ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
Photo
VPN (Virtual Private Network)
IP (Internet Protocol)
وی پی این کو استعمال کرنے سے کیا فائدہ ہے؟
بہت سے احباب نے اس کے متعلق پوچھا ہے کہ ہم وی پی این کا استعمال کیوں کریں!
تو آئیے ہم اسے آسان لفظوں میں سمجھتے ہیں!
اوپر جو تصویر دی ہوئی ہے اسمیں دو حصے ہیں، پہلی تصویر کو نمبر ❶ سے اور دوسری تصویر کو نمبر ❷ سے ظاہر کیا گیا ہے۔
❶ میں جو تصویر ہے میں نے اس میں "وی پی این" کا استعمال کیا ہے! وی پی این کا استعمال کرنے سے فائدہ یہ ہوا کہ نہ تو میری اصل "آئی پی" ظاہر ہوئی نا ہی میری "آئی ایس پی" اور نہ ہی میری اصل لوکیشن ظاہر ہوئی! جسے کوئی بھی مجھے آسانی سے ٹریس نہیں کر سکتا، اور نا ہی انٹرنیٹ پر کوئی میری ایکٹی وٹی کو دیکھ سکتا ہے۔
❷ میں جو تصویر ہے وہ بغیر وی پی این کے ہے، اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اسمیں میری تمام معلومات کھلم کھلا سامنے ہیں جیسے! میری آئی پی، میری آئی ایس پی، میرا شہر، میرا اسٹیٹ، اور میرا ملک تمام چیزیں بالکل سامنے ہیں اب اگر کوئی مجھے ٹریس کرنا چاہے یا کوئی میری ایکٹی وٹی کو دیکھنا چاہے تو آرام سے دیکھ سکتا ہے، اور اگر وہ میری آئی پی کے ذریعہ مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو آرام سے پہنچا سکتا ہے۔
اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ انٹرنیٹ پر ہماری معلومات کس حد تک محفوظ ہیں؟ اور کیا ہماری ان سب ذاتی معلومات کا انٹرنیٹ پر سرعام کھلم کھلا موجود ہونا ہمارے لیے خطرہ نہیں؟ اور یہ ابھی صرف اوپری حصہ ہے اندر کیا کیا موجود ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے! بس میرا مشورہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر جتنی دیر بھی رہیں احتیاط سے رہیں۔
یہ کچھ "ضروری معلومات" ہیں وی پی این سے متعلق، ان شاءاللہ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ وی پی این کا استعمال کیوں ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے! 🌹
چینل: @impoinfo
گروپ: @grpimpoinfo
IP (Internet Protocol)
وی پی این کو استعمال کرنے سے کیا فائدہ ہے؟
بہت سے احباب نے اس کے متعلق پوچھا ہے کہ ہم وی پی این کا استعمال کیوں کریں!
تو آئیے ہم اسے آسان لفظوں میں سمجھتے ہیں!
اوپر جو تصویر دی ہوئی ہے اسمیں دو حصے ہیں، پہلی تصویر کو نمبر ❶ سے اور دوسری تصویر کو نمبر ❷ سے ظاہر کیا گیا ہے۔
❶ میں جو تصویر ہے میں نے اس میں "وی پی این" کا استعمال کیا ہے! وی پی این کا استعمال کرنے سے فائدہ یہ ہوا کہ نہ تو میری اصل "آئی پی" ظاہر ہوئی نا ہی میری "آئی ایس پی" اور نہ ہی میری اصل لوکیشن ظاہر ہوئی! جسے کوئی بھی مجھے آسانی سے ٹریس نہیں کر سکتا، اور نا ہی انٹرنیٹ پر کوئی میری ایکٹی وٹی کو دیکھ سکتا ہے۔
❷ میں جو تصویر ہے وہ بغیر وی پی این کے ہے، اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اسمیں میری تمام معلومات کھلم کھلا سامنے ہیں جیسے! میری آئی پی، میری آئی ایس پی، میرا شہر، میرا اسٹیٹ، اور میرا ملک تمام چیزیں بالکل سامنے ہیں اب اگر کوئی مجھے ٹریس کرنا چاہے یا کوئی میری ایکٹی وٹی کو دیکھنا چاہے تو آرام سے دیکھ سکتا ہے، اور اگر وہ میری آئی پی کے ذریعہ مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو آرام سے پہنچا سکتا ہے۔
اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ انٹرنیٹ پر ہماری معلومات کس حد تک محفوظ ہیں؟ اور کیا ہماری ان سب ذاتی معلومات کا انٹرنیٹ پر سرعام کھلم کھلا موجود ہونا ہمارے لیے خطرہ نہیں؟ اور یہ ابھی صرف اوپری حصہ ہے اندر کیا کیا موجود ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے! بس میرا مشورہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر جتنی دیر بھی رہیں احتیاط سے رہیں۔
یہ کچھ "ضروری معلومات" ہیں وی پی این سے متعلق، ان شاءاللہ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ وی پی این کا استعمال کیوں ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے! 🌹
چینل: @impoinfo
گروپ: @grpimpoinfo
تذکرہ علماء ربانیین
سلسلہ ❻ قسط ❷
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
(مسلمانوں کی عظیم الشان تنظیم)
اس تنظیم کی وسعت اور جماعت کی سیرت کے متعلق بنگال کے کمشنر پولیس کی یہ شہادت پڑھنی چاہئے:
: اس جماعت کے ایک ایک مبلغ کے پیرو اسّی اسّی ہزار ہیں جن میں آپس میں مکمل مساوات ہے جن میں ہر ایک دوسرے کے کام کو اپنا ذاتی کام سمجھتا ہے اور مصیبت کے وقت کسی بھائی کی مدد میں اس کو کسی بات سے عذر نہیں ہوتا"
"مشرقی بنگال میں ہر ضلع بغاوت کے رنگ میں رنگ گیا تھا اور پٹنہ سے سمندر تک گنگا کے تمام راستہ میں مسلمان کسان باغیوں کے مرکز کے لئے ہفتہ وار امداد دیتے تھے۔"
"صوبۂ متحدہ کے ایک انگریز کارخانہ دا,نیل کا بیان ہے کہ دیندار مسلمان ملازم اپنی تنخواہ یا مزدوری کا ایک جز ستھانہ کیمپ کے لئے علیٰحدہ کرکے رکھ لیتے تھے، جولوگ زیادہ جری تھے وہ تھوڑے بہت زمانے کے لئے ستھانہ جا کر خدمت کرتے تھے جس طرح ہندو ملازم اپنے بزرگوں (پرکھوں) کے شرادہ کے لئے چھٹی مانگتے تھے اسی طرح مسلمان ملازم یہ کہہ کر چند ماہ کی رخصت لیتے تھے کہ انہیں فریضۂ جہاد ادا کرنے کے لئے مجاہدین کے ساتھ شریک ہوناہے۔"
