں دیکھتے تھے، رابطہ کے لئے انہوں نے فرائیڈے اسپیشل کے جناب شکیل صاحب سے ملوادیا، جوموصولہ تبصروں کو ہاشمی صاحب تک پہنچاتے تھے۔ اس دوران فرائیڈے اسپیشل کی ویب سائٹس مشکلات سے دوچار رہی تو اہتمام سے اپنے دستیاب کالموں کی انپیج فائل بھجوادی۔
ان سے بات چیت کے بعد گزشتہ دو روز کے اندر ہم نے آپ کو کالموں پر موصولہ چھ تبصرے واٹس اپ سے بھیج دئے تھے، لیکن ان کا جواب کیا آتا؟ آپ کے اس دنیا سے اٹھ جانے کی خبرنے دلوں کو مغموم کردیا، انا للہ والیہ راجعون۔
ایک ڈیڑھ سال قبل انہیں بڑی پریشانیاں ہوئی تھیں، وہ خود سخت بیمار ہوئے، پھر ان کی اہلیہ شدید بیمار ہوئیں تو ٹوٹ سے گئے، بات بات پر کہنے لگے کہ میں نے ان سے کہ دیا ہے کہ زندگی کا ساتھ نہ چھوڑیں، پہلے نہ جائیں۔ کسے معلوم تھا کہ یہ مزاح نہیں تھا، درد دل کی آرزو تھی،جو قبول ہوئی، پھر حالات میں ٹہراؤ آگیا، روازنہ معمولات میں مشغول ہوگئے، بجھتی لو کی طرح جو بجھنے سے پہلے بھڑک اٹھتی ہے۔
ہاشمی صاحب نے زندگی کی ۷۴ بہاریں دیکھیں، غالبا آپ کا جائے پیدائش بلند شہر (بھارت) تھا، تعلیمی مراحل یف سی کالج لاہور، اور کراچی یونیورسٹی میں مکمل کئے۔ صحافت ان کا ترجیحی میدان نہیں تھا، لیکن ۱۹۷۹ء کے حالات میں اتفاقی طور پر انہوں نے جسارت کراچی میں لکھنا شروع کردیا، اور پھر اسی کے اسیر ہوگئے، اس دوران جب جدہ سے اردو نیوز جاری ہوا تو اسلامی فکر سے وابستہ اردو صحافیوں کی ایک ٹیم اس سے وابستہ ہوئی، جب ۱۹۹۰ء میں سعودی عرب میں سعودی نائزیشن شروع ہوا توپھر آپ واپس آکر جسارت سے دوبارہ وابستہ ہوگئے۔ اب کہ وہ اس میں چیف ایڈیٹر کے منصب پر فائز ہوئےاور آخر دم تک اس منصب پر رہے۔ آپ نے جنگ لندن، روزنامہ امت کراچی میں بھی وقتا فوقتا ذمہ داریاں سنبھالیں۔
ہاشمی صاحب سے بالمشافہ ملنے کا ہمیں کبھی اتفاق نہیں ہوا، لیکن جب بھی فون پر بات ہوئی بڑی اپنائیت کا احساس ہوا، وہ بے پناہ سادگی اور بے تکلفی کے عادی تھے، ان کی بے نفسی کا یہ عالم تھا کہ اپنی ذات کے بارے میں کہنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا،ان میں ایک کامیاب استاد اور رہنما کی صفات بہ اتم پائی جاتی تھیں۔ انہوں نے اپنی تربیت میں صحافیوں اور لکھنے والوں کی ایک قطار کھڑی کی ہے، ان کی زندگی ہمیشہ مشعل راہ بن کر آئندہ نسلوں کو روشنی فراہم کرتی رہے گی۔ ایک عظیم انسان ہمارے درمیاں سے اٹھ گیا ہے،اسے دیکھنے والوں کی گواہی ہے کہ اس نے ایک روشن اوراجلی زندگی گزاری، اس کا کردار داغ دھبوں سے پاک تھا، وہ چاہتا تو بہتے دریا میں ہاتھ بھگو سکتا تھا، لیکن اس نے اپنے فرض منصبی کا حق ادا کیا، اب ہم اس کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے دعائیں ہی کرسکتے ہیں۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ۔



