This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
القارئ عبدالباسط عبدالصمد | قل ادعوا الذين زعمتم من دون الله
💭🌸خدمة تلاوات🎧
🌾⛅•||تلاوة صباحية||•⛅🌾
﴿قُلِ ٱدْعُواْ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍۢ وَمَا لَهُۥ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍۢ ﴾
👤القارئ : عبدالباسط عبدالصمد
📖سبإ 22⇦31
#ضروری_معلومات_چینل
telegram.me/impoinfo
﴿قُلِ ٱدْعُواْ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍۢ وَمَا لَهُۥ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍۢ ﴾
👤القارئ : عبدالباسط عبدالصمد
📖سبإ 22⇦31
#ضروری_معلومات_چینل
telegram.me/impoinfo
تذکرہ علماء ربانیین
سلسلہ ❺ قسط ❷
{مولانا یحییٰ علی رحمۃ اللہ علیہ}
بعد اس کے حکم پھانسی منسوخ ہوا اور حکم دوام حبس بعبور دریائے شور، مع ضبطیٔ جائداد، ان تینوں پھانسی والوں کے واسطے بھی صادر ہوا اور یہ لوگ قیدیوں میں ملا دئے گئے اور حسب دستور اس جیل کے جیسے ہم لوگوں کی داڑھی منڈا دی گئی تھی، ویسا ہی آپ کی داڑھی منڈا دی گئی اور ایک کرتا کمر تک گیروا رنگا ہوا اور ایک ٹوپی کان ڈھپی گیروا رنگی ہوئی پہنا دی گئی، یہ جوگیانہ لباس اس جیل میں ہر ایک کو قانونا دیا جاتا تھا، اس صبح کو کپتان ٹائی صاحب مجسٹریٹ ڈپٹی کمشنر انبالہ و پارسن صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس جیل میں آئے اور داروغہ کو حکم دیا کہ مولانا سے سخت تر مشقت لی جاوے، چنانچہ اس نے خود اپنے روبرو کھڑے ہوکر ایک بڑے کنویں پر جو رہٹ چل رہا تھا عین تمازت آفتاب میں اس رہٹ کو آٹھ دس قیدی چلارہے تھے اور وہ بمشکل چلتا تھا، آپ کو بھی اس میں دے دیا آپ دو تین روز تک تمام روز اسے چلاتے رہے آپ کو بباعث حرارت آفتاب خون کا پیشاب آنے لگا، آپ نہایت صبر وشکر سے اس کو انجام دیتے رہے دوسرے قیدی جو نہایت قوی و توانا تھے، اس رہٹ کو کھینچتے کھینچتے بیٹھ جاتے مگر آپ صبح سے شام تک اسی میں لگے ہی رہتے چونکہ اس وقت ڈاکٹر صاحب موجود نہ تھے مجسٹریٹ صاحب نے یہ کاروائی اپنے دل کا غصہ نکالنے کو کرلی، جب ڈاکٹر صاحب دو تین روز کے بعد جیل میں تشریف لائے اور نو آمد قیدیوں کا ملاحظہ کیا، جناب مولانا کو رہٹ کے کام میں دیکھ کر داروغہ پر نہایت خفا ہوئے کہ اس کو یہاں کیوں لگایا ہے؟ داروغہ نے عرض کیا کہ مجسٹریٹ صاحب خود تشریف لاکر لگاگئے ہیں، چونکہ ڈاکٹر کو مجسٹریٹ سے چشمک تھی، فی الفور آپ کو وہاں سے چھڑا کر برعکس اس کے نہایت آسان کام میں لگا دیا، یعنی دری بافی کے کارخانہ میں چھت کے نیچے دری کا سوت کھولنے کا کام آپ کو دیا گیا، آپ حمد و ثنائے باری میں شب و روز مصروف رہتے اور کام مفوضہ سرکاری کو باحسن وجوہ انجام کردیتے، مثل اور قیدیوں کے تساہل و تکاہل کو کام میں نہ لاتے اور دوسرے قیدیوں بھی کو نصیحت فرماتے کہ جب تم سرکاری کھانا کھاتے ہو اور کپڑا پہنتے ہو اور مکان میں رہتے ہو تب ضرور ہے کہ تم سرکاری کام انجام دو اور قیدی لوگ جو جیل میں حکم عدولی اور بدمعاشی وغیرہ کرتے اس سے ان کو روکتے اور نصیحت کرتے، صدہا قیدی اس جیل میں ایسے نیک چلن ہوگئے کہ جس کو دیکھ کر داروغہ وغیرہ اہل کاران جیل حیران رہ جاتے۔ "
ہمارے حضرت نہایت باطمینان قلب، نہایت خنداں و شاداں وفرحاں یاد الہی میں اور لوگوں کو استقامت دلانے میں شب و روز مصروف رہتے، دنیائے دوں کی بے ثباتی اور اس کے راحت و آرام کی بے قراری اور ثواب آخرت اور جنت نعیم کی پائداری یاد دلاتے اور "رضوان من الله اکبر" کو خوب کھول کر بیان فرماتے، اس وقت کی کیفیت آپ کی قابل دید تھی، قلم جو ایک کاہ خشک ہے کہاں وہ طاقت کہ جو اس کو بیان کرسکے، فقیر مؤلف بھی اس زلزلہ میں گرفتار تھا، آپ کے قدموں کی برکت سے اللہ تعالی نے بچالیا کہ اغوائے شیطانی سے محفوظ رہ کر بیہودہ گوئی و ہفوات بکنے سے رکا رہا اور مغاک ہلاک میں نہ گرا، فلله الحمد علی ذلك۔ اگر آپ کا ساتھ نہ ہوتا تو ایسے مہالک سے بچنا متعسر بلکہ محال تھا، صبرو استقلال مجھ ایسے نالائق کو کہاں میسر یہ تو بہت بڑے لوگوں کا کام ہے، صرف اس قدر کہ زبان ناپاک باتوں سے بچی رہے، ہزار ہزار شکر اس قادر مطلق کا ہے اس وقت ایک اور امتحان اس نالائق پر خاص کرکے آیا کہ کمشنر صاحب و ڈپٹی کمشنر صاحب کی خواہش ہوئی کہ بذریعہ کمترین مولوی عبداللہ ساکن افغانستان سے پیغام مصالحت کیا جائے کہ جن سے مقام انبیلہ وغیرہ سرکار سے جنگ ہوئی تھی اور وہ اس کمترین کے چچازاد بھائی تھے، اسی حالت میں قیدیوں کی چالان انبالہ سے لاہور جانے کو تیار کی گئی اس میں جناب حضرت مولانا و منشی محمد جعفر صاحب وغیرہ کل تیار کرلئے گئے مگر محمد شفیع و عبدالکریم و الہی بخش جو بوجہ گواہی ہم لوگوں سے علیٰحدہ کرلئے گئے تھے رکھ لئے گئے اور یہ فقیر بھی بوجہ کاروائی صلح روک لیا گیا اور نیز میں تنفس سخت میں اس وقت مبتلا تھا کہ لیاقت سفر مطلق نہ تھی، اس وجہ سے بھی ڈاکٹر نے مجھے روک لیا اور جناب حضرت مع چھ آدمیوں کے روانہ جیل لاہور کئے گئے، اب اس وقت سے عرصہ دوسال تک میں صحبت کیمیا خاصیت سے اپنی بداعمالیوں کےسبب مہجور کردیا گیا، اب جو کچھ میں بیان کروں گا ان دوسالوں کی کیفیت وہ سنی ہوئی ہوگی۔
(جاری)
قسط ❸ پڑھیں
https://t.me/impoinfo
سلسلہ ❺ قسط ❷
{مولانا یحییٰ علی رحمۃ اللہ علیہ}
بعد اس کے حکم پھانسی منسوخ ہوا اور حکم دوام حبس بعبور دریائے شور، مع ضبطیٔ جائداد، ان تینوں پھانسی والوں کے واسطے بھی صادر ہوا اور یہ لوگ قیدیوں میں ملا دئے گئے اور حسب دستور اس جیل کے جیسے ہم لوگوں کی داڑھی منڈا دی گئی تھی، ویسا ہی آپ کی داڑھی منڈا دی گئی اور ایک کرتا کمر تک گیروا رنگا ہوا اور ایک ٹوپی کان ڈھپی گیروا رنگی ہوئی پہنا دی گئی، یہ جوگیانہ لباس اس جیل میں ہر ایک کو قانونا دیا جاتا تھا، اس صبح کو کپتان ٹائی صاحب مجسٹریٹ ڈپٹی کمشنر انبالہ و پارسن صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس جیل میں آئے اور داروغہ کو حکم دیا کہ مولانا سے سخت تر مشقت لی جاوے، چنانچہ اس نے خود اپنے روبرو کھڑے ہوکر ایک بڑے کنویں پر جو رہٹ چل رہا تھا عین تمازت آفتاب میں اس رہٹ کو آٹھ دس قیدی چلارہے تھے اور وہ بمشکل چلتا تھا، آپ کو بھی اس میں دے دیا آپ دو تین روز تک تمام روز اسے چلاتے رہے آپ کو بباعث حرارت آفتاب خون کا پیشاب آنے لگا، آپ نہایت صبر وشکر سے اس کو انجام دیتے رہے دوسرے قیدی جو نہایت قوی و توانا تھے، اس رہٹ کو کھینچتے کھینچتے بیٹھ جاتے مگر آپ صبح سے شام تک اسی میں لگے ہی رہتے چونکہ اس وقت ڈاکٹر صاحب موجود نہ تھے مجسٹریٹ صاحب نے یہ کاروائی اپنے دل کا غصہ نکالنے کو کرلی، جب ڈاکٹر صاحب دو تین روز کے بعد جیل میں تشریف لائے اور نو آمد قیدیوں کا ملاحظہ کیا، جناب مولانا کو رہٹ کے کام میں دیکھ کر داروغہ پر نہایت خفا ہوئے کہ اس کو یہاں کیوں لگایا ہے؟ داروغہ نے عرض کیا کہ مجسٹریٹ صاحب خود تشریف لاکر لگاگئے ہیں، چونکہ ڈاکٹر کو مجسٹریٹ سے چشمک تھی، فی الفور آپ کو وہاں سے چھڑا کر برعکس اس کے نہایت آسان کام میں لگا دیا، یعنی دری بافی کے کارخانہ میں چھت کے نیچے دری کا سوت کھولنے کا کام آپ کو دیا گیا، آپ حمد و ثنائے باری میں شب و روز مصروف رہتے اور کام مفوضہ سرکاری کو باحسن وجوہ انجام کردیتے، مثل اور قیدیوں کے تساہل و تکاہل کو کام میں نہ لاتے اور دوسرے قیدیوں بھی کو نصیحت فرماتے کہ جب تم سرکاری کھانا کھاتے ہو اور کپڑا پہنتے ہو اور مکان میں رہتے ہو تب ضرور ہے کہ تم سرکاری کام انجام دو اور قیدی لوگ جو جیل میں حکم عدولی اور بدمعاشی وغیرہ کرتے اس سے ان کو روکتے اور نصیحت کرتے، صدہا قیدی اس جیل میں ایسے نیک چلن ہوگئے کہ جس کو دیکھ کر داروغہ وغیرہ اہل کاران جیل حیران رہ جاتے۔ "
ہمارے حضرت نہایت باطمینان قلب، نہایت خنداں و شاداں وفرحاں یاد الہی میں اور لوگوں کو استقامت دلانے میں شب و روز مصروف رہتے، دنیائے دوں کی بے ثباتی اور اس کے راحت و آرام کی بے قراری اور ثواب آخرت اور جنت نعیم کی پائداری یاد دلاتے اور "رضوان من الله اکبر" کو خوب کھول کر بیان فرماتے، اس وقت کی کیفیت آپ کی قابل دید تھی، قلم جو ایک کاہ خشک ہے کہاں وہ طاقت کہ جو اس کو بیان کرسکے، فقیر مؤلف بھی اس زلزلہ میں گرفتار تھا، آپ کے قدموں کی برکت سے اللہ تعالی نے بچالیا کہ اغوائے شیطانی سے محفوظ رہ کر بیہودہ گوئی و ہفوات بکنے سے رکا رہا اور مغاک ہلاک میں نہ گرا، فلله الحمد علی ذلك۔ اگر آپ کا ساتھ نہ ہوتا تو ایسے مہالک سے بچنا متعسر بلکہ محال تھا، صبرو استقلال مجھ ایسے نالائق کو کہاں میسر یہ تو بہت بڑے لوگوں کا کام ہے، صرف اس قدر کہ زبان ناپاک باتوں سے بچی رہے، ہزار ہزار شکر اس قادر مطلق کا ہے اس وقت ایک اور امتحان اس نالائق پر خاص کرکے آیا کہ کمشنر صاحب و ڈپٹی کمشنر صاحب کی خواہش ہوئی کہ بذریعہ کمترین مولوی عبداللہ ساکن افغانستان سے پیغام مصالحت کیا جائے کہ جن سے مقام انبیلہ وغیرہ سرکار سے جنگ ہوئی تھی اور وہ اس کمترین کے چچازاد بھائی تھے، اسی حالت میں قیدیوں کی چالان انبالہ سے لاہور جانے کو تیار کی گئی اس میں جناب حضرت مولانا و منشی محمد جعفر صاحب وغیرہ کل تیار کرلئے گئے مگر محمد شفیع و عبدالکریم و الہی بخش جو بوجہ گواہی ہم لوگوں سے علیٰحدہ کرلئے گئے تھے رکھ لئے گئے اور یہ فقیر بھی بوجہ کاروائی صلح روک لیا گیا اور نیز میں تنفس سخت میں اس وقت مبتلا تھا کہ لیاقت سفر مطلق نہ تھی، اس وجہ سے بھی ڈاکٹر نے مجھے روک لیا اور جناب حضرت مع چھ آدمیوں کے روانہ جیل لاہور کئے گئے، اب اس وقت سے عرصہ دوسال تک میں صحبت کیمیا خاصیت سے اپنی بداعمالیوں کےسبب مہجور کردیا گیا، اب جو کچھ میں بیان کروں گا ان دوسالوں کی کیفیت وہ سنی ہوئی ہوگی۔
(جاری)
قسط ❸ پڑھیں
https://t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | Important Info
تذکرہ علمائے ربانیین
سلسلہ ❺ قسط ❸
{مولانا یحیی علی رحمۃ اللہ علیہ}
الغرض آپ انبالہ سے روانہ ہوکرمع دورے ستر پچھتر قیدیوں کے جیل لاہور میں پہنچے اور وہاں قریب ایک برس کے آپ کاقیام رہا اور اس اثنا میں برابر قیدیوں
کو آپ پندونصائح کیاکرتے، چونکہ قید…
سلسلہ ❺ قسط ❸
{مولانا یحیی علی رحمۃ اللہ علیہ}
الغرض آپ انبالہ سے روانہ ہوکرمع دورے ستر پچھتر قیدیوں کے جیل لاہور میں پہنچے اور وہاں قریب ایک برس کے آپ کاقیام رہا اور اس اثنا میں برابر قیدیوں
کو آپ پندونصائح کیاکرتے، چونکہ قید…
تذکرہ علمائے ربانیین
سلسلہ ❺ قسط ❸
{مولانا یحیی علی رحمۃ اللہ علیہ}
الغرض آپ انبالہ سے روانہ ہوکرمع دورے ستر پچھتر قیدیوں کے جیل لاہور میں پہنچے اور وہاں قریب ایک برس کے آپ کاقیام رہا اور اس اثنا میں برابر قیدیوں
کو آپ پندونصائح کیاکرتے، چونکہ قید خانہ میں مجمع بدکاروں اور چور ڈاکو وغیرہ کارہا کرتا
ہے۔ آپ کا وعظ بھی انہیں افعال ذمیمہ کے بیان میں ہوتا اور توحید و تاکید صوم و صلٰوۃ کی ہوتی۔ صدہا چور اور ڈاکوں نے توبہ کی کہ اب کبھی اس پیشہ کو نہ کریں گے۔ آپ ان کو عذاب دائم مقیم سے ڈراتے صدہا مؤحد اور نمازی ہوگئے، ایک بلوچ ڈاکو کا ماجرا بیان کیا جاتا ہے، اس کا نام مرزی تھا، اس کے آباء و اجداد سے چوری اور ڈکیتی کا پیشہ چلا آتا تھا، وہ نہایت قوی ہیکل جوان تھا، اس نے جیل خانہ میں آکر بھی بہت کچھ شرارت کی، سرکاری کام ہرگز نہیں کرتا صدہا بید اس کو لگائے گئے مگر اس نے اف نہیں کیا، اپنی بد چلنی سے باز نہیں آیا، بیڑی اور ڈنڈا بیڑی، ہتھکڑی اور طوق و قید تنہائی وغیرہ جو کچھ سزاوہا ہے وہ سب اس پر عمل میں لایا گیا لیکن وہ باز نہ آیا، داروغہ و جمعدار سب اس سےڈرتے وہ ان کو بھی موقع پاکر ہتھکڑی سے پیٹ دیتا، خدا کے حکم سے آپ کا بستر اور اس کا ایک ہی جگہ ہوگیا، خدا کی قدرت کہ آپ کی نصیحت وپند سے تھوڑے ہی عرصہ میں اس کی کیفیت بدل گئی، اس نے سرکاری مشقت کرنی شروع کردی اور ایسا نیک چلن بن گیا کہ داروغہ وغیرہ سب متحیر ہوگئے، ہتھکڑی اور طوق وغیرہ اس سے دور کردیے گئے اور پارچہ بافی کے کارخانہ میں داخل کردیا گیا کہ جہاں دائم الحبس اور بڑے