سرور Serverکیا ہوتا ہے؟ اور یہ کیسے کام کرتا ہے
✍️ ابو صارم
آپ روزانہ مختلف ویب سائیٹس وزٹ کرتے ہوں گے آپ نے محسوس کیا ہوگا کچھ ویب سائیٹس بہت تیزی سے کھلتی ہیں اور کچھ ویب سائیٹس کے کھلنے کی سپیڈ بہت کم ہوتی ہے اور کچھ ویب سائیٹ تو کھلتی ہی نہیں ہیں اورآپ سمجھ جاتے ہیں کہ اس ویب سائیٹ کا سرور ڈاؤن ہے یا اس ویب سائیٹ کے سرور میں کچھ مسئلہ آ رہا ہے۔آخر یہ سرور کیا ہوتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے۔ جب آپ یو ٹیوب پر کوئی ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں یا فیس بک پر کوئی پوسٹ کرتے ہیں یا کوئی امیج اپ لوڈ کرتے ہیں یا اپنی سائیٹ پر کوئی پوسٹ کرتے ہیں تو یہ کہیں نہ کہیں ذخیرہ ہو رہا ہوتا ہے۔ جیسے آپ اپنے کمپیوٹر میں مختلف قسم کی چیزیں جیسے آڈیو، فائلز، ویڈیو محفوظ کرتے ہیں تو سب آپ کی ہارڈ ڈسک میں جمع ہو رہا ہوتا ہے اور اگر آپ اپنی ہارڈ ڈسک میں بہت سی چیزیں سٹور کریں اور ہارڈ ڈسک کو بھر دیں تو آپ محسوس کریں گے آپ کا کمپیوٹر سست ہو گیا ہے، اسی طرح سرور بھی ایک ایسی ہی فزیکل ڈیوائس ہے جو مختلف کیپسٹی کی ہوتی ہے، اس میں بھی کمپیوٹر کی طرح ریم، سٹوریج، پروسسر، جو کچھ آپ اپنے کمپیوٹر میں دیکھتے ہیں یا لیپ ٹاپ میں دیکھتے ہیں وہی کچھ سرور میں بھی ہوتا ہے ،اور آپ چاہیں تو اپنے کمپییوٹر اور لیپ ٹاپ کو بھی ایک سرور کہہ سکتے ہیں، سرور مختلف چیزیوں کے مجموعہ سے بنتا ہے جیسے ایک تو وہ ہارڈ وئیر ہوتا ہے جس میں ریم سٹوریج اور پروسسر وغیرہ ہوتا ہے، دوسرا اس میں آپریٹنگ سسٹم ہوتا ہے جیسے ونڈوز، لائینکس، وغیرہ ۔ اس کے علاوہ تیسری چیز اس میں ہوتی ہے ایج ٹی ٹی پی سافٹ وئیریا ( ہائیپر ٹیکسٹ ٹرانسفر پروٹوکول) یہ ایک سافٹ وئیر ہوتا ہے جو سرور میں انسٹال کیا جاتا ہے ، ہارڈ وئیر آپریٹنگ سسٹم ،اور ایج ٹی ٹی پی سافٹ وئیر ان تین چیزوں کو ملا کر جو چیز بنے گی اس کو ہم سرور کہتے ہیں۔
جہاں سرور رکھا گیا ہوتا ہے اسے ڈیٹا سنٹر کہا جاتا ہے، اگر اس ڈیٹا سنٹر میں اس سرور میں کوئی مسئلہ آ جائے یا کوئی ٹیکنیکل فالٹ آ جائے تو سرور ڈاؤن ہو جاتا ہے اور اگر اس سرور کی ریم کم ہے اور بہت زیادہ لوگ اس انفارمیشن کو دیکھنا چاہ رہے جو اس سرور میں محفوظ ہے تو سرور سست ہو جاتاہے۔ ہر ایک ویب سائٹس اپنے کسی سرور پر محفوظ ہوتا ہے۔ جب ہم کوئی ویب سائٹ ڈیزائن کرتے ہیں تو لوگوں کو اس ویب سائٹ تک رسائی دینے کے لیے ہمیں ویب سائٹ کی بنی سبھی فائلوں کو کسی سرور پر اپ لوڈ کرنا پڑتا تب ہی جا کر وہ پوری دنیا کے لیے آن لائن ہو جاتی ہے۔ اپنی ویب سائٹ کی فائلوں کو کسی سرور پر ڈالنے کے لیے ہمیں سرور کی سروس پہچانے والی کمپنی کی ضرورت ہوتی ہے جسے ہم سالانہ یا اس سے زائد مدّت کی فیس ادا کر کے اس کے سرور پر اپنی ویب سائٹ کی فائلوں کو اپلوڈ کرتے ہیں۔ جب ویب سائٹ کی ویب ایڈرس جیسے www.websitename.com کو کوئی سرچ کرتا ہے تو اس ویب سائٹ کی تمام فائلیں اس سرور سے فورا ہمارے کمپیوٹر میں لوڈ ہو کر ویب پیج میں نظر آ جاتی ہیں۔ اسی طرح کسی آن لائن ایپ، یا میسنجر ایپ وغیرہ کسی نہ کسی سرور سے مربوط ہوتا جہاں سارے لوگوں کی بھیجی تحریریں، فائلیں، آڈیوز، ویڈیوز، تصویریں وغیرہ محفوظ ہوتی ہیں۔ اور جب ہم جیسے ہیں ڈاؤنلوڈ بٹن پر کلک کرتے ہیں تو وہ فائلیں اس سرور سے فورا ہمارے کمپیوٹر یا موبائل کی اسٹوریج میں آجاتا ہے۔
پیشکش: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
گروہی گفتگو کے لیے ہمارا ٹیلی گرام گروپ
t.me/grpimpoinfo
✍️ ابو صارم
آپ روزانہ مختلف ویب سائیٹس وزٹ کرتے ہوں گے آپ نے محسوس کیا ہوگا کچھ ویب سائیٹس بہت تیزی سے کھلتی ہیں اور کچھ ویب سائیٹس کے کھلنے کی سپیڈ بہت کم ہوتی ہے اور کچھ ویب سائیٹ تو کھلتی ہی نہیں ہیں اورآپ سمجھ جاتے ہیں کہ اس ویب سائیٹ کا سرور ڈاؤن ہے یا اس ویب سائیٹ کے سرور میں کچھ مسئلہ آ رہا ہے۔آخر یہ سرور کیا ہوتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے۔ جب آپ یو ٹیوب پر کوئی ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں یا فیس بک پر کوئی پوسٹ کرتے ہیں یا کوئی امیج اپ لوڈ کرتے ہیں یا اپنی سائیٹ پر کوئی پوسٹ کرتے ہیں تو یہ کہیں نہ کہیں ذخیرہ ہو رہا ہوتا ہے۔ جیسے آپ اپنے کمپیوٹر میں مختلف قسم کی چیزیں جیسے آڈیو، فائلز، ویڈیو محفوظ کرتے ہیں تو سب آپ کی ہارڈ ڈسک میں جمع ہو رہا ہوتا ہے اور اگر آپ اپنی ہارڈ ڈسک میں بہت سی چیزیں سٹور کریں اور ہارڈ ڈسک کو بھر دیں تو آپ محسوس کریں گے آپ کا کمپیوٹر سست ہو گیا ہے، اسی طرح سرور بھی ایک ایسی ہی فزیکل ڈیوائس ہے جو مختلف کیپسٹی کی ہوتی ہے، اس میں بھی کمپیوٹر کی طرح ریم، سٹوریج، پروسسر، جو کچھ آپ اپنے کمپیوٹر میں دیکھتے ہیں یا لیپ ٹاپ میں دیکھتے ہیں وہی کچھ سرور میں بھی ہوتا ہے ،اور آپ چاہیں تو اپنے کمپییوٹر اور لیپ ٹاپ کو بھی ایک سرور کہہ سکتے ہیں، سرور مختلف چیزیوں کے مجموعہ سے بنتا ہے جیسے ایک تو وہ ہارڈ وئیر ہوتا ہے جس میں ریم سٹوریج اور پروسسر وغیرہ ہوتا ہے، دوسرا اس میں آپریٹنگ سسٹم ہوتا ہے جیسے ونڈوز، لائینکس، وغیرہ ۔ اس کے علاوہ تیسری چیز اس میں ہوتی ہے ایج ٹی ٹی پی سافٹ وئیریا ( ہائیپر ٹیکسٹ ٹرانسفر پروٹوکول) یہ ایک سافٹ وئیر ہوتا ہے جو سرور میں انسٹال کیا جاتا ہے ، ہارڈ وئیر آپریٹنگ سسٹم ،اور ایج ٹی ٹی پی سافٹ وئیر ان تین چیزوں کو ملا کر جو چیز بنے گی اس کو ہم سرور کہتے ہیں۔