2020-08-06
👍1
Audio
غزل
(منظر بھوپالی)
طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
عکس پر نہ اِتراؤ، آئینہ ہمارا ہے

آپ کی غلامی کا، بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے
آبرو سے مرنے کا، فیصلہ ہمارا ہے

عمر بھر تو کوئی بھی، جنگ لڑ نہیں سکتا
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے، تجربہ ہمارا ہے

اپنی رہنمائی پر، اب غرور مت کرنا
آپ سے بہت آگے، نقشِ پا ہمارا ہے

غیرتِ جہاد اپنی، زخم کھا کے جاگے گی
پہلا وار تم کر لو، دوسرا ہمارا ہے
کیا قرآن کریم کی تفسیر و تشریح پر علما کی اجارہ داری ہے؟
(مفتی محمد تقی عثمانی)

بعض لوگ یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ قرآن کریم تمام انسانوں کے لئے ہدایت کی کتاب ہے، لہذا ہر شخص کو اس سے اپنی سمجھ کے موافق فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے اور اس کی تشریح و تفسیر پر صرف علماء کی اجارہ داری قائم نہیں کی جاسکتی۔

یہ انتہائی سطحی اعتراض ہے جسے حقیقت پسندی اور معاملہ فہمی سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ کوئی ماہر قانون یا ڈاکٹر اگر اپنے فن پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو ظاہر ہے اس کا مقصد پوری انسانیت کو فائدہ پہنچانا ہی ہوتا ہے۔ اب اگر ایسا شخص جو ان علوم و فنون کے مبادی سے واقف نہیں ہے، کھڑا ہوکر یہ اعتراض کرنے لگے کہ یہ کتابیں تو پوری انسانیت کے فائدے کے لئے لکھی گئی تھیں ان پر ماہرین قانون اور ڈاکٹروں نے اپنی اجارہ داری کیوں قائم کرلی ہے؟ تو اسکی عقل پر ماتم کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے؟

اگر کسی کتاب سے فائدہ اٹھانے کے لئے اہلیت کی کچھ صفات مقرر کرنا اجارہ داری قائم کرنے کی تعریف میں آتا ہے تو پھر دنیا کے کسی علم و ہنر کو جاہلوں اور اناڑیوں کی دستبرد سے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ کتاب انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہوتی ہیں لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے دو ہی طریقے ہیں یا تو انسان اس علم و فن کو ماہر اساتذہ سے حاصل کرے یا جن لوگوں نے اس علم و فن کو حاصل کرنے کے لئے اپنی عمریں کھپائی ہیں ان میں سے جس پر زیادہ اعتماد ہو اس کی تشریح و تفسیر پر بھروسہ کرے۔

کیا دنیا میں صرف قرآن و سنت ہی (معاذاللہ) ایسے لاوارث رہ گئے ہیں کہ ان سے مسائل مستنبط کرنے کے لئے اہلیت کی کوئی شرط درکار نہیں؟ اور ان پر ہر کس و ناکس مشق ستم کرسکتا ہے؟

[ علوم القرآن ، ص 364 ]

منقول
telegram.me/impoinfo
روحانی تجربہ. ...

کسی کے ساتھ رہنا محض جسمانی (مادی یا فزیکل) تجربہ نہیں بلکہ یہ ایک روحانی ( spirtual , ماورائے بدن ) تجربہ بھی ہے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ محض وقت نہیں بلکہ جذبات، احساسات اور روح بھی بانٹتے ہیں، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے.
A man is known by the company he keeps

ہم شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے ساتھ رہنے بسنے والے لوگوں کا اثر قبول کرتے ہیں. ہماری سوچ اور گفتگو میں ہمارے ماحول کا رنگ نمایاں ہوتا ہے، آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں
علمی ماحول میں پروان چڑھنے والے بچے عموماً لائق اور پڑھنے کے شوقین ملیں گے، ادبی ماحول والے بچے ادب شناس ہوں گے،