"کوئی وہابی باپ اپنے کسی غیر معمولی دیندار بیٹے کے متعلق نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کس وقت (جہاد کے لئے) اس کے گھر سے غائب ہوجائے۔"
مسٹر جیمس اوکینلی لکھتا ہے:
"کمزور و بزدل بنگالی مسلمان خونخواری اور جوش جہاد میں افغانوں سے کم نہ تھے"
جماعت کے نظام کا حال مندرجہ ذیل اقتباس سے معلوم ہوگا، ڈاکٹر ہنٹر اس جماعت کے ایک رکن کے متعلق لکھتا ہے
"اس کا تحصیل عشر و زکوٰة کا طریقہ بہت سادہ اور مکمل تھا، اس نے مالگزاری کی حیثیت سے متعدد گاؤں مجموعوں میں تقسیم کردیے تھے، ہر مجموعہ پر ایک خاص محصِّل مقرر تھا، یہ افسر اپنی جگہ پر ہر دیہات کے لئے ایک تحصیلدار مقرر کرتا تھا، آئی ہوئی رقموں کو وہ جانچتا اور ضلع کے مرکز کو بھیج دیتا تھا، قانوناً ہر دیہات میں ایک محصِّل مقرر تھا لیکن جن دیہاتوں میں آبادی زیادہ تھی وہاں اس کام کے لئے ایک عملہ رکھنا پڑتا تھا جن میں کچھ دین کے سردار ہوتے تھے جو نماز پڑھاتے تھے اور چندہ وصول کرتے تھے کچھ عام منتظم دنیا کے سردار ہوتے تھے جو جماعت کے دنیاوی امور کا انتظام کرتے تھے اور ایک افسر جو خطرناک خطوط اور بغاوت کے پیغامات پہنچاتا تھا۔"
حکومت برطانیہ کی مخالفت
گزشتہ ابواب سےواضح ہو چکا ہے کہ سیدصاحبؒ کی تحریک ایک مستقل جہاد اور اصلاح کی تحریک تھی، ناگزیر حالات کی بنا پر اس کا رخ ابتدا میں سکھوں کی طرف تھا لیکن اس کے مکمل پروگرام کا علم جماعت کے مخصوص لوگوں کو تھا جو اسلامی غیرت و فراست ایک صوبہ میں غیر اسلامی اقتدار گوارا نہ کر سکی وہ اس کو پورے ملک میں کس طرح گوارا کرسکتی تھی لیکن ہرصاحب بصیرت کہے گا کہ واقعات و اقدامات کی یہی طبعی اور مناسب ترتیب تھی جو ظہور میں آئی۔
کیپٹن کننگھم "تاریخ ہند" میں لکھتا ہے:
"سید صاحب کے عمل سے ایسا معلوم ہوتا تھاکہ کافروں سے مراد صرف سکھ تھے لیکن اس کے صحیح مقاصد پورے طور پر نہیں سمجھے گئے وہ انگریزوں پر حملہ کرنے میں ضرور محتاط تھے لیکن ایک وسیع اور آباد ملک پر ایک دور دراز کی قوم کا اقتدار ان کی مخالفت کے لئے کافی سبب تھا"
انگریزوں نے جب پنجاب فتح کیا تو مجاہدین کا رخ ان کی طرف پھر گیا، مولانا ولایت علیؒ صاحب اور ان کی جماعت نے حالات کے تغیر اور خطرہ کا احساس کیا اور شروع سے اپنے دائرۂ عمل کو وسیع رکھا۔
ہنٹر لکھتاہے:
مجاہدین کی ضرب سکھوں کے دیہاتوں پر شدید تھی لیکن وہ انگریز کافروں پر ضرب لگانے کے ہر موقع کا بڑی خوشی سے خیر مقدم کرتے تھے انہوں نے کابل کی جنگ میں ہمارے دشمنوں کی مدد کے لئے ایک بڑی قوت بھیجی اور ان میں سے ہزار ایک ہمارے مقابلہ میں موت تک جمے رہے، صرف غزنی کے سقوط میں ان کے تین سو آدمیوں نے انگریزی سنگینوں سے شہادت کی خوشی حاصل کی"۔
"پنجاب کے الحاق کے بعد جو غصہ پہلے سکھوں پر اترتا تھا اب ان کے جانشینوں (انگریزوں) پر اترنے لگا۔"
ہندوستانی مجاہدین کے متعلق ہنٹر لکھتا ہے:
"ان کی تبلیغ تھی کہ غیر اسلامی اقتدار کے ماتحت مسلمانوں کو زندگی گزارنے کی شرعا اجازت نہیں جہاں غیر مسلم کی حکومت ہو وہاں صرف دو صورتیں ہیں اگر قدرت ہوتو جہاد ورنہ ہجرت، اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔"
ڈاکٹر ہنٹر کا بیان ہے (جس سے اس کی ساری کتاب رنگی ہوئی ہے) کہ جماعت کے مبلغین اور پٹنہ کے پیشوا حکومت ہند کے خلاف علانیہ تبلیغ جہاد کرتے تھے۔
(جاری)
قسط ❸ پڑھیں
https://t.me/impoinfo
سلسلہ ❻ قسط ❷
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
(مسلمانوں کی عظیم الشان تنظیم)
اس تنظیم کی وسعت اور جماعت کی سیرت کے متعلق بنگال کے کمشنر پولیس کی یہ شہادت پڑھنی چاہئے:
: اس جماعت کے ایک ایک مبلغ کے پیرو اسّی اسّی ہزار ہیں جن میں آپس میں مکمل مساوات ہے جن میں ہر ایک دوسرے کے کام کو اپنا ذاتی کام سمجھتا ہے اور مصیبت کے وقت کسی بھائی کی مدد میں اس کو کسی بات سے عذر نہیں ہوتا"
"مشرقی بنگال میں ہر ضلع بغاوت کے رنگ میں رنگ گیا تھا اور پٹنہ سے سمندر تک گنگا کے تمام راستہ میں مسلمان کسان باغیوں کے مرکز کے لئے ہفتہ وار امداد دیتے تھے۔"
"صوبۂ متحدہ کے ایک انگریز کارخانہ دا,نیل کا بیان ہے کہ دیندار مسلمان ملازم اپنی تنخواہ یا مزدوری کا ایک جز ستھانہ کیمپ کے لئے علیٰحدہ کرکے رکھ لیتے تھے، جولوگ زیادہ جری تھے وہ تھوڑے بہت زمانے کے لئے ستھانہ جا کر خدمت کرتے تھے جس طرح ہندو ملازم اپنے بزرگوں (پرکھوں) کے شرادہ کے لئے چھٹی مانگتے تھے اسی طرح مسلمان ملازم یہ کہہ کر چند ماہ کی رخصت لیتے تھے کہ انہیں فریضۂ جہاد ادا کرنے کے لئے مجاہدین کے ساتھ شریک ہوناہے۔"
"کوئی وہابی باپ اپنے کسی غیر معمولی دیندار بیٹے کے متعلق نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کس وقت (جہاد کے لئے) اس کے گھر سے غائب ہوجائے۔"
مسٹر جیمس اوکینلی لکھتا ہے:
"کمزور و بزدل بنگالی مسلمان خونخواری اور جوش جہاد میں افغانوں سے کم نہ تھے"
جماعت کے نظام کا حال مندرجہ ذیل اقتباس سے معلوم ہوگا، ڈاکٹر ہنٹر اس جماعت کے ایک رکن کے متعلق لکھتا ہے
"اس کا تحصیل عشر و زکوٰة کا طریقہ بہت سادہ اور مکمل تھا، اس نے مالگزاری کی حیثیت سے متعدد گاؤں مجموعوں میں تقسیم کردیے تھے، ہر مجموعہ پر ایک خاص محصِّل مقرر تھا، یہ افسر اپنی جگہ پر ہر دیہات کے لئے ایک تحصیلدار مقرر کرتا تھا، آئی ہوئی رقموں کو وہ جانچتا اور ضلع کے مرکز کو بھیج دیتا تھا، قانوناً ہر دیہات میں ایک محصِّل مقرر تھا لیکن جن دیہاتوں میں آبادی زیادہ تھی وہاں اس کام کے لئے ایک عملہ رکھنا پڑتا تھا جن میں کچھ دین کے سردار ہوتے تھے جو نماز پڑھاتے تھے اور چندہ وصول کرتے تھے کچھ عام منتظم دنیا کے سردار ہوتے تھے جو جماعت کے دنیاوی امور کا انتظام کرتے تھے اور ایک افسر جو خطرناک خطوط اور بغاوت کے پیغامات پہنچاتا تھا۔"
حکومت برطانیہ کی مخالفت
گزشتہ ابواب سےواضح ہو چکا ہے کہ سیدصاحبؒ کی تحریک ایک مستقل جہاد اور اصلاح کی تحریک تھی، ناگزیر حالات کی بنا پر اس کا رخ ابتدا میں سکھوں کی طرف تھا لیکن اس کے مکمل پروگرام کا علم جماعت کے مخصوص لوگوں کو تھا جو اسلامی غیرت و فراست ایک صوبہ میں غیر اسلامی اقتدار گوارا نہ کر سکی وہ اس کو پورے ملک میں کس طرح گوارا کرسکتی تھی لیکن ہرصاحب بصیرت کہے گا کہ واقعات و اقدامات کی یہی طبعی اور مناسب ترتیب تھی جو ظہور میں آئی۔
کیپٹن کننگھم "تاریخ ہند" میں لکھتا ہے:
"سید صاحب کے عمل سے ایسا معلوم ہوتا تھاکہ کافروں سے مراد صرف سکھ تھے لیکن اس کے صحیح مقاصد پورے طور پر نہیں سمجھے گئے وہ انگریزوں پر حملہ کرنے میں ضرور محتاط تھے لیکن ایک وسیع اور آباد ملک پر ایک دور دراز کی قوم کا اقتدار ان کی مخالفت کے لئے کافی سبب تھا"
انگریزوں نے جب پنجاب فتح کیا تو مجاہدین کا رخ ان کی طرف پھر گیا، مولانا ولایت علیؒ صاحب اور ان کی جماعت نے حالات کے تغیر اور خطرہ کا احساس کیا اور شروع سے اپنے دائرۂ عمل کو وسیع رکھا۔
ہنٹر لکھتاہے:
مجاہدین کی ضرب سکھوں کے دیہاتوں پر شدید تھی لیکن وہ انگریز کافروں پر ضرب لگانے کے ہر موقع کا بڑی خوشی سے خیر مقدم کرتے تھے انہوں نے کابل کی جنگ میں ہمارے دشمنوں کی مدد کے لئے ایک بڑی قوت بھیجی اور ان میں سے ہزار ایک ہمارے مقابلہ میں موت تک جمے رہے، صرف غزنی کے سقوط میں ان کے تین سو آدمیوں نے انگریزی سنگینوں سے شہادت کی خوشی حاصل کی"۔
"پنجاب کے الحاق کے بعد جو غصہ پہلے سکھوں پر اترتا تھا اب ان کے جانشینوں (انگریزوں) پر اترنے لگا۔"
ہندوستانی مجاہدین کے متعلق ہنٹر لکھتا ہے:
"ان کی تبلیغ تھی کہ غیر اسلامی اقتدار کے ماتحت مسلمانوں کو زندگی گزارنے کی شرعا اجازت نہیں جہاں غیر مسلم کی حکومت ہو وہاں صرف دو صورتیں ہیں اگر قدرت ہوتو جہاد ورنہ ہجرت، اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔"
ڈاکٹر ہنٹر کا بیان ہے (جس سے اس کی ساری کتاب رنگی ہوئی ہے) کہ جماعت کے مبلغین اور پٹنہ کے پیشوا حکومت ہند کے خلاف علانیہ تبلیغ جہاد کرتے تھے۔
(جاری)
قسط ❸ پڑھیں
https://t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | Important Info
تذکرہ علماء ربانیین
سلسلہ ❻ قسط ❸
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
(مسلمانوں کی عظیم الشان تنظیم)
حکومتِ ہند کے انتظامات
ڈاکٹر ہنٹر لکھتاہے:
" ۱۸۶۷ ء میں سر ہنری لارنس نے یہ کاروائی قلمبند کی کہ مولانا ولایت علی اور مولانا عنایت علی پنجاب…
سلسلہ ❻ قسط ❸
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
(مسلمانوں کی عظیم الشان تنظیم)
حکومتِ ہند کے انتظامات
ڈاکٹر ہنٹر لکھتاہے:
" ۱۸۶۷ ء میں سر ہنری لارنس نے یہ کاروائی قلمبند کی کہ مولانا ولایت علی اور مولانا عنایت علی پنجاب…
روٹ Root یعنی جڑ
✍ ابو صارم
ایک درخت کا جڑ ہی اس کی زندگی کا ضامن ہے۔ درخت کے سارے معاملات جڑ سے جڑے ہوتے ہیں۔ جڑ ہی درخت کا مرکز ہے وہیں سے تنہ نکلتا ہے، شاخیں اور پھل پھول پتے کی نشو و نما ہوتی ہے۔
ٹھیک اسی طرح موبائل فون میں ایک ڈائریکٹری (فولڈر) ہوتا ہے جسے روٹ فولڈر کہتے ہیں۔ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کی فائلیں اسی فولڈر میں ہوتی ہیں، جہاں سے فون کا سارا نظام چلتا ہے۔ تحفظات کے خاطر موبائل کمپنیاں اس فولڈر تک عام رسائی کی اجازت نہیں دیتیں، کسی ہیکر کے لیے روٹ کئے ہوئے موبائل کو بغیر روٹ کیے موبائل کے بہ نسبت ہیک کرنا آسان ہے۔
لیکن چونکہ روٹ کرنے سے بہت ساری دیگر سہولیات مل جاتی ہیں۔ جیسے کہ اگر موبائل کی بیٹری بہت جلد ختم ہو جاتی ہو، موبائل بہت گرم ہوجاتا ہو تو اسے کنٹرول کرنے کے لیے کچھ ایپس کو روٹ فولڈر تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ موبائل کمپنیوں کے ذریعہ کی گئی سیٹنگز میں اپنی مرضی کے مطابق رد و بدل کرتی ہے تاکہ مسئلے حل ہوجائے، اسی طرح اپنا اصل محل وقوع کو GPS SYSTEM سے مخفی رکھنے کے لیے، ISP سے اپنا اصلی آئی پی اور DNS ایڈریس کو مخفی رکھنے کے لیے، موبائل کی طے شدہ فونٹ میں اپنی مرضی کا فونٹ ڈالنے کے لیے، موبائل کمپنی کے ذریعہ دی گئی ROM کی جگہ کسٹم رَوم کو نصب کرنے کےلیے موبائل کے روٹ فولڈر تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے موبائل کو روٹ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
ضروری معلومات چینل : @impoinfo
ضروری معلومات گروپ: @grpimpoinfo
✍ ابو صارم
ایک درخت کا جڑ ہی اس کی زندگی کا ضامن ہے۔ درخت کے سارے معاملات جڑ سے جڑے ہوتے ہیں۔ جڑ ہی درخت کا مرکز ہے وہیں سے تنہ نکلتا ہے، شاخیں اور پھل پھول پتے کی نشو و نما ہوتی ہے۔
ٹھیک اسی طرح موبائل فون میں ایک ڈائریکٹری (فولڈر) ہوتا ہے جسے روٹ فولڈر کہتے ہیں۔ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کی فائلیں اسی فولڈر میں ہوتی ہیں، جہاں سے فون کا سارا نظام چلتا ہے۔ تحفظات کے خاطر موبائل کمپنیاں اس فولڈر تک عام رسائی کی اجازت نہیں دیتیں، کسی ہیکر کے لیے روٹ کئے ہوئے موبائل کو بغیر روٹ کیے موبائل کے بہ نسبت ہیک کرنا آسان ہے۔
لیکن چونکہ روٹ کرنے سے بہت ساری دیگر سہولیات مل جاتی ہیں۔ جیسے کہ اگر موبائل کی بیٹری بہت جلد ختم ہو جاتی ہو، موبائل بہت گرم ہوجاتا ہو تو اسے کنٹرول کرنے کے لیے کچھ ایپس کو روٹ فولڈر تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ موبائل کمپنیوں کے ذریعہ کی گئی سیٹنگز میں اپنی مرضی کے مطابق رد و بدل کرتی ہے تاکہ مسئلے حل ہوجائے، اسی طرح اپنا اصل محل وقوع کو GPS SYSTEM سے مخفی رکھنے کے لیے، ISP سے اپنا اصلی آئی پی اور DNS ایڈریس کو مخفی رکھنے کے لیے، موبائل کی طے شدہ فونٹ میں اپنی مرضی کا فونٹ ڈالنے کے لیے، موبائل کمپنی کے ذریعہ دی گئی ROM کی جگہ کسٹم رَوم کو نصب کرنے کےلیے موبائل کے روٹ فولڈر تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے موبائل کو روٹ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
ضروری معلومات چینل : @impoinfo
ضروری معلومات گروپ: @grpimpoinfo
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شاید اثر ان کا ہوتا ہے دل پر
نکلتے ہیں جو بے زبانی میں آنسو
آواز و کلام : انجینئر احسن عزیز رحمہ اللہ
نکلتے ہیں جو بے زبانی میں آنسو
آواز و کلام : انجینئر احسن عزیز رحمہ اللہ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#مزاح
جب آپ کے "پی،سی/لیپ ٹاپ" میں جناب ٹروجن، مالویئر، اسپائی ویئر، وارمس، ایڈ ویئر جیسے صاحبان ایک ساتھ تشریف لے آتے ہیں تو آپ کا سسٹم کچھ اس نشئی انداز سے کام کرنے لگتا ہے۔👆👆
ضروری معلومات چینل : @impoinfo
ضروری معلومات گروپ: @grpimpoinfo
جب آپ کے "پی،سی/لیپ ٹاپ" میں جناب ٹروجن، مالویئر، اسپائی ویئر، وارمس، ایڈ ویئر جیسے صاحبان ایک ساتھ تشریف لے آتے ہیں تو آپ کا سسٹم کچھ اس نشئی انداز سے کام کرنے لگتا ہے۔👆👆
ضروری معلومات چینل : @impoinfo
ضروری معلومات گروپ: @grpimpoinfo
دین کے معاملے میں ایثار جائز نہیں
╮•┅══ـ❁🏕❁ـ══┅•╭
ایک اصول سمجھ لیں...!
دنیا کے معاملات میں تو ایثار اچھی بات ہے، ایثار کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں اپنا نقصان کرلیں ... کچھ حرج نہیں اچھی بات ہے، دوسرے کا کچھ بنانے کے لیے اپنی دنیا کا نقصان کیا تو وہ در حقیقت نقصان نہیں بلکہ آخرت کا فائدہ ہے۔
(البتہ) دین کے معاملے میں اصول اس کے برعکس ہے، دوسرے کا دین بنانے کے لیے اپنا دین خراب کر لینا صحیح نہیں۔
آخرت کے بارے میں، اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے بارے میں، دنیا و آخرت کے عذاب سے بچنے کے بارے میں اپنا نفس سب سے مقدم ہے دوسرے لوگ بعد میں پہلے خود کو بچانے کی کوشش کیجیے....الخ
اللہ کے عذاب سے اپنے نفس کی حفاظت، اپنے گھرانے کی حفاظت، اپنے قریبی رشتہ داروں کی حفاظت کی اہمیت غیروں کی بہ نسبت زیادہ ہے ...الخ
📚دردِ دل ص۷۰-۷۱📚
✍مفتی اعظم حضرت اقدس مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ
https://t.me/tasawwufkiahy
╮•┅══ـ❁🏕❁ـ══┅•╭
ایک اصول سمجھ لیں...!
دنیا کے معاملات میں تو ایثار اچھی بات ہے، ایثار کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں اپنا نقصان کرلیں ... کچھ حرج نہیں اچھی بات ہے، دوسرے کا کچھ بنانے کے لیے اپنی دنیا کا نقصان کیا تو وہ در حقیقت نقصان نہیں بلکہ آخرت کا فائدہ ہے۔
(البتہ) دین کے معاملے میں اصول اس کے برعکس ہے، دوسرے کا دین بنانے کے لیے اپنا دین خراب کر لینا صحیح نہیں۔
آخرت کے بارے میں، اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے بارے میں، دنیا و آخرت کے عذاب سے بچنے کے بارے میں اپنا نفس سب سے مقدم ہے دوسرے لوگ بعد میں پہلے خود کو بچانے کی کوشش کیجیے....الخ
اللہ کے عذاب سے اپنے نفس کی حفاظت، اپنے گھرانے کی حفاظت، اپنے قریبی رشتہ داروں کی حفاظت کی اہمیت غیروں کی بہ نسبت زیادہ ہے ...الخ
📚دردِ دل ص۷۰-۷۱📚
✍مفتی اعظم حضرت اقدس مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ
https://t.me/tasawwufkiahy
👍1
سرور Serverکیا ہوتا ہے؟ اور یہ کیسے کام کرتا ہے
✍️ ابو صارم
آپ روزانہ مختلف ویب سائیٹس وزٹ کرتے ہوں گے آپ نے محسوس کیا ہوگا کچھ ویب سائیٹس بہت تیزی سے کھلتی ہیں اور کچھ ویب سائیٹس کے کھلنے کی سپیڈ بہت کم ہوتی ہے اور کچھ ویب سائیٹ تو کھلتی ہی نہیں ہیں اورآپ سمجھ جاتے ہیں کہ اس ویب سائیٹ کا سرور ڈاؤن ہے یا اس ویب سائیٹ کے سرور میں کچھ مسئلہ آ رہا ہے۔آخر یہ سرور کیا ہوتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے۔ جب آپ یو ٹیوب پر کوئی ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں یا فیس بک پر کوئی پوسٹ کرتے ہیں یا کوئی امیج اپ لوڈ کرتے ہیں یا اپنی سائیٹ پر کوئی پوسٹ کرتے ہیں تو یہ کہیں نہ کہیں ذخیرہ ہو رہا ہوتا ہے۔ جیسے آپ اپنے کمپیوٹر میں مختلف قسم کی چیزیں جیسے آڈیو، فائلز، ویڈیو محفوظ کرتے ہیں تو سب آپ کی ہارڈ ڈسک میں جمع ہو رہا ہوتا ہے اور اگر آپ اپنی ہارڈ ڈسک میں بہت سی چیزیں سٹور کریں اور ہارڈ ڈسک کو بھر دیں تو آپ محسوس کریں گے آپ کا کمپیوٹر سست ہو گیا ہے، اسی طرح سرور بھی ایک ایسی ہی فزیکل ڈیوائس ہے جو مختلف کیپسٹی کی ہوتی ہے، اس میں بھی کمپیوٹر کی طرح ریم، سٹوریج، پروسسر، جو کچھ آپ اپنے کمپیوٹر میں دیکھتے ہیں یا لیپ ٹاپ میں دیکھتے ہیں وہی کچھ سرور میں بھی ہوتا ہے ،اور آپ چاہیں تو اپنے کمپییوٹر اور لیپ ٹاپ کو بھی ایک سرور کہہ سکتے ہیں، سرور مختلف چیزیوں کے مجموعہ سے بنتا ہے جیسے ایک تو وہ ہارڈ وئیر ہوتا ہے جس میں ریم سٹوریج اور پروسسر وغیرہ ہوتا ہے، دوسرا اس میں آپریٹنگ سسٹم ہوتا ہے جیسے ونڈوز، لائینکس، وغیرہ ۔ اس کے علاوہ تیسری چیز اس میں ہوتی ہے ایج ٹی ٹی پی سافٹ وئیریا ( ہائیپر ٹیکسٹ ٹرانسفر پروٹوکول) یہ ایک سافٹ وئیر ہوتا ہے جو سرور میں انسٹال کیا جاتا ہے ، ہارڈ وئیر آپریٹنگ سسٹم ،اور ایج ٹی ٹی پی سافٹ وئیر ان تین چیزوں کو ملا کر جو چیز بنے گی اس کو ہم سرور کہتے ہیں۔
جہاں سرور رکھا گیا ہوتا ہے اسے ڈیٹا سنٹر کہا جاتا ہے، اگر اس ڈیٹا سنٹر میں اس سرور میں کوئی مسئلہ آ جائے یا کوئی ٹیکنیکل فالٹ آ جائے تو سرور ڈاؤن ہو جاتا ہے اور اگر اس سرور کی ریم کم ہے اور بہت زیادہ لوگ اس انفارمیشن کو دیکھنا چاہ رہے جو اس سرور میں محفوظ ہے تو سرور سست ہو جاتاہے۔ ہر ایک ویب سائٹس اپنے کسی سرور پر محفوظ ہوتا ہے۔ جب ہم کوئی ویب سائٹ ڈیزائن کرتے ہیں تو لوگوں کو اس ویب سائٹ تک رسائی دینے کے لیے ہمیں ویب سائٹ کی بنی سبھی فائلوں کو کسی سرور پر اپ لوڈ کرنا پڑتا تب ہی جا کر وہ پوری دنیا کے لیے آن لائن ہو جاتی ہے۔ اپنی ویب سائٹ کی فائلوں کو کسی سرور پر ڈالنے کے لیے ہمیں سرور کی سروس پہچانے والی کمپنی کی ضرورت ہوتی ہے جسے ہم سالانہ یا اس سے زائد مدّت کی فیس ادا کر کے اس کے سرور پر اپنی ویب سائٹ کی فائلوں کو اپلوڈ کرتے ہیں۔ جب ویب سائٹ کی ویب ایڈرس جیسے www.websitename.com کو کوئی سرچ کرتا ہے تو اس ویب سائٹ کی تمام فائلیں اس سرور سے فورا ہمارے کمپیوٹر میں لوڈ ہو کر ویب پیج میں نظر آ جاتی ہیں۔ اسی طرح کسی آن لائن ایپ، یا میسنجر ایپ وغیرہ کسی نہ کسی سرور سے مربوط ہوتا جہاں سارے لوگوں کی بھیجی تحریریں، فائلیں، آڈیوز، ویڈیوز، تصویریں وغیرہ محفوظ ہوتی ہیں۔ اور جب ہم جیسے ہیں ڈاؤنلوڈ بٹن پر کلک کرتے ہیں تو وہ فائلیں اس سرور سے فورا ہمارے کمپیوٹر یا موبائل کی اسٹوریج میں آجاتا ہے۔
پیشکش: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
گروہی گفتگو کے لیے ہمارا ٹیلی گرام گروپ
t.me/grpimpoinfo
✍️ ابو صارم
آپ روزانہ مختلف ویب سائیٹس وزٹ کرتے ہوں گے آپ نے محسوس کیا ہوگا کچھ ویب سائیٹس بہت تیزی سے کھلتی ہیں اور کچھ ویب سائیٹس کے کھلنے کی سپیڈ بہت کم ہوتی ہے اور کچھ ویب سائیٹ تو کھلتی ہی نہیں ہیں اورآپ سمجھ جاتے ہیں کہ اس ویب سائیٹ کا سرور ڈاؤن ہے یا اس ویب سائیٹ کے سرور میں کچھ مسئلہ آ رہا ہے۔آخر یہ سرور کیا ہوتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے۔ جب آپ یو ٹیوب پر کوئی ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں یا فیس بک پر کوئی پوسٹ کرتے ہیں یا کوئی امیج اپ لوڈ کرتے ہیں یا اپنی سائیٹ پر کوئی پوسٹ کرتے ہیں تو یہ کہیں نہ کہیں ذخیرہ ہو رہا ہوتا ہے۔ جیسے آپ اپنے کمپیوٹر میں مختلف قسم کی چیزیں جیسے آڈیو، فائلز، ویڈیو محفوظ کرتے ہیں تو سب آپ کی ہارڈ ڈسک میں جمع ہو رہا ہوتا ہے اور اگر آپ اپنی ہارڈ ڈسک میں بہت سی چیزیں سٹور کریں اور ہارڈ ڈسک کو بھر دیں تو آپ محسوس کریں گے آپ کا کمپیوٹر سست ہو گیا ہے، اسی طرح سرور بھی ایک ایسی ہی فزیکل ڈیوائس ہے جو مختلف کیپسٹی کی ہوتی ہے، اس میں بھی کمپیوٹر کی طرح ریم، سٹوریج، پروسسر، جو کچھ آپ اپنے کمپیوٹر میں دیکھتے ہیں یا لیپ ٹاپ میں دیکھتے ہیں وہی کچھ سرور میں بھی ہوتا ہے ،اور آپ چاہیں تو اپنے کمپییوٹر اور لیپ ٹاپ کو بھی ایک سرور کہہ سکتے ہیں، سرور مختلف چیزیوں کے مجموعہ سے بنتا ہے جیسے ایک تو وہ ہارڈ وئیر ہوتا ہے جس میں ریم سٹوریج اور پروسسر وغیرہ ہوتا ہے، دوسرا اس میں آپریٹنگ سسٹم ہوتا ہے جیسے ونڈوز، لائینکس، وغیرہ ۔ اس کے علاوہ تیسری چیز اس میں ہوتی ہے ایج ٹی ٹی پی سافٹ وئیریا ( ہائیپر ٹیکسٹ ٹرانسفر پروٹوکول) یہ ایک سافٹ وئیر ہوتا ہے جو سرور میں انسٹال کیا جاتا ہے ، ہارڈ وئیر آپریٹنگ سسٹم ،اور ایج ٹی ٹی پی سافٹ وئیر ان تین چیزوں کو ملا کر جو چیز بنے گی اس کو ہم سرور کہتے ہیں۔
جہاں سرور رکھا گیا ہوتا ہے اسے ڈیٹا سنٹر کہا جاتا ہے، اگر اس ڈیٹا سنٹر میں اس سرور میں کوئی مسئلہ آ جائے یا کوئی ٹیکنیکل فالٹ آ جائے تو سرور ڈاؤن ہو جاتا ہے اور اگر اس سرور کی ریم کم ہے اور بہت زیادہ لوگ اس انفارمیشن کو دیکھنا چاہ رہے جو اس سرور میں محفوظ ہے تو سرور سست ہو جاتاہے۔ ہر ایک ویب سائٹس اپنے کسی سرور پر محفوظ ہوتا ہے۔ جب ہم کوئی ویب سائٹ ڈیزائن کرتے ہیں تو لوگوں کو اس ویب سائٹ تک رسائی دینے کے لیے ہمیں ویب سائٹ کی بنی سبھی فائلوں کو کسی سرور پر اپ لوڈ کرنا پڑتا تب ہی جا کر وہ پوری دنیا کے لیے آن لائن ہو جاتی ہے۔ اپنی ویب سائٹ کی فائلوں کو کسی سرور پر ڈالنے کے لیے ہمیں سرور کی سروس پہچانے والی کمپنی کی ضرورت ہوتی ہے جسے ہم سالانہ یا اس سے زائد مدّت کی فیس ادا کر کے اس کے سرور پر اپنی ویب سائٹ کی فائلوں کو اپلوڈ کرتے ہیں۔ جب ویب سائٹ کی ویب ایڈرس جیسے www.websitename.com کو کوئی سرچ کرتا ہے تو اس ویب سائٹ کی تمام فائلیں اس سرور سے فورا ہمارے کمپیوٹر میں لوڈ ہو کر ویب پیج میں نظر آ جاتی ہیں۔ اسی طرح کسی آن لائن ایپ، یا میسنجر ایپ وغیرہ کسی نہ کسی سرور سے مربوط ہوتا جہاں سارے لوگوں کی بھیجی تحریریں، فائلیں، آڈیوز، ویڈیوز، تصویریں وغیرہ محفوظ ہوتی ہیں۔ اور جب ہم جیسے ہیں ڈاؤنلوڈ بٹن پر کلک کرتے ہیں تو وہ فائلیں اس سرور سے فورا ہمارے کمپیوٹر یا موبائل کی اسٹوریج میں آجاتا ہے۔
پیشکش: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
گروہی گفتگو کے لیے ہمارا ٹیلی گرام گروپ
t.me/grpimpoinfo
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
❤1
الحمد للہ پلس میسنجر کو اردو میں ترجمہ کرنے کا کام اب سے کچھ دیر قبل تکمیل کو پہنچا۔ اب بس منظوری کی دیر ہے۔
زبانوں کی فہرست میں ہماری ❤پیاری اردو زبان❤ بھی نظر آئے گی۔ ان شاء اللہ
—— ابو صارم
26 جولائی 2020، رات 2 بج کر 18 منٹ
@impoinfo
زبانوں کی فہرست میں ہماری ❤پیاری اردو زبان❤ بھی نظر آئے گی۔ ان شاء اللہ
—— ابو صارم
26 جولائی 2020، رات 2 بج کر 18 منٹ
@impoinfo
❤1
تذکرہ علماء ربانیین
سلسلہ ❻ قسط ❸
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
(مسلمانوں کی عظیم الشان تنظیم)
حکومتِ ہند کے انتظامات
ڈاکٹر ہنٹر لکھتاہے:
" ۱۸۶۷ ء میں سر ہنری لارنس نے یہ کاروائی قلمبند کی کہ مولانا ولایت علی اور مولانا عنایت علی پنجاب میں 'غازئ دین' اور مجاہد اسلام کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کو اپنے مکانوں میں نظر بند رکھا جائے پٹنہ کے مجسٹریٹ نے ان سے ضمانت لی اور جماعت کے دوسرے بہت سے دولت مند ارکان سے بھی نیک چلنی کے مچلکے لیے۔
لیکن ۱۸۵۰ء میں ان کو جنوبی بنگال کے ضلع راج شاہی میں بغاوت کی تبلیغ کرتے ہوئے پایا جاتا ہے جہاں ان سے حفظ امن کی ضمانتیں لی گئیں اور دوبارہ تبلیغ کرنے کی وجہ سے ان کا دو مرتبہ ضلع اس خراج ہوا۔
۱۸۵۱ء میں سید صاحب کے یہی خلفاء جو اپنے سحر میں نظر بند تھے سرحد پر بغاوت پھیلانے کی تبلیغ کرتے ہوئے پٹنہ میں پائے گئے۔ ۱۸۵۲ء میں نے ان کو اپنی تجویز میں بہت کچھ کامیابی ہوئی آدمی اور روپیہ ستھانہ کیمپ کثرت سے بھیجے گئے اور پنجاب کے حکام نے ہماری فوجوں سے ان کی ایک باغیانہ خط و کتابت پکڑی، ان کے پیشواؤں نے ہماری چوتھی فوج سے سازباز کرنے کی بڑی مشاقی سے کوشش کی جو راولپنڈی میں باغیوں کے کیمپ سے بہت قریب ٹھہری ہوئی تھی اور اس رجمنٹ کا جزو تھی جو ہمارے صوبہ پر حملہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی خطوط سے ثابت ہوتا ہے کہ بنگال سے باغیوں کے کیمپ کو آدمی اور اسلحہ بھیجنے کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ قائم ہے، اسی زمانہ ۱۹, اگست ۱۸۵۲ء میں پٹنہ کے مجسٹریٹ نے رپورٹ کی کہ باغی جماعت اور باغیانہ خیالات ترقی پر ہے۔ انگریزی صوبہ کے دارالسلطنت (پٹنہ) کے خاص باشندے علانیہ بغاوت کی تبلیغ کرتے ہیں پولیس بھی ان سے ملی ہوئی ہے اور ان کے ایک سردار (مولوی احمد اللہ) صاحب نے اپنے مکان میں سات سو آدمیوں کے ایک جلسہ میں اعلان کیا کہ اگر مجسٹریٹ کی طرف سے مزید تلاشی ہوئی تو ہم ہتھیاروں سے مقابلہ کریں گے۔
حکومت برطانیہ اب زیادہ دنوں تک اپنے علاقہ میں ایک باغیانہ ادارہ کی طرف سے چشم پوشی نہیں کرسکتی تھی۔ ۱۸۵۲ء کی فصل خزاں میں لارڈ ڈلہوزی نے دو اہم کاروائیاں قلم بند کیں۔ انہوں نے اندرونی ادارہ کی پوری نگرانی اور ان سرحدی قبائل کے خلاف مہم بھیجنے کی ہدایت کی جن کی کافروں کے ساتھ وہمی نفرت کو ہندوستانی مجنونوں نے ہوا دے کر مشتعل کردیا تھا، اسی سال انہوں نے ہمارے حلیف امبؔ کے رئیس پر حملہ کیا اور ہم کو ایک برطانوی فوج اس کی امداد کے لئے بھیجنی پڑی، ۱۸۵۳ء میں ہمارے متعدد دیسی سپاہی باغیوں سے خط و کتابت کرنے کے جرم میں ماخوذ ہوئے۔
✦حکومت کے جارحانہ اقدام اور ۱۸۵۷۔۶۰ ء کی سرحدی جنگیں✦
۱۸۵۰ء اور ۱۸۵۷ء کے درمیان سرحدی خلفشار کی وجہ سے ہم کو اپنی اپنی علیحدہ سولہ مہمیں بھیجنی پڑیں جس میں تینتیس ہزار باقاعدہ سپاہی تھے اور ۱۸۵۰ء اور ۱۸۶۳ء کے درمیان علیحٰدہ علیحٰدہ مہموں کی تعداد بیس کو پہنچ گئی، جن باقاعدہ مددگاروں اور پولیس کے علاوہ ساٹھ ہزار باقاعدہ سپاہی تھے،
اس دوران ستھانہ کیمپ دائمی تعصب اور مذہبی اشتعال کے باوجود عاقلانہ طریقہ پر ہماری فوجوں سے براہ راست الجھنے سے مجتنب رہا، وہ ہوشیاری کے ساتھ ہمارے خلاف قبائل کی امداد کرتا رہا اور ان کو اشتعال دلاتا رہا لیکن ان لوگوں کو اپنا نقصان برداشت کرتے ہوئے ہم سے جنگ کرنے کی جرأت نہ ہوئی، ۱۸۵۷ء میں انہوں نے علانیہ ہم سے جنگ چھیڑ دی اور اپنی دیدہ دلیری سے ہم سے جزیہ کا مطالبہ کیا، مطالبہ نامنظور ہونے کے بعد وہ دلیرانہ ہمارے علاقہ پر اتر آئے اور انھوں نے لفٹیننٹ ہارن کے کیمپ پر ایک شب خوں مارا،
(جاری)
قسط ❹ پڑھیں
https://t.me/impoinfo
سلسلہ ❻ قسط ❸
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
(مسلمانوں کی عظیم الشان تنظیم)
حکومتِ ہند کے انتظامات
ڈاکٹر ہنٹر لکھتاہے:
" ۱۸۶۷ ء میں سر ہنری لارنس نے یہ کاروائی قلمبند کی کہ مولانا ولایت علی اور مولانا عنایت علی پنجاب میں 'غازئ دین' اور مجاہد اسلام کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کو اپنے مکانوں میں نظر بند رکھا جائے پٹنہ کے مجسٹریٹ نے ان سے ضمانت لی اور جماعت کے دوسرے بہت سے دولت مند ارکان سے بھی نیک چلنی کے مچلکے لیے۔
لیکن ۱۸۵۰ء میں ان کو جنوبی بنگال کے ضلع راج شاہی میں بغاوت کی تبلیغ کرتے ہوئے پایا جاتا ہے جہاں ان سے حفظ امن کی ضمانتیں لی گئیں اور دوبارہ تبلیغ کرنے کی وجہ سے ان کا دو مرتبہ ضلع اس خراج ہوا۔
۱۸۵۱ء میں سید صاحب کے یہی خلفاء جو اپنے سحر میں نظر بند تھے سرحد پر بغاوت پھیلانے کی تبلیغ کرتے ہوئے پٹنہ میں پائے گئے۔ ۱۸۵۲ء میں نے ان کو اپنی تجویز میں بہت کچھ کامیابی ہوئی آدمی اور روپیہ ستھانہ کیمپ کثرت سے بھیجے گئے اور پنجاب کے حکام نے ہماری فوجوں سے ان کی ایک باغیانہ خط و کتابت پکڑی، ان کے پیشواؤں نے ہماری چوتھی فوج سے سازباز کرنے کی بڑی مشاقی سے کوشش کی جو راولپنڈی میں باغیوں کے کیمپ سے بہت قریب ٹھہری ہوئی تھی اور اس رجمنٹ کا جزو تھی جو ہمارے صوبہ پر حملہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی خطوط سے ثابت ہوتا ہے کہ بنگال سے باغیوں کے کیمپ کو آدمی اور اسلحہ بھیجنے کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ قائم ہے، اسی زمانہ ۱۹, اگست ۱۸۵۲ء میں پٹنہ کے مجسٹریٹ نے رپورٹ کی کہ باغی جماعت اور باغیانہ خیالات ترقی پر ہے۔ انگریزی صوبہ کے دارالسلطنت (پٹنہ) کے خاص باشندے علانیہ بغاوت کی تبلیغ کرتے ہیں پولیس بھی ان سے ملی ہوئی ہے اور ان کے ایک سردار (مولوی احمد اللہ) صاحب نے اپنے مکان میں سات سو آدمیوں کے ایک جلسہ میں اعلان کیا کہ اگر مجسٹریٹ کی طرف سے مزید تلاشی ہوئی تو ہم ہتھیاروں سے مقابلہ کریں گے۔
حکومت برطانیہ اب زیادہ دنوں تک اپنے علاقہ میں ایک باغیانہ ادارہ کی طرف سے چشم پوشی نہیں کرسکتی تھی۔ ۱۸۵۲ء کی فصل خزاں میں لارڈ ڈلہوزی نے دو اہم کاروائیاں قلم بند کیں۔ انہوں نے اندرونی ادارہ کی پوری نگرانی اور ان سرحدی قبائل کے خلاف مہم بھیجنے کی ہدایت کی جن کی کافروں کے ساتھ وہمی نفرت کو ہندوستانی مجنونوں نے ہوا دے کر مشتعل کردیا تھا، اسی سال انہوں نے ہمارے حلیف امبؔ کے رئیس پر حملہ کیا اور ہم کو ایک برطانوی فوج اس کی امداد کے لئے بھیجنی پڑی، ۱۸۵۳ء میں ہمارے متعدد دیسی سپاہی باغیوں سے خط و کتابت کرنے کے جرم میں ماخوذ ہوئے۔
✦حکومت کے جارحانہ اقدام اور ۱۸۵۷۔۶۰ ء کی سرحدی جنگیں✦
۱۸۵۰ء اور ۱۸۵۷ء کے درمیان سرحدی خلفشار کی وجہ سے ہم کو اپنی اپنی علیحدہ سولہ مہمیں بھیجنی پڑیں جس میں تینتیس ہزار باقاعدہ سپاہی تھے اور ۱۸۵۰ء اور ۱۸۶۳ء کے درمیان علیحٰدہ علیحٰدہ مہموں کی تعداد بیس کو پہنچ گئی، جن باقاعدہ مددگاروں اور پولیس کے علاوہ ساٹھ ہزار باقاعدہ سپاہی تھے،
اس دوران ستھانہ کیمپ دائمی تعصب اور مذہبی اشتعال کے باوجود عاقلانہ طریقہ پر ہماری فوجوں سے براہ راست الجھنے سے مجتنب رہا، وہ ہوشیاری کے ساتھ ہمارے خلاف قبائل کی امداد کرتا رہا اور ان کو اشتعال دلاتا رہا لیکن ان لوگوں کو اپنا نقصان برداشت کرتے ہوئے ہم سے جنگ کرنے کی جرأت نہ ہوئی، ۱۸۵۷ء میں انہوں نے علانیہ ہم سے جنگ چھیڑ دی اور اپنی دیدہ دلیری سے ہم سے جزیہ کا مطالبہ کیا، مطالبہ نامنظور ہونے کے بعد وہ دلیرانہ ہمارے علاقہ پر اتر آئے اور انھوں نے لفٹیننٹ ہارن کے کیمپ پر ایک شب خوں مارا،
(جاری)
قسط ❹ پڑھیں
https://t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | Important Info
تذکرہ علماء ربانیین
سلسلہ ❻ قسط ❹
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
۱۸/اکتوبر ۱۸۶۳ء کو ایک برطانوی فوج سات ہزار سپاہیوں کی سرنیول چیمبرلین کی قیادت میں سرحد کو روانہ ہوئی علاقہ میں پہنچ کر جنرل کو معلوم ہوا کہ قبائل حریف سے مل گئے ہیں، حکومت…
سلسلہ ❻ قسط ❹
(اہل صادق پور کی جدوجہد اور تنظیمِ جماعت)
۱۸/اکتوبر ۱۸۶۳ء کو ایک برطانوی فوج سات ہزار سپاہیوں کی سرنیول چیمبرلین کی قیادت میں سرحد کو روانہ ہوئی علاقہ میں پہنچ کر جنرل کو معلوم ہوا کہ قبائل حریف سے مل گئے ہیں، حکومت…
ذبح کے وقت جانور کے سامنے کھڑے رہیں
Mufti Syed Adnan Kakakhyel
عنوان: قربانی خود اپنے ہاتھوں سے کریں
🔹 اپنے بچوں کی پرورش فارمی چوزوں کی طرح نہ کریں بلکہ ان کو جفاکش مجاہد بنائیں۔ (حضرت مفتی سید عدنان کاکاخیل دامت برکاتہم)
@impoinfo
🔹 اپنے بچوں کی پرورش فارمی چوزوں کی طرح نہ کریں بلکہ ان کو جفاکش مجاہد بنائیں۔ (حضرت مفتی سید عدنان کاکاخیل دامت برکاتہم)
@impoinfo
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
حصہ: ❶ ہم اپنے فون کی سیکیورٹی کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہے؟ یہ کچھ طریقہ ہیں جن سے کافی حد تک ہم اپنے فون کی سیکیورٹی کومحفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ❶ اپنے ایپس اور فون میں پاسورڈ کا استعمال کریں! ❷ سیکیورٹی ایپس کو فون میں اور انیٹی وائیرس کو لیپ ٹاپ اور پی، سی…
حصہ ❶ 👈 : یہاں لمس کیجئے!
حصہ ❷ 👇
ہم اپنے فون کی سیکیورٹی کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہے؟
❶ پبلک وائی فائی "WiFi" کا استعمال نہ کریں! یہ آپ کے ذاتی WIFI سے کہیں زیادہ خطرناک ہے! اس لیئے کہ آپ نہیں جانتے اسکا سورس کہاں سے ہے، اور کون کون استعمال کر رہا ہے اور درمیان میں کوئی ہیکر بھی ہو سکتا ہے، جو آپ کے ڈیٹا کو بآسانی بائی پاس کر سکتا ہے۔
❷ اپنے فون نمبر کو تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پرائیویٹ رکھئے! اور جس بھی اکاؤنٹ کو آپ نے اپنے فون نمبر سے منسلک کیا ہوا ہے وہاں "ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن" کو آن رکھئے۔
❸ اپنے فون پر موجود ایپس کو چیک کریں کہ آیا انہیں ضرورت سے زیادہ اجازت حاصل تو نہیں؟ مطلب جس ایپ کو آپ کے میڈیا کی ضرورت ہے وہ آپ کی لوکیشن، کیمرا،کانٹیکٹ کی پرمیشن بلا وجہ لے کر نہیں نہ بیٹھا! اگر ایسا ہے تو فورا غیر ضروری پرمیشن کو بند کیجئے۔
❹ فون اور اپنے باقی آلات کو چارج کرنے کے لیئے اپنا ذاتی یو ایس بی کیبل/ایڈاپٹر یا کوئی معتبر کیبل/ایڈاپٹر ہی استعمال کریجئے۔ ہیکر آپ کے یو ایس بی کیبل/اڈاپٹر کے ذریعہ آپ کے فون کے ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے اور فون کو لاک بھی کر سکتا ہے۔
یہ حملہ اکثر عوامی چارجنگ اسٹیشن! جیسے ریلوے اسٹیشن، بس اسٹیشین اور ایرپورٹ وغیرہ پر عام طور پر ہوتے ہیں۔
اس لیئے سفر وغیرہ میں اپنا ذاتی چارجر ساتھ رکھیں اور اسی کو استعمال کریں۔
ضروری معلومات چینل : @impoinfo
ضروری معلومات گروپ: @grpimpoinfo
حصہ ❷ 👇
ہم اپنے فون کی سیکیورٹی کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہے؟
❶ پبلک وائی فائی "WiFi" کا استعمال نہ کریں! یہ آپ کے ذاتی WIFI سے کہیں زیادہ خطرناک ہے! اس لیئے کہ آپ نہیں جانتے اسکا سورس کہاں سے ہے، اور کون کون استعمال کر رہا ہے اور درمیان میں کوئی ہیکر بھی ہو سکتا ہے، جو آپ کے ڈیٹا کو بآسانی بائی پاس کر سکتا ہے۔
❷ اپنے فون نمبر کو تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پرائیویٹ رکھئے! اور جس بھی اکاؤنٹ کو آپ نے اپنے فون نمبر سے منسلک کیا ہوا ہے وہاں "ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن" کو آن رکھئے۔
❸ اپنے فون پر موجود ایپس کو چیک کریں کہ آیا انہیں ضرورت سے زیادہ اجازت حاصل تو نہیں؟ مطلب جس ایپ کو آپ کے میڈیا کی ضرورت ہے وہ آپ کی لوکیشن، کیمرا،کانٹیکٹ کی پرمیشن بلا وجہ لے کر نہیں نہ بیٹھا! اگر ایسا ہے تو فورا غیر ضروری پرمیشن کو بند کیجئے۔
❹ فون اور اپنے باقی آلات کو چارج کرنے کے لیئے اپنا ذاتی یو ایس بی کیبل/ایڈاپٹر یا کوئی معتبر کیبل/ایڈاپٹر ہی استعمال کریجئے۔ ہیکر آپ کے یو ایس بی کیبل/اڈاپٹر کے ذریعہ آپ کے فون کے ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے اور فون کو لاک بھی کر سکتا ہے۔
یہ حملہ اکثر عوامی چارجنگ اسٹیشن! جیسے ریلوے اسٹیشن، بس اسٹیشین اور ایرپورٹ وغیرہ پر عام طور پر ہوتے ہیں۔
اس لیئے سفر وغیرہ میں اپنا ذاتی چارجر ساتھ رکھیں اور اسی کو استعمال کریں۔
ضروری معلومات چینل : @impoinfo
ضروری معلومات گروپ: @grpimpoinfo
چینل سے متعلق اپنے تاثرات یا چینل کی مزید بہتری کے لیے اپنی رائے دینے کے لیے منتظمین سے بذریعہ رابطہ بوٹ رابطہ کریں:
@ask4infobot
@ask4infobot
#Youtube_Data_Usage
✍: محمد سیف
جب ہم یوٹیوب کا استعمال کرتے ہیں تو ہمارا ڈیٹا ویڈیوز کی کوالیٹی کے اعتبار سے ختم ہوتا ہے، یعنی جس کوالیٹی کی ویڈیو ہوگی اسی کے اعتبار سے ڈیٹا ختم ہوگا!
ڈیٹا ختم ہونے کی مختصر اور "ضروری معلومات"! 👇
❶ ویڈیو کی کوالیٹی: 144P
1 منٹ = 3 ایم بی ڈیٹا خرچ
1 گھنٹہ = 80 ایم بی ڈیٹا خرچ
❷ ویڈیو کی کوالیٹی: 240P
ایک منٹ = 3.3 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 200 ایم بی ڈیٹا خرچ
❸ ویڈیو کی کوالیٹی: 360P
ایک منٹ = 5 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 300 ایم بی ڈیٹا خرچ
❹ ویڈیو کی کوالیٹی: 480P
ایک منٹ = 8.3 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 500 ایم بی ڈیٹا خرچ
❺ ویڈیو کی کوالیٹی: 720P
ایک منٹ = 25 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 1.5 جی بی ڈیٹا خرچ
❻ ویڈیو کی کوالیٹی: 1080P
ایک منٹ = 50 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 3 جی بی ڈیٹا خرچ
https://t.me/impoinfo
https://t.me/grpimpoinfo
✍: محمد سیف
جب ہم یوٹیوب کا استعمال کرتے ہیں تو ہمارا ڈیٹا ویڈیوز کی کوالیٹی کے اعتبار سے ختم ہوتا ہے، یعنی جس کوالیٹی کی ویڈیو ہوگی اسی کے اعتبار سے ڈیٹا ختم ہوگا!
ڈیٹا ختم ہونے کی مختصر اور "ضروری معلومات"! 👇
❶ ویڈیو کی کوالیٹی: 144P
1 منٹ = 3 ایم بی ڈیٹا خرچ
1 گھنٹہ = 80 ایم بی ڈیٹا خرچ
❷ ویڈیو کی کوالیٹی: 240P
ایک منٹ = 3.3 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 200 ایم بی ڈیٹا خرچ
❸ ویڈیو کی کوالیٹی: 360P
ایک منٹ = 5 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 300 ایم بی ڈیٹا خرچ
❹ ویڈیو کی کوالیٹی: 480P
ایک منٹ = 8.3 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 500 ایم بی ڈیٹا خرچ
❺ ویڈیو کی کوالیٹی: 720P
ایک منٹ = 25 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 1.5 جی بی ڈیٹا خرچ
❻ ویڈیو کی کوالیٹی: 1080P
ایک منٹ = 50 ایم بی ڈیٹا خرچ
ایک گھنٹہ = 3 جی بی ڈیٹا خرچ
https://t.me/impoinfo
https://t.me/grpimpoinfo
👍1