جہاں سرور رکھا گیا ہوتا ہے اسے ڈیٹا سنٹر کہا جاتا ہے، اگر اس ڈیٹا سنٹر میں اس سرور میں کوئی مسئلہ آ جائے یا کوئی ٹیکنیکل فالٹ آ جائے تو سرور ڈاؤن ہو جاتا ہے اور اگر اس سرور کی ریم کم ہے اور بہت زیادہ لوگ اس انفارمیشن کو دیکھنا چاہ رہے جو اس سرور میں محفوظ ہے تو سرور سست ہو جاتاہے۔ ہر ایک ویب سائٹس اپنے کسی سرور پر محفوظ ہوتا ہے۔ جب ہم کوئی ویب سائٹ ڈیزائن کرتے ہیں تو لوگوں کو اس ویب سائٹ تک رسائی دینے کے لیے ہمیں ویب سائٹ کی بنی سبھی فائلوں کو کسی سرور پر اپ لوڈ کرنا پڑتا تب ہی جا کر وہ پوری دنیا کے لیے آن لائن ہو جاتی ہے۔ اپنی ویب سائٹ کی فائلوں کو کسی سرور پر ڈالنے کے لیے ہمیں سرور کی سروس پہچانے والی کمپنی کی ضرورت ہوتی ہے جسے ہم سالانہ یا اس سے زائد مدّت کی فیس ادا کر کے اس کے سرور پر اپنی ویب سائٹ کی فائلوں کو اپلوڈ کرتے ہیں۔ جب ویب سائٹ کی ویب ایڈرس جیسے www.websitename.com کو کوئی سرچ کرتا ہے تو اس ویب سائٹ کی تمام فائلیں اس سرور سے فورا ہمارے کمپیوٹر میں لوڈ ہو کر ویب پیج میں نظر آ جاتی ہیں۔ اسی طرح کسی آن لائن ایپ، یا میسنجر ایپ وغیرہ کسی نہ کسی سرور سے مربوط ہوتا جہاں سارے لوگوں کی بھیجی تحریریں، فائلیں، آڈیوز، ویڈیوز، تصویریں وغیرہ محفوظ ہوتی ہیں۔ اور جب ہم جیسے ہیں ڈاؤنلوڈ بٹن پر کلک کرتے ہیں تو وہ فائلیں اس سرور سے فورا ہمارے کمپیوٹر یا موبائل کی اسٹوریج میں آجاتا ہے۔
پیشکش: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
گروہی گفتگو کے لیے ہمارا ٹیلی گرام گروپ
t.me/grpimpoinfo
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
❤1
الحمد للہ پلس میسنجر کو اردو میں ترجمہ کرنے کا کام اب سے کچھ دیر قبل تکمیل کو پہنچا۔ اب بس منظوری کی دیر ہے۔
زبانوں کی فہرست میں ہماری ❤پیاری اردو زبان❤ بھی نظر آئے گی۔ ان شاء اللہ
—— ابو صارم
26 جولائی 2020، رات 2 بج کر 18 منٹ
@impoinfo
زبانوں کی فہرست میں ہماری ❤پیاری اردو زبان❤ بھی نظر آئے گی۔ ان شاء اللہ
—— ابو صارم
26 جولائی 2020، رات 2 بج کر 18 منٹ
@impoinfo
❤1
تذکرہ علماء ربانیین
سلسلہ ❻ قسط ❸
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
(مسلمانوں کی عظیم الشان تنظیم)
حکومتِ ہند کے انتظامات
ڈاکٹر ہنٹر لکھتاہے:
" ۱۸۶۷ ء میں سر ہنری لارنس نے یہ کاروائی قلمبند کی کہ مولانا ولایت علی اور مولانا عنایت علی پنجاب میں 'غازئ دین' اور مجاہد اسلام کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کو اپنے مکانوں میں نظر بند رکھا جائے پٹنہ کے مجسٹریٹ نے ان سے ضمانت لی اور جماعت کے دوسرے بہت سے دولت مند ارکان سے بھی نیک چلنی کے مچلکے لیے۔
لیکن ۱۸۵۰ء میں ان کو جنوبی بنگال کے ضلع راج شاہی میں بغاوت کی تبلیغ کرتے ہوئے پایا جاتا ہے جہاں ان سے حفظ امن کی ضمانتیں لی گئیں اور دوبارہ تبلیغ کرنے کی وجہ سے ان کا دو مرتبہ ضلع اس خراج ہوا۔
۱۸۵۱ء میں سید صاحب کے یہی خلفاء جو اپنے سحر میں نظر بند تھے سرحد پر بغاوت پھیلانے کی تبلیغ کرتے ہوئے پٹنہ میں پائے گئے۔ ۱۸۵۲ء میں نے ان کو اپنی تجویز میں بہت کچھ کامیابی ہوئی آدمی اور روپیہ ستھانہ کیمپ کثرت سے بھیجے گئے اور پنجاب کے حکام نے ہماری فوجوں سے ان کی ایک باغیانہ خط و کتابت پکڑی، ان کے پیشواؤں نے ہماری چوتھی فوج سے سازباز کرنے کی بڑی مشاقی سے کوشش کی جو راولپنڈی میں باغیوں کے کیمپ سے بہت قریب ٹھہری ہوئی تھی اور اس رجمنٹ کا جزو تھی جو ہمارے صوبہ پر حملہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی خطوط سے ثابت ہوتا ہے کہ بنگال سے باغیوں کے کیمپ کو آدمی اور اسلحہ بھیجنے کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ قائم ہے، اسی زمانہ ۱۹, اگست ۱۸۵۲ء میں پٹنہ کے مجسٹریٹ نے رپورٹ کی کہ باغی جماعت اور باغیانہ خیالات ترقی پر ہے۔ انگریزی صوبہ کے دارالسلطنت (پٹنہ) کے خاص باشندے علانیہ بغاوت کی تبلیغ کرتے ہیں پولیس بھی ان سے ملی ہوئی ہے اور ان کے ایک سردار (مولوی احمد اللہ) صاحب نے اپنے مکان میں سات سو آدمیوں کے ایک جلسہ میں اعلان کیا کہ اگر مجسٹریٹ کی طرف سے مزید تلاشی ہوئی تو ہم ہتھیاروں سے مقابلہ کریں گے۔
حکومت برطانیہ اب زیادہ دنوں تک اپنے علاقہ میں ایک باغیانہ ادارہ کی طرف سے چشم پوشی نہیں کرسکتی تھی۔ ۱۸۵۲ء کی فصل خزاں میں لارڈ ڈلہوزی نے دو اہم کاروائیاں قلم بند کیں۔ انہوں نے اندرونی ادارہ کی پوری نگرانی اور ان سرحدی قبائل کے خلاف مہم بھیجنے کی ہدایت کی جن کی کافروں کے ساتھ وہمی نفرت کو ہندوستانی مجنونوں نے ہوا دے کر مشتعل کردیا تھا، اسی سال انہوں نے ہمارے حلیف امبؔ کے رئیس پر حملہ کیا اور ہم کو ایک برطانوی فوج اس کی امداد کے لئے بھیجنی پڑی، ۱۸۵۳ء میں ہمارے متعدد دیسی سپاہی باغیوں سے خط و کتابت کرنے کے جرم میں ماخوذ ہوئے۔
✦حکومت کے جارحانہ اقدام اور ۱۸۵۷۔۶۰ ء کی سرحدی جنگیں✦
۱۸۵۰ء اور ۱۸۵۷ء کے درمیان سرحدی خلفشار کی وجہ سے ہم کو اپنی اپنی علیحدہ سولہ مہمیں بھیجنی پڑیں جس میں تینتیس ہزار باقاعدہ سپاہی تھے اور ۱۸۵۰ء اور ۱۸۶۳ء کے درمیان علیحٰدہ علیحٰدہ مہموں کی تعداد بیس کو پہنچ گئی، جن باقاعدہ مددگاروں اور پولیس کے علاوہ ساٹھ ہزار باقاعدہ سپاہی تھے،
اس دوران ستھانہ کیمپ دائمی تعصب اور مذہبی اشتعال کے باوجود عاقلانہ طریقہ پر ہماری فوجوں سے براہ راست الجھنے سے مجتنب رہا، وہ ہوشیاری کے ساتھ ہمارے خلاف قبائل کی امداد کرتا رہا اور ان کو اشتعال دلاتا رہا لیکن ان لوگوں کو اپنا نقصان برداشت کرتے ہوئے ہم سے جنگ کرنے کی جرأت نہ ہوئی، ۱۸۵۷ء میں انہوں نے علانیہ ہم سے جنگ چھیڑ دی اور اپنی دیدہ دلیری سے ہم سے جزیہ کا مطالبہ کیا، مطالبہ نامنظور ہونے کے بعد وہ دلیرانہ ہمارے علاقہ پر اتر آئے اور انھوں نے لفٹیننٹ ہارن کے کیمپ پر ایک شب خوں مارا،
