ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻 ٹاپک پری میریج درس نمبر 5⃣ پارٹ نمبر 2/5 ✅عورت اور مرد کے درمیان ایک فرق یہ ہے کہ مرد منطقی انداز میں سوچتا ہے اور دلائل کے ساتھ گفتگو کرنے کو ترجیح دیتا ہے جبکہ خواتین زیادہ تر احساساتی اور جذباتی انداز میں گفتگو کرتی ہیں ♦♦…
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻
ٹاپک پری میریج
درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 3/5
✅ایک اور فرق جو کہ عموماً مشاہدہ میں آتا ہے وہ یہ کہ کسی کی طرف کشش کا ذریعہ مرد کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ظاہری حسن و خوبصورتی کو مرد زیادہ اہمیت دیتا ہے
♦جب کہ خواتین کسی کی تعریف سن کر اس کو پسند کرنے لگتی ہیں۔ اسی لیے مرد کو اسلام نے آنکھوں کی حفاظت کی تاکید فرمائی ہے اور خواتین کو سفارش کی ہے کہ
♦اگر شوہر کو معاشرے کی خوبصورتیوں اور رعنائیوں کی طرف متوجہ ہونے سے بچانا چاہتی ہیں تو اپنی ظاہری اور جسمانی خوبصورتی پر توجہ دیں، تاکہ اس کی توجہ کا مرکز آپ ہی رہیں
✅ایک فرق یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ خواتین مردوں کی نسبت کسی بھی چیز سے جلدی متاثرہوجاتی ہیں
♦جبکہ مرد کو متاثر کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اس کا منبع دراصل وہ پہلا فرق ہے کہ مرد جذبات اور احساسات پر کنٹرول رکھتے ہیں جبکہ خواتین جذبات و احساسات کی بنیاد پر فیصلہ کرلیتی ہیں۔ کسی بھی واقعہ یا فلم وغیرہ کو دیکھ کر خواتین جلدی جذباتی اور احساساتی ہوکر متاثر ہوجاتی ہیں جبکہ مرد ایسا نہیں ہوتا۔
مرد جلدی یقین نہیں کر پاتا جبکہ خواتین جلدی یقین کرلیتی ہیں۔ مردوں کا جلدی یقین نہ کرنا اس بات کا باعث بنتا ہے کہ گھر کے فیصلے محکم اور دلائل کی بنیادوں پر ہوتے ہیں جن کے دور رس نتائج خاندان کی کامیابی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
✅خواتین کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ مرد کے موڈ کو جلدی بھانپ لیتی ہیں
♦جبکہ مرد اس امر میں سست واقع ہوا ہے۔ مرد کافی دیر کے بعد بیوی کے موڈ کو بھانپتا ہے جب شوہر گھر آتا ہے ، اُس کو سلام کرتی ہیں تو فوراً سمجھ جاتی ہیں کہ شوہر کا موڈ کیسا ہے؟ یہ خوش ہے، پریشان ہے، اِس کی کیا کیفیت ہے ؟ یہ خواتین کے اندر ایک خاصیت ہے کہ وہ جلدی بھانپ لیتی ہیں ۔ جبکہ شوہر ایسانہیں کرپاتا ، وہ گھر آجاتا ہے آدھا گھنٹہ گزر جاتا ہے اُس کو پھر بھی سمجھ نہیں آتا کہ آج میری بیوی کا موڈ بہت خراب ہے، وہ دیر سے سمجھتا ہےاور یہیں سے اختلافات بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں
♦عورت یہ سمجھنے لگتی ہے کہ میرا شوہر مجھے سمجھ نہیں پارہا ہے، اُس کو مجھ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔حالانکہ ایسا نہیں ہوتا مرد کا مزاج مختلف ہے اگر ہم ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھ لیں گے تو زندگی خوشگوار ہونا شروع ہوجائے گی۔اگر دونوں اس فرق سے آگاہ ہوں گے تو اسی کے مطابق عمل و ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کامیابی اور محبت کی طرف رواں دواں ہوں گے ورنہ اختلافات کا باعث ہوسکتا ہے۔
✅مرد کسی بھی چیز کو ایک عام نگاہ سے دیکھتا ہے اور اپنی ضرورت اور احتیاج کے مطابق دقت کرتا ہے
♦ جبکہ خواتین ہر چیز کو غور سے اور گہری نظر سے دیکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی خاتون کسی دعوت میں کوئی لباس پہن کر آتی ہے۔ تو خواتین اُس کو خوب غور سے دیکھتی ہیں، کہ اِس نے کون سے رنگ کا کپڑا پہنا ہوا ہے ؟ کون سی جیولری پہنی ہوئی ہے ؟ جوتے کون سے ماڈل کے ہیں؟ اُس کے بارے میں ایک ایک چیز بتا سکتی ہیں لیکن مرد اگر کسی شخص کو دیکھتا ہے تو وہ صرف اُس کو ایک عام نگاہ سے دیکھتا ہے کہ وہ کیسا لگ رہا ہے؟ اگر آپ بعد میں پوچھیں کہ جس شخص سے آپ بات کر رہے تھے، اُس نے کون سے رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا ؟ تو اُسے یاد نہیں ہوگا۔ یا اگر ہم بہت سارے مردوں سے پوچھیں کہ آپ کے گھر کا دروازہ کس رنگ کا ہے؟ تو وہ ایک لمحہ کے لیے سوچیں گے کہ دروازہ کس رنگ کا ہے؟ وہ ایک ، عمومی انداز میں دیکھتے ہیں ، خواتین غور سےدیکھتی ہیں♦مرد اور عورت کے اندر یہ فطری اختلاف ان کو مکمل کر رہا ہوتا ہے، عورت کا دقیق انداز میں چیزوں کو دیکھنا گھر کی سجاوٹ اور گھریلو نظام کی خوبصورتی کا باعث بنتا ہے جبکہ مرد کا ایک عمومی نظر سے دیکھنا اس کی توجہ اداری کاموں کی طرف مرکوز رہنے کا سبب بنتا ہے۔
✅مرد اور عورت کے فطری اختلافات میں سے ایک یہ ہے کہ مرد کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جو بچہ اُس سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو ،یا عادتیں اس جیسی پائی جاتی ہوں گی دوسرے بچوں کے مقابلے میں، اُس سے زیادہ محبت کر تا ہے۔ ♦لیکن ماں سب سےبرابر محبت کرتی ہے ماں کو برا لگے گا،اورکہے گی کہ آپ انصاف نہیں کرتے ، سارے بچے ہمارے ہی بچے ہیں ، لیکن مرد فطرتا ایسا ہوتا ہے۔
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ٹاپک پری میریج
درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 3/5
✅ایک اور فرق جو کہ عموماً مشاہدہ میں آتا ہے وہ یہ کہ کسی کی طرف کشش کا ذریعہ مرد کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ظاہری حسن و خوبصورتی کو مرد زیادہ اہمیت دیتا ہے
♦جب کہ خواتین کسی کی تعریف سن کر اس کو پسند کرنے لگتی ہیں۔ اسی لیے مرد کو اسلام نے آنکھوں کی حفاظت کی تاکید فرمائی ہے اور خواتین کو سفارش کی ہے کہ
♦اگر شوہر کو معاشرے کی خوبصورتیوں اور رعنائیوں کی طرف متوجہ ہونے سے بچانا چاہتی ہیں تو اپنی ظاہری اور جسمانی خوبصورتی پر توجہ دیں، تاکہ اس کی توجہ کا مرکز آپ ہی رہیں
✅ایک فرق یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ خواتین مردوں کی نسبت کسی بھی چیز سے جلدی متاثرہوجاتی ہیں
♦جبکہ مرد کو متاثر کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اس کا منبع دراصل وہ پہلا فرق ہے کہ مرد جذبات اور احساسات پر کنٹرول رکھتے ہیں جبکہ خواتین جذبات و احساسات کی بنیاد پر فیصلہ کرلیتی ہیں۔ کسی بھی واقعہ یا فلم وغیرہ کو دیکھ کر خواتین جلدی جذباتی اور احساساتی ہوکر متاثر ہوجاتی ہیں جبکہ مرد ایسا نہیں ہوتا۔
مرد جلدی یقین نہیں کر پاتا جبکہ خواتین جلدی یقین کرلیتی ہیں۔ مردوں کا جلدی یقین نہ کرنا اس بات کا باعث بنتا ہے کہ گھر کے فیصلے محکم اور دلائل کی بنیادوں پر ہوتے ہیں جن کے دور رس نتائج خاندان کی کامیابی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
✅خواتین کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ مرد کے موڈ کو جلدی بھانپ لیتی ہیں
♦جبکہ مرد اس امر میں سست واقع ہوا ہے۔ مرد کافی دیر کے بعد بیوی کے موڈ کو بھانپتا ہے جب شوہر گھر آتا ہے ، اُس کو سلام کرتی ہیں تو فوراً سمجھ جاتی ہیں کہ شوہر کا موڈ کیسا ہے؟ یہ خوش ہے، پریشان ہے، اِس کی کیا کیفیت ہے ؟ یہ خواتین کے اندر ایک خاصیت ہے کہ وہ جلدی بھانپ لیتی ہیں ۔ جبکہ شوہر ایسانہیں کرپاتا ، وہ گھر آجاتا ہے آدھا گھنٹہ گزر جاتا ہے اُس کو پھر بھی سمجھ نہیں آتا کہ آج میری بیوی کا موڈ بہت خراب ہے، وہ دیر سے سمجھتا ہےاور یہیں سے اختلافات بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں
♦عورت یہ سمجھنے لگتی ہے کہ میرا شوہر مجھے سمجھ نہیں پارہا ہے، اُس کو مجھ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔حالانکہ ایسا نہیں ہوتا مرد کا مزاج مختلف ہے اگر ہم ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھ لیں گے تو زندگی خوشگوار ہونا شروع ہوجائے گی۔اگر دونوں اس فرق سے آگاہ ہوں گے تو اسی کے مطابق عمل و ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کامیابی اور محبت کی طرف رواں دواں ہوں گے ورنہ اختلافات کا باعث ہوسکتا ہے۔
✅مرد کسی بھی چیز کو ایک عام نگاہ سے دیکھتا ہے اور اپنی ضرورت اور احتیاج کے مطابق دقت کرتا ہے
♦ جبکہ خواتین ہر چیز کو غور سے اور گہری نظر سے دیکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی خاتون کسی دعوت میں کوئی لباس پہن کر آتی ہے۔ تو خواتین اُس کو خوب غور سے دیکھتی ہیں، کہ اِس نے کون سے رنگ کا کپڑا پہنا ہوا ہے ؟ کون سی جیولری پہنی ہوئی ہے ؟ جوتے کون سے ماڈل کے ہیں؟ اُس کے بارے میں ایک ایک چیز بتا سکتی ہیں لیکن مرد اگر کسی شخص کو دیکھتا ہے تو وہ صرف اُس کو ایک عام نگاہ سے دیکھتا ہے کہ وہ کیسا لگ رہا ہے؟ اگر آپ بعد میں پوچھیں کہ جس شخص سے آپ بات کر رہے تھے، اُس نے کون سے رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا ؟ تو اُسے یاد نہیں ہوگا۔ یا اگر ہم بہت سارے مردوں سے پوچھیں کہ آپ کے گھر کا دروازہ کس رنگ کا ہے؟ تو وہ ایک لمحہ کے لیے سوچیں گے کہ دروازہ کس رنگ کا ہے؟ وہ ایک ، عمومی انداز میں دیکھتے ہیں ، خواتین غور سےدیکھتی ہیں♦مرد اور عورت کے اندر یہ فطری اختلاف ان کو مکمل کر رہا ہوتا ہے، عورت کا دقیق انداز میں چیزوں کو دیکھنا گھر کی سجاوٹ اور گھریلو نظام کی خوبصورتی کا باعث بنتا ہے جبکہ مرد کا ایک عمومی نظر سے دیکھنا اس کی توجہ اداری کاموں کی طرف مرکوز رہنے کا سبب بنتا ہے۔
✅مرد اور عورت کے فطری اختلافات میں سے ایک یہ ہے کہ مرد کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جو بچہ اُس سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو ،یا عادتیں اس جیسی پائی جاتی ہوں گی دوسرے بچوں کے مقابلے میں، اُس سے زیادہ محبت کر تا ہے۔ ♦لیکن ماں سب سےبرابر محبت کرتی ہے ماں کو برا لگے گا،اورکہے گی کہ آپ انصاف نہیں کرتے ، سارے بچے ہمارے ہی بچے ہیں ، لیکن مرد فطرتا ایسا ہوتا ہے۔
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
🌹🌸🌼🌺🌷
🌹سلام معزز ممبران
✍فلسفہ تعلیم و تربیت کے موضوع پر وڈیو دروس کا اہتمام کیا ہے ہر ہفتہ دو کلپس سینڈ کئے جائیں گے ساتھ ٹیکسٹ بھی سینڈ کیا جائے گا۔
🌸یو ٹیوب چینل بھی بنا دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ فیس بک پیج بھی بنا دیا گیا ہے۔
🌹امید ہے تعلیم و تربیت سے متعلق تمام دوستوں تک پہنچائیں گے۔
یو ٹیوب چینل
https://m.youtube.com/watch?v=t_c-loJWrmY
فیس بک پیج
https://www.facebook.com/MTMQOM/videos/170364466924892
ٹیلیگرام چینل
https://t.me/educational_philosophy
واٹس اپ گروپ
https://chat.whatsapp.com/IhfiT8r3ouMET5L5ARoOl3
سجاد حسین آهیر
🌹سلام معزز ممبران
✍فلسفہ تعلیم و تربیت کے موضوع پر وڈیو دروس کا اہتمام کیا ہے ہر ہفتہ دو کلپس سینڈ کئے جائیں گے ساتھ ٹیکسٹ بھی سینڈ کیا جائے گا۔
🌸یو ٹیوب چینل بھی بنا دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ فیس بک پیج بھی بنا دیا گیا ہے۔
🌹امید ہے تعلیم و تربیت سے متعلق تمام دوستوں تک پہنچائیں گے۔
یو ٹیوب چینل
https://m.youtube.com/watch?v=t_c-loJWrmY
فیس بک پیج
https://www.facebook.com/MTMQOM/videos/170364466924892
ٹیلیگرام چینل
https://t.me/educational_philosophy
واٹس اپ گروپ
https://chat.whatsapp.com/IhfiT8r3ouMET5L5ARoOl3
سجاد حسین آهیر
YouTube
Intro Islamic Educational Philosophy by sajhad Aheer
فلسفہ تعلیم وتربیت کا تعارف
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻 ٹاپک پری میریج درس نمبر 5⃣ پارٹ نمبر 3/5 ✅ایک اور فرق جو کہ عموماً مشاہدہ میں آتا ہے وہ یہ کہ کسی کی طرف کشش کا ذریعہ مرد کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ظاہری حسن و خوبصورتی کو مرد زیادہ اہمیت دیتا ہے ♦جب کہ خواتین کسی کی تعریف سن کر اس…
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻
ٹاپک پری میریج
درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 4/5
✅ ایک اور فرق کو بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ مرد ہمیشہ مستقبل کی سوچ میں رہتا ہے♦جبکہ خواتین اپنے ماضی کے سہانے خیالوں میں مگن نظر آتی ہیں، مرد کا مستقبل کے بارے میں سوچنا فطری ہے کیونکہ اس کو خاندان کے مستقبل کو سنوارنا ہے جبکہ خواتین کا ماضی اکثر و بیشتر ذمہ داریوں سے آزاد ہوتا ہے تو وہ ان کے لیے کشش کا باعث ہوتا ہے جبکہ حال ذمہ داریوں سے بھرپور ہوتا ہے، خستگی کا باعث بنتا ہے تو وہ اپنی اس تھکاوٹ کا مداوا ماضی کے پر امن حسین لمحات کی یاد سے کرتی ہیں
♦بعض اوقات یہ فرق بھی خاندانی مسائل میں مشکلات کا باعث بنتا ہے لیکن اگر دونوں اس فطری فرق سے آگاہ ہوں گے تو خوبصورت حل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اِسی لیے جب بیوی اُس سے کہتی ہے کہ میں آپ سے بات کر رہی ہوں آپ کدھر ہیں؟ تو کہے گا: ہاں ہاں میں یہی ہوں۔ لیکن وہ ذہنی طور پر کہیں اور ہوتا ہے۔ وہ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ اُسے چاہیے کہ جب گھر آگیا ہے تو زمانہ حال میں آجائے۔ اور خواتین کہ جو اپنے ماضی کے واقعات کو یاد کر رہی ہوتی ہیں، اُن کو بھی چاہیے کہ آپ بھی واپس حال میں آجائیں اور دونوں گھر میں زمانہ حال میں رہیں ۔ نہ کہ ایک ماضی میں چلا جائے، اور دوسرا مستقبل میں ،اور گھر میں ذہنی طور پر کوئی بھی نہ ہو ۔کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ زمانہ حال میں رہیں اوراسی کو مضبوط کریں
✅ایک اور فرق جو عموماً مشاہدہ میں آتا ہے وہ یہ کہ مرد پریشانی کے وقت خاموشی کو پسند کرتا ہے اور تنہائی چاہتا ہے
♦ جبکہ خواتین فوراً پریشانی کو بیان کرنا چاہتی ہیں اور کچھ بول کر پریشانی کو رفع کرنے کی سعی کر رہی ہوتی ہیں جبکہ مرد کسی کے سامنے اپنی پریشانی کو بیان کرنے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ اور توانائی مرکوز کرکے اس کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس فطری فرق کی وجہ سے بھی اختلافات جنم لے سکتے ہیں لیکن اگر دونوں آگاہ ہوں گے تو اختلافات اور مشکلات کی بجائے محبت و عشق کی راہوں کو ہموار کرسکتے ہیں مثلاً خاتون یہ سوچتی ہے کہ چونکہ میری پریشانی بیان کرنے سے رفع ہوجاتی ہے اور کم از کم ہلکی تو ہوجاتی ہے تو کیوں نہ میں بھی اپنے شوہر سے اس کی پریشانی دریافت کروں تاکہ اس کے دِل کا بوجھ ہلکا ہوجائے جبکہ مرد کی فطرت کے خلاف عمل ہو رہا ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرد کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے اور بعض اوقات ماحول میں تلخی بھی پیدا ہوجاتی ہے لیکن اگر دونوں اس قدرتی فرق اور اختلاف سے آشنا ہوں گے تو تلخیاں بھی شیرینی میں تبدیل ہوسکتی ہیں
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ٹاپک پری میریج
درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 4/5
✅ ایک اور فرق کو بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ مرد ہمیشہ مستقبل کی سوچ میں رہتا ہے♦جبکہ خواتین اپنے ماضی کے سہانے خیالوں میں مگن نظر آتی ہیں، مرد کا مستقبل کے بارے میں سوچنا فطری ہے کیونکہ اس کو خاندان کے مستقبل کو سنوارنا ہے جبکہ خواتین کا ماضی اکثر و بیشتر ذمہ داریوں سے آزاد ہوتا ہے تو وہ ان کے لیے کشش کا باعث ہوتا ہے جبکہ حال ذمہ داریوں سے بھرپور ہوتا ہے، خستگی کا باعث بنتا ہے تو وہ اپنی اس تھکاوٹ کا مداوا ماضی کے پر امن حسین لمحات کی یاد سے کرتی ہیں
♦بعض اوقات یہ فرق بھی خاندانی مسائل میں مشکلات کا باعث بنتا ہے لیکن اگر دونوں اس فطری فرق سے آگاہ ہوں گے تو خوبصورت حل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اِسی لیے جب بیوی اُس سے کہتی ہے کہ میں آپ سے بات کر رہی ہوں آپ کدھر ہیں؟ تو کہے گا: ہاں ہاں میں یہی ہوں۔ لیکن وہ ذہنی طور پر کہیں اور ہوتا ہے۔ وہ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ اُسے چاہیے کہ جب گھر آگیا ہے تو زمانہ حال میں آجائے۔ اور خواتین کہ جو اپنے ماضی کے واقعات کو یاد کر رہی ہوتی ہیں، اُن کو بھی چاہیے کہ آپ بھی واپس حال میں آجائیں اور دونوں گھر میں زمانہ حال میں رہیں ۔ نہ کہ ایک ماضی میں چلا جائے، اور دوسرا مستقبل میں ،اور گھر میں ذہنی طور پر کوئی بھی نہ ہو ۔کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ زمانہ حال میں رہیں اوراسی کو مضبوط کریں
✅ایک اور فرق جو عموماً مشاہدہ میں آتا ہے وہ یہ کہ مرد پریشانی کے وقت خاموشی کو پسند کرتا ہے اور تنہائی چاہتا ہے
♦ جبکہ خواتین فوراً پریشانی کو بیان کرنا چاہتی ہیں اور کچھ بول کر پریشانی کو رفع کرنے کی سعی کر رہی ہوتی ہیں جبکہ مرد کسی کے سامنے اپنی پریشانی کو بیان کرنے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ اور توانائی مرکوز کرکے اس کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس فطری فرق کی وجہ سے بھی اختلافات جنم لے سکتے ہیں لیکن اگر دونوں آگاہ ہوں گے تو اختلافات اور مشکلات کی بجائے محبت و عشق کی راہوں کو ہموار کرسکتے ہیں مثلاً خاتون یہ سوچتی ہے کہ چونکہ میری پریشانی بیان کرنے سے رفع ہوجاتی ہے اور کم از کم ہلکی تو ہوجاتی ہے تو کیوں نہ میں بھی اپنے شوہر سے اس کی پریشانی دریافت کروں تاکہ اس کے دِل کا بوجھ ہلکا ہوجائے جبکہ مرد کی فطرت کے خلاف عمل ہو رہا ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرد کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے اور بعض اوقات ماحول میں تلخی بھی پیدا ہوجاتی ہے لیکن اگر دونوں اس قدرتی فرق اور اختلاف سے آشنا ہوں گے تو تلخیاں بھی شیرینی میں تبدیل ہوسکتی ہیں
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🅾Sawal no.12 Mera sawal ye ha k mere delivery k do operations huy han to operation theater ma male doctors b hoty han jab k operation female hi krti han par male helpers b hoty han or us tym anesthesia ma nahi hOsh hoti k kisne touch kiya ya dekha to kya…
🅾Sawal no.13
Salam.
Mera sawal ye he k kya shohar bivi k pistaan suck kar Sakta he
🍃 Group : Azdawaj
🔹 Mozu : Miya Bv K Ahkam
🔸 Mujtahid : Agha Sistani, Agha Khamenai
🌔 Date: 04-11-2015
🍀Jawab:
کر سکتے ہے کوئی حرج نہیں
لیکن آیت اللہ سیستانی کے مطابق دودھ حلق سے نیچے نہ جائے
آیت اللہ سیستانی بیوی کا دودھ پینا احتیاط واجب کی بنا پر حرام سمجھتے ھیں
آیت اللہ خامنہ ای کے نزدیک جائز ھے
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
جزاک الله خیر الجزا
خدا آپ کو علوم آل محمد ء سیکهنے کا اجر عطا فرمائے اور آپ کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے
🌷Fiqhe Masail Group For Male🌷
Salam.
Mera sawal ye he k kya shohar bivi k pistaan suck kar Sakta he
🍃 Group : Azdawaj
🔹 Mozu : Miya Bv K Ahkam
🔸 Mujtahid : Agha Sistani, Agha Khamenai
🌔 Date: 04-11-2015
🍀Jawab:
کر سکتے ہے کوئی حرج نہیں
لیکن آیت اللہ سیستانی کے مطابق دودھ حلق سے نیچے نہ جائے
آیت اللہ سیستانی بیوی کا دودھ پینا احتیاط واجب کی بنا پر حرام سمجھتے ھیں
آیت اللہ خامنہ ای کے نزدیک جائز ھے
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
جزاک الله خیر الجزا
خدا آپ کو علوم آل محمد ء سیکهنے کا اجر عطا فرمائے اور آپ کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے
🌷Fiqhe Masail Group For Male🌷
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢
پارٹ نمبر 1⃣
شوھر اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلیم کی غرض سے سیکسی فلم دیکھ سکتا ھے
جواب :
حرام ہے
آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
پارٹ نمبر 1⃣
شوھر اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلیم کی غرض سے سیکسی فلم دیکھ سکتا ھے
جواب :
حرام ہے
آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
تین افراد کے ساتھ نرمی سے پیش آنا تاکیدی ھے
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
بیویوں پر ھاتھ اٹھانے کی مذمّت و اور اسکا عذابِ آخرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
Forwarded from Marfat Imam Zamana Ajf Srvc
#رسالہ_الحقوق
مجموعہ کلمات امام زین العابدین علیہ السلام
#بیوی_کاحق
پاٹ نمبر 25
جوائن کریں
facebook.com/MIZajf786
https://t.me/MIZ786
مجموعہ کلمات امام زین العابدین علیہ السلام
#بیوی_کاحق
پاٹ نمبر 25
جوائن کریں
facebook.com/MIZajf786
https://t.me/MIZ786
منع حمل بذریعہ کوائل یا چھلہ
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
#نزدیکی_کریں_تاکہ_پاکیزہ_رہیں
❣️حضرت امام باقر علیه السلام سے پوچھا گیا:
کیوں مسلمان نزدیکی اور مجامعت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں؟
آنحضرت علیہ السلام نے جواب دیا:
💖《اس کام سے ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنی پاکدامنی کو محفوظ رکھیں تاکہ دوسروں کی طرف مائل نہ ہوں اور محتاج نہ ہوں》
✍️ انسانی روابط کے مختصص افراد (IPRS) اس بات پر باور ہیں جنسی ضرورت زندگی کی اہم ضروریات میں سے ہے ، اور یہ انسانی زندگی کے تمام پہلو( روحی، جسمی، فکری، معاشرتی ) پر اثر رکھتی ہے مرد و خواتین #آلودگی سے محفوظ رہیں.
📕وسائل الشیعه،ج ۲۰، ص ۲۴۲
✍رسول فیضی
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
❣️حضرت امام باقر علیه السلام سے پوچھا گیا:
کیوں مسلمان نزدیکی اور مجامعت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں؟
آنحضرت علیہ السلام نے جواب دیا:
💖《اس کام سے ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنی پاکدامنی کو محفوظ رکھیں تاکہ دوسروں کی طرف مائل نہ ہوں اور محتاج نہ ہوں》
✍️ انسانی روابط کے مختصص افراد (IPRS) اس بات پر باور ہیں جنسی ضرورت زندگی کی اہم ضروریات میں سے ہے ، اور یہ انسانی زندگی کے تمام پہلو( روحی، جسمی، فکری، معاشرتی ) پر اثر رکھتی ہے مرد و خواتین #آلودگی سے محفوظ رہیں.
📕وسائل الشیعه،ج ۲۰، ص ۲۴۲
✍رسول فیضی
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻 ٹاپک پری میریج درس نمبر 5⃣ پارٹ نمبر 4/5 ✅ ایک اور فرق کو بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ مرد ہمیشہ مستقبل کی سوچ میں رہتا ہے♦جبکہ خواتین اپنے ماضی کے سہانے خیالوں میں مگن نظر آتی ہیں، مرد کا مستقبل کے بارے میں سوچنا فطری ہے کیونکہ…
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻
ٹاپک پری میریج
درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 5/5
✅ایک اور فطری اور قدرتی فرق کو دیکھا جاسکتا ہے وہ یہ کہ مرد ایک وقت میں صرف ایک کام کی طرف توجہ دے سکتا ہے
♦جبکہ خواتین ایک وقت میں کئی کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جیسے ایک ہی وقت میں ٹی وی پر ڈرامہ کو بھی دیکھ رہی ہوتی ہے کھانا بھی بنا رہی ہوتی ہے اور بچے کا ہوم ورک بھی کروا رہی ہوتی ہے جبکہ مرد اگر ڈرامہ دیکھ رہا ہے تو صرف اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گھر جن کے اندرونی ماحول کی ذمہ داری خواتین کے کندھوں پر ہوتی ہے نہایت احسن انداز میں اپنی منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں چونکہ مرد ایک ہی کام کو انتہائی توجہ اور دلچسپی کے ساتھ کرنے کی فطرت کا حامل ہے اس لیے معاشرے کے دقیق اور پریشان کن مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
✅ایک اور فرق جو کہ بعض اوقات مسائل کا سبب بنتا ہے وہ یہ کہ مرد میں سننے کی ہمت کم پائی جاتی ہے
♦ جبکہ خواتین اچھی سامع واقع ہوتی ہیں، مرد ایسی خبر جو کہ اس کے متعلقہ نہیں ہے کو سننا بھی نہیں چاہتا جبکہ خواتین ہر بات کو سننا پسند کرتی ہیں، بعض اوقات خواتین اگر مرد کے اس فطری وصف سے آگاہ نہ ہوں تو دلبرداشتہ ہوسکتی ہیں کہ میرے شوہر میری بات کو توجہ سے نہیں سنتے حالانکہ وہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے لیکن اگر دونوں اس فطری فرق سے آگاہ ہوں گے تو ایک دوسرے کو اذیت دینے کی بجائے آرام و سکون اور آشتی کا باعث بنیں گے۔
✅مرد اور عورت میں ایک دلچسپ فرق یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جب مرد روزمرہ کے معاملات میں مشغول ہوتا ہے تو وہ بیوی بچوں کی یاد سے غافل ہوتا ہے بلکہ اپنی پوری توجہ انہی معاملات کو سلجھانے میں صرف کر رہا ہوتا ہے
♦ جبکہ عورت ہر لمحہ مصروفیت کے باوجود شوہر اور بچوں کی یاد میں مشغول رہتی ہے۔
♦اس فطری فرق سے آگاہی نہ ہونے کی بدولت بعض اوقات بیوی اور شوہر کے تعلقات خراب ہوجاتے ہیں، کیونکہ جب بیوی پوچھتی ہے کہ دِن میں، میں کتنی دفعہ یاد آئی ہوں؟ تو صحیح جواب کی بنیاد پر ناراضگی یقینی امر ہے لیکن اگر دونوں ایک دوسرے کے فطری اور قدرتی فرق سے آگاہ ہوں گے تو تعلقات سدھرنے لگیں گے۔
✍یہ تمام اختلافات اور فرق اکثر موارد میں پائے جاتے ہیں لیکن ہر جگہ استثنائی موارد موجود ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان تمام یا کسی ایک فرق سے مستثنیٰ ہو تو یہ ممکنات میں سے ہے۔
♦حقیقت یہ ہے کہ ایک بیوی کی حیثیت گھر میں چکی کے کیل کی سی ہے۔ پورا گھر بیوی کی منصوبہ بندی اور ہنر مندی سے چل رہا ہوتا ہے۔
♦گھر کے اندرونی حالات کا اختیار بیوی کے کنٹرول میں ہوتا ہے اور یہی ماحول شوہر کی تمام تر خوشیوں اور سکون کا باعث ہوتا ہے اور بچوں کے لیے ایک اچھی تربیت گاہ ثابت ہوتا ہے اگر بیوی اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھتے ہوئے گھر کے ماحول کو خوشحال اور مسرور بنائے تو گھر ایک جنت کا سماں پیدا کرسکتا ہے۔ ایک عورت کی ماں ہونے کے حوالے سے سب سے بڑی ذمہ داری اولاد کی تربیت ہے۔
✍معاشرے کو صالح ، ذمہ دار اور وظیفہ شناس افراد مائیں ہی فراہم کرسکتی ہیں۔ ماں کے کردار کو اسلام بہت اہمیت دیتا ہے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
امام خمینیؒ نے فرمایا کہ👇👇👇👇👇: "بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے"ماں کی گود وہ مکتب ہے کہ جو معاشرہ کے دکھوں کا مداوا کرنے والے افراد کی پرورش گاہ ثابت ہوسکتا ہے۔
✍ماں جب جھولا جھلا رہی ہوتی ہے ، دراصل وہ ایک جھولا نہیں بلکہ کائنات کو ہلا رہی ہوتی ہے کیونکہ ممکن ہے اس جھولے میں موجود بچہ کل کا رہبر و رہنما ہوگا، دنیا کو چلا رہا ہوگا اور انسانیت کو کمال کی طرف ہدایت کر رہا ہوگا۔
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ٹاپک پری میریج
درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 5/5
✅ایک اور فطری اور قدرتی فرق کو دیکھا جاسکتا ہے وہ یہ کہ مرد ایک وقت میں صرف ایک کام کی طرف توجہ دے سکتا ہے
♦جبکہ خواتین ایک وقت میں کئی کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جیسے ایک ہی وقت میں ٹی وی پر ڈرامہ کو بھی دیکھ رہی ہوتی ہے کھانا بھی بنا رہی ہوتی ہے اور بچے کا ہوم ورک بھی کروا رہی ہوتی ہے جبکہ مرد اگر ڈرامہ دیکھ رہا ہے تو صرف اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گھر جن کے اندرونی ماحول کی ذمہ داری خواتین کے کندھوں پر ہوتی ہے نہایت احسن انداز میں اپنی منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں چونکہ مرد ایک ہی کام کو انتہائی توجہ اور دلچسپی کے ساتھ کرنے کی فطرت کا حامل ہے اس لیے معاشرے کے دقیق اور پریشان کن مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
✅ایک اور فرق جو کہ بعض اوقات مسائل کا سبب بنتا ہے وہ یہ کہ مرد میں سننے کی ہمت کم پائی جاتی ہے
♦ جبکہ خواتین اچھی سامع واقع ہوتی ہیں، مرد ایسی خبر جو کہ اس کے متعلقہ نہیں ہے کو سننا بھی نہیں چاہتا جبکہ خواتین ہر بات کو سننا پسند کرتی ہیں، بعض اوقات خواتین اگر مرد کے اس فطری وصف سے آگاہ نہ ہوں تو دلبرداشتہ ہوسکتی ہیں کہ میرے شوہر میری بات کو توجہ سے نہیں سنتے حالانکہ وہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے لیکن اگر دونوں اس فطری فرق سے آگاہ ہوں گے تو ایک دوسرے کو اذیت دینے کی بجائے آرام و سکون اور آشتی کا باعث بنیں گے۔
✅مرد اور عورت میں ایک دلچسپ فرق یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جب مرد روزمرہ کے معاملات میں مشغول ہوتا ہے تو وہ بیوی بچوں کی یاد سے غافل ہوتا ہے بلکہ اپنی پوری توجہ انہی معاملات کو سلجھانے میں صرف کر رہا ہوتا ہے
♦ جبکہ عورت ہر لمحہ مصروفیت کے باوجود شوہر اور بچوں کی یاد میں مشغول رہتی ہے۔
♦اس فطری فرق سے آگاہی نہ ہونے کی بدولت بعض اوقات بیوی اور شوہر کے تعلقات خراب ہوجاتے ہیں، کیونکہ جب بیوی پوچھتی ہے کہ دِن میں، میں کتنی دفعہ یاد آئی ہوں؟ تو صحیح جواب کی بنیاد پر ناراضگی یقینی امر ہے لیکن اگر دونوں ایک دوسرے کے فطری اور قدرتی فرق سے آگاہ ہوں گے تو تعلقات سدھرنے لگیں گے۔
✍یہ تمام اختلافات اور فرق اکثر موارد میں پائے جاتے ہیں لیکن ہر جگہ استثنائی موارد موجود ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان تمام یا کسی ایک فرق سے مستثنیٰ ہو تو یہ ممکنات میں سے ہے۔
♦حقیقت یہ ہے کہ ایک بیوی کی حیثیت گھر میں چکی کے کیل کی سی ہے۔ پورا گھر بیوی کی منصوبہ بندی اور ہنر مندی سے چل رہا ہوتا ہے۔
♦گھر کے اندرونی حالات کا اختیار بیوی کے کنٹرول میں ہوتا ہے اور یہی ماحول شوہر کی تمام تر خوشیوں اور سکون کا باعث ہوتا ہے اور بچوں کے لیے ایک اچھی تربیت گاہ ثابت ہوتا ہے اگر بیوی اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھتے ہوئے گھر کے ماحول کو خوشحال اور مسرور بنائے تو گھر ایک جنت کا سماں پیدا کرسکتا ہے۔ ایک عورت کی ماں ہونے کے حوالے سے سب سے بڑی ذمہ داری اولاد کی تربیت ہے۔
✍معاشرے کو صالح ، ذمہ دار اور وظیفہ شناس افراد مائیں ہی فراہم کرسکتی ہیں۔ ماں کے کردار کو اسلام بہت اہمیت دیتا ہے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
امام خمینیؒ نے فرمایا کہ👇👇👇👇👇: "بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے"ماں کی گود وہ مکتب ہے کہ جو معاشرہ کے دکھوں کا مداوا کرنے والے افراد کی پرورش گاہ ثابت ہوسکتا ہے۔
✍ماں جب جھولا جھلا رہی ہوتی ہے ، دراصل وہ ایک جھولا نہیں بلکہ کائنات کو ہلا رہی ہوتی ہے کیونکہ ممکن ہے اس جھولے میں موجود بچہ کل کا رہبر و رہنما ہوگا، دنیا کو چلا رہا ہوگا اور انسانیت کو کمال کی طرف ہدایت کر رہا ہوگا۔
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
حقوق زوجين
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
Forwarded from Fiqhi Masail | فقہی مسائل
جس عورت سے شادی کرنے کا ارادہ ہو اسکو دیکھنے کے تفصیلی مسائل
Fiqhemasail.blogspot.com
https://www.instagram.com/Fiqhimasail
Fiqhemasail.blogspot.com
https://www.instagram.com/Fiqhimasail
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢 پارٹ نمبر 1⃣ شوھر اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلیم کی غرض سے سیکسی فلم دیکھ سکتا ھے جواب : حرام ہے آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں…
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢
پارٹ نمبر 2⃣
دس یا بارہ دن کا حمل ضائع کیا جا سکتا ہے.؟
جواب: حمل کے ہو جانے کے بعد ضائع کرنا حرام ہے چاہے وہ ایک دن یا ایک گهنٹہ کا ہو
تمام مراجع عظام
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
پارٹ نمبر 2⃣
دس یا بارہ دن کا حمل ضائع کیا جا سکتا ہے.؟
جواب: حمل کے ہو جانے کے بعد ضائع کرنا حرام ہے چاہے وہ ایک دن یا ایک گهنٹہ کا ہو
تمام مراجع عظام
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🅾Sawal no.13 Salam. Mera sawal ye he k kya shohar bivi k pistaan suck kar Sakta he 🍃 Group : Azdawaj 🔹 Mozu : Miya Bv K Ahkam 🔸 Mujtahid : Agha Sistani, Agha Khamenai 🌔 Date: 04-11-2015 🍀Jawab: کر سکتے ہے کوئی حرج نہیں لیکن آیت اللہ سیستانی کے…
🅾Sawal no.14
Aoa
Kya husband and wife moharram or safar main bedshering kr saky hain???
🔹 Mozu :Jima
🔸 Mujtahid :Agha Sistani,Agha Khamenai,Agha Basheer Najfi
🌔 Date: 09-11-2015
🍀Jawab:
محرم اور سفر میں ہمبستری کی جا سکتی ہے
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
جزاک الله خیر الجزا
خدا آپ کو علوم آل محمد ء سیکهنے کا اجر عطا فرمائے اور آپ کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے
🌷Fiqhe Masail Group For Azdawaj🌷
Aoa
Kya husband and wife moharram or safar main bedshering kr saky hain???
🔹 Mozu :Jima
🔸 Mujtahid :Agha Sistani,Agha Khamenai,Agha Basheer Najfi
🌔 Date: 09-11-2015
🍀Jawab:
محرم اور سفر میں ہمبستری کی جا سکتی ہے
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
جزاک الله خیر الجزا
خدا آپ کو علوم آل محمد ء سیکهنے کا اجر عطا فرمائے اور آپ کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے
🌷Fiqhe Masail Group For Azdawaj🌷
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻 ٹاپک پری میریج درس نمبر 5⃣ پارٹ نمبر 5/5 ✅ایک اور فطری اور قدرتی فرق کو دیکھا جاسکتا ہے وہ یہ کہ مرد ایک وقت میں صرف ایک کام کی طرف توجہ دے سکتا ہے ♦جبکہ خواتین ایک وقت میں کئی کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جیسے ایک ہی وقت میں…
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻
ٹاپک پری میریج
درس نمبر 6⃣
پارٹ نمبر 1/5
#شوہر اور #بیوی کے #درمیان #حقوق و #فرائض کا #کردار
کائنات کے اندر نظم پروردگار کے احسن االخالقین ہونے کی واضح اور روش دلیل ہے اور فطری طور پر انسان نظم کو پسند کرتا ہے اور نظم کی موجودگی میں ہی کمال و ترقی کی منازل کو طے کیا جاسکتا ہے۔
♦کسی بھی اسکول میں داخلہ کے لیے اس کے طے شدہ قوانین پر عمل کرنا ہی عقل و منطق کی رو سے کامیابی سے ہمکنار ہونے کا سبب بن سکتی ہے اور نظام کے ناظم کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظام کے مختلف اراکین سے نظم و ضبط کی پابندی یقینی بنائے ورنہ نظام کی بقاء خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔
♦انسانی زندگی میں ہر رشتے اور تعلق کے لیے اسلام جو کہ دین فطرت ہے نے کچھ قوانین و ضوابط متعین کیئے ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں حقوق و فرائض کا نام دیا جاسکتا ہے۔
فطری طور پر انسان چند حدود و قیود میں زندگی گزارنے کا خواہشمند ہے۔
✍ اگر ایک انسان کو ایک وسیع و عریض رقبے پر زندگی گزارنے کی اجازت دی جائے تو سب سے پہلے وہ اپنے رہنے کے لیے ایک خاص ایریا کو مشخص کرے گا اور پھر مختلف چیزوں کی حدبندی کریگا۔ یعنی فطری طور پر وہ ایک حد و مرز کا قائل ہے۔ اور عقل و شعور کی منزل پر فائز انسان بغیر قوانین و حدود کے انسانی معاشرے میں زندگی کو ناممکن تصور کرتا ہے۔
♦ اسلام کے قوانین کو سختی اور بے جا پابندی سے موسوم کرنے والے دراصل اسلام کی حقیقت سے آشنا نہیں ہیں۔ اجمالی طور پر چند قوانین کو سن کر اسلامی قوانین کی سختیوں کا شور مچا رہے ہوتے ہیں۔
اسلام انسانی زندگی کا وہ دستور العمل ہے جسے خود خالق حقیقی نے وضع فرمایا ہے۔ وہ خالق انسان جو انسانی فطرت، خواہشات، طاقت، توانائی، غریزہ، اور ضروریات انسان کا بھی خالق ہے۔ انسانی ضروریات، فوائد و نقصانات سے کماحقہ آگاہی کے بعد بنایا جانے والا قانون اسلام ہے۔
✍دراصل اقدار کے بدل جانے سے اچھائیاں، برائیاں بن گئی ہیں اور برائیاں اچھائیاں نظر آتی ہیں۔ انسانی فطرت پر ایسے پردے اور گرد پڑ گئی ہے کہ فطری تقاضے بھی تبدیل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں اور فطری ضروریات لغو اور پابندیوں کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔
👍🏽کسی ایک ملک یا شہر کا تصور کریں کہ جہاں کوئی قانون حاکم نہ ہو، ہر شخص آزاد ہے جو چاہے کرے تو کیا ایسے معاشرے میں زندگی گزارنا ممکن ہے، وہاں تو جنگل کا سماں نظر آئیگا انسانی مفادات کا ٹکراؤ اور قوانین و حدود سے عاری معاشرہ ناقابل تصور منظر پیش کریگا۔ تو زندگی گزارنے کے لیے قوانین و ضوابط کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے اور قوانین وہ ہونے چاہئیں جو انسانی فطرت اور فوائد و نقصانات سے ہم آہنگ ہوں۔
✍اسلام کے علاوہ کوئی بھی قانون فطرت انسان سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔
جوتے اور لباس وغیرہ کو سختیاں اور پابندیاں کہنے والے دراصل اپنے پاؤں اور جسم کی حفاظت سے غافل ہوتے ہیں ورنہ جوتے پاؤں کی حفاظت کرتے ہیں نہ کہ پاؤں کے لیے سختی و پابندی ثابت ہوتے ہیں اسی طرح لباس جسم کی حفاظت کرتا ہے نہ کہ مصیبت اور پریشانی کا باعث ہوتا ہے اس لیے انسانی فطرت اور عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے پر کچھ قوانین و حدود کا حاکم ہونا ناگزیر ہے تاکہ مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں انسانی معاشرہ حرج و مرج کا شکار نہ ہو۔
جاری ہے۔۔
تحریر سجاد حسین آہیر
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ٹاپک پری میریج
درس نمبر 6⃣
پارٹ نمبر 1/5
#شوہر اور #بیوی کے #درمیان #حقوق و #فرائض کا #کردار
کائنات کے اندر نظم پروردگار کے احسن االخالقین ہونے کی واضح اور روش دلیل ہے اور فطری طور پر انسان نظم کو پسند کرتا ہے اور نظم کی موجودگی میں ہی کمال و ترقی کی منازل کو طے کیا جاسکتا ہے۔
♦کسی بھی اسکول میں داخلہ کے لیے اس کے طے شدہ قوانین پر عمل کرنا ہی عقل و منطق کی رو سے کامیابی سے ہمکنار ہونے کا سبب بن سکتی ہے اور نظام کے ناظم کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظام کے مختلف اراکین سے نظم و ضبط کی پابندی یقینی بنائے ورنہ نظام کی بقاء خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔
♦انسانی زندگی میں ہر رشتے اور تعلق کے لیے اسلام جو کہ دین فطرت ہے نے کچھ قوانین و ضوابط متعین کیئے ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں حقوق و فرائض کا نام دیا جاسکتا ہے۔
فطری طور پر انسان چند حدود و قیود میں زندگی گزارنے کا خواہشمند ہے۔
✍ اگر ایک انسان کو ایک وسیع و عریض رقبے پر زندگی گزارنے کی اجازت دی جائے تو سب سے پہلے وہ اپنے رہنے کے لیے ایک خاص ایریا کو مشخص کرے گا اور پھر مختلف چیزوں کی حدبندی کریگا۔ یعنی فطری طور پر وہ ایک حد و مرز کا قائل ہے۔ اور عقل و شعور کی منزل پر فائز انسان بغیر قوانین و حدود کے انسانی معاشرے میں زندگی کو ناممکن تصور کرتا ہے۔
♦ اسلام کے قوانین کو سختی اور بے جا پابندی سے موسوم کرنے والے دراصل اسلام کی حقیقت سے آشنا نہیں ہیں۔ اجمالی طور پر چند قوانین کو سن کر اسلامی قوانین کی سختیوں کا شور مچا رہے ہوتے ہیں۔
اسلام انسانی زندگی کا وہ دستور العمل ہے جسے خود خالق حقیقی نے وضع فرمایا ہے۔ وہ خالق انسان جو انسانی فطرت، خواہشات، طاقت، توانائی، غریزہ، اور ضروریات انسان کا بھی خالق ہے۔ انسانی ضروریات، فوائد و نقصانات سے کماحقہ آگاہی کے بعد بنایا جانے والا قانون اسلام ہے۔
✍دراصل اقدار کے بدل جانے سے اچھائیاں، برائیاں بن گئی ہیں اور برائیاں اچھائیاں نظر آتی ہیں۔ انسانی فطرت پر ایسے پردے اور گرد پڑ گئی ہے کہ فطری تقاضے بھی تبدیل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں اور فطری ضروریات لغو اور پابندیوں کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔
👍🏽کسی ایک ملک یا شہر کا تصور کریں کہ جہاں کوئی قانون حاکم نہ ہو، ہر شخص آزاد ہے جو چاہے کرے تو کیا ایسے معاشرے میں زندگی گزارنا ممکن ہے، وہاں تو جنگل کا سماں نظر آئیگا انسانی مفادات کا ٹکراؤ اور قوانین و حدود سے عاری معاشرہ ناقابل تصور منظر پیش کریگا۔ تو زندگی گزارنے کے لیے قوانین و ضوابط کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے اور قوانین وہ ہونے چاہئیں جو انسانی فطرت اور فوائد و نقصانات سے ہم آہنگ ہوں۔
✍اسلام کے علاوہ کوئی بھی قانون فطرت انسان سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔
جوتے اور لباس وغیرہ کو سختیاں اور پابندیاں کہنے والے دراصل اپنے پاؤں اور جسم کی حفاظت سے غافل ہوتے ہیں ورنہ جوتے پاؤں کی حفاظت کرتے ہیں نہ کہ پاؤں کے لیے سختی و پابندی ثابت ہوتے ہیں اسی طرح لباس جسم کی حفاظت کرتا ہے نہ کہ مصیبت اور پریشانی کا باعث ہوتا ہے اس لیے انسانی فطرت اور عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے پر کچھ قوانین و حدود کا حاکم ہونا ناگزیر ہے تاکہ مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں انسانی معاشرہ حرج و مرج کا شکار نہ ہو۔
جاری ہے۔۔
تحریر سجاد حسین آہیر
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢 پارٹ نمبر 2⃣ دس یا بارہ دن کا حمل ضائع کیا جا سکتا ہے.؟ جواب: حمل کے ہو جانے کے بعد ضائع کرنا حرام ہے چاہے وہ ایک دن یا ایک گهنٹہ کا ہو تمام مراجع عظام ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں h…
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢
پارٹ نمبر 3⃣
شوہر عزل (بیوی کی شرمگاہ سے باہر منی گرانا) کر سکتا ہے
مگر عورت کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر ایسا کرنا حرام ہے.
شوہر کے لیے چند شرائط پر یہ بالکل جائز ہے:
1⃣ اگر نکاح میں شرط رکھے کہ عزل کرونگا
2⃣ وہ عورت جو کنیز ہو یا جس سے متعہ کرنا ہو چائے وہ راضی ہو یا نہ ہو
3⃣ خوف ہو کہ عزل نہ کرونگا تو نقصان ہو گا
4⃣دونوں راضی ہوں
ان شرائط میں مکروہ بھی نہیں:
1⃣ عورت بانجھ ہو
2⃣ اگر عورت بوڑھی ہو
3⃣ ایسی عورت جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلائے گی
4⃣ پاگل/مجنون عورت سے
اس کے علاوہ دائمی نکاح والی بیوی سے عزل کرنا مکروہ ہے. حرام نہیں ہے
آیت اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای دام ظلہ
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
پارٹ نمبر 3⃣
شوہر عزل (بیوی کی شرمگاہ سے باہر منی گرانا) کر سکتا ہے
مگر عورت کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر ایسا کرنا حرام ہے.
شوہر کے لیے چند شرائط پر یہ بالکل جائز ہے:
1⃣ اگر نکاح میں شرط رکھے کہ عزل کرونگا
2⃣ وہ عورت جو کنیز ہو یا جس سے متعہ کرنا ہو چائے وہ راضی ہو یا نہ ہو
3⃣ خوف ہو کہ عزل نہ کرونگا تو نقصان ہو گا
4⃣دونوں راضی ہوں
ان شرائط میں مکروہ بھی نہیں:
1⃣ عورت بانجھ ہو
2⃣ اگر عورت بوڑھی ہو
3⃣ ایسی عورت جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلائے گی
4⃣ پاگل/مجنون عورت سے
اس کے علاوہ دائمی نکاح والی بیوی سے عزل کرنا مکروہ ہے. حرام نہیں ہے
آیت اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای دام ظلہ
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🅾Sawal no.14 Aoa Kya husband and wife moharram or safar main bedshering kr saky hain??? 🔹 Mozu :Jima 🔸 Mujtahid :Agha Sistani,Agha Khamenai,Agha Basheer Najfi 🌔 Date: 09-11-2015 🍀Jawab: محرم اور سفر میں ہمبستری کی جا سکتی ہے ازدواجی زندگی کو فقہی…
🅾Sawal no.15
A.o.a
Ya Ali(a.s)madad
Bhai mera sawal hy k husband log jo beron.e.mulk mehnat karny jaty hain kitni dair bv sy door rah rah sakty hain...
🔹 Mozu :Jima
🔸 Mujtahid :Agha Sistani
🌔 Date: 11-11-2015
🍀Jawab:
1⃣ چار ماہ میں کم از کم ايک بار ہمبستری کرنا واجب ہے
وضاحت
شوہر کو چاہیے کہ مباشرت یعنی ہمبستری کو چار ماہ تک ترک نہیں کرنی چاہیئ سوائے اس کے کہ یا تو اسے کوئی ایسا مرض ہو کہ اگر وہ ہمبستری کرے تو بیماری کے بڑھنے کا خطرہ ہے
یا یہ کہ زوجہ کی اجازت ہو تو
یا پھر وہ پردیس میں ہے اور اسوقت بھی زوجہ کی اجازت ہے تو کوئی حرج نہیں ہے
2⃣ جب بیوی چار ماہ سے زیادہ صبر نہ کر سکے اور شوہر کو ڈار ہو کہ وہ حرام میں مبتلا ہو گی تو احتیاط واجب کی بناء پر شوہر کو چاہیے یا تو ہمبستری کرے یا اس عورت کو طلاق دے دیے
منہاج الصالحین
پاٹ نمبر 3
مسلہ نمبر 341
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
جزاک الله خیر الجزا
خدا آپ کو علوم آل محمد ء سیکهنے کا اجر عطا فرمائے اور آپ کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے
🌷Fiqhe Masail Group For Azdwaj🌷
A.o.a
Ya Ali(a.s)madad
Bhai mera sawal hy k husband log jo beron.e.mulk mehnat karny jaty hain kitni dair bv sy door rah rah sakty hain...
🔹 Mozu :Jima
🔸 Mujtahid :Agha Sistani
🌔 Date: 11-11-2015
🍀Jawab:
1⃣ چار ماہ میں کم از کم ايک بار ہمبستری کرنا واجب ہے
وضاحت
شوہر کو چاہیے کہ مباشرت یعنی ہمبستری کو چار ماہ تک ترک نہیں کرنی چاہیئ سوائے اس کے کہ یا تو اسے کوئی ایسا مرض ہو کہ اگر وہ ہمبستری کرے تو بیماری کے بڑھنے کا خطرہ ہے
یا یہ کہ زوجہ کی اجازت ہو تو
یا پھر وہ پردیس میں ہے اور اسوقت بھی زوجہ کی اجازت ہے تو کوئی حرج نہیں ہے
2⃣ جب بیوی چار ماہ سے زیادہ صبر نہ کر سکے اور شوہر کو ڈار ہو کہ وہ حرام میں مبتلا ہو گی تو احتیاط واجب کی بناء پر شوہر کو چاہیے یا تو ہمبستری کرے یا اس عورت کو طلاق دے دیے
منہاج الصالحین
پاٹ نمبر 3
مسلہ نمبر 341
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
جزاک الله خیر الجزا
خدا آپ کو علوم آل محمد ء سیکهنے کا اجر عطا فرمائے اور آپ کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے
🌷Fiqhe Masail Group For Azdwaj🌷
شوہر و بیوی دونوں ایک دوسرے کا احترام کریں
امام جعفر صادق علیہ السلام
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
امام جعفر صادق علیہ السلام
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
نمازِ شب کے پابند شوہر و بیوی ۔۔۔۔۔ دنیا و آخرت کے ساتھی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻 ٹاپک پری میریج درس نمبر 6⃣ پارٹ نمبر 1/5 #شوہر اور #بیوی کے #درمیان #حقوق و #فرائض کا #کردار کائنات کے اندر نظم پروردگار کے احسن االخالقین ہونے کی واضح اور روش دلیل ہے اور فطری طور پر انسان نظم کو پسند کرتا ہے اور نظم کی موجودگی…
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻
ٹاپک پری میریج
درس نمبر 6⃣
پارٹ نمبر 2/5
♦حقوق و فرائض کا کرداراسلام کی نگاہ میں:👇👇
ایک اسلامی معاشرے میں دوا ہم قوتیں کار فرما ہوتی ہیں، جو معاشرے کے نظم و ضبط کی ضامن ہوتی ہیں۔
✅۱۔ اخلاقی اقدار
✅۲۔ حقوق و فرائض
در اصل اخلاقی اقدار کسی بھی معاشرے میں عمرانی معاہدوں اور معاملات میں حسن کا باعث بنتے ہیں جو کہ اپنےفرائض سے بڑھ کر دوسرے کی خوشیوں اور خواہشات کا خیال رکھنے کا نام ہے جبکہ اپنے حقوق کو دوسرے کی خواہشات اور خوشنودی کے لیے قربان کردینا اخلاقی اقدار کا جزو ہے۔ تو یہ دو طرفہ محبت، خلوص اور ایمان کے سرچشمے کا نتیجہ ہوتا ہے کہ معاشرہ اخلاقی اقدار کی پابندی کرکے کمال کی راہوں کو بڑی سرعت سے طے کرتا ہےجس کی وجہ سے معاملات اور معاہدے ہدف مند اور ثمر آور ثابت ہوتے ہیں۔
جب ایک شخص اپنے حقوق کو قربان کرکے اور اپنے فرائض سے بڑھ کر خدمت انجام دے رہا ہوگا تو یقینا محبت اور عشق میں اضافہ کا باعث بنے گا جوکہ رشتوں میں مضبوطی اور معاشروں میں صلح و امن و آشتی کا سبب بنتا ہے
♦شادی کی تیاری کے حوالے سے ان حقوق وفرائض ذمہ داریوں اورکردار سے آگاہی بہت ضروری ہے۔
♦ شوہر اور بیوی کے مقدس اور محبت بھرے رشتے میں بھی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے جو کہ اس نظام احسن کی بقاء کا ضامن ہے کچھ قوانین و ضوابط یعنی حقوق فرائض کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔اور شادی کی تیاری کے مرحلے میں ان سے آگاہی نہایت ضروری ہے۔کیونکہ عمل کے لیے آگاہی ناگزیر ہے۔
عملی زندگی میں جب دونوں اپنے اپنے فرائض اور دوسرے کے حقوق کا خیال رکھ رہے ہوں گے تو زندگی منظم ہوگی اور کسی بھی چیز کا نظم اس کی بقاء کا موجب ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ محبت و سکون کے حصول کے لیے شوہر اور بیوی اپنے فرائض پر عمل کرتے ہوئے دوسرے کے حقوق کو ادا کریں۔
✍حقوق و فرائض سے آگاہی زیادہ توقعات کے سامنے رکاوٹ بن جاتی ہے جو کہ مودّت اور رحمت کے لیے بنیادی عنصر کا کردار ادا کرتی ہے۔ جب ہر ایک اپنے فریضے اور دوسرے کے حقوق سے بدرجہ احسن آگاہ و آشنا ہوگا تو بے جا توقعات کا راستہ بند ہوجائے گا اور ناامیدی کی جگہ خوشی و مسرت لے لے گی اور گھر کمال کی منازل کی طرف گامزن رہے گا۔
حقوق و فرائض کی ادائیگی سے نظم پیدا ہوگا اور نظم باعث بنے گا کہ عدل سے کام لیا جائے یعنی جس چیز کا جو مقام ہے اسے اس پر رکھا جائے اور پھر اگر حقوق سے بڑھ کر کوئی کام انجام دے گا تو گویا وہ احسان کر رہا ہوگا اور احسان محبت اور عشق میں اضافہ کا موجب ہوتا ہے
💓محبت اور عشق تعلق میں مضبوطی کا باعث بنتے ہیں اور احسان کا بدلہ احسان سے دیا جائے تو یہ موجب رحمت پروردگار ہوتا ہے۔
اس لیے حقوق و فرائض سے آگاہی اور ان کی بجا آوری زندگی کو متوازن کردیتی ہے اور ساتھ ساتھ انسانی اقدار میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس اہم عنصر کا خیال رکھا جائے۔
اسلام نے زوجیت جیسے ایک مقدس اور اہم رشتے اور تعلق کے لیے کچھ حقوق وضع کیے ہیں۔ ان حقوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
✅۱۔ انفرادی حقوق
✅۲۔ مشترکہ حقوق)ایسے حقوق جو شوہر اور بیوی دونوں کے لیے یکساں ہیں اور ان کی رعایت کرنا دونوں کے لیے ضروری ہے)
تحریر سجاد حسین آہیر
جاری ہے۔۔
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ٹاپک پری میریج
درس نمبر 6⃣
پارٹ نمبر 2/5
♦حقوق و فرائض کا کرداراسلام کی نگاہ میں:👇👇
ایک اسلامی معاشرے میں دوا ہم قوتیں کار فرما ہوتی ہیں، جو معاشرے کے نظم و ضبط کی ضامن ہوتی ہیں۔
✅۱۔ اخلاقی اقدار
✅۲۔ حقوق و فرائض
در اصل اخلاقی اقدار کسی بھی معاشرے میں عمرانی معاہدوں اور معاملات میں حسن کا باعث بنتے ہیں جو کہ اپنےفرائض سے بڑھ کر دوسرے کی خوشیوں اور خواہشات کا خیال رکھنے کا نام ہے جبکہ اپنے حقوق کو دوسرے کی خواہشات اور خوشنودی کے لیے قربان کردینا اخلاقی اقدار کا جزو ہے۔ تو یہ دو طرفہ محبت، خلوص اور ایمان کے سرچشمے کا نتیجہ ہوتا ہے کہ معاشرہ اخلاقی اقدار کی پابندی کرکے کمال کی راہوں کو بڑی سرعت سے طے کرتا ہےجس کی وجہ سے معاملات اور معاہدے ہدف مند اور ثمر آور ثابت ہوتے ہیں۔
جب ایک شخص اپنے حقوق کو قربان کرکے اور اپنے فرائض سے بڑھ کر خدمت انجام دے رہا ہوگا تو یقینا محبت اور عشق میں اضافہ کا باعث بنے گا جوکہ رشتوں میں مضبوطی اور معاشروں میں صلح و امن و آشتی کا سبب بنتا ہے
♦شادی کی تیاری کے حوالے سے ان حقوق وفرائض ذمہ داریوں اورکردار سے آگاہی بہت ضروری ہے۔
♦ شوہر اور بیوی کے مقدس اور محبت بھرے رشتے میں بھی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے جو کہ اس نظام احسن کی بقاء کا ضامن ہے کچھ قوانین و ضوابط یعنی حقوق فرائض کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔اور شادی کی تیاری کے مرحلے میں ان سے آگاہی نہایت ضروری ہے۔کیونکہ عمل کے لیے آگاہی ناگزیر ہے۔
عملی زندگی میں جب دونوں اپنے اپنے فرائض اور دوسرے کے حقوق کا خیال رکھ رہے ہوں گے تو زندگی منظم ہوگی اور کسی بھی چیز کا نظم اس کی بقاء کا موجب ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ محبت و سکون کے حصول کے لیے شوہر اور بیوی اپنے فرائض پر عمل کرتے ہوئے دوسرے کے حقوق کو ادا کریں۔
✍حقوق و فرائض سے آگاہی زیادہ توقعات کے سامنے رکاوٹ بن جاتی ہے جو کہ مودّت اور رحمت کے لیے بنیادی عنصر کا کردار ادا کرتی ہے۔ جب ہر ایک اپنے فریضے اور دوسرے کے حقوق سے بدرجہ احسن آگاہ و آشنا ہوگا تو بے جا توقعات کا راستہ بند ہوجائے گا اور ناامیدی کی جگہ خوشی و مسرت لے لے گی اور گھر کمال کی منازل کی طرف گامزن رہے گا۔
حقوق و فرائض کی ادائیگی سے نظم پیدا ہوگا اور نظم باعث بنے گا کہ عدل سے کام لیا جائے یعنی جس چیز کا جو مقام ہے اسے اس پر رکھا جائے اور پھر اگر حقوق سے بڑھ کر کوئی کام انجام دے گا تو گویا وہ احسان کر رہا ہوگا اور احسان محبت اور عشق میں اضافہ کا موجب ہوتا ہے
💓محبت اور عشق تعلق میں مضبوطی کا باعث بنتے ہیں اور احسان کا بدلہ احسان سے دیا جائے تو یہ موجب رحمت پروردگار ہوتا ہے۔
اس لیے حقوق و فرائض سے آگاہی اور ان کی بجا آوری زندگی کو متوازن کردیتی ہے اور ساتھ ساتھ انسانی اقدار میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس اہم عنصر کا خیال رکھا جائے۔
اسلام نے زوجیت جیسے ایک مقدس اور اہم رشتے اور تعلق کے لیے کچھ حقوق وضع کیے ہیں۔ ان حقوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
✅۱۔ انفرادی حقوق
✅۲۔ مشترکہ حقوق)ایسے حقوق جو شوہر اور بیوی دونوں کے لیے یکساں ہیں اور ان کی رعایت کرنا دونوں کے لیے ضروری ہے)
تحریر سجاد حسین آہیر
جاری ہے۔۔
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj