علامہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی مہذب حکومت اپنے ملک کو کسی قوم یا اقلیت کے لیے دارالخوف کی پوزیشن میں رکھنا پسند نہیں کر سکتی، تاہم اگر ایسا کہیں ہو تو مسلمانوں کو وہاں کی خلافِ آئین باتوں کو روکنے کے لیے کسی آئینی جد و جہد میں پس و پیش نہیں کرنا چاہیے اور نہ اپنے کو مستضعفين في الأرض (دنیا کی بے یار و مددگار قوم) سمجھ کر خاموش بیٹھنا چاہیے، ورنہ وہ "أ فلم تكن أرض الله واسعة فتهاجروا فيها؟" کے عتابِ اخروی سے نہ بچ سکیں گے. اور بظاہر یہاں ہجرت کا مفہوم، متعارف معنی میں منحصر و محدود نہیں ہے کہ ساری قوم ہی ہجرت کر جائے، بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے تھوڑے تھوڑے وقفے سے تھوڑے تھوڑے آدمی دنیا کے دوسرے حصوں میں جائیں اور اپنے حالات بتلا کر سمجھا کر بین الاقوامی رائے عامہ کی مدد و نصرت حاصل کریں، اس سے حالات بدلنے کی بہت جلد سبیل نکل سکتی ہے، و الله المعين."
--ملفوظات محدث کشمیری (ص 170)
"ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی مہذب حکومت اپنے ملک کو کسی قوم یا اقلیت کے لیے دارالخوف کی پوزیشن میں رکھنا پسند نہیں کر سکتی، تاہم اگر ایسا کہیں ہو تو مسلمانوں کو وہاں کی خلافِ آئین باتوں کو روکنے کے لیے کسی آئینی جد و جہد میں پس و پیش نہیں کرنا چاہیے اور نہ اپنے کو مستضعفين في الأرض (دنیا کی بے یار و مددگار قوم) سمجھ کر خاموش بیٹھنا چاہیے، ورنہ وہ "أ فلم تكن أرض الله واسعة فتهاجروا فيها؟" کے عتابِ اخروی سے نہ بچ سکیں گے. اور بظاہر یہاں ہجرت کا مفہوم، متعارف معنی میں منحصر و محدود نہیں ہے کہ ساری قوم ہی ہجرت کر جائے، بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے تھوڑے تھوڑے وقفے سے تھوڑے تھوڑے آدمی دنیا کے دوسرے حصوں میں جائیں اور اپنے حالات بتلا کر سمجھا کر بین الاقوامی رائے عامہ کی مدد و نصرت حاصل کریں، اس سے حالات بدلنے کی بہت جلد سبیل نکل سکتی ہے، و الله المعين."
--ملفوظات محدث کشمیری (ص 170)
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
وہ کون سے خوش نصیب صحابی ہیں جو حضور سرورِ کائنات ﷺ کے ہاتھوں سب سے پہلے جامِ کوثر نوش فرمائیں گے؟
جامِ کوثر نوش فرمانے کے تعلق سے مجھے دو الگ الگ روایات ملی ہیں۔ ایک میں حضرت سیدنا صہیب رومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق ہے اور ایک میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بتایا گیا ہے۔
حوضِ کوثر پر سب سے پہلے جسے سیراب کیا جائے گا وہ صُہیب ہیں۔ (مسندالفردوس،ج1،ص36،حدیث: 57)
اب ان جوابات میں کون سا جواب صحیح ہے اس کے لیے میں اس گروپ میں موجود علماء کرام سے گزارش کروں گا کہ مجھے بوٹ کے ذریعہ مطلع فرمادیں۔ جزاکم اللہ خیرا
@ask4infobot
حوضِ کوثر پر سب سے پہلے جسے سیراب کیا جائے گا وہ صُہیب ہیں۔ (مسندالفردوس،ج1،ص36،حدیث: 57)
اب ان جوابات میں کون سا جواب صحیح ہے اس کے لیے میں اس گروپ میں موجود علماء کرام سے گزارش کروں گا کہ مجھے بوٹ کے ذریعہ مطلع فرمادیں۔ جزاکم اللہ خیرا
@ask4infobot
غلامی کی بدترین شکل وہ ہے جسمیں غلاموں کو اپنی زنجیروں سے پیار ہو جائے
آج ہم آپکو ایک ایسی انڈرایڈ موبائل کی اپلیکیشن کے بارے میں بتائے گے جو ان شاء اللہ تعالیٰ آپکو بہت زیادہ پسند آئے گی۔
جس میں اردو کی تفاسیر اور قرآنی ترجموں کا مجموعہ ہے۔
اس اپلیکیشن کا نام " قرآن لائبریری " ہے۔
اس میں ایک یہ بھی بہت اچھی سہولت ہے کہ آپ قرآن مجید کی آیت اسکا ترجمہ، اور اسکی تفسیر کو بآسانی کاپی بھی کرسکتے ہے۔
اس اپلیکیشن میں آپ کو پڑھنے کے لیے تین قسم کے ترجمے ملے گے جو کہ درج ذیل ہیں:
1 - جالندہری
2 - شاہ عبد القادر
3 - احمد علی لاہوری
اور ساتھ ہی ساتھ درج ذیل اکابرین کی درج ذیل قرآن کریم تفسیر پڑھنے کو ملے گی:
1 - تفسیر عثمانی - (حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب)
2 - تفسیر معارف القرآن - (حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب)
3 - تفسير بيان القرآن - (حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب)
4 - تفسیر ماجدی - (مولانا عبد الماجد دریا آبادی صاحب)
5 - معارف القرآن (کاندھلوی) - (حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی صاحب)
6 - تفسیر مظہری مترجم - (حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی صاحب)
7 - تفسیر آسان ترجمہ قرآن - (حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)
8 - تفسیر ذخیرۃ الجنان - (حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب)
9 - تفسیر در منثور اردو - (امام جلال الدین سیوطی)
10 - تفسیر انوار البیان - (مولانا عاشق الہی بلند شہری)
11 - تفسیر حقانی - (مولانا عبد الحق حقانی محدث دہلوی)
12 - تفسیر ابن کثیر اردو - (علامہ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی)
13 - تفسیر اشرف التفاسیر - (حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)
14 - تفسیر ابن عباس اردو - (پروفیسر محمد سعید احمد عاطف صاحب)
15 - تفسیر جمالین اردو - (امام جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر سیوطی رحمہ اللہ تعالی)
16 - تفسیر مدارک اردو - (حضرت مولانا شمس الدین صاحب)
17 - تفسير قرطبي اردو - (جناب پیر کرم شاہ صاحب)
18 - تفسیر احکام القرآن اردو - (الإمام الجصاص ۔ أحمد بن على الرازى الجصاص الحنفي)
19 - تفسیر اسرار التنزیل - (حضرت مولانا محمد اکرم اعوان صاحب)
20 - تفسیر معالم العرفان - (حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی صاحب)
21 - تفسیر نکات القرآن - (حضرت مولانا عبد الرحمن اشرفی صاحب)
22 - تفسیر مفردات القرآن - (امام راغب اصفہانی ۔ ترجمہ و حاشیہ محمد عبدہ فیرروز پوری صاحب)
23 - تفسیر فوائد القرآن - ( عبد القیوم مہاجر مدنی صاحب)
24 - تفسیر جواہر القرآن - (حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب)
25 - آسان تفسیر قرآن - (مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب)
اس اپلیکیشن کے استعمال کا طریقہ:
١) اس اپلیکیشن کو دیے گئے لنک سے اپنے موبائل فون میں انسٹال کیجیے۔
👈 کلک کریں 👉
٢) اسکے بعد اسکو اوپن (کھول) لیجیے
٣) آپکے سامنے تصویر نمبر ایک (1) کی طرح ایک سکرین اوپن ہو جائے گی۔
٤) تصویر نمبر دو (2) میں جس پر کلک کرنے کا دکھایا گیا ہے اس پر کلک کرنے سے آپ قرآن مجید کے کسی سپارے کو کھول سکتے ہے
٥) تصویر نمبر تین (3) میں کسی بھی سورۃ کو کیسے منتخب کر کے پڑھے یہ دیکھایا گیا ہے
٦) تصویر نمبر چار (4) میں دیکھایا گیا ہے کہ کسی بھی آیت کو کیسے سرچ کریں
٧) تصویر نمبر پانچ (5) میں دیکھایا گیا ہے کہ تفسیر کی کتاب کو کیسے تبدیل کرے
اس اپلیکیشن میں اور بھی بہت چیزیں ہیں جس کو آپ استعمال کرنے سے جان جائیں گے۔ ان شاءاللہ
- نوٹ -
یہ اپلیکیشن انٹرنیٹ کے ذریعے چلتی ہے۔
امید ہے آپکو یہ پوسٹ پسند آئی ہوگی اگر آئی ہے تو اپنے دوستوں، گروپس، چینلز میں اس پوسٹ کو شئیر کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اپلیکیشن سے فائدہ اٹھا سکیں۔
✍️ سیاہ کار ✍️
http://t.me/mohabbatEilahi
جس میں اردو کی تفاسیر اور قرآنی ترجموں کا مجموعہ ہے۔
اس اپلیکیشن کا نام " قرآن لائبریری " ہے۔
اس میں ایک یہ بھی بہت اچھی سہولت ہے کہ آپ قرآن مجید کی آیت اسکا ترجمہ، اور اسکی تفسیر کو بآسانی کاپی بھی کرسکتے ہے۔
اس اپلیکیشن میں آپ کو پڑھنے کے لیے تین قسم کے ترجمے ملے گے جو کہ درج ذیل ہیں:
1 - جالندہری
2 - شاہ عبد القادر
3 - احمد علی لاہوری
اور ساتھ ہی ساتھ درج ذیل اکابرین کی درج ذیل قرآن کریم تفسیر پڑھنے کو ملے گی:
1 - تفسیر عثمانی - (حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب)
2 - تفسیر معارف القرآن - (حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب)
3 - تفسير بيان القرآن - (حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب)
4 - تفسیر ماجدی - (مولانا عبد الماجد دریا آبادی صاحب)
5 - معارف القرآن (کاندھلوی) - (حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی صاحب)
6 - تفسیر مظہری مترجم - (حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی صاحب)
7 - تفسیر آسان ترجمہ قرآن - (حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)
8 - تفسیر ذخیرۃ الجنان - (حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب)
9 - تفسیر در منثور اردو - (امام جلال الدین سیوطی)
10 - تفسیر انوار البیان - (مولانا عاشق الہی بلند شہری)
11 - تفسیر حقانی - (مولانا عبد الحق حقانی محدث دہلوی)
12 - تفسیر ابن کثیر اردو - (علامہ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی)
13 - تفسیر اشرف التفاسیر - (حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)
14 - تفسیر ابن عباس اردو - (پروفیسر محمد سعید احمد عاطف صاحب)
15 - تفسیر جمالین اردو - (امام جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر سیوطی رحمہ اللہ تعالی)
16 - تفسیر مدارک اردو - (حضرت مولانا شمس الدین صاحب)
17 - تفسير قرطبي اردو - (جناب پیر کرم شاہ صاحب)
18 - تفسیر احکام القرآن اردو - (الإمام الجصاص ۔ أحمد بن على الرازى الجصاص الحنفي)
19 - تفسیر اسرار التنزیل - (حضرت مولانا محمد اکرم اعوان صاحب)
20 - تفسیر معالم العرفان - (حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی صاحب)
21 - تفسیر نکات القرآن - (حضرت مولانا عبد الرحمن اشرفی صاحب)
22 - تفسیر مفردات القرآن - (امام راغب اصفہانی ۔ ترجمہ و حاشیہ محمد عبدہ فیرروز پوری صاحب)
23 - تفسیر فوائد القرآن - ( عبد القیوم مہاجر مدنی صاحب)
24 - تفسیر جواہر القرآن - (حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب)
25 - آسان تفسیر قرآن - (مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب)
اس اپلیکیشن کے استعمال کا طریقہ:
١) اس اپلیکیشن کو دیے گئے لنک سے اپنے موبائل فون میں انسٹال کیجیے۔
👈 کلک کریں 👉
٢) اسکے بعد اسکو اوپن (کھول) لیجیے
٣) آپکے سامنے تصویر نمبر ایک (1) کی طرح ایک سکرین اوپن ہو جائے گی۔
٤) تصویر نمبر دو (2) میں جس پر کلک کرنے کا دکھایا گیا ہے اس پر کلک کرنے سے آپ قرآن مجید کے کسی سپارے کو کھول سکتے ہے
٥) تصویر نمبر تین (3) میں کسی بھی سورۃ کو کیسے منتخب کر کے پڑھے یہ دیکھایا گیا ہے
٦) تصویر نمبر چار (4) میں دیکھایا گیا ہے کہ کسی بھی آیت کو کیسے سرچ کریں
٧) تصویر نمبر پانچ (5) میں دیکھایا گیا ہے کہ تفسیر کی کتاب کو کیسے تبدیل کرے
اس اپلیکیشن میں اور بھی بہت چیزیں ہیں جس کو آپ استعمال کرنے سے جان جائیں گے۔ ان شاءاللہ
- نوٹ -
یہ اپلیکیشن انٹرنیٹ کے ذریعے چلتی ہے۔
امید ہے آپکو یہ پوسٹ پسند آئی ہوگی اگر آئی ہے تو اپنے دوستوں، گروپس، چینلز میں اس پوسٹ کو شئیر کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اپلیکیشن سے فائدہ اٹھا سکیں۔
✍️ سیاہ کار ✍️
http://t.me/mohabbatEilahi
تین بد نصیب
بابا جی کہتے ہیں کہ میں نے تین لوگوں سے زیادہ بدنصیب کسی کو نہیں پایا......
پہلا وہ جس کے پاس نئے کپڑے ہیں مگر وہ پرانے کپڑے پہنتا ھے
دوسرا وہ جس کے پاس بھرپور کھانا ھے مگر وہ بھوکا سوتا ھے
پھر بزرگ کی آنکھیں نم ہوگئیں ......
تو ایک شخص نے عرض کیا کہ
وہ تیسرا بدنصیب شخص کون ھے ہمیں بتائیے
اس پر بزرگ نے دردناک آواز سے شکستہ خاطر ہوکر روتے اور بلبلاتے ہوئے عرض کیا
تیسرا وہ شخص ھے جس کے پاس پیسہ اور صحت ہونے کے باوجود
دوسری شادی نہ کرے
اور صرف اور صرف ایک ہی بیوی پر ساری زندگی گزار دے......
اتنا سنتے ہی محفل میں زور زور سے رونے کی آوازیں بلند ہوگئیں....
بابا جی کہتے ہیں کہ میں نے تین لوگوں سے زیادہ بدنصیب کسی کو نہیں پایا......
پہلا وہ جس کے پاس نئے کپڑے ہیں مگر وہ پرانے کپڑے پہنتا ھے
دوسرا وہ جس کے پاس بھرپور کھانا ھے مگر وہ بھوکا سوتا ھے
پھر بزرگ کی آنکھیں نم ہوگئیں ......
تو ایک شخص نے عرض کیا کہ
وہ تیسرا بدنصیب شخص کون ھے ہمیں بتائیے
اس پر بزرگ نے دردناک آواز سے شکستہ خاطر ہوکر روتے اور بلبلاتے ہوئے عرض کیا
تیسرا وہ شخص ھے جس کے پاس پیسہ اور صحت ہونے کے باوجود
دوسری شادی نہ کرے
اور صرف اور صرف ایک ہی بیوی پر ساری زندگی گزار دے......
اتنا سنتے ہی محفل میں زور زور سے رونے کی آوازیں بلند ہوگئیں....
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.plexnor.gravityscreenofffree
جب آپ اپنے فون کو اپنی جیب میں رکھتے ہیں یا کسی ٹیبل پر رکھتے ہیں تو یہ خود بخود اسکرین کو بند کردیتا ہے۔ اور جب آپ اسے اپنی جیب سے باہر نکالتے ہیں یا اوپر کرتے ہیں تو اسکرین کو کھول دیتا ہے۔ کسی بٹن کو چھونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خاص طور پر مددگار ہے ان موبائل کے لیے جس کے پاور بٹن میں خرابی آ گئی ہو۔
جب آپ اپنے فون کو اپنی جیب میں رکھتے ہیں یا کسی ٹیبل پر رکھتے ہیں تو یہ خود بخود اسکرین کو بند کردیتا ہے۔ اور جب آپ اسے اپنی جیب سے باہر نکالتے ہیں یا اوپر کرتے ہیں تو اسکرین کو کھول دیتا ہے۔ کسی بٹن کو چھونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خاص طور پر مددگار ہے ان موبائل کے لیے جس کے پاور بٹن میں خرابی آ گئی ہو۔
Google Play
Gravity Screen - On/Off - Apps on Google Play
Tired of pressing the power button? This app handles that automatically for you.