بڑے میعادی کام کیا کرتے تھے اور عمدہ کام کرنے پر اور زیادہ کام کرنے پر سال میں دو ایک ماہ قید معاف بھی ملا کرتی ہے، اس نے وہاں جاکر بہت جلد پارچہ بافی کا کام سیکھ لیا اور نہایت عمدہ کپڑا بننے لگا، جب میں لاہور جیل میں گیا خود میں نے اس مرزی بلوچ کو دیکھا کہ وہ پانچوں وقت نماز قید کے ساتھ پڑھتا، اور اپنے گزشتہ اعمال کو یاد کرکے خوف خدا سے اکثر روتا، اے بھائیو! میں سچ کہتا ہوں جب میں نے اس کو دیکھا ایک ولی پایا…… اس قسم کے اور بہت سے ماجرے ہیں میں نے یہ ایک تمثیلا بیان کیا، الغرض آپ کا وجود باجود اس قید خانہ میں واسطے ہدایت قیدیوں کے بھیج دیا گیا تھا کہ ہزاروں فیضیاب ہوگئے، اہلکاران جیل اس کرامت کو دیکھ دیکھ کر نہایت متحیر و متعجب ہوتے، تمام ہندو آپ کو دیوتا اور اوتار کہتے اور مسلمان ولی سمجھتے، اتوار کا روز جو فرصت کا قیدیوں کا ہوتا، فجر کو بعد ملاحظہ ڈاکٹر آپ کے پاس مجمع ہوجاتا آپ حسب حال ان قیدیوں کے بدکاریوں سے بچنے کا اور نیک چلنی اور توحید الہی کا بیان فرماتے، بعد اس کے آپ مع دوسرے قیدیوں کے لاہور سے بسوارئ ریل روانہ ملتان ہوئے وہاں ہفتہ عشرہ قیام کرکے بسواری مرکب دخانی براہ سمندر بمبئی پہنچے اور وہاں سے بسواری ریل بمقام تھانہ (جوایک شہر کا نام ہے) اور وہاں بہت بڑا قلعہ جو مرہٹوں کا بنایا ہوا ہے اور اب وہ جیل کا کام دیتا ہے، اس میں بھیج دئے گئے، وہ نہایت سخت جیل ہے کہ دوسرے جیلی اس سے زیادہ پناہ مانگتے وہاں کے اہلکار جیلر وغیرہ قسوت قلبی میں دوسرے جیلوں کے نسبت بدرجہا زیادہ، تمام احاطہ بمبئی و پنجاب کے شریر ترین قیدی اس جیل میں بھیج دئے جاتے ہیں، آپ ہر جگہ اپنا کام کرتے رہے، چند مہینوں تک آپ کا قیام وہاں رہا، آپ کا فیض بدستور وہاں بھی جاری رہا اس کے بعد آپ آٹھویں دسمبر ۱۸۶۵ ء کو بسواری جہاز بادبانی مع دیگر قیدیوں کے روانہ پورٹ بلیر و انڈمان ہوئے، اورصعوبات و تکلیفات جہاز کو طے کرکے بتاریخ گیارہویں جنوری ۱۸۶۶ء آپ داخل جزیرۂ انڈمان ہوئے، بعد اس کے جناب منشی محمد اکبر زماں صاحب نے جن کے اوصاف حمیدہ اور شریف پروری اوپر بیان ہوچکی ہے آپ کو اپنے مکان میں لے جاکر رکھا اور باجازت چیف کمشنر صاحب اپنی تائید میں لے لیا چونکہ منشی صاحب کو بہت سے کام سپرد تھے اکثر فرصت کے وقت میں آپ مکان پر بھی سرکاری کام کیا کرتے تھے لہذا جناب مولانا کو حاضری کچہری سے بچاکر اسی مد میں داخل کیا۔ اب دونوں حضرات یعنی مولانا احمداللہ اور مولانا یحییٰ علی رحمۃاللہ علیہما ایک ہی جگہ جمع ہوگئے اور میاں عبدالغفار صاحب کو بھی منشی صاحب ممدوح نے نمبر سازی سکھا کر ان کو بھی اپنے ہی مکان میں جگہ دی۔ بالجملہ یہ تینوں شخص ایک ہی مکان میں رہنے لگے،
(جاری)
قسط ❹ پڑھیں
https://t.me/impoinfo
سلسلہ ❺ قسط ❸
{مولانا یحیی علی رحمۃ اللہ علیہ}
الغرض آپ انبالہ سے روانہ ہوکرمع دورے ستر پچھتر قیدیوں کے جیل لاہور میں پہنچے اور وہاں قریب ایک برس کے آپ کاقیام رہا اور اس اثنا میں برابر قیدیوں
کو آپ پندونصائح کیاکرتے، چونکہ قید خانہ میں مجمع بدکاروں اور چور ڈاکو وغیرہ کارہا کرتا
ہے۔ آپ کا وعظ بھی انہیں افعال ذمیمہ کے بیان میں ہوتا اور توحید و تاکید صوم و صلٰوۃ کی ہوتی۔ صدہا چور اور ڈاکوں نے توبہ کی کہ اب کبھی اس پیشہ کو نہ کریں گے۔ آپ ان کو عذاب دائم مقیم سے ڈراتے صدہا مؤحد اور نمازی ہوگئے، ایک بلوچ ڈاکو کا ماجرا بیان کیا جاتا ہے، اس کا نام مرزی تھا، اس کے آباء و اجداد سے چوری اور ڈکیتی کا پیشہ چلا آتا تھا، وہ نہایت قوی ہیکل جوان تھا، اس نے جیل خانہ میں آکر بھی بہت کچھ شرارت کی، سرکاری کام ہرگز نہیں کرتا صدہا بید اس کو لگائے گئے مگر اس نے اف نہیں کیا، اپنی بد چلنی سے باز نہیں آیا، بیڑی اور ڈنڈا بیڑی، ہتھکڑی اور طوق و قید تنہائی وغیرہ جو کچھ سزاوہا ہے وہ سب اس پر عمل میں لایا گیا لیکن وہ باز نہ آیا، داروغہ و جمعدار سب اس سےڈرتے وہ ان کو بھی موقع پاکر ہتھکڑی سے پیٹ دیتا، خدا کے حکم سے آپ کا بستر اور اس کا