(جاری)
قسط ❹ پڑھیں
https://t.me/impoinfo
سلسلہ ❻ قسط ❸
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
(مسلمانوں کی عظیم الشان تنظیم)
حکومتِ ہند کے انتظامات
ڈاکٹر ہنٹر لکھتاہے:
" ۱۸۶۷ ء میں سر ہنری لارنس نے یہ کاروائی قلمبند کی کہ مولانا ولایت علی اور مولانا عنایت علی پنجاب میں 'غازئ دین' اور مجاہد اسلام کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کو اپنے مکانوں میں نظر بند رکھا جائے پٹنہ کے مجسٹریٹ نے ان سے ضمانت لی اور جماعت کے دوسرے بہت سے دولت مند ارکان سے بھی نیک چلنی کے مچلکے لیے۔
لیکن ۱۸۵۰ء میں ان کو جنوبی بنگال کے ضلع راج شاہی میں بغاوت کی تبلیغ کرتے ہوئے پایا جاتا ہے جہاں ان سے حفظ امن کی ضمانتیں لی گئیں اور دوبارہ تبلیغ کرنے کی وجہ سے ان کا دو مرتبہ ضلع اس خراج ہوا۔
۱۸۵۱ء میں سید صاحب کے یہی خلفاء جو اپنے سحر میں نظر بند تھے سرحد پر بغاوت پھیلانے کی تبلیغ کرتے ہوئے پٹنہ میں پائے گئے۔ ۱۸۵۲ء میں نے ان کو اپنی تجویز میں بہت کچھ کامیابی ہوئی آدمی اور روپیہ ستھانہ کیمپ کثرت سے بھیجے گئے اور پنجاب کے حکام نے ہماری فوجوں سے ان کی ایک باغیانہ خط و کتابت پکڑی، ان کے پیشواؤں نے ہماری چوتھی فوج سے سازباز کرنے کی بڑی مشاقی سے کوشش کی جو راولپنڈی میں باغیوں کے کیمپ سے بہت قریب ٹھہری ہوئی تھی اور اس رجمنٹ کا جزو تھی جو ہمارے صوبہ پر حملہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی خطوط سے ثابت ہوتا ہے کہ بنگال سے باغیوں کے کیمپ کو آدمی اور اسلحہ بھیجنے کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ قائم ہے، اسی زمانہ ۱۹, اگست ۱۸۵۲ء میں پٹنہ کے مجسٹریٹ نے رپورٹ کی کہ باغی جماعت اور باغیانہ خیالات ترقی پر ہے۔ انگریزی صوبہ کے دارالسلطنت (پٹنہ) کے خاص باشندے علانیہ بغاوت کی تبلیغ کرتے ہیں پولیس بھی ان سے ملی ہوئی ہے اور ان کے ایک سردار (مولوی احمد اللہ) صاحب نے اپنے مکان میں سات سو آدمیوں کے ایک جلسہ میں اعلان کیا کہ اگر مجسٹریٹ کی طرف سے مزید تلاشی ہوئی تو ہم ہتھیاروں سے مقابلہ کریں گے۔
حکومت برطانیہ اب زیادہ دنوں تک اپنے علاقہ میں ایک باغیانہ ادارہ کی طرف سے چشم پوشی نہیں کرسکتی تھی۔ ۱۸۵۲ء کی فصل خزاں میں لارڈ ڈلہوزی نے دو اہم کاروائیاں قلم بند کیں۔ انہوں نے اندرونی ادارہ کی پوری نگرانی اور ان سرحدی قبائل کے خلاف مہم بھیجنے کی ہدایت کی جن کی کافروں کے ساتھ وہمی نفرت کو ہندوستانی مجنونوں نے ہوا دے کر مشتعل کردیا تھا، اسی سال انہوں نے ہمارے حلیف امبؔ کے رئیس پر حملہ کیا اور ہم کو ایک برطانوی فوج اس کی امداد کے لئے بھیجنی پڑی، ۱۸۵۳ء میں ہمارے متعدد دیسی سپاہی باغیوں سے خط و کتابت کرنے کے جرم میں ماخوذ ہوئے۔
✦حکومت کے جارحانہ اقدام اور ۱۸۵۷۔۶۰ ء کی سرحدی جنگیں✦
۱۸۵۰ء اور ۱۸۵۷ء کے درمیان سرحدی خلفشار کی وجہ سے ہم کو اپنی اپنی علیحدہ سولہ مہمیں بھیجنی پڑیں جس میں تینتیس ہزار باقاعدہ سپاہی تھے اور ۱۸۵۰ء اور ۱۸۶۳ء کے درمیان علیحٰدہ علیحٰدہ مہموں کی تعداد بیس کو پہنچ گئی، جن باقاعدہ مددگاروں اور پولیس کے علاوہ ساٹھ ہزار باقاعدہ سپاہی تھے،
اس دوران ستھانہ کیمپ دائمی تعصب اور مذہبی اشتعال کے باوجود عاقلانہ طریقہ پر ہماری فوجوں سے براہ راست الجھنے سے مجتنب رہا، وہ ہوشیاری کے ساتھ ہمارے خلاف قبائل کی امداد کرتا رہا اور ان کو اشتعال دلاتا رہا لیکن ان لوگوں کو اپنا نقصان برداشت کرتے ہوئے ہم سے جنگ کرنے کی جرأت نہ ہوئی، ۱۸۵۷ء میں انہوں نے علانیہ ہم سے جنگ چھیڑ دی اور اپنی دیدہ دلیری سے ہم سے جزیہ کا مطالبہ کیا، مطالبہ نامنظور ہونے کے بعد وہ دلیرانہ ہمارے علاقہ پر اتر آئے اور انھوں نے لفٹیننٹ ہارن کے کیمپ پر ایک شب خوں مارا،
(جاری)
قسط ❹ پڑھیں
https://t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | Important Info
تذکرہ علماء ربانیین
سلسلہ ❻ قسط ❹
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
۱۸/اکتوبر ۱۸۶۳ء کو ایک برطانوی فوج سات ہزار سپاہیوں کی سرنیول چیمبرلین کی قیادت میں سرحد کو روانہ ہوئی علاقہ میں پہنچ کر جنرل کو معلوم ہوا کہ قبائل حریف سے مل گئے ہیں، حکومت…
سلسلہ ❻ قسط ❹
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
۱۸/اکتوبر ۱۸۶۳ء کو ایک برطانوی فوج سات ہزار سپاہیوں کی سرنیول چیمبرلین کی قیادت میں سرحد کو روانہ ہوئی علاقہ میں پہنچ کر جنرل کو معلوم ہوا کہ قبائل حریف سے مل گئے ہیں، حکومت…
ذبح کے وقت جانور کے سامنے کھڑے رہیں
Mufti Syed Adnan Kakakhyel
عنوان: قربانی خود اپنے ہاتھوں سے کریں
🔹 اپنے بچوں کی پرورش فارمی چوزوں کی طرح نہ کریں بلکہ ان کو جفاکش مجاہد بنائیں۔ (حضرت مفتی سید عدنان کاکاخیل دامت برکاتہم)
@impoinfo
🔹 اپنے بچوں کی پرورش فارمی چوزوں کی طرح نہ کریں بلکہ ان کو جفاکش مجاہد بنائیں۔ (حضرت مفتی سید عدنان کاکاخیل دامت برکاتہم)
@impoinfo
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
حصہ: ❶ ہم اپنے فون کی سیکیورٹی کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہے؟ یہ کچھ طریقہ ہیں جن سے کافی حد تک ہم اپنے فون کی سیکیورٹی کومحفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ❶ اپنے ایپس اور فون میں پاسورڈ کا استعمال کریں! ❷ سیکیورٹی ایپس کو فون میں اور انیٹی وائیرس کو لیپ ٹاپ اور پی، سی…
حصہ ❶ 👈 : یہاں لمس کیجئے!
