سیٹنگ میں اردو منتخب کر لینے کے باوجود بھی جن لوگوں کی نیو پائپ ایپ اردو زبان میں نہیں ہو رہی ہے وہ اپنے موبائل کی زبان کو اردو میں سیٹ کر لیں نیو پائپ کی زبان بھی اردو ہو جائے گی۔
نئی اپ ڈیٹ میں ایسا آپشن آ جائے گا جس کے ذریعہ صرف ایپ کی زبان بدلی جا سکے۔
نئی اپ ڈیٹ میں ایسا آپشن آ جائے گا جس کے ذریعہ صرف ایپ کی زبان بدلی جا سکے۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تربیتی ویڈیو:
ٹوئیٹر ویڈیو ٹیلی گرام پر کس طرح ڈاؤنلوڈ کی جائے
ناشر: ’’ضروری معلومات‘‘ ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
ٹوئیٹر ویڈیو ٹیلی گرام پر کس طرح ڈاؤنلوڈ کی جائے
ناشر: ’’ضروری معلومات‘‘ ٹیلی گرام چینل
t.me/impoinfo
telegra.ph/جی-پی-ایس-سسٹم-کیا-ہے-01-25
۔Global Positioning System (GPS) یعنی عالمی مقامیابی نظام کیا ہے اور کس طرح کام کرتا ہے؟
t.me/impoinfo
۔Global Positioning System (GPS) یعنی عالمی مقامیابی نظام کیا ہے اور کس طرح کام کرتا ہے؟
t.me/impoinfo
Telegraph
جی پی ایس سسٹم کیا ہے؟
جی پی ایس سسٹم یعنی عالمی مقامیابی نظام عالمی مقامیابی نظام (انگریزی: Global Positioning System) ایک عالمی جہازرانی سیارچی نظام (global navigation satellite system) جو ریاستہائے متحدہ کے شعبۂ دفاع نے بنایا ہے۔ یہ نظام وسطی زمینی مدار کے سیارچوں کا ایک جُھرمٹ…
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ جَھْدِ الْبَلَآءِ وَ دَرْکِ الشَّقَآءِ وَ سُوْٓءِ الْقَضَآءِ وَ شَمَاتَۃِ الْاَعْدَآءِ
اوپر بیان بھی ملاحظہ فرمائیں، حضرت مولانا شاہ محمد حکیم اختر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مجلس میں اس کی تعلیم دی۔
ہم لوگ بھی اس دعاء کو یاد کر لیں اور اپنی دعاؤں میں اللہ سے یہ طلب کریں۔
دوسرے افراد تک بھی اس کی اشاعت کریں تاکہ انہیں بھی فائدہ ہو اور آپ کو صدقۂ جاریہ حاصل ہو۔
اوپر بیان بھی ملاحظہ فرمائیں، حضرت مولانا شاہ محمد حکیم اختر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مجلس میں اس کی تعلیم دی۔
ہم لوگ بھی اس دعاء کو یاد کر لیں اور اپنی دعاؤں میں اللہ سے یہ طلب کریں۔
دوسرے افراد تک بھی اس کی اشاعت کریں تاکہ انہیں بھی فائدہ ہو اور آپ کو صدقۂ جاریہ حاصل ہو۔
Telegram
ضروری معلومات | Important Info
Forwarded from InstantViewBot
Telegraph
شہریت ترمیمی بل: یورپی پارلیمان میں قرارداد، بھارت ناراض
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے، جب وزیر اعظم نریندر مودی مارچ میں انڈیا - یورپی یونین سمٹ میں شرکت کے لیے برسلز جانے والے ہیں۔ سات سو اکاون رکنی یورپی پارلیمان میں چھ سو اکاون اراکین کی غیر معمولی اکثریت نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے علاوہ جموں و کشمیر…