ایک ہی جگہ ہوگیا، خدا کی قدرت کہ آپ کی نصیحت وپند سے تھوڑے ہی عرصہ میں اس کی کیفیت بدل گئی، اس نے سرکاری مشقت کرنی شروع کردی اور ایسا نیک چلن بن گیا کہ داروغہ وغیرہ سب متحیر ہوگئے، ہتھکڑی اور طوق وغیرہ اس سے دور کردیے گئے اور پارچہ بافی کے کارخانہ میں داخل کردیا گیا کہ جہاں دائم الحبس اور بڑے بڑے میعادی کام کیا کرتے تھے اور عمدہ کام کرنے پر اور زیادہ کام کرنے پر سال میں دو ایک ماہ قید معاف بھی ملا کرتی ہے، اس نے وہاں جاکر بہت جلد پارچہ بافی کا کام سیکھ لیا اور نہایت عمدہ کپڑا بننے لگا، جب میں لاہور جیل میں گیا خود میں نے اس مرزی بلوچ کو دیکھا کہ وہ پانچوں وقت نماز قید کے ساتھ پڑھتا، اور اپنے گزشتہ اعمال کو یاد کرکے خوف خدا سے اکثر روتا، اے بھائیو! میں سچ کہتا ہوں جب میں نے اس کو دیکھا ایک ولی پایا…… اس قسم کے اور بہت سے ماجرے ہیں میں نے یہ ایک تمثیلا بیان کیا، الغرض آپ کا وجود باجود اس قید خانہ میں واسطے ہدایت قیدیوں کے بھیج دیا گیا تھا کہ ہزاروں فیضیاب ہوگئے، اہلکاران جیل اس کرامت کو دیکھ دیکھ کر نہایت متحیر و متعجب ہوتے، تمام ہندو آپ کو دیوتا اور اوتار کہتے اور مسلمان ولی سمجھتے، اتوار کا روز جو فرصت کا قیدیوں کا ہوتا، فجر کو بعد ملاحظہ ڈاکٹر آپ کے پاس مجمع ہوجاتا آپ حسب حال ان قیدیوں کے بدکاریوں سے بچنے کا اور نیک چلنی اور توحید الہی کا بیان فرماتے، بعد اس کے آپ مع دوسرے قیدیوں کے لاہور سے بسوارئ ریل روانہ ملتان ہوئے وہاں ہفتہ عشرہ قیام کرکے بسواری مرکب دخانی براہ سمندر بمبئی پہنچے اور وہاں سے بسواری ریل بمقام تھانہ (جوایک شہر کا نام ہے) اور وہاں بہت بڑا قلعہ جو مرہٹوں کا بنایا ہوا ہے اور اب وہ جیل کا کام دیتا ہے، اس میں بھیج دئے گئے، وہ نہایت سخت جیل ہے کہ دوسرے جیلی اس سے زیادہ پناہ مانگتے وہاں کے اہلکار جیلر وغیرہ قسوت قلبی میں دوسرے جیلوں کے نسبت بدرجہا زیادہ، تمام احاطہ بمبئی و پنجاب کے شریر ترین قیدی اس جیل میں بھیج دئے جاتے ہیں، آپ ہر جگہ اپنا کام کرتے رہے، چند مہینوں تک آپ کا قیام وہاں رہا، آپ کا فیض بدستور وہاں بھی جاری رہا اس کے بعد آپ آٹھویں دسمبر ۱۸۶۵ ء کو بسواری جہاز بادبانی مع دیگر قیدیوں کے روانہ پورٹ بلیر و انڈمان ہوئے، اورصعوبات و تکلیفات جہاز کو طے کرکے بتاریخ گیارہویں جنوری ۱۸۶۶ء آپ داخل جزیرۂ انڈمان ہوئے، بعد اس کے جناب منشی محمد اکبر زماں صاحب نے جن کے اوصاف حمیدہ اور شریف پروری اوپر بیان ہوچکی ہے آپ کو اپنے مکان میں لے جاکر رکھا اور باجازت چیف کمشنر صاحب اپنی تائید میں لے لیا چونکہ منشی صاحب کو بہت سے کام سپرد تھے اکثر فرصت کے وقت میں آپ مکان پر بھی سرکاری کام کیا کرتے تھے لہذا جناب مولانا کو حاضری کچہری سے بچاکر اسی مد میں داخل کیا۔ اب دونوں حضرات یعنی مولانا احمداللہ اور مولانا یحییٰ علی رحمۃاللہ علیہما ایک ہی جگہ جمع ہوگئے اور میاں عبدالغفار صاحب کو بھی منشی صاحب ممدوح نے نمبر سازی سکھا کر ان کو بھی اپنے ہی مکان میں جگہ دی۔ بالجملہ یہ تینوں شخص ایک ہی مکان میں رہنے لگے،
(جاری)
قسط ❹ پڑھیں
https://t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | Important Info
تذکرہ علماء ربانیین
سلسلہ ❺ قسط ❹ تتمہ
{حضرت مولانا یحییٰ علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ}
جناب مولانا کا کام یہ تھا کہ بعد فرصت ازکار سرکار لوگوں کو قرآن و حدیث پڑھاتے، نصیحت کرتے، گھر گھر پھرتے، عورتوں کو نماز کی تعلیم کرتے، قرآن پڑھاتے، صدہا مرد و عورت کہ…
سلسلہ ❺ قسط ❹ تتمہ
{حضرت مولانا یحییٰ علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ}
جناب مولانا کا کام یہ تھا کہ بعد فرصت ازکار سرکار لوگوں کو قرآن و حدیث پڑھاتے، نصیحت کرتے، گھر گھر پھرتے، عورتوں کو نماز کی تعلیم کرتے، قرآن پڑھاتے، صدہا مرد و عورت کہ…
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح ٹیلی گرام کے انسٹینٹ ویو پوسٹ کی تحریر بذریعہ ریڈ می بوٹ ( @readmebot ) حاصل کی جائے۔
صرف انسٹینٹ ویو کی ہی نہیں بلکہ آپ کسی بھی ویب سائٹ کا لنک بھیج کر اس کی تحریر حاصل کر سکتے ہیں۔
ناشر: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
telegram.me/impoinfo
صرف انسٹینٹ ویو کی ہی نہیں بلکہ آپ کسی بھی ویب سائٹ کا لنک بھیج کر اس کی تحریر حاصل کر سکتے ہیں۔
ناشر: ضروری معلومات ٹیلی گرام چینل
telegram.me/impoinfo
تذکرہ علماء ربانیین
سلسلہ ❺ قسط ❹ تتمہ
{حضرت مولانا یحییٰ علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ}
جناب مولانا کا کام یہ تھا کہ بعد فرصت ازکار سرکار لوگوں کو قرآن و حدیث پڑھاتے، نصیحت کرتے، گھر گھر پھرتے، عورتوں کو نماز کی تعلیم کرتے، قرآن پڑھاتے، صدہا مرد و عورت کہ جنہوں نے اپنے معبود حقیقی کے سامنے سر نہ جھکایا تھا پکے نمازی بن گئے، اسی اثنا میں یہ کمترین بھی بعد مہاجرت دو برس کے پورٹ بلیر پہنچ گیا اور تقریبا تین چار مہینے آپ کی حضورئ خدمت سے پھر مشرف ہوا، دوبرس آپ وہاں اپنی عمر عزیز کو یاد خدا و تعلیم و تلقین خلق اللہ میں صرف کرکے بتاریخ بیسویں فروری ۱۸۶۸ء کو لبیک کہتے ہوئے داخل خلد بریں ہوئے۔"
اہل صادق پور "فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ کے پورے مصداق تھے، مقدمۂ سازش میں حکومت نے ان کے مکانات مسکونہ تک مسمار کردیے اور اہل صادق پور کا وہ محلہ جہاں محل کھڑے تھے کف دست میدان بنا کر اور مکانوں پر ہل چلوا کر بلدیہ کی عمارت بنوادی اورقدیم تعمیر کی ایک یادگار، اور ایک ایک نشان مٹادیا، قبریں بھی مشبہ کہہ کر کھود کر پھینک دیں، حتی کہ کھجور کا ایک درخت رہ گیا تھا جو اس چمن خزاں رسیدہ کی یادگار تھا اس کو بھی اکھڑوا دیا، مولانا یحییٰ علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جب ان کے مکان کے کھدنے کی اطلاع انڈمان میں ہوئی تو آپ نے اہلیہ کو ایک خط لکھا اس کا کچھ مضمون جو اس واقعہ سے متعلق ہے نقل کیا جاتا ہے:
"ضروری لکھنا یہ ہے خط سے نور چشم محمد حسن مد عمرہ کے حال انہدام دونوں مکانوں کا معلوم ہوا، البتہ دل کو قلق ہوا اور صدمہ بہت گزرا، کیونکہ مکان سکونت قدیم سے خصوصا وہ مکان جس میں ذکر اللہ بہت ہوا ہو اور کاروبار فریضہ (فرضیہ) بہت اجر پائے ہوں، مؤمنین کو ان سے محبت بطور اہل و عیال کے ہوتی ہے، اسی روز شب کو زیارتِ روح انور محمد ﷺ کے مشرف ہوا، تبسم کناں فرمانے لگے کہ البتہ انہدام سے مکان کے مالکان مکان کو خصوصا نسواں کو بہت رنج و الم ہوا ہے اور ہونے کی وجہ ہے اور ان آیات کریمہ کو زبان مبارک سے ارشاد فرمایا،
وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۞أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۞ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ۞ عَسیٰ رَبَّنَا اَن یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْھَا اِنَّا اِلیٰ رَبِّنَا رَاغِبُوْنَ۞ اور فرمایا کہ ان آیات کریمہ کو ورد زبان رکھو _ عبادت خانے اور مسجد اقصیٰ اور مکانات انبیاءؑ بخت نصر اور جالوت کے ہاتھ سے انہدام پائے تھے آخر منہدم کرنے والا نسیاً منسیّا ہوئے اور یہ اماکن متبرکہ از سر نو بنا ہوئے اور پہلے سے زیادہ آباد ہوئے، تم بھی اپنے رب کے فضل سے ایسا ہی امید رکھو، عنقریب یہ بشارتیں ہونے والی ہیں، اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ دشمنان خدا ان کے دوستوں کو اچھی طرح ستالیں، بعد اس کے اس کا اچھی طرح بدلہ پاویں (دشمنان خدا منافقین ہیں جو حکام سے جھوٹی جھوٹی باتیں مسلمانوں کے حق میں لگا کے ان کو ایذا دیتے ہیں) اللہ تعالیٰ کا بہت شکر کرو کہ تم ایسے امتحانوں کے لائق ٹھہرے، بعد اس کے فرمایا کہ اس مکاشفہ کو بعینہٖ امّ یوسف کے پاس لکھ بھیجو کہ سب نسواں و مالکان مکان کو سنادے اور رجال مکان بھی اس کو دیکھیں اور یہ غفلت کو کانوں سے نکالیں اس کے بعد دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور تشریف لے گئے "۔
(ختم شد)
https://t.me/impoinfo
سلسلہ ❺ قسط ❹ تتمہ
{حضرت مولانا یحییٰ علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ}
جناب مولانا کا کام یہ تھا کہ بعد فرصت ازکار سرکار لوگوں کو قرآن و حدیث پڑھاتے، نصیحت کرتے، گھر گھر پھرتے، عورتوں کو نماز کی تعلیم کرتے، قرآن پڑھاتے، صدہا مرد و عورت کہ جنہوں نے اپنے معبود حقیقی کے سامنے سر نہ جھکایا تھا پکے نمازی بن گئے، اسی اثنا میں یہ کمترین بھی بعد مہاجرت دو برس کے پورٹ بلیر پہنچ گیا اور تقریبا تین چار مہینے آپ کی حضورئ خدمت سے پھر مشرف ہوا، دوبرس آپ وہاں اپنی عمر عزیز کو یاد خدا و تعلیم و تلقین خلق اللہ میں صرف کرکے بتاریخ بیسویں فروری ۱۸۶۸ء کو لبیک کہتے ہوئے داخل خلد بریں ہوئے۔"
اہل صادق پور "فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ کے پورے مصداق تھے، مقدمۂ سازش میں حکومت نے ان کے مکانات مسکونہ تک مسمار کردیے اور اہل صادق پور کا وہ محلہ جہاں محل کھڑے تھے کف دست میدان بنا کر اور مکانوں پر ہل چلوا کر بلدیہ کی عمارت بنوادی اورقدیم تعمیر کی ایک یادگار، اور ایک ایک نشان مٹادیا، قبریں بھی مشبہ کہہ کر کھود کر پھینک دیں، حتی کہ کھجور کا ایک درخت رہ گیا تھا جو اس چمن خزاں رسیدہ کی یادگار تھا اس کو بھی اکھڑوا دیا، مولانا یحییٰ علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جب ان کے مکان کے کھدنے کی اطلاع انڈمان میں ہوئی تو آپ نے اہلیہ کو ایک خط لکھا اس کا کچھ مضمون جو اس واقعہ سے متعلق ہے نقل کیا جاتا ہے:
"ضروری لکھنا یہ ہے خط سے نور چشم محمد حسن مد عمرہ کے حال انہدام دونوں مکانوں کا معلوم ہوا، البتہ دل کو قلق ہوا اور صدمہ بہت گزرا، کیونکہ مکان سکونت قدیم سے خصوصا وہ مکان جس میں ذکر اللہ بہت ہوا ہو اور کاروبار فریضہ (فرضیہ) بہت اجر پائے ہوں، مؤمنین کو ان سے محبت بطور اہل و عیال کے ہوتی ہے، اسی روز شب کو زیارتِ روح انور محمد ﷺ کے مشرف ہوا، تبسم کناں فرمانے لگے کہ البتہ انہدام سے مکان کے مالکان مکان کو خصوصا نسواں کو بہت رنج و الم ہوا ہے اور ہونے کی وجہ ہے اور ان آیات کریمہ کو زبان مبارک سے ارشاد فرمایا،
وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۞أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۞ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ۞ عَسیٰ رَبَّنَا اَن یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْھَا اِنَّا اِلیٰ رَبِّنَا رَاغِبُوْنَ۞ اور فرمایا کہ ان آیات کریمہ کو ورد زبان رکھو _ عبادت خانے اور مسجد اقصیٰ اور مکانات انبیاءؑ بخت نصر اور جالوت کے ہاتھ سے انہدام پائے تھے آخر منہدم کرنے والا نسیاً منسیّا ہوئے اور یہ اماکن متبرکہ از سر نو بنا ہوئے اور پہلے سے زیادہ آباد ہوئے، تم بھی اپنے رب کے فضل سے ایسا ہی امید رکھو، عنقریب یہ بشارتیں ہونے والی ہیں، اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ دشمنان خدا ان کے دوستوں کو اچھی طرح ستالیں، بعد اس کے اس کا اچھی طرح بدلہ پاویں (دشمنان خدا منافقین ہیں جو حکام سے جھوٹی جھوٹی باتیں مسلمانوں کے حق میں لگا کے ان کو ایذا دیتے ہیں) اللہ تعالیٰ کا بہت شکر کرو کہ تم ایسے امتحانوں کے لائق ٹھہرے، بعد اس کے فرمایا کہ اس مکاشفہ کو بعینہٖ امّ یوسف کے پاس لکھ بھیجو کہ سب نسواں و مالکان مکان کو سنادے اور رجال مکان بھی اس کو دیکھیں اور یہ غفلت کو کانوں سے نکالیں اس کے بعد دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور تشریف لے گئے "۔
(ختم شد)
https://t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
Protect your device from dangerous sites, get rid of annoying ads, get access to blocked resources in your country
InviZible Pro includes a well-known modules DNSCrypt, Tor , Purple I2P. They are used to achieve maximum security, privacy and comfortable use of the Internet. This application is designed for Android devices with Root access .
InviZible Pro includes a well-known modules DNSCrypt, Tor , Purple I2P. They are used to achieve maximum security, privacy and comfortable use of the Internet. This application is designed for Android devices with Root access .
اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام زمانہ جاہلیت کی غیر انسانی طفل کشی کی رسم کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو ان کے اصل مقام و مرتبے سے ہمکنار کیا۔ اس کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، عورت کو وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مضبوط کیا۔ اسلام سے پہلے دنیا نے جس قدر ترقی کی تھی، صرف ایک صنف واحد(مرد) کی اخلاقی اور دماغی قوتوں کا کرشمہ تھی۔ مصر، بابل، ایران، یونان اور ہندوستان مختلف تہذیب و تمدن کے چمن آراء تھے لیکن اس میں صنف نازک (عورت) کی آبیاری کا کچھ دخل نہ تھا۔ عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، (تحریف شدہ) تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"سیر الصحابیات معہ اسوہ صحابیات" مولانا سعید انصاری کی نایاب تصنیف ہے۔ جس میں موصوف نے ازواج مطہرات، بنات طاہرات اور اکابر صحابیات کے سوانح زندگی اور ان کے علمی، مذہبی، اخلاقی کارناموں کو مفصل قلمبند کیا ہے۔ کتاب کے آخر میں مولانا سید سلیمان ندویؒ کا مختصر رسالہ"مسلمان عورتوں کی بہادری" کو بھی کتاب ہذا کے ساتھ ذکر کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی محنتوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
اپنے ٹیلی فون نیٹورک کے ISP انٹرنیٹ سروس پرووائڈر سے اپنی ایکٹیوٹی کو چھپائے رکھنے، موبائل میں آنے والی ہر قسم کی اشتہارات اور فحش اور خطرناک وائرس زدہ یا جاسوسی ویب سائٹس یا اپلیکیشن سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک عمدہ ایپ ہے InviZible Pro۔
صرف اتنا ہی نہیں اس ایپ کے ذریعہ کسی ایپ کو چلانا یا کسی ویب سائٹ کو کھولنا ان ملکوں میں بھی ممکن ہے جہاں ان پر پابندی لگی ہو۔ مثلاً بعض ملکوں میں ٹیلی گرام ایپ نہیں چلتی۔
اس ویڈیو میں اس کا تعارف اور ابتدائی ترتیبات بتائی گئی ہیں۔ ویڈیو کا حجم زیادہ ہے لیکن اس میں ’’ضروری معلومات‘‘ ہیں۔ لہٰذا اسے دیکھنے سے محروم نہ رہیں۔
یہ ایپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں:
https://t.me/impoinfo/591
صرف اتنا ہی نہیں اس ایپ کے ذریعہ کسی ایپ کو چلانا یا کسی ویب سائٹ کو کھولنا ان ملکوں میں بھی ممکن ہے جہاں ان پر پابندی لگی ہو۔ مثلاً بعض ملکوں میں ٹیلی گرام ایپ نہیں چلتی۔
اس ویڈیو میں اس کا تعارف اور ابتدائی ترتیبات بتائی گئی ہیں۔ ویڈیو کا حجم زیادہ ہے لیکن اس میں ’’ضروری معلومات‘‘ ہیں۔ لہٰذا اسے دیکھنے سے محروم نہ رہیں۔
یہ ایپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں:
https://t.me/impoinfo/591
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
اپنے ٹیلی فون نیٹورک کے ISP انٹرنیٹ سروس پرووائڈر سے اپنی ایکٹیوٹی کو چھپائے رکھنے، موبائل میں آنے والی ہر قسم کی اشتہارات اور فحش اور خطرناک وائرس زدہ یا جاسوسی ویب سائٹس یا اپلیکیشن سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک عمدہ ایپ ہے InviZible Pro۔ صرف اتنا ہی نہیں…
💡❗️۔InviZible Pro ایپ کی تعلیمی ویڈیو کی یو ٹیوب لنک:
https://youtu.be/MqAjpg7Lv0w
وہاں پوسٹ کرنے کے لیے جہاں زیادہ حجم کی ویڈیو بھیجنا مشکل ہے۔ جیسے کہ (وٹس ایپ، ٹوئیٹر، ای میل وغیرہ)
https://youtu.be/MqAjpg7Lv0w
وہاں پوسٹ کرنے کے لیے جہاں زیادہ حجم کی ویڈیو بھیجنا مشکل ہے۔ جیسے کہ (وٹس ایپ، ٹوئیٹر، ای میل وغیرہ)
Kia Engineer Aur Ghamidi Ko Sunna Sahih Hai | Racism In Islam |…
کیا انجینئر علی مرزا اور جاوید احمد غامدی کے بیانات سننا صحیح ہے؟
حضرت مفتی رشید احمد کا جواب
t.me/impoinfo
حضرت مفتی رشید احمد کا جواب
t.me/impoinfo
https://www.youtube.com/watch?v=Oo09iFBa_x4
مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ
ہفتہ وار اصلاحی بیان
تقوی حاصل کرنے کا طریقہ
جامعہ دارالعلوم کراچی
مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ
ہفتہ وار اصلاحی بیان
تقوی حاصل کرنے کا طریقہ
جامعہ دارالعلوم کراچی