حصہ ❷ 👇
ہم اپنے فون کی سیکیورٹی کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہے؟
❶ پبلک وائی فائی "WiFi" کا استعمال نہ کریں! یہ آپ کے ذاتی WIFI سے کہیں زیادہ خطرناک ہے! اس لیئے کہ آپ نہیں جانتے اسکا سورس کہاں سے ہے، اور کون کون استعمال کر رہا ہے اور درمیان میں کوئی ہیکر بھی ہو سکتا ہے، جو آپ کے ڈیٹا کو بآسانی بائی پاس کر سکتا ہے۔
❷ اپنے فون نمبر کو تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پرائیویٹ رکھئے! اور جس بھی اکاؤنٹ کو آپ نے اپنے فون نمبر سے منسلک کیا ہوا ہے وہاں "ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن" کو آن رکھئے۔
❸ اپنے فون پر موجود ایپس کو چیک کریں کہ آیا انہیں ضرورت سے زیادہ اجازت حاصل تو نہیں؟ مطلب جس ایپ کو آپ کے میڈیا کی ضرورت ہے وہ آپ کی لوکیشن، کیمرا،کانٹیکٹ کی پرمیشن بلا وجہ لے کر نہیں نہ بیٹھا! اگر ایسا ہے تو فورا غیر ضروری پرمیشن کو بند کیجئے۔
❹ فون اور اپنے باقی آلات کو چارج کرنے کے لیئے اپنا ذاتی یو ایس بی کیبل/ایڈاپٹر یا کوئی معتبر کیبل/ایڈاپٹر ہی استعمال کریجئے۔ ہیکر آپ کے یو ایس بی کیبل/اڈاپٹر کے ذریعہ آپ کے فون کے ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے اور فون کو لاک بھی کر سکتا ہے۔
یہ حملہ اکثر عوامی چارجنگ اسٹیشن! جیسے ریلوے اسٹیشن، بس اسٹیشین اور ایرپورٹ وغیرہ پر عام طور پر ہوتے ہیں۔
اس لیئے سفر وغیرہ میں اپنا ذاتی چارجر ساتھ رکھیں اور اسی کو استعمال کریں۔
ضروری معلومات چینل : @impoinfo
ضروری معلومات گروپ: @grpimpoinfo
حصہ ❷ 👇
ہم اپنے فون کی سیکیورٹی کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہے؟
❶ پبلک وائی فائی "WiFi" کا استعمال نہ کریں! یہ آپ کے ذاتی WIFI سے کہیں زیادہ خطرناک ہے! اس لیئے کہ آپ نہیں جانتے اسکا سورس کہاں سے ہے، اور کون کون استعمال کر رہا ہے اور درمیان میں کوئی ہیکر بھی ہو سکتا ہے، جو آپ کے ڈیٹا کو بآسانی بائی پاس کر سکتا ہے۔
❷ اپنے فون نمبر کو تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پرائیویٹ رکھئے! اور جس بھی اکاؤنٹ کو آپ نے اپنے فون نمبر سے منسلک کیا ہوا ہے وہاں "ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن" کو آن رکھئے۔
❸ اپنے فون پر موجود ایپس کو چیک کریں کہ آیا انہیں ضرورت سے زیادہ اجازت حاصل تو نہیں؟ مطلب جس ایپ کو آپ کے میڈیا کی ضرورت ہے وہ آپ کی لوکیشن، کیمرا،کانٹیکٹ کی پرمیشن بلا وجہ لے کر نہیں نہ بیٹھا! اگر ایسا ہے تو فورا غیر ضروری پرمیشن کو بند کیجئے۔
❹ فون اور اپنے باقی آلات کو چارج کرنے کے لیئے اپنا ذاتی یو ایس بی کیبل/ایڈاپٹر یا کوئی معتبر کیبل/ایڈاپٹر ہی استعمال کریجئے۔ ہیکر آپ کے یو ایس بی کیبل/اڈاپٹر کے ذریعہ آپ کے فون کے ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے اور فون کو لاک بھی کر سکتا ہے۔
یہ حملہ اکثر عوامی چارجنگ اسٹیشن! جیسے ریلوے اسٹیشن، بس اسٹیشین اور ایرپورٹ وغیرہ پر عام طور پر ہوتے ہیں۔
اس لیئے سفر وغیرہ میں اپنا ذاتی چارجر ساتھ رکھیں اور اسی کو استعمال کریں۔
ضروری معلومات چینل : @impoinfo
ضروری معلومات گروپ: @grpimpoinfo
چینل سے متعلق اپنے تاثرات یا چینل کی مزید بہتری کے لیے اپنی رائے دینے کے لیے منتظمین سے بذریعہ رابطہ بوٹ رابطہ کریں:
@ask4infobot
@ask4infobot
#Youtube_Data_Usage
✍: محمد سیف
جب ہم یوٹیوب کا استعمال کرتے ہیں تو ہمارا ڈیٹا ویڈیوز کی کوالیٹی کے اعتبار سے ختم ہوتا ہے، یعنی جس کوالیٹی کی ویڈیو ہوگی اسی کے اعتبار سے ڈیٹا ختم ہوگا!
ڈیٹا ختم ہونے کی مختصر اور "ضروری معلومات"! 👇
❶ ویڈیو کی کوالیٹی: 144P
1 منٹ = 3 ایم بی ڈیٹا خرچ
1 گھنٹہ = 80 ایم بی ڈیٹا خرچ
❷ ویڈیو کی کوالیٹی: 240P
ایک منٹ = 3.3 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 200 ایم بی ڈیٹا خرچ
❸ ویڈیو کی کوالیٹی: 360P
ایک منٹ = 5 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 300 ایم بی ڈیٹا خرچ
❹ ویڈیو کی کوالیٹی: 480P
ایک منٹ = 8.3 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 500 ایم بی ڈیٹا خرچ
❺ ویڈیو کی کوالیٹی: 720P
ایک منٹ = 25 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 1.5 جی بی ڈیٹا خرچ
❻ ویڈیو کی کوالیٹی: 1080P
ایک منٹ = 50 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 3 جی بی ڈیٹا خرچ
https://t.me/impoinfo
https://t.me/grpimpoinfo
✍: محمد سیف
جب ہم یوٹیوب کا استعمال کرتے ہیں تو ہمارا ڈیٹا ویڈیوز کی کوالیٹی کے اعتبار سے ختم ہوتا ہے، یعنی جس کوالیٹی کی ویڈیو ہوگی اسی کے اعتبار سے ڈیٹا ختم ہوگا!