گالی گلوچ والے ماحول کا رنگ بھی بچوں پر ویسا ہی اثر ڈالے گا، لڑائی جھگڑے والے گھر میں بچہ ضدی لڑاکا یا گھبرایا سہما نکلے گا

ہماری سوچ ہمارے ماحول میں ایسے ہی سرائیت کرتی ہے جیسے خوشبو ایک جگہ سے چاروں طرف پھیلتی ہے، نمازی پرہیزگار والدین کے بچے عموماً دین بیزار نہیں ہوتے، نرم خو ماں کی بیٹی عموما ترش رو نہیں ہوتی،

بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ رشتہ کرتے ہوئے لڑکی کی ماں کو دیکھو، اس کا مفہوم کیا ہے؟ کہ جس لڑکی نے آپ کے گھر کی بہو/بیوی بننا ہے اور آپ کی آئندہ نسل کی تربیت کرنی ہے اس کی ماں کیسی بہو، کیسی بیوی اور کیسی ماں ہے، ایک سگھڑ ماں کی بیٹی ارادتا کچھ نہ بھی سیکھے سگھڑاپا اس کی گھٹی میں شامل ہو ہی جاتا ہے ..

مثل مشہور ہے. .

باپ پہ بیٹا.،پتا پہ گھوڑا
بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا

بس یہی سوچ کر اپنے آپ پر نظر ڈالیں. . آپ اپنی اولاد سے جو توقع کرتے ہیں ویسا خود بن کر دکھائیں. بچے آپ کا آئینہ ہیں. وہ آپ کی مثال سے سیکھتے ہیں. .
آپ قرآن سکھائیں یا لغو گفتگو. .
لطائف یا وظائف. ,یا گالم گلوچ..
یہ آپ کے اپنے ظرف پر منحصر ہے. ...

اور صرف اولاد ہی کیوں ,زندگی کا ہم سفر بھی آپ کو جیسا درکار ہے آپ خود ویسے ہی بن جائیں کچھ ہی عرصے میں آپ کا ساتھی آپ کے من چاہے روپ میں آپ کے سامنے ہو گا ..

بسا اوقات ہم جس سے کوئی خونی رشتہ نہیں رکھتے محض اک رابطہ رکھتے ہیں کبھی دل کا کبھی خیال کا ،خواب کا یا گفتگو کا. .اس کا روحانی اثر ہم قبول کرتے ہیں .. اور اس رنگ میں رنگتے چلے جاتے ہیں

اسی طرح آپ اپنے نیٹ فرینڈز پر نظر ڈالیں. .جن کے ساتھ آپ دن کا کچھ یا بیشتر حصہ گزارتے ہیں ..ان کی باتوں کا جواب دیتے ہیں. ان کے سوالات پر غور کرتے ہیں. ان سے آرٹیکلز، ویڈیوز یا آڈیوز کا تبادلہ کرتے ہیں. .

یہ سب آپ کی شخصیت و کردار سازی کا حصہ ہے ..یہ تربیت آپ خود حاصل کر رہے ہیں. ..
گویا آج کا دور تربیت کے لحاظ سے تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہے . ذرا چوکے اور زمیں بوس ہوئے. . غور کریں کہ آپ کی تربیت میں کس کا حصہ زیادہ ہے. اور وہ آپ کی کن خطوط پر ذہن و کردارسازی کر رہا ہے. .

بس اس ساری تحریر کا لب لباب یہ ہے کہ اب ہماری ذہنی و روحانی تربیت صرف ہمارے والدین نہیں کر رہے ہیں، بلکہ والدین کے ساتھ ساتھ گھریلو ماحول، سکول، دوست، معاشرہ اور سب سے اہم سوشل میڈیا ہماری ذہنی و روحانی تربیت کا ذمہ دار ہے، میرے خیال میں سوشل میڈیا کا کردار 50 فیصد اور باقی تمام عوامل مل کر 50 فیصد رول ادا کر رہے ہیں.

