ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
900 subscribers
200 photos
102 videos
58 files
1.06K links
ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
@Azdawaj

باقی موضوعات پر

درس قرآن
@Daras_Quran

درس تجوید
@Daras_Tajweed

فقہی مسائل
@FiqhiMasayl

تربیت اولاد
@Tarbeyat_Ulad

اسلامی پوسٹ
@MIZ786

سیرت رسول اللہ ص
@SadiqhasanQibla
Download Telegram
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🅾Sawal no. 50 A.a Q:1 Is it prohobited for husband and wife to have sex when it is any special holy day like Shahdat of any Imam or Masoomeen..?? 🔹 Mozu : Jima 🔸 Mujtahid : Ayatullah Sistani Mudzila, Ayatullah Khamenai Mudzila 🌔 Date: 20-05-2016 🍀Jawab:…
🅾Sawal no. 51

AoA,
Mera sawal hai k agar shohar & bivi ziarat Imam Hussain as par jain. 8 roz k liay tou kia shohar hotel mai bivi k sath janabat kar sakta hai. Aqa sistani sai jawab

🔹 Mozu : Jima

🔸 Mujtahid : *Ayatullah Sistani Mudzila, Ayatullah Khamenai Mudzila*

🌔 Date: 17-07-2016


🍀Jawab:

جی جماع کر سکتے ہیں بذت خود کوئی حرج نہیں

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj

جزاک الله خیر الجزا
خدا آپ کو علوم آل محمد ء سیکهنے کا اجر عطا فرمائے اور آپ کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے
🌷 *Fiqhi Masail Group*🌷
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢 پارٹ نمبر 0⃣5⃣ *مجامعت کے آداب اور مستحبات* ➊⇍« وضو کرنا.» ➋⇍ بسم اللّه کا پڑھنا.» ➌⇍«جماع کرتے وقت بالکل جلدی یا جلد بازی نہیں کرنی چاہئے اور بیوی محترمہ کو اچھے انداز میں تیار کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی بہت لطف اندوز ہو جائے اور مکمل…
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢

پارٹ نمبر 1⃣5⃣

*موسيقی نزدیکی اور مجامعت کیلئے*

کیا میاں اور بیوی اپنی جنسی رابطہ زیادہ کرنے کے لئے اور زیادہ شھوت کے لئے موسیقی سن سکتے ہیں؟

📚 آیات عظام امام خمینی، خامنه ای، بهجت، تبریزی، سیستانی، صافی، فاضل، نوری، مکارم، وحید:

📝نہیں
اگر جو موسیقی سنتے ہیں اور وہ موسیقی حرام ہو تو کسی بھی بہانہ کے لئے سننا جائز نہیں ہے اگر کوئی سنتا بھی ہے تو حرام اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے

🔺خامنه ‏اى، اجوبة الاستفتاءات، س 1152 و 1155؛ صافى، جامع الاحكام، ج 1، س 999 و 1005؛ تبريزى، استفتاءات، س 1083 و صراط النجاة، ج 5، س 1149؛ دفتر: امام، بهجت، وحيد، مكارم، نورى، سيستانى و فاضل‏

💢 مآخذ: پرسمان احکام

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
ٹیلیگرام پر
http://bit.ly/Telegram_Azdawaj

واٹس ایپ چینل کیلئے

https://whatsapp.com/channel/0029VaCh5v8FnSzF3SH32I1h
📝سوال:

🔰 مھربانی فرما کر شوھر کیساتٰھ محبت کرنے کا راستہ یا طریقہ بتائیں کہ کس طریقے یا راستے سے ہم ثابت کریں کہ اپنے شوھر کو چاہتے ہیں؟

✍️جواب:

آپ کے شوھر کی تنقید اور ایسی باتیں جن سے آپ ناراض ہوئی ہیں اور اس بات کو اپنانا چاہتی ہیں کہ کس طریقے سے آپ کا شوھر آپ سے راضی ہو ؟

جب آپ کا شوھر محترم آپ کے بارے میں گلہ شکوہ کرتاہے یا کسی بات بارے تنقید کرتا ہے اسی وقت آپ کاغذ اور قلم اٹھائیں اور ان باتوں کو تحریر کریں جو آپ کا ہر دل عزیز آپ سے بیان کر رہاہے دن میں کچھ مرتبہ ان باتوں کا خلاصہ کریں اور عمل کریں کیونکہ شوھر کی باتوں پر دھیان دینا اور اس پر عمل کرنا آپ کے شوھر کو دلی سکون عطا کرے گا اور آپ کا ہر دل عزیز اور جانی 😘آپ سے ہمیشہ راضی اور خوش رہے گا😊اور آپ کو 200 😙😗فیصد چاہئے گا

آپ ہمیشہ کوشش کریں ایک اچھی بیوی کے لئے شوھر کی نظر سے اچھی خصوصیات تحریر کریں اور کوشش کریں حتی الامکان بہترین خصوصیات حاصل کریں.

کلی طور پر اپنے لیے یہ دو کام کو ضرور انجام دیں:

💏 1)جنسی ضروریات کو پورا کریں 2) دوستی اور پیار و محبت و دل لگی کو اپنائیں

تلاش کریں کہ شوھر محترم کی ان دو ضروریات کو پورا کریں ، ممکن ہے صاف صاف لفظوں میں نا کہتا ہو اور دوسرے بہانے بناتا ہو جو ناراضگی کا اعلان کرتا ہے .

اپنے شوھر محترم کو آگاہ کریں کہ ہر ہفتہ میں یہ دو کام جو آپ کی خوشحالی کا باعث ہیں میں انجام دوں گی اور آپ کی ہر خواھش کو پورا کرونگی اور آپ بھی یہ معین کریں وہ کام جو آپ کی خوشی کا باعث بنتے ہیں وہ انجام دے .
اور کوشش کریں کہ ہمیشہ ان کاموں کو انجام دیں کہ جو ایک دوسرے کی محبت اور پیار میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں انجام دیں

رسول فیضی

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 4⃣
پارٹ نمبر 1/6

#والدین_کی_ذمہ_داریاں

اسلام میں اس بات کی مذمت کی گئی ہے کہ والدین اپنی اولاد کو شریک حیات کے انتخاب کے معاملے میں مجبور کریں اور اگر مجبور کرتے ہیں تو تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ایسی شادیوں میں خوشی اور خوشحالی سے زیادہ مشکلات پیداہوتی ہیں

یہاں پر ہم دیکھیں گے کہ ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ نے اپنی دختر نیک اختر کی شادی کے وقت کیا لائحہ عمل اختیار کیا تھا،تو ہم دیکھتے ہیں کہ بی بی فاطمہ(س) کے رشتے کے لیے بہت سے لوگ تشریف لائے لیکن رسول اکرم ﷺ نے اپنی بیٹی کی رضا مندی نہ ہونے پر اور ان کے اوصاف کو دیکھتے ہوئے کہ جو بی بی فاطمہ(س) سے مطابقت نہیں رکھتے تھے جواب "نہ" میں دیا
اور جب امام علیؑ کا رشتہ آیا اور بی بی فاطمہ (س) سے رسول خداﷺ نے رضایت طلب کی تو انہوں نے خاموشی اختیار کرلی جبکہ امام علی ؑ کے رشتے سے پہلے جتنے لوگوں کے رشتے آئے ان پر بی بی (س) نے کراہت کا اظہار کیا تھا
اس لیے رسول خداﷺ نے فرمایا:
اللَّهُ أَكْبَرُ سُكُوتُهَا إِقْرَارُهَا
خداوند بزرگ ہے اسکی خاموشی اقرار کی دلیل ہے

اس جگہ رسول خدا ﷺ کا یہ عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کہ بیٹی کو کسی کی زوجیت میں دینے سے پہلے ہم کفو ہونے کے مسئلے پر غور کرلینا چاہیئے تاکہ آئندہ کی زندگی میں دونوں کے درمیان اختلافات پیدا نہ ہوں۔

ضروری ہے کہ لڑکا اور لڑکی ہم آہنگی یا مناسبت رکھتے ہوں، جیسا کہ خاندان، آداب و رسوم ، مال و ثروت، عمر ، ظاہری زیبائی، تعلیم، اور سب سے اہم ایمان و اخلاق ہے،اگر ان موضوعات میں دونوں میں زیادہ فرق یا اختلاف نہیں پایا جاتا ہو تو زندگی کے اچھے اور بہتر گزرنے کے آثار زیادہ ہوتے ہیں اور اگر ان موضوعات میں فرق زیادہ ہو توشادی کے بعد اختلافات اور مشکلات کا احتمال زیادہ ہوتا ہے

حتیٰ اگر ایک لڑکی کہ جس کو والدین نے اپنے بیٹےکے لیے یا لڑکے کو کہ جس کو اپنی بیٹی کے لیئے انتخاب کیا ہوچاہے حقیقتاً جتنا بھی شریف ،باایمان اور نیک ہو لیکن موردعدم پسندید گی ہو(چاہے ایک کی طرف سے نا پسندیدگی ہو یا دونوں کی طرف سے) تو والدین کو ایسا رشتہ کرنے سے پہلے نظر ثانی کر لینی چاہیئے
اور اگر شادی کرنے پر اصرارکر رہے ہوں کہ شادی کے بعد کچھ عرصے میں مفاہمت ایجاد ہوجائیگی تو یہ بالکل صحیح نہیں ہے
البتہ بیٹی یا بیٹے کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ والدین کا تجربہ اولاد کے تجربے کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے اور وہ ہی دراصل اپنے بچوں کے غمخوار ہوتے ہیں اور انکی بہتری چاہتے ہیں۔ اس لیئے شادی میں انکی رضا مندی کو اہمیت دینی چاہیئے خصوصا ًبیٹی کی شادی میں حتماًباپ کی رضایت کو بہت اہمیت حاصل ہے

بعض اوقات محبت و عشق کی وجہ سے جوان لڑکا اور لڑکی کو کچھ سمجھائی نہیں دیتا اور وہ عاقلانہ فیصلہ نہیں کرپاتے یہاں پر انکے والدین کو چاہیئے کہ ان کو صحیح اور عاقلانہ نصیحت کریں اگرچہ بعض اوقات اس کے برعکس بھی ہوتا ہے کہ والدین مادی چیزوں کو جیسے مال و ثروت ،جمال کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں لیکن اگر بیٹا یا بیٹی با ایمان اور عقلمند ہونگے توو ہ دین اور معنویت کی نگاہ سے دیکھیں گے

پہلی صورت میں ماں باپ کو اپنی اولادکو سمجھانا چاہیئے اور دوسری صورت میں بیٹے یا بیٹی کو چاہیئے کہ وہ ادب و احترام کے ساتھ نرم لہجے میں ماں اور باپ کو سمجھائیں
یہاں اس بات پر توجہ ہونی چاہیئے کہ اگر نصیحت یا مشورہ یا افکار کا ردو بدل منطقی اور صریح ،نرم انداز میں ہو تو اچھے نتائج سامنے لائے گا

تحریر سجاد حسین آہیر

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 4⃣
پارٹ نمبر 2/6

#ایک_دوسرے کو #کس_طرح_آگاہ کیا جائے
#والدین یا #لڑکا_لڑکی ذیل میں بتائے جانے والی #باتوں_پرتوجہ_کریں

الف: اگر لڑکا کسی بے تقویٰ لڑکی کے جمال کا دیوانہ ہو جاتا ہے تو والدین کو چاہیئے کہ وہ اس کو اس مسئلے پر غور و فکر کرنے اور ان باتوں کا خیال رکھنے کوکہیں:
1- زیبائی اور خوبصورتی جلد ختم ہوجانے والی اور جوانی حوادث اور مشکلات میں ڈھل جانے والی چیز ہے

2- جو لڑکی اپنے چہرے کی خوبصورتی پر حد سے زیادہ توجہ اور اہمیت دیتی ہے وہ زیادہ تراپنی سیرت پر توجہ نہیں دیتی ہے

3- تمہارے لیئے وہ لڑکی مفید ہے کہ جو گھر داری جانتی ہو اور جب تم تھک کر گھر آؤ تو تمہارے لیئے آرام و سکون مہیا کرسکتی ہو نہ کہ بازار اورگلیوں میں گھومے اور اپنے جمال کی نمائش کرے

4- اچھی بیوی وہ ہوتی ہے کہ جس کی زبان اچھی ہو اور وہ جانتی ہو کہ تم سے کیسے گفتگو کرے

5- عفت و پاک دامنی کو خاندان میں بہت اہمیت حاصل ہے اور اسی میں اس کی بقاء ہے

6- بیوی اگر بہت خوبصورت نہ ہو تو اس کی جوانی ،حسن اخلاق، اور اچھی زبان اس کے چہرے کی کم خوبصورتی کو چھپادیتی ہے

7- خوبصورتی پھول کی مانند ہے کہ جو زمانے کے ساتھ مرجھا جاتی ہے

ب:اگر والدین کسی کا انتخاب اپنی اولادکے لیے اسکی مادی حیثیت کو دیکھ کر کررہے ہوں تو انکو اس طرح سمجھایا جائے گا

1- ثروت و دولت وسیلہ ہونا چاہیئے نہ کہ مقصد ،اور بغیر عقل و دین کے اس وسیلے سے بھی صحیح استفادہ نہیں کیا جاسکتا

2- اگر دولتمند ہو لیکن بد اخلاق اور بد مزاج شریک حیات ہوکہ جس کی وجہ سے زندگی تلخ ہو جائے تو

3- اگر حق مہر یا جہیز زیادہ ہو لیکن دلہن یا دلہا ایک دوسرے کو پسند نہ کرتے ہوں تو کیا فائدہ

4- زیادہ مال و ثروت ممکن ہے خوشحالی اور خوشی کی بجائے جدائی اور نفرت کا سبب بن جائے

5- میں اسراف اور تجملات کا قائل نہیں ہوں

6- بہت دفعہ حق مہر یا جہیز طلاق اور جدائی کا باعث ہوا ہے

7- دولت آنے جانے والی چیز ہے

8- زیادہ جہیز کےلیئے گھر بھی بڑا چاہیے کہ جو میری استطاعت میں نہیں ہے وغیرہ وغیرہ

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻 ٹاپک پری میریج درس نمبر 4⃣ پارٹ نمبر 2/6 #ایک_دوسرے کو #کس_طرح_آگاہ کیا جائے #والدین یا #لڑکا_لڑکی ذیل میں بتائے جانے والی #باتوں_پرتوجہ_کریں الف: اگر لڑکا کسی بے تقویٰ لڑکی کے جمال کا دیوانہ ہو جاتا ہے تو والدین کو چاہیئے کہ…
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 4⃣
پارٹ نمبر 3/6

#شادی_کیلئے_لڑکا یا #لڑکی کی #رضامندی اور #پسندیدگی

زندگی کے اہم موضوعات میں سے ایک اہم موضوع جو کہ خاندان میں بہت اہمیت کا حامل ہے وہ یہ کہ بیٹے یا بیٹی کی شادی میں اسکی رضامندی کا یعنی جس سے اسکا رشتہ ہو رہا ہے وہ اسے پسند ہے یا اس بارے میں اسکی رائے کو اہمیت دی گئی ہے یا نہیں یہاں یہ دیکھنا چاہیئے کہ آپ کے بیٹے یا بیٹی نے جو پسند کا معیار بنایا ہوا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں اگر صحیح نہیں ہے تو اسکی راہنمائی کریں

اگر شادی میں لڑکے یا لڑکی کی رائے کو اہمیت نہ دی جائے اور خدانخواستہ شادی ہوگئی تو شادی کے بعد مشکلات پیش آئیں گی کیونکہ ہر لڑکی یا ہر لڑکے کی ایک پسند ہوتی ہے کہ جو اس کے اپنے مزاج کے مطابق اور ہم آہنگ ہو اور شکل وصورت میں ،تعلیم و سن میں اور ثقافت وغیرہ میں اور سب سے زیادہ دین و اخلاق میں اس سے مناسبت رکھتا ہو

والدین کی اس معاملے میں عدم توجہی خاندان کے ماحول میں گرم جوشی اور محبت کو کم کردیتی ہے۔

جیسے ہر لڑکا چاہتا ہے کہ اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرے اسی طرح لڑکی بھی چاہتی ہے کہ ایسے لڑکے سے شادی کرے کہ جسکو وہ ظاہر اور باطن دونوں لحاظ سے پسند کرتی ہو۔ہم بہت دفعہ اس بات کے شاہد رہے ہیں کہ بیوی اور شوہر ،شادی کے بہت عر صے بعد ایک دوسرے سے جدا ہوگئے یا انہوں نے طلاق کا فیصلہ کر لیا اور ایسے معاملات میں جتنی بھی کوشش کی جائے وہ لوگ اپنے فیصلے کو نہیں بدلتے اور جب ان سے معلوم کیا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ دونوں شروع ہی سے ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے اور زبر دستی کی شادی تھی یا ماں باپ کی عزت و حرمت کی وجہ سے خاموشی اختیار کی گئی تھی۔ بعض دفعہ والدین یا بڑے بوڑھے جانتے بھی ہوتے ہیں کہ لڑکا اور لڑکی یا دونوں میں سے ایک کی اس شادی میں رضامندی نہیں ہے لیکن شادی زبردستی کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شادی کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، جبکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی زبردستی کی شادیاں زیادہ تر ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں۔

#کم_عمری میں #شادی_کرنا
شیطان کے بہکانے کے راستوں میں سے ایک راستہ یہ ہے کہ وہ انسان کو بے حجاب، بے تقویٰ لڑکیوں کے ذریعے انحراف اور بے عفتی کی طرف کھینچتا ہے۔ایسی خواتین اپنی آرائش اور زیبائش سے مردوں کے دلوں کو لوٹتی ہیں اور انکے اندر جنسی خواہش کو حرکت میں لاتی ہیں۔ دراصل شیطان ایسی خواتین کے دلوں میں وسوسہ کرتا او ر انکے اندر نامحرم مردوں کے دل ربانے کی خواہش ڈالتا ہے اور دوسری طرف مردوں اور جوانوں کو ان خواتین پر نگاہ ڈالنے اور ان سے ناجائز روابط اور فساد پیدا کرنے پر اکساتا ہے۔

لیکن جب ایک جوان شادی کر لیتا ہے تو شیطان بہت زیادہ مایوس ہو جاتا ہے کیونکہ وہ بے تقویٰ اور خراب کردار کی عورتوں کے چنگل میں پھنس نہیں سکتا ہے اس لیئے کہ جنسی خواہش کو پورا کر نے کی ضرورت شادی کرنے کی وجہ سے پوری ہو جاتی ہے۔اس طرح وہ حرام کام کرنے اور انحراف کے راستے پر جانے سے بچ جاتا ہے اور تقویٰ اور معنویت کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ ہر مسلمان کو یہ معلوم ہے کہ خدا ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

🌹 رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر جوان لڑکا اور لڑکی جب جوانی کے ابتدائی دور میں شادی کرتے ہیں تو شیطان چیختا چلاتا ہے کہ وائے ہو مجھ پر کہ دین کے تین حصوں میں سے دو حصے اس نے مجھ سے بچا لیئے ہیں (اب میں اسے فریب نہیں دے سکتا) باقی ایک حصے کے لیئے خدا سے تقویٰ چاہیئے۔

تحریر سجاد حسین آہیر

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
💠اچھے شوہر کی تین اہم علامات

جس طرح شوہر اپنی بیوی سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس کے لئے سجی اور سنوری رہے اسی طرح ایک بیوی کی بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر بھی ہمیشہ اس کے لئے آراستہ و پیراستہ رہے لہذا اچھے شوہر کی علامتوں میں ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی شریک حیات کے لئے آراستہ و پیراستہ رہے

✍️جیسا کہ حدیث مبارک میں امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

«النِّسَاءُ يُحْبِبْنَ‏ أَنْ‏ يَرَيْنَ‏ الرَّجُلَ‏ فِي‏ مِثْلِ‏ مَا يُحِبُ‏ الرَّجُلُ‏ أَنْ‏ يَرَى‏ فِيهِ‏ النِّسَاءَ مِنَ الزِّينَةِ ;
خواتین، اپنے شوہر کواسی طرح آراستہ و پیراستہ دیکھنا چاہتی ہیں جس طرح شوہر اسے سجے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔» [مکارم الاخلاق، ص80]

اچھے شوہر کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی شریک حیات کی قدم قدم پرتعریف کرے، مختلف امور میں اسکی حوصلہ افزائی کرے، ہمیشہ اپنی بیوی سے اظہار محبت کرے، یہ ایسے لمحات اور امور ہوتے ہیں جسے ایک بیوی کبھی فراموش نہیں کرتی

✍️رسول اسلام فرماتے ہیں:
«قَوْلُ الرَّجُلِ‏ لِلْمَرْأَةِ: إِنِّي‏ أُحِبُّكِ‏، لَا يَذْهَبُ‏ مِنْ‏ قَلْبِهَا أَبَدا;
’’شوہر صرف اپنی اہل خانہ سے اظہار محبت کرتے ہوئے کہے کہ’’ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں‘‘یہ اظہار وہ کبھی فراموش نہیں کرتی ہے۔» [الکافی، ج۱۱، ص۱۷۰]

ایک اچھے اور غیرت مند شوہر کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے وہ اپنے اہل و عیال کے اخراجات پورے کرتا ہے، ان کی نیک خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

✍️امام علی رضا علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
«الْكَادُّ عَلَى‏ عِيَالِهِ‏ مِنْ‏ حِلٍ‏ كَالْمُجَاهِدِ فِي‏ سَبِيلِ‏ اللَّهِ‏; اپنے اہل و عیال کے لئے کسب حلال کررہا ہے توایسا شخص اس مجاہد کی طرح ہے جو راہ خدا میں جنگ کر رہا ہے۔» [مستدک الوسائل ، ج13، ص55]
📚حوالے:
(مکارم الاخلاق، ص80، طبرسى، حسن بن فضل‏، ناشر: الشريف الرضى‏، قم‏،1412 ق / 1370 ش،چاپ چهارم‏۔)
(الکافی، ج۱۱، ص۱۷۰، كلينى، محمد بن يعقوب‏، محقق / مصحح: دارالحديث‏، ناشر: دار الحديث‏، قم، 1429ق، چاپ اول۔)
(مستدک الوسائل و مستبط المسائل، ج13، ص55،نورى، حسين بن محمد تقى‏، محقق / مصحح: مؤسسة آل البيت عليهم السلام‏، ناشر: مؤسسة آل البيت عليهم السلام‏، قم، 1408 ق‏،چاپ اول‏)

بشکریہ الاسورہ مرکز تعلیم و تربیت

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 4⃣
پارٹ نمبر 4/6

#شادی_کامخصوص_وقت

یہ بہت اہم نکتہ ہے کہ شادی کرنے کا بھی ایک وقت ہے اور اگر شادی کا وقت گزر جائے تو ممکن ہے معاشرے میں تباہی اور فسادپیدا ہو جائے

🌹حضرت محمد ﷺنے فرمایا:

فَقَالَﷺ إِنَّ الْأَبْكَارَ بِمَنْزِلَةِ الثَّمَرِ عَلَى الشَّجَرِ إِذَا أَدْرَكَ ثَمَرُهُ فَلَمْ يُجْتَنَى أَفْسَدَتْهُ الشَّمْسُ وَ نَثَرَتْهُ الرِّيَاحُ وَ كَذَلِكَ الْأَبْكَارُ إِذَا أَدْرَكْنَ مَا يُدْرِكُ النِّسَاءُ فَلَيْسَ لَهُنَّ دَوَاءٌ إِلَّا الْبُعُولَةُ وَ إِلَّا لَمْ يُؤْمَنْ عَلَيْهِنَّ الْفَسَادُ لِأَنَّهُنَّ بَشَرٌ
اے لوگو! لڑکیاں درختوں پر لگے پھل کی طرح ہوتی ہیں اگر مناسب وقت پر اتارا نہ جائے تو سورج انہیں خراب کردیتا ہے اور ہوائیں اسے پراکندہ کردیتی ہیں اسی طرح لڑکیاں جب اُس چیز کو سمجھ لیں کہ جو خواتین نے درک کیا، تو ان کے لیئے شریک حیات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے اس کے علاوہ انہیں فساد اور تباہی سے نہیں بچایا جاسکتا (کیونکہ وہ انسان ہیں اور ہمسر کا ہونا ہر انسان کی فطری اور قدرتی ضرورت ہے۔

قدرتی اور فطری خواہش صرف شادی کرنے سے ہی پوری ہوتی ہے کیونکہ نصیحت اور تاکید سے فساد اور تباہی کو نہیں روکا جاسکتا ، فطری اور قدرتی خواہش کا جواب بھی فطرت نے جو بتایا ہے وہی ہونا چاہیئے۔ اسی وجہ سے لڑکیوں کی شادی کے لیے معیارات اور عمر کی زیادہ قید نہیں ہے ۔بلکہ شادی کی عمر لڑکی کے درک و فہم کے حساب س اندر جنس مخالف کے حوالے سے سمجھ بوجھ اور پیاس پیدا ہو جائے وہی وقت شادی کے لیے مناسب ہے لیکن انسان کی ذہنیت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی مد نظر رکھنا چاہیئے۔

جہاں خاندانوں اور انکے آداب و رسوم میں فرق ہوتا ہے اسی طرح شادی کے لیے بھی سوچ مختلف ہوتی ہے ۔عام طور پر یہ عقیدہ ہے کہ جب لڑکیوں کی تعلیم مکمل ہو جائے اور اچھی ڈگری لے لیں تب انکی شادی کی جائے اور غریب اور کم پڑھے لکھے لوگوں میں یہ رسم ہے کہ جسقدر جلدی ہو لڑکی کی شادی کر کے فارغ ہو جائیں لیکن اسلام فطرت اور قدرت کے لحاظ سے شادی کے متعلق لڑکیوں کے بارے میں کہتا ہے کہ جب لڑکیاں جنسی مسائل کو درک کرنا شروع کردیں تو یہ شادی کا وقت ہوتا ہے۔

اسی طرح اسلام نے کم عمری کی شادی سے بھی سختی سے منع کیا ہے یعنی جب وہ بالغ نہ ہوئی ہوں اور شادی کی آمادگی نہ رکھتی ہوں اس وقت شادی کردینا بالکل ایسا ہے کہ جیسے کوئی بھوکا نہ ہو اور اسے زبردستی کھانا کھلایا جائے تو یہ زبردستی کا کھانا اس کے لیے لذت کا باعث نہیں بنے گا ،اور اس کے برعکس جب انسان بھوکا ہو اور اسے کھانا دیا جائے تو وہ زیادہ لذت بخش ہوگا۔ یہاں پر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بالغ ہونا قدرتی طور پر انجام پایا ہے یا نہیں،
کیونکہ مغربی کلچر میں لڑکیاں فلمیں،سی ڈی وغیرہ دیکھ کر جلدی بالغ ہوجاتی ہیں ۔ یہی صورت لڑکوں کی بھی ہے۔

تحریر سجاد حسین آہیر

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻 ٹاپک پری میریج درس نمبر 4⃣ پارٹ نمبر 4/6 #شادی_کامخصوص_وقت یہ بہت اہم نکتہ ہے کہ شادی کرنے کا بھی ایک وقت ہے اور اگر شادی کا وقت گزر جائے تو ممکن ہے معاشرے میں تباہی اور فسادپیدا ہو جائے 🌹حضرت محمد ﷺنے فرمایا: فَقَالَﷺ إِنَّ…
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 4⃣
پارٹ نمبر 5/6

#بیٹی_کس_کی_زوجیت_میں_دی_جائے؟

بہت سے خاندان یہ سوچتے ہیں کہ ان کی بیٹی کا رشتہ حتماً ایسے گھرانے سے آنا چاہیے جو ان سے مطابقت رکھتا ہو یا اقتصادی طور پر ان کے برابر ہو لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو ایسے گھروں میں لڑکیاں بیٹھی رہ جاتی ہیں ۔

اسلام اس طرح کی سوچ کے خلاف ہے کیونکہ اسلام کی نظر میں جب رشتہ آئے اور دیندار و خوش اخلاق ہو تو کافی ہے، لازم نہیں ہے کہ اقتصادی حوالے سے یا شہرت کے حوالے سے لوگوں میں مشہور ہو

وَ أَنكِحُواْ الْأَيَامَى‏ مِنكمُ‏ْ وَ الصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكمُ‏ْ وَ إِمَائكُمْ إِن يَكُونُواْ فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَ اللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
"اور تم میں سے جولوگ بے نکاح ہوں اور تمہارے غلاموں اور کنیزوں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکا ح کر دو، اگر وہ نادار ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت والا، علم والا ہےیعنی اگر وہ غریب ہو تو خدا وند عالم انہیں اپنے فضل و کرم سے بے نیاز کر دے گا"

🌹 امام محمد باقر (ع) سے روایت ہے کہ :
قَالَ كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَسْبَاطٍ إِلَى أَبِي جَعْفَرٍ ؑ فِي أَمْرِ بَنَاتِهِ وَ أَنَّهُ لَا يَجِدُ أَحَداً مِثْلَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو جَعْفَرٍ ؑ فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ بَنَاتِكَ وَ أَنَّكَ لَا تَجِدُ أَحَداً مِثْلَكَ فَلَا یَنْظُرْ فِي ذَلِكَ رَحِمَكَ اللَّه‏
علی بن اسباط نے امام محمد باقرؑ کو اپنی بیٹیوں کے بارے میں لکھا اور کہا میں اپنی بیٹیوں کے لیے ہم کفو نہیں ڈھونڈ پایا ۔ امام باقر نے جواب میں فرمایا: جس طرح تم نے اپنی بیٹیوں کے بارے میں لکھا ہے اس سے مجھے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ تم اپنے جیسا نہیں ڈھونڈ پائے ہرگز یہ انتظار نہ کرو اﷲ تم پر رحم کرے

🌹 رسول خدا ﷺ نےفرمایا ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی رشتہ آئے اور اخلاق و دین اچھا ہو تو فوراً اپنی بیٹی سے اس کی شادی کر دو کیونکہ اگر یہ کام انجام نہیں پایا تو زمین پر فساد اور تباہی پھیل جائے گی

ان باتوں کے پیش نظر اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ شادی کے معاملے میں بالکل اپنے جیسے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ جیسا اسلام نے بتایا ہے کہ دین اور اخلاق کو بنیادی اہمیت دینا چاہیے اور ایسا شخص کہ جس میں یہ خصوصیات ہوں جیسے ہی ملے فوراً شادی کے لیے قدم اٹھا لینا چاہیے۔
بیٹی کس کی زوجیت میں نہ دی جائے
متعدد روایات میں ہے کہ لڑکیوں کی شادی بداخلاق اور شرابی لوگوں سے نہیں کرنی چاہیے اس بارے میں ہم دو روایات کا ذکر کررہے ہیں

🌹 قَالَ كَتَبْتُ إِلَى أَبِي الْحَسَنِ ؑ أَنَّ لِي قَرَابَةً قَدْ خَطَبَ إِلَيَّ ابْنَتِي وَ فِي خُلُقِهِ سُوءٌ فَقَالَ ؑ لَا تُزَوِّجْهُ إِنْ كَانَ سَيِّئَ الْخُلُقِ
امام رضاؑ سے پوچھا کہ میرے خاندان سے ایک رشتہ میری بیٹی کے لیے لے کر آئے ہیں لیکن بد اخلاق ہیں امام ؑنے فرمایا اگر بداخلاق ہیں تو ان کو اپنی بیٹی ہرگز نہ دو

🌹 قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ؐ شَارِبُ الْخَمْرِ لَا يُزَوَّجُ إِذَا خَطَبَ
پیامبر اکرم ﷺنے فرمایا:جو بھی شرابی ہو اور رشتہ لے کر آئے تو اس کو ہرگز اپنی بیٹی نہ دینا

#بہترین_شریک_حیات(شوہر)

اسلام نے خواتین کو بہت اہمیت دی ہے اور خاص طور پر شوہر کو تاکید کی ہے کہ وہ شریک حیات اور بچوں کے ساتھ بہترین برتاؤ کرے

🌹پیغمبر اکرم ۖ نے فرمایا : کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ بہترین مردوں کے بارے میں آگاہی دوں ؟ سب نے کہا جی ہاں!یا رسول اﷲﷺ
قال : اِنَّ خَیرِ رجالِکُم التَّقِیَّ النَّقِیَّ السَّمحَ الکٰفَّینِ النَّقِیَّ الطَّرَفَینِ البَرَّ بِوَلِدَیہ وَلٰا یُلجِئُ عِیَالَہُ غَیرِہِ (الکافی، ج۲)

تم میں سے بہترین مرد وہ ہے جو متقی ، پاک و پاکیزہ ، سخی ، ماں باپ کی طرف سے نجیب اور اچھے خاندان کا حامل ہو ، اس کے ماں باپ نیک افراد میں سے ہوں ، اپنی بیوی کے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کرے کہ وہ دوسروں کی پناہ میں جائے

مرد غور و فکر اور انتخاب برتر کی صلاحیت رکھتا ہو ، دور اندیش ہو ۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ جب اپنی سوچ و فکر کی توانائی سے کام لے کر اچھے اور بہتر فیصلے کرتا ہے تو اپنے خاندان کی اچھی رہبری کر سکتا ہے

چونکہ مرد کو عورت پر برتری حاصل ہے اس لئے کبھی بھی اپنے آپ کو اپنی بیوی کے مدّ مقابل نہ لائے بلکہ مرد مشورہ کرنے سے اور سوچ و نظریات کے تبادلے سے بلاواسطہ ان کی ہدایات پر عمل کرتا ہے بعض دفعہ مرد حرمت و احترام اور حیا کے دامن کو چھوڑ کر اپنی بیوی سے لڑتے ہیں ان پر ہاتھ اٹھاتے ہیں یہ فردکے وقار کے برخلاف ہے اسی وجہ سے مرد گھر میں امور کو منظم نہیں کر پاتے

تحریر سجاد حسین آہیر

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻 ٹاپک پری میریج درس نمبر 4⃣ پارٹ نمبر 5/6 #بیٹی_کس_کی_زوجیت_میں_دی_جائے؟ بہت سے خاندان یہ سوچتے ہیں کہ ان کی بیٹی کا رشتہ حتماً ایسے گھرانے سے آنا چاہیے جو ان سے مطابقت رکھتا ہو یا اقتصادی طور پر ان کے برابر ہو لیکن جب ایسا نہیں…
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 4⃣
پارٹ نمبر 6/6

#بہترین_شریک_حیات(بیوی)

بہترین شریک حیات کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی دوست و رفیق ہو اور اس کے کاموں میں اس کے لئے مددگار ثابت ہو ، دینی و دنیاوی کاموں میں اس کی مدد کرے ، عورت گھر کے ماحول کو مہر و محبت سے بھر دے کہ جس میں مرد کو سکون و آرام میسر ہو ، مرد جتنا بانشاط ہو گا اسی قدر بیوی کے دیدار اور محبت بھری فضا کی طرف جانے کا متمنی ہوگا ، اگر اس کی زندگی میں مشکلات آئیں گی تو اس کی بیوی اس کا ساتھ دے گی تاکہ وہ بردباری سے کام لے

🌹 پیغمبر اکرم ۖ سے حدیث ہے کہ

ما استفادَ امرءٌ مسلِمٌ فائدَةً بعدَ الاسلٰامِ أَفضلَ مِن زَوجَةٍ مُسلمَةٍ تسرُّہُ اِذَا نَظَرَ اِلیھَا و تُطیعُہُ اذا اَمرھَا و تَحفَظُہُ اذا غَابَ عَنہَا فی نفسِھَا و مَالِہِ (الکافی، ج۵)

سلمان مرد کے پاس اسلام کے بعد بہترین اور قیمتی چیز اس کی بیوی کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ جو ان خصوصیات کی حامل ہو ، جب وہ اپنی بیوی کو دیکھے تو خوشی محسوس کرے ، جب وہ کوئی حکم دے تو خوشی سے اطاعت کرے ، جب شوہر سفر پر جائے تو اپنی عفت و پاکدامنی اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے

🌹 رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:
مِن سَعَادةِ المَرءِ الزَّوجَةُ الصَّالِحَة
پیغمبر اکرم ۖ نے فرمایا : مرد کی خوش نصیبی یہ ہے کہ اس کی بیوی صالحہ اور شایستہ ہو
(وسائل الشیعہ، ج۲۰)

بیوی اپنے شوہر کی مطیع و فرمانبردار ہو یعنی جو شوہر چاہے یا حکم دے اس کے مطابق وہ کام انجام دے ، اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہرنہ جائے ،اگر کسی بھی شوہر یا مرد سے سوال کیا جائے کہ وہ اپنی بیوی میں کیا خصوصیات دیکھنا چاہے گا ؟ تو جواب میں ایک خصوصیت اطاعت ضرور ہوگی

سوالات:

اچھے شوہر کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں

اچھی بیوی کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں؟

میں اپنے شریک حیات کے لیے کیا قربانی دے سکتا / سکتی ہوں

شریک حیات کی کون سی خاصیت کو بنیادی حیثیت دوں گی/گا؟

تحریر سجاد حسین آہیر

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🅾Sawal no. 51 AoA, Mera sawal hai k agar shohar & bivi ziarat Imam Hussain as par jain. 8 roz k liay tou kia shohar hotel mai bivi k sath janabat kar sakta hai. Aqa sistani sai jawab 🔹 Mozu : Jima 🔸 Mujtahid : *Ayatullah Sistani Mudzila, Ayatullah Khamenai…
🅾Sawal no. 52

Meri dost ka aik sawal hey, bohat meherbani hogi agar jawab bata dain. Meri dost Kay bachay peda honey sey just pehlay mar jatay hain (do baat Aida huwa hey aur in Kay koi zinda bachay bhi nahi hain) Doctors ney IVF treatment suggest kya hey Kay jis Kay through bachay normal, healthy iA peda hosaktay hain. Jis jaga meri dost rehti hey wahan male IVF doctors kafi achay hain aur female doctors kam hain. Mera sawal yeh hey Kay kya is soorat mey male doctors sey ilaaj kerwana jaaiz hey? JazakAllah

🔹 Mozu :Medical Test

🔸 Mujtahid : *Ayatullah Sistani Mudzila, Ayatullah Khamenai Mudzila*

🌔 Date: 21-07-2016

🍀Jawab:

جب تک علاج نہ کرانا ناقابل برداشت اذیت تک نہ پہنچے تب تک بچہ پیدا کرنے کا کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا جس میں کوئی حرام نگاہ یا لمس کا مسئلہ پیش آتا ھو

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
ٹیلیگرام پر
https://t.me/Azdawaj

واٹس ایپ گروپ کیلئے

https://whatsapp.com/channel/0029VaCh5v8FnSzF3SH32I1h

جزاک الله خیر الجزا
خدا آپ کو علوم آل محمد ء سیکهنے کا اجر عطا فرمائے اور آپ کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے
🌷 *Fiqhi Masail Group For Azdwaj*🌷
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢 پارٹ نمبر 1⃣5⃣ *موسيقی نزدیکی اور مجامعت کیلئے* کیا میاں اور بیوی اپنی جنسی رابطہ زیادہ کرنے کے لئے اور زیادہ شھوت کے لئے موسیقی سن سکتے ہیں؟ 📚 آیات عظام امام خمینی، خامنه ای، بهجت، تبریزی، سیستانی، صافی، فاضل، نوری، مکارم، وحید:…
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢

پارٹ نمبر 2⃣5⃣

*کن صورتوں میں نزدیکی مکروه ہے؟*

سوال
🔶کن حالات میں مکروه ہے؟

جواب:

۱. سفر میں ، جب آپ کے پاس غسل کرنے کے لئے پانی مہیا نہ ہو

۲. مکمل برھنہ اور ننگے ہونے کی حالت میں نزدیکی مکروہ ہے

۳. جب آپ کو احتلام ہو اور بغیر غسل یا وضو کے نزدیکی کرتے ہیں تو مکروہ ہے

۴. جب آپ اپنے بالوں کو کوئی ایسی چیز لگاتے ہیں جس سے بال رنگین ہوں ، جیسے حنا ، مھندی

۵. جس وقت شکم پُر ہو مطلب کھانا کھانے کے بعد

۶. کھڑے ہونے کی صورت میں

۷. قبلہ کی طرف اور قبلہ کو پیٹھ کر کے مجامعت یا نذدیکی کرنا

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
ٹیلیگرام پر
http://bit.ly/Telegram_Azdawaj

واٹس ایپ گروپ کیلئے

https://whatsapp.com/channel/0029VaCh5v8FnSzF3SH32I1h
VID-20231126-WA0003.mp4
5 MB
*نکاح سنت رسول ؐ ہے لہذا نکاح کی تقریب میں حرام کام کر کے سنت نبی کریم ؐ کا مذاق مت اڑائیں*

🎙️مولانا جان علی کاظمی قبلہ
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 1/5

معزز ممبران آج کا درس بہت دلچسپ ہے ان نکات سے آگاہی شادی سے پہلے بہت ضروری ہے

#فطری_فرق

وحی سے مرتبط مکتب اسلام میں مرد اور عورت کے درمیان بعنوان انسان کوئی فرق نہیں ہے اس کا ثبوت اور دلیل وہ اسلامی تعلیمات اور احکامات ہیں جو مرد اور عورت دونوں کے لئے یکساں طور پر سماجی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہیں۔

🌹 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کا ارشاد گرامی کہ
" من اصبح و لا یھتم بامور المسلمین فلیس بمسلم"
جو شخص شب و روز گزارے اور مسلمانوں کے امور کی فکر میں نہ رہے وہ مسلمان نہیں ہے

یہ صرف مردوں سے مخصوص نہیں ہے، عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کے امور، اسلامی معاشرے کے مسائل اور عالم اسلام کے معاملات بلکہ پوری دنیا میں پیش آنے والی مشکلات کے سلسلے میں اپنے فریضے کا احساس کریں اور اس کے لئے مناسب اقدام کریں

قرآن کی نگاہ میں اسلام ہو یا ایمان، قنوت ہو یا خشوع و خضوع ،صدقہ دینا ہویا روزہ رکھنا ، صبر و استقامت ہو یا عزت و ناموس کی حفاظت یا ذکر خدا ہو ان سب چیزوں میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے

ليكن مرد اور عورت دونوں کے مزاج کی کچھ الگ الگ خصوصیات ضرور ہیں یعنی فطری طور پر ایک دوسرے سے کچھ اختلافات رکھتے ہیں- اور وہ اختلافات ہی باعث بنتے ہیں کہ مرد اور عورت شادی کے نتیجے میں کامل ہوتے ہیں اگر ان اختلافات کا علم نہ ہو تو بعض اوقات ازدواجی زندگی میں مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔اسی لیے ضروری ہے کہ ان فطری اور قدرتی اختلافات سے آگاہی حاصل کی جائے

جاری ہے۔۔

تحریر سجاد حسین آہیر

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 2/5

عورت اور مرد کے درمیان ایک فرق یہ ہے کہ مرد منطقی انداز میں سوچتا ہے اور دلائل کے ساتھ گفتگو کرنے کو ترجیح دیتا ہے جبکہ خواتین زیادہ تر احساساتی اور جذباتی انداز میں گفتگو کرتی ہیں
یہ اختلاف مرد اور عورت کو دو متضاد قوتوں کے طور پر پیش کرر ہا ہے۔حالانکہ مرد کا منطقی اورعقلی بنیادوں پر فیصلےکرنے ہی کی وجہ سے ایک گھر معاشرے میں ایک مقام حاصل کر سکتا ہے،مرد کے منطقی فیصلے ہی باعث بنتے ہیں کہ معاشرے کی چیرہ دستیوں اور مشکلات میں یہ خاندان اپنی منزل کی طرف رواں دواں نظر آتا ہے
اسی طرح عورت کا جذباتی اور احساساتی ہونا ہی ایک عورت کو ممتا جیسے گوہر سے نواز سکتا ہے،یہ عورت کے عاطفہ کی وجہ ہے کہ وہ رات کو اٹھ اٹھ کربچے کی صحت اور تربیت کا خیال رکھ رہی ہوتی ہے،عورت اپنے جذباتی اور احساساتی ہونے کی بدولت ہی مرد کے لیے باعث سکون اور رحمت کا ذریعہ بن سکتی ہے،اگر عقل سلیم سے کام لیتے ہوئے ان اختلافات پر غور کیا جائے تو یہ اختلافات انسانی زندگی کے لیے اللہ کی ایک رحمت کا مظہر ثابت ہوں گے۔

ایک اور فرق یہ ہےکہ مرد زیادہ تر خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ خواتین میں اپنے افکار و نظریات بیان کرنے کی خواہش زیادہ پائی جاتی ہے۔ تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ خواتین دِن میں تقریباً ۲۶ ہزار کلمات ادا کرتی ہیں جبکہ مرد صرف ۱۴ ہزار کلمات بولتا ہے، بعض اوقات یہ فطری اختلاف اور فرق زندگی میں مشکلات کا سبب بن جاتا ہے
لیکن اگر دونوں اس فطری اور قدرتی فرق سے آگاہ ہوں گے تو ان مشکلات کا تدارک ہوسکتا ہے۔
مثلاً مرد سارا دِن معاشرے کے مختلف لوگوں کے طرح طرح کے رویوں کا سامنا کرکے گھر آرام و سکون کی خاطر آرہا ہوتا ہے جبکہ بیوی سارا دن گھر میں اِس انتظار میں ہوتی ہے کہ جب شوہر گھر آئیں گے تو میں سارے دن کے حالات و احوال ان کے گوش گزار کروں گی اور بہت ساری باتیں کروں گی جو کہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے،بظاہر دونوں کی خواہشات اور مفادات آپس میں ٹکراتے ہوئے نظر آرہے ہیں لیکن اگر دونوں ان فطری اختلاف سے آگاہ ہوں گے تو ایسی حکمت عملی وضع کریں گے کہ یہ فرق ان کی محبت اور عشق میں اضافہ کا سبب بنے گا نہ کہ اختلاف و مشکلات کا۔ جب مرد عورت کی اس فطری خواہش سے آگاہ ہوگا تو وہ ذہنی طور پر آمادہ ہوکر گھر میں آئے گا اور اپنے آپ کو بیوی سے محبت بھری باتیں سننے کے لیے تیار کرے گا۔ اور اسی طرح اگر بیوی مرد کی فطری اور قدرتی خواہش سے آگاہ ہوگی تو وہ بھی صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے اسے آرام و سکون کا موقع فراہم کرے گی۔

تحریر سجاد حسین آہیر

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻 ٹاپک پری میریج درس نمبر 5⃣ پارٹ نمبر 2/5 عورت اور مرد کے درمیان ایک فرق یہ ہے کہ مرد منطقی انداز میں سوچتا ہے اور دلائل کے ساتھ گفتگو کرنے کو ترجیح دیتا ہے جبکہ خواتین زیادہ تر احساساتی اور جذباتی انداز میں گفتگو کرتی ہیں
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 3/5

ایک اور فرق جو کہ عموماً مشاہدہ میں آتا ہے وہ یہ کہ کسی کی طرف کشش کا ذریعہ مرد کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ظاہری حسن و خوبصورتی کو مرد زیادہ اہمیت دیتا ہے
جب کہ خواتین کسی کی تعریف سن کر اس کو پسند کرنے لگتی ہیں۔ اسی لیے مرد کو اسلام نے آنکھوں کی حفاظت کی تاکید فرمائی ہے اور خواتین کو سفارش کی ہے کہ
اگر شوہر کو معاشرے کی خوبصورتیوں اور رعنائیوں کی طرف متوجہ ہونے سے بچانا چاہتی ہیں تو اپنی ظاہری اور جسمانی خوبصورتی پر توجہ دیں، تاکہ اس کی توجہ کا مرکز آپ ہی رہیں

ایک فرق یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ خواتین مردوں کی نسبت کسی بھی چیز سے جلدی متاثرہوجاتی ہیں
جبکہ مرد کو متاثر کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اس کا منبع دراصل وہ پہلا فرق ہے کہ مرد جذبات اور احساسات پر کنٹرول رکھتے ہیں جبکہ خواتین جذبات و احساسات کی بنیاد پر فیصلہ کرلیتی ہیں۔ کسی بھی واقعہ یا فلم وغیرہ کو دیکھ کر خواتین جلدی جذباتی اور احساساتی ہوکر متاثر ہوجاتی ہیں جبکہ مرد ایسا نہیں ہوتا۔

مرد جلدی یقین نہیں کر پاتا جبکہ خواتین جلدی یقین کرلیتی ہیں۔ مردوں کا جلدی یقین نہ کرنا اس بات کا باعث بنتا ہے کہ گھر کے فیصلے محکم اور دلائل کی بنیادوں پر ہوتے ہیں جن کے دور رس نتائج خاندان کی کامیابی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔

خواتین کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ مرد کے موڈ کو جلدی بھانپ لیتی ہیں
جبکہ مرد اس امر میں سست واقع ہوا ہے۔ مرد کافی دیر کے بعد بیوی کے موڈ کو بھانپتا ہے جب شوہر گھر آتا ہے ، اُس کو سلام کرتی ہیں تو فوراً سمجھ جاتی ہیں کہ شوہر کا موڈ کیسا ہے؟ یہ خوش ہے، پریشان ہے، اِس کی کیا کیفیت ہے ؟ یہ خواتین کے اندر ایک خاصیت ہے کہ وہ جلدی بھانپ لیتی ہیں ۔ جبکہ شوہر ایسانہیں کرپاتا ، وہ گھر آجاتا ہے آدھا گھنٹہ گزر جاتا ہے اُس کو پھر بھی سمجھ نہیں آتا کہ آج میری بیوی کا موڈ بہت خراب ہے، وہ دیر سے سمجھتا ہےاور یہیں سے اختلافات بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں
عورت یہ سمجھنے لگتی ہے کہ میرا شوہر مجھے سمجھ نہیں پارہا ہے، اُس کو مجھ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔حالانکہ ایسا نہیں ہوتا مرد کا مزاج مختلف ہے اگر ہم ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھ لیں گے تو زندگی خوشگوار ہونا شروع ہوجائے گی۔اگر دونوں اس فرق سے آگاہ ہوں گے تو اسی کے مطابق عمل و ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کامیابی اور محبت کی طرف رواں دواں ہوں گے ورنہ اختلافات کا باعث ہوسکتا ہے۔

مرد کسی بھی چیز کو ایک عام نگاہ سے دیکھتا ہے اور اپنی ضرورت اور احتیاج کے مطابق دقت کرتا ہے
جبکہ خواتین ہر چیز کو غور سے اور گہری نظر سے دیکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی خاتون کسی دعوت میں کوئی لباس پہن کر آتی ہے۔ تو خواتین اُس کو خوب غور سے دیکھتی ہیں، کہ اِس نے کون سے رنگ کا کپڑا پہنا ہوا ہے ؟ کون سی جیولری پہنی ہوئی ہے ؟ جوتے کون سے ماڈل کے ہیں؟ اُس کے بارے میں ایک ایک چیز بتا سکتی ہیں لیکن مرد اگر کسی شخص کو دیکھتا ہے تو وہ صرف اُس کو ایک عام نگاہ سے دیکھتا ہے کہ وہ کیسا لگ رہا ہے؟ اگر آپ بعد میں پوچھیں کہ جس شخص سے آپ بات کر رہے تھے، اُس نے کون سے رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا ؟ تو اُسے یاد نہیں ہوگا۔ یا اگر ہم بہت سارے مردوں سے پوچھیں کہ آپ کے گھر کا دروازہ کس رنگ کا ہے؟ تو وہ ایک لمحہ کے لیے سوچیں گے کہ دروازہ کس رنگ کا ہے؟ وہ ایک ، عمومی انداز میں دیکھتے ہیں ، خواتین غور سےدیکھتی ہیںمرد اور عورت کے اندر یہ فطری اختلاف ان کو مکمل کر رہا ہوتا ہے، عورت کا دقیق انداز میں چیزوں کو دیکھنا گھر کی سجاوٹ اور گھریلو نظام کی خوبصورتی کا باعث بنتا ہے جبکہ مرد کا ایک عمومی نظر سے دیکھنا اس کی توجہ اداری کاموں کی طرف مرکوز رہنے کا سبب بنتا ہے۔

مرد اور عورت کے فطری اختلافات میں سے ایک یہ ہے کہ مرد کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جو بچہ اُس سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو ،یا عادتیں اس جیسی پائی جاتی ہوں گی دوسرے بچوں کے مقابلے میں، اُس سے زیادہ محبت کر تا ہے۔ لیکن ماں سب سےبرابر محبت کرتی ہے ماں کو برا لگے گا،اورکہے گی کہ آپ انصاف نہیں کرتے ، سارے بچے ہمارے ہی بچے ہیں ، لیکن مرد فطرتا ایسا ہوتا ہے۔

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
کردار حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے شوہر سے ہمدردی

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 4/5

ایک اور فرق کو بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ مرد ہمیشہ مستقبل کی سوچ میں رہتا ہےجبکہ خواتین اپنے ماضی کے سہانے خیالوں میں مگن نظر آتی ہیں، مرد کا مستقبل کے بارے میں سوچنا فطری ہے کیونکہ اس کو خاندان کے مستقبل کو سنوارنا ہے جبکہ خواتین کا ماضی اکثر و بیشتر ذمہ داریوں سے آزاد ہوتا ہے تو وہ ان کے لیے کشش کا باعث ہوتا ہے جبکہ حال ذمہ داریوں سے بھرپور ہوتا ہے، خستگی کا باعث بنتا ہے تو وہ اپنی اس تھکاوٹ کا مداوا ماضی کے پر امن حسین لمحات کی یاد سے کرتی ہیں
بعض اوقات یہ فرق بھی خاندانی مسائل میں مشکلات کا باعث بنتا ہے لیکن اگر دونوں اس فطری فرق سے آگاہ ہوں گے تو خوبصورت حل تک پہنچ سکتے ہیں۔ اِسی لیے جب بیوی اُس سے کہتی ہے کہ میں آپ سے بات کر رہی ہوں آپ کدھر ہیں؟ تو کہے گا: ہاں ہاں میں یہی ہوں۔ لیکن وہ ذہنی طور پر کہیں اور ہوتا ہے۔ وہ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ اُسے چاہیے کہ جب گھر آگیا ہے تو زمانہ حال میں آجائے۔ اور خواتین کہ جو اپنے ماضی کے واقعات کو یاد کر رہی ہوتی ہیں، اُن کو بھی چاہیے کہ آپ بھی واپس حال میں آجائیں اور دونوں گھر میں زمانہ حال میں رہیں ۔ نہ کہ ایک ماضی میں چلا جائے، اور دوسرا مستقبل میں ،اور گھر میں ذہنی طور پر کوئی بھی نہ ہو ۔کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ زمانہ حال میں رہیں اوراسی کو مضبوط کریں

ایک اور فرق جو عموماً مشاہدہ میں آتا ہے وہ یہ کہ مرد پریشانی کے وقت خاموشی کو پسند کرتا ہے اور تنہائی چاہتا ہے
جبکہ خواتین فوراً پریشانی کو بیان کرنا چاہتی ہیں اور کچھ بول کر پریشانی کو رفع کرنے کی سعی کر رہی ہوتی ہیں جبکہ مرد کسی کے سامنے اپنی پریشانی کو بیان کرنے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ اور توانائی مرکوز کرکے اس کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس فطری فرق کی وجہ سے بھی اختلافات جنم لے سکتے ہیں لیکن اگر دونوں آگاہ ہوں گے تو اختلافات اور مشکلات کی بجائے محبت و عشق کی راہوں کو ہموار کرسکتے ہیں مثلاً خاتون یہ سوچتی ہے کہ چونکہ میری پریشانی بیان کرنے سے رفع ہوجاتی ہے اور کم از کم ہلکی تو ہوجاتی ہے تو کیوں نہ میں بھی اپنے شوہر سے اس کی پریشانی دریافت کروں تاکہ اس کے دِل کا بوجھ ہلکا ہوجائے جبکہ مرد کی فطرت کے خلاف عمل ہو رہا ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرد کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے اور بعض اوقات ماحول میں تلخی بھی پیدا ہوجاتی ہے لیکن اگر دونوں اس قدرتی فرق اور اختلاف سے آشنا ہوں گے تو تلخیاں بھی شیرینی میں تبدیل ہوسکتی ہیں

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻 ٹاپک پری میریج درس نمبر 5⃣ پارٹ نمبر 4/5 ایک اور فرق کو بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ مرد ہمیشہ مستقبل کی سوچ میں رہتا ہےجبکہ خواتین اپنے ماضی کے سہانے خیالوں میں مگن نظر آتی ہیں، مرد کا مستقبل کے بارے میں سوچنا فطری ہے کیونکہ…
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻

ٹاپک پری میریج

درس نمبر 5⃣
پارٹ نمبر 5/5

ایک اور فطری اور قدرتی فرق کو دیکھا جاسکتا ہے وہ یہ کہ مرد ایک وقت میں صرف ایک کام کی طرف توجہ دے سکتا ہے
جبکہ خواتین ایک وقت میں کئی کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جیسے ایک ہی وقت میں ٹی وی پر ڈرامہ کو بھی دیکھ رہی ہوتی ہے کھانا بھی بنا رہی ہوتی ہے اور بچے کا ہوم ورک بھی کروا رہی ہوتی ہے جبکہ مرد اگر ڈرامہ دیکھ رہا ہے تو صرف اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گھر جن کے اندرونی ماحول کی ذمہ داری خواتین کے کندھوں پر ہوتی ہے نہایت احسن انداز میں اپنی منزل کی طرف گامزن ہوتے ہیں چونکہ مرد ایک ہی کام کو انتہائی توجہ اور دلچسپی کے ساتھ کرنے کی فطرت کا حامل ہے اس لیے معاشرے کے دقیق اور پریشان کن مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک اور فرق جو کہ بعض اوقات مسائل کا سبب بنتا ہے وہ یہ کہ مرد میں سننے کی ہمت کم پائی جاتی ہے
جبکہ خواتین اچھی سامع واقع ہوتی ہیں، مرد ایسی خبر جو کہ اس کے متعلقہ نہیں ہے کو سننا بھی نہیں چاہتا جبکہ خواتین ہر بات کو سننا پسند کرتی ہیں، بعض اوقات خواتین اگر مرد کے اس فطری وصف سے آگاہ نہ ہوں تو دلبرداشتہ ہوسکتی ہیں کہ میرے شوہر میری بات کو توجہ سے نہیں سنتے حالانکہ وہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے لیکن اگر دونوں اس فطری فرق سے آگاہ ہوں گے تو ایک دوسرے کو اذیت دینے کی بجائے آرام و سکون اور آشتی کا باعث بنیں گے۔

مرد اور عورت میں ایک دلچسپ فرق یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جب مرد روزمرہ کے معاملات میں مشغول ہوتا ہے تو وہ بیوی بچوں کی یاد سے غافل ہوتا ہے بلکہ اپنی پوری توجہ انہی معاملات کو سلجھانے میں صرف کر رہا ہوتا ہے
جبکہ عورت ہر لمحہ مصروفیت کے باوجود شوہر اور بچوں کی یاد میں مشغول رہتی ہے۔

اس فطری فرق سے آگاہی نہ ہونے کی بدولت بعض اوقات بیوی اور شوہر کے تعلقات خراب ہوجاتے ہیں، کیونکہ جب بیوی پوچھتی ہے کہ دِن میں، میں کتنی دفعہ یاد آئی ہوں؟ تو صحیح جواب کی بنیاد پر ناراضگی یقینی امر ہے لیکن اگر دونوں ایک دوسرے کے فطری اور قدرتی فرق سے آگاہ ہوں گے تو تعلقات سدھرنے لگیں گے۔

یہ تمام اختلافات اور فرق اکثر موارد میں پائے جاتے ہیں لیکن ہر جگہ استثنائی موارد موجود ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان تمام یا کسی ایک فرق سے مستثنیٰ ہو تو یہ ممکنات میں سے ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک بیوی کی حیثیت گھر میں چکی کے کیل کی سی ہے۔ پورا گھر بیوی کی منصوبہ بندی اور ہنر مندی سے چل رہا ہوتا ہے۔
گھر کے اندرونی حالات کا اختیار بیوی کے کنٹرول میں ہوتا ہے اور یہی ماحول شوہر کی تمام تر خوشیوں اور سکون کا باعث ہوتا ہے اور بچوں کے لیے ایک اچھی تربیت گاہ ثابت ہوتا ہے اگر بیوی اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھتے ہوئے گھر کے ماحول کو خوشحال اور مسرور بنائے تو گھر ایک جنت کا سماں پیدا کرسکتا ہے۔ ایک عورت کی ماں ہونے کے حوالے سے سب سے بڑی ذمہ داری اولاد کی تربیت ہے۔

معاشرے کو صالح ، ذمہ دار اور وظیفہ شناس افراد مائیں ہی فراہم کرسکتی ہیں۔ ماں کے کردار کو اسلام بہت اہمیت دیتا ہے اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

امام خمینیؒ نے فرمایا کہ👇👇👇👇👇: "بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے"ماں کی گود وہ مکتب ہے کہ جو معاشرہ کے دکھوں کا مداوا کرنے والے افراد کی پرورش گاہ ثابت ہوسکتا ہے۔
ماں جب جھولا جھلا رہی ہوتی ہے ، دراصل وہ ایک جھولا نہیں بلکہ کائنات کو ہلا رہی ہوتی ہے کیونکہ ممکن ہے اس جھولے میں موجود بچہ کل کا رہبر و رہنما ہوگا، دنیا کو چلا رہا ہوگا اور انسانیت کو کمال کی طرف ہدایت کر رہا ہوگا۔

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
https://t.me/Azdawaj
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
🅾Sawal no. 52 Meri dost ka aik sawal hey, bohat meherbani hogi agar jawab bata dain. Meri dost Kay bachay peda honey sey just pehlay mar jatay hain (do baat Aida huwa hey aur in Kay koi zinda bachay bhi nahi hain) Doctors ney IVF treatment suggest kya hey…
🅾Sawal no. 53

Kya kisi aurt ka egg lay kr scicence tareqy se Bacha paida kr skty hai

🔹 Mozu : Hamal

🔸 Mujtahid : *Ayatullah Sistani Mudzila*

🌔 Date: 04-09-2016

🍀Jawab:

شرعی تقاضے پورے ھوں اور کوئی حرام نہ ھو کی شرط لگائی ھے مثلا شرمگاہ پر نگاہ نہ ڈالی جائے ، البتہ اگر سخت ضرورت ھو تو جائز ھے
نطفہ تو کسی بھی دوسرےنامحرم شخص کا جائز نہیں ھے
لیکن اگر عورت کا انڈہ لے کر رحم سے باھر اسے مرد کے نطفے سے فرٹیلائز کر لیا جائے اور انعقاد حمل کے بعد اسے عورت کے رحم میں منتقل کر دیا جائے تو جائز ھے
لیکن نطفہ غیر عورت کے رحم میں نہیں رکھا جا سکتا
لسؤال: ما حكم مصطلح (الام البديل) وهو يعني (ان المراة التي لا تتمكن من انجاب الاطفال وذلك بسبب خلل في رحمها فلتلجأ الي امراة رحمها جيد ويضعون في رحمها بيضة مخصبة من المراة التي لا تستطيع انجاب الاطفال) فهل يجوز ذلك ؟
الجواب: يجوز في حد ذاته ولكنه اذا استلزم كشف العورة فانه لايجوزالا لضرورة ثم ان ترتب احكام الامومة لصاحبة البويضة محل اشكال فلابد من الاحتياط في مسائل الارث والحضانة ونحوها ولكنه محرم لها ان كان ذكراً لكونه ابن زوجها كما انه محرم لصاحبة الرحم حتي لو لم ترضعه.
http://www.sistani.org/arabic/qa/0256/

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
ٹیلیگرام پر
https://t.me/Azdawaj

واٹس ایپ چینل کیلئے

https://whatsapp.com/channel/0029VaCh5v8FnSzF3SH32I1h

جزاک الله خیر الجزا
خدا آپ کو علوم آل محمد ء سیکهنے کا اجر عطا فرمائے اور آپ کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے
🌷 *Fiqhi Masail Group*🌷
ازدواج کے فقہی و اخلاقی مسائل
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢 پارٹ نمبر 2⃣5⃣ *کن صورتوں میں نزدیکی مکروه ہے؟* سوال 🔶کن حالات میں مکروه ہے؟ جواب: ۱. سفر میں ، جب آپ کے پاس غسل کرنے کے لئے پانی مہیا نہ ہو ۲. مکمل برھنہ اور ننگے ہونے کی حالت میں نزدیکی مکروہ ہے ۳. جب آپ کو احتلام ہو اور بغیر…
💢 ازدواجی فقہی احکام 💢

پارٹ نمبر 3⃣5⃣

✈️شوہر کی اجازت کے بغیر غیر واجب سفر کرنا

سوال: شوہر کی اجازت کے بغیر غیر واجب سفر کرنے کا حکم کیا ہے ؟

جواب

❇️ اگر عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر سفر پر جائے جو اس پر واجب نہیں تھا، اور گناہ کا سفر تھا تو واجب ہے کہ اس سفر میں پوری اور مکمل نماز ادا کرے لیکن اگر حج واجب کا سفر ہے تو نماز کو قصر ادا کرے

—----------------؛
منبع: توضیح المسائل امام، پس از م 1294.
»> «خواتین کے خصوصی احکام »، محمد حسین فلاح زاده، نشر معروف، 1395، ص 194.

ازدواجی زندگی کو فقہی و اخلاقی حوالے سے خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
ٹیلیگرام پر
http://bit.ly/Telegram_Azdawaj

واٹس ایپ چینل کیلئے

https://whatsapp.com/channel/0029VaCh5v8FnSzF3SH32I1h