ڈیٹا ختم ہونے کی مختصر اور "ضروری معلومات"! 👇
❶ ویڈیو کی کوالیٹی: 144P
1 منٹ = 3 ایم بی ڈیٹا خرچ
1 گھنٹہ = 80 ایم بی ڈیٹا خرچ
❷ ویڈیو کی کوالیٹی: 240P
ایک منٹ = 3.3 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 200 ایم بی ڈیٹا خرچ
❸ ویڈیو کی کوالیٹی: 360P
ایک منٹ = 5 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 300 ایم بی ڈیٹا خرچ
❹ ویڈیو کی کوالیٹی: 480P
ایک منٹ = 8.3 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 500 ایم بی ڈیٹا خرچ
❺ ویڈیو کی کوالیٹی: 720P
ایک منٹ = 25 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 1.5 جی بی ڈیٹا خرچ
❻ ویڈیو کی کوالیٹی: 1080P
ایک منٹ = 50 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 3 جی بی ڈیٹا خرچ
https://t.me/impoinfo
https://t.me/grpimpoinfo
👍1
🧿معارف الحدیث 🧿
کتاب: کتاب الایمان
باب: ایمان میں خرابی ڈالنے والے اخلاق و اعمال
حدیث نمبر: 48
عَنْ أَوْسِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
ترجمہ:
اوس بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کے لئے ، اور اس کا ساتھ دینے کے لئے چلا اور اُس کو اس بات کا علم تھا کہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا ۔
تشریح:
جب ظلم کا ساتھ دینا ، اور ظالم کو ظالم جانتے ہوئے اُس کی کسی قسم کی مدد کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کو اسلام سے نکل جانے والا قرار دیا ہے ، تو سمجھا جا سکتا ہے کہ خود ظلم ایمان و اسلام کے کس قدر منافی ہے ، اور اللہ و رسول کے نزدیک ظالموں کا کیا درجہ ہے ۔
t.me/impoinfo
کتاب: کتاب الایمان
باب: ایمان میں خرابی ڈالنے والے اخلاق و اعمال
حدیث نمبر: 48
عَنْ أَوْسِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
ترجمہ:
اوس بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے کہ جو شخص کسی ظالم کی مدد کے لئے ، اور اس کا ساتھ دینے کے لئے چلا اور اُس کو اس بات کا علم تھا کہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا ۔
تشریح:
جب ظلم کا ساتھ دینا ، اور ظالم کو ظالم جانتے ہوئے اُس کی کسی قسم کی مدد کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کو اسلام سے نکل جانے والا قرار دیا ہے ، تو سمجھا جا سکتا ہے کہ خود ظلم ایمان و اسلام کے کس قدر منافی ہے ، اور اللہ و رسول کے نزدیک ظالموں کا کیا درجہ ہے ۔
t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
السلام علیکم
الحمد للہ پلس میسنجر کے بِیٹا ورژن میں اردو زبان کو شامل کر دیا گیا۔ اس بات کی خبر چند منٹ قبل پلس میسنجر کے ڈیوولپر Rafalanse نے مجھے پرسنل چیٹ میں دی۔ اگر آپ لوگ بھی پلس میسنجر کو اردو میں استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اسے یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں:
ابوصارم
https://t.me/impoinfo/699
الحمد للہ پلس میسنجر کے بِیٹا ورژن میں اردو زبان کو شامل کر دیا گیا۔ اس بات کی خبر چند منٹ قبل پلس میسنجر کے ڈیوولپر Rafalanse نے مجھے پرسنل چیٹ میں دی۔ اگر آپ لوگ بھی پلس میسنجر کو اردو میں استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اسے یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں:
ابوصارم
https://t.me/impoinfo/699
Requested Apps Channel
اس چینل میں آپ کو کئی کار آمد ایپس مل جائیں گی، ساتھ ہی ان ایپ کی خصوصیات اور استعمال کا طریقہ بھی لکھ دیا گیا۔ اس چینل کے منتظم تک بذریعہ رابطہ بوٹ کسی ایپ کو حاصل کرنے کی درخواست بھی دے سکتے ہیں۔، پرو ورژن اور فل ورژن ایپ بھی یہاں مل جاتی ہیں۔
━═━═━═━═━═━═━═━═━
⇉⇉For Pro,Premium and Requested Apps Channel
━═━═━═━═━═━═━═━═━
https://t.me/RequestedApps
اس چینل میں آپ کو کئی کار آمد ایپس مل جائیں گی، ساتھ ہی ان ایپ کی خصوصیات اور استعمال کا طریقہ بھی لکھ دیا گیا۔ اس چینل کے منتظم تک بذریعہ رابطہ بوٹ کسی ایپ کو حاصل کرنے کی درخواست بھی دے سکتے ہیں۔، پرو ورژن اور فل ورژن ایپ بھی یہاں مل جاتی ہیں۔
━═━═━═━═━═━═━═━═━
⇉⇉For Pro,Premium and Requested Apps Channel
━═━═━═━═━═━═━═━═━
https://t.me/RequestedApps
Telegram
٭Requested Apps٭
━═━═━═━═━═━═━═━═━
⇉⇉For Pro,Premium and Requested Apps Channel
Your Request at here ☞ @Your_Requestbot
━═━═━═━═━═━═━═━═━
⇉⇉For Pro,Premium and Requested Apps Channel
Your Request at here ☞ @Your_Requestbot
━═━═━═━═━═━═━═━═━
پلس میسنجر کو تو میں نے تنہا ہی ترجمہ کر لیا۔ لیکن اس کے علاوہ ٹیلی گرام آفیشیل کو ترجمہ کرنے میں محترم راہی حجازی، زبیر رشید خان، ابو عامر، محمد احتشام، محمد ابان برادران کا مکمل تعاون رہا۔
اسی طرح ٹیلی گراف کو ترجمہ کرنے میں مذکورہ بالا افراد کے علاوہ رضا قادری مصباحی اور حاکم اعظمی بھائیوں کا بھی بھرپور ساتھ رہا۔ ٹیلی گراف کے ترجمہ کی فائلیں اس کے ڈیوولپر کو جمع کردی گئی ہیں، اس کا کچھ کام باقی ہے امید ہے کہ اگلے ماہ تک اس کا بھی کام مکمل ہو جائے۔
ٹیلی گرام آفیشیل کے تعلق سے افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک اس نے اردو زبان کو اپنے اپلیکیشن میں شامل نہیں کیا ہے، اس لیے ہم ابھی لنک کے ذریعہ ہی اردو زبان کا استعمال کر پا رہے ہیں۔
ٹیلی گرام آفیشیل کے کارکنان سے رابطہ بہت مشکل سے ہو پاتا ہے۔ ان کو پیغام پہنچائے کئی مہینے ہو گئے لیکن ابھی تک وہ پیغام دیکھا بھی نہیں گیا ہے۔ دعا کریں کہ ہم تمام لوگوں کی دن رات کی محنت تکمیل کو پہنچے اور ٹیلی گرام، ٹیلی گراف اور پلس میسنجر کے ڈیوولپر حضرات اردو کو بھی زبانوں کی فہرست میں شامل کر لے۔
——————
ابو صارم
اسی طرح ٹیلی گراف کو ترجمہ کرنے میں مذکورہ بالا افراد کے علاوہ رضا قادری مصباحی اور حاکم اعظمی بھائیوں کا بھی بھرپور ساتھ رہا۔ ٹیلی گراف کے ترجمہ کی فائلیں اس کے ڈیوولپر کو جمع کردی گئی ہیں، اس کا کچھ کام باقی ہے امید ہے کہ اگلے ماہ تک اس کا بھی کام مکمل ہو جائے۔
ٹیلی گرام آفیشیل کے تعلق سے افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک اس نے اردو زبان کو اپنے اپلیکیشن میں شامل نہیں کیا ہے، اس لیے ہم ابھی لنک کے ذریعہ ہی اردو زبان کا استعمال کر پا رہے ہیں۔
ٹیلی گرام آفیشیل کے کارکنان سے رابطہ بہت مشکل سے ہو پاتا ہے۔ ان کو پیغام پہنچائے کئی مہینے ہو گئے لیکن ابھی تک وہ پیغام دیکھا بھی نہیں گیا ہے۔ دعا کریں کہ ہم تمام لوگوں کی دن رات کی محنت تکمیل کو پہنچے اور ٹیلی گرام، ٹیلی گراف اور پلس میسنجر کے ڈیوولپر حضرات اردو کو بھی زبانوں کی فہرست میں شامل کر لے۔
——————
ابو صارم
پلس میسنجر(Plus Messenger) ایپ میں اردو زبان کو شامل کر دیے جانے کے تعلق سے ذاتی چیٹ میں ہوئی ایک گفتگو کی نقل
ابوالبُشریٰ
اَلسَّلَامُ عَلَيْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَڪَاتُهٗ
ابوصارم بھائی! دل کی گہرائیوں سے آپ کا اور آپ کی ٹیم کا بہت شکریہ 🌹❤️
بھائی دل خوش کردیا آپ نے۔
یعنی کہ ایپ میں جس طرح دیگر زبانیں ہیں، اردو کو بھی وہی حیثیت مل گئی؟؟
ابو صارم
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ
جی محترم پلس میسنجر میں اردو زبان شامل کر دی گئی ہے۔ فی الحال اسے Beta بی ٹا ورژن میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹیسٹنگ کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اس کے بعد Stable ورژن میں بھی شامل کر دی جائے گی۔
اگلے ماہ ٹیلی گراف میں بھی اس زبان کو شامل کر دینے کا امکان ہے۔
ابوالبُشریٰ
بہت عمدہ ماشاءاللہ!