انجام کار ہماری اپنی انگلی کا شعوری ٹچ ہماری تربیت کر رہا ہے .. رکیں. . ٹھہریں. . احتساب کریں. . اپنی کمپنی کا سوچ سمجھ کر انتخاب کریں.

📚✍🏻...منقول

اسلامی فکر

t.me/impoinfo
حضرت سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ

حضرت عتبہ اُن بزرگوں میں ہیں جنہوں نے ابتدأ ہی میں داعیٔ توحید کو لبیک کہا اور مسلمان ہو گئے۔تیر اندازی کے لحاظ سے آپ کا شمار کاملینِ فن میں تھا۔ ۱۴ ہجری میں خلیفہ دوم نے آپ کو بندرگاہ ابلہ بلسان اور اس کے ملحقہ مقامات کی فتح پر مامور فرمایا۔ حضرت عتبہؓ نے اِس مہم کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ حضرت عمرؓ کے ہی حکم سے حضرت عتبہؓ نے آٹھ سو آدمیوں کے ساتھ شہر بصرہ کی داغ بیل ڈالی، ہر قبیلہ کے لیے ایک ایک محلّہ مخصوص کر دیا۔ اِس نئے شہر کے سب سے پہلے والی بھی حضرت عتبہؓ ہی مقرر ہوئے۔
تقویٰ ، زہد، جفاکشی اور خاکساری آپ کے خصوصی اوصاف ہیں۔ آپؓ نے بصرہ کی جامع مسجد میں ایک خطبہ دیا تھا، یہاں اُس کے چند فقرے نقل کیے جاتے ہیں۔ اس سے آپ کے خوفِ قیامت ، زہد اور خاکساری کا اندازہ ہوگا:
’’صاحبو! دُنیا گزر جانے والی، آنے جانے والی ہے۔ اس کا بڑا حصہ گزر چکا ہے اور اب اُس کا تھوڑا حصہ باقی ہے جس طرح کہ برتن کا پانی پھینک دینے کے بعد آخر میں کچھ دیر تک قطرات کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔ ہاں تم اِس دنیا سے ایک دوسری جگہ منتقل ہونے والے ہو جس کو کبھی زوال نہیں، تو پھر کیوں نہیں اپنے ساتھ بہتر سے بہتر تحائف لے جاتے ہو؟ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ اگر پتھر کا کوئی ٹکڑا جہنم کے کنارے سے لڑھکایا جائے تو ستّر برس میں بھی وہ اُس کی گہرائی کو طے نہیں کر سکتا۔ لیکن اللہ کی قسم! تم اُس جہنم کو بھر دو گے۔ کیا تم اِس پر تعجّب کرتے ہوئے؟
اللہ کی قسم مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہوں گے کہ چالیس سال میں اُس کی مسافت طے ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک دن ایسا بھی آئے گا جب کہ اُن پر سخت ازدحام ہوگا۔ میں جب ایمان لایا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف چھ آدمی تھے، عسرت و ناداری کی یہ حالت تھی کہ درخت کے پتوں پر گزارہ تھا جس سے آنتوں میں زخم پڑ جاتے تھے۔ مجھے ایک دفعہ ایک چادر مل گئی جس کو چاک کر کے میں نے اور سعد نے تہبند بنایا۔ لیکن ایک دن یہ بھی آیا کہ جب ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا امیر ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ اُس کے نزدیک حقیر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بڑا سمجھوں۔ نبوت ختم ہو چکی ہے، انجام کار بادشاہت قائم ہو گی اور تم عنقریب ہمارے بعد امیروں کو آزماؤ گے۔
(سیر الصحابہؓ ج۲ مہاجرین حصہ اول ص ۴۱۷)
۱۷ ہجری میں وفات ہوئی۔ نور اللہ مرقدہ

ناشر:ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo

https://chirpwire.net/Wire/v/13952