آسٹن، ٹیکساس: ایک نئی ایپ نے اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کو حیران کردیا ہے اور ’فائرچیٹ‘ ایپ کے ذریعے اسمارٹ فون پر میسج بھیجے اور وصول کیے جاسکتے ہیں لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ میسجنگ کے لیے کسی وائی فائی نیٹ ورک اور سیل فون سروس کی ضرورت نہیں رہتی۔
عام طور پر موبائل فون سے ٹیکسٹ اور میسجنگ کے لیے موبائل نیٹ ورک یا کم از کم وائی فائی ہاٹ اسپاٹ راؤٹر کی ضرورت ہوتی ہے اور موبائل فون کا پیغام پہلے قریبی ٹاور تک جاتا ہے اور پھر وہاں سے دوسرے ٹاور تک پہنچتا ہے جب کہ وائی فائی نیٹ ورک کا نظام بھی بہت پیجیدہ ہوتا ہے لیکن فائرچیٹ کے لیے کسی ٹاور کی ضرورت نہیں اور نہ ہی وائی فائی راؤٹر درکار ہوتا ہے، لیکن یہ آخر کس طرح کام کرتا ہے تو اس کا جواب ہے کہ یہ اپنا نیٹ ورک خود بناتا ہے۔
فائرچیٹ فون کے اندرموجود نیٹ ورکنگ نظام استعمال کرتا ہے، یہ ایک فون سے دوسرے فون تک کام کرتا ہے اور اپنا نیٹ ورک خود بناتا جاتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلا فون آپ سے 100 فٹ کے فاصلے تک ہو، اس طرح یہ کسی اسٹیڈیم، ہجوم یا آفس وغیرہ میں آسانی سے نیٹ ورک بناتا ہے جہاں لوگ قریب موجود ہوتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ تمام فونز پر فائرچیٹ ایپ چل رہی ہو، ہمارے فونز میں وائی فائی اور بلیوٹوتھ کی سہولت موجود ہوتی ہے اور یہی وائرلیس نظام فائرچیٹ میں کام آتے ہیں جو اینڈروئڈ اور آئی فون دونوں پر ہی کام کرتے ہیں اور فونز کا ایک جال ترتیب دیتے ہیں۔
گزشتہ برس ہانگ کانگ میں 500,000 مظاہرین نے فائرچیٹ کا استعمال کرکے ایک دوسرے سے رابطہ رکھا کیونکہ حکومت نے سیل فون اور وائی فائی سروس بند کررکھی تھی، اسی طرح یہ سروس ایک گروپ وہاں استعمال کرسکتا ہے جہاں کسی قسم کے سگنل نہیں ہوتے، اسی طرح زلزلے، سیلاب اور دیگر آفات میں بھی فائرچیٹ نیٹ ورکس کے ذریعے امدادی کارروائیوں کو جاری رکھا جاسکتا ہے جہاں مواصلاتی نیٹ ورک تباہ ہوجاتے ہیں۔
ان ہی خصوصیات سے ملتے جلتے ایپس CHitChat، YO! Share and Transfer Offline, Near Peer : Pro کو بھی آزمایا جا سکتا ہے۔
t.me/impoinfo
عام طور پر موبائل فون سے ٹیکسٹ اور میسجنگ کے لیے موبائل نیٹ ورک یا کم از کم وائی فائی ہاٹ اسپاٹ راؤٹر کی ضرورت ہوتی ہے اور موبائل فون کا پیغام پہلے قریبی ٹاور تک جاتا ہے اور پھر وہاں سے دوسرے ٹاور تک پہنچتا ہے جب کہ وائی فائی نیٹ ورک کا نظام بھی بہت پیجیدہ ہوتا ہے لیکن فائرچیٹ کے لیے کسی ٹاور کی ضرورت نہیں اور نہ ہی وائی فائی راؤٹر درکار ہوتا ہے، لیکن یہ آخر کس طرح کام کرتا ہے تو اس کا جواب ہے کہ یہ اپنا نیٹ ورک خود بناتا ہے۔
فائرچیٹ فون کے اندرموجود نیٹ ورکنگ نظام استعمال کرتا ہے، یہ ایک فون سے دوسرے فون تک کام کرتا ہے اور اپنا نیٹ ورک خود بناتا جاتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلا فون آپ سے 100 فٹ کے فاصلے تک ہو، اس طرح یہ کسی اسٹیڈیم، ہجوم یا آفس وغیرہ میں آسانی سے نیٹ ورک بناتا ہے جہاں لوگ قریب موجود ہوتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ تمام فونز پر فائرچیٹ ایپ چل رہی ہو، ہمارے فونز میں وائی فائی اور بلیوٹوتھ کی سہولت موجود ہوتی ہے اور یہی وائرلیس نظام فائرچیٹ میں کام آتے ہیں جو اینڈروئڈ اور آئی فون دونوں پر ہی کام کرتے ہیں اور فونز کا ایک جال ترتیب دیتے ہیں۔
گزشتہ برس ہانگ کانگ میں 500,000 مظاہرین نے فائرچیٹ کا استعمال کرکے ایک دوسرے سے رابطہ رکھا کیونکہ حکومت نے سیل فون اور وائی فائی سروس بند کررکھی تھی، اسی طرح یہ سروس ایک گروپ وہاں استعمال کرسکتا ہے جہاں کسی قسم کے سگنل نہیں ہوتے، اسی طرح زلزلے، سیلاب اور دیگر آفات میں بھی فائرچیٹ نیٹ ورکس کے ذریعے امدادی کارروائیوں کو جاری رکھا جاسکتا ہے جہاں مواصلاتی نیٹ ورک تباہ ہوجاتے ہیں۔
ان ہی خصوصیات سے ملتے جلتے ایپس CHitChat، YO! Share and Transfer Offline, Near Peer : Pro کو بھی آزمایا جا سکتا ہے۔
t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
نبی اکرمﷺ کی عسکری فہم وفراست
اسماء النبی الکریم ﷺ کے تناظر میں
--------------------------------------
🖊 فائزہ بلال
سیّدنا مسوی الصفوف ﷺ (صفوں کو سیدھا کرنے والے):
عن النعمان بن بشیر رضی اللّٰہ عنہ یقول کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مسوی الصف حتی یجعلہ مثل الرامح او القدح قال فراٰی صدر رجل نائیا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم سووا صفوفکم او لیخالفن اللہ بین وجوھکم
’’حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ صفوں کو اس قدر سیدھا کرتے کہ مثل نیزے اور تیر کے سیدھے نظر آئیں ایک دفعہ ایک آدمی کا سینہ آگے نکلا ہوا دیکھا اور فرمایا صفوں کو سیدھا کرو ورنہ اللہ تمہارے چہروں کو مسخ کر دے گا-‘‘
سیّدنا صاحب الرکوع والسجود ﷺ (رکوع و سجود کرنے والے):
محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم تراھم رکعا سجدا
محمد (ﷺ) ﷲ کے رسول ہیں، اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں۔ (اور) آپس میں ایک دوسرے کیلئے رحم دل ہیں ۔ تم اُنہیں دیکھو گے کہ کبھی رُکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں
مصیبت کی گھڑی میں اللہ کے حضور گڑ گڑانا، اپنی عاجزی کا اظہار کرنا اور نصرت طلب کرنا ظفر مندی کا وسیلہ ہے-
نبی اکرم ﷺ نہ صرف لوگوں کے لئے جہاد کی فضیلت بیان فرماتے اور تبشیر و انذار کے ذریعے جنگ کی تحریص دلاتے بلکہ اسلامی لشکر کا بنفسِ نفیس خود معائنہ فرماتے اور بطور سپہ سالار سپاہِ اسلامی کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے اور ان کو ہدایات دیتے، لشکرِ اسلامی کا مورال بلند فرماتے، ان کو منظم فرماتے اور فنونِ حرب کی مشقوں کا انتظام فرماتے- دوران جنگ بھی دعا اور عبادت کا اہتمام رکھتے اور مجاہدینِ اسلام کو متوکل علی اللہ رہنے کی نصیحت فرماتے-
سیدنا صاحب السیف ﷺ(تلوار والے)
عن انس رضی اللّٰہ عنہ قال کان قبیعۃ سیف رسول اللّٰہ ﷺ من فضۃ
’’حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی تلوار کے قبضہ کی گِرہ چاندی کی تھا-‘‘
عن ابن عمر ؓ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ بعثت بالسیف حتی یعبد اللّٰہ لاشیریک لہ
’’حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مَیں تلوار دے کر بھیجا گیا ہوں حتیٰ کہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت ہو-‘‘
سیدنا صاحب اللواءﷺ (جھنڈے والے ):
عن سھل بن سعد رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لاعطین الرایتہ غداً رجلا یفتح اللّٰہ علی یدیہ فبات الناس یدوکون لیلتھم الیھم یعطاھا۔۔۔۔فاعطاہ (علی)الرایۃ فقال علی رضی اللّٰہ عنہ یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اقاتلھم حتیٰ یکونوا مثلنا فقال أنفذ علی رسلک حتی تنزل بساحتھم ثم ادعھم الی الاسلام و اخبر ھم بمایجب علیھم من حق اللّٰہ فیہ فواللّٰہ لان یھدی اللّٰہ بک رجلا واحداً خیر لک من ان یکون لک حمر النعم
’’حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے خیبر میں فرمایا’ کل مَیں ایسے آدمی کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگ ساری رات متفکر رہے کہ کس کو عطا کیا جائے گا پھر آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو جھنڈا عطا فرمایا - عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ مَیں ان لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہو جائیں آپﷺ نے فرمایا ٹھہرو! جب تم ان کے میدان میں اترو تو انہیں اسلام کی طرف بلانا اور جو اللہ کا حق ان پر واجب ہے اس سے انہیں مطلع کرنا اللہ کی قسم ! یہ بات کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ سے کسی ایک شخص کو ہدایت کر دے تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے-‘‘
سیدنا صاحب ا لمغفرﷺ (خود والے):
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور اقدس ﷺ کو فتح مکہ کے سال دیکھا اور آپﷺ کے سر پر لوہے کی خود تھی۔
عن انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دخل مکۃ عام الفتح وعلی راسہ المغفر قال فلمانزعہ جاء ہ رجل فقال ابن خطل متعلق باستار الکعبۃ فقال اقتلوہ
’’حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ بنی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے سر مبارک پر لوہے کی خود تھی- جب آپ ﷺ نے اسے سر پر سے اُتارا تو آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کی کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکا ہوا ہے آپﷺ نے فرمایا اسے وہیں قتل کردو-‘‘
سیدنا صاحب ا لمدرعۃ ﷺ (زرہ پہننے والے ):
عن الزبیر بن العوام رضی اللّٰہ عنہ قال کان علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوم احد درعان فنھض الی الصخرۃ فلم یستطع فاقعد طلحۃ تحتہ فصعد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی استوی علی الصخرۃ قال فسمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول اوجب طلحۃ