آپ اگر کوشش کرسکتے ہوں تو یہ کیجئے گا کہ اپلیکیشن میں اردو زبان ہر جگہ پر ہو۔ جیسے گوگل پر ہوتی ہے۔بالخصوص ہندسے... پلیز اس کا ضرور خیال رکھوائیے گا۔چلیے جی اب تو ہم بھی کہہ سکتےہیں کہ ہماری پیاری زبان کو بھی حیثیت دیدی گئی۔
میرے بھائی آپ اور آپ کی ٹیم کے لئے بہت بہت مبارک ہو، آفرین صد آفرین 🌹 دل کتنا خوش ہوا ہے میں بتا نہیں سکتا۔
خوش نصیبی کی بات یہ کی پاکستان کے لوگ بھی یہ کام نہ کراسکے حالانکہ وہاں تو سرکاری زبان ہے یہ۔۔۔۔🌹❤️
ابو صارم
جی جی ۔۔۔۔ اس بات کا ملال ہے کہ پاکستان کے افراد نے اس تعلق سے دلچسپی نہیں دکھائی۔ جب کہ ٹیلی گرام آفیشیل کے ترجمہ کا کام کے لیے پاکستان کا مشہور فورم’’اردو محفل ‘‘ میں بھی آواز لگائی تھی اس امید کے ساتھ کہ وہاں سے بھرپور تعاون ملے گا، لیکن کوئی خاص جواب نہیں ملا۔
ویسے اردو محفل والوں نے ہمارے دوسرے کام میں کئی بار مدد بھی کی ہے۔
ہندسے کو ترجمہ کرنا ممکن نہیں ہے کیوں کہ ترجمہ کے کام میں ہندسے کو پیش ہی نہیں کیا گیا۔ لہٰذا وقت اور تاریخ ہمیں انگریزی میں ہی دکھائی دے گی۔
ابوالبُشریٰ
جی میں وہی تو کہہ رہاہوں کہ اتنا بڑا کام کیا آپ لوگوں نے، بھلا کوئی بھی کچھ قربانی کہاں دینا چاہتاہے، بس ہر آدمی سوچتا ہے کہ کرا کرایا مل جائے۔
لیکن بھائی میں ان میں سے نہیں ہوں، کیونکہ آپکا پیغام پڑھا تو خیال آیا کہ کاش میں بھی ان لوگوں کی کچھ مدد کرتا، مگر میں اردو کو پسند تو کرتاہوں، مگر زیادہ اچھی اردو نہیں جانتا۔
ابوالبُشریٰ
بھائی یہ چیز مزا کرکرا کردیتی ہے، خاص طور پر نستعلیق فونٹ میں انگریزی ہندسے آنکھوں میں چھبتے ہیں۔
خیر!...
ابو صارم
اس کام کے لیے بہت اچھی اردو جاننا یہ بھی ضروری نہیں، بس انگریزی سمجھ جانے والا بندہ یہ کام بآسانی کر سکتا ہے۔ آدھا کام تو گوگل ٹرانسلیشن سے ہو جاتا ہے پھر جملے کو ترتیب دینا اور الفاظ کی درستگی وہ تھوڑی بہت اردو کا سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی کر سکتا ہے۔
الحمدللہ اس کام کا آغاز کرنے کے بعد میرا حوصلہ اور بلند ہو گیا۔ ٹیلی گرام آفیشیل کو ترجمہ کرنے کے بعد ہم لوگوں نے فوری گرام کو ترجمہ کیا تھا، اس کے بعد ٹیلی گرام کے کئی بوٹس کو اردو میں ترجمہ کیا جس میں سب سے پہلے گروپ بٹلر بوٹ کو ترجمہ کیا گیا۔ جس میں راہی حجازی بھائی کا بھرپور تعاون رہا، اگر وہ نہ ہوتے تو شاید میں قدم آگے نہ بڑھاتا۔ راہی بھائی کے بعد زبیر رشید خان، پھر محمد احتشام، ابو عامر آئے اور یہ ایک ٹیم بن گئی۔گروپ ہیلپ بوٹ کو بھی میں نے اکیلے ہی ترجمہ کر ڈالا۔ اس کے بعد شینا بوٹ اور وائسی بوٹ کو بھی میں نے ہی ترجمہ کیا۔ اور اب پلس میسنجر
آئیندہ Briar App کو ترجمہ کرنے کا کام ہے۔ اس کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔
در اصل جب کسی ایپ میں اپنی زبان کو نہیں دیکھتا ہوں تو کافی برا لگتا ہے اور افسوس بھی کہ انگریزی کے علاوہ دوسری زبانیں کس طرح شامل ہو جاتی ہیں، آپ کوئی بھی ایپ چیک کر لیں اس میں انگریزی کے علاوہ دیگر زبانیں مل جائیں گی۔ اس کا مطلب کہ اس زبان والے اپنی زبان کو فروغ دینے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، لیکن افسوس ہوتا ہے تو اپنی زبان کے تعلق سے۔ اردو اکاڈمیاں قائم ہیں اردو کو فروغ دینے کے لیے ادارے بنائے گئے ہیں لیکن اس طرف کسی کی فکر و نظر نہیں ہے۔ آج جب کہ موبائل فون اکثریت کی ضرورت بن گئی ہے۔ اور اس میں مختلف قسم کی ایپس لوگ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن وہی انگریزی یا ہندی زبان میں۔ آخر اگر اپنی اردو زبان کو ہم نہیں اپنائیں گے تو کون اپنائے گا۔ آپ دیکھ لیں یہودیوں کو ان کو اپنی عبرانی زبان سے کتنی محبت ہے۔ ان کے سارے کام کاج میں عبرانی زبان ہی استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح چین والے، فرانس والے اور ترکی والے ہر جگہ اپنی زبان کو استعمال کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ لیکن انگریزوں کی غلامی میں رہی قوم ابھی تک غلامی سے نہیں نکل سکی، اور اردو زبان کو اپنے لیے استعمال کرنا عار سمجھتی ہے۔
بقیہ اگلی پوسٹ میں 👇
ابوالبُشریٰ
اَلسَّلَامُ عَلَيْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَڪَاتُهٗ
ابوصارم بھائی! دل کی گہرائیوں سے آپ کا اور آپ کی ٹیم کا بہت شکریہ 🌹❤️
بھائی دل خوش کردیا آپ نے۔
یعنی کہ ایپ میں جس طرح دیگر زبانیں ہیں، اردو کو بھی وہی حیثیت مل گئی؟؟
ابو صارم
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ
جی محترم پلس میسنجر میں اردو زبان شامل کر دی گئی ہے۔ فی الحال اسے Beta بی ٹا ورژن میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹیسٹنگ کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اس کے بعد Stable ورژن میں بھی شامل کر دی جائے گی۔
اگلے ماہ ٹیلی گراف میں بھی اس زبان کو شامل کر دینے کا امکان ہے۔
ابوالبُشریٰ
بہت عمدہ ماشاءاللہ!
آپ اگر کوشش کرسکتے ہوں تو یہ کیجئے گا کہ اپلیکیشن میں اردو زبان ہر جگہ پر ہو۔ جیسے گوگل پر ہوتی ہے۔بالخصوص ہندسے... پلیز اس کا ضرور خیال رکھوائیے گا۔چلیے جی اب تو ہم بھی کہہ سکتےہیں کہ ہماری پیاری زبان کو بھی حیثیت دیدی گئی۔
میرے بھائی آپ اور آپ کی ٹیم کے لئے بہت بہت مبارک ہو، آفرین صد آفرین 🌹 دل کتنا خوش ہوا ہے میں بتا نہیں سکتا۔
خوش نصیبی کی بات یہ کی پاکستان کے لوگ بھی یہ کام نہ کراسکے حالانکہ وہاں تو سرکاری زبان ہے یہ۔۔۔۔🌹❤️
ابو صارم
جی جی ۔۔۔۔ اس بات کا ملال ہے کہ پاکستان کے افراد نے اس تعلق سے دلچسپی نہیں دکھائی۔ جب کہ ٹیلی گرام آفیشیل کے ترجمہ کا کام کے لیے پاکستان کا مشہور فورم’’اردو محفل ‘‘ میں بھی آواز لگائی تھی اس امید کے ساتھ کہ وہاں سے بھرپور تعاون ملے گا، لیکن کوئی خاص جواب نہیں ملا۔
ویسے اردو محفل والوں نے ہمارے دوسرے کام میں کئی بار مدد بھی کی ہے۔
ہندسے کو ترجمہ کرنا ممکن نہیں ہے کیوں کہ ترجمہ کے کام میں ہندسے کو پیش ہی نہیں کیا گیا۔ لہٰذا وقت اور تاریخ ہمیں انگریزی میں ہی دکھائی دے گی۔
ابوالبُشریٰ
جی میں وہی تو کہہ رہاہوں کہ اتنا بڑا کام کیا آپ لوگوں نے، بھلا کوئی بھی کچھ قربانی کہاں دینا چاہتاہے، بس ہر آدمی سوچتا ہے کہ کرا کرایا مل جائے۔
لیکن بھائی میں ان میں سے نہیں ہوں، کیونکہ آپکا پیغام پڑھا تو خیال آیا کہ کاش میں بھی ان لوگوں کی کچھ مدد کرتا، مگر میں اردو کو پسند تو کرتاہوں، مگر زیادہ اچھی اردو نہیں جانتا۔
ابوالبُشریٰ
بھائی یہ چیز مزا کرکرا کردیتی ہے، خاص طور پر نستعلیق فونٹ میں انگریزی ہندسے آنکھوں میں چھبتے ہیں۔
خیر!...
ابو صارم
اس کام کے لیے بہت اچھی اردو جاننا یہ بھی ضروری نہیں، بس انگریزی سمجھ جانے والا بندہ یہ کام بآسانی کر سکتا ہے۔ آدھا کام تو گوگل ٹرانسلیشن سے ہو جاتا ہے پھر جملے کو ترتیب دینا اور الفاظ کی درستگی وہ تھوڑی بہت اردو کا سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی کر سکتا ہے۔
الحمدللہ اس کام کا آغاز کرنے کے بعد میرا حوصلہ اور بلند ہو گیا۔ ٹیلی گرام آفیشیل کو ترجمہ کرنے کے بعد ہم لوگوں نے فوری گرام کو ترجمہ کیا تھا، اس کے بعد ٹیلی گرام کے کئی بوٹس کو اردو میں ترجمہ کیا جس میں سب سے پہلے گروپ بٹلر بوٹ کو ترجمہ کیا گیا۔ جس میں راہی حجازی بھائی کا بھرپور تعاون رہا، اگر وہ نہ ہوتے تو شاید میں قدم آگے نہ بڑھاتا۔ راہی بھائی کے بعد زبیر رشید خان، پھر محمد احتشام، ابو عامر آئے اور یہ ایک ٹیم بن گئی۔گروپ ہیلپ بوٹ کو بھی میں نے اکیلے ہی ترجمہ کر ڈالا۔ اس کے بعد شینا بوٹ اور وائسی بوٹ کو بھی میں نے ہی ترجمہ کیا۔ اور اب پلس میسنجر
آئیندہ Briar App کو ترجمہ کرنے کا کام ہے۔ اس کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔
در اصل جب کسی ایپ میں اپنی زبان کو نہیں دیکھتا ہوں تو کافی برا لگتا ہے اور افسوس بھی کہ انگریزی کے علاوہ دوسری زبانیں کس طرح شامل ہو جاتی ہیں، آپ کوئی بھی ایپ چیک کر لیں اس میں انگریزی کے علاوہ دیگر زبانیں مل جائیں گی۔ اس کا مطلب کہ اس زبان والے اپنی زبان کو فروغ دینے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، لیکن افسوس ہوتا ہے تو اپنی زبان کے تعلق سے۔ اردو اکاڈمیاں قائم ہیں اردو کو فروغ دینے کے لیے ادارے بنائے گئے ہیں لیکن اس طرف کسی کی فکر و نظر نہیں ہے۔ آج جب کہ موبائل فون اکثریت کی ضرورت بن گئی ہے۔ اور اس میں مختلف قسم کی ایپس لوگ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن وہی انگریزی یا ہندی زبان میں۔ آخر اگر اپنی اردو زبان کو ہم نہیں اپنائیں گے تو کون اپنائے گا۔ آپ دیکھ لیں یہودیوں کو ان کو اپنی عبرانی زبان سے کتنی محبت ہے۔ ان کے سارے کام کاج میں عبرانی زبان ہی استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح چین والے، فرانس والے اور ترکی والے ہر جگہ اپنی زبان کو استعمال کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ لیکن انگریزوں کی غلامی میں رہی قوم ابھی تک غلامی سے نہیں نکل سکی، اور اردو زبان کو اپنے لیے استعمال کرنا عار سمجھتی ہے۔
بقیہ اگلی پوسٹ میں 👇
ابوالبُشریٰ
جی بالکل بھائی۔ظاہر ہے اس کیلئے ہم محبان اردو کو ہی پیش قدمی کرنا ہوگی۔ ورنہ بھلا کسی دوسرے کو کیا پڑی ہے کہ وہ ہماری زبان شامل کرے۔اور یہ درست کہا کہ ہندی(و دیگر زبان) والے محنت کرتے ہونگے اس کے لئے۔
ابو صارم
جی بالکل صرف ایک ایپ کی بات نہیں کئی سافٹ وئیر اور ایپس ہیں لیکن آپ کو سبھی میں انگریزی کے علاوہ دیگر زبانیں مل جاتی ہیں اگر نہیں ملتی تو بس اپنی اردو۔
ابوالبُشریٰ
بھائی یہ بھی تو ہے نا! کہ ہم اردو والے بہت کم انگلش جانتےہیں، جسکی وجہ سے مالکان ایپلیکیشنز سے بات نہیں کرپاتے۔خدا اپ آپ کو اجر جزیل عطاء فرمائے کہ آپ نے اس کام کا بیڑا اٹھایا 🌹
ابوالبُشریٰ
اور یہ میں بنیادی وجہ سمجھتاہوں، کیونکہ میں بتاؤں کہ میں نے کئی بار مالکان ایپلیکیشنز سے بات کرنا چاہی مگر انگلش زبان نہیں جانتا۔
ابو صارم
ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم میں انگریزی جاننے والے نہیں جو اپلیکیشنز کے مالکان سے انگریزی میں بات نہ کر سکیں۔ بس بات ہے اس طرف توجہ دینے کی، یہ کام بہت ہی آسان ہے اگر 20، 25 لوگوں کی ایک ٹیم بن جائے۔
ابوالبُشریٰ
تو بھائی اگر یہ کام آسان ہے تو کام کا آسان طریقۂ کار متعین کرکے، کیوں نہ اس کیلئے ایک ٹیم تشکیل دیدی جائے؟ کیا خیال کیا ہے آپ کا؟
ابو صارم
ٹیم تو بن چکی ہے جن میں کام کرنے والے تقریباً ۸ افراد ہیں۔ ٹیم میں ایسے افراد کی بھی ضرورت ہے جو بے تکلف ہو کر انگریزی میں بات کرنا جانتے ہوں۔ میری انگریزی بھی بہت اچھی نہیں ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ڈیولپر سے بات کر لیتے ہوں، بعض دفعہ اپنی کسی بات کو ڈیولپر کو کہنا چاہتا ہوں لیکن الفاظ نہیں ملتے۔
ابوالبُشریٰ
ہاں جی بس یہی تو مسئلہ ہے انگلش والا۔ خیر جاننے والے اس سلسلے میں پیش رفت کریں تو کچھ بات بنے۔انگلش کے علاوہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے گا۔
ابو صارم
ضرور ان شاء اللہ
ابوالبُشریٰ
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے افراد کی قلت ہے جو انگلش میں ماہر ہونے کے باوجود اردو لکھنا، بولنا فطری طور پر پسند کرتے ہوں۔ آپ کو بہت سارے مل جائیں گے جو اردو میں بھی ماہر اور انگلش میں بھی۔ مگر وہ انگلش میں مہارت کے بعد بھلا اردو لکھنے، بولنے کی بے وقوفی کیوں کریں۔ پھر وہ ہر جگہ انگلش ہی جھاڑتے پھرتے ہیں، اور اپنی اردو دانی پر وہ شرمندہ سے رہتےہیں۔ یہ ہے اصل وجہ! ۔ لوگوں کو اردو کا ذوق نہیں رہا ہے۔بقول آپ کے غلامی میں سب کچھ بھول گئے۔۔۔۔ ویا اسفا!
ابو صارم
ترجمہ کے کام میں ایک دقت یہ بھی ہے کہ اسے موبائل میں کیا جانا مشکل ہے، ترجمہ کا کام ان ویب سائٹس پر ہوتا ہے جو ڈیسک ٹاپ پر کھلتی ہیں۔ اس وجہ سے بھی بہت سارے لوگ تعاون نہیں کر پاتے ہیں۔
میں نے اکثر ترجمہ کا کام transifex.com میں کیا ہے۔ جو کہ ڈیسک ٹاپ ویب براؤزر میں ہی کھلتی ہیں، ترجمہ کے کام میں جو لوگ شریک نہیں ہو سکتے وہ یہ کام کر سکتے ہیں کہ جو جملے ترجمہ کر دئے گئے ہیں انہیں وہ لائک یا ڈِس لائک کر سکتے ہیں یا اپنی رائے دے سکتے ہیں کہ اس جملہ کی جگہ یہ جملہ یا لفظ بہتر ہو گا۔
ابوالبُشریٰ
جی جی۔۔۔۔۔۔۔ بالکل! یہ وجہ بھی بڑی وجہ ہے۔
جی بالکل بھائی۔ظاہر ہے اس کیلئے ہم محبان اردو کو ہی پیش قدمی کرنا ہوگی۔ ورنہ بھلا کسی دوسرے کو کیا پڑی ہے کہ وہ ہماری زبان شامل کرے۔اور یہ درست کہا کہ ہندی(و دیگر زبان) والے محنت کرتے ہونگے اس کے لئے۔
ابو صارم
جی بالکل صرف ایک ایپ کی بات نہیں کئی سافٹ وئیر اور ایپس ہیں لیکن آپ کو سبھی میں انگریزی کے علاوہ دیگر زبانیں مل جاتی ہیں اگر نہیں ملتی تو بس اپنی اردو۔
ابوالبُشریٰ
بھائی یہ بھی تو ہے نا! کہ ہم اردو والے بہت کم انگلش جانتےہیں، جسکی وجہ سے مالکان ایپلیکیشنز سے بات نہیں کرپاتے۔خدا اپ آپ کو اجر جزیل عطاء فرمائے کہ آپ نے اس کام کا بیڑا اٹھایا 🌹
ابوالبُشریٰ
اور یہ میں بنیادی وجہ سمجھتاہوں، کیونکہ میں بتاؤں کہ میں نے کئی بار مالکان ایپلیکیشنز سے بات کرنا چاہی مگر انگلش زبان نہیں جانتا۔
ابو صارم
ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم میں انگریزی جاننے والے نہیں جو اپلیکیشنز کے مالکان سے انگریزی میں بات نہ کر سکیں۔ بس بات ہے اس طرف توجہ دینے کی، یہ کام بہت ہی آسان ہے اگر 20، 25 لوگوں کی ایک ٹیم بن جائے۔
ابوالبُشریٰ
تو بھائی اگر یہ کام آسان ہے تو کام کا آسان طریقۂ کار متعین کرکے، کیوں نہ اس کیلئے ایک ٹیم تشکیل دیدی جائے؟ کیا خیال کیا ہے آپ کا؟
ابو صارم
ٹیم تو بن چکی ہے جن میں کام کرنے والے تقریباً ۸ افراد ہیں۔ ٹیم میں ایسے افراد کی بھی ضرورت ہے جو بے تکلف ہو کر انگریزی میں بات کرنا جانتے ہوں۔ میری انگریزی بھی بہت اچھی نہیں ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ڈیولپر سے بات کر لیتے ہوں، بعض دفعہ اپنی کسی بات کو ڈیولپر کو کہنا چاہتا ہوں لیکن الفاظ نہیں ملتے۔
ابوالبُشریٰ
ہاں جی بس یہی تو مسئلہ ہے انگلش والا۔ خیر جاننے والے اس سلسلے میں پیش رفت کریں تو کچھ بات بنے۔انگلش کے علاوہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے گا۔
ابو صارم
ضرور ان شاء اللہ
ابوالبُشریٰ
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے افراد کی قلت ہے جو انگلش میں ماہر ہونے کے باوجود اردو لکھنا، بولنا فطری طور پر پسند کرتے ہوں۔ آپ کو بہت سارے مل جائیں گے جو اردو میں بھی ماہر اور انگلش میں بھی۔ مگر وہ انگلش میں مہارت کے بعد بھلا اردو لکھنے، بولنے کی بے وقوفی کیوں کریں۔ پھر وہ ہر جگہ انگلش ہی جھاڑتے پھرتے ہیں، اور اپنی اردو دانی پر وہ شرمندہ سے رہتےہیں۔ یہ ہے اصل وجہ! ۔ لوگوں کو اردو کا ذوق نہیں رہا ہے۔بقول آپ کے غلامی میں سب کچھ بھول گئے۔۔۔۔ ویا اسفا!
ابو صارم
ترجمہ کے کام میں ایک دقت یہ بھی ہے کہ اسے موبائل میں کیا جانا مشکل ہے، ترجمہ کا کام ان ویب سائٹس پر ہوتا ہے جو ڈیسک ٹاپ پر کھلتی ہیں۔ اس وجہ سے بھی بہت سارے لوگ تعاون نہیں کر پاتے ہیں۔
میں نے اکثر ترجمہ کا کام transifex.com میں کیا ہے۔ جو کہ ڈیسک ٹاپ ویب براؤزر میں ہی کھلتی ہیں، ترجمہ کے کام میں جو لوگ شریک نہیں ہو سکتے وہ یہ کام کر سکتے ہیں کہ جو جملے ترجمہ کر دئے گئے ہیں انہیں وہ لائک یا ڈِس لائک کر سکتے ہیں یا اپنی رائے دے سکتے ہیں کہ اس جملہ کی جگہ یہ جملہ یا لفظ بہتر ہو گا۔
ابوالبُشریٰ
جی جی۔۔۔۔۔۔۔ بالکل! یہ وجہ بھی بڑی وجہ ہے۔