عید کے روز بھی جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری رہے گا ، ریلی اور مظاہرے کیے جائیں گے – ماما قدیر بلوچ
شال ( ہمگام نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم ءِی ) کا احتجاجی کیمپ عید کے روز بھی جاری رہے گا، جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ریلیاں اور مظاہرے کیے جائیں گے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اتوار کے روز میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہیں رک رہا، روزانہ لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں حوران بلوچ کے کزن، دودا سمالانی، کو بھی ان کے گھر سے ماورائے عدالت گرفتار کر کے جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے۔
اتوار کو جبری لاپتہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے افراد کو انصاف دلانے کے لیے قائم وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ کو 5775 دن مکمل ہو گئے۔ اس موقع پر مستونگ سے طلبہ کے ایک وفد کے علاوہ بلال بلوچ، غلام رسول بلوچ، نور محمد بلوچ اور دیگر نے کیمپ میں آ کر جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا۔ وفد نے جبری گمشدگیوں اور حالیہ دنوں میں انسانی حقوق کے کارکنان کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بی وائی سی کے رہنما ماہ رنگ ، سمی دین ، بیبو، بیبگر، صبغت اللہ شاہ جی سمیت درجنوں کارکنان قید میں ہیں، اور انھیں بطور قیدی بھی بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انھیں نہ تو اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کی صحت کا خیال رکھا جا رہا ہے۔
انھوں نے بی وائی سی کے رہنما صبغت اللہ شاہ جی کی جبری گمشدگی کو انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا بدترین واقعہ قرار دیا اور کہا کہ انھیں ان کے تین دیگر خاندان کے افراد—چھوٹے بھائی ڈاکٹر ثناء اللہ، قریبی عزیز ڈاکٹر آفتاب، اور شمس بلوچ—سمیت جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے اب تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ریاستی ادارے اور حکام خود حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ ماضی میں بھی پرامن سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا، اور خفیہ اذیت گاہوں میں دہائیوں سے قید رکھ کر جبری گمشدگی کو بلوچستان میں ایک طویل اور تکلیف دہ سزا کے طور پر رائج کیا گیا۔ شاید سرکار سمجھتی ہے کہ اس سے خاموشی چھا جائے گی اور لوگ ڈر جائیں گے، مگر ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ ہم اپنے پیاروں کی بازیابی اور حقوق کی جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوں گے۔
انھوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مزید تماشائی نہ بنی رہے، کیونکہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ محکوم اقوام کے نمایاں شخصیات کو برسوں لاپتہ رکھا یا انھیں قتل کر دیا۔ ہم مزید لاشیں اٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
https://humgaam.net/?p=102774
شال ( ہمگام نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم ءِی ) کا احتجاجی کیمپ عید کے روز بھی جاری رہے گا، جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ریلیاں اور مظاہرے کیے جائیں گے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اتوار کے روز میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہیں رک رہا، روزانہ لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں حوران بلوچ کے کزن، دودا سمالانی، کو بھی ان کے گھر سے ماورائے عدالت گرفتار کر کے جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے۔
اتوار کو جبری لاپتہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے افراد کو انصاف دلانے کے لیے قائم وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ کو 5775 دن مکمل ہو گئے۔ اس موقع پر مستونگ سے طلبہ کے ایک وفد کے علاوہ بلال بلوچ، غلام رسول بلوچ، نور محمد بلوچ اور دیگر نے کیمپ میں آ کر جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا۔ وفد نے جبری گمشدگیوں اور حالیہ دنوں میں انسانی حقوق کے کارکنان کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بی وائی سی کے رہنما ماہ رنگ ، سمی دین ، بیبو، بیبگر، صبغت اللہ شاہ جی سمیت درجنوں کارکنان قید میں ہیں، اور انھیں بطور قیدی بھی بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انھیں نہ تو اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کی صحت کا خیال رکھا جا رہا ہے۔
انھوں نے بی وائی سی کے رہنما صبغت اللہ شاہ جی کی جبری گمشدگی کو انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا بدترین واقعہ قرار دیا اور کہا کہ انھیں ان کے تین دیگر خاندان کے افراد—چھوٹے بھائی ڈاکٹر ثناء اللہ، قریبی عزیز ڈاکٹر آفتاب، اور شمس بلوچ—سمیت جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے اب تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ریاستی ادارے اور حکام خود حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ ماضی میں بھی پرامن سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا، اور خفیہ اذیت گاہوں میں دہائیوں سے قید رکھ کر جبری گمشدگی کو بلوچستان میں ایک طویل اور تکلیف دہ سزا کے طور پر رائج کیا گیا۔ شاید سرکار سمجھتی ہے کہ اس سے خاموشی چھا جائے گی اور لوگ ڈر جائیں گے، مگر ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ ہم اپنے پیاروں کی بازیابی اور حقوق کی جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوں گے۔
انھوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مزید تماشائی نہ بنی رہے، کیونکہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ محکوم اقوام کے نمایاں شخصیات کو برسوں لاپتہ رکھا یا انھیں قتل کر دیا۔ ہم مزید لاشیں اٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
https://humgaam.net/?p=102774
Humgaam News
عید کے روز بھی جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری رہے گا ، ریلی اور مظاہرے کیے جائیں گے – ماما قدیر بلوچ
شال ( ہمگام نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم ءِی ) کا احتجاجی کیمپ عید کے روز بھی جاری رہے گا، جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ریلیاں اور مظاہرے کیے جائیں گے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اتوار کے روز میڈیا کو…
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اتوار کے روز میڈیا کو…
ڈاکٹر ثناء اللہ کو فورا رہا کیا جائے ، رہائی نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا۔ ترجمان ینگ ڈاکٹرز
https://humgaam.net/?p=102777
شال ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے جاری بیان میں کہاہے کہ بلوچستان ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ ایک قابل، محنتی اور دیانت دار معالج ہیں، جو نہ صرف مریضوں کی خدمت میں مصروف تھے بلکہ طبی شعبے میں بہتری کے بھی کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کی عید سے پہلے اچانک گمشدگی ڈاکٹرز کمیونٹی کے لیے شدید صدمے کا باعث بنی ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سمجھتی ہے کہ ڈاکٹرز کا تحفظ اور آزادی یقینی بنانا حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایسے افسوسناک واقعات نہ صرف ڈاکٹرز کو عدم تحفظ کا شکار کرتے ہیں بلکہ طبی خدمات کی فراہمی پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ ایسے اقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں اور کسی بھی مہذب معاشرے میں ڈاکٹرز کے ساتھ ایسے روئیے کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور ان کے خلاف اگر کوئی قانونی معاملہ ہے تو اسے عدالت میں لایا جائے۔ حکومت کو اس معاملے میں فوری مداخلت کرنی چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
اگر ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن احتجاج کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوگی۔ ہم پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کے تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور اگر ہمارے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
https://humgaam.net/?p=102777
شال ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے جاری بیان میں کہاہے کہ بلوچستان ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ ایک قابل، محنتی اور دیانت دار معالج ہیں، جو نہ صرف مریضوں کی خدمت میں مصروف تھے بلکہ طبی شعبے میں بہتری کے بھی کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کی عید سے پہلے اچانک گمشدگی ڈاکٹرز کمیونٹی کے لیے شدید صدمے کا باعث بنی ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سمجھتی ہے کہ ڈاکٹرز کا تحفظ اور آزادی یقینی بنانا حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایسے افسوسناک واقعات نہ صرف ڈاکٹرز کو عدم تحفظ کا شکار کرتے ہیں بلکہ طبی خدمات کی فراہمی پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ ایسے اقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں اور کسی بھی مہذب معاشرے میں ڈاکٹرز کے ساتھ ایسے روئیے کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور ان کے خلاف اگر کوئی قانونی معاملہ ہے تو اسے عدالت میں لایا جائے۔ حکومت کو اس معاملے میں فوری مداخلت کرنی چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
اگر ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن احتجاج کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوگی۔ ہم پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کے تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور اگر ہمارے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
سویڈن میں بلوچ یکہجتی کمیٹی کی پرامن احتجاج پر کریک ڈاؤن اور پاکستانی بربریت کے خلاف مظاہرہ
https://humgaam.net/?p=102780
اسٹاک ہوم (ہمگام نیوز) سویڈن میں بلوچستان کے اندر بلوچ قومی نسل کشی، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور گمشدہ بلوچ افراد کی جعلی مقابلوں میں شہادت کے خلاف کی جانے والی بلوچ یکجتی کمیٹی کی احتجاجی سلسلے پر کریک ڈاؤن اور نہتے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ اور کئی بلوچ فرندوں کو شہید کرنے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سرکردہ رہنماؤں کی گرفتاریوں اور پسِ زنداں کرنے کے خلاف ایک احتجاج کیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ مہینےبلوچ قوم کے خلاف پاکستانی ریاستی جبر و استبداد کی تسلسل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچ اسکالرز، پروفیسرز، طلباء اور ادیبوں سمیت سیاسی و سماجی کارکنان کو ہراساں کرکے گرفتار کیا گیا تھا جو تاحال پابند سلاسل ہیں۔
سویڈن میں مقیم بلوچ دائسپورا نے پاکستان کی روز افزوں جبر اور ریاستی کریک ڈاؤن سمیت ایرانی ریاست کی طرف سے نہتے بلوچوں کی قتل عام کے خلاف ایک مظاہرہ کیا گیا جس میں مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر ماہرنگ اور سمی دین بلوچ مکمل بلوچستان ہیں اور انکو محض جیل میں رکھنے سے انکی فکر و نظر کو مقید نہیں کیا جاسکتا ہے مقررین نے سویڈش بلوچی اور فارسی زبانوں میں تقاریر کیں۔
https://humgaam.net/?p=102780
اسٹاک ہوم (ہمگام نیوز) سویڈن میں بلوچستان کے اندر بلوچ قومی نسل کشی، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور گمشدہ بلوچ افراد کی جعلی مقابلوں میں شہادت کے خلاف کی جانے والی بلوچ یکجتی کمیٹی کی احتجاجی سلسلے پر کریک ڈاؤن اور نہتے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ اور کئی بلوچ فرندوں کو شہید کرنے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سرکردہ رہنماؤں کی گرفتاریوں اور پسِ زنداں کرنے کے خلاف ایک احتجاج کیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ مہینےبلوچ قوم کے خلاف پاکستانی ریاستی جبر و استبداد کی تسلسل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچ اسکالرز، پروفیسرز، طلباء اور ادیبوں سمیت سیاسی و سماجی کارکنان کو ہراساں کرکے گرفتار کیا گیا تھا جو تاحال پابند سلاسل ہیں۔
سویڈن میں مقیم بلوچ دائسپورا نے پاکستان کی روز افزوں جبر اور ریاستی کریک ڈاؤن سمیت ایرانی ریاست کی طرف سے نہتے بلوچوں کی قتل عام کے خلاف ایک مظاہرہ کیا گیا جس میں مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر ماہرنگ اور سمی دین بلوچ مکمل بلوچستان ہیں اور انکو محض جیل میں رکھنے سے انکی فکر و نظر کو مقید نہیں کیا جاسکتا ہے مقررین نے سویڈش بلوچی اور فارسی زبانوں میں تقاریر کیں۔
ناروے قابض پاکستانی فورسز ہاتھوں بی وائی سی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ۔ بلوچ سولیڈیریٹی کمیٹی
https://humgaam.net/?p=102785
ناروے ( ہمگام نیوز )بلوچ سولیڈیریٹی کمیٹی کی جانب سے ناروے میں بلوچ کمیونٹی نے قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف ناروے کی قومی اسمبلی کے سامنے احتجاجی ریلی نکالی گئی مظاہرہ کیاگیا۔
انھوں نے احتجاجی ریلی میں حراست میں لیے گئے افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بلوچستان سے پاکستانی افواج کے انخلاء کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ پاکستان بلوچوں پر ظلم بند کرے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے بلکہ 27 مارچ 1948ء کو پاکستان نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔
اس اجتماع کے مقررین میں بانک زیبا بختیاری بانک، زینب دلیری بانک، بینٹ فاروق بنک اور احسان ارجمندی شامل تھے۔ ان سب نے متفقہ طور پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ،لالا وھاب ، صبغت اللہ، سمیع، بیبو ، اور بیبرگ سمیت دیگر کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انکی رہائی کا مطالبہ کیا ۔
https://humgaam.net/?p=102785
ناروے ( ہمگام نیوز )بلوچ سولیڈیریٹی کمیٹی کی جانب سے ناروے میں بلوچ کمیونٹی نے قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف ناروے کی قومی اسمبلی کے سامنے احتجاجی ریلی نکالی گئی مظاہرہ کیاگیا۔
انھوں نے احتجاجی ریلی میں حراست میں لیے گئے افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بلوچستان سے پاکستانی افواج کے انخلاء کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ پاکستان بلوچوں پر ظلم بند کرے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے بلکہ 27 مارچ 1948ء کو پاکستان نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔
اس اجتماع کے مقررین میں بانک زیبا بختیاری بانک، زینب دلیری بانک، بینٹ فاروق بنک اور احسان ارجمندی شامل تھے۔ ان سب نے متفقہ طور پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ،لالا وھاب ، صبغت اللہ، سمیع، بیبو ، اور بیبرگ سمیت دیگر کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انکی رہائی کا مطالبہ کیا ۔
Humgaam News
ناروے قابض پاکستانی فورسز ہاتھوں بی وائی سی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ۔ بلوچ سولیڈیریٹی کمیٹی
ناروے ( ہمگام نیوز )بلوچ سولیڈیریٹی کمیٹی کی جانب سے ناروے میں بلوچ کمیونٹی نے قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف ناروے کی قومی اسمبلی کے سامنے احتجاجی ریلی نکالی گئی مظاہرہ…
جلاوطنی کی سیاسیت: تاریخی،جنگی، سماجی اور جغرافیائی پہلو میں،
کوہ گرک
https://humgaam.net/?p=102791
اگر علاقائی تناظر اور ریاستی پروپیگنڈہ کو سامنے رکھ کے دیکھا جاہے تو اکثر عام و خاص اس لاعلمی میں بہث مباحثہ کرتے ہیں کہ لیڈر باہر رہ کر بلوچستان میں انفرادی اور اجتماعی مزاحمت کو پروان چڑھا رہا ہے۔ کچھ اپنے لوگ بھی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ںوتے ہیں اور تنقید کرتے ہیں ,جواز پیش کرتے ہیں اور پولیٹکس سے لیکر جنگی حکمت عملی کو گراونڈ میں ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ البتہ، اگر اس نکتہ کو باریک بینی سے دیکھا جاہے تو بلوچ قوم کے اکثر لیڈر گراونڈ میں رہ چکے ہیں مگر تنظیمی حکمت عملی کی وجہ سے جلاوطن رہے ہیں ، ان میں بابو شیرو مری، بابا خیربخش مری، پرنس کریم، عطااللہ مینگل، بالاچ مری ، برامدغ بگٹی، ہیربیار مری، خان سلیمان داود، فرزانہ بلوچ،بانک کریمہ بلوچ , ساجد بلوچ، استاد اسلم جان، سے لیکر موجودہ تمام سطحی جنگی کماندان شامل ہیں۔ اس پہلو میں تجزیا بہتر ہوگا کہ لیڈران اور سیاسی اور جنگی قیادت زیادہ عرصہ تک گراونڈ میں رہ کر جدوجہد کو پروان نہیں چڑھا سکتے ۔ ان حالات میں ب نواب بگٹی کی طرح کچھ عرصے میں شہادت جام کرتے ہیں یا بابو نوروز کی طرح گرفتار ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جدوجہد کہی دیہاہی پیچھے چلی جاتی ہیں یا تو تامل ٹاہگرز کی طرح شکست کھا جاتے ہیں اور پوری سٹیکچر کو لے ڈوبتے ہیں۔
جلاوطنی کی سیاست اور فلسفہ ایک ایسا پیچیدہ اور گہرا موضوع ہے جو فرد یا قوم کے داخلی اور خارجی وجود کو یکجا کرتا ہے۔ جلاوطنی کا مقصد صرف جغرافیائی سرحدوں سے آزادی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک داخلی جدوجہد کی بھی نمائندگی کرتا ہے، جہاں انسان اپنے اصولوں اور نظریات کو عالمی سطح پر پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایک گہری فکری حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جغرافیائی سرحدیں کبھی بھی کسی فرد یا قوم کی آزادی کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ جلاوطنی، دراصل ایک نئی حقیقت کو تخلیق کرنے کا عمل ہے جس میں انسان اپنے اخلاقی اور سیاسی نظریات کو عالمی سطح پر نافذ کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ اس کے روحانی پہلو بھی تاریخی حساب سے کافی وزن رکھتے ہیں۔
کارل مارکس کی جلاوطنی کا تجزیہ کرتے ہوئے، ہم اس حقیقت پر غور کرتے ہیں کہ مارکس نے جلاوطنی میں رہ کر سرمایہ داری کے خلاف اپنے انقلابی نظریات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ ان کا یہ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ جب انسان جغرافیائی سرحدوں سے آزاد ہو کر اپنے خیالات کو پھیلاتا ہے تو وہ ایک عالمی سطح پر تبدیلی کی بنیاد رکھتا ہے۔ مارکس کی جلاوطنی نے یہ ثابت کیا کہ نظریاتی آزادی، جو ایک مخصوص جغرافیائی علاقے تک محدود نہیں ہوتی، دراصل ایک عالمی حقیقت بن سکتی ہے۔
فیدل کاسترو اور نلسن منڈیلا کی جلاوطنی میں ہمیں عالمی سطح پر جدوجہد کے امکانات نظر آتے ہیں۔ ان رہنماؤں نے جلاوطنی کو صرف سیاسی پناہ نہیں بنایا، بلکہ یہ ایک عالمی تحریک کے طور پر ابھری۔ ان کی جلاوطنی نے عالمی سطح پر آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کے اصولوں کو اجاگر کیا اور یہ ثابت کیا کہ جغرافیائی سرحدیں ان اصولوں کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہو سکتیں۔ ان رہنماؤں کی جلاوطنی کا فلسفہ یہ سکھاتا ہے کہ آزادی کی جدوجہد کو ایک وسیع تر عالمی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
چی گویرا اور سیمون بولیوار کی جلاوطنی نے لاطینی امریکہ کی آزادی کی جدوجہد کو ایک عالمی سطح پر متعارف کیا۔ ان رہنماؤں کا فلسفہ یہ ثابت کرتا ہے کہ جغرافیائی سرحدیں آزادی کی جدوجہد کو محدود نہیں کر سکتی۔ ان کی جلاوطنی نے ایک نئی انقلابی تحریک کو جنم دیا، جس نے عالمی سطح پر انسانی حقوق، انصاف اور مساوات کے اصولوں کو نئی زندگی بخشی ۔ ان رہنماؤں کی جلاوطنی سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جغرافیائی حدود محض ظاہری رکاوٹیں ہوتی ہیں، اصل طاقت انسان کے فکری اور نظریاتی سرحدوں سے آزاد ہو کر عمل میں آتی ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، جو ایک جغرافیائی منتقلی تھی، حقیقت میں ایک نیا سیاسی اور سماجی انقلاب تھا۔ ہجرت کا عمل نہ صرف ایک جسمانی حرکت تھی، بلکہ اس میں ایک اخلاقی، سماجی اور سیاسی حقیقت چھپی ہوئی تھی جو انسانوں کے درمیان مساوات، عدل اور بھائی چارے کے اصولوں کو اجاگر کرتی تھی۔ اس فلسفے میں جلاوطنی کا تصور ایک نئی سماجی حقیقت کے قیام کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو عالمگیر اصولوں کی بنیاد رکھتا ہے۔
آئن سٹائن کی جلاوطنی نے عالمی سطح پر سائنسی تحقیق کی راہیں کھولیں اور یہ ثابت کیا کہ سائنسی آزادی بھی جغرافیائی حدود سے آزاد ہوتی ہے۔ آئن سٹائن نے جلاوطنی اختیار کی اور عالمی سطح پر اپنے نظریات کی بنیاد رکھی، جو سائنس کی ترقی اور انسانیت کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ ان کی جلاوطنی نے ہمیں یہ سکھایا کہ علم کی آزادی اور تخلیق کا عمل محض جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ عالمی سطح پر انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
کوہ گرک
https://humgaam.net/?p=102791
اگر علاقائی تناظر اور ریاستی پروپیگنڈہ کو سامنے رکھ کے دیکھا جاہے تو اکثر عام و خاص اس لاعلمی میں بہث مباحثہ کرتے ہیں کہ لیڈر باہر رہ کر بلوچستان میں انفرادی اور اجتماعی مزاحمت کو پروان چڑھا رہا ہے۔ کچھ اپنے لوگ بھی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ںوتے ہیں اور تنقید کرتے ہیں ,جواز پیش کرتے ہیں اور پولیٹکس سے لیکر جنگی حکمت عملی کو گراونڈ میں ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ البتہ، اگر اس نکتہ کو باریک بینی سے دیکھا جاہے تو بلوچ قوم کے اکثر لیڈر گراونڈ میں رہ چکے ہیں مگر تنظیمی حکمت عملی کی وجہ سے جلاوطن رہے ہیں ، ان میں بابو شیرو مری، بابا خیربخش مری، پرنس کریم، عطااللہ مینگل، بالاچ مری ، برامدغ بگٹی، ہیربیار مری، خان سلیمان داود، فرزانہ بلوچ،بانک کریمہ بلوچ , ساجد بلوچ، استاد اسلم جان، سے لیکر موجودہ تمام سطحی جنگی کماندان شامل ہیں۔ اس پہلو میں تجزیا بہتر ہوگا کہ لیڈران اور سیاسی اور جنگی قیادت زیادہ عرصہ تک گراونڈ میں رہ کر جدوجہد کو پروان نہیں چڑھا سکتے ۔ ان حالات میں ب نواب بگٹی کی طرح کچھ عرصے میں شہادت جام کرتے ہیں یا بابو نوروز کی طرح گرفتار ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جدوجہد کہی دیہاہی پیچھے چلی جاتی ہیں یا تو تامل ٹاہگرز کی طرح شکست کھا جاتے ہیں اور پوری سٹیکچر کو لے ڈوبتے ہیں۔
جلاوطنی کی سیاست اور فلسفہ ایک ایسا پیچیدہ اور گہرا موضوع ہے جو فرد یا قوم کے داخلی اور خارجی وجود کو یکجا کرتا ہے۔ جلاوطنی کا مقصد صرف جغرافیائی سرحدوں سے آزادی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک داخلی جدوجہد کی بھی نمائندگی کرتا ہے، جہاں انسان اپنے اصولوں اور نظریات کو عالمی سطح پر پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایک گہری فکری حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جغرافیائی سرحدیں کبھی بھی کسی فرد یا قوم کی آزادی کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ جلاوطنی، دراصل ایک نئی حقیقت کو تخلیق کرنے کا عمل ہے جس میں انسان اپنے اخلاقی اور سیاسی نظریات کو عالمی سطح پر نافذ کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ اس کے روحانی پہلو بھی تاریخی حساب سے کافی وزن رکھتے ہیں۔
کارل مارکس کی جلاوطنی کا تجزیہ کرتے ہوئے، ہم اس حقیقت پر غور کرتے ہیں کہ مارکس نے جلاوطنی میں رہ کر سرمایہ داری کے خلاف اپنے انقلابی نظریات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ ان کا یہ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ جب انسان جغرافیائی سرحدوں سے آزاد ہو کر اپنے خیالات کو پھیلاتا ہے تو وہ ایک عالمی سطح پر تبدیلی کی بنیاد رکھتا ہے۔ مارکس کی جلاوطنی نے یہ ثابت کیا کہ نظریاتی آزادی، جو ایک مخصوص جغرافیائی علاقے تک محدود نہیں ہوتی، دراصل ایک عالمی حقیقت بن سکتی ہے۔
فیدل کاسترو اور نلسن منڈیلا کی جلاوطنی میں ہمیں عالمی سطح پر جدوجہد کے امکانات نظر آتے ہیں۔ ان رہنماؤں نے جلاوطنی کو صرف سیاسی پناہ نہیں بنایا، بلکہ یہ ایک عالمی تحریک کے طور پر ابھری۔ ان کی جلاوطنی نے عالمی سطح پر آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کے اصولوں کو اجاگر کیا اور یہ ثابت کیا کہ جغرافیائی سرحدیں ان اصولوں کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہو سکتیں۔ ان رہنماؤں کی جلاوطنی کا فلسفہ یہ سکھاتا ہے کہ آزادی کی جدوجہد کو ایک وسیع تر عالمی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
چی گویرا اور سیمون بولیوار کی جلاوطنی نے لاطینی امریکہ کی آزادی کی جدوجہد کو ایک عالمی سطح پر متعارف کیا۔ ان رہنماؤں کا فلسفہ یہ ثابت کرتا ہے کہ جغرافیائی سرحدیں آزادی کی جدوجہد کو محدود نہیں کر سکتی۔ ان کی جلاوطنی نے ایک نئی انقلابی تحریک کو جنم دیا، جس نے عالمی سطح پر انسانی حقوق، انصاف اور مساوات کے اصولوں کو نئی زندگی بخشی ۔ ان رہنماؤں کی جلاوطنی سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جغرافیائی حدود محض ظاہری رکاوٹیں ہوتی ہیں، اصل طاقت انسان کے فکری اور نظریاتی سرحدوں سے آزاد ہو کر عمل میں آتی ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، جو ایک جغرافیائی منتقلی تھی، حقیقت میں ایک نیا سیاسی اور سماجی انقلاب تھا۔ ہجرت کا عمل نہ صرف ایک جسمانی حرکت تھی، بلکہ اس میں ایک اخلاقی، سماجی اور سیاسی حقیقت چھپی ہوئی تھی جو انسانوں کے درمیان مساوات، عدل اور بھائی چارے کے اصولوں کو اجاگر کرتی تھی۔ اس فلسفے میں جلاوطنی کا تصور ایک نئی سماجی حقیقت کے قیام کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو عالمگیر اصولوں کی بنیاد رکھتا ہے۔
آئن سٹائن کی جلاوطنی نے عالمی سطح پر سائنسی تحقیق کی راہیں کھولیں اور یہ ثابت کیا کہ سائنسی آزادی بھی جغرافیائی حدود سے آزاد ہوتی ہے۔ آئن سٹائن نے جلاوطنی اختیار کی اور عالمی سطح پر اپنے نظریات کی بنیاد رکھی، جو سائنس کی ترقی اور انسانیت کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ ان کی جلاوطنی نے ہمیں یہ سکھایا کہ علم کی آزادی اور تخلیق کا عمل محض جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ عالمی سطح پر انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
Humgaam News
جلاوطنی کی سیاسیت: تاریخی،جنگی، سماجی اور جغرافیائی پہلو میں، کوہ گرک
اگر علاقائی تناظر اور ریاستی پروپیگنڈہ کو سامنے رکھ کے دیکھا جاہے تو اکثر عام و خاص اس لاعلمی میں بہث مباحثہ کرتے ہیں کہ لیڈر باہر رہ کر بلوچستان میں انفرادی اور اجتماعی مزاحمت کو پروان چڑھا رہا ہے۔ کچھ اپنے لوگ بھی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ںوتے ہیں اور…
بلوچ رہنماؤں کی جلاوطنی کا فلسفہ بھی ایک اہم پہلو ہے جو عالمی سطح پر انسانی آزادی کی جدو جہد کو اجاگر کرتا ہے۔ بلوچستان کے رہنما، جنہوں نے اپنی جلاوطنی اختیار کی، اپنی قوم کی آزادی کی جدوجہد کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان رہنماؤں کی جلاوطنی نے یہ ثابت کیا کہ جغرافیائی سرحدیں کسی بھی قوم کی آزادی کی جدو جہد کو روک نہیں سکتیں۔ ان رہنماؤں نے جلاوطنی کو ایک وسیع عالمی تحریک میں تبدیل کیا جس میں بلوچستان کے لوگوں کے حقوق اور آزادی کی آواز کو دنیا بھر میں سنا گیا۔
خیر بخش مری جیسے بلوچ رہنماؤں کی جلاوطنی نے ایک فلسفیانہ نقطہ نظر کو اجاگر کیا، جس میں انہوں نے جغرافیائی سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر اپنی قوم کے حقوق کے لیے عالمی سطح پر جدوجہد کی۔ خیر بخش مری کی جلاوطنی نے ہمیں یہ سکھایا کہ ایک قوم کی آزادی کی جدو جہد کا عمل کبھی بھی جغرافیائی حدود میں نہیں قید ہو سکتا۔ ان کی جلاوطنی نے ایک نئی فکری حقیقت کو جنم دیا جو انسانی حقوق اور آزادی کے اصولوں کو عالمی سطح پر مضبوط کرتی ہے۔ اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو بلوچ گوریلا لیڈرشپ نے ہمیشہ ہمسایہ مملک کو اپنا مسکن بنایا ہے یا یورپ میں لیڈرشپ کی زمینداری نبھائی ہیں۔ اکثر کم علم لوگ سمجھتے ہیں کہ جو لیڈرشپ اس وقت گروانڈ میں موجود ہیں وہ ہی اصل حقدار ہیں تنظیمی جہدجہد میں حصہ لینے کہ مگر ان کو یہ کیوں سمجھ نہیں آتا کہ بلوچستان میں مین سطحی کمانڈرز بہت کم گرونڈ میں رہے ہیں اور یہ جنگی اصولوں کا ایک نایاب جز ہے۔ جو لیڈرشپ کو زیادہ توانائی دیتی ہے۔ استاد اسلم سے لے کہ جتنے بھی تنظیم کے کماندان ہے سب اس وقت بھی باہر سے کمانڈ کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ اگر کماندان کو نقصان ملتا ہے تو اس پہ پورا سٹیکچر کمپرومائز یا تباہ ہوجاتی ہے اور تحریک کبھی کبھار کہی سال پیچھے چلی جاتی ہیں۔ اس کی مثالیں حال ہی میں بلوچ قوم نے خود دیکھ لی تھی۔ جلاوطنی میں بھی کمندان اور سیاسی لیڈرز کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہیں ، غیر ضروری موومنٹ اور دشمن کی چالاکیاں عقلیت پسندی سے موڑ دینی ہوتی ہیں۔
جلاوطنی کی سیاست ایک متحرک اور ترقی پذیر رجحان ہے جو جغرافیائی سرحدوں کو پار کرتا ہے اور عالمی سیاسی منظرنامے پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ جلاوطنی میں موجود رہنما، دانشور اور تحریکیں اپنے وطن سے باہر اپنی آواز بلند کر کے انصاف، آزادی اور خودمختاری کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جلاوطنی کی سیاست کا مستقبل عالمی نوعیت کی، ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی(digital connectivity) اور بین الاقوامی سیاسی تحریکوں کے عروج سے شکل اختیار کرے گا۔ ایسی دنیا میں جہاں معلومات فوراً پھیل جاتی ہیں، جلاوطنی میں موجود رہنما اب ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی حمایت حاصل کرنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ جلاوطنی صرف بے وطن ہونے کا نشان نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر حمایت اور مزاحمت کے لیے ایک اسٹریٹجک مقام بن چکا ہے، جو مارگنلائزڈ تحریکوں(marginalise movements) کو جابرانہ حکومتی نظاموں کے خلاف مقامی اور بین الاقوامی سطح پر چیلنج کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
جلاوطنی کی سیاست ہمیشہ سے انصاف، آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ جلاوطنی میں موجود رہنماؤں نے انقلابی تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، چاہے وہ فوجی مزاحمت ہو، علمی گفتگو ہو یا سفارتی حکمت عملی۔ آج کے دور میں جلاوطنی میں موجود رہنماؤں کا کردار بڑھ گیا ہے، اور وہ جدید ٹیکنالوجی اور عالمی نیٹ ورک کا فائدہ اٹھا کر اپنی جدوجہد کو عالمی سطح پر اجاگر کر سکتے ہیں۔ جلاوطنی کی سیاست کا مستقبل اہم امکانات رکھتا ہے کیونکہ جلاوطنی میں موجود رہنما اور تحریکیں جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے جابرانہ حکومتوں کو چیلنج کرنے، اپنے مقصد کو فروغ دینے اور عالمی سیاسی مکالموں کو دوبارہ شکل دینے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ جلاوطنی، جو کبھی شکست کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب مزاحمت اور سیاسی تبدیلی کے لیے ایک طاقتور آلے میں تبدیل ہو چکی ہے۔
جلاوطنی کا فلسفہ عالمی سطح پر آزادی کی جدوجہد کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں فرد یا قوم اپنے داخلی اصولوں اور نظریات کو اجاگر کرتا ہے، جو عالمی سطح پر انسانیت کے مفاد میں تبدیلی کی کوشش کرتا ہے۔ جلاوطنی میں انسان صرف جسمانی طور پر اپنے وطن سے دور نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی فکری آزادی کو عالمی سطح پر پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ فلسفہ کی سطح پر، یہ جلاوطنی ایک گہری داخلی تبدیلی اور جدوجہد کی نمائندگی کرتی ہے، جو جغرافیائی سرحدوں سے آزاد ہو کر عالمی سطح پر انسانیت کے مفاد میں عمل پذیر ہو سکتی ہے۔
خیر بخش مری جیسے بلوچ رہنماؤں کی جلاوطنی نے ایک فلسفیانہ نقطہ نظر کو اجاگر کیا، جس میں انہوں نے جغرافیائی سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر اپنی قوم کے حقوق کے لیے عالمی سطح پر جدوجہد کی۔ خیر بخش مری کی جلاوطنی نے ہمیں یہ سکھایا کہ ایک قوم کی آزادی کی جدو جہد کا عمل کبھی بھی جغرافیائی حدود میں نہیں قید ہو سکتا۔ ان کی جلاوطنی نے ایک نئی فکری حقیقت کو جنم دیا جو انسانی حقوق اور آزادی کے اصولوں کو عالمی سطح پر مضبوط کرتی ہے۔ اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو بلوچ گوریلا لیڈرشپ نے ہمیشہ ہمسایہ مملک کو اپنا مسکن بنایا ہے یا یورپ میں لیڈرشپ کی زمینداری نبھائی ہیں۔ اکثر کم علم لوگ سمجھتے ہیں کہ جو لیڈرشپ اس وقت گروانڈ میں موجود ہیں وہ ہی اصل حقدار ہیں تنظیمی جہدجہد میں حصہ لینے کہ مگر ان کو یہ کیوں سمجھ نہیں آتا کہ بلوچستان میں مین سطحی کمانڈرز بہت کم گرونڈ میں رہے ہیں اور یہ جنگی اصولوں کا ایک نایاب جز ہے۔ جو لیڈرشپ کو زیادہ توانائی دیتی ہے۔ استاد اسلم سے لے کہ جتنے بھی تنظیم کے کماندان ہے سب اس وقت بھی باہر سے کمانڈ کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ اگر کماندان کو نقصان ملتا ہے تو اس پہ پورا سٹیکچر کمپرومائز یا تباہ ہوجاتی ہے اور تحریک کبھی کبھار کہی سال پیچھے چلی جاتی ہیں۔ اس کی مثالیں حال ہی میں بلوچ قوم نے خود دیکھ لی تھی۔ جلاوطنی میں بھی کمندان اور سیاسی لیڈرز کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہیں ، غیر ضروری موومنٹ اور دشمن کی چالاکیاں عقلیت پسندی سے موڑ دینی ہوتی ہیں۔
جلاوطنی کی سیاست ایک متحرک اور ترقی پذیر رجحان ہے جو جغرافیائی سرحدوں کو پار کرتا ہے اور عالمی سیاسی منظرنامے پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ جلاوطنی میں موجود رہنما، دانشور اور تحریکیں اپنے وطن سے باہر اپنی آواز بلند کر کے انصاف، آزادی اور خودمختاری کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جلاوطنی کی سیاست کا مستقبل عالمی نوعیت کی، ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی(digital connectivity) اور بین الاقوامی سیاسی تحریکوں کے عروج سے شکل اختیار کرے گا۔ ایسی دنیا میں جہاں معلومات فوراً پھیل جاتی ہیں، جلاوطنی میں موجود رہنما اب ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی حمایت حاصل کرنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ جلاوطنی صرف بے وطن ہونے کا نشان نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر حمایت اور مزاحمت کے لیے ایک اسٹریٹجک مقام بن چکا ہے، جو مارگنلائزڈ تحریکوں(marginalise movements) کو جابرانہ حکومتی نظاموں کے خلاف مقامی اور بین الاقوامی سطح پر چیلنج کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
جلاوطنی کی سیاست ہمیشہ سے انصاف، آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ جلاوطنی میں موجود رہنماؤں نے انقلابی تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، چاہے وہ فوجی مزاحمت ہو، علمی گفتگو ہو یا سفارتی حکمت عملی۔ آج کے دور میں جلاوطنی میں موجود رہنماؤں کا کردار بڑھ گیا ہے، اور وہ جدید ٹیکنالوجی اور عالمی نیٹ ورک کا فائدہ اٹھا کر اپنی جدوجہد کو عالمی سطح پر اجاگر کر سکتے ہیں۔ جلاوطنی کی سیاست کا مستقبل اہم امکانات رکھتا ہے کیونکہ جلاوطنی میں موجود رہنما اور تحریکیں جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے جابرانہ حکومتوں کو چیلنج کرنے، اپنے مقصد کو فروغ دینے اور عالمی سیاسی مکالموں کو دوبارہ شکل دینے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ جلاوطنی، جو کبھی شکست کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب مزاحمت اور سیاسی تبدیلی کے لیے ایک طاقتور آلے میں تبدیل ہو چکی ہے۔
جلاوطنی کا فلسفہ عالمی سطح پر آزادی کی جدوجہد کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں فرد یا قوم اپنے داخلی اصولوں اور نظریات کو اجاگر کرتا ہے، جو عالمی سطح پر انسانیت کے مفاد میں تبدیلی کی کوشش کرتا ہے۔ جلاوطنی میں انسان صرف جسمانی طور پر اپنے وطن سے دور نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی فکری آزادی کو عالمی سطح پر پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ فلسفہ کی سطح پر، یہ جلاوطنی ایک گہری داخلی تبدیلی اور جدوجہد کی نمائندگی کرتی ہے، جو جغرافیائی سرحدوں سے آزاد ہو کر عالمی سطح پر انسانیت کے مفاد میں عمل پذیر ہو سکتی ہے۔
جلاوطنی اور جنگی حکمت عملی آپس میں گہرائی سے جڑی ہوئی ہیں۔ جلاوطنی میں رہنے والے رہنماؤں نے ہمیشہ دفاعی حکمت عملیوں اور جنگی حربوں کا استعمال کر کے اپنی قوم کی آزادی کے لیے لڑائی جاری رکھی ہے۔ ان کی جنگیں صرف جسمانی لڑائیاں نہیں ہوتیں بلکہ یہ عالمی سطح پر نظریاتی جنگ، نفسیاتی جنگ، اور انفارمیشن جنگ) information warfare) کا حصہ بن جاتے ہں۔ جلاوطنی میں رہ کر بھی یہ رہنما عالمی حمایت حاصل کرتے ہیں اور اپنے سیاسی مقاصد کو مزید آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
🤔1
شال، بزرگ سیاسی رہنما کامریڈ ظہیر بلوچ گرفتار کرکے ہدہ جیل منتقل کردیے گئے۔
https://humgaam.net/?p=102798
شال (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب قابض پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ میں بزرگ سیاسی رہنما ظہیر بلوچ کو گھر میں چھاپہ کے دوران گرفتار کرلیا۔ انہیں 3MPO کے تحت ہدہ جیل منتقل کردیا گیا۔
فیملی نے ظہیر بلوچ کی صحت کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے ظہیر بلوچ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
https://humgaam.net/?p=102798
شال (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب قابض پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ میں بزرگ سیاسی رہنما ظہیر بلوچ کو گھر میں چھاپہ کے دوران گرفتار کرلیا۔ انہیں 3MPO کے تحت ہدہ جیل منتقل کردیا گیا۔
فیملی نے ظہیر بلوچ کی صحت کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے ظہیر بلوچ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
Humgaam News
شال، بزرگ سیاسی رہنما کامریڈ ظہیر بلوچ گرفتار کرکے ہدہ جیل منتقل کردیے گئے۔
شال (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب قابض پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ میں بزرگ سیاسی رہنما ظہیر بلوچ کو گھر میں چھاپہ کے دوران گرفتار کرلیا۔ انہیں 3MPO کے تحت ہدہ جیل منتقل کردیا گیا۔
فیملی نے ظہیر بلوچ کی صحت کو تشویش ناک قرار…
فیملی نے ظہیر بلوچ کی صحت کو تشویش ناک قرار…
بی وائی سی کے مرکزی رہنماء صبغت اللہ شاہ جی ہدہ جیل منتقل
https://humgaam.net/?p=102801
شال (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق بی وائی سی کے مرکزی رہنماء صبغت اللہ شاہ جی کو ہدہ جیل منتقل کردیا گیا،فیملی نے تصدیق کردی تاہم ابھی تک فیملی کیساتھ ملاقات نہیں کیا گیاہے۔
یادرہیکہ انہیں عید سے دو روز قبل کوئٹہ میں واقع انکے گھر سے لاپتہ کردیا گیا تھا،انکے ساتھ انکے چھوٹے بھائی ودوبھانجوں کو لاپتہ کردیا گیا تھا جو بعد میں بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے تھے۔
صبغت اللہ شاہ جی معروف عالم دین مولانا عبدالحق بلوچ کے فرزند اور بی وائی سے کے مرکزی رہنماء ہیں۔
https://humgaam.net/?p=102801
شال (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق بی وائی سی کے مرکزی رہنماء صبغت اللہ شاہ جی کو ہدہ جیل منتقل کردیا گیا،فیملی نے تصدیق کردی تاہم ابھی تک فیملی کیساتھ ملاقات نہیں کیا گیاہے۔
یادرہیکہ انہیں عید سے دو روز قبل کوئٹہ میں واقع انکے گھر سے لاپتہ کردیا گیا تھا،انکے ساتھ انکے چھوٹے بھائی ودوبھانجوں کو لاپتہ کردیا گیا تھا جو بعد میں بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے تھے۔
صبغت اللہ شاہ جی معروف عالم دین مولانا عبدالحق بلوچ کے فرزند اور بی وائی سے کے مرکزی رہنماء ہیں۔
Humgaam News
بی وائی سی کے مرکزی رہنماء صبغت اللہ شاہ جی ہدہ جیل منتقل
شال (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق بی وائی سی کے مرکزی رہنماء صبغت اللہ شاہ جی کو ہدہ جیل منتقل کردیا گیا،فیملی نے تصدیق کردی تاہم ابھی تک فیملی کیساتھ ملاقات نہیں کیا گیاہے۔
یادرہیکہ انہیں عید سے دو روز قبل کوئٹہ میں واقع انکے گھر سے لاپتہ کردیا گیا تھا،انکے…
یادرہیکہ انہیں عید سے دو روز قبل کوئٹہ میں واقع انکے گھر سے لاپتہ کردیا گیا تھا،انکے…
قومیّت کی ابھار کا ثقافت، اخلاقیات اور اخلاقیّت کے تناظر میں تجزیہ،
کوہ کرگ
https://humgaam.net/?p=102805
اکثر و بیشتر یمارے پرانے دور کے تجزیے شاید آج کل کے تجزیوں سے الگ سلگ لگتے ہونگے۔ اس میں شاید عمر, علم اور تجربہ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ میں اکثر و بیشتر سوچھا کرتا تھا اور اکثر یمارے دوست بھی اس بات سے متفق ہوتے تھے اور کچھ آج بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ آگر پنجاب میں ریاستی قوم پرستی کی جگہ پنجابی قوم پرستی آجائے تو شاید پنجاب کی شخصیت میں سدھار آجائے۔شاید ڈاکٹر صبیہ صاحبہ سے لے کر اکثر گراونڈ پولیٹکس کے بندوں سے سننے کو ملا ہوگا کسی نہ کسی پلیٹ فارم کے ذریعے۔ خیر اس مباحثہ کو لے چلتے ہیں قوم پرستی کی ان بنیادوں کی طرف جہاں ایک طاقت ور میں اور ایک کمزور میں کیا فرق آجاتا ہے گر وہ ریاستی قوم پرستی کو اپنانے کی جگہ اپنی شخصی شناخت و قوم پرستی کو اپنانے میں اجتماعی طور پہ کامیاب ہوجاتا ہے۔ اور ایک بڑے پیمانے پہ اس کو ادارکی طریقے سے اپنے سماجی اموار میں جذب کرلیتا ہے۔
قوم پرستی اور مذہب پرستی، علم سماجیات کے ترمیمات میں سب سے پرانی ترمیم ہے جسے آج تک کوئی بھی سماج اپنے اندر سے نکال کے باہر کرنے میں کامیاب نہ رہا۔ ان ہزاروں سالوں میں شاید ہی کوئی فلسفہ محدود رہا اور قدیم پنوں میں فنا ہوگیا، شاید کمیونسٹ، سوشلسٹ ،نیلسٹ، انارکیسٹ اور دوسرے قدیم فارسی اور یونانی افسانے، نظام ء عقائد و اصول، اور ہر طرح کی اجتماہی نظریات غیرموثر ہوگئے۔ مگر سماج نے قوم پرستی اور مذہب پرستی کو محدث زمانہ و مکان کے مطابق چلایا۔ ہر زمانے میں اس میں ترمیمات لاتے گئے اور پروان چڑھاتے گئے ۔ البتہ روایتی قوم پرستی سے لے کر جدید قوم پرستی تک، سماج نے اپنے زاویوں کے مطابق ان میں تبدیلیاں لائی۔ ان میں بے سرحد قوم پرستی سے لے کر سرحدی قوم پرستی شامل ہے جو جدید قوم پرستی کو عموماً 1789 میں ہونے والی فرانس کی انقلاب کے بعد ابھرتی ہوئی تصور کرتے ہیں نہ کہ براہ راست 1648 میں ہونے والے ویسٹفیلِیا کے امن سے، البتہ ترمیمات کی حد یہاں تک نہیں رکھی۔
اب پھر سے بے سرحد قوم پرستی کو پھر سے ایک صورتحال کا سامنا کرنا پڑھا جب جمال ناصر نے مصر میں ) Pan-Arab) pan-natioalism)پین نیشنلزم کا نعرہ بلند کیا۔ stateless nationalism کی بنیادے واپس اپنے روایتی انداز میں آگئی تھی مگر اس میں جدید قوم پرستی کے عوامل بھی ابھر چکے تھے جس میں مختلف نظریات نے اس اپنی روح پھونک دی تھی، جن کو اب socialist nationalism, لیبرل نیشنلیزم وغیرہ جیسے الفاظون کے ساتھ اپنے نظریات کو پروان چڑھانے میں لگ گئے، مگر نیشنلزم کی ساخت چیلنج کو نہ کرسکے۔
جب کوئی شخص ریاستی قوم پرستی اور اپنی امپیریل شناخت کو اپنانا شروع کرتا ہے، تو یہ صرف اقلیتی گروپوں کے لیے ثقافتی تنہائی اور امتیازی سلوک کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اجتماعی سایڈ ازم (collective sadism) کا عنصر بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں، اکثریتی گروہ اپنے طاقتور مقام کو برقرار رکھنے کے لیے اقلیتی گروپوں کی تکالیف کو خوشی یا تسکین کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، جس سے ظلم اور استحصال کے عمل کو مزید جائز اور معمولی بنا دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اقلیتی گروپوں کو سیاسی، سماجی، اور ثقافتی سطح پر مزید ذلیل کیا جاتا ہے، جس سے پورے معاشرے میں نفرت بڑھتی ہے۔
قوم پرستی میں موریلٹی ہمیشہ سطح اول پہ کردار ادا کرتی ہے جس کلچر میں انسانیت، اخلاقیات و اپنے رسم و رواج کے عین مطابق اپنوں اور دوسروں کے ساتھ سماجی تعلقات کو تعمیری رویہ کے بنیاد پہ رکھ کے نہیں دیکھا جاتا وہ فقط بغیر رسم و رسومات اور سماجی زاویوں کے اپنے راستے طے کرتے ہیں وہ شاید نفسیاتی بنیادوں، خواہشات، بے حسی، شیطانی لطف، نفس کی زورانک وری ، کمزور پہ تشدد میں سکون یا معاشرے کے برعکس حرکات اور عادات پہ مشتمل ہوتی ہے۔ جو آج کل پنجابی معاشرے میں زیادہ ملنے کو ملتی ہے جہاں اسلامی، انسانی، اور اخلاقی پستی کی بے جاہ مثالیں ملتی ہے ، باپ کا بیٹی سے زبردستی، بھاہی کا بہن سے، قبروں سے نکال کے عورتوں کی عصمتداری، دو ماہ کے بچی سے لے کر سستر سال کے عورت کو زنا و جبر کا نشانہ بنانے تک کی خبرین شامل ہیں ۔ حرام جانوروں کے گوشت کا سودا اور لوگوں کو کہلانا، میتوں سے جائداد کے کاغذات پہ انگھٹے لگوانا ، لاشوں کو کاٹ کر کھانا ، اپنے بہنوں اور بیٹیوں کو چند روپوں کے عوض جسم فروشی کے دندوں پہ لگانا۔ دو سو سے زاہد بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانا اور ان کے والدین کو ویڈیو دیکھا کے بلیک میل کرنا، ہر سماجی جرائم جو یمارے معاشرے میں کوہئ سوچ بھی نہیں سکتا ہر دن پنجاب کے اخباروں کی زینت بنی ہوتی ہیں۔
کوہ کرگ
https://humgaam.net/?p=102805
اکثر و بیشتر یمارے پرانے دور کے تجزیے شاید آج کل کے تجزیوں سے الگ سلگ لگتے ہونگے۔ اس میں شاید عمر, علم اور تجربہ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ میں اکثر و بیشتر سوچھا کرتا تھا اور اکثر یمارے دوست بھی اس بات سے متفق ہوتے تھے اور کچھ آج بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ آگر پنجاب میں ریاستی قوم پرستی کی جگہ پنجابی قوم پرستی آجائے تو شاید پنجاب کی شخصیت میں سدھار آجائے۔شاید ڈاکٹر صبیہ صاحبہ سے لے کر اکثر گراونڈ پولیٹکس کے بندوں سے سننے کو ملا ہوگا کسی نہ کسی پلیٹ فارم کے ذریعے۔ خیر اس مباحثہ کو لے چلتے ہیں قوم پرستی کی ان بنیادوں کی طرف جہاں ایک طاقت ور میں اور ایک کمزور میں کیا فرق آجاتا ہے گر وہ ریاستی قوم پرستی کو اپنانے کی جگہ اپنی شخصی شناخت و قوم پرستی کو اپنانے میں اجتماعی طور پہ کامیاب ہوجاتا ہے۔ اور ایک بڑے پیمانے پہ اس کو ادارکی طریقے سے اپنے سماجی اموار میں جذب کرلیتا ہے۔
قوم پرستی اور مذہب پرستی، علم سماجیات کے ترمیمات میں سب سے پرانی ترمیم ہے جسے آج تک کوئی بھی سماج اپنے اندر سے نکال کے باہر کرنے میں کامیاب نہ رہا۔ ان ہزاروں سالوں میں شاید ہی کوئی فلسفہ محدود رہا اور قدیم پنوں میں فنا ہوگیا، شاید کمیونسٹ، سوشلسٹ ،نیلسٹ، انارکیسٹ اور دوسرے قدیم فارسی اور یونانی افسانے، نظام ء عقائد و اصول، اور ہر طرح کی اجتماہی نظریات غیرموثر ہوگئے۔ مگر سماج نے قوم پرستی اور مذہب پرستی کو محدث زمانہ و مکان کے مطابق چلایا۔ ہر زمانے میں اس میں ترمیمات لاتے گئے اور پروان چڑھاتے گئے ۔ البتہ روایتی قوم پرستی سے لے کر جدید قوم پرستی تک، سماج نے اپنے زاویوں کے مطابق ان میں تبدیلیاں لائی۔ ان میں بے سرحد قوم پرستی سے لے کر سرحدی قوم پرستی شامل ہے جو جدید قوم پرستی کو عموماً 1789 میں ہونے والی فرانس کی انقلاب کے بعد ابھرتی ہوئی تصور کرتے ہیں نہ کہ براہ راست 1648 میں ہونے والے ویسٹفیلِیا کے امن سے، البتہ ترمیمات کی حد یہاں تک نہیں رکھی۔
اب پھر سے بے سرحد قوم پرستی کو پھر سے ایک صورتحال کا سامنا کرنا پڑھا جب جمال ناصر نے مصر میں ) Pan-Arab) pan-natioalism)پین نیشنلزم کا نعرہ بلند کیا۔ stateless nationalism کی بنیادے واپس اپنے روایتی انداز میں آگئی تھی مگر اس میں جدید قوم پرستی کے عوامل بھی ابھر چکے تھے جس میں مختلف نظریات نے اس اپنی روح پھونک دی تھی، جن کو اب socialist nationalism, لیبرل نیشنلیزم وغیرہ جیسے الفاظون کے ساتھ اپنے نظریات کو پروان چڑھانے میں لگ گئے، مگر نیشنلزم کی ساخت چیلنج کو نہ کرسکے۔
جب کوئی شخص ریاستی قوم پرستی اور اپنی امپیریل شناخت کو اپنانا شروع کرتا ہے، تو یہ صرف اقلیتی گروپوں کے لیے ثقافتی تنہائی اور امتیازی سلوک کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اجتماعی سایڈ ازم (collective sadism) کا عنصر بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں، اکثریتی گروہ اپنے طاقتور مقام کو برقرار رکھنے کے لیے اقلیتی گروپوں کی تکالیف کو خوشی یا تسکین کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، جس سے ظلم اور استحصال کے عمل کو مزید جائز اور معمولی بنا دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اقلیتی گروپوں کو سیاسی، سماجی، اور ثقافتی سطح پر مزید ذلیل کیا جاتا ہے، جس سے پورے معاشرے میں نفرت بڑھتی ہے۔
قوم پرستی میں موریلٹی ہمیشہ سطح اول پہ کردار ادا کرتی ہے جس کلچر میں انسانیت، اخلاقیات و اپنے رسم و رواج کے عین مطابق اپنوں اور دوسروں کے ساتھ سماجی تعلقات کو تعمیری رویہ کے بنیاد پہ رکھ کے نہیں دیکھا جاتا وہ فقط بغیر رسم و رسومات اور سماجی زاویوں کے اپنے راستے طے کرتے ہیں وہ شاید نفسیاتی بنیادوں، خواہشات، بے حسی، شیطانی لطف، نفس کی زورانک وری ، کمزور پہ تشدد میں سکون یا معاشرے کے برعکس حرکات اور عادات پہ مشتمل ہوتی ہے۔ جو آج کل پنجابی معاشرے میں زیادہ ملنے کو ملتی ہے جہاں اسلامی، انسانی، اور اخلاقی پستی کی بے جاہ مثالیں ملتی ہے ، باپ کا بیٹی سے زبردستی، بھاہی کا بہن سے، قبروں سے نکال کے عورتوں کی عصمتداری، دو ماہ کے بچی سے لے کر سستر سال کے عورت کو زنا و جبر کا نشانہ بنانے تک کی خبرین شامل ہیں ۔ حرام جانوروں کے گوشت کا سودا اور لوگوں کو کہلانا، میتوں سے جائداد کے کاغذات پہ انگھٹے لگوانا ، لاشوں کو کاٹ کر کھانا ، اپنے بہنوں اور بیٹیوں کو چند روپوں کے عوض جسم فروشی کے دندوں پہ لگانا۔ دو سو سے زاہد بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانا اور ان کے والدین کو ویڈیو دیکھا کے بلیک میل کرنا، ہر سماجی جرائم جو یمارے معاشرے میں کوہئ سوچ بھی نہیں سکتا ہر دن پنجاب کے اخباروں کی زینت بنی ہوتی ہیں۔
Humgaam News
قومیّت کی ابھار کا ثقافت، اخلاقیات اور اخلاقیّت کے تناظر میں تجزیہ، کوہ کرگ
اکثر و بیشتر یمارے پرانے دور کے تجزیے شاید آج کل کے تجزیوں سے الگ سلگ لگتے ہونگے۔ اس میں شاید عمر, علم اور تجربہ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ میں اکثر و بیشتر سوچھا کرتا تھا اور اکثر یمارے دوست بھی اس بات سے متفق ہوتے تھے اور کچھ آج بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ…
رویہیت (Behaviorism) ایک نفسیاتی نظریہ ہے جو انسانی اور حیوانی رویے کو مشاہدہ اور ماحولیاتی اثرات کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، تمام رویے سیکھے جاتے ہیں اور انہیں مثبت یا منفی نتائج کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، اس میں ایک اسلاف/ اباواجداد سے جینیاتی وراثت میں ملتا ہے، چند جدید دور کے لالچ اور خواہشات سے، مگر رویہیت کو انفراد تک محدود نہیں کرتا بلکہ اجتماعیت کا جز بنا دیتا ہے۔ اس وقت بلوچ اور پنجاب کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے تو وہ ادراکی رویہیت کا ہیں جو بلوچ نے وراثت میں کہی ہزاروں سالوں سے سنبھال کے رکھی ہے۔ اور اگر کوئی فرد اس کے خلاف جاتا ہے تو اس محاشرے میں وہ اپنا اور اپنے لوگوں تک کے لیے رسوائی کی علامت بن جاتا ہے اور اپنی وجودیت کھو بیٹھتا ہیں۔
قوم پرستی اور پنجاب پہ جو پہلے پیراگراف میں زکر کر چکے ہیں ، کہ اگر پنجاب میں پنجابی قوم پرستی کے آثار آجائے تو اس کے بلوچ محاشرے پہ کیا مرکبات ہوسکتے ہیں ؟
شروع اول سے ریاست نے استحصالی پنجابی سوچ کو ریاستی بیانیاں اور طاقت کا سرچشمہ سمجھا ہے، یہی پنجابی سامراج کے کچھ آزاد خیال اور جدت پسند لوگ جو خود کو بگت سنگ کا پیروکار اور پنجابی نظریہ کے رہبر تصور کرتے ہیں وہ بھی کہی نہ کہی بلوچستان کے معاملات میں آکے ریاستی اہلکار کا کردار ادا کرتے ہیں جن کو پنجاب میں سرخا، لبرلرڑ یا دوسرے ناموں سے بلایا جاتا ہے۔ اگر ان جیسے تعلیم یافتہ پنجابی بھی کہی نا کہی ریاستی بیانیوں کو اپنا مسکن سمھجتے ہیں اور پنجابی قوم پرستی کو ریاستی قوم پرستی کے ساتھ جھوڑ کر اپنی مفادات کی پٹڑی پہ چلتے رہتے ہیں جس میں کہی بلوچ ان کی غلط تجزیوں کی وجہ سے ریاستی دہشتگردی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔تو اگر پنجاب میں پنجابی قوم پرستی جو ریاستی قوم پرستی کی تھوڑ و جھوڑ سے بنی گئ ہو ان بے شعور اور پنجابی رویہیت پسندی کے اسباب سے جن کا ذکر پنجابی مزاج سے ہیں جو اپنی ماں بہن تک کے فرق سے نالاں ہیں تو سمجھو وہ بلوچ کے مفاد میں نہیں ہوسکتا۔
کیونکہ ریاست اپنی بیانیاں ان کی اور اپنی مزاج کے بناہے مکان سے اپنا ردعمل بناہے رکھتی ہیں، ریاست کے لیے بلوچ کسئ قربانی کے بکرے سے کم نہیں۔ اور ریاستی بیانیاں پنجابی سپورٹ اور ان کی مدد کہ بنا کچھ نہیں۔
اکثر کہتے ہیں کہ بلوچستان میں مداخلت عام پنجابی نہیں بلکہ پنجابی establishment, Mafia and elite کرتی ہیں تو یہ سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈہ کے بنیاد پہ بنائ گئ ہے۔ پنجاب کا ہر فرد جس کے ہاتھ میں فرعون کا جنڈہ ہوتا ہے چاہے وہ کوئی (کولی کیمپ کوئٹہ ) کے کسی زندان میں صاف صفائی والا بھی ہو اپنا ظلم و ستم کا چیرہ ڈنڈے مار کر یا تھوک کر مظلوم کو دیکھاتا ہے، اور ہر کوئ اپنی اوسط کے مطابق اس جرم کا مداری بنا پر رہا ہوتا ہے۔ اور ہر ایک کو جنونیت کی حد تک بلوچ کو قتل ، بے عزت کرنے یا اذیت دینے میں سکون اور لطف محسوس ہوتا ہیں۔ اس اجتماعی کیفیت کو علوم نفسیات میں collective sadism کہتے ہیں۔
فروم "معمولی" معاشرت اور ایسی معاشرت کے درمیان فرق کرتے ہیں جو تخریبی رجحانات کو فروغ دیتی ہے۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جابرانہ نظاموں (جیسے فاشسٹ حکومتوں) میں لوگ اپنے شناخت یا طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے اجتماعی سادیت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ فروم کے مطابق، دوسروں کے دکھوں سے حاصل ہونے والی لذت ایک احساسِ قابو، طاقت، اور اپنی خوفوں اور عدم تحفظات سے ایک قسم کی بھاگنے کی شکل ہوتی ہے۔ اسی طرح سارتر کا تصور "بدگمانی"—جو ایک خود فریبی ہے جس میں لوگ آزادی اور ذمہ داری کے اضطراب سے بچنے کے لیے ملوث ہوتے ہیں—یہ وضاحت فراہم کرتا ہے کہ کیوں گروپ میں افراد سادیستی اعمال(sadistic behaviour) میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ ذمہ داری کو دوسروں پر ڈال دیتے ہیں، اس طرح اپنے گناہ کو کم کر لیتے ہیں۔ ایک اجتماعی سیاق و سباق میں، یہ بدگمانی پھیل سکتی ہے، اور قومی شناخت، فرض، یا تاریخی شکایت کے بہانے تشدد کے اعمال کو جواز بخشا جا سکتا ہے۔ سارتر کے وجودی فلسفے کے مطابق، اجتماعی سادیت اس ضرورت سے ابھرتی ہے کہ گروہ دوسروں پر اپنی طاقت کو مستحکم کرے، چاہے اس کے لیے اخلاقی انحطاط کی قیمت بھی چکانی پڑے۔
اور state nationalism کے ساتھ پنجابی nationalism اب بھی روان دوان ہیں مگر وہ ہر عام و خاص شخص نہیں دیکھنا چاہتا اگر کچھ کو لگتا ہے پنجابی نیشنلزم کا مطلب پختون نیشنلزم ہے تو وہ ان کی بھول ہے، پختون خود مظاوم ہے اور ان کے روایات بھی اعلی طرز کے قوموں کے ہیں، البتہ پنجابی طاقت ور و ظالم ذہنیت کی عکاسی کرتا ہیں اور جابرانہ نظام کا سرچشمہ بھی اس کے وجود سے جڑ سی گئی ہیں ، جو 3 لاکھ بنگالی عورتوں کو ایک انسان تک تصور نہ کرسکا اور بیانیاں بناتا رہا کہ یہ جانور سے بدتر ہے ان کو مارو اور ان کی عورتوں کی عصمتداری کرو اور ان پہ اور ظلم کرو، ان پنجابی saddists کو جب مظلوم کی طرف سے لات پڑھتی ہے تو اسلام کے لبادے
قوم پرستی اور پنجاب پہ جو پہلے پیراگراف میں زکر کر چکے ہیں ، کہ اگر پنجاب میں پنجابی قوم پرستی کے آثار آجائے تو اس کے بلوچ محاشرے پہ کیا مرکبات ہوسکتے ہیں ؟
شروع اول سے ریاست نے استحصالی پنجابی سوچ کو ریاستی بیانیاں اور طاقت کا سرچشمہ سمجھا ہے، یہی پنجابی سامراج کے کچھ آزاد خیال اور جدت پسند لوگ جو خود کو بگت سنگ کا پیروکار اور پنجابی نظریہ کے رہبر تصور کرتے ہیں وہ بھی کہی نہ کہی بلوچستان کے معاملات میں آکے ریاستی اہلکار کا کردار ادا کرتے ہیں جن کو پنجاب میں سرخا، لبرلرڑ یا دوسرے ناموں سے بلایا جاتا ہے۔ اگر ان جیسے تعلیم یافتہ پنجابی بھی کہی نا کہی ریاستی بیانیوں کو اپنا مسکن سمھجتے ہیں اور پنجابی قوم پرستی کو ریاستی قوم پرستی کے ساتھ جھوڑ کر اپنی مفادات کی پٹڑی پہ چلتے رہتے ہیں جس میں کہی بلوچ ان کی غلط تجزیوں کی وجہ سے ریاستی دہشتگردی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔تو اگر پنجاب میں پنجابی قوم پرستی جو ریاستی قوم پرستی کی تھوڑ و جھوڑ سے بنی گئ ہو ان بے شعور اور پنجابی رویہیت پسندی کے اسباب سے جن کا ذکر پنجابی مزاج سے ہیں جو اپنی ماں بہن تک کے فرق سے نالاں ہیں تو سمجھو وہ بلوچ کے مفاد میں نہیں ہوسکتا۔
کیونکہ ریاست اپنی بیانیاں ان کی اور اپنی مزاج کے بناہے مکان سے اپنا ردعمل بناہے رکھتی ہیں، ریاست کے لیے بلوچ کسئ قربانی کے بکرے سے کم نہیں۔ اور ریاستی بیانیاں پنجابی سپورٹ اور ان کی مدد کہ بنا کچھ نہیں۔
اکثر کہتے ہیں کہ بلوچستان میں مداخلت عام پنجابی نہیں بلکہ پنجابی establishment, Mafia and elite کرتی ہیں تو یہ سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈہ کے بنیاد پہ بنائ گئ ہے۔ پنجاب کا ہر فرد جس کے ہاتھ میں فرعون کا جنڈہ ہوتا ہے چاہے وہ کوئی (کولی کیمپ کوئٹہ ) کے کسی زندان میں صاف صفائی والا بھی ہو اپنا ظلم و ستم کا چیرہ ڈنڈے مار کر یا تھوک کر مظلوم کو دیکھاتا ہے، اور ہر کوئ اپنی اوسط کے مطابق اس جرم کا مداری بنا پر رہا ہوتا ہے۔ اور ہر ایک کو جنونیت کی حد تک بلوچ کو قتل ، بے عزت کرنے یا اذیت دینے میں سکون اور لطف محسوس ہوتا ہیں۔ اس اجتماعی کیفیت کو علوم نفسیات میں collective sadism کہتے ہیں۔
فروم "معمولی" معاشرت اور ایسی معاشرت کے درمیان فرق کرتے ہیں جو تخریبی رجحانات کو فروغ دیتی ہے۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جابرانہ نظاموں (جیسے فاشسٹ حکومتوں) میں لوگ اپنے شناخت یا طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے اجتماعی سادیت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ فروم کے مطابق، دوسروں کے دکھوں سے حاصل ہونے والی لذت ایک احساسِ قابو، طاقت، اور اپنی خوفوں اور عدم تحفظات سے ایک قسم کی بھاگنے کی شکل ہوتی ہے۔ اسی طرح سارتر کا تصور "بدگمانی"—جو ایک خود فریبی ہے جس میں لوگ آزادی اور ذمہ داری کے اضطراب سے بچنے کے لیے ملوث ہوتے ہیں—یہ وضاحت فراہم کرتا ہے کہ کیوں گروپ میں افراد سادیستی اعمال(sadistic behaviour) میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ ذمہ داری کو دوسروں پر ڈال دیتے ہیں، اس طرح اپنے گناہ کو کم کر لیتے ہیں۔ ایک اجتماعی سیاق و سباق میں، یہ بدگمانی پھیل سکتی ہے، اور قومی شناخت، فرض، یا تاریخی شکایت کے بہانے تشدد کے اعمال کو جواز بخشا جا سکتا ہے۔ سارتر کے وجودی فلسفے کے مطابق، اجتماعی سادیت اس ضرورت سے ابھرتی ہے کہ گروہ دوسروں پر اپنی طاقت کو مستحکم کرے، چاہے اس کے لیے اخلاقی انحطاط کی قیمت بھی چکانی پڑے۔
اور state nationalism کے ساتھ پنجابی nationalism اب بھی روان دوان ہیں مگر وہ ہر عام و خاص شخص نہیں دیکھنا چاہتا اگر کچھ کو لگتا ہے پنجابی نیشنلزم کا مطلب پختون نیشنلزم ہے تو وہ ان کی بھول ہے، پختون خود مظاوم ہے اور ان کے روایات بھی اعلی طرز کے قوموں کے ہیں، البتہ پنجابی طاقت ور و ظالم ذہنیت کی عکاسی کرتا ہیں اور جابرانہ نظام کا سرچشمہ بھی اس کے وجود سے جڑ سی گئی ہیں ، جو 3 لاکھ بنگالی عورتوں کو ایک انسان تک تصور نہ کرسکا اور بیانیاں بناتا رہا کہ یہ جانور سے بدتر ہے ان کو مارو اور ان کی عورتوں کی عصمتداری کرو اور ان پہ اور ظلم کرو، ان پنجابی saddists کو جب مظلوم کی طرف سے لات پڑھتی ہے تو اسلام کے لبادے
کو اوڑھنے میں چند منٹ بھی نہیں لگاتے۔
ایک شخص جو سادیسٹک رویہ اختیار کرتا ہے (دوسروں کو تکلیف یا اذیت دینے سے لطف اندوز ہوتا ہے) لیکن جب وہ خود اسی صورتحال کا سامنا کرتا ہے تو معافی مانگتا ہے یا روتا ہے، اسے منافقت (Hypocrisy) یا خود پسند (Narcissism) کہا جا سکتا ہے۔ یہ رویہ عموماً ہمدردی کی کمی (Lack of Empathy) اور دوہری معیار (Double Standard) کو ظاہر کرتا ہے۔ اس شخص کے اندر کگنیٹو ڈسونیسیس (Cognitive Dissonance) (ذہنی تضاد) بھی ہو سکتا ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ متضاد خیالات رکھتا ہے، جیسے دوسروں سے تکلیف برداشت کرنے کی توقع رکھنا جبکہ خود اس سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اگر یہ رویہ انتہائی ہو تو یہ جذباتی پختگی کی کمی (Lack of Emotional Maturity) یا خود شناسی کی کمی (Lack of Self-Awareness) کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔ یہ طرز عمل پنجابیوں میں اجتماعی طور پہ کثرت میں پائی جاتی ہیں، جو کبھی ناہئ، موچی، مزدور، یا کسی اور شکل میں بلوچستان میں بے شمار پاہے جاتے ہیں اور لات پڑنے پر *sarcastic injury* کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ایک شخص جو سادیسٹک رویہ اختیار کرتا ہے (دوسروں کو تکلیف یا اذیت دینے سے لطف اندوز ہوتا ہے) لیکن جب وہ خود اسی صورتحال کا سامنا کرتا ہے تو معافی مانگتا ہے یا روتا ہے، اسے منافقت (Hypocrisy) یا خود پسند (Narcissism) کہا جا سکتا ہے۔ یہ رویہ عموماً ہمدردی کی کمی (Lack of Empathy) اور دوہری معیار (Double Standard) کو ظاہر کرتا ہے۔ اس شخص کے اندر کگنیٹو ڈسونیسیس (Cognitive Dissonance) (ذہنی تضاد) بھی ہو سکتا ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ متضاد خیالات رکھتا ہے، جیسے دوسروں سے تکلیف برداشت کرنے کی توقع رکھنا جبکہ خود اس سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اگر یہ رویہ انتہائی ہو تو یہ جذباتی پختگی کی کمی (Lack of Emotional Maturity) یا خود شناسی کی کمی (Lack of Self-Awareness) کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔ یہ طرز عمل پنجابیوں میں اجتماعی طور پہ کثرت میں پائی جاتی ہیں، جو کبھی ناہئ، موچی، مزدور، یا کسی اور شکل میں بلوچستان میں بے شمار پاہے جاتے ہیں اور لات پڑنے پر *sarcastic injury* کا شکار ہوجاتے ہیں۔