’’حضرت زبیر بن عوامؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے بدن مبارک پر میدانِ اُحد میں دو زِرہیں تھیں پھر آپ ﷺ نے ایک چٹان کے اوپر چڑھنے کا ارادہ فرمایا مگر چڑھ نہ سکے پھر آپ ﷺ نے حضرت طلحہ ؓ کو نیچے بٹھایا اور حضور اقدس ﷺ ان پر سوار ہو ئے حتیٰ کہ
اسماء النبی الکریم ﷺ کے تناظر میں
--------------------------------------
🖊 فائزہ بلال
سیّدنا مسوی الصفوف ﷺ (صفوں کو سیدھا کرنے والے):
عن النعمان بن بشیر رضی اللّٰہ عنہ یقول کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مسوی الصف حتی یجعلہ مثل الرامح او القدح قال فراٰی صدر رجل نائیا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم سووا صفوفکم او لیخالفن اللہ بین وجوھکم
’’حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ صفوں کو اس قدر سیدھا کرتے کہ مثل نیزے اور تیر کے سیدھے نظر آئیں ایک دفعہ ایک آدمی کا سینہ آگے نکلا ہوا دیکھا اور فرمایا صفوں کو سیدھا کرو ورنہ اللہ تمہارے چہروں کو مسخ کر دے گا-‘‘
سیّدنا صاحب الرکوع والسجود ﷺ (رکوع و سجود کرنے والے):
محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم تراھم رکعا سجدا
محمد (ﷺ) ﷲ کے رسول ہیں، اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں۔ (اور) آپس میں ایک دوسرے کیلئے رحم دل ہیں ۔ تم اُنہیں دیکھو گے کہ کبھی رُکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں
مصیبت کی گھڑی میں اللہ کے حضور گڑ گڑانا، اپنی عاجزی کا اظہار کرنا اور نصرت طلب کرنا ظفر مندی کا وسیلہ ہے-
نبی اکرم ﷺ نہ صرف لوگوں کے لئے جہاد کی فضیلت بیان فرماتے اور تبشیر و انذار کے ذریعے جنگ کی تحریص دلاتے بلکہ اسلامی لشکر کا بنفسِ نفیس خود معائنہ فرماتے اور بطور سپہ سالار سپاہِ اسلامی کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے اور ان کو ہدایات دیتے، لشکرِ اسلامی کا مورال بلند فرماتے، ان کو منظم فرماتے اور فنونِ حرب کی مشقوں کا انتظام فرماتے- دوران جنگ بھی دعا اور عبادت کا اہتمام رکھتے اور مجاہدینِ اسلام کو متوکل علی اللہ رہنے کی نصیحت فرماتے-
سیدنا صاحب السیف ﷺ(تلوار والے)
عن انس رضی اللّٰہ عنہ قال کان قبیعۃ سیف رسول اللّٰہ ﷺ من فضۃ
’’حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی تلوار کے قبضہ کی گِرہ چاندی کی تھا-‘‘
عن ابن عمر ؓ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ بعثت بالسیف حتی یعبد اللّٰہ لاشیریک لہ
’’حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مَیں تلوار دے کر بھیجا گیا ہوں حتیٰ کہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت ہو-‘‘
سیدنا صاحب اللواءﷺ (جھنڈے والے ):
عن سھل بن سعد رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لاعطین الرایتہ غداً رجلا یفتح اللّٰہ علی یدیہ فبات الناس یدوکون لیلتھم الیھم یعطاھا۔۔۔۔فاعطاہ (علی)الرایۃ فقال علی رضی اللّٰہ عنہ یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اقاتلھم حتیٰ یکونوا مثلنا فقال أنفذ علی رسلک حتی تنزل بساحتھم ثم ادعھم الی الاسلام و اخبر ھم بمایجب علیھم من حق اللّٰہ فیہ فواللّٰہ لان یھدی اللّٰہ بک رجلا واحداً خیر لک من ان یکون لک حمر النعم
’’حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے خیبر میں فرمایا’ کل مَیں ایسے آدمی کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگ ساری رات متفکر رہے کہ کس کو عطا کیا جائے گا پھر آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو جھنڈا عطا فرمایا - عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ مَیں ان لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہو جائیں آپﷺ نے فرمایا ٹھہرو! جب تم ان کے میدان میں اترو تو انہیں اسلام کی طرف بلانا اور جو اللہ کا حق ان پر واجب ہے اس سے انہیں مطلع کرنا اللہ کی قسم ! یہ بات کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ سے کسی ایک شخص کو ہدایت کر دے تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے-‘‘
سیدنا صاحب ا لمغفرﷺ (خود والے):
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور اقدس ﷺ کو فتح مکہ کے سال دیکھا اور آپﷺ کے سر پر لوہے کی خود تھی۔
عن انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دخل مکۃ عام الفتح وعلی راسہ المغفر قال فلمانزعہ جاء ہ رجل فقال ابن خطل متعلق باستار الکعبۃ فقال اقتلوہ
’’حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ بنی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے سر مبارک پر لوہے کی خود تھی- جب آپ ﷺ نے اسے سر پر سے اُتارا تو آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کی کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکا ہوا ہے آپﷺ نے فرمایا اسے وہیں قتل کردو-‘‘
سیدنا صاحب ا لمدرعۃ ﷺ (زرہ پہننے والے ):
عن الزبیر بن العوام رضی اللّٰہ عنہ قال کان علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوم احد درعان فنھض الی الصخرۃ فلم یستطع فاقعد طلحۃ تحتہ فصعد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی استوی علی الصخرۃ قال فسمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول اوجب طلحۃ
’’حضرت زبیر بن عوامؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے بدن مبارک پر میدانِ اُحد میں دو زِرہیں تھیں پھر آپ ﷺ نے ایک چٹان کے اوپر چڑھنے کا ارادہ فرمایا مگر چڑھ نہ سکے پھر آپ ﷺ نے حضرت طلحہ ؓ کو نیچے بٹھایا اور حضور اقدس ﷺ ان پر سوار ہو ئے حتیٰ کہ
آپ چٹان پر چڑھ گئے حضرت زبیر کا بیان ہے کہ مَیں نے حضور اقدس ﷺ کو فرماتے سنا طلحہ ؓ نے (جنت یا شفاعت کو) واجب کر لیا ہے -‘‘
سیدنا صاحب قوس ﷺ (کمان والے):
قال علی رضی اللّٰہ عنہ:کانت بید رسول اللّٰہ ﷺ القوس العربیۃ
’’حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ انہوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ میں عربی قوس دیکھی-‘‘
عن عبدالرحمن ابن سعدبن عمار ابن سعد رضی اللّٰہ عنہ حدثنی ابی عن جدہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان اذا خطب فی الحرب خطب علی قوس
’’حضرت عبدالرحمن اپنے باپ سے اوروہ اپنے دادا سعد ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جب جنگ کے موقع پر ارشاد فرماتے تو کمان تھام کر خطبہ ارشاد فرماتے -‘‘
سیدنا الرامح ﷺ (نیزہ والے)
عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وجعل رزقی تحت ظل رمحی وجعل الذلۃ والصغار علی من خالف امری ومن تشبہ بقوم فھو منھم
’’حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا :اور اللہ تعالیٰ نے میری روزی میرے نیزے کے سائے تلے رکھ چھوڑی ہے اور ذلت وخواری کو ان لوگوں پر مسلط کردیا ہے جو میری مخالفت کرتے ہیں‘‘
t.me/impoinfo
سیدنا صاحب قوس ﷺ (کمان والے):
قال علی رضی اللّٰہ عنہ:کانت بید رسول اللّٰہ ﷺ القوس العربیۃ
’’حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ انہوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ میں عربی قوس دیکھی-‘‘
عن عبدالرحمن ابن سعدبن عمار ابن سعد رضی اللّٰہ عنہ حدثنی ابی عن جدہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان اذا خطب فی الحرب خطب علی قوس
’’حضرت عبدالرحمن اپنے باپ سے اوروہ اپنے دادا سعد ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ جب جنگ کے موقع پر ارشاد فرماتے تو کمان تھام کر خطبہ ارشاد فرماتے -‘‘
سیدنا الرامح ﷺ (نیزہ والے)
عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وجعل رزقی تحت ظل رمحی وجعل الذلۃ والصغار علی من خالف امری ومن تشبہ بقوم فھو منھم
’’حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا :اور اللہ تعالیٰ نے میری روزی میرے نیزے کے سائے تلے رکھ چھوڑی ہے اور ذلت وخواری کو ان لوگوں پر مسلط کردیا ہے جو میری مخالفت کرتے ہیں‘‘
t.me/impoinfo
Telegram
ضروری معلومات | ɪᴍᴘᴏʀᴛᴀɴᴛ ɪɴғᴏ
دینی‘ اصلاحی‘ سماجی‘ سائنسی‘ تکنیکی معلومات کا منفرد ٹیلی گرام چینل
Admin: @abusarimbot
Admin: @abusarimbot
شرکیہ مظاہر ناقابل قبول ہیں
✍یاسر ندیم الواجدی
سنا ہے کہ شاہین باغ میں ہولی جلائی گئی ہے۔ اگر مسلمانوں کے ذریعے اس طرح کے شرکیہ اعمال دستور کے تحفظ کے لیے انجام دیے جاتے رہیں گے تو ناکامی بہر صورت مقدر ہوگی۔ مسلمانان ہند اس تحریک میں اس لیے شامل ہیں تاکہ وہ اپنے دین وتشخص کے ساتھ اس ملک میں سانس لیتے رہیں، لیکن انھی میں سے بعض لوگ اپنے دین وتشخص کو تحریک کے نام پر قربان کررہے ہیں۔
اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ ہم دستور کے تحفظ کے لیے لڑیں اور اکثریت کے تمام پسندیدہ مظاہر کو مسترد کردیں۔ اعتدال یہ نہیں ہے کہ ہم سیکیولر ازم کی آڑ میں اکثریت کی معاشرتی ودینی روایات کو قبول کرلیں۔ ایسی جاہلانہ ومشرکانہ حرکتوں سے بہتر ہے کہ مسلمان اپنے ایمان ویقین کے ساتھ ڈٹینشن کیمپوں میں جاکر اپنے خالق کے سامنے سرخروئی حاصل کرلیں۔ ہمیں یہ منظور ہے کہ ہم سے ریاستی حقوق چھین لیے جائیں، لیکن یہ منظور نہیں ہے کہ ہم ایمان کی دولت سے محروم ہوجائیں، مگر یہاں افسوس کی بات یہ ہے کہ ریاستی حقوق کی لڑائی لڑنے والے چند افراد رضاکارانہ طور پر اپنے ایمان کا کفر وشرک سے سودا کر رہے ہیں۔ یہ عمل اگر جاری رہا تو پھر ایسے باغوں اور ان کے مالیوں سے مکمل بیزاری وبراءت کے اظہار کے لیے امت کو تیار رہنا چاہیے۔
یہ نہ کہا جائے کہ اسی لیے تحریک کی قیادت علماء کو کرنی چاہیے تھی، اس لیے کہ ان کو قیادت سے کسی نے روکا نہیں تھا، وہ منظر نامے سے خود ہی غائب رہے، جب جامعہ اور علیگڑھ نے قربانی دی تو بھی ان میں سے بہت سے لوگ مصلحت کی دبیز چادر اوڑھے رہے۔ بعد میں جب تحریک نے عروج حاصل کرلیا تو کچھ افراد انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوانے کے لیے آگے آگئے، اگر واقعی تحریک کے عروج کے بعد کسی کی آنکھ کھلی ہے، تو بھی تحریک کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، یہ بھی تو ممکن تھا کہ دینی طبقہ تحریک کے مسلم چہروں کی راہنمائی کرتا رہتا۔ نیز کیا مسلمان اتنا بد عقیدہ ہے کہ اگر ایک عالم کی رفاقت اس کو نصیب نہ ہو تو سیدھا مشرک بن جائے گا۔ کیا عام مسلمانوں میں اتنی تمیز نہیں ہے کہ وہ ایمان وشرک کے درمیان فرق کرسکیں۔
یہ وقت جہاں احتیاط وحزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے، وہیں ایسے تمام افراد کو پچھلی سیٹوں پر بٹھانے کا بھی ہے جو کسی بھی اعتبار سے اپنی نا اہلیت وقتا فوقتاً ثابت کرچکے ہیں۔ خواہ یہ نا اہل فراد کسی باغ کے قائد ہوں یہ پھر کسی اجڑے گلستاں کے۔
(کاپی + پیسٹ)
@impoinfo
✍یاسر ندیم الواجدی
سنا ہے کہ شاہین باغ میں ہولی جلائی گئی ہے۔ اگر مسلمانوں کے ذریعے اس طرح کے شرکیہ اعمال دستور کے تحفظ کے لیے انجام دیے جاتے رہیں گے تو ناکامی بہر صورت مقدر ہوگی۔ مسلمانان ہند اس تحریک میں اس لیے شامل ہیں تاکہ وہ اپنے دین وتشخص کے ساتھ اس ملک میں سانس لیتے رہیں، لیکن انھی میں سے بعض لوگ اپنے دین وتشخص کو تحریک کے نام پر قربان کررہے ہیں۔
اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ ہم دستور کے تحفظ کے لیے لڑیں اور اکثریت کے تمام پسندیدہ مظاہر کو مسترد کردیں۔ اعتدال یہ نہیں ہے کہ ہم سیکیولر ازم کی آڑ میں اکثریت کی معاشرتی ودینی روایات کو قبول کرلیں۔ ایسی جاہلانہ ومشرکانہ حرکتوں سے بہتر ہے کہ مسلمان اپنے ایمان ویقین کے ساتھ ڈٹینشن کیمپوں میں جاکر اپنے خالق کے سامنے سرخروئی حاصل کرلیں۔ ہمیں یہ منظور ہے کہ ہم سے ریاستی حقوق چھین لیے جائیں، لیکن یہ منظور نہیں ہے کہ ہم ایمان کی دولت سے محروم ہوجائیں، مگر یہاں افسوس کی بات یہ ہے کہ ریاستی حقوق کی لڑائی لڑنے والے چند افراد رضاکارانہ طور پر اپنے ایمان کا کفر وشرک سے سودا کر رہے ہیں۔ یہ عمل اگر جاری رہا تو پھر ایسے باغوں اور ان کے مالیوں سے مکمل بیزاری وبراءت کے اظہار کے لیے امت کو تیار رہنا چاہیے۔
یہ نہ کہا جائے کہ اسی لیے تحریک کی قیادت علماء کو کرنی چاہیے تھی، اس لیے کہ ان کو قیادت سے کسی نے روکا نہیں تھا، وہ منظر نامے سے خود ہی غائب رہے، جب جامعہ اور علیگڑھ نے قربانی دی تو بھی ان میں سے بہت سے لوگ مصلحت کی دبیز چادر اوڑھے رہے۔ بعد میں جب تحریک نے عروج حاصل کرلیا تو کچھ افراد انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوانے کے لیے آگے آگئے، اگر واقعی تحریک کے عروج کے بعد کسی کی آنکھ کھلی ہے، تو بھی تحریک کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، یہ بھی تو ممکن تھا کہ دینی طبقہ تحریک کے مسلم چہروں کی راہنمائی کرتا رہتا۔ نیز کیا مسلمان اتنا بد عقیدہ ہے کہ اگر ایک عالم کی رفاقت اس کو نصیب نہ ہو تو سیدھا مشرک بن جائے گا۔ کیا عام مسلمانوں میں اتنی تمیز نہیں ہے کہ وہ ایمان وشرک کے درمیان فرق کرسکیں۔
یہ وقت جہاں احتیاط وحزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے، وہیں ایسے تمام افراد کو پچھلی سیٹوں پر بٹھانے کا بھی ہے جو کسی بھی اعتبار سے اپنی نا اہلیت وقتا فوقتاً ثابت کرچکے ہیں۔ خواہ یہ نا اہل فراد کسی باغ کے قائد ہوں یہ پھر کسی اجڑے گلستاں کے۔
(کاپی + پیسٹ)
@impoinfo