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ اپنے موبائل سے جو تصویریں کھینچتے ہیں اس میں METADATA ہوتا ہے۔ آپ کی کھینچی گئی تصویر آپ کی کئی معلومات میٹا ڈیٹا میں محفوظ رکھتی ہے۔ جس میں اس مقام کی جانکاری ہوتی ہے جس جگہ یہ تصویر لی گئی۔ میٹاڈیٹا میں EXIF Data ہوتا ہے جو تصویر سے متعلق جانکاری رکھتا ہے جیسا کہ جی پی ایس لوکیشن، تصویر کھینچے جانے کی تاریخ اور وقت، کیمرا کی معلومات کہ کس کیمرا سے کھینچی گئی۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ اپنی کسی تصویر کو آن لائن اپ لوڈ کرنے سے قبل میٹا ڈیٹا سے ان معلومات کو حذف کردینا۔ اس پوسٹ سے منسلک تصویر میں ایک فیس بک صارف کے پروفائل تصویر کا میٹا ڈیٹا نکالا گیا ہے جس میں اس صارف سے متعلق یہ جانکاری ہے کہ یہ تصویر کس مقام پر لی گئی، کب اس میں تبدیلی کی گئی۔ اور کس آئی پی ایڈریس سے اسے اپلوڈ کیا گیا، اس کے علاوہ کیمرا سے متعلق جانکاری بھی شامل ہے۔ کسی تصویر سے میٹا ڈیٹا کو کیسے حذف کرنا ہے اس کی بھی جانکاری ان شاء اللہ آئندہ پوسٹ میں آئے گی۔
t.me/impoinfo
t.me/impoinfo
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
کسی بھی تصویر کے میٹا دیٹا سے کیا کیا معلومات حاصل ہوتی ہیں اور کس طرح ہوتی ہیں۔ دیکھیں یہ ویڈیو۔ میٹا ڈیٹا معلوم کرنے کا صرف یہ ایک ذریعہ نہیں ہے، کئی اور دوسری ویب سائٹس‘ سافٹ وئیرس اور ایپس ہوتی ہیں جس کے ذریعہ کسی بھی تصویر سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
ویڈیو دیکھیں اور دوسروں تک اسے پہنچائیں تا کہ ان تک بھی یہ ’’ضروری معلومات‘‘ پہنچ جائے۔
ویڈیو دیکھیں اور دوسروں تک اسے پہنچائیں تا کہ ان تک بھی یہ ’’ضروری معلومات‘‘ پہنچ جائے۔
💡 F-Droid: The privacy-friendly alternative to Google Play Store
• At Google Play Store you can find millions of apps. But you need an account to install and use them. That enables the „omnipresent data kraken“❗️ to collect a lot of information on its users; and privacy isn’t exactly its priority. Not to talk about all those trackers to be found in more than two thirds of the apps listed there.
• With F-Droid there’s an alternative that respects the privacy of its users, and even makes it a priority to protect it.
To know :
• What is F-Droid ?
• How secure is it ?
• What about its choice of apps?
• How to get F-Droid running on your device?
• How to setup and Use
🌐 Read
🌐 @FDroid
#Review #Blog #Alternatives
• At Google Play Store you can find millions of apps. But you need an account to install and use them. That enables the „omnipresent data kraken“❗️ to collect a lot of information on its users; and privacy isn’t exactly its priority. Not to talk about all those trackers to be found in more than two thirds of the apps listed there.
• With F-Droid there’s an alternative that respects the privacy of its users, and even makes it a priority to protect it.
To know :
• What is F-Droid ?
• How secure is it ?
• What about its choice of apps?
• How to get F-Droid running on your device?
• How to setup and Use
🌐 Read
🌐 @FDroid
#Review #Blog #Alternatives
IzzyOnDroid
F-Droid: The privacy-friendly alternative to Google Play Store
With Google Play Store you´re tracked without end: by the Play Store itself as well as by the most apps you can find in it. But you can escape that – e.g. by turning your back to Play Store and instead use an alternative focusing on free and open software…
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کسی بھی تصویر سے میٹاڈیٹا کیسے ہٹایا یا بدلا جائے۔ اس ویڈیو میں دیکھیں
میٹا ڈیٹا کو بدلنے یا حذف کرنے کے لیے جس ایپ کی ضرورت پڑے گی اس کا لنک:
https://play.google.com/store/apps/details?id=net.xnano.android.photoexifeditor
میٹا ڈیٹا سے متعلق یہ پوسٹ بھی پڑھیں:
https://t.me/impoinfo/124
میٹا ڈیٹا آن لائن کس طرح معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس لنک میں دیکھیں:
https://t.me/impoinfo/126
میٹا ڈیٹا کو بدلنے یا حذف کرنے کے لیے جس ایپ کی ضرورت پڑے گی اس کا لنک:
https://play.google.com/store/apps/details?id=net.xnano.android.photoexifeditor
میٹا ڈیٹا سے متعلق یہ پوسٹ بھی پڑھیں:
https://t.me/impoinfo/124
میٹا ڈیٹا آن لائن کس طرح معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس لنک میں دیکھیں:
https://t.me/impoinfo/126
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جن لوگوں کو اوپر والی یہ ویڈیو سمجھ میں نہ آئی ہو وہ اس ویڈیو کو دیکھ لیں۔
میرے مولا
میرے مولا
میرے مولا
میں اس قابل نہیں پھر بھی
تیرے دامانِ رحمت سے
اگر بادل کا اک ٹکڑا
میری جانب بھی آ جائے
تو دھُل کر صاف ہو جاؤں
معافی کے نہیں لائق
مگر خواہش کا کیا کہنا
میرے مولا
میرے مولا
میں اِس قابل نہیں پھر بھی
میرے بچّوں پہ شفقت کر
کہ میری سب خطاؤں میں
نہیں ان کا کوئی حصّہ
میرے مولا
میرے مولا
تیرے دربار میں آؤں
تو کیا منہ لے کے میں آؤں
نہیں زادِ سفر کچھ بھی
میں عاصی ہوں سگِ دُنیا
میرے مولا
میرے مولا
٭٭٭
میرے مولا
میرے مولا
میں اس قابل نہیں پھر بھی
تیرے دامانِ رحمت سے
اگر بادل کا اک ٹکڑا
میری جانب بھی آ جائے
تو دھُل کر صاف ہو جاؤں
معافی کے نہیں لائق
مگر خواہش کا کیا کہنا
میرے مولا
میرے مولا
میں اِس قابل نہیں پھر بھی
میرے بچّوں پہ شفقت کر
کہ میری سب خطاؤں میں
نہیں ان کا کوئی حصّہ
میرے مولا
میرے مولا
تیرے دربار میں آؤں
تو کیا منہ لے کے میں آؤں
نہیں زادِ سفر کچھ بھی
میں عاصی ہوں سگِ دُنیا
میرے مولا
میرے مولا
٭٭٭
Forwarded from ❤️تصوف کا خلاصہ❤️
اس وقت عہد نبوت سے دوری اور قرب قیامت کی وجہ سے بدعت شائع ہوتی جارہی ہے اور بدعت کی ظلمتیں عالم پر محیط ہیں سنت غریب نادر ہوگئی ہے اور اس کے انوار مستور ہو رہے ہیں- سننِ متروکہ کے زندہ کرنے اور علومِ شرعیہ کے پھیلانے کے لئے کمر ہمّت خوب مضبوط باندھو اور اس امر کو وسیلۂ کمالِ رضامندیِ حق بنالو۔ نیز قرب بارگاہِ محمدی کو بھی اسی عمل سے ڈھونڈو- یہ مضمونِ حدیث ہے کہ جو شخص میری ایسی سنت کو جو متروکۃ العمل ہوگئی ہے زندہ کرے گا اس کو سو شہیدوں کا ثواب ہے ۔ احیائے سنت کا پہلا درجہ تو یہ ہے کہ اس سنت پر خود عمل کرے اور اعلٰی درجہ اس سنت کی نشر واشاعت اور دوسروں کو اس پر عمل کرانے کی کوشش کرنا ہے-
(مکتوباتِ خواجہ محمد معصوم ص۲۹۰)
📚شریعت و طریقت کا تلازم ص۹۹-۱۰۰📚
جامع شریعت وطریقت محدثِ کبیر حضرت اقدس الحاج مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی ثم مہاجر مدنی قدس اللہ سرہ
https://t.me/tasawwufkiahy
(مکتوباتِ خواجہ محمد معصوم ص۲۹۰)
📚شریعت و طریقت کا تلازم ص۹۹-۱۰۰📚
جامع شریعت وطریقت محدثِ کبیر حضرت اقدس الحاج مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی ثم مہاجر مدنی قدس اللہ سرہ
https://t.me/tasawwufkiahy
👍1
“ایک ڈاکٹر”
بچہ چند ماہ کا تھا کہ اسے قے کا عارضہ لاحق ہوگیا. میں اسےشہر کے سب سے بڑے چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر سمیر شیخ کے پاس لے گیا. ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے بعد فرمایا
"اسے الٹا سلایا کیجئے، ٹھیک ہوجائے گا"
یہ کہہ کر وہ مجھے یوں دیکھنے لگے جیسے ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی. میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
"دوائی ؟"
انہوں نے خالی پرچہ میری جانب بڑھاتے ہوئے فرمایا
"کوئی دوائی نہیں، بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے تحت دی جاتی ہے"
میں اور اہلیہ خالی پرچہ لئے گھر آگئے اور بچے کی قے کی شکایت الٹا سونے سے ٹھیک ہوگئی. کچھ عرصے بعد اس کے دانت نکلنے کے دن آئے تو میں ایک بار پھر اسے لے کر ڈاکٹر سمیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور دانشوری بھگارتے ہوئے کہا
"ڈاکٹر صاحب ! یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ بچوں کے جب دانت نکلتے ہیں تو اس کے سبب ان کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے، جس سے یہ کمزور ہوجاتے ہیں. میں چاہتا ہوں کہ آپ بچے کے لئے کوئی ایسی دوا لکھ دیجئے کہ اس کا پیٹ خراب نہ ہو اور یہ ہٹا کٹا رہے"
ڈاکٹر سمیر عینک کے اوپر سے گھورتے ہوئے میری دانشوری پر حملہ آور ہوئے
"نہیں ! میں بالکل نہیں جانتا کہ دانت نکلنے سے بچوں کا پیٹ خراب ہوتا ہے، یہ راز کب دریافت ہوا ؟"
تپ تو مجھے بہت چڑھی مگر ضبط سے کام لیتے ہوئے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے گزارش کی
"میرے دونوں بڑے بچوں کے ساتھ ایسا ہوچکا ہے، اور یہ تو عام معروف بات ہے، حیرت ہے آپ نہیں جانتے !"
ڈاکٹر صاحب بولے
"یہ انپڑھ گھرانوں کا تصور ہے کہ دانت نکلنے سے پیٹ خراب ہوتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ جب بچے کے دانت نکلتے ہیں تو اس کے مسوھڑوں میں کھجلی ہوتی ہے جس کے سبب وہ بار بار ہاتھ منہ میں ڈالنے لگتا ہے. چونکہ ہاتھوں پر جراثیم ہوتے ہیں سو یہ بچے کے پیٹ میں جاکر خرابی پیدا کر دیتے ہیں. حل اس کا یہ ہے کہ بچے کے دانت نکلنے کے ایام میں مناسب وقفے کے ساتھ دن میں چار بار اس کے ہاتھ صابن سے دھوئے جائیں"
یہ کہہ کر وہ پچھلی بار کی ہی طرح یوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھ گئے جیسے انہیں مزید کچھ نہیں کرنا. عرض کیا
"دوائی کوئی نہیں ؟"
فرمایا
"کوئی نہیں"
کچھ مدت بعد بچے کا گلا اور سینہ خراب ہوگیا، میں اس بار بھی اسے ڈاکٹر سمیر کے پاس لے گیا مگر اس بار "انپڑھ گھرانوں" والی ڈوز سے بچنے کی خاطر دانشوری جھاڑنے سے مکمل گریز کرتے ہوئے بس اتنا کہا
"اس کا گلا اور سینہ خراب ہے"
"کیوں خراب ہے ؟"
"مجھے کیا پتا، میں تو انپڑھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں"
یہ میں نے جی ہی جی میں کہا، چونچ بند ہی رکھی. وہ معائنہ فرما کر بولے
"سری لیک بند کردیجئے، ٹھیک ہوجائے گا، سری لیک ہر بچے کو راس نہیں آتی"
"سری لیک کی جگہ کیا دیں ؟"
"دہی جو کھٹی ہرگز نہ ہو، ابلا ہوا آلو، یخنی، سبز چائے، شہد اور کھچڑی دیجئے"
"دوائی ؟"
"بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے وقت دیتے ہیں اور وہ بھی ایک آدھ. وقاص کو کوئی اشد ضرورت نہیں"
میں بچے کو دس بارہ برس کی عمر تک بوقت ضرورت ڈاکٹر سمیر کو ہی دکھاتا رہا اور اس پورے عرصے میں ایک دو بار ہی انہوں نے ایک آدھ دوا لکھ کر دی. وہ سختی سے اس بات کے قائل تھے کہ بچے کو دوا نہیں دینی چاہئے. آج بھی ان کے لئے دل سے دعاء نکلتی ہے کیونکہ وہ ایسے دور میں بچوں کو ادویات سے بچانے کے قائل تھے جس دور میں کمیشن خور ڈاکٹرز پانچ سے دس دوائیں لکھ کر مریض کو کرتے تو مزید بیمار ہیں لیکن نسخے والے پیڈ کی لوح پر "ھوالشافی" پرنٹ کرا کر ثواب دارین کی امید بھی رکھتے ہیں.
کیا آپ بھی ڈاکٹر سمیر جیسے کسی ڈاکٹر کو جانتے ہیں؟؟؟؟
(نقل وچسپاں)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: احمدبن نذر
بچہ چند ماہ کا تھا کہ اسے قے کا عارضہ لاحق ہوگیا. میں اسےشہر کے سب سے بڑے چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر سمیر شیخ کے پاس لے گیا. ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے بعد فرمایا
"اسے الٹا سلایا کیجئے، ٹھیک ہوجائے گا"
یہ کہہ کر وہ مجھے یوں دیکھنے لگے جیسے ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی. میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
"دوائی ؟"
انہوں نے خالی پرچہ میری جانب بڑھاتے ہوئے فرمایا
"کوئی دوائی نہیں، بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے تحت دی جاتی ہے"
میں اور اہلیہ خالی پرچہ لئے گھر آگئے اور بچے کی قے کی شکایت الٹا سونے سے ٹھیک ہوگئی. کچھ عرصے بعد اس کے دانت نکلنے کے دن آئے تو میں ایک بار پھر اسے لے کر ڈاکٹر سمیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور دانشوری بھگارتے ہوئے کہا
"ڈاکٹر صاحب ! یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ بچوں کے جب دانت نکلتے ہیں تو اس کے سبب ان کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے، جس سے یہ کمزور ہوجاتے ہیں. میں چاہتا ہوں کہ آپ بچے کے لئے کوئی ایسی دوا لکھ دیجئے کہ اس کا پیٹ خراب نہ ہو اور یہ ہٹا کٹا رہے"
ڈاکٹر سمیر عینک کے اوپر سے گھورتے ہوئے میری دانشوری پر حملہ آور ہوئے
"نہیں ! میں بالکل نہیں جانتا کہ دانت نکلنے سے بچوں کا پیٹ خراب ہوتا ہے، یہ راز کب دریافت ہوا ؟"
تپ تو مجھے بہت چڑھی مگر ضبط سے کام لیتے ہوئے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے گزارش کی
"میرے دونوں بڑے بچوں کے ساتھ ایسا ہوچکا ہے، اور یہ تو عام معروف بات ہے، حیرت ہے آپ نہیں جانتے !"
ڈاکٹر صاحب بولے
"یہ انپڑھ گھرانوں کا تصور ہے کہ دانت نکلنے سے پیٹ خراب ہوتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ جب بچے کے دانت نکلتے ہیں تو اس کے مسوھڑوں میں کھجلی ہوتی ہے جس کے سبب وہ بار بار ہاتھ منہ میں ڈالنے لگتا ہے. چونکہ ہاتھوں پر جراثیم ہوتے ہیں سو یہ بچے کے پیٹ میں جاکر خرابی پیدا کر دیتے ہیں. حل اس کا یہ ہے کہ بچے کے دانت نکلنے کے ایام میں مناسب وقفے کے ساتھ دن میں چار بار اس کے ہاتھ صابن سے دھوئے جائیں"
یہ کہہ کر وہ پچھلی بار کی ہی طرح یوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھ گئے جیسے انہیں مزید کچھ نہیں کرنا. عرض کیا
"دوائی کوئی نہیں ؟"
فرمایا
"کوئی نہیں"
کچھ مدت بعد بچے کا گلا اور سینہ خراب ہوگیا، میں اس بار بھی اسے ڈاکٹر سمیر کے پاس لے گیا مگر اس بار "انپڑھ گھرانوں" والی ڈوز سے بچنے کی خاطر دانشوری جھاڑنے سے مکمل گریز کرتے ہوئے بس اتنا کہا
"اس کا گلا اور سینہ خراب ہے"
"کیوں خراب ہے ؟"
"مجھے کیا پتا، میں تو انپڑھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں"
یہ میں نے جی ہی جی میں کہا، چونچ بند ہی رکھی. وہ معائنہ فرما کر بولے
"سری لیک بند کردیجئے، ٹھیک ہوجائے گا، سری لیک ہر بچے کو راس نہیں آتی"
"سری لیک کی جگہ کیا دیں ؟"
"دہی جو کھٹی ہرگز نہ ہو، ابلا ہوا آلو، یخنی، سبز چائے، شہد اور کھچڑی دیجئے"
"دوائی ؟"
"بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے وقت دیتے ہیں اور وہ بھی ایک آدھ. وقاص کو کوئی اشد ضرورت نہیں"
میں بچے کو دس بارہ برس کی عمر تک بوقت ضرورت ڈاکٹر سمیر کو ہی دکھاتا رہا اور اس پورے عرصے میں ایک دو بار ہی انہوں نے ایک آدھ دوا لکھ کر دی. وہ سختی سے اس بات کے قائل تھے کہ بچے کو دوا نہیں دینی چاہئے. آج بھی ان کے لئے دل سے دعاء نکلتی ہے کیونکہ وہ ایسے دور میں بچوں کو ادویات سے بچانے کے قائل تھے جس دور میں کمیشن خور ڈاکٹرز پانچ سے دس دوائیں لکھ کر مریض کو کرتے تو مزید بیمار ہیں لیکن نسخے والے پیڈ کی لوح پر "ھوالشافی" پرنٹ کرا کر ثواب دارین کی امید بھی رکھتے ہیں.
کیا آپ بھی ڈاکٹر سمیر جیسے کسی ڈاکٹر کو جانتے ہیں؟؟؟؟
(نقل وچسپاں)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انتخاب: احمدبن نذر
شادی کے بعد دنیا کی دوسری عورتیں خوبصورت کیوں لگتی ہیں
ایک شخص ایک تجربہ کار عالم دین سے اپنا مسئلہ دریافت کرتے ہوئے کہنے لگا:
شروع شروع میں جب میری بیوی مجھے پسند آئی تھی تو اس وقت وہ میری نگاہ میں ایسی تھی جیسے اللہ تعالی نے اس دنیا کے اندر اس جیسا کسی کو بنایا ہی نہیں۔
اور جب میں نے اسے شادی کا پیغام دیا تو اس وقت میری نگاہ میں اس جیسی کئی ساری لڑکیاں تھیں۔
پھر جب میں نے اس سے شادی کر لی تو اس وقت اس سے زیادہ خوبصورت خوبصورت کئی لڑکیاں میری نظر سے گزریں۔
شادی کے چند سال گزرنے کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا کہ دنیا کی تمام عورتیں میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
شیخ نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب چیز نہ بتاؤں؟
اس آدمی نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں!
حضرت نے کہا: اگر تم دنیا کی ساری عورتوں سے شادی کر لو پھر بھی تمہیں ایسا لگے گا کہ گلی کوچوں میں پھرنے والے آوارہ کتے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
آدمی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا: حضرت! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟
*حضرت نے جواب دیا: اصل پریشانی تمہاری بیوی میں نہیں بلکہ اصل پریشانی یہ ہے کہ جب انسان کا دل لالچی ہو جائے، اس کی نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے لگیں اور انسان شرم و حیا سے عاری ہو جائے تو قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی بھی چیز اس کی آنکھوں کو نہیں بھر سکتی۔*
سنو! تمہاری پریشانی یہ ہے کہ تم نگاہیں نیچی نہیں رکھ سکتے۔
کیا تم اپنی بیوی کو دوبارہ دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت عورت بنانا چاہتے ہو؟
اس آدمی نے جواب دیا: جی ہاں!
حضرت نے کہا: *پھر تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔*
ایک شخص ایک تجربہ کار عالم دین سے اپنا مسئلہ دریافت کرتے ہوئے کہنے لگا:
شروع شروع میں جب میری بیوی مجھے پسند آئی تھی تو اس وقت وہ میری نگاہ میں ایسی تھی جیسے اللہ تعالی نے اس دنیا کے اندر اس جیسا کسی کو بنایا ہی نہیں۔
اور جب میں نے اسے شادی کا پیغام دیا تو اس وقت میری نگاہ میں اس جیسی کئی ساری لڑکیاں تھیں۔
پھر جب میں نے اس سے شادی کر لی تو اس وقت اس سے زیادہ خوبصورت خوبصورت کئی لڑکیاں میری نظر سے گزریں۔
شادی کے چند سال گزرنے کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا کہ دنیا کی تمام عورتیں میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
شیخ نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب چیز نہ بتاؤں؟
اس آدمی نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں!
حضرت نے کہا: اگر تم دنیا کی ساری عورتوں سے شادی کر لو پھر بھی تمہیں ایسا لگے گا کہ گلی کوچوں میں پھرنے والے آوارہ کتے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
آدمی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا: حضرت! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟
*حضرت نے جواب دیا: اصل پریشانی تمہاری بیوی میں نہیں بلکہ اصل پریشانی یہ ہے کہ جب انسان کا دل لالچی ہو جائے، اس کی نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے لگیں اور انسان شرم و حیا سے عاری ہو جائے تو قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی بھی چیز اس کی آنکھوں کو نہیں بھر سکتی۔*
سنو! تمہاری پریشانی یہ ہے کہ تم نگاہیں نیچی نہیں رکھ سکتے۔
کیا تم اپنی بیوی کو دوبارہ دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت عورت بنانا چاہتے ہو؟
اس آدمی نے جواب دیا: جی ہاں!
حضرت نے کہا: *پھر تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔*